بہن بِیوِی سے زیادہ وفا دار

User avatar
Story Maker
Rookie
Posts: 33
Joined: 25 Sep 2016 17:01
Location: Azad Kashmir Pakistan
Contact:

بہن بِیوِی سے زیادہ وفا دار

Postby Story Maker » 27 Sep 2016 12:16

بہن بِیوِی سے زیادہ وفا دار
User avatar
Story Maker
Rookie
Posts: 33
Joined: 25 Sep 2016 17:01
Location: Azad Kashmir Pakistan
Contact:

Re: بہن بِیوِی سے زیادہ وفا دار

Postby Story Maker » 27 Sep 2016 12:17

یہ کہانی میں نے آج سے 8 سال پہلے 2008میں ایک رسالہ گلیمر کہانی کے نام سے آتا تھا. اس میں پڑھی تھی بہت سے لوگوں کو شاید اِس کا پتہ بھی ہو گا . آج میں اِس کہانی کو پہلی دفعہ انٹرنیٹ کے کسی بھی فورم پے لکھنے لگا ہوں لیکن کہانی کو شروع کرنے سے پہلے میں بتا دوں یہ کہانی جنوبی پنجاب کے کسی گاؤں کی سچی کہانی ہے کہانی کا نام ہے بہن بِیوِی سے زیادہ وفا دار تھی. اِس بات کی پیشگی معذرت چاہتا ہوں کے کوئی بھی اِس کہانی یا کہانی کے کرداروں کو اپنے حالات و واقعات سے نتھی یامما سلت نہ کرے
User avatar
Story Maker
Rookie
Posts: 33
Joined: 25 Sep 2016 17:01
Location: Azad Kashmir Pakistan
Contact:

