بہن بِیوِی سے زیادہ وفا دار

User avatar
Story Maker
Rookie
Posts: 33
Joined: 25 Sep 2016 17:01
Location: Azad Kashmir Pakistan
Contact:

Re: بہن بِیوِی سے زیادہ وفا دار

Postby Story Maker » 27 Sep 2016 12:31

اس رات میں نے سفید چادر جان بوجھ کر ڈالی تھی تا کہ ہم سب کو سائمہ کی حقیقت پتہ چل سکے . میں نے کہا نبیلہ تمہیں پتہ تھا کے اس کاخون نہیں نکلا جو اِس بات کا ثبوت ہے کے سائمہ ٹھیک لڑکی نہیں تھی . تو نبیلہ نے کہا بھائی مجھے بھی بس شق تھا . آپ نے تو صرف سفید چادر کا راز دیکھا ہے لیکن چا چی کا تو مجھے آپ کی شادی سے پہلے ہی پتہ تھا کہ چا چی کا چا چے کے علاوہ بھی ایک اور یار ہے . مجھے فضیلہ باجی نے بتایا تھا کیونکہ فضیلہ باجی کو بھی چا چی کی اپنی بھابی نے ہی چا چی کا اور اس کے یار کا بتایا تھا .اور چا چی کی بھابی فضیلہ باجی کی کلاس فیلو بھی ہے اور باجی کےسسرا لی محلے میں چا چی کی بھابی کی ا می کا گھر بھی ہے. لیکن بعد میں میں نے سائمہ اور چا چی کو اپنی آنکھوں سے دیکھا ہوا ہے . میں نے کہا تم نے چا چی اور سائمہ کو کہاں دیکھا تھا اور کس کے ساتھ دیکھا تھا . تو نبیلہ نے کہا بھائی جب آپ شادی کر کے واپس سعودیہ چلے گئے تھے تو ایک دفعہ سائمہ ابّا جی کو بول کر مجھے بھی اپنے ساتھ لاہور اپنی ماں کے گھر لے گئی تھی اور میں وہاں 15 دن ان کے گھر میں رہی تھی . ایک دن دو پہر کو جب سب سوئے ہوئے تھے تو میں ثناء کے ساتھ اس کے کمرے میں سوئی ہوئی تھی تو میں پیشاب کے لیے اٹھی اور باتھ روم میں گئی ان کا باتھ روم اوپر والی اسٹوری کی جو سیڑھیاں ہیں اس کے نیچے ہی بنا ہوا تھا میں جب اس کے پاس پہنچی تو مجھے اوپر والے کمرے سے چا چی کی سسکنے کی آواز سنائی دی . میں پِھر بھی باتھ روم میں میں چلی گئی جب باتھ روم سے فارغ ہو کر باہر نکلی تو مجھے چا چی کی سسکنے کی آواز بدستور آ رہی تھی میں حیران بھی تھی اور ڈر بھی رہی تھی .چا چی کو کیا ہوا ہے وہ عجیب عجیب آوازیں کیوں نکا ل رہی ہے . میں آہستہ آہستہ سے چلتی ہوئی اوپر چلی گئی اوپر ایک ہی کمرہ بنا ہوا تھا اسٹور ٹائپ کمرہ تھا اور اس کا ایک دروازہ بند ہوا تھا اور اور ایک سائڈ کا دروازہ تھوڑا سا کھلا ہوا تھا میں اس کمرے کے پاس گئی اور جا کر اندر دیکھا تو اندر کا منظر دیکھ کر میرے پیروں تلے زمین نکل گئی کیونکہ اندر ایک جوان 29 یا30 سال کا لڑکا پورا ننگا اور چا چی بھی پوری ننگی تھی اور انہوں نے زمین پر ہی گدا ڈالا ہوا تھا اور وہ لڑکا چا چی کو اُلٹا لیٹا کر چا چی کو چودرہا تھا اور چا چی وہاں سسک رہی تھی . میں نے بس 2 یا 3 منٹ ہی ان کو اِس حالت میں دیکھا تو میرا سر چر ا گیا تھا میں تیزی کے ساتھ چلتی ہوئی نیچے آ گئی اور آ کر کمرے میں ثناء کے ساتھ لیٹ گئی . میرا دماغ گھوم رہا تھا . چا چا تو اپنی دکان پے ہی ہوتا تھا اور سائمہ اپنی ماں کے کمرے میں سوتی تھی . وہ دن رات تک میں سوچتی رہی کے میں چا چی کے بارے میں کس سے بات کروں . پِھر میں نے سائمہ سے ہی بات کرنا کا سوچا کے اس کو بتا دوں گی کے اس کی ماں کیا گل کھلا رہی ہے . میں 2 سے 3 دن تک موقع تلاش کرتی رہی کہ اکیلے میں سائمہ سے بات کر لوں . لیکن کوئی موقع نہیں ملا پِھر ایک دن چا چا چا چی کو کو لے کر اسپتال گیا ہوا تھا . میں اور سائمہ اور ثناء گھر پے اکیلی ہی تھی . تو میں نے سوچا جب ثناء دو پہر کو سو جائے گی تو میں سائمہ کے کمرے میں جا کر اس سے بات کروں گی . اور پِھر دو پہر کو جب ثناء سو گئی تو میں آہستہ سے اٹھی اور کمرے سے نکل کر سائمہ کی ماں کے کمرے میں گئی کیونکہ سائمہ وہاں ہی سوتی تھی میں نے دروازے پے آہستہ سے دستک دی لیکن کوئی اندر سے کوئی جواب نہیں آیا اور پِھر میں نے آہستہ سے دروازہ کھولا تو وہ کھل گیا اندر جھانک کر دیکھا تو کمرہ خالی تھا میں حیران تھی یہ سائمہ کاہان گئی ہے میں پِھر وہاں سے باتھ روم کے دروازے پے گئی