بالی اُمر کی پیاس پارٹ-- urdu sexi stori

User avatar
rajaarkey
Super member
Posts: 6633
Joined: 10 Oct 2014 10:09
Contact:

بالی اُمر کی پیاس پارٹ--5 urdu sexi stori

Post by rajaarkey » 02 Apr 2017 16:10


بالی اُمر کی پیاس پارٹ--5

گتاںک سے آگے۔ّ۔ّ۔ّ۔ّ۔ّ۔ّ۔ّ۔ّ۔ّ۔ّ۔ّ۔ّ۔

پِںکی کے گھر جاکر پڑھتے ہُئے مُجھے ہفتا بھر ہو گیا تھا۔۔ ترُن بھی تب تک میری اُس ہرکت کو پُوری ترہ بھُول کر میرے ساتھ ہںسی مزاک کرنے لگا تھا۔۔ پر میں اِتنا کھُلکر اُس'سے کبھی بول نہی پائی۔۔ وجہ یے تھی کِ میرے من میں چور تھا۔۔ میں تو اُسکا چیہرا دیکھتے ہی گرم ہو جاتی تھی اؤر گھر واپس آکر جب تک نیںد کے آگوش میں نہی سما جاتی; گرم ہی رہتی تھی۔ّ۔

مںن ہی مںن مینُو اؤر اُسکے بیچ 'کُچّھ' ہونے کے شک کا کیڑا بھی مُجھے پریشان رکھتا تھا۔ّمینُو اُس'سے اِتنی بات نہی کرتی تھی۔۔ پر دونو کی نزریں مِلتے ہی اُنکے چیہروں پر اُبھر آنے والی کامُک سی مُسکان میرے شک کو اؤر ہوا دے جاتی تھی۔۔ شکل سُورت اؤر 'پُتّھے چُوچِیو' کے ماملے میں میں مینُو سے 20 ہی تھی۔۔ پھِر بھی جانے کیُوں میری ترپھ دیکھتے ہُئے اُسکی مُسکان میں کبھی وو رسیلاپن نزر نہی آیا جو اُنن دونو کی نزریں مِلنے پر اَپنے آپ ہی مُجھے اَلگ سے دِکھ جاتا تھا۔ّ۔

سچ کہُوں تو پڑھنے کے اَلاوا وو مُجھمیں کوئی اِںٹیریسٹ لیتا ہی نہی تھا۔ّ۔۔ مینے یُوںہی ایک دِن کہ دِیا تھا،" رہنے دو۔۔ اَب مُجھے در نہی لگتا۔۔ روج جاتی ہُوں نا۔ّ۔" اُس کے باد تو اُسنے مُجھے واپس گھر تک چھچوڑنا ہی چھچوڑ دِیا۔ّ۔

ایسے ہی تین چار دِن اؤر بیت گیے۔۔

میرا گھر پِںکی کے گھر سے کریب آدھا کِلومیٹیر دُور تھا۔۔ لگبھگ ہر نُکّڑ پر سٹریٹ لائیٹ لگی تھی۔۔ اِسیلِئے سارے راستے روشنی رہتی تھی۔۔ سِرف ایک لگبھگ 20 میٹر راستے کو چھچوڑ کر۔ّ۔ وہاں گاںو کی پُرانی چؤپال تھی اؤر چؤپال کے آںگن میں ایک بڑا سا نیم کا پیڑ تھا (اَب بھی ہے)۔ سٹریٹ لائیٹ وہاں بھی لگی تھی۔۔ پر چؤپال سے زرا ہٹکر۔۔ اُس پیڑ کی وجہ سے گلی کے اُس ہِسّے میں گھُپ اَںدھیرا رہتا تھا۔ّ۔

وہاں سے گُزرتے ہُئے میرے کدموں کی گتِ اؤر دِل کی دھڑکن اَپنے آپ ہی تھوڑی بڑھ جاتی تھی۔۔ رات کا سمے اؤر اَکیلی ہونے کے کارن اَنہونی کا ڈر کِسکے مین میں نہی پیدا ہوگا۔ّ۔ پر 3-4 دِن تک لگاتار اَکیلی آنے کے کارن میرا وو ڈر بھی جاتا رہا۔ّ۔

اَچانک ایک دِن ایسا ہو گیا جِسکا مُجھے کبھی ڈر تھا ہی نہی۔ّ۔ پر جب تک 'اُسکی' مںشا نہی پتا چلی تھی; میں ڈاری رہی۔۔ اؤر پسینا پسینا ہو گیّ۔ّ۔۔

ہُآ یُوں کی اُس دِن جیسے ہی مینے اَپنے کدم 'اُس' اَںدھیرے ٹُکڑے میں رکھے۔۔ مُجھے اَپنے پِچھے کِسی کے تیزی سے آ رہے ہونے کا اَہساس ہُآ۔ّ۔ میں چؤںک کر پلٹ'نے ہی والی تھی کی ایک ہاتھ مجبُوتی سے میرے جبڑے پر آکر جم گیا۔۔ میں ڈر کے مارے چیکھی۔۔ پر چیکھ میرے گلے میں ہی گھُٹ کر رہ گیّ۔ّ۔ اَگلے ہی پل اُسنے اَپنے ہاتھ کا گھیرا میری کمر کے اِرد گِرد بنایا اؤر مُجھے اُپر اُٹھا لِیا۔ّ۔۔

میں سوابھاوِک تؤر پر ڈر کے مارے کاںپنے لگی تھی۔۔ پر چِلّانے یا اَپنے آپکو چھُڑانے کی میری ہر کوشِش ناکام رہی اؤر 'وو' مُجھے زبردستی چؤپال کے ایک بِنا درواجے والے کمرے میں لے گیا۔ّ۔

وہاں ایک دم گھُپپ اَںدھیرا تھا۔ّ۔ میری آںکھیں ڈر کے مارے باہر نِکالنے کو تھی۔۔ پر پھِر بھی کُچّھ بھی دیکھنا وہاں نامُمکِن تھا۔۔ جی بھر کر اَپنے آپکو چھُڑانے کی مشکّت کرنے کے باد میرا بدن ڈھیلا پڑ گیا۔۔ میں تھر-تھر کاںپ رہی تھی۔ّ۔۔

اَجیبوگریب ہادسے سے بھؤچکک میرا دِماغ جیسے ہی کُچّھ شاںت ہُآ۔۔ مُجھے تب جاکر پتا چلا کی مام'لا تو کُچّھ اؤر ہی ہے۔۔ 'وو' میرے پِچھے کھڑا مُجھے ایک ہاتھ سے سکھتی سے تھامے اؤر دُوسرے ہاتھ سے میرے مُںہ کو دبائے میری گردن کو چاٹنے میں تلّین تھا۔ّ۔

اُسکے مُجھے یہاں گھسیٹ کر لانے کا مکسد سمجھ میں آتے ہی میرے دِماغ کا سارا بوجھ گایب ہو گیا۔ّ۔ میرے بدن میں اَچانک گُدگُدی سی ہونے لگی اؤر میں آنںد سے سِہر اُٹھی۔ّ۔

میں اُسکو بتانا چاہتی تھی کِ جانے کب سے میں اِس پل کے لِئے تڑپ رہی ہُوں۔۔ میں پلٹ کر اُس'سے لِپٹ جانا چاہتی تھی۔ّ۔ اَپنے کپڑے اُتار کر پھیںک دینا چاہتی تھی۔ّ۔ پر وو چھچوڑتا تبھی نا۔ّ۔۔!

میری ترپھ سے وِرودھ ختم ہونے پر اُسنے میری کمر پر اَپنی پکڑ تھوڑی ڈھیلی کر دی۔ّ۔۔ پر مُںہ پر اُسکا ہاتھ اُتنی ہی مجبُوتی سے جما ہُآ تھا۔ّ۔ اَچانک اُسکا ہاتھ دھیرے دھیرے نیچے سرکتا ہُآ میری سلوار میں گھُس گیا۔۔ اؤر کچھِ کے اُپر سے میری یونِ کی پھاںکوں کو ڈھُوںڈھ کر اُنہے تھپتھپانے لگا۔ّ۔ اِتنا مزا آ رہا تھا کِ میں پاگل سی ہو گیّ۔۔ ہوںٹو سے میں اَپنے منوبھاو پرکٹ کر نہی پا رہی تھی۔۔ پر اَچانک ہی جیسے میں کِسی دُوسرے ہی لوک میں پہُںچ گیّ۔۔ میری آںکھیں اَدھکھُلی سی ہو گیّ۔ّ۔ کسمسکر مینے اَپنی ٹاںگیں چؤڑی کرکے جاںگھوں کے بیچ 'اؤر' جگہ بنا لی۔ّ۔ تاکِ اُسکے ہاتھو کو میری 'یونِ-سیوا' کرنے میں کِسی ترہ کی کوئی دِکّت نا ہو۔ّ۔ اؤر جیسے ہی اُس'نے میری کچھی کے اَںدر ہاتھ ڈال اَپنی اُںگلی سے میری یونِ کا چھید ڈھُوںڈھنے کی کوشِش کی۔۔ میں تو پاگل ہی ہو گیّ۔ّ۔ میری سِسکی میرے گلے سے باہر نا آ سکی۔۔ پر اُسکو اَپنے بھاوّں سے اَوگت کرنے کے لِئے مینے اَپنا ہاتھ بھی اُسکے ہاتھ کے ساتھ ساتھ اَپنی سلوار میں گھُسا دِیا۔ّ۔ّ۔ّ۔۔

میرے ہاتھ کے نیچے دبے اُسکے ہاتھ کی ایک اُںگلی کُچّھ دیر تک میری یونِ کی درار میں اُپر نیچے ہوتی رہی۔۔ اَپنے ہاتھ اؤر پرائے ہاتھ میں زمین آسمان کا اَںتر ہونے کا مُجھے آج پہلی بار پتا چلا۔۔ آنںد تو اَپنے ہاتھ سے بھی کافی آتا تھا۔۔ پر 'اُس' کے ہاتھ کی تو بات ہی اَلگ تھی۔۔

میری چِکنی یونِ کی پھاںکوں کے بیچ تھِرکتِ ہُئی اُسکی اُںگلی جیسے ہی یونِ کے دانے کو چھچھُوتی۔۔ میرا بدن جھںجھنا اُٹھتا۔۔ اؤر جیسے ہی چِکناہٹ سے لبالب یونِ کے چھید پر آکر اُسکی اُںگلی ٹھہرتی۔۔ میرے دِل کی دھڑکن بڑھ جاتی۔۔ میرا دِماغ سُنن ہو جاتا اؤر میری سِسکی گلے میں ہی گھُٹ کر رہ جاتی۔ّ۔۔

مُجھے یکین ہو چلا تھا کِ آج اِس کُںوارے چھید کا کلیان ہو کر رہیگا۔۔ میری سمجھ میں نہی آ رہا تھا کِ وو آخِر اِتنی دیر لگا کیُوں رہا ہے۔۔ میری بیسبری بڑھتی جا رہی تھی۔۔ اَپنی جاںگھوں کو میں پہلے سے دُگنا کھول چُکی تھی اؤر میرے لِئے کھڑا رہنا اَب مُسکِل ہو رہا تھا۔ّ۔

اَچانک اُسنے اَپنا ہاتھ باہر نِکال لِیا۔ّ۔ میرا دِل بلِّیوں پر آکر اَٹک گیا۔۔ اَب میں اُسکے آگے بڑھنے کی اُمّید کر رہی تھی۔ّ۔ اؤر ایسا ہُآ بھی۔ّ۔ اَگلے ہی پل اُسنے میری سلوار کا ناڈا کھولا اؤر میری سلوار نیچے سرکا دی۔۔ میری نںگی جاںگھوں کے ٹھںڈ سے ٹھِٹھُر رہے ہونے کا مُقابلا میرے اَںدر سے اُٹھ رہی بھیسن کام~لپٹوں سے ہو رہا تھا۔۔ اِسیلِئے مُجھے ٹھںڈ نا کے برابر ہی لگ رہی تھی۔ّ۔

اَچانک اُسنے میری کچھی بھی نیچے سرکا دی۔ّ۔ اؤر اِسکے ساتھ ہی میرے چِکنے نِتںب بھی اَناورت ہو گیے۔۔ اُسنے ایک اَپنا ہاتھ نِتںبوں کے ایک 'پاٹ' پر رکھا اؤر اُسکو دھیرے دھیرے دبانے لگا۔۔ مُجھے یکین تھا کِ اَگر وہاں پرکاش ہوتا تو میرے نِتںبوں کی گولائی، کساوٹ اؤر اُٹھان دیکھکر وو پاگلا جاتا۔۔ شاید اَںدھیرے کی وجہ سے ہی وو اَب تک سںیم سے کام لے پا رہا تھا۔۔

مُجھے وہاں بھی مزا آ رہا تھا پر آگے یونِ کی تڑپ مُجھے سہن نہی ہو رہی تھی۔۔ میں 'کام' جاری رکھنے کے اِرادے سے اَپنا ہاتھ نیچے لے گیی اؤر 'یونِ' پھاںکوں پر ہاتھ رکھ کر دھیرے دھیرے اُنہے مسلنے لگی۔۔

میرے ایسا کرنے سے شاید اُسکو میرے اُتّیجِت ہونے کا اَہساس ہو گیا۔ّ۔ میرے نِتںبو سے کُچّھ دیر اؤر کھیلنے کے باد وو رُک گیا اؤر ایک دو بار میرے مُںہ سے ہاتھ ڈھیلا کرکے دیکھا۔ّ۔ میرے مُںہ سے لںبی لںبی ساںسے اؤر سِسکِیاں نِکلتے دیکھ وو پُوری ترہ آشوست ہو گیا اؤر اُسنے اَپنا ہاتھ میرے مُںہ سے ہٹا لِیا۔ّ۔۔

کامںدھ ہونے کے باوجُود، اُسکو جان'نے کی جِگیاسا بھی میرے مںن میں تھی۔۔ مینے اَپنی یونِ کو سہلانا چھچوڑ دھیرے سے اُس'سے کہا،"مُجھے بہُت مزا آ رہا ہے۔۔ پر کؤن ہو تُم؟"

جواب دینا تو دُور، اُسنے تو میرے مُںہ کو ہی پھِر دبا لِیا۔۔ مینے ہلک پرتِرودھ بھرو گُون-گُون کی تو اُسنے ہاتھ ہٹاکر میری بات پھِر سُن لی،" ٹھیک ہے۔۔ میں کُچّھ نہی پُوچھتِ۔۔ پر جلدی کرو نا۔۔ مُجھے بہُت مزا آ رہا ہے۔ّ۔" مُجھے تو آم کھانے سے متلب تھا۔۔ جو کوئی بھی تھا۔۔ میرے جیون کا پرتھم ناری اَہساس مُجھے کرا ہی رہا تھا۔۔ بہُت سُکھد تریکے سے۔ّ۔۔

میرے ایسا کہنے پر شاید وہ بے-پھِکر ہو گیا اؤر میری کمیز کے نیچے سے کُلہوں کو پکڑ کر نیچے بیٹھ گیا۔ّ۔ اُسکی گرم گرم ساںسے اَب میری جاںگھوں کے بیچ سے جاکر میری یونِ کی پھاںکوں کو پھڑپھڑنے کو وِوش کر رہی تھی۔ّ۔۔

کُچّھ دیر باد اُسنے اَپنا ایک ہاتھ میرے کُلہوں سے نِکل کر میری پیٹھ کو آگے کی اؤر دبایا۔ّ۔ میں اُسکا اِشارا سمجھ گیی اؤر کھڑی کھڑی آگے جھُک کر اَپنی کوہنِیاں سامنے چھہوٹی سی دیوار پر ٹیکا لی۔۔ ایسا کرنے کے باد میرے نِتںب پِچھے کی اؤر نِکل گیے۔۔

اُسنے اَپنا مُںہ میرے نِتںبوں کے بیچ گھُسا دِیا اؤر میری یونِ کو اَپنے ہوںٹو سے چُوما۔۔ میں کسمسا اُٹھی۔۔ اِتنا آنںد آیا کِ میں بیان نہی کر سکتی۔۔ مینے اَپنی جاںگھوں کو اؤر کھول کر میرے اُس اَںجان آشِک کی راہیں آسان کر دی۔۔

کُچّھ دیر اؤر چُومنے کے باد اُسنے میری پُوری یونِ کو اَپنے مُںہ میں دبوچ لِیا۔۔ آنںد کے مارے میں چھیٹپاٹا اُٹھی۔۔ پر وہ شاید اَبھی مُجھے اؤر تڑپانے کے مُوڈ میں تھا۔ّ۔۔

وہ جیبھ نِکال کر یونِ کی پھاںکوں اؤر اُنکے بیچ کی پتلی سی درار کو چاٹ چاٹ کر مُجھے پاگل کرتا جا رہا تھا۔۔ میری سِسکِیاں چؤپال کے لںبے کمرے کے کارن پرتِدھونیت ہوکر مُجھ تک ہی واپس آ رہی تھی۔۔ اُسکی تیج ہو رہی ساںسوں کی آواز بھی مُجھے سُنائی دے رہی تھی۔۔ پر بہُت دھیرے دھیرے۔ّ۔۔

آخِرکار تڑپ سہن کرنے کی ہد پار ہونے پر مینے ایک بار اؤر اُس'سے سِسکتے ہُئے نِویدن کِیا۔ّ۔ّ۔ّ،" اَب تو کر دو نا! کر دو نا پلیز!"