Re: بہن بِیوِی سے زیادہ وفا دار

Postby Story Maker » 27 Sep 2016 12:18

میرا نام وسیم ہے میرا تعلق ملتان کے ایک چھوٹے سے گاؤں سے ہے میرے گھر کےکل 5 افراد ہیں .میں میری امی میرے ابّا جی میری دو بہن ہیں. سب سے پہلے میری بڑی بہن ہے جس کا نام فضیلہ ہے وہ شادی شدہ ہے اور دو بچوں کی ماں ہے . پِھر دوسرے نمبر میرا ہے میری بھی شادی ہو چکی ہے اور آخر میں میری چھوٹی بہن نبیلہ ہے جو کے ابھی غیر شادی شدہ ہے. اب میں اصل کہانی کی طرف آتا ہوں یہ ان دنوں کی بات ہے جب میں میٹرک کر کے فارغ ہوا تھا اور آگے پڑھنے کے لیے ملتان شہر کے ایک کالج میں جاتا تھا . میرے ابّا جی ایک زمیندار تھے ہمارے پاس اپنی10 ایکڑ
زمین تھی .ابّا جی کے ایک چھوٹا بھائی تھا آدھی زمین اس کی تھی آدھی میرے ابّا جی کی تھی میرے ابّا جی اور چا چا اپنے اپنے حصے کی زمین پے کاشتکاری کیا کرتے تھے جس سے ہمارے گھر کا نظام چلتا تھا. جب میرا کالج کا آخری سال چل رہا تھا تو میرے چھوٹا چا چا اس نے میرے ابّا جی کو کہا کے وہ زمین بیچ کر اپنی فیملی کے ساتھ لاہور شہر میں جا کر سیٹ ہونا چاہتا ہے اور اپنے بیٹیوں کو شہر میں ہی اچھا پڑھانا چاہتا ہے میرے چا چےکی صرف 2 بیٹیاں ہی تھیں ، اِس لیے وہ اپنے حصے کی زمین بیچا چاہتا ہے. میرے ابّا جی نے بہت سمجھایا کے یہاں ہی رہو یہاں رہ کر اپنی بیٹیوں کو پڑھا لو لیکن اپنی زمین . نہیں بیچو لیکن میرا چا چا نہیں مانا اور آخر کار میرے ابّا جی نے اپنی بھی اور چا چے کی بھی زمین بیچ دی اور آدھی رقم چھوٹے چا چے کو دے دی اور آدھی رقم کو بینک میں اپنا اکاؤنٹ کھلوا کر جمع کروا دی. اور پِھر ایک دن میرا چا چا اپنی فیملی کے ساتھ لاہور شہر چلا گیا . اور میرے ابّا جی بھی گھر کے ہو کر رہ گئے . میری بڑی باجی کی عمر اس وقعت 27 سال ہو چکی تھی میرے ابّا جی نے زمین کے کچھ پیسوں سے باجی کی شادی کر دی میری باجی کی شادی بھی اپنے رشتہ داروں میں ہو ہوئی تھی میری باجی کا میاں میری خالہ کا ہی بیٹا تھا. میں نے جب کالج میں بارہویں جماعت پاس کر لی تو میرے گھر کے حالات اب آگے پڑھنے کی اِجازَت نہیں دیتے تھے. اور میں نے بھی اپنے گھر کے حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے اپنے ابّا جی پے بوجھ بنا گوارہ نہ کیا اور گھر کو سنبھالنے کا سوچ لیا. میں نے یہاں وہاں پے روزگار کے لیے بہت ہاتھ پاؤں مارا لیکن کوئی فائدہ نہیں ہوا . پِھر میں نے باہر کے ملک جانے کا سوچا پہلے تو میرے ابّا جی نے منع کر دیا لیکن پِھر میں نے ان کو گھر کے حالات سمجھا کر قائل کر لیا اور ابّا جی کے پاس جو باقی پیسے تھے ان پیسوں سے مجھے باہر سعودیہ بھیج دیا اور میں22 سال کی عمر میں ہی روزگار کے لیے سعودیہ چلا گیا. سعودیہ آ کر پہلے تو مجھے بہت مشکل وقعت برداشت کرنا پڑا لیکن پِھر کوئی 1 سال بعد میں یہاں سیٹ ہو گیا میں نے یہاں آ کر ڈرائیونگ سیکھ لی اور پِھر یہاں پے ہی ٹیکسی چلانے لگا . شروع شروع میں مجھے ٹیکسی کے کام کا اتنا نہیں پتہ تھا لیکن پِھر آہستہ آہستہ مجھے سب پتہ چلتا گیا اور میں ایک دن میں 14گھنٹے لگاتار ٹیکسی چلا کر پیسے کماتا تھا . آہستہ آہستہ میری محنت سے پاکستان میں میرے گھر کے حالات ٹھیک ہونے لگے اور تقریباً 5 سال میں میں 2 دفعہ ہی پاکستان گیا لیکن اِس محنت کی وجہ سے میرے گھر کے حالات کافی زیادہ ٹھیک ہو چکے تھے میں نے اپنے گھر کو کافی زیادہ اچھا اور مضبوط بنا لیا تھا ہمارا گھر 10مرلہ کا تھا پہلے وہ ایک حویلی نما گھر ہی تھا اس میں 3 کمرے اور کچن اور باتھ روم ہی تھا . پِھر میں نے سعودیہ میں رہ کر سب سے پہلے اپنے گھر کو ٹھیک کیا آب وہ حویلی نما گھر مکمل گھر بن چکا تھا اس کو ٹھیک کر کروا کر 2 سٹوری والا گھر بنا لیا پہلی سٹوری پے 3 ہی کمرے تھے اور دوسری اسٹوری پے 2 اور کمرے باتھ روم اور کچن بنا لیے تھے . مجھے سعودیہ میں کام کرتے ہوئے کوئی 6سال ہو چکے تھے اس وقعت میری عمر 28سال تھی تو میرے ابّا جی نے میری شادی کا سوچا اور مجھے پاکستان بلا کر اپنے چھوٹے بھائی یعنی میری چا چے کی بڑی بیٹی سائمہ سے میری شادی کر دی. سائمہ کی عمر 25 سال تھی وہ میری چھوٹی بہن کی ہم عمر تھی . شہر میں رہ کر شہر کے ماحول زیادہ پسند کرتی تھی . اِس لیے میں جب سعودیہ چلا جاتا تھا تو وہ زیادہ تر اپنے ماں باپ کے گھر لاہور میں ہی رہتی تھی . جب میں پاکستان شادی کے لیے آیا تو ابّا جی نے میری شادی بڑی دھوم دھام سے کی اور میں بھی خوش تھا مجھے سائمہ شروع سے ہی پسند تھی وہ خوبصورت بھی تھی اور سڈول اور سیکسی جسم کی مالک تھی . اس کا قد بھی ٹھیک تھا اور گورا چاا اور بھرا ہوا جسم رکھتی تھی. سہاگ رات کو میں بہت خوش تھا کیونکہ آج سے مجھے ساری زندگی سائمہ کے جسم سے مزہ لینا تھا برات والے دن سب کام ختم ہو کر میں جب رات کو اپنے کمرے میں گیا تو سائمہ دلہن بنی بیٹھی تھی . میں نے کمرے کا دروازہ بند کر دیا اور پِھر دوسرے لوگوں کی طرح میں نے بھی اس سے کافی باتیں کی اور قسمیں وعدے لیے اور دیئے اور پِھر میں نے اپنی سہاگ رات کو سائمہ کو صبح 4 بجے تک جم کر 3 دفعہ چودا . میں ویسے بھی زمیندار کا بیٹا تھا گاؤں کے ماحول میں ہی زیادہ تر رہا تھا خالص چیزیں کھانے کا شوقین تھا میرا جسم بھی ٹھیک ٹھا ک تھا اور میرا ہتھیار بھی کافی مضبوط اور لمبا تھا تقریباً 7 انچ لمبا میرا لوں تھا . جس کی وجہ سے میں نے سائمہ کو پہلی ہی رات میں جام کر چودا تھا جس کا اس کو بھی ٹھیک ٹھا ک پتہ لگا تھا . کیونکہ صبح کو اس کی کمر میں درد ہو رہی تھی. جس کو میری چھوٹی بہن نبیلہ نے محسوس کر لیا تھا کیونکہ وہ سائمہ کی سہیلی بھی تھی . لیکن جب میں صبح سو کر اٹھا تو سائمہ میرے سے پہلے اٹھ چکی تھی اور وہ اندر باتھ روم میں نہا رہی تھی . میں نے جب بیڈ کی شیٹ پے نظر ماری تو مجھے حیرت کا شدید جھٹکا لگا کیونکہ بیڈ کی سفید چادر بالکل صاف تھی اس پے سائمہ کی پھدی کے خون کا ایک قطرہ بھی نہیں تھا اور جہاں تک مجھے پتہ تھا یہ سائمہ کی زندگی کی پہلی چدائی تھی اور اِس میں تو اس کا میرے کافی اچھے اور مضبوط لن سے اس کی پھدی کی سیل ٹوٹنی چاہیے تھی اور خون بھی نکلنا چاہیے تھا . بس اِس ہی سوال نے میرا دماغ خراب کر دیا تھا.


. . . . . . . . . . . . جاری ہے
User avatar
Story Maker
Rookie
Posts: 33
Joined: 25 Sep 2016 17:01
Location: Azad Kashmir Pakistan
Contact:

Re: بہن بِیوِی سے زیادہ وفا دار

Postby Story Maker » 27 Sep 2016 12:21

اگلے دن ولیمہ تھا اور میں سارا دن بس یہ سوچ میں تھا کے کیا سائمہ کی پھدی سیل نہیں تھی . کیا وہ پہلے بھی کسی سے کروا چکی ہے . یا لاہور میں اس کا کوئی یار ہے جس سے وہ اپنی پھدی مروا چکی ہے . بس یہ ہی میرے دماغ میں چل رہے تھے . یوں ہی ولیمہ والا دن بھی گزر گیا اور رات ہو گئی اور اس رات بھی میں نے 2 دفعہ جم کر سائمہ کی پھدی ماری لیکن سیل پھدی والی بات میرے دماغ سے نکل ہی نہیں رہی تھی . میں حیران تھا کے سائمہ دو دن سے دِل وجان سے مجھ سے چودوا رہی ہے اور کھل کر میرا ساتھ دے رہی ہے اور ہنسی خوشی میرے ساتھ بات بھی کر رہی لیکن پتہ نہیں کیوں میرا دماغ بس سائمہ کی سیل پھدی والی بات پے ہی اٹک گیا تھا اور میں نے اپنے دِل و دماغ میں ہی وہم پال لیا تھا. ہر بندے کی خواہش ہوتی ہے اس کی ہونے والی بِیوِی صاف اور پاکباز ہو اور سیل پیک ہو لیکن میرے ساتھ تو شاید دھوکہ ہی ہو گیا تھا . ولیمہ والی رات بھی گزر گئی اور مجھے سمجھ نہیں آ رہی تھی میں کروں تو کیا کروں اور کس سے اپنے دِل کی بات کروں . اور پِھر اگلی صبح سائمہ کے گھر والے آ گئے اور سائمہ اس دن دو پہر کو اپنے ماں باپ کے ساتھ لاہور اپنے گھر چلی گئی . سائمہ کے چلے جانے کے بعد میں بس اپنے کمرے میں ہی پڑا رہا بس اپنے وہم کے بارے میں ہی سوچتا رہا میری بڑی باجی فضیلہ بھی اپنے بچوں کے ساتھ گھر پے ہی آئی ہوئی تھی شادی کے بعد وہ اپنے گھر سسرال نہیں گئی تھی. میں شام تک اپنے کمرے میں ہی تھا تو 6 بجے کے وقعت ہو گا جب فضیلہ باجی میرے کمرے میں آئی اور لائٹ آن کر کے میرے بیڈ کے پاس آ گئی میں اس وقعت جاگ رہا تھا . باجی میرے پاس آ کر بولی وسیم کیا ہوا ہے یوں کمرے میں اکیلا کیوں بیٹھا ہے باہر سب ا می ابّا جی تمھارا پوچھ رہے ہیں . میں اٹھ کر بیٹھ گیا اور بولا باجی بس ویسے ہی طبیعت ٹھیک نہیں تھی اور لیٹا ہوا تھا . باجی میرے بیڈ پے بیٹھ گئی اور میرے ماتھے پے ہاتھ رکھا تو مجھے بخار وغیرہ تو نہیں تھا اِس لیے باجی بولی تمہیں بخار بھی نہیں ہے پِھر طبیعت کیوں خراب ہے. میں نے کہا ویسے ہی باجی تھکن سی ہو گئی تھی تو جسم میں دردتھی . باجی نے کہا چل میرا بھائی لیٹ جا میں تیرا جسم دبا دیتی ہوں . میں نے کہا نہیں باجی میں بالکل ٹھیک ہوں بس تھوڑی سی تھکن کی وجہ سے ہے آپ پریشان نہ ہوں . میں بیڈ سے اٹھ کر کھڑا ہو گیا اور باجی سے بولا چلو باجی باہر ہی چلتے ہیں تو باجی اور میں باہر آ گئے باہر صحن میں سب بیٹھے چائے پی رہے تھے . میں بھی وہاں بیٹھ گیا اور چائے پینے لگا اور یہاں وہاں کی باتیں کرنے لگا . گھر میں شاید نبیلہ ہی تھی جو میری ہر پریشانی اور بات کو سمجھ جایا کرتی تھی وہ باجی کے چلے جانے کے بَعْد بھی میرا بہت خیال رکھتی تھی گھر کی سا ری ذمہ داری اس پے تھی ابّا جی اور ا می کا خیال گھر کے کام سب وہ اکیلا کرتی تھی میں وہاں کافی دیر تک بیٹھ رہا باجی اور نبیلہ اٹھ کر کچن میں رات کا كھانا بنانے چلی گئی . اور میں وہاں سے اٹھ کر سیدھا چھت پے چلا گیا اور وہاں چار پای رکھی تھی اس پے لیٹ گیا اور دوباہ پِھر سائمہ کے بارے میں سوچنے لگا. . تقریبا 1 گھنٹے بعد نبیلہ چھت پے آئی اور آ کر بولی وسیم بھائی كھانا تیار ہو گیا ہے نیچے آ جاؤ سب انتظار کر رہے ہیں . میں نے کہا ٹھیک ہے تم چلو میں آتا ہوں وہ یہ کہہ کر نیچے