تو وہ بھی کھلا ہوا تھا اور خالی تھا . میں سوچنے لگی وہ اتنی دو پہر کو کہاں چلی گئی ہے . پِھر میں نے سوچا کے شاید وہ اوپر چھت پے کسی کام سے نہ گئی ہو . میں آہستہ آہستہ سے اوپر گئی اور جب میں کمرے کے پاس پہنچی تو اندر کا منظر دیکھا تو مجھے ایک شدید قسِم کا جھٹکا لگا کیونکہ وہ ہی گدےپے سائمہ اور وہ ہی لڑکا جو چا چی کو چود رہا تھا وہ اب سائمہ کے ساتھ تھا اور وہ ٹانگیں کھول کر بیٹھا ہوا تھا اور سائمہ آگے کو جھک کر اس کا لن منہ میں لے کر چوس رہی تھی . اور میں تو یہ دیکھ کر ہی سر گھوم گیا اور گرنے لگی اور یکدم اپنے آپ کو سنبھال لیا پِھر اس لڑکے نے کہا سائمہ چل جلدی سے گھوڑی بن جا آج پہلے تیری گانڈ مارنےکا دِل پہلے کر رہا ہے . اور سائمہ نے اپنےمنہ سے اس کے لن کو نکالا اور بولی کیوں نہیں میری جان یہ گانڈ تو میں نے صرف رکھی تمھارے لیے ہے . میرا میاں تو مجھے بہت دفعہ گانڈ کا کہہ چکا ہے لیکن میں اس کو ہر دفعہ منع کر دیتی ہوں کے میں نہیں کروا سکتی مجھے درد ہوتا ہے . اس پاگل کو کیا پتہ پھدی کی سیل بھی کسی اور نے توڑی ہے اور گانڈ تو صرف میرے جانو عمران کے لیے ہے . اور دونوں کھلکھلا کر ہنسانے لگے . اور میں باہر ان کی باتیں سن کر پاگل ہو گئی تھی اور میرا بس نہیں چل رہا تھا میں اندر جا کر سائمہ کا منہ توڑدوں کے اس نے میرے گھر والوں اور میرے بھائی کے ساتھ کتنا دھوکہ کیا ہے . اور پِھر یکدم مجھے میرے کاندھے پے کسی کا ہاتھ محسوس ہوا میں ڈر گئی پیچھے مڑ کر دیکھا تو ثناء کھڑی تھی اور مجھے انگلی سے چُپ رہنے کا کہا اور مجھے لے کر نیچے اپنے کمرے میں آ گئی . اور بھائی اس نے مجھے اپنی ماں اور بہن کے بارے میں سب بتایا کے وہ دونوں یہ کام کتنے سال سے کر رہی ہیں . وہ لڑکا سائمہ باجی کا یونیورسٹی کا کلاس فیلو ہے اور باجی اور ا می کے ساتھ بہت دفعہ مل کر بھی یہ کام کر چکا ہے . اور باجی وسیم بھائی کے باہر سعودیہ چلے جانے کے بَعْد یہاں آتی ہی صرف اس لڑکے کے لیے ہے اور یہ کھیل تقریباً ہر دوسرے دن اِس گھر میں کھیلا جاتا ہے. اور بھائی یہ وہ ہی لڑکا ہے جو چا چے کی فوتگی پے بھی گھر میں نظر آ رہا تھا اور چا چی کے آگے پیچھے ہی گھوم رہا تھا . بھائی اِس لیے میں نے ثناء کو اس گھر سے دور رکھنے کے لیے آپ کو کہا تھا . کیونکہ اس بیچاری کی بھی زندگی ان ماں بیٹی نے خراب کر دینی تھی . میں نبیلہ کی بات سن کر شاک کی حالت میں تھا اور میرا اپنے دماغ ساری باتیں سن کر گھوم چکا تھا . میں کافی دیر خاموش رہا اور نبیلہ کی کہی ہوئی باتوں پے غور کر رہا تھا . اِس دوران نبیلہ مجھے 2 دفعہ کہہ چکی تھی بھائی آپ سن رہے ہیں نہ . اور پِھر میں نے آہستہ اور دُکھی دِل سے جواب دیا ہاں نبیلہ میں سن رہا ہوں . نبیلہ شاید میری حالت سمجھ چکی تھی . اس نے کہا بھائی مجھے پتہ ہے آپ اِس وقعت بہت دُکھی ہو میں آپ کو اِس لیے یہ باتیں نہیں بتا رہی تھی میں نے یہ باتیں بہت عرصہ تک اپنے دِل میں رکھی ہوئی تھیں ان باتوں کو میں نے صرف فضیلہ باجی کو ہی بتایا تھا اور آج آپ کو بتا رہی ہوں . پِھر میں نے کچھ دیر بَعْد ہمت کر کے نبیلہ سے پوچھا کے نبیلہ ایک بات بتاؤ یہ لڑکا تو سائمہ اور چا چی کا یار تھا. لیکن چا چی کا پہلا یار کون تھا جس کی بات تم نے مجھے پہلے بتائی تھی . نبیلہ میری بات سن کر خاموش ہو گئی . میں نے کچھ دیر انتظار کیا لیکن کوئی جواب نہیں آیا پِھر میں نے دوبارہ نبیلہ سے پوچھا بتاؤ نہ وہ کون ہے . تو نبیلہ آہستہ سے بولی بھائی میں اس کا نہیں بتا سکتی میرے اندر بتانے کے لیے ہمت نہیں ہے مجھے شرم آ رہی ہے . میں نے کہا نبیلہ تم نے اتنا کچھ مجھے بتا دیا ہے اور اب مجھ سے کیا شرم باقی رہ گئی ہے . اور تم نے مجھ سے وعدہ کیا تھا کے تم مجھے ساری بات سچ بتاؤ گی
User avatar
Story Maker
Rookie
Posts: 33
Joined: 25 Sep 2016 17:01
Location: Azad Kashmir Pakistan
Contact:

Re: بہن بِیوِی سے زیادہ وفا دار

Postby Story Maker » 27 Sep 2016 12:32

. نبیلہ بولی ہاں بھائی مجھے پتہ ہے لیکن اگر میں آپ کو اس کا بتا دوں گی تو آپ کو یقین نہیں آئے گا . میں نے کہا نبیلہ نہ تم مجھے دیکھ رہی ہو اور نہ میں تمہیں دیکھ سکتا ہوں تم مجھے بتاؤ کون ہے اتنا کچھ سچ سچ بتا دیا ہے تو اس دوسرے بندے کا بھی بتا دو . تو نبیلہ کچھ دیر خاموش رہی اور پِھر بولی بھائی وہ چا چی کا اپنے چھوٹا سگا بھائی نواز ہے اور وہ چا چی کی بھابی کا میاں بھی ہے . میرے منہ سے بے اختیارنکل گیا کیا کہہ رہی ہو نبیلہ تم ہوش میں تو ہو. نبیلہ کچھ دیر کے لیے خاموش ہو گئی اور پِھر بولی کے بھائی یہ سچ ہے اور میں اپنے ہوش میں ہی ہوں اور بالکل سچ سچ بتا رہی ہوں . کیونکہ میں نے تو چا چی اور اس کے بھائی کو کرتے ہوئے نہیں دیکھا لیکن نواز کی بِیوِی نے خود کئی دفعہ اپنے گھر میں ہی اس کو دیکھا تھا . اور پِھر اس نے باجی فضیلہ کو بتایا تھا . . بھائی مجھے ثناء نے یہ بھی بتایا تھا کے وہ سائمہ کا دوست پہلے صرف سائمہ کے ساتھ ہی کرتا تھا لیکن پِھر اس نے سائمہ کو بلیک میل کر کے چا چی کو بھی شامل کر لیا اور اب دونوں ماں بیٹی مل کر یہ کام کرتی ہیں . اور بھائی جب میں اور سائمہ لاہور سے واپس آ گئے تھے تو اس کے بَعْد سائمہ اور میرا ٹھیک ٹھاک جھگڑا ہوا تھا میں نے اس کو بہت برا بھلا کہا اور اس کو سب کچھ بتا دیا جو میں اس کی ماں کے گھر دیکھ کر آئی تھی . میرے اندر غصے کی آگ ہی ٹھنڈی نہیں ہو رہی تھی . میں نے اس کو کہا کے تمہیں شرم نہیں آئی کے شادی سے پہلے ہی منہ کالا کروا لیا اور پِھر شادی کے بَعْد بھی اب تک اس سے منہ کالا کروا رہی ہو اور ساتھ میں اپنے ماں کو بھی شامل کر لیا ہے . کچھ تو اپنے باپ کی یا خاندان کی عزت کا خیال تو رکھا ہوتا . اگر دونوں ماں بیٹی میں اتنی ہی آگ بھری ہوئی تھی تو تمہاری ماں تو شادی سے پہلے بھی اپنے سگے بھائی سے اپنی آگ ٹھنڈی کروا لیتی تھی . تم نے بھی اپنے ماں کو کہہ کر اپنے مامے کے نیچے لیٹ جانا تھا. اور اپنی آگ ٹھنڈی کروا لینی تھی کم سے کم گھر کی بات گھر میں ہی رہتی اور گھر کے لوگوں تک ہی رہتی . لیکن تم تو ماں سے بھی آگے نکلی تم نے پڑھائی کے بہانے یار بنا لیے پہلے خود اس کے نیچے لیٹ گئی پِھر ماں کو بھی شامل کر لیا اور ماں کو دیکھو اپنے سگے بھائی کے لن سے دِل نہیں بھرا تو اپنی بیٹی کے یار کو اپنا یار بنا لیا . اور اب پتہ نہیں جیسے وہ تمہیں بلیک میل کر کے تمہاری ماں کو چودچکا ہے ویسے ہی تیری ماں کو بلیک میل کر کے پتہ نہیں کن کن سے چودوا چکا ہو گا . کیونکہ تم تو یہاں آ گئی ہو اب پتہ نہیں پیچھے ماں کس کس کو گھر بلا کر اپنی آگ ٹھنڈی کرتی ہو گی . اس نے تو سگے بھائی کو نہیں چھوڑا تو اور کسی کی کیا امید باقی رہ جاتی ہے . بھائی میں نے اپنے دِل کا سارا غبار نکال دیا اور آج تک وہ میری دشمن ہے اور اب تو وہ شیرنی ہو چکی ہے کیونکہ اس نے دیکھ لیا تھا کے میں نے یہ ساری باتیں آپ کو نہیں بتائی ہیں لیکن اس کو یہ نہیں پتہ تھا کے میرا ایک بیمار اور عزت دار باپ اور ماں ہے اگر ان کے کان تک کوئی بات بھی پہنچی تو وہ تو جیتے جی مر جائیں گے . اِس لیے اس کو کھلی چھٹی مل گئی تھی وہ سب کچھ تو کرتی ہی تھی . لیکن اس کے بَعْد وہ مجھے بھی آتے جاتے گھر میں اکیلے میں جہاں دیکھ لیتی مجھے کبھی کسی کا اور کبھی آپ کا نام لے تنگ کرتی رہتی ٹوک بولی مارتی رہتی تھی . اور بیہودہ بیہودہ باتیں کرتی تھی. میں نبیلہ کی باتیں سن کر پِھر خاموش ہو گیا اور سائمہ اور چا چی کے بارے میں سوچنے لگا . یہ کیا سے کیا ہو گیا . پِھر نبیلہ بولی بھائی اِس لیے میں نے آپ کو اس دن پے یہ ہی کہا تھا کے آپ پکے پکے پاکستان آ جاؤ اور اِس مسئلے کو حَل کرو . . مجھے خاموش سمجھ کر نبیلہ نے پوچھا بھائی آپ کیا سوچ رہے ہیں . تو میں چونک گیا اور نبیلہ سے پوچھا کے تمہیں سائمہ کس بات کے لیے تنگ کرتی ہے مجھے بتاؤ میں اس کنجری کی کھال اُتار کے رکھ دوں گا . تو نبیلہ پِھر خاموش ہو گئی اور کچھ نا جواب دیا میں نے پِھر کہا بتاؤ نہ وہ تمہیں کیا کہتی ہے . تو نبیلہ نے کہا بھائی میں وہ باتیں نہیں بتا سکتی آپ کی بہن ہوں مجھے بتاتے ہوئے شرم آتی ہے. میں نے کہا نبیلہ جس طرح تم نے بے باکی سے پہلے مجھے سب کچھ بتایا ہے اور سائمہ کے ساتھ جھگڑا کر کے اس کوسنائی ہیں اس ہی ہمت سے مجھے بتاؤ تمہیں وہ کیا کہتی ہے نہیں تو میں یہاں بیچین رہوں گا کے میری بہن کیا کچھ برداشت کر رہی ہے. پِھر نبیلہ نے کہا بھائی وہ بہت گندی گندی باتیں کہتی ہے مجھے آپ کو بتاتے ہوئے شرم آ رہی ہے میں کیسے آپ کو بتاؤں . میں نے کہا چلو ٹھیک ہے جیسے تمھارے مرضی اگر اپنے بھائی پے یقین نہیں ہے یا پرایا سمجھتی ہو تو بے شک نہ بتاؤ. نبیلہ فوراً بولی کے بھائی میں اس کنجری کے لیے اپنے اتنے پیارے بھائی کو کیسے پرایا سمجھ سکتی ہوں . یہ آپ سوچنا بھی نہیں . آپ ہمارے لیے سب کچھ ہیں . میں آپ کو بتاتی ہوں کہ وہ کیا کیا کہتی ہے تھوڑا انتظار کریں میں چھت پے جاتی ہوں اور وہاں جا کے آسانی سے آپ سے بات کرتی ہوں . میں نے کہا ٹھیک ہے میں انتظار کر رہا ہوں. پِھر کوئی 2 منٹ کے بعد ہی نبیلہ کی آواز آئی ہاں بھائی میں چھت پے آ گئی ہوں . میں نے کہا اچھا اب بتاؤ سائمہ تمہیں کیا کہتی ہے اور کیوں تنگ کرتی ہے. پِھر نبیلہ کچھ دیر خاموش رہی پِھر وہ بولی کہ بھائی جب بھی میں اس کو تعنے مارتی ہوں یا اس کو اس کی اصلیت بتاتی ہوں تو وہ میں مجھے گندی گندی باتیں کہتی ہے . کہتی ہے نبیلہ تو بھی کوئی دودھ کی دُھلی ہوئی نہیں ہے مجھے پتہ ہے تیری اِس عمر میں کیا حالت ہے تم بھی کسی اچھے اور مضبوط لن کے لیے ترستی ہو تمھارے اندر بھی آگ بھری ہوئی ہے تمہارا جسم بتاتا ہے کے تمہیں کسی مضبوط مرد کی ضرورت ہے جس سے روز اپنے اندر لن کروا سکو. اور کہتی ہے نبیلہ اگر تو میرا ساتھ دے تو میں تیرا ساتھ دے سکتی ہوں تیری مدد کر سکتی ہوں تمہیں بھی اچھے اور تگڑے لن تیرے اندر کروا سکتی ہوں . بس تو میرا ساتھ دے اور میں تیرا ساتھ دوں گی اور خاموشی سے دونوں مزے کرتی ہیں . اور بھائی آپ اور باجی کی بارے میں بہت گندی گندی ب باتیں کرتی ہے . میں نے کہا میرے اور باجی کے بارے میں کیا کہتی ہے . تو پِھر نبیلہ کچھ دیر خاموش ہو کر بولی کے بھائی وہ کہتی ہے نبیلہ تو اگر میرا ساتھ دے تو میں تیرے بھائی کا لن بھی تیرے اندر کروا سکتی ہوں تیرے بھائی کا لن موٹا اور لمبا ہے میرے یار عمران سے بھی بڑا ہے . وہ تو تیرا بھائی 2 سال اکیلا چھوڑ کر چلا جاتا ہے تو میں اپنے یار عمران سے مزہ لینے لاہور چلی جاتی ہوں نہیں تو اگر تیرا بھائی یہاں ہو تو میں کبھی بھی لاہور نا جاؤں کہتی ہے تیرا بھائی جم کر چودتا ہے . قسم لے لو اس کا لن لے کر مزہ آجاتا ہے . تیرے اندر جائے گا تو ساری زندگی مجھے دعا دے گی اور گھر میں ہی روز جب دِل کیا صبح شام لن لیتی رہنا . بھائی اس نے ایک تصویر مجھے دکھائی تھی اور پِھر نبیلہ خاموش ہو گئی . میں نے فوراً پوچھا کون سی تصویر اور کس قسِم کی تصویر دکھائی ہے . تو نبیلہ بولی بھائی وہ.. میں نے کہا نبیلہ اب بھی کوئی بات رہ گئی ہے جس سے تم شرما رہی ہو . تو نبیلہ نے کہا بھائی سائمہ نے آپ کے لن کی اپنے موبائل میں تصویر بنائی ہوئی تھی آپ شاید صبح کے وقعت سوئے ہوئے تھے تو اس نے آپ کی شلوار اُتار کر آپ کے لن کی تصویر بنائی ہوئی تھی اور مجھے دیکھا کر کہتی ہے یہ دیکھ اپنے بھائی کا لن کتنا لمبا اور موٹا لن ہے
User avatar
Story Maker
Rookie
Posts: 33
Joined: 25 Sep 2016 17:01
Location: Azad Kashmir Pakistan
Contact:

Re: بہن بِیوِی سے زیادہ وفا دار

Postby Story Maker » 27 Sep 2016 12:33

دیکھو کیسے لوہے کے را ڈ کی طرح کھڑا ہے موٹا تازہ خود سوچ تیرے اندر جائے گا تو دنیا کا اصلی مزہ مل جائے گا . اور کہتی ہے ایک تم ہو جس کو اتنا موٹا لن پسند نہیں آ رہا اور اور نخرے کر رہی ہے دوسری طرف میری ماں ہے جب سے اس کو میں نے تصویر دکھائی ہے وہ پاگل ہو گئی ہے مجھے بار بار کہتی ہے کے وسیم کو میرے لیے تیار کر مجھے اس کا لن اپنے اندر لینا ہے تیرے بھائی کے لن کے لیے وہ مر رہی ہے . بھائی میں نے اس کو غصے میں کہا کے ہاں تیری ماں نے تو اپنے سگے بھائی کو بھی نہیں چھوڑا اور اولاد ہونے کے بعد بھی اپنے بھائی کے نیچے آرام سے لیٹ جاتی ہے اس کو تو اپنے داماد میرے بھائی کا لن تو اچھا لگے گا ہی اِس میں حیران ہونے والی کون سی بات ہے. تو بھائی پِھر اس نے مجھے باجی کے بارے میں گندی گندی باتیں بولنے لگی . میں نے کہا باجی کے بارے میں کیا کہتی ہے . تو نبیلہ نے کہا بھائی کہتی ہے ہاں تو تیری بڑی بہن بھی کون سا پاکباز ہے . شادی سے پہلے ہی اپنے میاں کو چھپ چھپ کر ملتی تھی کبھی اس کے گھر چلی جاتی تھی کبھی اپنے گھر میں بلا لیتی تھی اس نے بھی تو شادی سے پہلے ہی اپنے میاں کا لن کتنی دفعہ اندر کروا لیا تھا . 1 دفعہ تو میں نے خود اس کو رنگے ہاتھ پکڑا تھا . جب وہ مزے سے لن گانڈ میں لے کر اچھل رہی تھی . اور مجھے دیکھ کر شرمندہ ہونے کے بجا ے مجھے کہتی ہے میں کون سا کسی غیر سے کروا رہی ہوں میرا ہونے والا میاں ہی ہے نا . بھائی میں نے اس کو کہا کے اِس میں کون سی اتنی بڑی بات ہے وہ کوئی غیر تو نہیں تھا خا لہ کا بیٹا تھا اور بَعْد میں اس کی شادی بھی تو اس کے ساتھ ہی ہو گئی تھی . تمھارے طرح تو نہیں کہ شادی سے پہلے اپنے کسی غیر پرا ے باہر کے یار کے ساتھ منہ کالا کیا پِھر میرے بھائی کی زندگی میں آ گئی اور اس کو بھی دھوکہ دیا اور اپنے ساتھ ساتھ اپنے ماں کو بھی اپنے غیر اور پرا ے یار کے نیچے لیٹا دیا . اتنا ہی اپنی عزت اور خاندان کا خیال ہوتا تو تم ماں بیٹی باہر کسی غیر کے آگے منہ مارنے اور پِھر ان کے ھاتھوں بلیک میل ہونے سے بہتر تھا جیسے تیری ماں نے اپنے سگے بھائی کو ہی اپنا یار بنا لیا تھا تمہیں بھی اس کے نیچے لیٹا دیتی کم سے کم گھر کا بندہ اور سگا ہونے کے ناتے تم لوگوں کو بلیک میل تو نہ کرتا جیسے آج وہ حرامی تم ماں بیٹی کا یار عمران تم دونوں کو بلیک میل کر کے خود بھی مزہ لوٹ رہا ہے اور دوسروں کو بھی لوٹا رہا ہو گا . اب تو تم دونوں ماں بیٹی پے یقین ہی نہیں رہا پتہ نہیں کتنے لوگوں سے کروا چکی ہوں گی. بھائی مجھے آگے سے کہتی ہے بس کر بس کر میں تمہیں بھی اور تیری بہن کو اچھی طرح جانتی ہوں . بھائی میری گانڈ میں ہاتھ مار کے کہتی ہے یہ جو اتنی بڑی گانڈ بنا لی ہے یہ ایسے ہی نہیں بن جاتی اِس کو ایسا بنانے کے لیے کتنا عرصہ لن اندر لینا پڑتا ہے پِھر جا کر ایسی گانڈ بنتی ہے . مجھے تو شق ہے تو بھی یہاں گاؤں میں کسی کے ساتھ خاموشی سے چکر چلا کر بیٹھی ہے اور چُپ چاپ کر کے لن اندر باہر کروا رہی ہے اِس لیے تو تیرا جسم اتنا بھر گیا اور گانڈ بھی مست بن گئی ہے . کہتی ہے آنے دے اِس دفعہ تیرے بھائی کو کیسے اس کو اکساتی ہوں کے تیری بہن کا کسی کے ساتھ چکر ہے اور وہ چھپ چھپ کر کسی سے مل کر مزہ لوٹ رہی ہے ذرا اِس کا جسم تو دیکھ اِس کا پِھر دیکھنا تیری کیسی شامت آتی ہے. بھائی میں نے آگے سے کہا تم جو مرضی کر لو میرے ماں باپ اور میرا بھائی مجھے اچھی طرح جانتے ہیں تم خود ہی مشکل میں آ جاؤ گی کیونکہ اب تو مجھے پتہ ہے پِھر بھائی اور ابّا جی ا می اور سارے خاندان کو تیرے اور تیری ماں کے کرتوت پتہ چلیں گے . بھائی کہتی ہے دیکھا جائے گا اور مجھے کہتی ہے تیری بڑی بہن ایک نمبر کنجری ہے جب میں ولیمہ سے اگلے دن اپنے ماں باپ کے گھر گئی تھی تو مجھے فون کر کے کہتی ہے سائمہ سناؤ کیا حال ہے اور سناؤ سھاگ رات کیسی گزری تھی . میرے بھائی نے زیادہ تنگ تو نہیں کیا تھا . اور میں نے تیری بہن کو بتایا تھا کہ باجی آپ کا بھائی بہت ظالم ہے اس نے پہلی رات کو 3 دفعہ چود کر رکھ دیا تھا صبح میری کمر میں اتنا دردتھا. مجھ سے چلا نہیں جا رہا تھا . تو آگے سے تیری پاکباز بہن کہتی ہے کے سائمہ ایسا نہیں ہو سکتا میرا بھائی بہت اچھا بندہ ہے وہ کسی پے ظلم کر ہی نہیں سکتا . تم پے ایسا کون سا ظلم کر دیا کے تمہاری کمر میں درد شروع ہو گیا تھا اور تم چل بھی نہیں سکتی تھی. پِھر میں نے تیری بہن کو