مُجھے نہی پتا اُسنے میری بات پر گؤر کِیا یا نہی۔۔ پر اُسکی جیبھ کا ستھان پھِر سے اُسکی اُںگلی نے لے لِیا۔ّ۔ داںتوں سے رہ رہ کر وو میرے نِتںبو کو ہُل‍کے ہُل‍کے کاٹ رہا تھا۔ّ۔۔

جو کوئی بھی تھا۔ّ۔ پر مُجھے ایسا مزا دے رہا تھا جِسکی مینے کلپنا بھی کبھی نہی کی تھی۔۔ میں اُسکی دیوانی ہوتی جا رہی تھی، اؤر اُسکا نام جان'نے کو بیکرار۔ّ۔۔

اَچانک میں اُچّھل پڑی۔۔ میری یونِ کے چھید میں جھٹکے کے ساتھ اُسکی آدھی اُںگلی گھُس گیّ۔ّ۔ پر مُجھے اَچانک مِلے اِس درد کے مُقابلے مِلا آنںد اَتُلنیے تھا۔۔ کُچّھ دیر اَںدر ہُلچل مچانے کے باد جب اُسکی اُںگلی باہر آئی تو میری یونِ سے رس ٹپک ٹپک کر میری جاںگھوں پر پھیل رہا تھا۔ّ۔۔ پر میری بھُوکھ شاںت نہی ہُئی۔ّ۔۔

اَچانک اُسنے مُجھے چھچوڑ دِیا۔۔ مینے کھڑی ہوکر اُسکی ترپھ مُںہ کر لِیا۔۔ پر اَب بھی سامنے کِسی کے کھڑے ہونے کے اَہساس کے اَلاوا کُچّھ دِکھائی نہی پڑ رہا تھا۔ّ۔۔

اَپنی کمر کے پاس اُسکے ہاتھوں کی ہُلچل سے مُجھے لگا وا اَپنی پیںٹ اُتار رہا ہے۔ّ۔ پر میں اِتنی بیکرار ہو چُکی تھی کِ پیںٹ اُتارنے کا اِںتجار نہی کر سکتی تھی۔۔ مینے جِںدگی میں تین-چار لِںگ دیکھے تھے۔ّ۔ میں جلد سے جلد اُسکے لِںگ کو چھچھُو کر دیکھ لینا چاہتی تھی اؤر جان لینا چاہتی تھی کِ اُسکا سائیز میری چھہوٹی سی کُںواری مچچळی کے لِئے اُپیُکت ہے یا نہی۔ّ۔۔ میں اَپنا ہاتھ اَںدازے سے اُسکی جاںگھوں کے بیچ لے گیّ۔ّ۔

اَںدازا میرا سہی تھا۔۔ میرا ہاتھ ٹھیک اُسکی جاںگھوں کے بیچ تھا۔ّ۔ پر یے کیا؟ اُسکا لِںگ تو مُجھے مِلا ہی نہی۔ّ۔۔

میری آںکھیں آسچریا میں سِکُڈ گیّ۔ّ۔ اَچانک میرے دِماغ میں ایک دُوسرا سوال کؤںدھا۔ّ،" کہیں۔ّ۔ّ؟"

اؤر مینے سیدھا اُسکی چُوچِیو پر ہاتھ مارا۔ّ۔ میرا سارا جوش ایک دم ٹھںڈا پڑ گیا،" چھہِ۔۔ تُم تو لڑکی ہو!"

وہ شاید اَپنی پیںٹ کو کھول نہی بُلکی، اَپنی سلوار کو باںدھ رہی تھی۔۔ اؤر کام پُورا ہوتے ہی وہ میرے سوال کا جواب دِئے بِنا وہاں سے گایب ہو گیّ۔ّ۔۔

میرا مین گلانِ سے بھر گیا۔۔ مُجھے پتا نہی تھا کِ لڑکی لڑکی کے بیچ بھی یے کھیل ہوتا ہے۔ّ۔۔ سارا مزا کِرکِرا ہو
(¨`·.·´¨) Always
`·.¸(¨`·.·´¨) Keep Loving &;
(¨`·.·´¨)¸.·´ Keep Smiling !
`·.¸.·´ -- raj sharma

User avatar
rajaarkey
Super member
Posts: 6633
Joined: 10 Oct 2014 10:09
Contact:

بالی اُمر کی پیاس پارٹ--6 urdu sexi stori

Post by rajaarkey » 02 Apr 2017 16:12


بالی اُمر کی پیاس پارٹ--6

گتاںک سے آگے۔ّ۔ّ۔ّ۔ّ۔ّ۔ّ۔ّ۔ّ۔ّ۔ّ۔ّ۔ّ۔


مُجھے رزائی اوڑھ کر لیتے ہُئے آدھا گھںٹا ہو چُکا تھا۔۔ پر 'وو' اَںجان لڑکی میرے دِماغ سے نِکل ہی نہی رہی تھی۔۔ مُجھے 24 گھںٹے باد بھی اُسکا سِر اَپنی جاںگھوں کے بیچ مہسُوس ہو رہا تھا۔۔ میری یونِ پر بِچّھُو سے چل رہے تھے۔۔ مانو وہ اَب بھی میری یونِ کو لپر لپر اَپنی جیبھ سے چاٹ رہی تھی۔ّ۔ ایسے میں نیںد کیسے آتی۔ّ۔

اُپر سے ترُن پتا نہی اَںگریزی میں کیا کیا بکے جا رہا تھا۔ّ۔ میں یہی سوچ رہی تھی کِ کب ترُن یہاں سے نِکل کر جائے اؤر مینُو کے سونے کے باد میں اَپنی اُںگلی سے ہی کام چلا کر سؤ۔ّ۔۔

اَچانک مُجھے کِتاب بںد ہونے کی آواز آئی۔۔ میں کھُش ہو گیّ۔ّ۔ّمیں درواجا کھُلکر بںد ہونے کا اِںتزار کر ہی رہی تھی کِ کریب ایک-2 مِنِٹ کے باد ترُن کی آواز آئی۔۔ آواز تھوڑی دھیمی تھی۔۔ پر اِتنی بھی نہی کی مُجھے سُنائی نا دیتی

"تُمہاری رزائی میں آ جاُّ مینُو؟"

پہلے ترُن کی، اؤر پھِر مینُو کا یے جواب سُنکر تو میں اَچرج کے مارے سُنن رہ گیّ۔ّ۔ّ۔

"شہّہّ۔ّ۔۔ دھات۔۔ کیا کہ رہے ہو۔ّ۔ آج نہی۔ّ۔ّیہاں یے دونو ہیں آج۔۔ کوئی اُٹھ گیی تو۔ّ۔ّ۔"

میں تو اَپنا کلیجا پکڑکر رہ گیّ۔۔ میں اِنکے بارے میں جو کُچّھ سوچتی تھی۔۔ سب سچ نِکلا۔ّ۔ّ۔

"کُچّھ نہی ہوتا۔۔ میں لائیٹ بںد کر دیتا ہُوں۔۔ کوئی اُٹھ گیی تو میں تُمہاری رزائی میں ہی سو جاُّنگا۔ّ۔ تُم کہ دینا میں چلا گیا۔ّ۔ بس، ایک بار۔۔ پلیز!" ترُن نے دھیرے سے بھیکھ سی ماںگتے ہُئے کہا۔ّ۔ّ۔۔

"نہی۔۔ ترُن۔۔ تُم تو پھںسنے کا کام کر رہے ہو۔۔ سِرف آج کی ہی تو بات ہے۔۔ جب اَںجُو یہاں نہی ہوگی تو پِںکی بھی اُپر چلی جاّیگی۔ّ۔ سمجھا کرو جانُو!" مینُو نے نِہایت ہی میٹھی اؤر دھیمی آواز میں اُس'سے کہا۔ّ۔۔

"جانُو؟" سُنتے ہی میرے کان چؤکنّے ہو گیے۔۔ اَبھی تک میں سِرف سُن رہی تھی۔۔ جیسے ہی مینُو نے 'ترُن' کے لِئے جان شبد کا اِستیمال کِیا۔۔ میں اُچّھلتے اُچّھلتے رہ گیّ۔ّ۔ آخِرکار میرا شک سہی نِکلا۔ّ۔ میرا دِل اؤر زیادا دھڑکنے لگا۔۔ مُجھے اُمّید تھی کِ اؤر بھی راج باہر نِکل سکتے ہیں۔ّ۔

"پلیز۔۔ ایک بار۔۔" ترُن نے پھِر سے رِکویسٹ کی۔ّ۔،" تُمہارے ساتھ لٹیکر ایک کِس لینے میں مُجھے ٹائیم ہی کِتنا لگیگا۔ّ۔ّ۔

"نہی! آج نہی ہو سکتا! مُجھے پتا ہے تُم ایک مِنِٹ کہکر کِتنی دیر چِپکے رہتے ہو۔ّ۔ّ۔ آج بِلکُل نہی۔ّ۔" اِس بار مینُو نے ساپھ منا کر دِیا۔ّ۔ّ۔

"میں سمجھ گیا۔۔ تُم مُجھے کیُوں چُمِّ دوگِ۔ّ؟ میں بس یہی دیکھنا چاہ رہا تھا۔ّ۔ تُم تو آجکل اُس کامینے سونُو کے چکّر میں ہو نا!" ترُن اَچانک اُبال سا کھا گیا۔ّ۔ اُسکا لہزا ایکدُوم بدل گیا۔ّ۔۔

"کیا بکواس کر رہے ہو تُم۔۔ مُجھے سونُو سے کیا متلب؟" مینُو چؤںک پڑی۔ّ۔ میری سمجھ میں نہی آیا کِ کِس سونُو کی بات ہو رہی ہے۔ّ۔۔

"آج تُمہاری سونُو سے کیا بات ہُئی تھی؟" ترُن نے بدلے ہُئے لہجے میں ہی پُوچّھا۔ّ۔۔

"میں کبھی بات نہی کرتی اُس'سے۔ّ۔! تُمہاری کسم جان!" مینُو اُداس سی ہوکر بولی۔۔ پر بہُت دھیرے سے۔ّ۔۔

"میں چُوتِیا ہُوں کیا؟ میں تُمسے پیار کرتا ہُوں۔۔ اِسکا متلب یے تھوڑے ہی ہے کِ تُم میری کسم کھا کھا کر میرا ہی اُلُّو بناتی رہو۔ّ۔۔ ییے۔۔ اَںجُو بھی پہلے دِن ہی مُجھسے چِپکنے کی کوشِش کر رہی تھی۔ّ۔ کبھی پُوچّھ کر دیکھنا، مینے اِسکو کیا کہا تھا۔۔ مینے تُمہے اَگلے دِن ہی بتا دِیا تھا اؤر پھِر اِنکے گھر جانے سے منا بھی کر دِیا۔ّ۔ میں تُمہے پاگلوں کی ترہ پیار کرتا رہُوں۔۔ اؤر تُم مُجھے یُوں دھوکھا دے رہی ہو۔ّ۔ یے میں سہن نہی کر سکتا۔ّ۔" ترُن رہ رہ کر اُبال خاتا رہا۔۔ میں اَب تک بڑے شؤک سے چُپچاپ لیتی اُنکی بات سُن رہی تھی۔ّ۔ّ۔ پر ترُن کی اِس بات پر مُجھے بڑا گُسّا آیا۔۔ سالے کُتّے نے میری بات مینُو کو بتا دی۔ّ۔ پر میں کھُش تھی۔۔ اَب بناُّنگِ اِسکو 'جان!'

کھیر میں ساںس روکے اُنکی بات سُنتی رہی۔ّ۔ میں پُوری کوشِش کر رہی تھی کِ اُنکی رسیلی لڑائی کا ایک بھی ہِسّا میرے کانو سے نا بچ پائے۔ّ۔ّ۔

"میں بھی تو تُمسے اِتنا ہی پیار کرتی ہُوں جان۔۔ تُمسے پُوچّھے بِنا تو میں کالیج کے کپڑے پہن'نے سے بھی ڈرتی ہُوں۔۔ کہیں میں ایسے ویسے پہن لُوں اؤر پھِر تُم سارا دِن جلتے رہو۔ّ۔" مینُو کو جیسے اُسکو سپھائی دینی زرُوری ہی تھی۔۔ لات مار دیتی سالے کُتّے کو۔۔ اَپنے آپ ڈُوم ہِلتا میرے پاس آتا۔۔

"تُمنے سونُو کو آج ایک کاگج اؤر گُلاب کا پھُول دِیا تھا نا؟" ترُن نے داںت سے پیستے ہُئے کہا۔ّ۔۔

"کیا؟ یے کیا کہ رہے ہو۔۔ آج تو وو میرے سامنے بھی نہی آیا۔ّ۔ میں کیُوں دُوںگی اُسکو گُلاب؟" مینُو تڑپ کر بولی۔ّ۔ّ۔

"تُم جھُوٹھ بول رہی ہو۔۔ تُم میرے ساتھ گھِنؤنا مزاک کر رہی ہو۔۔ رمیش نے دیکھا ہے تُمہے اُسکو گُلاب دیتے ہُئے۔ّ۔ّ۔" ترُن اَپنی بات پر اَڑا رہا۔ّ۔۔

مینُو نے پھِر سے سپھائی دینا شُرُو کِیا۔۔ جیوں جیوں ماملا گرم ہوتا جا رہا تھا۔ّ۔ دونو کی آواز کُچّھ تیج ہو گیی تھی۔ّ۔،"مُجھے پتا ہے تُم مُجھسے بہُت پیار کرتے ہو۔۔ اِسیلِئے میرا نام کہیں جھُوٹھا بھی آنے پر تُم سیںٹی ہو جاتے ہو۔ّ۔۔ اِسیلِئے اِتنی چھہوٹی سی باتوں پر بھی ناراز ہو جاتے ہو۔ّ۔۔ پر میں بھی تو تُمسے اُتنا ہی پیار کرتی ہُوں۔ّ۔ میرا وِسواس کرو! مینے آج اُسکو دیکھا تک نہی۔ّ۔۔ میری سونُو سے کِتنے دینو سے کوئی بات تک نہی ہُئی۔۔ لیٹر یا پھُول کا تو سوال ہی پیدا نہی ہوتا۔۔ تُمہارے کہنے کے باد تو مینے سبھی لڑکوں سے بات ہی کرنی چھچوڑ دی ہے"

"اَچّچھا۔ّ۔ تو کیا وو ایسے ہی گاتا پھِر رہا ہے کالیج میں۔ّ۔ وو کہ رہا تھا کِ تُمنے آج اُسکو لو لیٹر کے ساتھ ایک گُلاب بھی دِیا ہے۔ّ۔۔" ترُن کی دھیمی آواز سے بھی گُسّا ساپھ جھلک رہا تھا۔ّ۔ّ۔

"بکواس کر رہا ہے وو۔۔ تُمہاری کسم! تُم اُسکو وو لیٹر دِکھانے کو بول دو۔۔ پتا نہی تُم کہاں کہاں سے میرے بارے میں اُلٹا سیدھا سُن لیتے ہو۔ّ۔۔" مینُو نے بھی تھوڑی سی نارازگی دِکھائی۔ّ۔

"مینے بولا تھا سالے ما کے۔ّ۔۔ پر وو کہنے لگا کِ تُمنے اُس لیٹر میں مُجھے 'وو' نا دِکھانے کا وادا کِیا ہے۔۔ رمیش بھی بول رہا تھا کِ اُسنے بھی تُمہے اُسکو چُپکے سے گُلاب کا پھُول دیتے ہُئے دیکھا تھا۔ّ۔ اَب ساری دُنِیا کو جھُوٹھی مان کر سِرف تُم پر ہی کیسے وِسواس کرتا رہُوں۔ّ۔؟" ترُن نے نارازگی اؤر گُسّے کے مِشرِت لہجے میں کہا۔ّ۔۔

"رمیش تو اُسکا دوست ہے۔۔ وو تو اُسکے کہنے سے کُچّھ بھی بول دیگا۔ّ۔ تُم پلیز یے بار بار گالی مت دو۔۔ مُجھے اَچّھے نہی لگتے تُم گالی دیتے ہُئے۔ّ۔ اؤر پھِر اِنمیں سے کوئی اُٹھ گیی تو۔۔ تُم سِرف مُجھ پر ہی وِشواس نہی کرتے۔ّ۔ باکی سب پر اِتنی جلدی کیسے کر لیتے ہو۔ّ۔ّ۔؟" مینُو اَب تک رونے سی لگی تھی۔ّ۔ پر ترُن کی ٹون پر اِسکا کوئی اَسر سُنائی نہی پڑا۔ّ۔ّ۔۔

"تُم ہمیشا رونے کا ناٹک کرکے مُجھے ایموشنل کر دیتی ہو۔۔ پر آج مُجھ پر اِسکا کوئی اَسر نہی ہونے والا۔۔ کیُوںکی آج اُسنے جو بات مُجھے بتائی ہے۔۔ اَگر وا سچ مِلی تو میں تو مر ہی جاُّنگا!" ترُن نے کہا۔ّ۔۔

"اَب اؤر کؤنسی بات کہ رہے ہو۔ّ۔؟" مینُو سُوبک'تے ہُئے بولی۔ّ۔۔

میں مںن ہی مںن اِس ترہ سے کھُش ہو رہی تھی مانو مُجھے کوئی کھجانا ہاتھ لگ گیا ہو۔۔ میں ساںس روکے مینُو کو سُوبک'تے سُنتی رہی۔ّ۔ّ۔

"اَب رونے سے میں تُمہاری کرتُوتوں کو بھُول نہی جاُّنگا۔ّ۔ میں تیری۔ّ۔ دیکھ لینا اَگر وو بات سچ ہُئی تو۔ّ۔" ترُن نے داںت پیستے ہُئے کہا۔ّ۔ّ۔

مینُو روتے روتے ہی بولنے لگی،" اَب میں۔ّ۔ میں تُمہے اَپنا وِشواس کیسے دِلواُّ بار بار۔ّ۔ تُم تو اِتنے شکّی ہو کِ مُںڈیر پر یُوںہی کھڑی ہو جاُّ تو بھی جل جاتے ہو۔ّ۔ مینے تُمہے کھُش کرنے کے لِئے سب لڑکوں سے بات کرنی چھچوڑ دی۔ّ۔۔ اَپنی پسںد کے کپڑے پہن'نے چھچوڑ دِئے۔ّ۔ تُمنے مُجھے اَپنے سِواے کِسی کے ساتھ ہںستے بھی نہی دیکھا ہوگا۔۔ جب سے تُمنے مُجھے منا کِیا ہے۔ّ۔۔
اؤر تُم۔۔ پتا نہی روج کیسی کیسی باتیں اُٹھاکر لے آتے ہو۔ّ۔ تُمہاری کسم اَگر مینے کِسی کو آج تک تُمہارے سِواے کوئی لیٹر دِیا ہو تو۔ّ۔ وو اِسیلِئے جل رہا ہوگا، کیُوں کِ اُسکے اِتنے دِنوں تک پِچھے پڑنے پر بھی مینے اُسکو بھاو نہی دِئے۔ّ۔۔ اؤر کیُوںکی اُسکو پتا ہے کِ میں تُمسے پیار کرتی ہُوں۔ّ۔ وو تو جانے کیا کیا بکیگا۔ّ۔ تُم میری بات کا کبھی وِشواس کیُوں نہی کرتے۔ّ۔۔" مینُو جِتنی دیر بولتی رہی۔۔ سُبکتی بھی رہی!