چلی گئی اور میں بھی وہاں سے اٹھ کر نیچے آ گیا اور سب کے ساتھ مل بیٹھ کر كھانا کھانے لگا کھانے کے دوران بھی میں بس خاموش ہی تھا. كھانا کھا کر میں تھوڑی دیر تک امی اور ابّا جی سے باتیں کرتا رہا اور پِھر اٹھ کر اپنے کمرے میں آ گیا اور آ کر بیڈ پے لیٹ گیا میں سوچنے لگا مجھے سائمہ سے بات کرنی چاہیے اور اپنا شق کو ختم کرنا چاہیے . پِھر میں یہ ہی سوچتا سوچتا سو گیا اگلے دن دو پہر کا وقعت تھا جب میں اپنے کمرے میں بیٹھ ٹی وی دیکھ رہا تھا تو فضیلہ باجی میرے کمرے میں آ گئی اور آ کر میرے ساتھ بیڈ پے بیٹھ گئی. کچھ دیر تک وہ بھی خاموشی سے ٹی وی دیکھتی رہی پِھر کچھ ہی دیر بعد بولی وسیم مجھے تم سے ایک بات پوچھنی ہے . میں نے ٹی وی کی آواز آہستہ کر دی اور باجی کی طرف دیکھ کر بولا کہو باجی آپ کو کیا پوچھنا ہے. باجی بولی وسیم میں 3 دن سے دیکھ رہی ہوں تم بہت چُپ چُپ رہتے ہو شادی تک تم اتنا خوش تھے اور شادی کی رات تک اتنا خوش نظر آ رہے تھے اور ویسے بھی سائمہ تمہیں پسند بھی تھی پِھر آخر ایسی کیا بات ہے تم شادی کی رات سے لے کر اب تک خاموش ہو کیا مسئلہ ہے مجھے بتاؤ میں تمھاری بڑی باجی ہوں کیا کوئی سائمہ کے ساتھ مسئلہ ہوا ہے . مجھے بتاؤ شاید میں تمھاری کوئی مدد کر سکوں. میں باجی کی بات سن کر تھوڑا بوكھلا سا گیا اور پِھر یکدم اپنے آپ کو سنبھالا اور باجی کو کہا باجی کوئی بھی ایسی بات نہیں ہے اور نہ ہی سائمہ کے ساتھ کوئی مسئلہ ہوا ہے . آپ بلا وجہ پریشان نا ہوں . باجی نے کہا پِھر اپنے کمرے میں ہی کیوں بیٹھے رہتے ہو باہر کیوں نہیں نکلتے پِھر باجی تھوڑا ہنس کر بولی لگتا میرے چھوٹے بھائی کو سائمہ کی یاد بہت آتی ہو گی. میں باجی کی بات سن کر شرما گیا اور بولا نہیں باجی ایسی کوئی بھی بات نہیں ہے . باجی نے کہا اگر میرا بھائی اداس ہے تو میں سائمہ کو فون کرتی ہوں کے وہ جلدی واپس آ جائے اور آ کر میرے بھائی کا خیال رکھے . میں فوراً بولا نہیں باجی ایسا نہیں کرو میں بالکل ٹھیک ہوں کوئی اداس نہیں ہوں آپ اس کو نہ بلاؤ وہ اپنے ماں باپ کے گھر گئی ہوئی ہے اس کو رہنے دو . باجی نے کہا اچھا ٹھیک ہے نہیں کرتی لیکن تم پِھر اپنی حالت ٹھیک کرو کوئی باہر نکلو کسی سے ملو بات کرو . میں نے کہا جی باجی آپ فکر نہ کریں میں جیسا آپ کہہ رہی ہیں ویسا ہی کروں گا. پِھر باجی کچھ دیر وہاں بیٹھی یہاں وہاں کی باتیں کرتی رہی اور پِھر اٹھ کر چلی گئی . میں نے سوچا مجھے گھر میں کسی کو شق میں نہیں ڈالنا چاہیے جب سائمہ آئے گی تو اس سے بات کر کے ہی کچھ آگے کا سوچوں گا2 دن کے بَعْد باجی اپنے گھر چلی گئی اور دن یوں ہی گزر رہے تھے پِھر کوئی ایک ہفتے بَعْد سائمہ واپس آ گئی اس کے ماں باپ ہی اس کو چھوڑ نے آئے تھے وہ ایک دن رہ کر واپس چلے گئے . میں ہر روز ہی سائمہ کے ساتھ بات کرنے کا سوچتا لیکن وقعت آنے پے میری ہمت جواب دے جاتی تھی . میں تقریباً ہر دوسرے دن ہی سائمہ کو چودلیتا تھا اس اس کا میرے ساتھ کھل کر ساتھ دینا اور ہنسی خوشی میرے ساتھ رہنا اور باتیں کرنا میرے شق کو ختم کر دیتا تھا لیکن اکیلے میں میرا ضمیر مجھے ملامت کرتا رہتا تھا . اور یوں ہی دن گزرتے جا رہے تھے اور آخر کام میری چھٹی ختم ہو گئی مجھے پاکستان آئے ہوئے 3 مہینے ہو گئے تھے
User avatar
Story Maker
Rookie
Posts: 33
Joined: 25 Sep 2016 17:01
Location: Azad Kashmir Pakistan
Contact:

Re: بہن بِیوِی سے زیادہ وفا دار

Postby Story Maker » 27 Sep 2016 12:29

میرے ابّا جی فوراً راضی ہو گئے اور اس کو بھی ہم ساتھ لے آئے لیکن میں ایک بات پے حیران تھا کے سائمہ یا اس کی ماں نے ایک دفعہ بھی ثناء کو ساتھ جانے سے منع نہیں کیا جو کہ مجھے بہت عجیب لگا . خیر ہم واپس اپنے گھر آ گئے. جب ہم گھر واپس آ گئے تو ایک دن دو پہر کو میں اپنے کمرے میں بیٹھ ٹی وی دیکھ رہا تھا تو نبیلہ میرے کمرے میں آ گئی اور آ کر میرے بیڈ کے دوسرے کونےپے آ کر بیٹھ گئی اور بولی بھائی مجھے آپ سے بہت سی ضروری باتیں کرنی ہیں . لیکن فلحال ایک بات کرنے یہاں آئی ہوں . میں نے ٹی وی بند کر دیا اور بولا ہاں بولو نبیلہ کیا بات کرنی ہے میں سن رہا ہوں . نبیلہ نے کہا بھائی ثناء نے میٹرک کر لیا ہے اور وہ اب بڑی ہو چکی ہے آپ اس کو اگلی پڑھائی کے لیے لاہور سے دور کسی اچھے سے کالج میں داخلہ کروا دو میں نہیں چاہتی وہ اپنے گھر میں اور زیادہ رہے وہ جتنا اپنے گھر سے دور رہے گی تو محفوظ رہے گی. میں نے کہا نبیلہ وہ تو ٹھیک ہے لیکن وہ اپنے گھر سے باہر کیسے زیادہ محفوظ رہے گی مجھے تمہاری یہ بات سمجھ نہیں آ رہی ہے . چا چے نے بھی مرتے ہوئے مجھے چا چی اور سائمہ کے بارے میں کہا تھا کے یہ دونوں ٹھیک نہیں ہے اور تمہارا نام لے رہے تھے اور پِھر وہ آگے کچھ نہ بول سکے اور دنیا سے ہی چلے گئے . نبیلہ یہ سب کیا ہے کیا تم کچھ جانتی ہو . اس دن تم نے چھت پے جو بات کہی تھی وہ بھی تم نے بول کر مجھے عجیب سے وہم میں ڈال دیا ہے. نبیلہ نے کہا بھائی آپ فل حال پہلے ثناء کا کچھ کریں اور تھوڑا سا انتظار کریں میں آپ کو سب کچھ بتا بھی اور سمجھا دوں گی. میں نے کہا ٹھیک ہے لیکن کیا ثناء راضی ہے . تو نبیلہ نے کہا وہ تو راضی ہی راضی ہے وہ خود اب اس گھر میں نہیں جانا چاہتی ہے . میں نے کھا اچھا ٹھیک ہے میں کل ہی اسلام آباد میں کسی سے بات کرتا ہوں اِس کو وہاں اچھے سے کالج میں داخلہ بھی کروا دیتا ہوں اور ہاسٹل بھی لگوا دیتا ہوں . نبیلہ پِھر شکریہ بول کر باہر چلی گئی جب وہ باہر جا رہی تھی میری یکدم نظر اپنی بہن کی گانڈ پے گئی تو دیکھا اس کی قمیض شلوار کے اندر پھنسی ہوئی تھی اور اس کی گانڈ بھی کافی بڑی اور مو ٹی تازی تھی . مجھے اپنے ضمیر نے فوراً ملامت کیا اور میں پِھر خود ہی اپنی سوچ پے بہت شرمندہ ہوا. پِھر میں اپنے بیڈ پے لیٹ گیا اور سوچنے لگا کے نبیلہ سائمہ اور چا چی کے بارے میں کیا جانتی ہے . کیا اِس بات کا چا چے کو بھی پتہ تھا جو اس نے مجھے آخری ٹائم پے بولا تھا. اگلے دن میں نے اپنے ایک دوست کو فون کیا وہ میرے کالج وقعت کا دوست تھا وہ اب اسلام آباد شہر میں کسی سرکاری مہکمہ میں آفیسر لگا ہوا تھا. اس نے مجھے 2 دن کے اندر ساری معلومات اکٹھی کر کے دی. میں ثناء کو لے کر لاہور آ گیا اور اس کا سارا ساما ن اکھٹا کیا اور اس کو لے کر اسلام آباد چلا گیا میں دوبارہ پِھر حیران ہوا کے اِس دفعہ بھی چا چی یا سائمہ نے ثناء کے لیے منع نہیں کیا خیر میں ثناء کو اسلام آباد میں آ کر اس کے کالج اور ہاسٹل کا سارا بندوبست کر کے پِھر میں واپس لاہور آ گیا اور لاہور سے سائمہ کو لیا اور اپنے گھر واپس آ گیا جب میں سائمہ کو لاہور سے لینے گیا تو چا چی کی بھی کہا آپ بھی چلو آپ بھی وہاں کچھ دن جا کر رہ لینا لیکن چا چی کا جواب بہت ہی عجیب اور معنی خیز تھا انہوں نے کہا میرا کیا وہاں گاؤں میں رکھا ہے اور ویسے بھی دنیا کا مزہ تو شہر میں ہی ہے . مجھے اب کچھ کچھ اپنے چا چے کی بات سمجھ لگنے لگی تھی. میں گھر آ کر موقع کی تلاش میں تھا کے میں نبیلہ سے کھل کر بات کر سکوں اور سب باتیں سمجھ سکوں . لیکن کوئی اکیلے میں موقع نہیں مل رہا تھا . میری چھٹی بھی 1 مہینہ ہی رہ گئی تھی اور مجھے واپس سعودیہ بھی جانا تھا . میرا اور سائمہ کا جسمانی تعلق