بتایا کے باجی یہ تم کہہ سکتی ہو مجھ سے پوچھو جس نے اس رات کو 3 دفعہ اس کو برداشت کیا ہے تم نے تو اپنے بھائی کا لن دیکھا بھی نہیں ہو گا میں نے پورا اندر لیا تھا وہ بھی ایک رات میں 3 دفعہ میری جان نکل گئی تھی . تقریباً 7 انچ لمبا اور موٹا لن تھا. تیرے بھائی کا میں نے تو لیا ہے اِس لیے بتا رہی ہوں . تم نے تو لیا نہیں ہے نہ اِس لیے اس کا ظلم تمہیں کیسے محسوس ہو گا . اور پتہ ہے آگے سے تیری کنجری بہن کیا کہتی ہے سائمہ پہلی دفعہ ایسا ہی ہوتا ہے اور مزہ بھی تو مضبوط اور موٹے لن سے ہی آتا ہے جب پورا اندر جڑ تک جاتا ہے . تو مزہ آ جاتا ہے اور مزے میں دنیا بھول جاتی ہے . اور تم خوشنصیب ہو میرے بھائی کا اور مضبوط لن زندگی میں ملا ہے . ساری زندگی مزہ کرو گی . اگر وہ میرا میاں ہوتا تو میں صبح شام اس کا لن اندر لیتی اور کبھی اپنے کمرے سے بھی نکلنے نہ دیتی . پِھر میں نے تیری باجی کو کہا تھا کے باجی اگر اتنا ہی تمہیں تجربہ ہے تو تم کیوں نہیں ایک دفعہ اپنے بھائی سے کروا کر دیکھ لیتی جب وہ پورا اندر ڈالے گا تو ایک دفعہ میں ہی تمہیں پتہ چل جائے گا کے تمہارا بھائی کتنا ظلم کرتا ہے . اگر یقین نہیں آتا ایک دفعہ اپنے بھائی سے کر کے دیکھ لو خود ہی پتہ چل جائے گا . تو پتہ ہے تیری بہن آگے سے کہتی ہے . سائمہ میں تو تقریباً روز ہی اپنے میاں کا اندر لیتی ہوں میں تو گانڈ میں بھی روز لیتی ہوں مجھے تو اصلی مزہ آتا ہے ہاں یہ الگ بات ہے جتنا تم میرے بھائی کا موٹا اور مضبوط لن کا بتا رہی ہو اتنا تو میرے میاں کا نہیں ہے اس سے چھوٹا ہے لیکن پِھر بھی میں تو پھدی میں بھی اور گانڈ میں آسانی سے اپنے بھائی کا لن لے لوں گی پہلی دفعہ تھوڑا مشکل ہو گی لیکن اس کے بعد تو مزہ ہی مزہ ہو گا . لیکن میری قسمت میں شاید ایسا لن نہیں لکھا ہوا ہے . وہ ابھی تیرے نصیب میں ہے . میں تو کہتی ہوں تم تھوڑا بہت برداشت کر لیا کرو پِھر کچھ دن بعد تمہیں عادت ہو جائے گی تو خود ہی میرے بھائی کو روز لن ڈالنے کا کہا کرو گی ابھی تو شاید وہ تمہاری گانڈ نہیں مارتا ہو گا اگر وہ مارتا تو شاید تم پِھر مر ہی گئی ہوتی . تو میں نے کہا تمھارے بھائی نے مجھے سے فرمائش کی تھی لیکن میں نے خود منع کر دیا تھا پھدی کو ہی رگڑ کر رکھ دیتا ہے تو گانڈ میں تو مار ہی ڈالے گا . پِھر تیری باجی نے آگے سے کہا سائمہ دیکھ لو بھلے میرے میاں کا لن میرے بھائی جیسا لمبا نہیں لیکن پِھر بھی میں پھدی میں بھی اور گانڈ میں ہر روز پورا اندر لیتی ہوں میں بھی تو ہمت کرتی ہوں تم بھی کر لیا کرو . اور میرے بھائی کو خوش کر دیا کرو اور خود بھی ہوا کرو آگے تمہاری اپنی مرضی ہے. بھائی میں نے اس کو کہا تم یہ سب بکواس کر رہی ہو میری بہن اتنا کچھ تم کو نہیں بول سکتی . تو سائمہ آگے سے کہتی ہے ٹھیک ہے آنے دو تمھارے بہن کو پِھر تمہیں خود ہی اس کے سامنے کروا دوں گی پِھر پوچھ لینا اور میں بکواس کر رہی ہوں یا سچ بول رہی ہوں . میں نے پوچھا نبیلہ تم نے پِھر سائمہ کو آگے سے کیا جواب دیا . تو نبیلہ نے کہا بھائی میں خود تو شاید باجی سے اکیلے میں یہ باتیں پوچھ سکتی تھی لیکن سائمہ کے آگے نہیں پوچھ سکتی تھی ہم دونوں بہن کی ایک دوسرے کے سامنے عزت نہیں رہنی تھی . لیکن بھائی پِھر سائمہ نے یکدم اس دن میرے ساتھ اتنی گندی حرکت کی کے میں آپ کو بتا نہیں سکتی . میں نے کہا نبیلہ جتنا کچھ تم سنا اور بول چکی ہو اب تمہیں کچھ اب چھپا نا نہیں چاہیے . بتا دو اس نے کیا کیا تمھارے ساتھ . . نبیلہ آگے سے بولی وہ میں بھائی وہ میں بھائی . . میں نے کہا کیا وہ میں وہ میں لگائی ہوئی ہے سیدھی طرح بتاؤ کیا ہوا تھا. تو نبیلہ نے کہا بھائی سائمہ نے یکدم اپنا ہاتھ نیچے لے جا کر شلوار کے اوپر ہی میری پھدی والی جگہ پے رکھ دیا اور اس کو تھوڑا مسلا تو اس کا ہاتھ گیلا ہو گیا اور اپنے گیلے ہاتھ کو اپنی ناک کے پاس لے جا کر سونگھا اور بولی واہ میری نبیلہ رانی مجھے تو پاک بازی کے لیکچر ایسے دے رہی تھی اور اپنا آپ دیکھا ہے اپنے بھائی کے لن اور اپنی بہن کی پھدی اور گانڈ کی گرم گرم باتیں سن کر تم نیچے سے فارغ ہو چکی ہو اِس کا مطلب ہے تمہیں بھی اپنے بھائی کا لن بہت پسند ہے اور میں سائمہ کی بات سن کر ہی اپنے کمرے میں بھاگ گئی اور نبیلہ نے یہ بات کہہ کر کال کاٹ دی تھی. اور نبیلہ کی ساری باتیں سن کر میرا دماغ تو گھوم ہی چکا تھا
User avatar
Story Maker
Rookie
Posts: 33
Joined: 25 Sep 2016 17:01
Location: Azad Kashmir Pakistan
Contact:

Re: بہن بِیوِی سے زیادہ وفا دار

Postby Story Maker » 27 Sep 2016 12:33

لیکن جب میری نظر نیچے اپنی شلوار پے گئی تو میرا لن تن کے فل کھڑا تھا اور میری شلوار بھی گیلی ہوئی تھی شاید میری اپنی بھی کچھ منی نکل چکی تھی. میں نے ٹائم دیکھا تو 12 بج چکے تھے اور پاکستان میں 2 ہو گئے تھے . اب اپنی بہن اور سائمہ کی طرف سے سب کچھ جان چکا تھا اور میری بے چینی ختم ہو چکی تھی لیکن ان سب باتوں کی وجہ سے میرا ری ایکشن یعنی میرے لن کا کھڑا ہونا اور منی چھوڑ نا یہ مجھے عجیب بھی اور مزے کا بھی لگا . پِھر میں اٹھ کر نہایا کپڑے تبدیل کیے اور پِھر اپنے بیڈ پے لیٹ گیا اور سوچتے سوچتے پتہ نہیں کب نیند آ گئی اور سو گیا. اس دن کے بعد مجھے اور نبیلہ کو دوبارہ اس موضوع پے بات کرنے کا موقع نہ ملا جب بھی پاکستان گھر میں بات ہوتی تو نبیلہ سے بھی بس تھوڑی بہت حال حوال پوچھ کر بات ختم ہو جاتی تھی . مجھے اب نبیلہ سے اس موضوع پے بات کیے ہوئے کوئی 4 مہینے گزر چکے تھے . اور مجھے پاکستان سے واپس سعودیہ آئے ہوئے بھی تقریباً 8 مہینے گزر چکے تھے ٹائم تیزی سے گزر رہا تھا مجھے سعودیہ میں رہتے ہوئے تقریباً 8 سال ہو چکے تھے میں نے بہت زیادہ پیسہ بھی کمایا تھا اور اس کو اپنی اور گھر کی ضروریات پے خرچ بھی کیا تھا اور کافی سارا پیسہ جمع بھی کیا ہوا تھا کچھ پاکستان میں بینک میں رکھا دیا تھا ابا جی کے اکاؤنٹ میں جو کے بعد میں مشترکہ اکاؤنٹ بن گیا تھا . اور کچھ پیسہ سعودیہ میں ہی بینک میں جمع کیا ہوا تھا جب سے میری نبیلہ سے وہ موضوع پے باتیں ہوئی تھی میں نے پکا پکا پاکستان جانے کا پلان بنا نا شروع کر دیا تھا اور یہ بھی پلان کرنے لگا تھا پاکستان جا کر اپنا کاروبار شروع کروں گا . اور سائمہ اور نبیلہ اور باجی فضیلہ کا مسئلہ بھی گھر میں رہ کر حَل کر سکتا تھا . اور پِھر میں نے کافی سوچ و چار کے بعد فیصلہ کر لیا کے مجھے باقی 1 سال اور کچھ مہینے اور محنت کرنا ہو گی اور پِھر اپنا سارا پیسہ لے کر اِس دفعہ 2 سال پورے ہونے پے پکا پکا سعودیہ سے واپس اپنے ملک پاکستان چلا جاؤں گا. اِس لیے میں نے اپنا باقی ٹائم زیادہ محنت شروع کر دی اور ایک دفعہ پِھر 14گھنٹے ٹیکسی چلانے کی ڈیوٹی دینے لگا اب میں آدھا وقعت دن کو اور آدھا وقعت رات کو ٹیکسی چلاتا تھا . اور اِس طرح ہی مجھے 1 سال مکمل ہو گیا . اور میرا 1 سال مزید باقی سعودیہ میں رہ گیا تھا . ایک دن میں رات کو اپنی ٹیکسی میں ہی باہر کھڑا کسی سواری کا انتظار کر رہا تھا تقریباً 10:40کا ٹائم ہو گا مجھے نبیلہ کے نمبرسے مس کال آئی . میں تھوڑا پریشان ہو گیا کے اتنی رات کو خیر ہی ہو کچھ مسئلہ تو بن گیا میں نے فوراً کال ملائی تو نبیلہ نے مجھے سلام دعا کی اور بولی بھائی معافی چاہتی ہوں اتنی رات کو آپ کو تنگ کیا ہے . دراصل وہ آج سائمہ پِھر اچانک لاہور چلی گئی ہے دو پہر کے 2 بجے اس کی امی کا فون آیا تھا تو میں اچانک سائمہ کے کمرے کے آگے سے گزر رہی تھی تو مجھے ہلکی ہلکی سائمہ کی فون پے باتیں کرنے کی آواز آ رہی تھی میں نے بس یہ سنا تھا کےامی آپ فکر نہ کریں میں کوئی بھی بہانہ بنا کر آ جاؤں گی . آپ اس کو کہو میرا اسٹیشن پے انتظار کرے اور جب تک میں گھر سے نکل نہیں آتی تو میرے نمبر پے کال نا کرے . اور پِھر فون بند ہو گیا میں باہر کھڑی سوچنے لگی کے یہ کنجری پِھر کسی چکر میں ہی اپنی ماں کے پاس جا رہی ہے . میں نے کمرے میں دیکھا کے سائمہ اپنے کپڑے بیگ میں رکھ رہی تھی پِھر کوئی 15 منٹ بَعْد دوبارہ سائمہ کے نمبر پے کال آئی شاید اِس دفعہ کسی اور کی کال تھی بَعْد میں پتہ چلا وہ اس کے یار عمران کی کال تھی وہ اس کا ملتان اسٹیشن پے انتظار کر رہا تھا اور اِس کو لاہور سے لینے آیا ہوا . سائمہ نے تھوڑا غصہ کرتے ہوئے اپنے یار کو فون پے کہا عمران تم سے صبر نہیں ہوتا میں نے امی کو فون کیا تھا نہ کے مجھے تم کال نہ کرنا جب تک میں گھر سے نکل نہیں آتی اور تم باز نہیں آئے بھائی اس کا یار پتہ نہیں آگے سے کیا بات کر رہا تھا . لیکن سائمہ نے اس کو کہا اچھا اچھا زیادہ بکواس نہیں کرو ٹرین میں کر لینا . اور انتظار کرو میں بس 6 بجے تک میں وہاں آ جاؤں گی اور سائمہ نے اپنا فون بند کر دیا . وہ گھر سے5 بجے نکلی تھی اور 7 بجے ٹرین کا ٹائم تھا میرے خیال میں اب بھی وہ شاید ٹرین میں ہی ہو گی آپ اس کو کال کرو اور اس کی کلاس لو اور پوچھو کے وہ رات کے ٹائم میں لاہور کے لیے اکیلی کیوں نکلی ہے . میں نے کہا نبیلہ میری بات سنو میری یہاں سے کلاس لینے سے اس کو کوئی فرق نہیں پڑ ے گا . اُلٹا شاید وہ کوئی اور بکواس کرے اور میں غصے میں آ جاؤں اور مسئلہ زیادہ بن جائے گا . تو اس کنجری کو کوئی فرق نہیں پڑ ے گا کیونکہ اس کی ماں گاؤں سے سب کچھ چھوڑ کر لاہور میں رہتی ہے یہ بھی اس کے پاس چلی جائے گی اور اس کو کوئی فرق نہیں پڑ ے گا لیکن ہمارے گھر پے بہت فرق پڑ ے گا . کیونکہ جب آبا جی امی کو باجی کو اس کے سسرال والوں کو اور خاندان کے لوگوں کو ساری حقیقت پتہ چلے گی تو ہمارے گھر کی بدنامی زیادہ ہو گی سب یہ ہی کہیں گے کے اتنے سال سے سائمہ اور اس کی ماں یہ سب کچھ کر رہی ہیں اور کیوں ہم نے پہلے دن ہی خاندان میں سب کو ان کی اصلیت نہیں بتائی. اِس لیے میری بہن جوش سے نہیں ہوش سے کام لینا ہے . اور وہ میری بِیوِی بھی ہے اور سب سے بڑی بات چا چے کے بیٹی ہے . مجھے اس کو اور اس کی ماں کو ان کی ہی زُبان میں جواب دینا ہو گا اور دونوں ماں بیٹی کو خاندان کے قابل اور ٹھیک کرنا ہو گا . اور یہ مت بھولو کے ثناء بیچاری بھی اِس خاندان کا حصہ ہے . اس کا بھی سوچنا ہے . سائمہ نے تو اپنی جوانی میں غلط کام کیا ہے لیکن چا چی اس کے بھائی تک تو میں کسی حد تک شایدمان ہی لیتا لیکن وہ اپنی بیٹی کی ہم عمر غیر لڑکے سے عزت لوٹا رہی ہے اور اس کو پہلے ٹھیک کرنا ہے . میری بات سن کر نبیلہ بولی بھائی لیکن سائمہ کو کسی نہ کسی دن تو اس لڑکے سے ملنے سے روکنا ہے اور چا چی کو بھی روکنا ہے . لیکن یہ کیسے ہو گا اور کب ہو گا . آپ تو وہاں بیٹھے ہیں خود ہی یہ مسئلہ ٹھیک کیسے ہو گا . اور میں آپ کی بات نہیں سمجھ سکی کے آپ کہہ رہے تھے چا چی اور سائمہ کو ان کی زُبان میں ہی سمجھا نا پڑے گا . میں آپ کی بات کو سمجھی نہیں ہوں . میں نے کہا دیکھو نبیلہ یہ مسئلہ کب اور کیسے حَل ہو گا میں خود اِس کو حَل کروں گا اور ٹھیک بھی کروں گا . اور دوسری بات میں تمہیں صرف بتا رہا ہوں کے میرا یہ آخری سال ہے سعودیہ میں اور میں نے اب پکا پکا پاکستان آنے کا پروگرام بنا لیا ہے میں اِس دفعہ پکا پکا آؤں گا . اور پِھر خود گھر آ کر یہ سب مسئلے حَل کروں گا . نبیلہ میری بات سن کر خوش ہو گئی اور فوراً بولی بھائی آپ سچ کہہ رہے ہیں کے آپ اپنے گھر واپس آ رہے ہیں . میں نے کہا ہاں میری بہن میں بالکل سچ کہہ رہا ہوں
User avatar
Story Maker
Rookie
Posts: 33
Joined: 25 Sep 2016 17:01
Location: Azad Kashmir Pakistan
Contact:

Re: بہن بِیوِی سے زیادہ وفا دار

Postby Story Maker » 27 Sep 2016 12:34

لیکن جب میری نظر نیچے اپنی شلوار پے گئی تو میرا لن تن کے فل کھڑا تھا اور میری شلوار بھی گیلی ہوئی تھی شاید میری اپنی بھی کچھ منی نکل چکی تھی. میں نے ٹائم دیکھا تو 12 بج چکے تھے اور پاکستان میں 2 ہو گئے تھے . اب اپنی بہن اور سائمہ کی طرف سے سب کچھ جان چکا تھا اور میری بے چینی ختم ہو چکی تھی لیکن ان سب باتوں کی وجہ سے میرا ری ایکشن یعنی میرے لن کا کھڑا ہونا اور منی چھوڑ نا یہ مجھے عجیب بھی اور مزے کا بھی لگا . پِھر میں اٹھ کر نہایا کپڑے تبدیل کیے اور پِھر اپنے بیڈ پے لیٹ گیا اور سوچتے سوچتے پتہ نہیں کب نیند آ گئی اور سو گیا. اس دن کے بعد مجھے اور نبیلہ کو دوبارہ اس موضوع پے بات کرنے کا موقع نہ ملا جب بھی پاکستان گھر میں بات ہوتی تو نبیلہ سے بھی بس تھوڑی بہت حال حوال پوچھ کر بات ختم ہو جاتی تھی . مجھے اب نبیلہ سے اس موضوع پے بات کیے ہوئے کوئی 4 مہینے گزر چکے تھے . اور مجھے پاکستان سے واپس سعودیہ آئے ہوئے بھی تقریباً 8 مہینے گزر چکے تھے ٹائم تیزی سے گزر رہا تھا مجھے سعودیہ میں رہتے ہوئے تقریباً 8 سال ہو چکے تھے میں نے بہت زیادہ پیسہ بھی کمایا تھا اور اس کو اپنی اور گھر کی ضروریات پے خرچ بھی کیا تھا اور کافی سارا پیسہ جمع بھی کیا ہوا تھا کچھ پاکستان میں بینک میں رکھا دیا تھا ابا جی کے اکاؤنٹ میں جو کے بعد میں مشترکہ اکاؤنٹ بن گیا تھا . اور کچھ پیسہ سعودیہ میں ہی بینک میں جمع کیا ہوا تھا جب سے میری نبیلہ سے وہ موضوع پے باتیں ہوئی تھی میں نے پکا پکا پاکستان جانے کا پلان بنا نا شروع کر دیا تھا اور یہ بھی پلان کرنے لگا تھا پاکستان جا کر اپنا کاروبار شروع کروں گا . اور سائمہ اور نبیلہ اور باجی فضیلہ کا مسئلہ بھی گھر میں رہ کر حَل کر سکتا تھا . اور پِھر میں نے کافی سوچ و چار کے بعد فیصلہ کر لیا کے مجھے باقی 1 سال اور کچھ مہینے اور محنت کرنا ہو گی اور پِھر اپنا سارا پیسہ لے کر اِس دفعہ 2 سال پورے ہونے پے پکا پکا سعودیہ سے واپس اپنے ملک پاکستان چلا جاؤں گا. اِس لیے میں نے اپنا باقی ٹائم زیادہ محنت شروع کر دی اور ایک دفعہ پِھر 14گھنٹے ٹیکسی چلانے کی ڈیوٹی دینے لگا اب میں آدھا وقعت دن کو اور آدھا وقعت رات کو ٹیکسی چلاتا تھا . اور اِس طرح ہی مجھے 1 سال مکمل ہو گیا . اور میرا 1 سال مزید باقی سعودیہ میں رہ گیا تھا . ایک دن میں رات کو اپنی ٹیکسی میں ہی باہر کھڑا کسی سواری کا انتظار کر رہا تھا تقریباً 10:40کا ٹائم ہو گا مجھے نبیلہ کے نمبرسے مس کال آئی . میں تھوڑا پریشان ہو گیا کے اتنی رات کو خیر ہی ہو کچھ مسئلہ تو بن گیا میں نے فوراً کال ملائی تو نبیلہ نے مجھے سلام دعا کی اور بولی بھائی معافی چاہتی ہوں اتنی رات کو آپ کو تنگ کیا ہے . دراصل وہ آج سائمہ پِھر اچانک لاہور چلی گئی ہے دو پہر کے 2 بجے اس کی امی کا فون آیا تھا تو میں اچانک سائمہ کے کمرے کے آگے سے گزر رہی تھی تو مجھے ہلکی ہلکی سائمہ کی فون پے باتیں کرنے کی آواز آ رہی تھی میں نے بس یہ سنا تھا کےامی آپ فکر نہ کریں میں کوئی بھی بہانہ بنا کر آ جاؤں گی . آپ اس کو کہو میرا اسٹیشن پے انتظار کرے اور جب تک میں گھر سے نکل نہیں آتی تو میرے نمبر پے کال نا کرے . اور پِھر فون بند ہو گیا میں باہر کھڑی سوچنے لگی کے یہ کنجری پِھر کسی چکر میں ہی اپنی ماں کے پاس جا رہی ہے . میں نے کمرے میں دیکھا کے سائمہ اپنے کپڑے بیگ میں رکھ رہی تھی پِھر کوئی 15 منٹ بَعْد دوبارہ سائمہ کے نمبر پے کال آئی شاید اِس دفعہ کسی اور کی کال تھی بَعْد میں پتہ چلا وہ اس کے یار عمران کی کال تھی وہ اس کا ملتان اسٹیشن پے انتظار کر رہا تھا اور اِس کو لاہور سے لینے آیا ہوا . سائمہ نے تھوڑا غصہ کرتے ہوئے اپنے یار کو فون پے کہا عمران تم سے صبر نہیں ہوتا میں نے امی کو فون کیا تھا نہ کے مجھے تم کال نہ کرنا جب تک میں گھر سے نکل نہیں آتی اور تم باز نہیں آئے بھائی اس کا یار پتہ نہیں آگے سے کیا بات کر رہا تھا . لیکن سائمہ نے اس کو کہا اچھا اچھا زیادہ بکواس نہیں کرو ٹرین میں کر لینا . اور انتظار کرو میں بس 6 بجے تک میں وہاں آ جاؤں گی اور سائمہ نے اپنا فون بند کر دیا . وہ گھر سے5 بجے نکلی تھی اور 7 بجے ٹرین کا ٹائم تھا میرے خیال میں اب بھی وہ شاید ٹرین میں ہی ہو گی آپ اس کو کال کرو اور اس کی کلاس لو اور پوچھو کے وہ رات کے ٹائم میں لاہور کے لیے اکیلی کیوں نکلی ہے . میں نے کہا نبیلہ میری بات سنو میری یہاں سے کلاس لینے سے اس کو کوئی فرق نہیں پڑ ے گا . اُلٹا شاید وہ کوئی اور بکواس کرے اور میں غصے میں آ جاؤں اور مسئلہ زیادہ بن جائے گا . تو اس کنجری کو کوئی فرق نہیں پڑ ے گا کیونکہ اس کی ماں گاؤں سے سب کچھ چھوڑ کر لاہور میں رہتی ہے یہ بھی اس کے پاس چلی جائے گی اور اس کو کوئی فرق نہیں پڑ ے گا لیکن ہمارے گھر پے بہت فرق پڑ ے گا . کیونکہ جب آبا جی امی کو باجی کو اس کے سسرال والوں کو اور خاندان کے لوگوں کو ساری حقیقت پتہ چلے گی تو ہمارے گھر کی بدنامی زیادہ ہو گی سب یہ ہی کہیں گے کے اتنے سال سے سائمہ اور اس کی ماں یہ سب کچھ کر رہی ہیں اور کیوں ہم نے پہلے دن ہی خاندان میں سب کو ان کی اصلیت نہیں بتائی. اِس لیے میری بہن جوش سے نہیں ہوش سے کام لینا ہے . اور وہ میری بِیوِی بھی ہے اور سب سے بڑی بات چا چے کے بیٹی ہے . مجھے اس کو اور اس کی ماں کو ان کی ہی زُبان میں جواب دینا ہو گا اور دونوں ماں بیٹی کو خاندان کے قابل اور ٹھیک کرنا ہو گا . اور یہ مت بھولو کے ثناء بیچاری بھی اِس خاندان کا حصہ ہے . اس کا بھی سوچنا ہے . سائمہ نے تو اپنی جوانی میں غلط کام کیا ہے لیکن چا چی اس کے بھائی تک تو میں کسی حد تک شایدمان ہی لیتا لیکن وہ اپنی بیٹی کی ہم عمر غیر لڑکے سے عزت لوٹا رہی ہے اور اس کو پہلے ٹھیک کرنا ہے . میری بات سن کر نبیلہ بولی بھائی لیکن سائمہ کو کسی نہ کسی دن تو اس لڑکے سے ملنے سے روکنا ہے اور چا چی کو بھی روکنا ہے . لیکن یہ کیسے ہو گا اور کب ہو گا . آپ تو وہاں بیٹھے ہیں خود ہی یہ مسئلہ ٹھیک کیسے ہو گا . اور میں آپ کی بات نہیں سمجھ سکی کے آپ کہہ رہے تھے چا چی اور سائمہ کو ان کی زُبان میں ہی سمجھا نا پڑے گا . میں آپ کی بات کو سمجھی نہیں ہوں . میں نے کہا دیکھو نبیلہ یہ مسئلہ کب اور کیسے حَل ہو گا میں خود اِس کو حَل کروں گا اور ٹھیک بھی کروں گا . اور دوسری بات میں تمہیں صرف بتا رہا ہوں کے میرا یہ آخری سال ہے سعودیہ میں اور میں نے اب پکا پکا پاکستان آنے کا پروگرام بنا لیا ہے میں اِس دفعہ پکا پکا آؤں گا . اور پِھر خود گھر آ کر یہ سب مسئلے حَل کروں گا . نبیلہ میری بات سن کر خوش ہو گئی اور فوراً بولی بھائی آپ سچ کہہ رہے ہیں کے آپ اپنے گھر واپس آ رہے ہیں . میں نے کہا ہاں میری بہن میں بالکل سچ کہہ رہا ہوں
User avatar
Story Maker
Rookie
Posts: 33
Joined: 25 Sep 2016 17:01
Location: Azad Kashmir Pakistan
Contact:

Re: بہن بِیوِی سے زیادہ وفا دار

Postby Story Maker » 27 Sep 2016 12:34

جب کوئی مرد اس کو جم کا چو د رہا ہو . میں حیران تھی یہ آواز تو میری نند کی تھی لیکن وہ اندر کس مرد کے ساتھ ہے میرا دِل دھڑکنےلگا مجھے اپنی جان نکلتی ہوئی محسوس ہوئی . میں تھوڑا کھڑکی کے پاس ہو کر ایک سائڈ پے کھڑی ہو گئی اب مجھے آوازیں بالکل صاف سنائی دے رہی تھیں . پِھر وہاں جو میں نے سنا تو میرے پاؤں تلے زمین نکل گئی کیونکہ اندر اندھیرا تھا میں دیکھ تو سکتی نہیں تھی لیکن آواز صاف سن سکتی تھی . میری نند نے جب یہ کہا .) ظفر ہور دھکے زور نال مار مینو تیرا لن پورا اندر تک چای ڈا اے( . پِھر میرے میاں کی آواز میرے کان میں آئی کے )شازیہ توں ذرا صبر کر ہون لن پورا اندر سم پو سی (میرا میاں اندر اپنی سگی بہن کو چھو د رہا تھا اور اس کی بہن اس کو خود منہ سے بول کر کہہ رہی تھی اور زور لگا کر چودو میں وہاں تقریباً 10منٹ تک کھڑی رہی لیکن اندر سے بدستور مجھے اپنے میاں اور اس کی بہن کے آپس میں جسم ٹکرا نے کی آوازیں اور چدائی کی آوازیں آتی رہیں اور پِھر میں اپنا دُکھی دِل لے کر واپس اپنے کمرے میںآگئی اور میرے آنے کے کوئی آدھے گھنٹے بَعْد میرا میاں بھی آ کر میرے ساتھ لیٹ گیا میں پتہ نہیں کس دنیا میں تھی اور پتہ نہیں چلا سو گئی صبح اٹھی تو میاں نہیں تھا وہ اپنے کام پے چلا گیا تھا جب نند کو دیکھا تو وہ عام دنوں کی طرح بہت خوش تھی اور مجھے سے بھی ویسے ہی باتیں کر رہی تھی جو عام دنوں میں کرتی تھی . لیکن میں اندر سے مر چکی تھی . پِھر جب میں نے اپنے میاں سے بات کی تو مجھے اس نے کوئی جواب نہ دیا بلکہ اب وہ میری نند کے پُرانے کمرے میں روز رات کو چلا جاتا اور 2 یا 3 گھنٹے اپنی بہن کے ساتھ مزہ کر کے واپس آجاتا جب کبھی میرے جسم کی طلب ہوتی تو مہینے میں ایک دفعہ مجھے سے کر لیا کرتا تھا بس یوں ہی 3 سال سے اپنے ساتھ ہونے والی زیادتی کو برداشت کر رہی ہوں . بھائی یہ آج نئی بات مجھے باجی نے بتائی تھی اور میں نے جب سے سنا ہے دِل رَو رہا ہے کے اصل ظلم تو میری باجی کے ساتھ ہو رہا ہے ، سائمہ بھی اپنی زندگی میں خوش ہے اور شازیہ بھی خوش ہے . باجی کی کہانی نبیلہ کے منہ سے سن کر میں بہت زیادہ پریشان اور دُکھی ہو گیا تھا . اور میں نے کہا نبیلہ میرا دِل اب بات کرنے کو نہیں کر رہا ہے . میں پِھر بات کروں گا اور کال کو کٹ کر دیا اور گہری سوچوں میں گم ہو کر سو گیا. نبیلہ سے بات ہو کر کتنے دن ہو گئے تھے لیکن میرا دِل خوش نہیں تھا کیونکہ میں باہر رہ کر بھی اتنا پیسہ کما کر بھی اپنی کسی بھی بہن کے لیے خوشی نا خرید سکا اور مجھے پتہ ہی نہیں چلا میری باجی کتنے سالوں سے اپنے ساتھ ہونے والی زیادتی کو چھپا کر بیٹھی تھی اور ہر وقعت خوش رہتی تھی لیکن کس کو کیا پتہ تھا باہر دکھنے والی خوشی اندر سے کتنا بڑا ظلم برداشت کر رہی ہے. پِھر یوں ہی دن گزرتے رہے میں گھر فون کر لیتا تھا اور نبیلہ سے بھی بات ہو جاتی تھی لیکن پِھر دوبارہ کبھی اِس موضوع پے بات نہ ہوئی . مجھے اب 1 سال اور 5 مہینے ہو چکے تھے . میں بس مشین کی طرح ہی پیسہ کما رہا تھا . لیکن شاید قدرت کو کچھ اور منظور تھا . جب میرے پاکستان جانے میں کوئی 4 مہینے باقی تھے تو مجھے ایک دن گھر سے کال آئی وہ میرے لیے بمب پھوٹنے سے زیادہ خطر ناک تھی.


. . . . . . . . . . . . جاری ہے

Who is online

Users browsing this forum: No registered users and 1 guest