"وو کہ رہا تھا کِ۔ّ۔ کِ اُسنے تُمہارے ساتھ پیار کِیا ہے۔ّ۔ اؤر وو بھی اِتنے گںدے تریکے سے کہ رہا تھا کِ۔ّ۔ّ۔" ترُن بیچ میں ہی رُک گیا۔ّ۔۔

"تو؟ میں کیا کر سکتی ہُوں جان۔۔ اَگر وو یا کوئی اؤر ایسا کہیگا تو۔۔ میں دُوسروں کا مُںہ تو نہی پکڑ سکتی نا۔ّ۔ پر مُجھے اِس'سے کوئی متلب نہی۔ّ۔ مینے سِرف تُمسے پیار کِیا ہے۔۔ !" مینُو کُچّھ رُک کر بولی۔ّ۔

شاید وو سمجھی نہی تھی کِ ترُن کا متلب کیا ہے۔۔ پر میں سمجھ گیی تھی۔ّ۔ّ۔۔ سچ کہُوں تو میرا بھی دِل نہی مان رہا تھا کِ مینُو نے کِسی کے ساتھ ایسا کِیا ہوگا۔ّ۔ پر کیا پتا۔ّ۔ کر بھی لِیا ہو۔ّ۔سوچنے کو تو میں اِنن دونو کو اِکٹّھے دیکھنے سے پہلے مینُو کو کِسی کے ساتھ بھی نہی اِس ترہ نہی سوچ سکتی تھی۔۔ اؤر آج دیکھو۔ّ۔ّ۔ّ۔

"وو پیار نہی!" ترُن جھلّا کر بولا۔ّ۔۔

"تو؟ اؤر کؤنسا پیار؟" مینُو کو شاید اَگلے ہی پل کھُد ہی سمجھ آ گیا اؤر وو چؤںکتے ہُئے بولی۔ّ۔،" کیا بکواس کر رہے ہو۔ّ۔ میرے بارے میں ایسا سوچ بھی کیسے لِیا تُمنے۔ّ۔ میں آج تک تُمہارے ساتھ بھی اُس ہد تک نہی گیّ۔۔ تُمہارے اِتنی زِد کرنے پر بھی۔ّ۔۔ اؤر تُم اُس گھٹِیا سونُو کے کہنے پر مان گیے۔۔"

"پر اُسنے کہا ہے کِ وو سبُوت دے سکتا ہے۔ّ۔ اؤر پھِر۔ّ۔ اُسنے دِیا بھی ہے۔ّ۔ّ۔"

"کیا سبُوت دِیا ہے۔۔ بولو؟" مینُو کی آواز ہیرانی اؤر نارازگی بھری تھی۔ّ۔وہ چِڑ سی گیی تھی۔۔ تںگ آ گیی تھی شاید ایسی باتوں سے۔ّ۔۔


"اُسنے بولا کِ اَگر مُجھے یکین اُسکی بات کا نہی ہے تو۔ّ۔۔ نہی۔۔ مینے نہی بتا سکتا۔۔" کہکر ترُن چُپ ہو گیا۔ّ۔

"یے کیا بات ہُئی؟ میں اَب بھی کہتی ہُوں کِ اُس گھٹِیا لڑکے کی باتوں میں آکر اَپنا دِماغ کھراب مت کرو۔ّ۔ پر اَگر تُمہے میری بات کا وِسواس نہی ہو رہا تو بتاّو اُسنے کیا سبُوت دِیا ہے! تُم یُوں بِنا بات کے ہی اَگر ہر کِسی کی بات کا وِسواس کرتے رہے تو۔ّ۔۔ بتاّو نا۔۔ کیا سبُوت دِیا ہے اُسنے؟" مینُو اَب اَپنے کو پاک ساپھ سابِت کرنے کے لِئے کھُد ہی سبُوت ماںگ رہی تھی۔ّ۔۔

میرا مںن وِچلِت ہو گیا۔۔ مُجھے ڈر تھا کہیں وہ سبُوت کو بول کر بتانے کی بجاے 'دِکھا' نا دے۔۔ اؤر میں سبُوت دیکھنے سے وںچِت نا رہ جاُّ۔۔ اِسیلِئے مینے اُنکی اؤر کروٹ لیکر ہُلکی سی رزائی اُپر اُٹھا لی۔۔ پر دونو اَچانک چُپ ہو گیے۔ّ۔

"شہ۔ّ۔" مینُو کی آواز تھی شاید۔۔ مُجھے لگا کھیل بِگڑ گیا۔۔ کہیں یے اَب بات کرنا بںد نا کر دیں۔۔ مُجھے رزائی کے اُپر اُٹھنے سے بنے چھہوٹے سے چھید میں سے سِرف مینُو کے ہاتھ ہی دِکھائی دے رہے تھے۔ّ۔۔

شُکرا ہے تھوڑی دیر باد۔۔ ترُن واپس اَپنی بات پر آ گیا۔ّ۔۔

"دیکھ لو۔۔ تُم مُجھسے ناراز مت ہونا۔۔ میں وو ہی کہ دُوںگا جو اُسنے کہا ہے۔ّ۔" ترُن نے کہا۔ّ۔۔

"ہاں۔۔ ہاں۔۔ کہ دو۔۔ پر جلدی بتاّو۔۔ میرے سِر میں درد ہونے لگا ہے۔۔ یے سب سوچ سوچ کر۔۔ اَب جلدی سے اِس کِسّے کو ختم کرو۔۔ اؤر ایک پیاری سی قِسّی لیکر کھُش ہو جاّو۔۔ آئی لو یُو جان! میں تُمسے زیادا پیار دُنِیا میں کِسی سے نہی کرتی۔۔ پر جب تُمہارا ایسا مُںہ دیکھتی ہُوں تو میرا دِماغ کھراب ہو جاتا ہے۔ّ۔۔" مینُو نارمل سی ہو گیی تھی۔ّ۔۔

"سونُو کہ رہا تھا کِ ۔۔ّ۔ّ۔اُسنے اَپنے کھیت کے کوتڑے میں۔ّ۔ّ۔۔ تُمہاری لی تھی ایک دِن۔ّ۔!" ترُن نے جھِجھکتے ہُئے اَپنی بات کہ دی۔ّ۔۔

"کھیت کے کوتڑے میں؟ کیا لی تھی؟" مینُو یا تو سچ میں ہی نادان تھی۔۔ یا پھِر وو بہُت شاتِر تھی۔۔ اُسنے سب کُچّھ اِس ترہ سے کہا جیسے اُسکی سمجھ میں بِلکُل نہی آیا ہو کِ ایک جوان لڑکا، ایک جوان لڑکی کی; کھیت کے کوتڑے میں اؤر کیا لیتا ہے بھلا۔ّ۔ّ۔

"میں نام لے دُوں؟" مُجھے پتا تھا کِ ترُن نے کِس چیز کا نام لینے کی اِجازت ماںگی ہے۔ّ۔۔

"ہاں۔۔ بتاّو نا!" مینُو نے سیدھے سیدھے کہا۔ّ۔۔

"وو کہ رہا تھا کِ اُسنے کھیت کے کوتڑے میں۔ّ۔ّ۔ّ۔۔ تیری چُوت ماری تھی۔۔" یے ترُن نے کیا کہ دِیا۔۔ اُسنے تو گُوگلی پھیںکتے پھیںکتے اَچانک بآاُنسر ہی جما دِیا۔۔ مُجھے ایسا لگا جیسے اُسکا بآاُنسر سیدھا میری یونِ سے ٹکرایا ہو۔۔ میری یونِ ترُن کے مُںہ سے 'چُوت' شبد سُنکر اَچانک لِسلیسی سی ہو گیّ۔۔

"دھات۔۔ یے کیا بول رہے ہو تُم۔۔ شرم نہی آتی۔۔" مینُو کی آواز سے لگا جیسے وو شرم کے مارے پانی پانی ہو گیی ہو۔۔ اَگلے ہی پل وو لیٹ گیی اؤر اَپنے آپکو رزائی میں ڈھک لِیا۔ّ۔ّ۔

"اَب ایسا کیُوں کر رہی ہو۔۔ مینے تو پہلے ہی کہا تھا کِ بُرا مت مان'نا۔۔ پر تُمہارے شرمانے سے میرے سوال کا جواب تو نہی مِل جاتا نا۔ّ۔ سبُوت تو سُن لو۔ّ۔" ترُن نے کہتے ہُئے اُسکی رزائی کھیںچ لی۔ّ۔

مُجھے مینُو کا چیہرا دِکھائی دِیا۔۔ وو شرم کے مارے لال ہو چُکی تھی۔۔ اُسنے اَپنے چیہرے کو ہاتھوں سے اؤر کوہنِیوں سے اَپنی میرے جِتنی ہی بڑی گول مٹول چُوچِیوں کو چھِپا رکھا تھا۔ّ۔۔

"مُجھے نہی سُن'نِ ایسی گھٹِیا بات۔۔ تُمہے جو سوچنا ہے سوچ لو۔ّ۔ میری رزائی واپس دو۔ّ۔" مینُو گِڑگِدتے ہُئے بولی۔ّ۔۔

پر اَب ترُن پُوری ترہ کھُل گیا لگتا تھا۔ّ۔ اُسنے مینُو کی باہیں پکڑی اؤر اُسکو زبردستی بیٹھا دِیا۔۔ بیٹھنے کے باد مُجھے مینُو کا چیہرا دِکھنا بںد ہو گیا۔۔ ہاں۔۔ کریم کلر کے لوّر میں چھِپِ اُسکی گُداج جاںگھیں میری آںکھوں کے سامنے تھی۔ّ۔

"تُمہے میری بات سُن'نِ ہی پڑیگی۔۔ اُسنے سبُوت یے دِیا ہے کِ تُمہاری۔۔ چُوت کی دائیں 'پپوتی' پر ایک تِل ہے۔۔ مُجھے بتاّو کِ یے سچ ہے یا نہی۔ّ۔" ترُن نے پُوری بیشرمی دِکھاتے ہُئے گُسّے سے کہا۔ّ۔۔

'پپوتی'۔۔ مینے یے شبد پہلی بار اُسی کے مُںہ سے سُنا تھا۔۔ شاید وو یونِ کی پھاںکوں کو 'پپوتی کہ رہا تھا۔ّ۔۔

"مُجھے نہی سُن'نا کُچّھ۔۔ تُمہے جو لگے وہی مان لو۔۔ پر میرے ساتھ ایسی بکواس باتیں مت کرو۔ّ۔" مُجھے ایسا لگا جیسے مینُو اَپنے ہاتھوں کو چھُڑانے کا پریتن کر رہی ہے۔۔ پر جب وو ایسا نہی کر پائی تو اَںدر ہی اَںدر سُبکنے لگی۔ّ۔۔

"ہٹ، سالی کُتِیا۔۔ دُوسروں کے آگے نںگی ہوتی ہے اؤر مُجھسے پیار کا ڈھوںگ کرتی ہے۔۔ اَگر تُم اِتنی ہی پاک ساپھ ہو تو بتاتی کیُوں نہی 'وہاں' تِل ہے کِ نہی۔ّ۔ ڈرمّا تو ایسے کر رہی ہے جیسے 8-10 سال کی بچّی ہو۔۔ جی بھر کر گاںد مرا اَپنی; سونُو اؤر اُسکے یاروں سے۔۔ میں تو آج کے باد تُجھ پر تھُوکُوںگا بھی نہی۔ّ۔ تیرے جیسی میرے آگے پِچھے ہزار گھُومتی ہیں۔۔ اَگر دِل کِیا تو اَںجُو کی مار لُوںگا۔۔ یے تو تُجھسے بھی سُںدر ہے۔ّ۔" ترُن تھُوک گٹکتا ہُآ بولا اؤر شاید کھڑا ہو گیا۔۔

جانے ترُن کیا کیا بک' کر چلا گیا۔۔ پر اُسنے جو کُچّھ بھی کہا۔۔ مُجھے ایک بات تو سچ میں بہُت پیاری لگی ' اَںجُو کی مار لُوںگا۔۔ یے تو تُجھسے بھی سُندر ہے'

اُسکے جانے کے باد مینُو کافی دیر تک رزائی میں گھُس کر سِسکتی رہی۔۔ 5-10 مِنِٹ تک میں کُچّھ نہی بولی۔۔ پر اَب میرے ماملے کے بیچ آکر مزے لینے کا ٹائیم ہو گیا تھا۔ّ۔۔

میں اَںگڑائی سی لیکر اَپنی آںکھیں مسلتِ ہُئی رزائی ہٹا کر بیٹھ گیّ۔۔ میرے اُٹھنے کا آبھاس ہوتے ہی مینُو نے ایکدُوم سے اَپنی سِسکِیوں پر کابُو پانے کی کوشِش کی۔۔ پر وو ایسا نا کر پائی اؤر سِسکِیاں اِکٹّھی ہو ہوکر اؤر بھی تیزی سے نِکلنے لگی۔ّ۔۔

"کیا ہُآ دیدی۔ّ؟" مینے اَںجان بن'نے کا ناٹک کرتے ہُئے اُسکے چیہرے سے رزائی ہٹا دی۔ّ۔

میرا چیہرا دیکھتے ہی وہ اَںگاروں کی ترہ دھدھک اُٹھی۔ّ،" کُچّھ نہی۔۔ کل سے تُم ہمارے گھر مت آنا! بس۔ّ۔" اُسنے گُسّے سے کہا اؤر واپس رزائی میں مُںہ دُوبکا کر سِسکنے لگی۔ّ۔۔

اُسکے باد میری اُس'سے بولنے کی ہِمّت ہی نہی ہُئی۔۔ پر مُجھے کوئی فرک نہی پڑا۔۔ مینے آرام سے رزائی اؤدھی اؤر ترُن کے سپنوں میں کھو گیّ۔۔ اَب مُجھے وہیں کُچّھ اُمّید لگ رہی تھی۔ّ۔۔

-----------------------------------------------

اَگلے دِن بھی مُجھے آنا ہی تھا۔۔ سو میں آئی۔۔ بُلکی پہلے دِنوں سے اؤر بھی زیادا ساج دھج کر۔۔ مینُو نے مُجھسے بات تک نہی کی۔۔ اُسکا مُوڈ اُکھڑا ہُآ تھا۔۔ ہاں۔۔ ترُن اُس دِن کُچّھ کھاس ہی لاڈ-پیار سے مُجھے پڑھا رہا تھا۔۔ یا تو اُسکو جلانے کے لِئے۔۔ یا پھِر مُجھے پٹانے کے لِئے۔ّ۔۔

"چلو اَںجُو! تُمہے گھر چھچوڑ دُوں۔ّ۔ مُجھے پھِر گھر جانا ہے۔ّ۔!" چاچی کے جاتے ہی ترُن کھڑا ہو گیا۔ّ۔۔

"دیدی کو نہی پدھاّوگے کیا؟ آج!" مینے چٹکھارا لِیا۔ّ۔۔

"نہی!" ترُن نے اِتنا ہی کہا۔ّ۔۔

"پر۔۔ پر مُجھے کُچّھ زرُوری بات کرنی ہے۔۔ اَپنی پڑھائی کو لیکر۔ّ۔!" مینُو کی آواز میں تڑپ تھی۔ّ۔۔

مینے جلدی سے آگے بڑھکر درواجا کھول دِیا۔۔ کہیں مینُو کا سچّا پیار اُسکو رُکنے پر مجبُور نا کر دے (ہے ہے ہے)،" چلیں!"

ترُن نے اُسکو کڑوی نزر سے دیکھا اؤر درواجے کی اؤر بڑھنے لگا۔ّ،" چلو، اَںجُو!"