تو تقریباً چل رہا تھا لیکن آب شاید وہ بات نہیں رہ گئی تھی کیونکہ میرا شق یقین میں بدلتا جا رہا تھا . پِھر ایک دن میں صحن میں بیٹھ اِخْبار پڑھ رہا تھا تو نبیلہ شاید فرش دھو رہی تھی اس نے اپنی قمیض اپنی شلوار میں پھنسائی ہوئی تھی اور فرش دھو رہی تھی . میری یکدم نظر اس پے گئی تو حیران رہ گیا اور دیکھا اس کی شلوار پوری گیلی ہوئی تھی اس نے سفید رنگ کی کاٹن کی شلوار پہنی ہوئی تھی جو کے گیلا ہونے کی وجہ سے اس کی نیچے پوری گانڈ صاف نظر آ رہی تھی . نبیلہ کا جسم ایک دم کڑک تھا سفید رنگت بھرا ہوا سڈول جسم تھا . نبیلہ کی گانڈ کو دیکھ کر میری شلوار میں برا حال ہو چکا تھا . اور اپنے لن کو اپنی ٹانگوں کے درمیان میں دبا رہا تھا . میں نے اپنی نظر اِخْبار پر لگا لی لیکن شیطان بہکا رہا تھا اور میں چور آنکھوں سے بار بار نبیلہ کی طرف ہی دیکھ رہا تھا . مجھے پتہ ہی نہیں چلا کے کب میں نے اپنا لن اپنی شلوار کے اوپر سے ہی ہاتھ میں پکڑ لیا تھا اور اس کو زور زور سے مسل رہا تھا . اور نبیلہ کی گانڈ کو ہی دیکھ رہا تھا . میرا ضمیر مجھے بار بار ملامت کر رہا تھا ہے یہ بہن ہے . لیکن شیطان مجھے بہکا رہا تھا . مجھے پتہ ہی نہیں چلا کے میری بہن نے مجھے ایک ہاتھ سے اِخْبار اور دوسرے ہاتھ سے اپنا لن مسلتے ہوئے دیکھ لیا تھا اور میری آنکھوں کو بھی دیکھ لیا تھا کے وہ نبیلہ کی گانڈ کو ہی دیکھ رہی ہیں . مجھے اس وقعت احساس ہوا جب پانی کا بھرا ہوا مگ نبیلہ کے ہاتھ سے گرا اور مجھے ہوش آیا میں نے نبیلہ کی طرف دیکھا تو وہ مجھے پتہ نہیں کتنی دیر سے دیکھ رہی تھی مجھے بس اس کا چہرہ لال سرخ نظر آیا اور وہ سب کچھ چھوڑ کر اندر اپنے کمرے میں بھاگ گئی . مجھے ایک شدید جھٹکا لگا اور میں شرم سے پانی پانی ہو گیا اور اٹھ کر اپنے کمرے میں آ گیا میری بِیوِی باتھ روم میں نہا رہی تھی . میں بیڈ پیٹ لیٹ گیا اور شرم اور ملامت سے سوچنے لگا یہ مجھے سے کتنی بڑی غلطی ہو گئی ہے. میں شام تک اپنے کمرے میں ہی لیٹا رہا اور اپنے کمرے سے باہر نہیں گیا اور رات کو بھی طبیعت کا بہانہ بنا کر سائمہ کو بولا میرا كھانا بیڈروم میں ہی لے آؤ . میں بس یہ ہی سوچ رہا تھا کے آب میں کس منہ سے اپنی بہن کا سامنا کروں گا . وہ میرے بارے میں کیا سوچتی ہو گی . بس یہ ہی سوچ سوچ کر دماغ پھٹا جا رہا تھا . پِھر رات کو میں كھانا کھا کر سو گیا اور اس رات بھی میں نے سائمہ کے ساتھ کچھ نہیں کیا . شاید سائمہ مسلسل 3 دن سے میرے سے مزہ لیے بغیر سو رہی تھی اور سوچ بھی رہی ہو گی کے آج کل کیا مسئلہ ہے . صبح میں جب 9 بجے اٹھا تو دیکھا سائمہ بیڈ پے نہیں تھی پِھر میں اٹھ کر باتھ روم میں گیا نہا دھو کرباہر آیا الماری سے اپنے کپڑےنکالنےلگا اتنی دیر میں سائمہ آ گئی وہ آتے ہی میرے ساتھ چپک گئی مجھے ہونٹوں پے کس کی اور نیچے سے میرا لن شلوار کے اوپر سے ہی ہاتھ میں پکڑ لیا اور بولی وسیم جانو کیا بات ہے 3 دن ہو گئے آپ بھی ناراض ہو اور آپ کا شیر بھی ناراض ہے مجھ سے غلطی ہو گئی ہے کیا. ابھی اتنی ہی بات سائمہ نے کی تھی کے نبیلہ اندر کمرے میں آ گئی اور بولتے بولتے رک گئی شاید وہ ناشتے کا بولنے آئی تھی . لیکن اندر آ کر جو منظر اس کی آنکھوں نے دیکھا وہ میرے اور نبیلہ کے لیے بہت شرمناک تھا کیونکہ سائمہ تو میری بِیوِی ہے لیکن نبیلہ تو بہن ہے . نبیلہ نے سائمہ کو میرے لن کو پکڑا ہوا صاف دیکھ لیا تھا اور سائمہ نے بھی نبیلہ کو دیکھ لیا تھا . ایک بار پِھر نبیلہ کا چہرہ لال سرخ ہو گیا اور وہ باہر بھاگ کر چلی گئی . میں نے سائمہ کو کہا کچھ تو خیال کیا کرو ایک جوان لڑکی گھر میں ہے اور وہ بھی میری ساگی بہن ہے اور تم دن میں ہی یہ حرکت کر رہی ہو .
User avatar
Story Maker
Rookie
Posts: 33
Joined: 25 Sep 2016 17:01
Location: Azad Kashmir Pakistan
Contact:

Re: بہن بِیوِی سے زیادہ وفا دار

Postby Story Maker » 27 Sep 2016 12:30

سائمہ تو شاید ڈھیٹ تھی آگے سے بولی وہ کون سا بچی ہے اس کو بھی سب پتہ ہے آخر اس نے بھی کسی نہ کسی دن لن لینا ہی ہے پِھر اِس میں اتنا پریشان ہونے کی کیابات ہے میں تو کہتی ہوں تم نبیلہ کی شادی کروا دو وہ بیچاری بھی کسی لن کے لیےترس رہی ہو گی میں نے غصے سے سائمہ کو دیکھا اور بولا تم سے تو بات کرنا ہی فضول ہے اور کپڑے لے کر باتھ روم میں گھس گیا اور کپڑے بَدَلنے لگا. کپڑے بَدَل کر گھر سے باہر نکل گیا اور اپنے کچھ دوستو سے جا کر گپ شپ لگانے لگا تقریباً 2 بجے کے قریب میں گھر واپس آیا تو دروازہ نبیلہ نے ہی کھولا اور دروازہ کھول کر اندر چلی گئی . جب میں اندر گیا تو دیکھا سب بیٹھے كھانا شروع کرنے لگے تھے میں بھی مجبورا وہاں ہی بیٹھ گیا اور كھانا کھانے لگا . میں نے کن اکھیوں سے نبیلہ کو دیکھا لیکن وہ كھانا کھانے میں مصروف تھی . پِھر جب سب نے كھانا کھا لیا تو نبیلہ اور سائمہ نے برتن اٹھانا شروع کر دیئے اور میں آ کر اپنے کمرے میں آ کر بیڈ پے لیٹ گیا اور کچھ ہی دیر میں آنکھ لگ گئی. شام کو سو کر اٹھا تو سائمہ چائے بنا کر لے آئی اور . یہاں وہاں کی باتیں کرنے لگی اور مجھے کہنے لگی آپ اور میں کچھ دن لاہور ا می کی طرف نہ رہ آئیں . میں نے کہا سائمہ ابھی تھوڑے دن پہلے تم آئی ہو اور اب پِھر لاہور جانے کا کہہ رہی ہو . میری چھٹی تھوڑی رہ گئی ہے میرے واپس چلے جانے کے بعد خود چلی جانا اور جتنے دن مرضی رہ لینا . وہ میری بات سن کر خاموش ہو گئی . پِھر ایسے ہی کچھ دن مزید گزر گئے نبیلہ مجھے سے اور میں نبیلہ سے کترا رہے تھے پِھر جب میرا 1 ہفتہ باقی رہ گیا تو ایک دن میری ا می اور سائمہ میری خالہ کے گھر گئے ہوئے تھے خالہ کا گھر زیادہ دور نہیں تھا پاس میں ہی تھا . اور ابّا جی باہر کسی کام سے گئے ہوئے تھے اور گھر پے شاید میں اور نبیلہ اکیلے ہی تھے . لیکن مجھے بَعْد میں پتہ چلا کے ہم دونوں گھر میں اکیلے ہیں کیونکہ میں صبح سے اپنے کمرے میں ہی تھا . پِھر تقریباً 11بجے کا وقعت تھا میں نہانے کے لیے اپنے اٹیچ باتھ روم میں گھس گیا مجھے پتہ تھا میرے کمرے کے باتھ روم میں میرے یا میری بِیوِی کے علاوہ کوئی نہیں آتا تھا . اِس لیے میں نے دروازہ لاک نہیں کیا اور باتھ روم میں جا کر نہانے لگا . جب میں نے نے باتھ روم میں داخل ہو کر اپنے کپڑے اُتار لیے اور شاور چلا دیا پِھر اپنے جسم پے صابن لگانے لگا جب میں اپنے لن پے صابن لگا رہا تھا تو میرا لن کھڑا ہونے لگا اور کچھ دیر کے صابن سے میرا لن تن کے کھڑا ہو گیا اور میں آہستہ آہستہ مٹھ والے اسٹائل میں صابن لن پے لگانے لگا مجھے پتہ ہی نہیں چلا یکدم نبیلہ میرے باتھ روم میں آ گئی اور اس کی سیدھی نظر میرے لن پے گئی تو وہ ایک بار پِھر شرم سے لال ہو گئی اور دروازے کو بند کر کے باہر سے بس اتنا ہی بولا کے سوری بھائی میرا شیمپو ختم ہو گیا تھا اِس لیے بھابی کا لینے کے لیے آئی تھی اور یہ بول کر وہ چلی گئی . میں بھی جلدی سے نہایا اور اور نہا کر کپڑے پہن کر گھر سے باہر نکل گیا یہ 3 دفعہ میرے اور نبیلہ کے درمیان ہو چکا تھا . اور مجھے تو اب اپنے آپ پر بھی بہت شرم آنے لگی تھی کے ہر دفعہ میری بہن کے ساتھ ہی کیوں یہ ہو جاتا ہے وہ بیچاری کیا سوچتی ہو گی. میں سارا دن باہر گھوم پِھر کر شام کو گھر واپس آیا اور آ کر سیدھا اپنے کمرے میں لیٹ گیا . اب تو میری بالکل ہمت جواب دے چکی تھی کے اگر میرا سامنہ نبیلہ سے ہوتا ہے یا وہ مجھے سے یہ 3 دفعہ کے حادثے کے بارے میں کوئی سوال پوچھے گی تو میں کس منہ سے اور کیا جواب دوں گا. اگلے 2 سے 3 دن تک میں نبیلہ کا زیادہ سامنا نہیں کیا اور یوں ہی دن گزر گئے . واپسی سے دو دن پہلے میں شام کے وقعت چھت پے بیٹھا ہوا تھا اور سعودیہ میں کسی سے فون پے بات کر رہا تھا . تو نبیلہ میری چائے لے کر اوپر آ گئی نبیلہ کو دیکھ کر میں تھوڑا گھبرا سا گیا کیونکہ مجھے اس کا سامنا کرتے ہوئے شرم آ رہی تھی . نبیلہ آ کر چار پائی پے بیٹھ گئی اور چائے میری آگے رکھدی میں نے بھی کوئی 2 منٹ مزید بات کر کے کال کو کٹ کر دیا . پِھر نبیلہ بولی بھائی آپ ا ب کب واپس آئیں گے . تو میں نے کہا نبیلہ تمہیں تو پتہ ہے چھٹی 2 سال بَعْد ہی ملتی ہے اب 2 سال بَعْد ہی آؤں گا . تو نبیلہ بولی بھائی اب تو ہمارے پاس قدرت کا دیا سب کچھ ہے پِھر آپ پکے پکے واپس پاکستان کیوں نہیں آ جاتے اور یہاں آ کر اپنا کوئی کاروبار شروع کر دیں . ہم سب کو آپ کی یہاں زیادہ ضرورت ہے اور آپ کا گھر بھی بچ جائے گا . میں نے کہا ہاں نبیلہ کہتی تو تم ٹھیک ہو لیکن اب میں وہاں جا کر سارے پیسے جوڑ کر پاکستان ہی آنے کی کوشش کروں گا . میں نے نبیلہ کو کہا کے میرا گھر کیسے بچ جائے گا یہ بات تم کیوں کہہ رہی ہو . تو نبیلہ نے کہا کچھ نہیں پِھر آپ کو بتاؤں