مینُو نے لگبھگ کھِسِیتے ہُئے مُجھسے کہا،" تُم کہاں جا رہی ہو اَںجُو۔۔ تُم تو یہی سو جاّو!" مُجھے پتا تھا کِ اُسکے کھِسِیانے کا کارن میرا اؤر ترُن کا ایک ساتھ نِکلنا ہے۔ّ۔

"نہی دیدی، مُجھے سُبہ جلدی ہی کُچّھ کام ہے۔۔ کل دیکھُوںگی۔ّ۔" مینے مینُو کو مُسکُرا کر دیکھا اؤر ترُن کے ساتھ باہر نِکل گیّ۔ّ۔ّ۔

چؤپال کے پاس اَںدھیرے میں جاتے ہی میں کھڑی ہو گیّ۔۔ ترُن میرے ساتھ ساتھ چل رہا تھا۔۔ وہ بھی میرے ساتھ ہی رُک گیا اؤر میرے گالوں کو تھپتھپاتے ہُئے پیار سے بولا،" کیا ہُآ اَںجُو؟"


مینے اَپنے گال کو تھپتھپا رہا ترُن کا ہاتھ اَپنے ہاتھ میں پکڑ لِیا،" پتا نہی۔۔ مُجھے کیا ہو رہا ہے؟"

ترُن نے اَپنا ہاتھ چچھُدانے کی کوئی کوشِش نہی کی۔۔ میرا دِل کھُش ہو گیا۔ّ۔

"اَرے بولو تو سہی۔ّ۔ یہاں کیُوں کھڑی ہو گیّ؟" ترُن ایک ہاتھ کو میرے ہاتھ میں ہی چھچوڑ کر اَپنے دُوسرے ہاتھ کو میری گردن پر لے آیا۔۔ اُسکا اَںگُوٹھا میرے ہوںٹو کے پاس میرے گال پر ٹیکا ہُآ تھا۔۔ مُجھے جھُرجُری سی آنے لگی۔ّ۔

"نہی۔۔ مُجھے ڈر لگ رہا ہے۔۔ اَگر میں کُچّھ بولُوںگی تو اُس دِن کی ترہ تُم مُجھے دھمکا دوگے!" مُجھے اُمّید تھی کِ آج ایسا نہی ہوگا۔۔ پھِر بھی میں۔۔ ماسُوم بنے رہنے کا ناٹک کر رہی تھی۔۔ میں چاہ رہی تھی کِ ترُن ہی پہل کر دے۔ّ۔

" نہی کہُوںگا۔۔ پاگل! اُس دِن میرا دِماغ کھراب تھا۔۔ بولو جو بولنا ہے۔۔" ترُن نے کہا اؤر اَپنے اَںگُوٹھے کو میرے گالوں سے سرکّر مارے نِچلے ہونٹ پر ٹیکا دِیا۔ّ۔

اَچانک میرا دھیان چؤپال کی سیدھی پر ہُئی ہُلکی سی ہُلچل پر گیا۔۔ شاید کوئی تھا وہاں، یا وہی تھی۔ّ۔۔ مینے چؤںک کر سیڑھِیوں کی ترپھ دیکھا۔۔

"کیا ہُآ؟" ترُن نے میرے اَچانک مُوڈ کر دیکھنے سے وِچلِت ہوآکر پُوچّھا۔ّ۔۔

"نہی۔۔ کُچّھ نہی۔۔" مینے واپس اَپنا چیہرا اُسکی اؤر کر لِیا۔۔ بولنے کے لِئے جیسے ہی میرے ہونٹ ہیلے۔۔ اُسکا اَںگُوٹھا تھوڑا اؤر ہِل کر میرے دونو ہوںٹو پر آ جما۔ّ۔ پر اُسکو ہٹانے کی نا مینے کوشِش کی۔۔ اؤر نا ہی اُسنے ہٹایا۔۔ اُلٹا ہُلکے ہُلکے سے میرے رسیلے ہوںٹو کو مسلنے سا لگا۔۔ مُجھے بہُت آنںد آ رہا تھا۔ّ۔۔

"کیا کہ رہی تھی تُم؟ بولو نا۔ّ۔ پھِر مُجھے بھی تُمسے کُچّھ کہنا ہے۔ّ۔" ترُن مُجھے اُکساتے ہُئے بولا۔ّ۔ّ۔

"کیا؟ پہلے تُم بتاّو نا!" مینے بڑی ماسُومِیت سے کہا۔۔

"یہاں کوئی آ جاّیگا۔۔ آاو نا۔۔ چؤپال میں چل کر کھڑے ہوتے ہیں۔۔ وہاں اَچّھے سے بات ہو جاّیںگی۔ّ۔" ترُن نے دھیرے سے میری اؤر جھُک کر کہا۔ّ۔

"نہی۔۔ یہیں ٹھیک ہے۔۔ اِس وقت کؤن آایگا!" دراَسل میں اُس لڑکی کی وجہ سے ہی چؤپال میں جانے سے کترا رہی تھی۔ّ۔۔

"اَرّے۔۔ آاو نا۔۔ یہاں کیا ٹھیک ہے؟" ترُن نے میرا ہاتھ کھیںچ لِیا۔ّ۔

"ںمُجھے ڈر لگیگا یہاں!" مینے اَسلی وجہ چچھُوپاتے ہُئے کہا۔ّ۔۔

"اِسمیں ڈرنے کی کیا بات ہے پاگل! میں ہُوں نا۔۔ تُمہارے ساتھ!" ترُن نے کہا اؤر چؤپال میں مُجھے اُسی کمرے میں لے جاکر چھچوڑ دِیا۔۔ جہاں اُس دِن وو لڑکی مُجھے اُٹھا کر لائی تھی۔ّ،" اَب بولو۔۔ بیہِچک ہوکر، جو کُچّھ بھی بولنا ہے۔۔ تُمہاری کسم میں کُچّھ بھی نہی کہُوںگا۔۔ اُس دِن کے لِئے ساری!"

میں بھی تھوڑے بھاو کھا گیی اُسکی ہالت دیکھ کر۔۔ مینے سوچا جب کُںوا پیاسے کے پاس کھُد ہی چلکر آنا چاہتا ہے تو کیُوں آگے بڑھا جائے،" پہلے آپ بولو نا!"

"نہی۔۔ تُمنے پہلے کہا تھا۔۔ اَب تُم ہی بتاّو۔۔ اؤر جلدی کرو۔۔ مُجھے ٹھںڈ لگ رہی ہے۔۔" ترُن نے میرے دونو ہاتھوں کو اَپنے ہاتھوں میں دبوچ لِیا۔ّ۔

"ٹھںڈ تو مُجھے بھی لگ رہی ہے۔ّ۔" مینے پُوری ترہ بھولیپن کا چولا اؤدھ رکھا تھا۔ّ۔۔

"اِسیلِئے تو کہ رہا ہُوں۔۔ جلدی بتاّو کیا بات ہے۔ّ؟" ترُن نے مُجھے کہا اؤر مُجھے اَپنی اؤر ہلکا سا کھیںچتے ہُئے بولا،" اَگر زیادا ٹھںڈ لگ رہی ہے تو میرے سینے سے لگ جاّو آکر۔۔ ٹھںڈ کم ہو جاّیگی۔۔ ہے ہے" اُسکی ہِمّت نہی ہو رہی تھی سیدھے سیدھے مُجھے اَپنے سے چِپکانے کی۔ّ۔۔

"سچ!" مینے پُوچّھا۔۔ اَںدھیرے میں کُچّھ دِکھائی تو دے نہی رہا تھا۔۔ بس آواز سے ہی ایک دُوسرے کی مںشا پتا چل رہی تھی۔ّ۔۔

"اؤر نہی تو کیا؟ دیکھو!" ترُن نے کہا اؤر مُجھے کھیںچ کر اَپنی چھاتی سے چِپکا لِیا۔ّ۔ مُجھے بہُت مزا آنے لگا۔۔ سچ کہُوں، تو ایکدُوم سے اَگر میں اَپنی بات کہ دیتی اؤر وو تیّار ہو بھی جاتا تو اِتنا مزا نہی آتا جِتنا اَب دھیرے دھیرے آگے بڑھنے میں آ رہا تھا۔ّ۔ّ۔

مینے اَپنے گال اُسکی چھاتی سے سٹا لِئے۔۔ اؤر اُسکی کمر میں ہاتھ ڈال لِیا۔۔ وو میرے بالوں میں پیار سے ہاتھ پھیرنے لگا۔ّ۔۔ میری چُوچِیاں ٹھںڈ اؤر اُسکے سینے سے مِل رہی گرمی کے مارے پاگل سی ہُئی جا رہی تھی۔ّ۔ّ۔

"ٹھںڈ کم ہُئی نا اَںجُو؟" میرے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہُئے وہ اَچانک اَپنے ہاتھ کو میری کمر پر لے گیا اؤر مُجھے اؤر سکھتی سے بھیںچ لِیا۔ّ۔۔

مینے 'ہاں' میں اَپنا سِر ہِلایا اؤر اُسکے ساتھ چِپکنے میں اَپنی رزامںدی پرکٹ کرنے کے لِئے تھوڑی سی اؤر اُسکے اَںدر سِمٹ گیّ۔۔ اَب مُجھے اَپنے پیٹ پر کُچّھ چُبھتا ہُآ سا مہسُوس ہونے لگا۔۔ مینے جان گیّ۔۔ یہ اُسکا لِںگ تھا!

"تُم کُچّھ بتا رہی تھی نا اَںجُو؟ ترُن میری نازُک کمر پر اَپنا ہاتھ اُپر نیچے پھِسلتے ہُئے بولا۔ّ۔ّ۔
(¨`·.·´¨) Always
`·.¸(¨`·.·´¨) Keep Loving &;
(¨`·.·´¨)¸.·´ Keep Smiling !
`·.¸.·´ -- raj sharma

User avatar
rajaarkey
Super member
Posts: 6633
Joined: 10 Oct 2014 10:09
Contact:

Re: بالی اُمر کی پیاس پارٹ-- urdu sexi stori

Post by rajaarkey » 02 Apr 2017 16:14


"ہُمّ۔۔ پر پہلے تُم بتاّو!" میں اَپنی زِد پر آڈی رہی۔۔ ورنا مُجھے وِشواس تو تھا ہی۔۔ جِس تریکے سے اُسکے لِںگ نے اَپنا 'پھن' اُٹھنا چالُو کِیا تھا۔۔ تھوڑی دیر میں وو 'اَپنے' آپ ہی چالُو ہو جاّیگا۔ّ۔۔

"تُم بہُت جِدّی ہو۔ّ۔" وہ اَپنے ہاتھ کو بِلکُل میرے نِتںبوں کی درار کے نزدیک لے گیا اؤر پھِر واپس کھیںچ لِیا۔ّ۔ّ،" میں کہ رہا تھا کِ۔ّ۔ سُن رہی ہو نا؟"

"ہُوںمم" مینے جواب دِیا۔۔ اُسکے لِںگ کی چُبھن میرے پیٹ کے پاس لگاتار بڑھتی جا رہی تھی۔ّ۔۔ میں بیکرار تھی۔۔ پر پھِر بھی۔۔ میں اِںتجار کر رہی تھی۔ّ۔

"میں کہ رہا تھا کِ۔ّ۔ پُورے شہر اؤر پُورے گاںو میں تُم جیسی سُندر لڑکی مینے کوئی اؤر نہی دیکھی۔۔" ترُن بولا۔ّ۔

مینے جھٹ سے شرارت بھرے لہجے میں کہا،" مینُو دیدی بھی تو بہُت سُندر ہے نا؟"

ایک پل کو مُجھے لگا۔۔ مینے غلت ہی جِکر کِیا۔۔ مینُو کا نام لیتے ہی اُسکے لِںگ کی چُبھن ایسے گایب ہُئی جیسے کِسی گُبّارے کی ہوا نِکل گیی ہو۔ّ۔

"چھچوڑو نا! کِسکا نام لے رہی ہو۔۔! ہوگی سُندر۔۔ پر تُمہارے جِتنی نہی ہے۔۔ اَب تُم بتاّو۔۔ تُم کیا کہ رہی تھی۔ّ۔؟" ترُن نے کُچّھ دیر رُک کر جواب دِیا۔ّ۔۔

میں کُچّھ دیر سوچتی رہی کِ کیسے بات شُرُو کرُوں۔۔ پھِر اَچانک میرے مںن میں جانے یے کیا آیا،" کُچّھ دینو سے جانے کیُوں مُجھے اَجیب سا لگتا ہے۔۔ آپکو دیکھتے ہی اُس دِن پتا نہی کیا ہو گیا تھا مُجھے؟"

"کیا ہو گیا تھا؟" ترُن نے پیار سے میرے گالوں کو سہلاتے ہُئے پُوچّھا۔ّ۔۔

"پتا نہی۔ّ۔ وہی تو جان'نا چاہتی ہُوں۔ّ۔" مینے جواب دِیا۔ّ۔

"اَچّچھا۔۔ میں کیسا لگتا ہُوں تُمہے۔۔ پہلے بتاّو!" ترُن نے میرے ماتھے کو چُوم کر پُوچّھا۔۔ میرے بدن میں گُدگُدی سی ہُئی۔۔ مُجھے بہُت اَچّچھا لگا۔ّ۔۔

"بہُت اَچّھے!" مینے سِسک کر کہا اؤر اُسکے اؤر اَںدر گھُس گیّ۔۔ سِمٹ کر!

"آچّھے متلب؟ کیا دِل کرتا ہے مُجھے دیکھ کر؟" ترُن نے پیار سے پُوچّھا اؤر پھِر میری کمر پر دھیرے دھیرے اَپنا ہاتھ نیچے لے جانے لگا۔ّ۔

"دِل کرتا ہے کِ یُوںہی کھڑی رہُوں۔۔ آپسے چِپک کر۔۔" مینے شرمانے کا ناٹک کِیا۔ّ۔

"بس! یہی دِل کرتا ہے یا کُچّھ اؤر بھی۔۔ " اُسنے کہا اؤر ہںسنے لگا۔ّ۔

"پتا نہی۔۔ پر تُمسے دُور جاتے ہُئے دُکھ ہوتا ہے۔۔" مینے جواب دِیا۔ّ۔۔

"اوہّو۔ّ۔ اِسکا متلب تُمہے مُجھسے پیار ہو گیا ہے۔۔" ترُن نے مُجھے تھوڑا سا ڈھیلا چھچوڑ کر کہا۔ّ۔۔

"وو کیسے۔ّ۔؟" مینے بھولیپن سے کہا۔ّ۔۔

"یہی تو ہوتا ہے پیار۔۔ ہمیں پتا نہی چلتا کِ کب پیار ہو گیا ہے۔۔ کوئی اؤر بھی لگتا ہے کیا۔۔ میری ترہ اَچّچھا۔ّ۔!" ترُن نے پُوچّھا۔ّ۔۔

سوال پُوچھتے ہُئے پتا نہی کلاس کے کِتنے لڑکوں کی تسویر میرے جہاں میں کؤںدھ گیّ۔۔ پر پرتیکش میں مینے سِرف اِتنا ہی کہا،" نہی!"

"ہُوںمّم۔۔ ایک اؤر کام کرکے دیکھیں۔۔ پھِر پکّا ہو جاّیگا کِ تُمہے مُجھسے پیار ہے کی نہی۔ّ۔" ترُن نے میری تھوڑی کے نیچے ہاتھ لیجاکار اُسکو اُپر اُٹھا لِیا۔ّ۔۔

"سالا پکّا لڑکیباج لگتا تھا۔ّ۔ اِس ترہ سے دِکھا رہا تھا مانو۔۔ سِرف میری پرابلم سالو کرنے کی کوشِش کر رہا ہو۔۔ پر میں ناٹک کرتی رہی۔۔ شرافت اؤر نزاکت کا،" ہُوںمّم!"

"اَپنے ہوںٹو کو میرے ہوںٹو پر رکھ دو۔ّ۔!" اُسنے کہا۔ّ۔

"کیا؟" مینے چؤںک کر ہڑبڑانے کا ناٹک کِیا۔ّ۔

"ہے بھگوان۔۔ تُم تو بُرا مان رہی ہو۔۔ اُسکے بِنا پتا کیسے چلیگا۔ّ۔!" ترُن نے کہا۔ّ۔

"اَچّچھا لاّو!" مینے کہا اؤر اَپنا چیہرا اُپر اُٹھا لِیا۔ّ۔۔

ترُن نے جھُک کر میرے نرم ہوںٹو پر اَپنے گرم گرم ہونٹ رکھ دِئے۔۔ میرے شریر میں اَچانک اَکڑن سی شُرُو ہو گیّ۔۔ اُسکے ہونٹ بہُت پیارے لگ رہے تھے مُجھے۔۔ کُچّھ دیر باد اُسنے اَپنے ہوںٹو کا دباو بڑھایا تو میرے ہونٹ اَپنے آپ کھُل گیے۔ّ۔ اُسنے میرے اُپر والے ہونٹ کو اَپنے ہوںٹو کے بیچ دبا لِیا اؤر چُوسنے لگا۔۔ میں بھی ویسا ہی کرنے لگی، اُسکے نیچے والے ہونٹ کے ساتھ۔ّ۔۔

اَںدھیرے میں مُجھے میری بںد آںکھوں کے سامنے تارے سے ٹُوٹ'تے نزر آ رہے تھے۔ّ۔ کُچّھ ہی دیر میں بدہواسی میں میں پاگل سی ہو گیی اؤر تیج تیج ساںسے لینے لگی۔۔ اُسکا بھی کُچّھ ایسا ہی ہال تھا۔۔ اُسکا لِںگ ایک بار پھِر اَکڑ کر میرے پیٹ میں گھُسنے کی کوشِش کرنے لگا تھا۔۔ تھوڑی دیر باد ہی مُجھے میری کچھی گیلی ہونے کا اَہساس ہُآ۔ّ۔۔ میری چُوچِیا مچلنے سی لگی تھی۔ّ۔ اُنکا مچلنا شاںت کرنے کے لِئے مینے اَپنی چُوچِیاں ترُن کے سینے میں گاڑا دی۔۔

مُجھسے رہا نا گیا۔ّ۔۔ مینے اَپنے پیٹ میں گاڑا ہُآ اُسکا لِںگ اَپنے ہاتھوں میں پکڑ لِیا اؤر اَپنے ہونٹ چھُٹاکار بولی،" یے کیا ہے؟"



اُسنے لِںگ کے اُپر رکھا میرا ہاتھ وہیں پکڑ لِیا،"یے! تُمہے سچ میں نہی پتا کیا؟"

مُجھے پتا تو سب کُچّھ تھا ہی۔۔ اُسکے پُوچّھنے کے اَںداج سے مُجھے لگا کِ ناٹک کُچّھ زیادا ہی ہو گیا۔۔ مینے شرما کر اَپنا ہاتھ چھُڑانے کی کوشِش کی۔۔ اؤر چھُڑا بھی لِیا،" ش۔۔ مُجھے لگا یے اؤر کُچّھ ہوگا۔۔ پر یے تو بہُت بڑا ہے۔۔ اؤر یے۔ّاِس ترہ کھڑا کیُوں ہے؟" مینے مچلتے ہُئے کہا۔ّ۔

"کیُوںکی تُم میرے پاس کھڑی ہو۔۔ اِسیلِئے کھڑا ہے۔۔" وہ ہںسنے لگا۔ّ،" سچ بتانا! تُمنے کِسی کا دیکھا نہی ہے کیا؟ تُمہے میری کسم!"

میری آںکھوں کے سامنے سُںدر کا لِںگ دؤڑ گیا۔۔ وو اُسکے لِںگ سے تو بڑا ہی تھا۔۔ پر مینے ترُن کی کسم کی پرواہ نہی کی،" ہاں۔۔ دیکھا ہے۔۔ پر اِتنا بڑا نہی دیکھا۔۔ چھہوٹے چھہوٹے بچّوں کا دیکھا ہے۔ّ۔" مینے کہا اؤر شرما کر اُسکی کمر میں ہاتھ ڈال کر اُس'سے چِپک گیّ۔ّ۔۔

"ڈِکھاُّ؟" اُسنے گرم گرم ساںسے میرے چیہرے پر چھچوڑتے ہُئے دھیرے سے کہا۔ّ۔

"پر۔۔ یہاں کیسے دیکھُوںگی۔ّ؟ یہاں تو بِلکُل اَںدھیرا ہے۔۔" مینے بھولیپن سے کہا۔ّ۔

"اَبھی ہاتھ میں لیکر دیکھ لو۔۔ میں باہر نِکال دیتا ہُوں۔۔ پھِر کبھی آںکھوں سے دیکھ لینا!" ترُن نے میرا ہاتھ اَپنی کمر سے کھیںچ کر واپس اَپنے لِںگ پر رکھ دِیا۔ّ۔۔

میں لِںگ کو ہاتھ میں پکڑے کھڑی رہی،" نہی۔۔ مُجھے شرم آ رہی ہے۔ّ۔ یے کوئی پکڑ'نے کی چیز ہے۔ّ۔۔!"

"اَرّے، تُم تو بہُت بھولی نِکلی۔۔ میں تو جانے کیا کیا سوچ رہا تھا۔۔ یہی تو اَسلی چیز ہوتی ہے لڑکی کے لِئے۔۔ اِسکے بِنا تو لڑکی کا گُزارا ہی نہی ہو سکتا!" ترُن میری باتوں میں آکر مُجھے نِرِ نادان سمجھنے لگا تھا۔ّ۔۔

"وو کیُوں؟" لڑکی کا بھلا اِسکے بِنا گُزرا کیُوں نہی ہو سکتا۔۔ لڑکِیوں کے پاس یے کہاں سے آایگا۔۔ یے تو سِرف لڑکوں کے پاس ہی ہوتا ہے نا!" مینے ناٹک جاری رکھا۔۔ اِس ناٹک میں مُجھے بہُت مزا آ رہا تھا۔۔ اُپر بیٹھا بھگوان بھی; جِسنے مُجھے اِتنی کامُک اؤر گرم چیز بنایا۔۔ میری آکٹِںگ دیکھ کر داںتوں تلے اُںگلی دبا رہا ہوگا۔ّ۔ّ۔

"ہاں۔۔ لڑکوں کے پاس ہی ہوتا ہے یے بس! اؤر لڑکے ہی لڑکِیوں کو دیتے ہیں یے۔۔ تبھی تو پیار ہوتا ہے۔ّ۔" ترُن نے جھُک کر ایک بار میرے ہوںٹو کو چُوس لِیا اؤر واپس کھڑا ہو گیا۔ّ۔ مُجھ جیسی لڑکی کو اَپنے جال میں پھںسا ہُآ دیکھ کر اُسکا لِںگ رہ رہ کر جھٹکے سے کھا رہا تھا۔۔ میرے ہاتھ میں۔ّ۔ّ۔،" اؤر بدلے میں لڑکِیاں لڑکوں کو دیتی ہیں۔ّ۔۔" اُسنے بات پُوری کی۔ّ۔۔

"اَچّچھا! کیا؟ ۔۔۔ لڑکِیاں کیا دیتی ہیں بدلے میں۔ّ۔" میری یونِ سے ٹاپ ٹیپ پانی ٹپک رہا تھا۔ّ۔۔

"بتا دُوں؟" ترُن نے مُجھے اَپنے سے چِپکائے ہُئے ہی اَپنا ہاتھ نیچے کرکے میرے مست سُڈؤل نِتںبوں پر پھیرنے لگا۔ّ۔ّ۔

مُجھے یونِ میں تھوڑی اؤر کسمساہٹ سی مہسُوس ہونے لگی۔۔ اُتّیجنا میں مینے اُسکا لِںگ اؤر کسکر اَپنی مُٹّھی میں بھیںچ لِیا۔ّ۔ّ۔ّ،" ہاں۔۔ بتا دو!" مینے ہؤلے سے کہا۔ّ۔۔

"اَپنی چُوت!" وہ میرے کان میں پھُسپھُسایا تھا۔۔ پر ہوا جاکر میری یونِ میں لگی۔ّ،"اَیا۔۔" میں مچل اُٹھی۔ّ۔ّ۔

"نآئیئیئی۔ّ۔" مینے بڑبڑاتے ہُئے کہا۔ّ۔۔

"ہاں۔۔ سچّی اَںجُو۔ّ۔! لڑکِیاں اَپنی چُوت دیتی ہیں لڑکوں کو اؤر لڑکے اَپنا۔ّ۔" اَچانک وہ رُک گیا اؤر مُجھسے پُوچّھنے لگا،" اِسکو پتا ہے کیا کہتے ہیں؟"

"مینے شرمکار کہا،" ہاں۔ّ۔ لُلّی" اؤر ہںسنے لگی۔ّ۔

"پاگل۔۔ لُلّی اِسکو تھوڑے ہی کہتے ہیں۔۔ لُلّی تو چھہوٹے بچّوں کی ہوتی ہے۔۔ بڑا ہونے پر اِسکو 'لںڈ' بولتے ہیں۔ّ۔ اؤر لؤدا بھی۔۔!" اُسنے میرے سامانیا جنان میں وردھِ کرنی چاہی۔۔ پر اُس للُّو سے زیادا تو اِسکے نام مُجھے ہی پتا تھے۔۔

"پر۔۔ یے لینے دینے والی کیا بات ہے۔۔ میری سمجھ میں نہی آئی۔ّ۔!" مینے اَںجان سی بنتے ہُئے اُسکو کام کی بات پر لانے کی کوشِش کی۔ّ۔۔

"تُم تو بہُت نادان ہو اَںجُو۔۔ مُجھے کِتنو دینو سے تُم جیسی پیاری سی، بھولی سی لڑکی کی تلاش تھی۔۔ میں سچ میں تُمسے بہُت پیار کرنے لگا ہُوں۔ّ۔ پر مُجھے ڈر ہے کِ تُم اِتنی نادان ہو۔۔ کہیں کِسی کو بتا نا دو یے باتیں۔۔ پہلے کسم کھاّو کی کِسی سے اَپنی باتوں کا جِکر نہی کروگی۔ّ۔" ترُن نے کہا۔ّ۔

"نہی کرُوںگی کِسی سے بھی جِکر۔ّ۔ تُمہاری کسم!" مینے جھٹ سے کسم کھا لی۔ّ۔

"آئی لو یُو جان!" اُسنے کہا،" اَب سُنو۔ّ۔ دیکھو۔۔ جِس ترہ تُمہارے پاس آتے ہی میرے لؤدے کو پتا لگ گیا اؤر یے کھڑا ہو گیا; اُسی ترہ۔۔ میرے پاس آنے سے تُمہاری چُوت بھی پھُول گیی ہوگی۔۔ اؤر گیلی ہو گیی ہوگی۔ّ۔ ہے نا۔۔ سچ بتانا۔ّ۔"

وو باتیں اِتنے کامُک ڈھںگ سے کر رہا تھا کِ میرا بھی میری یونِ کا 'دیسی' نام لینے کا دِل کر گیا۔۔ پر مینے بولتے ہُئے اَپنا بھولاپن نہی کھویا،" پھُولنے کا تو پتا نہی۔ّ۔ پر گیلی ہو گیی ہے میری چُو۔ّ۔۔"

"اَرے۔۔ شرما کیُوں رہی ہو میری جان۔۔ شرمانے سے تھوڑے ہی کام چلیگا۔ّ۔ اِسکا پُورا نام لو۔ّ۔" اُسنے میری چھاتِیو کو دباتے ہُئے کہا۔۔ میری سِسکی نِکل گیّ۔۔

"آ۔۔ چُوت۔۔" مینے نام لے دِیا۔۔ تھوڑا شرماتے ہُئے۔ّ۔۔

"و۔ گُڈ۔ّ۔ اَب اِسکا نام لو۔۔ شاباش!" ترُن میری چُوچِیو کو میرے کمیز کے اُپر سے مسلنے لگا۔۔ میں مدہوش ہوتی جا رہی تھی۔ّ۔

مینے اُسکا لِںگ پکڑ کر نیچے دبا دِیا،" لؤدا۔۔ اَیا!"

"یہی تڑپ تو ہمیں ایک دُوسرے کے کریب لاتی ہے جان۔۔ ہاں۔۔ اَب سُنو۔۔ میرا لؤدا اؤر تُمہاری چُوت۔۔ ایک دُوسرے کے لِئے ہی بنے ہیں۔ّ۔ اِسیلِئے ایک دُوسرے کو پاس پاس پاکر مچل گیے۔ّ۔ دراَسل۔۔ میرا لؤدا تُمہاری چُوت میں گھُسیگا تو ہی اِنکا مِلن ہوگا۔ّ۔ یے دونو ایک دُوسرے کے پیاسے ہیں۔۔ اِسی کو 'پیار' کہتے ہیں میری جان۔ّ۔۔ اَب بولو۔۔ مُجھسے پیار کرنا ہے۔ّ۔؟" اُسنے کہتے ہُئے اَپنا ہاتھ پِچھے لے جاکر سلوار کے اُپر سے ہی میرے مست نِتںبوں کی درار میں گھُسا دِیا۔۔ میں پاگل سی ہوکر اُسمیں گھُسنے کی کوشِش کرنے لگی۔ّ۔۔

"بولو نا۔۔ مُجھسے پیار کرتی ہو تو بولو۔۔ پیار کرنا ہے کِ نہی۔ّ۔" ترُن بھی بیکرار ہوتا جا رہا تھا۔ّ۔۔

"پر۔۔ تُمہارا اِتنا موٹا لؤدا میری چھہوٹی سی چُوت میں کیسے گھُسیگا۔۔ یے تو گھُس ہی نہی سکتا۔ّ۔" مینے مچلتے ہُئے شرارت سے اُسکو تھوڑا اؤر تاڑ-پایا۔ّ۔

"اَرے۔۔ تُم تو پاگلوں جیسی بات کر رہی ہو۔ّ۔ سبکا تو گھُستا ہے چُوت میں۔ّ۔ تُم کیا ایسے ہی پیدا ہو گیّ۔۔ تُمہارے پاپا نے بھی تو تُمہاری ممّی کی چُوت میں گھُسایا ہوگا۔ّ۔ پہلے اُنکی بھی چُوت چھہوٹی ہی ہوگی۔ّ۔۔" ترُن نے مُجھے سمجھانے کی کوشِش کی۔ّ۔۔

سچ کہُوں تو ترُن کِ سِرف یہی بات تھی جو میری سمجھ میں نہی آئی تھی۔ّ۔،" کیا متلب؟"

"متلب یے میری جان۔۔ کِ شادی کے باد جب ہزبیںڈ اَپنی وائیپھ کی چُوت میں لؤدا گھُساتا ہے تبھی بچّا پیدا ہوتا ہے۔ّ۔ بِنا گھُسائے نہی ہوتا۔ّ۔ اؤر اِسمیں مزا بھی اِتنا آتا ہے کِ پُوچّھو ہی مت۔ّ۔۔" ترُن اَب اُںگلِیوں کو سلوار کے اُپر سے ہی میری یونِ کے اُپر لے آیا تھا اؤر دھیرے دھیرے سہلکر مُجھے تڑپتے ہُئے تیّار کر رہا تھا۔ّ۔ّ۔۔

تیّار تو میں کب سے تھی۔۔ پر اُسکی بات سُنکر میں ڈر گیّ۔۔ مُجھے لگا اَگر مینے اَپنی یونِ میں اُسکا لِںگ گھُسوا لِیا تو لینے کے دینے پڑ جاّیںگے۔ّ۔ مُجھے بچّا ہو جاّیگا۔ّ۔،" نہی، مُجھے نہی گھُسوانا!" میں اَچانک اُس'سے اَلگ ہٹ گیّ۔ّ۔۔

"کیا ہُآ؟ اَب اَچانک تُم یُوں پِچھے کیُوں ہٹ رہی ہو۔ّ۔؟" ترُن نے تڑپ کر کہا۔ّ۔ّ۔۔

"نہی۔۔ مُجھے دیر ہو رہی ہے۔۔ چلو اَب یہاں سے!" میں ہڑبڑتے ہُئے بولی۔ّ۔۔

"ہے بھگوان۔۔ یے لڑکِیاں!" ترُن بڑبڑایا اؤر بولا،" کل کروگی نا؟"

"ہاں۔ّ۔ اَب جلدی چلو۔۔ مُجھے گھر پر چھچوڑ دو۔ّ۔" میں ڈری ہُئی تھی کہیں وو زبردستی نا گھُسا دے اؤر میں ما نا بن جاُّ!

"دو۔۔ مِنِٹ تو رُک سکتی ہو نا۔۔ میرے لؤدے کو تو شاںت کرنے دو۔ّ۔" ترُن نے رِکویسٹ سی کری۔ّ۔۔

میں کُچّھ نا بولی۔۔ چُپچاپ کھڑی رہی۔ّ۔

ترُن میرے پاس آکر کھڑا ہو گیا اؤر میرے ہاتھ میں 'ٹیسٹیس' پکڑا دِئے،" اِنہے آرام سے سہلاتی رہو۔ّ۔" کہکر وو تیزی سے اَپنے ہاتھ کو لِںگ پر آگے پِچھے کرنے لگا۔ّ۔ّ۔

ایسا کرتے ہُئے ہی اُسنے میری کمیز میں ہاتھ ڈالا اؤر سمیز کے اُپر سے ہی میری چُوچِیو کو دبانے لگا۔ّ۔ میں تڑپ رہی تھی۔۔ لِںگ کو اَپنی یونِ میں گھُسوانے کے لِئے۔۔ پر مُجھے ڈر لگ رہا تھا۔۔

اَچانک اُسنے چُوچِیو سے ہاتھ نِکال کر میرے بالوں کو پکڑا اؤر مُجھے اَپنی اؤر کھیںچ کر میرے ہوںٹو میں اَپنی جیبھ گھُسا دی۔ّ۔ اؤر اَگلے ہی پل جھٹکے سے خاتا ہُآ مُجھسے دُور ہٹ گیا۔ّ۔

"چلو اَب جلدی۔ّ۔ پر کل کا اَپنا وادا یاد رکھنا۔۔ کل ہم ٹُوُّشن سے جلدی نِکل لیںگے۔ّ۔۔" ترُن نے کہا اؤر ہم دایّں بایّں دیکھ کر راستے پر چل پڑے۔ّ۔۔

"کل بھی دیدی کو نہی پدھاّوگے کیا؟" مینے گھر نزدیک آنے پر پُوچّھا۔ّ۔۔

"نہی۔ّ۔!" اُسنے سپاٹ سا جواب دِیا۔ّ۔۔

"کیُوں؟ مینے اَپنے ساتھ رکھی ایک چابی کو درواجے کے اَںدر ہاتھ ڈال کر تالا کھولتے ہُئے پُوچّھا۔ّ۔ّ۔

"تُمسے پیار جو کرنا ہے۔ّ۔" وہ مُسکُرایا اؤر واپس چلا گیا۔ّ۔ّ۔

میں تو تڑپ رہی تھی۔ّ۔ اَںدر جاتے ہی نیچے کمرے میں گھُسی اؤر اَپنی سلوار نیچے کرکے اَپنی یونِ کو رگڑنے لگی۔ّ۔ّ۔
دوستوں پُوری کہانی جانّے کے لِئے نیچے دِئے ہُئے پارٹ جرُور پڑھے ۔۔ّ۔ّ۔ّ۔ّ۔ّ۔ّ۔ّ۔ّ۔ّ۔ّ۔ّ۔ّ۔ّ۔ّ۔
۔۔۔
آپکا دوست
(¨`·.·´¨) Always
`·.¸(¨`·.·´¨) Keep Loving &;
(¨`·.·´¨)¸.·´ Keep Smiling !
`·.¸.·´ -- raj sharma