گی . میں نے نبیلہ کو کہا تم نے مجھے کہا تھا کے ثناء کا کچھ بندوبست کر کے تم مجھے سائمہ اور چا چی کے بارے میں کچھ بتاؤ گی . تم مجھے اب بتاؤ بھی دو کے آخر مسئلہ کیا ہے . میری بات سن کر وہ ایک دم لال سرخ ہو گئی اور بولی بھائی میں آپ کو آپ کے سامنے نہیں بتا سکتی میرے اندر اتنی ہمت نہیں ہے . جب آپ واپس سعودیہ جاؤ گے تو آپ یہاں میرے سامنے نہیں ہو گے تو میں آپ کو سب کچھ فون پے بتا دوں گی . میں نے کہا نبیلہ تم مجھ سے وعدہ کرو کے تم مجھے ایک ایک بات تفصیل سے اور سچ سچ بتاؤ گی . تو نبیلہ بولی بھائی آپ کیسی بات کر رہے ہو آپ کے اندر تو ہماری جان ہے . میں آپ کے ساتھ کبھی جھوٹ نہیں بول سکتی . میں آپ کو سب کچھ سچ سچ بتاؤں گی . پِھر میں نے کہا نبیلہ مجھے تم سے معافی مانگنی ہے . تو نبیلہ فوراً بولی بھائی کس چیز کی معافی . تو میں نے کہا وہ مجھے سے اس دن بہت غلطی ہو گئی تھی جب تم فرش دھو رہی تھی اور سائمہ والی حرکت اور باتھ روم والی حرکت پے میں تم سے معافی مانگتا ہوں مجھے ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا . نبیلہ میری بات سن کر شرما کے لال سرخ ہو گئی اور چُپ کر کے نیچے چلی گئی . پِھر وہ دو دن بھی گزر گئے اور میں واپسی کے لیے جب ایئرپورٹ آیا تو مجھے سائمہ اور نبیلہ اور ابّا جی چھوڑ نے کے لیے آئے جب میں اندر جانے لگا تو میرے ابّا جی مجھے گلے لگا کر ملے اور اور پِھر سائمہ بھی مجھے ملی ، لیکن جو مجھے عجیب اور حیران کن بات لگی جب نبیلہ آگے ہو کر مجھے گلے ملی تو اس کا قد میرے سے تھوڑا چھوٹا تھا تو اس نے اپنی دونوں بازو کو میری کمر میں ڈال کر مجھے زور کی جپھی ڈالی مجھے اس کے موٹے موٹے اور نرم نرم ممے مجھے اپنے سینے پے محسوس ہوئے . اور آہستہ سا میرے کان میں بولا بھائی میری واپسی والی بات پے غور کرنا. اور پِھر میں نبیلہ کے بارے میں ہی سوچتے سوچتے ائرپورٹ کے اندر چلا گیا اور واپس سعودیہ آ گیا . مجھے واپس آئے ہوئے کوئی 3 مہینے سے زیادہ ٹائم گزر چکا تھا اور زندگی اپنے معمول پے چل رہی تھی میری گھر پے بھی بات ہوتی رہتی تھی . لیکن میری نبیلہ سے ابھی تک سائمہ اور چا چی کی موضوع پے بات ہی نہیں ہو رہی تھی . زیادہ تر ابّا جی اور سائمہ سے بات ہو کر کال کٹ ہو جاتی تھی . پِھر ایک دن رات کو تقریباً 10بجے کا ٹائم تھا اور پاکستان میں 12 کا ٹائم تھا مجھے نبیلہ کے نمبر سے کال آئی . میں پہلے تھوڑا حیران ہوا کے آج اتنی دیر کو نبیلہ کال کیوں کر رہی ہے . میں نے اس کی کال کٹ کر کے خود کال ملائی اور تو نبیلہ سے سلام دعا ہوئی پِھر وہ میرا حال پوچھنے لگی . وہ شاید میرے سے کوئی بات کرنا چاہتی تھی لیکن اس کو سمجھ نہیں آ رہی تھی بات کیسے شروع کرے . پِھر میں نے ہی تھوڑی دیر یہاں وہاں کی بات کر کے پوچھا کے سائمہ کیسی ہے تو وہ بولی کے وہ آج لاہور چلی گئی ہے . میں نے کہا نبیلہ آج ٹائم مل گیا ہے تو مجھے آج سائمہ اور چا چی کے بارے میں بتا دو . تا کہ میرے دِل کو بھی سکون ہو . پِھر نبیلہ بولی بھائی آپ سے چا چے نے آخری دفعہ کیا کہا تھا . میں نے اس کو چا چے سے ہوئی بات بتا دی . تو نبیلہ بولی بھائی چھا چے نے بہت مشکل وقعت دیکھا ہے سائمہ اور چھا چی نے چھا چے کی کے آخریسالوںبہت اذیت دی اور بچارے دنیا میں اپنے بِیوِی اور بیٹی کے کرتوت کی وجہ سے گھٹ گھٹ کر دنیا سے چلے گئے. میں نے نبیلہ کو پوچھا نبیلہ صاف بتاؤ تم کہنا کیا چاہتی ہو کیوں گھوما گھوما کر بات کر رہی ہو . تو نبیلہ بولی بھائی چا چی اور سائمہ دونوں ٹھیک عورتیں نہیں ہیں . سائمہ کا شادی سے پہلے ہی کسی ساتھ چکر تھا اور وہ اس کے ساتھ شادی سے پہلے ہی سو چکی ہے . اور چا چی کا بھی اس بندے کے ساتھ چکر ہے اور وہ بھی اس بندے کے ساتھ سب کچھ کرتی ہے جس سے سائمہ کرتی ہے اور دونوں ماں بیٹی کو ایک دوسرے کا پتہ ہے . اور چچی کے 2 یار ہیں جن کے ساتھ اس کا چکر ہے. اِس لیے میں نے ثناء کو اس گھر سے نکالا ہے تا کہ اس کی زندگی برباد نہ ہو. نبیلہ کی بات سن کر میرے سر چکر ا گیا تھا اور مجھے شدید جھٹکا لگا تھا . مجھے اپنی سہاگ رات والی رات کا واقعہ یاد آ رہا تھا اور میرا اس دن والا شق آج نبیلہ کی باتیں سن کر یقین میں بَدَل چکا تھا . کچھ دیر میری طرف سے خاموشی دیکھ کر نبیلہ بولی بھائی آپ میری بات سن رہے ہیں نہ . تو میں اس کی آواز سن کر پِھر چونک گیا اور بولا ہاں ہاں نبیلہ سن رہا ہوں. نبیلہ بولی آپ کیا سوچ رہے ہیں . میں نے کہا نبیلہ مجھے اپنی شادی کی پہلی رات یاد آ رہی ہے مجھے اس رات گزر نے کے بعد صبح ہی میرے دِل میں شق آ گیا تھا جو مجھے آج تمہاری باتوں سے یقین میں بَدَل گیا ہے . تو نبیلہ بولی بھائی مجھے پتہ ہے آپ کو اس رات کیوں اور کیسے شق ہوا تھا .

Return to “Urdu Font stories”

Who is online

Users browsing this forum: No registered users and 2 guests