User avatar
rajaarkey
Super member
Posts: 6633
Joined: 10 Oct 2014 10:09
Contact:

7-- بالی اُمر کی پیاس پارٹ-- urdu sexi stori

Post by rajaarkey » 02 Apr 2017 16:18


بالی اُمر کی پیاس پارٹ--7

گتاںک سے آگے۔ّ۔ّ۔ّ۔ّ۔ّ۔ّ۔ّ۔ّ۔ّ۔ّ۔ّ۔ّ۔

اَگلے پُورے دِن میں اَجیب کسںکس میں رہی; جب میں اَپنی پیاسی یونِ کی آگ بُجھانے کے لِئے ہر جگہ ہاتھ پیر مار رہی تھی تو کوئی نسیب ہی نہی ہُآ۔۔ اؤر جب اَچّچھا خاسا 'للُّو' میرے ہاتھوں میں آیا تو میں اُسکو اَپنی یونِ میں گھُسوانے سے ڈرنے لگی۔۔ اَب کِسی سے پُوچھتِ بھی تو کیا پُوچھتِ؟ دیدی اَپنی سسُرال میں تھی۔۔ کِسی اؤر سے پُوچّھنے کی ہِمّت ہو نہی رہی تھی۔۔

پُورا دِن میرا دِماغ کھراب رہا ۔۔ اؤر ٹُوُّشن کے ٹائیم بُجھے مںن سے ہی پِںکی کے گھر چلی گیّ۔ّ۔

اُس دِن مینُو بہُت اُداس تھی، ۔۔ کارن مُجھے اَچّھِ ترہ پتا تھا۔۔ ترُن کی نارازگی نے اُسکو پریشان کر رکھا تھا۔۔ 2 دِن سے اُسنے مینُو کے ساتھ بات تک نہی کی تھی۔ّ۔

"وو۔۔ ترُن تُمہے کہاں تک چھچوڑ کر آیا تھا کل؟" مینُو نے مُجھسے پُوچھا۔۔ پِںکی ساتھ ہی بیٹھی تھی۔۔ ترُن اَبھی آیا نہی تھا۔ّ۔

"میرے گھر تک۔۔ اؤر کہاں چھچوڑ کر آتا؟" مینے اُسکی اؤر دیکھ کر کہا اؤر اُسکا بُجھا ہُآ چیہرا دیکھ بربس ہی میرے ہوںٹو پر مُسکان تیر گیّ۔ّ۔

"اِتنا کھُش کیُوں ہو رہی ہے؟ اِسمیں ہںسنے والی بات کیا ہے؟" مینُو نے چِڈ کر کہا۔ّ۔۔

"اَرے دیدی۔۔ میں آپکی بات پر تھوڑے ہی ہںسی ہُوں۔۔ میں تو بس یُوںہی۔ّ۔" میں کہا اؤر پھِر مُسکُرا دی۔ّ۔

"پِںکی۔۔ پانی لانا اُپر سے۔ّ۔۔" مینُو نے کہا۔ّ۔

"جی، دیدی۔۔ اَبھی لائی۔۔ " کہکر پِںکی اُپر چل دی۔ّ۔

"تھوڑا گرم کرکے لانا۔۔ میرا گلا کھراب ہے۔۔" مینُو نے کہا اؤر پِںکی کے اُپر جاتے ہی مُجھے گھُور کر بولی لگی،" زیادا داںت نِکالنے کی زرُورت نہی ہے۔ّ۔ مُجھے تُمہارے بارے میں سب کُچّھ پتا ہے۔۔"

"اَچّچھا!" مینے کھڑی ہوکر اَںگڑائی سی لی اؤر اَپنے بھرے بھرے یؤون کا جلوا اُسکو دِکھا کر پھِر مُسکُرانے لگی۔۔ میں کُچّھ بول کر اُسکو 'ٹھںڈی' کرنے ہی والی تھی کِ اَچانک ترُن آ گیا۔۔ میں مںن کی بات مںن میں ہی رکھے مُسکُرکر ترُن کی اؤر دیکھنے لگی۔۔

مینُو نے اَپنا سِر جھُکا لِیا اؤر مُںہ پر کپڑا لپیٹ کر کِتاب میں دیکھنے لگی۔ّ۔ ترُن میری اؤر دیکھ کر مُسکُرایا اؤر آںکھ مار دی۔۔ میں ہںس پڑی۔ّ۔

ترُن چارپائی پر جا بیٹھتا۔ اُسنے رزائی اَپنے پیروں پر ڈالی اؤر مُجھے آںکھوں ہی آںکھوں میں اُسی چارپائی پر بیٹھنے کا اِشارا کر دِیا۔ّ۔

وہاں ہر روج پِںکی بیٹھی تھی اؤر میں اُسکے سامنے دُوسری چارپائی پر۔۔ شاید ترُن مینُو کو جلانے کے لِئے ایسا کر رہا تھا۔۔ میں بھی کہاں پِچھے رہنے والی تھی۔۔ مینے ایک نزر مینُو کی اؤر دیکھا اؤر 'دھُمم' سے ترُن کے ساتھ چارپائی پر بیٹھی اؤر اُسکی رزائی کو ہی دُوسری ترپھ سے اَپنی ٹاںگوں پر کھیںچ لِیا۔ّ۔۔

مینے مینُو کی اؤر تِرچھِ نزروں سے دیکھا۔ّ۔ وہ ہم دونو کو ہی گھُور رہی تھی۔ّ۔ پر ترُن نے اُسکی اؤر دھیان نہی دِیا۔ّ۔۔

تبھی پِںکی نیچے آ گیّ،" نمستے بھیّا!" کہکر اُسنے مینُو کو پانی کا گِلاس پکڑایا۔۔ مینُو نے پانی جیوں کا تیوں چارپائی کے نیچے رکھ دِیا۔ّ۔۔

پِںکی ہمارے پاس آئی اؤر ہںسکر مُجھسے بولی،" یے تو میری سیٹ ہے۔۔!"

"کوئی بات نہی پِںکی۔۔ تُم یہاں بیٹھ جاّو" ترُن نے اُس جگہ کی اؤر اِشارا کِیا جہاں پہلے دِن سے ہی میں بیٹھتی تھی۔ّ۔۔

"میں تو ایسے ہی بتا رہی تھی بھیّا۔۔ یہاں سے تو اؤر بھی اَچّھِ ترہ دِکھائی دیگا۔ّ۔۔" پِںکی نے ہںسکر کہا اؤر بیٹھ گیّ۔ّ۔۔

اُس دِن ترُن نے ہمیں آدھا گھںٹا ہی پڑھایا اؤر ہمیں کُچّھ یاد کرنے کو دے دِیا۔ّ،" میرا کل ایگزیم ہے۔۔ مُجھے اَپنی تیّاری کرنی ہے۔۔ میں تھوڑی دیر اؤر یہاں ہُوں۔۔ پھِر مُجھے جانا ہے۔۔ تب تک کُچّھ پُوچّھنا ہو تو پُوچّھ لینا۔ّ۔" ترُن نے کہا اؤر اَپنی کِتاب کھول کر بیٹھ گیا۔ّ۔

2 مِنِٹ بھی نہی ہُئے ہوںگے۔۔ اَچانک مُجھے اَپنے تلوّں کے پاس ترُن کا اَںگُوٹھا مںڈراتا ہُآ مہسُوس ہُآ۔۔ مینے نزریں اُٹھاکر ترُن کو دیکھا۔۔ وہ مُسکُرانے لگا۔۔ اُسی پل میرا دھیان مینُو پر گیا۔۔ وہ ترُن کو ہی دیکھے جا رہی تھی۔۔ پر میرے اُسکی اؤر دیکھنے پر اُسنے اَپنا چیہرا جھُکا لِیا۔۔

مینے بھی نزریں کِتاب میں جھُکا لی۔۔ پر میرا دھیان ترُن کے اَںگُوٹھے پر ہی تھا۔۔ اَب وہ لگاتار میرے تخنوں کے پاس اَپنا اَںگُوٹھا ستائے ہُئے اُسکو آگے پِچھے کرکے مُجھے چھیڑ رہا تھا۔ّ۔

اَچانک رزائی کے اَںدر ہی دھیرے دھیرے اُسنے اَپنی ٹاںگ لںبی کر دی۔۔ مینے پِںکی کو دیکھا اؤر اَپنی کِتاب تھوڑی اُپر اُٹھا لی۔ّ۔ّاُسکا پیر میری جاںگھوں پر آکر ٹِک گیا۔ّ۔

میری یونِ پھُدکنے لگی۔۔ مُجھ پر سُرُور سا چھانے لگا اؤر مینے بھی رزائی کے اَںدر اَپنی ٹاںگے سیدھی کرکے اُسکا پیر میری دونو جاںگھوں کے بیچ لے لِیا۔ّ۔ چوری چوری مِل رہے اِس آنںد میں پاگل سی ہوکر مینے اُسکے پیر کو اَپنی جاںگھوں میں کسکر بھیںچ لِیا۔ّ۔

ترُن بھی تیّار تھا۔۔ شاید اُسکی مںشا بھی یہی تھی۔۔ وہ مُجھے ساتھ لیکر نِکلنے سے پہلے ہی مُجھے پُوری ترہ گرم کر لینا چاہتا ہوگا۔۔ اُسنے اَپنے پیر کا پںجا سیدھا کِیا اؤر سلوار کے اُپر سے ہی میری کچھی کے کِناروں کو اَپنے اَںگُوٹھے سے کُریدنے لگا۔۔ یونِ کے اِتنے کریب 'گھُسپیٹھِئے' اَںگُوٹھے کو مہسُوس کرکے میری ساںسیں تیج ہو گیّ۔۔ بس 2 اِںچ کا پھاسلا ہی تو بچا ہوگا مُشکِل سے۔ّ۔ میری یونِ اؤر اُسکے اَںگُوٹھے میں۔ّ۔

مینُو اؤر پِںکی کے پاس ہونے کے کارن ہی شاید ہلکی چھیڑ چھاڈ سے ہی مِل رہے آنںد میں دوگُنی کسک تھی۔ّ۔ میں اَپنی کِتاب کو ایک ترپھ رکھ کر اُسمیں دیکھنے لگی اؤر مینے اَپنے گھُٹنے موڑ کر رزائی کو اُںچا کر لِیا۔۔ اَب رزائی کے اَںدر شیتانی کر رہے ترُن کے پیروں کی ہُلچل باہر سے دِکھیی دینی بںد ہو گیّ۔ّ۔

اَچانک ترُن نے اَںگُوٹھا سیدھا میری یونِ کے اُپر رکھ دِیا۔۔ میں ہڑبڑا سی گیّ۔ّ۔ یونِ کی پھاںکوں کے ٹھیک بیچوں بیچ اُسکا اَںگُوٹھا تھا اؤر دھیرے دھیرے وو اُسکو اُپر نیچے کر رہا تھا۔ّ۔۔

میں تڑپ اُٹھی۔ّ۔ اِتنا مزا تو مُجھے جِںدگی میں اُس دِن سے پہلے کبھی آیا ہی نہی تھا۔۔ شاید اِسیلِئے کہتے ہیں۔۔ 'چوری چوری پیار میں ہے جو مزا' ۔۔ 2 چار بار اَںگُوٹھے کے اُپر نیچے ہونے سے ہی میری یونِ چھلک اُٹھی۔۔ یونِرس سے میری کچھِ بھی 'وہاں' سے پُوری ترہ گیلی ہو گیّ۔ّ۔۔ مُجھے اَپنی ساںسوں پر کابُو پانا مُشکِل ہو رہا تھا۔۔ مُجھے لگ رہا تھا کِ میرے چیہرے کے بھاوّں سے کم سے کم مینُو تو میری ہالت سمجھ ہی گیی ہوگی۔ّ۔

'پر جو ہوگا دیکھا جاّیگا' کے اَںداج میں مینے اَپنا ہاتھ دھیرے سے اَںدر کِیا اؤر سلوار کے اُپر سے ہی اَپنی کچھی کا کِنارا پکڑ کر اُسکو اَپنی یونِ کے اُپر سے ہٹا لِیا۔ّ۔ّ۔

میرا اِرادا سِرف ترُن کے اَںگُوٹھے کو 'وہاں' اؤر اَچّھِ ترہ مہسُوس کرنا تھا۔۔ پر شاید ترُن غلت سمجھ گیا۔۔ یونِ کے اُپر اَب کچھی کی دیوار کو نا پاکر میری یونِ کا لِسلِسپن اُسکو اَںگُوٹھے سے مہسُوس ہونے لگا۔۔ کُچّھ دیر وہ اَپنے اَںگُوٹھے سے میری پھاںکوں کو اَلگ اَلگ کرنے کی کوشِش کرتا رہا۔۔ میری ہالت کھراب ہوتی جا رہی تھی۔۔ آویش میں میں کبھی اَپنی جاںگھوں کو کھول دیتی اؤر کبھی بھیںچ لیتی۔ّ۔ اَچانک اُسنے میری یونِ پر اَںگُوٹھے کا دباو ایک دم بڑھا دِیا۔ّ۔۔

اِسکے ساتھ ہی میں ہڑبڑا کر اُچّھل سی پڑی۔ّ۔ اؤر میری کِتاب چھِتک کر نیچے جا گِری۔ّ۔ میری سلوار کا کُچّھ ہِسّا میری یونِ میں ہی پھںسا رہ گیا۔۔

"کیا ہُآ اَںجُو!" پِںکی نے اَچانک سِر اُٹھا کر پُوچّھا۔ّ۔۔

"ہاں۔۔ نہی۔۔ کُچّھ نہی۔۔ جھپکی سی آ گیی تھی" مینے بات سںبھالنے کی کوشِش کی۔ّ۔

گھبراکر ترُن نے اَپنا پیر واپس کھیںچ لِیا۔ّ۔ پر اِس سارے تماشے سے ہماری رزائی میں جو ہُلچل ہُئی۔۔ اُس'سے شاید مینُو کو وِشواس ہو گیا کِ اَںدر ہی اَںدر کُچّھ 'گھوٹالا' ہو رہا ہے۔ّ۔

اَچانک مینُو نے 2-4 سِسکی سی لی اؤر پِںکی کے اُٹھکر اُسکے پاس جاتے ہی اُسنے پھُٹ پھُٹ کر رونا شُرُو کر دِیا۔ّ۔

"کیا ہُآ دیدی؟" پِںکی نے مینُو کے چیہرے کو اَپنے ہاتھوں میں لیکر پُوچّھا۔ّ۔۔

"کُچّھ نہی۔۔ ۔۔تُو پڑھ لے۔ّ۔" مینُو نے اُسکو کہا اؤر روتی رہی۔ّ۔

"بتاّو نا کیا ہو گیا؟" پِںکی وہیں کھڑی رہی تو مُجھے لگا کِ مُجھے بھی اُٹھ جانا چاہِئے۔ّ۔ مینے اَپنی سلوار ٹھیک کی اؤر رزائی ہٹاکر اُسکے پاس چلی گیّ،" یے۔۔ اَچانک کیا ہُآ آپکو دیدی۔ّ۔؟"

"کُچّھ نہی۔۔ میں ٹھیک ہُوں۔۔" میرے پُوچھتے ہی مینُو نے ہُل‍کے سے گُسّے میں کہا اؤر اَپنے آںسُو پؤںچّھ کر چُپ ہو گیّ۔ّ۔۔

میری دوبارا ترُن کی رزائی میں بیٹھنے کی ہِمّت نہی ہُئی۔۔ میں پِںکی کے پاس ہی جا بیٹھی۔ّ۔

"کیا ہُآ اَںجُو؟ وہیں بیٹھ لو نا۔۔" پِںکی نے بھولیپن سے میری اؤر دیکھا۔ّ۔

"نہی۔۔ اَب کؤنسا پڑھا رہے ہیں۔ّ۔؟" مینے اَپنے چیہرے کے بھاوّں کو پکڑے جانے سے بچانے کی کوشِش کرتے ہُئے جواب دِیا۔ّ۔ّ۔

میرے اَلگ بیٹھنے سے شاید مینُو کے زخموں پر کُچّھ مرہم لگا۔۔ تھوڑی ہی دیر باد وو اَچانک دھیرے سے بول پڑی،" میرے وہاں تِل نہی ہے!"

ترُن نے گھُوم کر اُسکو دیکھا۔۔ سمجھ تو میں بھی گیی تھی کِ 'تِل' کہاں نہی ہے۔۔ پر بھولی پِںکی نا سمجھنے کے باوجُود ماملے میں کُود پڑی۔ّ،" کیا؟ کہاں 'تِل' نہی ہے دیدی۔ّ۔؟"

مینُو نے بھی پُوری تیّاری کے باد ہی بولا تھا۔ّ،" اَرے 'تِل' نہی۔۔ 'دِل'۔۔ میں تو اِس کاگج کے ٹُکڑے میں سے پڑھکر بول رہی تھی۔۔ جانے کہاں سے میری کِتاب میں آ گیا۔ّ۔ پتا نہی۔۔ ایسا ہی کُچّھ لِکھا ہُآ ہے۔۔ 'دیکھنا' " اُسنے کہا اؤر کاگج کا وو ٹُکڑا ترُن کی اؤر بڑھا دِیا۔ّ۔

ترُن نے کُچّھ دیر اُس کاگج کو دیکھا اؤر پھِر اَپنی مُٹّھی میں دبا لِیا۔ّ۔

"دِکھانا بھیّا!" پِںکی نے ہاتھ بڑھایا۔ّ۔

"یُوںہی لِکھی ہُئی کِسی لائین کا آدھا بھاگ لگ رہا ہے۔ّ۔ّتُو اَپنی پڑھائی کر لے۔۔" ترُن نے کہکر پِںکی کو ٹرکا دِیا۔ّ۔۔
------------------------------------------------------
ترُن نے تھوڑی دیر باد اُسی کاگج پر دُوسری ترپھ چُپکے سے کُچّھ لِکھا اؤر رزائی کی سائیڈ سے چُپچاپ میری اؤر بڑھا دِیا۔ّ۔ مینے اُسی ترپھ چچھُپاکر اُسکو پڑھا۔۔ 'پیار کرنا ہے کیا؟' اُس پر لِکھا ہُآ تھا۔۔ مینے کاگج کو پلٹ کر دیکھا۔۔ دُوسری اؤر لِکھا ہُآ تھا۔ّ۔۔ 'میرے وہاں 'تِل' نہی ہے۔۔'

دِل تو بہُت تھا یونِ کی کھُجلی مِٹا ڈالنے کا۔۔ پر 'ما' بن'نے کو کیسے تیّار ہوتی۔ّ۔ مینے ترُن کی اور دیکھا اؤر 'نا' میں اَپنا سِر ہِلا دِیا۔ّ۔ّ۔۔

وہ اَپنا سا مُںہ لیکر مُجھے گھُورنے لگا۔۔ اُسکے باد مینے اُس'سے نزریں ہی نہی مِلائی۔ّ۔۔
----------------------------------------------------------------
ہمیں چائی پِلاکر چاچی جانے ہی والی تھی کِ ترُن کے دِماغ میں جانے کیا آیا،" آاو مینُو۔۔ تھوڑی دیر تُمہے پڑھا دُوں۔ّ۔! پھِر میں جاُّنگا۔ّ۔۔"

مینُو کا چیہرا اَچانک کھِل اُٹھا۔۔ اُسنے جھٹ سے اَپنی کِتاب اُٹھائی اؤر ترُن کے پاس جا بیٹھی۔ّ۔

میں اؤر پِںکی دُوسری چارپائیّوں پر لیٹ گیے۔۔ تھوڑی ہی دیر باد پِںکی کے کھرّاٹے بھی سُنائی دینے لگے۔ّ۔ پر میں بھلا کیسے سوتی؟

پر آج مینے پہلے ہی ایک دِماغ کا کام کر لِیا۔۔ مینے دُوسری اؤر تکِیا لگا لِیا اؤر اُنکی اؤر کروٹ لیکر لیٹ گیی اَپنی رزائی کو مینے شُرُو سے ہی اِس ترہ تھوڑا اُپر اُٹھائے رکھا کِ مُجھے اُنکی پُوری چارپائی دِکھائی دیتی رہے۔ّ۔۔

آج مینُو کُچّھ زیادا ہی بیسبر دِکھائی دے رہی تھی۔۔ کُچّھ 15 مِنِٹ ہی ہُئے ہوںگے کی جیسے ہی ترُن نے پنّا پلٹنے کے لِئے اَپنا ہاتھ رزائی سے باہر نِکالا; مینُو نے پکڑ لِیا۔۔ میں سمجھ گیّ۔۔ اَب ہوگا کھیل شُرُو !

ترُن بِنا کُچّھ بولے مینُو کے چیہرے کی اؤر دیکھنے لگا۔۔ کُچّھ دیر مینُو بھی اُسکو ایسے ہی دیکھتی رہی۔۔ اَچانک اُسکی آںکھوں سے آںسُو لُڑھک گیے۔۔ سچ بتا رہی ہُوں۔۔ مینُو کا ماسُوم اؤر بیبس سا چیہرا دیکھ میری بھی آںکھیں نم ہو گیی تھی۔ّ۔۔

ترُن نے ایک بار ہماری چارپائیّوں کی اور دیکھا اؤر اَپنا ہاتھ چھُڑا کر مینُو کا چیہرا اَپنے دونو ہاتھوں میں لے لِیا۔۔ مینُو اَپنے چیہرے کو اُسکے ہاتھوں میں چھُپا کر سُبکنے لگی۔ّ۔

"ایسے کیُوں کر رہی ہے پاگل؟ اِنمیں سے کوئی اُٹھ جاّیگی۔۔" ترُن نے اُسکے آںسُاوں کو پونچھتے ہُئے دھیرے سے پھُسپھُسایا۔ّ۔

مینُو کے مُںہ سے نِکلنے والی آواز بھری اؤر بھربھرائی ہُئی سی تھی۔ّ،" تُمہاری نارازگی مُجھسے سہن نہی ہوتی ترُن۔۔ میں مر جاُّنگِ۔۔ تُم مُجھے یُوں کیُوں تڈپا رہے ہو۔۔ تُمہے پتا ہے نا کی میں تُمسے کِتنا پیار کرتی ہُوں۔ّ۔"

مینُو کی آںکھوں سے آںسُو نہی تھم رہے تھے۔۔ مینے بھی اَپنی آںکھوں سے آںسُو پؤچّھے۔۔ مُجھے دِکھائی دینا بںد ہو گیا تھا۔۔ میرے آںسُاوں کے کارن۔ّ۔!

"مے کہاں تڑپتا ہُوں تُمہے؟ تُمہارے بارے میں کُچّھ بھی سُن لیتا ہُوں تو مُجھسے سہن ہی نہی ہوتا۔۔ میں پاگل ہُوں تھوڑا سا۔۔ پر یے پاگلپن بھی تو تُمہارے کارن ہی ہے جان۔۔" ترُن نے تھوڑا آگے سرک کر مینُو کو اَپنی ترپھ کھیںچ لِیا۔ّ۔ مینُو نے آگے جھُک کر ترُن کی چھاتی پر اَپنے گال ٹیکا دِئے۔۔

اُسکا چیہرا میری ہی اؤر تھا۔۔ اَب اُسکے چیہرے پر پرایپت سُکُون جھلک رہا تھا۔۔ ایسے ہی جھُکے ہُئے اُسنے ترُن سے کہا،" تُمہے اَںجلِ مُجھسے بھی اَچّھِ لگتی ہے نا؟"

"یے کیا بول رہی ہے پاگل؟ مُجھے اِس'سے کیا متلب؟ مُجھے تو تُمسے زیادا پیارا اِس پُوری دُنِیا میں کوئی نہی لگتا۔۔ تُم سوچ بھی نہی سکتی کِ میں تُمسے کِتنا پیار کرتا ہُوں۔ّ۔" سالا مگرمچّچھ کی اؤلاد۔۔ بولتے ہُئے رونے کی آکٹِںگ کرنے لگا۔ّ۔ّ۔

مینُو نے تُرںت اَپنا چیہرا اُپر کِیا اؤر آںکھیں بںد کرکے ترُن کے گالوں پر اَپنے ہونٹ رکھ دِئے۔ّ،" پر تُم کہ رہے تھے نا۔۔ کِ اَںجُو مُجھسے تو سُںدر ہی ہے۔۔" ترُن کو کِس کرکے سیدھی ہوتے مینُو بولی۔ّ۔

"وو تو میں تُمہے جلانے کے لِئے بول رہا تھا۔ّ۔ تُمسے اِسکا کیا مُقابلا؟" دِل تو کر رہا تھا کِ رزائی پھیںک کر اُسکے سامنے کھڑی ہوکر پُوچّھُو۔۔ کِ 'اَب بول' ۔۔ پر مُجھے تِل والی راماین بھی دیکھنی تھی۔ّ۔۔ اِسیلِئے داںت پیس کر رہ گیّ۔ّ۔
(¨`·.·´¨) Always
`·.¸(¨`·.·´¨) Keep Loving &;
(¨`·.·´¨)¸.·´ Keep Smiling !
`·.¸.·´ -- raj sharma

User avatar
rajaarkey
Super member
Posts: 6633
Joined: 10 Oct 2014 10:09
Contact:

Re: بالی اُمر کی پیاس پارٹ-- urdu sexi stori

Post by rajaarkey » 02 Apr 2017 16:20


"اَب تک تو مُجھے بھی یہی لگ رہا تھا کِ تُم مُجھے جلا رہے ہو۔۔ پر تب مُجھے لگا کِ تُم اؤر اَںجُو ایک دُوسرے کو رزائی کے اَںدر چھیڑ رہے ہو۔۔ تب مُجھسے سہن نہی ہُآ اؤر میں رونے لگی۔ّ۔" مینُو نے اَپنے چیہرے کو پھِر سے اُسکی چھاتی پر ٹیکا دِیا۔ّ۔

ترُن اُسکی کمر میں ہاتھ پھیرتا ہُآ بولا،"چھچوڑو نا۔ّ۔ پر تُمنے مُجھے پرسوں کیُوں نہی بتایا کِ تُمہارے وہاں 'تِل' نہی ہے۔۔ پرسوں ہی ماملا ختم ہو جاتا۔۔"

"مُجھے کیا پتا تھا کِ تِل ہے کِ نہی۔۔ کل مینے۔ّ۔" مینُو نے کہا اؤر اَچانک شرما گیّ۔ّ۔

"کل کیا؟ بولو نا مینُو۔ّ۔" ترُن نے آگے پُوچّھا۔ّ۔

مینُو سیدھی ہُئی اؤر شرارت سے اُسکی آںکھوں میں گھُورتی ہُئی بولی،" بیشرم! بس بتا دِیا نا کِ تِل نہی ہے۔۔ میری بات پر وِسواس نہی ہے کیا؟"




"بِنا دیکھے کیسے ہوگا۔۔ دیکھ کر ہی وِشواس ہو سکتا ہے کِ 'تِل' ہے کِ نہی۔۔" ترُن نے کہا اؤر شرارت سے مُسکُرانے لگا۔ّ۔

مینُو کا چیہرا اَچانک لال ہو گیا۔ّاُسنے ترُن سے نزریں چُرائی، مِلائی اؤر پھِر چُرا کر بولی،" دیکھو۔۔ دیکھو۔۔ تُم پھِر لڑائی والا کام کر رہے ہو۔۔ مینے ویسے بھی کل شام سے کھانا نہی کھایا ہے۔۔ !"

"لڑائی والا کام تو تُم کر رہی ہو مینُو۔۔ جب تک دیکھُوںگا نہی۔۔ مُجھے وِشواس کیسے ہوگا؟ بولو! ایسے ہی وِشواس کرنا ہوتا تو لڑائی ہوتی ہی کیُوں؟ میں پرسوں ہی نا مان جاتا تُمہاری بات۔ّ۔۔" ترُن نے اَپنی زِد پر آڑے رہکر کہا۔ّ۔

"تُم مُجھے پھِر سے رُلا کر جاّوگے۔۔ ہے نا؟" مینُو کے چیہرے کا رںگ اُڑ سا گیا۔ّ۔

ترُن نے دونو کے پیروں پر رکھی رزائی اُٹھاکر کھُد اؤدھ لی اؤر اُسکو کھول کر مینُو کی ترپھ ہاتھ بڑھا کر بولا،" آاو۔۔ یہاں آ جاّو میری جان!"

"نہی!" مینُو نے نزریں جھُکا لی اؤر اَپنے ہونٹ باہر نِکال لِئے۔ّ۔

"آاو نا۔۔ کیا اِتنا بھی نہی کر سکتی اَب؟" ترُن نے بیکرار ہوکر کہا۔ّ۔

"رُوکو۔۔ پہلے میں اُپر والا درواجا بںد کرکے آتی ہُوں۔۔" کہکر مینُو اُٹھی اؤر اُپر والے درواجے کے ساتھ باہر والا بھی بںد کر دِیا۔۔ پھِر ترُن کے پاس آکر کہا،" جلدی چھچوڑ دوگے نا؟"

"آاو نا!" ترُن نے مینُو کو پکڑ کر کھیںچ لِیا۔ّ۔ مینُو ہلکی ہلکی شرمائی ہُئی اُسکی گود میں جا گِری۔ّ۔۔

رزائی سے باہر اَب سِرف دونو کے چیہرے دِکھائی دے رہے تھے۔۔ ترُن نے اِس ترہ مینُو کو اَپنی گود میں بِٹھا لِیا تھا کِ مینُو کی کمر ترُن کی چھاتی سے پُوری ترہ چِپکی ہُئی ہوگی۔۔ اؤر اُسکے سُڈؤل نِتںب ٹھیک ترُن کی جاںگھوں کے بیچ رکھے ہوںگے۔ّ۔ میں سمجھ نہی پا رہی تھی۔۔ مینُو کو کھُد پر اِتنا کابُو کیسے ہے۔۔ ہالاںکِ آںکھیں اُسکی بھی بںد ہو گیی تھی۔۔ پر میں اُسکی جگہ ہوتی تو نزارا ہی دُوسرا ہوتا۔ّ۔

ترُن نے اُسکی گردن پر اَپنے ہونٹ رکھ دِئے۔۔ مینُو سِسک اُٹھی۔ّ۔

"کب تک مُجھے یُوں تڑپاوگی جان؟" ترُن نے ہؤلے سے اُسکے کانوں میں ساںس چھچوڑی۔ّ۔

"اَیا۔۔ جب تک۔۔ میری پڑھائی پُوری نہی ہو جاتی۔۔ اؤر گھر والے ہماری شادی کے لِئے تیّار نہی ہو جاتے۔ّ۔ یا پھِر۔ّ۔ ہم گھر چھچوڑ کر بھاگ نہی جاتے۔ّ۔" مینُو نے سِسکتے ہُئے کہا۔ّ۔

مینُو کی اِس بات نے میرے دِل میں پیار کرتے ہی 'ما' بن جانے کے ڈر کو اؤر بھی پُختا کر دِیا۔ّ۔۔

"پر تب تک تو میں مر ہی جاُّنگا۔۔!" ترُن نے اُسکو اَپنی اؤر کھیںچ لِیا۔ّ۔

مینُو کا چیہرا چمک اُٹھا۔ّ،" نہی مروگے جان۔۔ میں تُمہے مرنے نہی دُوںگی۔۔" مینُو نے کہا اؤر اَپنی گردن گھُما کر اُسکے ہوںٹو کو چُوم لِیا۔۔

ترُن نے اَپنا ہاتھ باہر نِکالا اؤر اُسکے گالوں کو اَپنے ہاتھ سے پکڑ لِیا۔۔ مینُو کی آںکھیں بںد تھی۔۔ ترُن نے اَپنے ہونٹ کھولے اؤر مینُو کے ہوںٹو کو دبا کر چُوسنے لگا۔ّ۔ ایسا کرتے ہُئے اُنکی رزائی میری ترپھ سے نیچے کھِسک گیّ۔ّ۔

ترُن کافی دیر تک اُسکے ہوںٹو کو چُوستا رہا۔۔ اُسکا دُوسرا ہاتھ مینُو کے پیٹ پر تھا اؤر وو رہ رہ کر مینُو کو پِچھے کھیںچ کر اَپنی جاںگھوں کے اُپر چڑھانے کا پریاس کر رہا تھا۔۔ پتا نہی اَںجانے میں یا جان بُوجھ کر۔۔ مینُو رہ رہ کر اَپنے نِتںبوں کو آگے کھِسکا رہی تھی۔ّ۔۔

ترُن نے جب مینُو کے ہوںٹو کو چھچوڑا تو اُسکی ساںسے بُری ترہ اُکھڑی ہُئی تھی۔۔ ہاںپھتی ہُئی مینُو اَپنے آپ کو چھُڑا کر اُسکے سامنے جا بیٹھی،" تُم بہُت گںدے ہو۔۔ ایک بار کی کہ کر۔ّ۔۔ مُشکِل سے ہی چھچوڑتے ہو۔۔ آج کے باد کبھی تُمہاری باتوں میں نہی آاُنگِ۔ّ۔"

مینُو کی نزریں یے سب بولتے ہُئے لزائی ہُئی تھی۔ّ۔ اُسکے چیہرے کی مُسکان اؤر لجّا کے کارن اُسکے گالوں پر چڑھا ہُآ گُلابی رںگ یے بتا رہا تھا کِ اَچّچھا تو اُسکو بھی بہُت لگ رہا تھا۔ّ۔ پر شاید میری ترہ وہ بھی ما بن'نے سے ڈر رہی ہوگی۔ّ۔ّ۔

" دیکھو۔۔ میں مزاک نہی کر رہا۔۔ پر 'تِل' تو تُمہے دِکھانا ہی پڑیگا۔ّ۔!" ترُن نے اَپنے ہوںٹو پر جیبھ پھیرتے ہُئے کہا۔۔ شاید مینُو کے رسیلے گُلابی ہوںٹو کی مِٹھاس اَبھی تک ترُن کے ہوںٹو پر بنی ہُئی تھی۔ّ۔ّ۔

"تُم تو پاگل ہو۔۔ میں کیسے دِکھاُّنگِ تُمہے 'وہاں' ۔۔ مُجھے بہُت شرم آ رہی ہے۔۔ کل کھُد دیکھتے ہُئے بھی میں شرمِںدا ہو گیی تھی۔ّ۔" مینُو نے پیار سے دُتکار کر ترُن کو کہا۔ّ۔۔

"پر تُم کھُد کیسے دیکھ سکتی ہو۔۔ اَچّھِ ترہ۔ّ۔!" ترُن نے ترک دِیا۔ّ۔

"وو۔۔ وو مینے۔۔ شیشے میں دیکھا تھا۔۔" مینُو نے کہتے ہی اَپنا چیہرا اَپنے ہاتھوں میں چھِپا لِیا۔ّ۔

"پر کیا تُم۔۔ میرے دِل کی شاںتِ کے لِئے اِتنا بھی نہی کر سکتی۔ّ۔" ترُن نے اُسکے ہاتھ پکڑ کر چیہرے سے ہٹا دِئے۔۔

لزائی ہُئی مینُو نے اَپنے سِر کو بِلکُل نیچے جھُکا لِیا،" نہی۔۔ بتا تو دِیا۔ّ۔ مُجھے شرم آ رہی ہے۔ّ۔!"

"یے تو تُم بہانا بنانے والی بات کر رہی ہو۔۔ مُجھسے بھی شرماّوگی کیا؟ مینے تُمہاری مرزی کے بگیر کُچّھ کِیا ہے کیا آج تک۔ّ۔ میں آخِری بار پُوچّھ رہا ہُوں مینُو۔۔ دِکھا رہی ہو کی نہی۔ّ؟" ترُن تھوڑا تیش میں آ گیا۔ّ۔۔

مینُو کے چیہرے سے مجبُوری اؤر اُداسی جھلکنے لگی،" پر۔۔ تُم سمجھتے کیُوں نہی۔۔ مُجھے شرم آ رہی ہے جان!"

"آنے دو۔۔ شرم کا کیا ہے؟ یے تو آتی جاتی رہتی ہے۔ّ۔ پر اِس بار اَگر میں چلا گیا تو واپس نہی آاُنگا۔ّ۔ سوچ لو!" ترُن نے اُسکو پھِر سے چھچوڑ دینے کی دھمکی دی۔ّ۔۔

مایُوس مینُو کو آخِرکار ہار مان'نِ ہی پڑی،" پر۔۔ وادا کرو کی تُم اؤر کُچّھ نہی کروگے۔۔ بولو!"

"ہاں۔۔ وادا رہا۔۔ دیکھنے کے باد جو تُمہاری مرزی ہوگی وہی کرُوںگا۔ّ۔" ترُن کی آںکھیں چمک اُٹھی۔۔ پر شرم کے مارے مینُو اَپنی نزریں نہی اُٹھا پا رہی تھی۔ّ۔۔

"ٹھیک ہے۔۔" مینُو نے شرما کر اؤر مُںہ بنا کر کہا اؤر لیٹ کر اَپنے چیہرے پر تکِیا رکھ لِیا۔۔

اُسکی نزاکت دیکھ کر مُجھے بھی اُس پر ترس آ رہا تھا۔۔ پر ترُن کو اِس بات سے کوئی متلب نہی تھا شاید۔۔ مینُو کے آتمسمرپن کرتے ہی ترُن کے جیسے مُںہ میں پانی اُتر آیا،" اَب ایسے کیُوں لیٹ گیّ۔۔ شرمانا چھچوڑ دو۔۔!"

"مُجھے نہی پتا۔۔ جو کُچّھ دیکھنا ہے دیکھ لو۔۔" مینُو نے اَپنا چیہرا ڈھکے ہُئے ہی کہا۔ّ۔ّ،" اُپر سے کوئی آ جائے تو درواجا کھول کر بھاگنے سے پہلے مُجھے ڈھک دینا۔۔ میں سو رہی ہُوں۔ّ۔" مینُو نے شاید اَپنی جھِجھک چچِپانے کے لِئے ہی ایسا بولا ہوگا۔۔ ورنا ایسی ہالت میں کوئی سو سکتا ہے بھلا۔ّ۔

ترُن نے اُسکی بات کا کوئی جواب نہی دِیا۔۔ اُسکو تو جیسے اَلادین کا چِراگ مِل گیا تھا۔۔ تھوڈا آگے ہوکر اُسنے مینُو کی ٹاںگوں کو سیدھا کرکے اُنکے بیچ بیٹھ گیا۔۔ مُجھے مینُو کا کںپکںپتا ہُآ بدن ساپھ دِکھ رہا تھا۔ّ۔

اَگلے ہی پل ترُن مینُو کی کمیز اُپر کرکے اُسکے سمیز کو اُسکی سلوار سے باہر کھیںچنے لگا۔۔ شاید شرم کے مارے مینُو دوہری سی ہوکر اَپنی ٹاںگوں کو موڑنے کی کوشِش کرنے لگی۔۔ پر ترُن نے اُسکی ٹاںگوں کو اَپنی کوہنِیوں کے نیچے دبا لِیا۔ّ۔۔

"اِسکو کیُوں نِکال رہے ہو؟ جلدی کرو نا۔۔" مینُو نے سِسکتے ہُئے پرارتھنا کری۔ّ۔

"رُوکو بھی۔۔ اَب تُم چُپ ہو جاّو۔۔ مُجھے اَپنے ہِساب سے دیکھنے دو۔ّ۔" ترُن نے کہا اؤر اُسکا سمیز باہر نِکال کر اُسکی کمیز کے ساتھ ہی اُسکی چھاتِیو تک اُپر چڑھا دِیا۔ّ۔ لیتی ہُئی ہونے کے کارن میں سب کُچّھ تو نہی دیکھ پائی۔۔ پر مینُو کا پاتے بھی میری ترہ ہی چِکنا گورا اؤر بہُت ہی کمسِن تھا۔۔ چربی تو جیسے وہاں تھی ہی نہی۔۔ رہ رہ کر وو اُچک رہی تھی۔۔

اَچانک ترُن اُس پر جھُک گیا اؤر شاید اُسکی نابھِ پر اَپنے ہونٹ رکھ دِئے۔ّ۔ مُجھے مہسُوس ہُآ جیسے اُسکے ہونٹ میرے ہی بدن پر آکر ٹِک گیے ہوں۔۔ مینے اَپنا ہاتھ اَپنی سلوار میں گھُسا لِیا۔ّ۔

مینُو سِسک اُٹھی،" تُم دیکھنے کے بہانے اَپنا متلب نِکال رہے ہو۔۔ جلدی کرو نا پلیز!"

"تھوڑا متلب بھی نِکل جانے دو جان۔۔ ایسا مؤکا تُم مُجھے دوبارا تو دینے سے رہی۔ّ۔ کیا کرُوں۔۔ تُمہارا ہر اَںگ اِتنا پیارا ہے کِ دِل کرتا ہے کِ آگے بڑھُوں ہی نا۔۔ تُمہارا جو کُچّھ بھی دیکھتا ہُوں۔۔ اُسی پر دِل آ جاتا ہے۔ّ۔۔" ترُن نے اَپنا سِر اُٹھاکر مُسکُراتے ہُئے کہا اؤر پھِر سے جھُکتے ہُئے اَپنی جیبھ نِکال کر مینُو کے پیٹ کو یہاں وہاں چاٹنے لگا۔ّ۔

"اُواو۔۔ اُمّم۔۔ اَیایا۔ّ۔" مینُو رہ رہ کر ہونے والی گُدگُدی سے اُچّھلتی رہی اؤر آںہیں بھارتی رہی۔ّ۔ پر کُچّھ بولی نہی۔ّ۔

اَچانک ترُن نے مینُو کا ناڈا پکڑ کر کھیںچ لِیا اؤر اِسکے ساتھ ہی ایک بار پھِر مینُو نے اَپنی ٹاںگوں کو موڑنے کی کوشِش کی۔۔ پر زیادا کُچّھ وہ کر نہی پائی۔۔ ترُن کی دونوں کوہانِیاں اُسکی جاںگھوں پر تھی۔۔ وہ مچل کر رہ گیّ،" پلیز۔۔ جلدی دیکھ لو۔۔ مُجھے بہُت شرم آ رہی ہے۔ّ۔" کہکر اُسنے اَپنی ٹاںگیں ڈھیلی چھچوڑ دی۔ّ۔

ترُن نے ایک بار پھِر اُسکی باتوں پر کوئی دھیان نہی دِیا۔ّاؤر اُسکی سلوار اُپر سے نیچے سرکا دی۔۔ سلوار کے نیچے ہوتے ہی مُجھے مینُو کی سپھید کچھِ اؤر اُسکے نیچے اُسکی گؤری گُدج جاںگھیں تھوڑی سی نںگی دِکھائی دینے لگی۔ّ۔

ترُن اُسکی جاںگھوں کے بیچ اِس ترہ للچایا ہُآ دیکھ رہا تھا جیسے اُسنے پہلی بار کِسی لڑکی کو اِس ترہ دیکھا ہو۔۔ اُسکی آںکھیں کامُکتا کے مارے پھیل سی گیّ۔ّ۔ تبھی ایک بار پھِر مینُو کی تڑپتِ ہُئی آواز میرے کانو تک آئی،" اَب نِکال لو اِسکو بھی۔۔ جلدی دیکھ لو نا۔ّ۔"

ترُن نے میری پلک جھپکنے سے پہلے ہی اُسکی بات کا اَکشرش پالن کِیا۔ّ۔ وہ کچھِ کو اُپر سے نیچے سرکا چُکا تھا۔ّ،" تھوڑی اُپر اُٹھو!" کہکر اُسنے مینُو کے نِتںبوں کے نیچے ہاتھ دِئے اؤر سلوار سمیت اُسکی کچھِ کو نیچے کھیںچ لِیا۔ّ۔۔

ترُن کی ہالت دیکھتے ہی بن رہی تھی۔ّ۔ اَچانک اُسکے مُںہ سے لار ٹپاک کر مینُو کی جاںگھوں کے بیچ جا گِری۔۔ میرے خیال سے اُسکی یونِ پر ہی گِری ہوگی جاکر۔ّ۔

"مینُو۔۔ مُجھے نہی پتا تھا کِ چُوت اِتنی پیاری ہے تُمہاری۔۔ دیکھو نا۔۔ کیسے پھُدک رہی ہے۔۔ چھہوٹی سی مچھلِ کی ترہ۔۔ سچ کہُوں۔۔ تُم میرے ساتھ بہُت بُرا کر رہی ہو۔۔ اَپنے سبسے کیمتی اَںگ سے مُجھکو اِتنی دُور رکھ کر۔ّ۔ جی کرتا ہے کِ۔ّ۔۔"

"دیکھ لِیا۔ّ۔ اَب مُجھے چھچوڑو۔۔" مینُو اَپنی سلوار کو اُپر کرنے کے لِئے اَپنے ہاتھ نیچے لائی تو ترُن نے اُنکو وہیں دبوچ لِیا،" ایسے تھوڑے ہی دِکھائی دیگا۔۔ یہاں سے تو بس اُپر کی ہی دِکھ رہی ہے۔ّ۔"

ترُن اُسکی ٹاںگوں کے بیچ سے نِکلا اؤر بولا،" اُپر ٹاںگیں کرو۔۔ اِسکی 'پپوتی' اَچّھِ ترہ تبھی دِکھائی دیںگی۔ّ۔"

"کیا ہے یے؟" مینُو نے کہا تو مُجھے اُسکی باتوں میں وِرودھ نہی لگا۔۔ بس شرم ہی لگ رہی تھی بس! ترُن نے اُسکی جاںگھیں اُپر اُٹھائی تو اُسنے کوئی وِرودھ نا کِیا۔ّ۔

مینُو کی جاںگھیں اُپر ہوتے ہی اُسکی یونِ کی سُںدرتا دیکھ کر میرے مُںہ سے بھی پانی ٹپکنے لگا۔۔ اؤر میری یونِ سے بھی۔۔! ترُن جھُوٹھ نہی بول رہا تھا۔۔ اُسکی یونِ کی پھاںکیں میری یونِ کی پھاںکوں سے پتلی تھی۔۔ پر بہُت ہی پیاری پیاری تھی۔ّ۔ ایک دم گؤری۔ّ۔ ہُلکے ہُلکے کالے بالوں میں بھی اُسکا رسیلاپن اؤر نزاکت مُجھے دُور سے ہی دِکھائی دے رہی تھی۔ّ۔ پتلی پتلی پھاںکوں کے بیچ لںبی سی درار ایسے لگ رہی تھی جیسے پہلے کبھی کھُلی ہی نا ہو۔۔ پیشاب کرنے کے لِئے بھی نہی۔۔ دونو پھاںکیں آپس میں چِپکی ہُئی سی تھی۔ّ۔

اَچانک ترُن نے اُسکی سلوار اؤر کچھِ کو گھُٹنو سے نیچے کرکے جاںگھوں کو اؤر پِچھے دھکیل کر کھول دِیا۔۔ اِسکے ساتھ ہی مینُو کی یونِ اؤر اُپر اُٹھ گیی اؤر اُسکی درار نے بھی ہلکا سا مُںہ کھول دِیا۔۔ اِسکے ساتھ ہی اُسکے گول مٹول نِتںبوں کی کساوٹ بھی دیکھتے ہی بن رہی تھی۔ّ۔ ترُن یونِ کی پھاںکوں پر اَپنی اُںگلی پھیرنے لگا۔ّ۔

"میں مر جاُّنگِ ترُن۔۔ پلیز۔۔ ایسا ۔۔ّ۔مت کرنا۔۔ پلیز۔۔" مینُو ہانپھتے ہُئے رُک رُک کر اَپنی بات کہ رہی تھی۔ّ۔۔

"کُچّھ نہی کر رہا جان۔۔ میں تو بس چھچھُو کر دیکھ رہا ہُوں۔ّ۔ تُمنے تو مُجھے پاگل سا کر دِیا ہے۔ّ۔ سچ۔۔ ایک بات مان لوگِ۔ّ۔؟" ترُن نے رِکویسٹ کی۔ّ۔
"تِل نہی ہے نا جان!" مینُو تڑپ کر بولی۔ّ۔۔

"ہاں۔۔ نہی ہے۔۔ آئی لو یُو جان۔۔ آج کے باد میں تُمسے کبھی بھی لڑائی نہی کرُوںگا۔۔ نا ہی تُم پر شک کرُوںگا۔۔ تُمہاری کسم!" ترُن نے کہا۔۔
"سچ!!!" مینُو ایک پل کو سب کُچّھ بھُول کر تکِیے سے مُںہ ہٹا کر بولی۔۔ پھِر ترُن کو اَپنی آںکھوں میں دیکھتے پاکر شرما گیّ۔ّ۔

"ہاں۔۔ جان۔۔ پلیز ایک بات مان لو۔ّ۔" ترُن نے پیار سے کہا۔ّ۔

"کِیّیّایا؟ مینُو سِسکتے ہُئے بولی۔۔ اُسنے ایک بار پھِر اَپنا مُںہ چھِپا لِیا تھا۔ّ۔

"ایک بار اِسکو اَپنے ہوںٹو سے چاٹ لُوں کیا؟" ترُن نے اَپنی مںشا جاہِر کی۔ّ۔۔

اَب تک شاید مینُو کی جوان ہسرتیں بھی شاید بیکابُو ہو چُکی تھی،" مُجھے ہمیشا اِسی ترہ پیار کروگے نا جان!" مینُو نے پہلی بار نںگی ہونے کے باد ترُن سے نزریں مِلائی۔ّ۔۔

ترُن اُسکی جاںگھوں کو چھچوڑ کر اُپر گیا اؤر مینُو کے ہوںٹو کو چُوم لِیا،" تُمہاری کسم جان۔۔ تُمسے دُور ہونے کی بات تو میں سوچ بھی نہی سکتا۔ّ۔" ترُن نے کہا اؤر نیچے آ گیا۔ّ۔

میں یے دیکھ کر ہیران رہ گیی کِ مینُو نے اِس بار اَپنی جاںگھیں اَپنے آپ ہی اُپر اُٹھا دی۔ّ۔۔

ترُن تھوڑا اؤر پِچھے آکر اُسکی یونِ پر جھُک گیا۔ّ۔ یونِ کے ہوںٹو پر ترُن کے ہوںٹو کو مہسُوس کرتے ہی مینُو اُچّھل پڑی،"آاَہّ۔ّ۔"

"کیسا لگ رہا ہے جان؟" ترُن نے پُوچّھا۔ّ۔

"تُم کر لو۔۔!" مینُو نے سِسکتے ہُئے اِتنا ہی کہا۔ّ۔

"بتاّو نا۔۔ کیسا لگ رہا ہے۔۔" ترُن نے پھِر پُوچّھا۔ّ۔
دوستوں اَبھی تک میں اِس بلاگ پر شورٹ سٹوری ہی پوسٹ کر رہا تھا اَب کاپھی دِنوں کے باد ایک لانگ سٹوری پیش ہے
دوستوں آپکو یے کہانی پسںد آ رہی ہے یا نہیں یے تو آپکے کمینٹ دیکھکر ہی پتا چلیگا
آپ سبھی کے وِچار جان کر ہی میں اِس کہانی کے آگے کے پارٹس پوسٹ کرُوںگا
تب تک کے لِئے وِدا
کرمشہ۔ّ۔ّ۔ّ۔ّ۔ّ۔ّ۔ّ۔ّ۔ّ۔ّ۔ّ۔ّ۔ّ۔ّ۔ّ۔ّ۔۔

دوستوں پُوری کہانی جانّے کے لِئے نیچے دِئے ہُئے پارٹ جرُور پڑھے ۔۔ّ۔ّ۔ّ۔ّ۔ّ۔ّ۔ّ۔ّ۔ّ۔ّ۔ّ۔ّ۔ّ۔ّ۔
۔۔۔
آپکا دوست
راج شرما
(¨`·.·´¨) Always
`·.¸(¨`·.·´¨) Keep Loving &;
(¨`·.·´¨)¸.·´ Keep Smiling !
`·.¸.·´ -- raj sharma

Post Reply

Who is online

Users browsing this forum: No registered users and 3 guests