بالی اُمر کی پیاس پارٹ-- urdu sexi stori

User avatar
rajaarkey
Super member
Posts: 6633
Joined: 10 Oct 2014 10:09
Contact:

مر کی پیاس پارٹ--12 urdu sexi stori

Post by rajaarkey » 02 Apr 2017 18:29


بالی اُمر کی پیاس پارٹ--12

گتاںک سے آگے۔ّ۔ّ۔ّ۔ّ۔ّ۔ّ۔ّ۔ّ۔ّ۔ّ۔ّ۔

"شاباش۔۔ میری پِںکی۔۔ آجا۔۔ تُو رو کیُوں رہی ہے پاگل۔ّ؟ ایک بار چھچھُو کر تو دیکھ۔۔ تُجھے بھی مزا آایگا۔۔ آجا۔۔ میرے پاس بیٹھ جیّا۔۔!" سر سِسکی سی لیکر سوپھے پر بیٹھ گیے اؤر اُسکا ہاتھ پکڑ کر اَپنے تنے ہُئے لِںگ کی ترپھ کھیںچنے لگے۔ّ۔

پِںکی اَب بھی سُبک رہی تھی۔۔ اَپنے ہاتھ کو واپس کھیںچنے کی کوشِش کرتے ہُئے بگیر اُنکی ترپھ دیکھے گِڑگِدنے سی لگی،" جانے دو نا سر۔ّ۔ّ۔ پلیز۔ّ۔!"

سر نے میرا ہاتھ اَپنے دُوسرے ہاتھ میں پکڑا اؤر مُجھے اَپنے لِںگ کے نیچے لٹک رہے 'گولے' پکڑا دِئے۔۔ مینے ہلکا سا وِرودھ بھی نہی کِیا اؤر اُنکے 'وو' اَپنی اُںگلِیوں سے سہلانے لگی۔۔ اُنکا لِںگ اؤر زیادا اَکڑ کر جھٹکے سے مارنے لگا۔ّ۔۔

سر نے زبردستی پِںکی کو کھیںچ کر سوپھے پر بیٹھا ہی لِیا،" اَرے دیکھ تو سہی۔۔ اَںجلِ کِتنے پیار سے کر رہی ہے۔۔ تُو بھی کرکے دیکھ۔۔ تُجھے مزا نہی آیا تو میں تُجھے چھچوڑ دُوںگا۔۔ تیری کسم۔ّ۔"

پِںکی کا مُںہ دُوسری ترپھ تھا۔۔ سر نے اُسکا ہاتھ کھیںچ کر اَپنے لِںگ پر رکھ دِیا۔۔ اؤر اُسکے ہاتھ کو پکڑے ہُئے اَپنے لِںگ کو آگے پِچھے کرنے لگے،" ہاں۔۔ شاباش۔۔ کُچّھ دیر کرکے دیکھ۔۔ بہُت کام کی چیز ہے یے۔۔ دیکھ۔۔ دیکھ۔۔!" کہکر جیسے ہی سر نے اَپنا ہاتھ وہاں سے ہٹایا۔۔ پِںکی نے تُرںت اَپنا ہاتھ واپس کھیںچ لِیا۔ّ۔

" بس۔۔ اَب جانے دو سر۔۔ ہمیں دیر ہو رہی ہے۔ّ۔۔!" اُسکی آںکھوں کے آںسُو تھم ہی نہی رہے تھے۔ّ۔۔

"ٹھہر جا۔۔ تُو اَبھی ڈھںگ سے گرم نہی ہُئی ہے نا۔۔ اِسیلِئے بول رہی ہے۔۔ ورنا تو۔ّ۔" سر نے کہا اؤر اُسکو اَپنی باہوں میں لیکر اَپنی ترپھ کھیںچ لِیا۔۔ پِںکی چھٹِپاٹاتی رہی۔۔ پر اُںنپر اُسکے وِرودھ کا کوئی اَسر نہی ہُآ۔ّ۔

"کر۔۔ نا۔۔ تُو کیُوں رُک گیّ؟" پِںکی کی ہالت دیکھ میں سر کے گولے سہلانا بھُول کر اُسکی ترپھ دیکھنے لگی تھی۔۔ سر نے گُرّاتے ہُئے مُجھے میرا کام یاد دِلایا اؤر پِںکی کو سیدھی کرکے اَپنی باںہ کے سہارے اَپنی گود میں جھُولا سا لِیا۔۔ اَب پِںکی کا مُرجھایا اؤر آںسُاوں میں ڈُوبا ہُآ چیہرا سر کے چیہرے کے پاس تھا۔ّ۔

مینے پِںکی کی اور دیکھتے ہُئے مُجھے سؤںپا ہُآ کام پھِر سے چالُو کر دِیا۔ّ۔ سر نے اَچانک اَپنا ہاتھ پِںکی کے کمیز میں ڈالا اؤر اُپر چڑھا لِیا۔ّ۔ پِںکی تڑپ اُٹھی۔۔ اُسکو سر کے ہاتھ مجبُوری میں بھی اَپنی چھاتِیو پر گںوارا نہی ہُئے۔ّ۔ اؤر وہ گھبراکر اَپنا پُورا زور لگا کر اُٹھ بیٹھی۔ّ۔ اؤر اَگلے ہی پل کھڑی ہو گیّ،"چھچوڑو مُجھے۔۔ مُجھسے نہی ہوگا یے سب۔ّ۔"

"تو چُوتِیا کیُوں بنا رہی ہے سالی۔۔ اَبھی تو پُوچّھ رہی تھی کِ کیا کرنا ہے۔۔ اَب تُجھسے ہوگا نہی۔۔ تُجھے تو میں کل دیکھ لُوںگا۔ّ۔" سر نے کہا اؤر اَپنی کھیج مُجھ پر اُتار دی۔۔ مُجھے میرے بالوں سے پکڑا اؤر اُنکو کھیںچتے ہُئے گھُٹنو کے بل زمین پر اَپنے سامنے بیٹھا لِیا۔ّ۔،" لے۔۔ تُو چُوس۔۔ بتا اِسکو کِتنا مزا آ رہا ہے تُجھے۔ّ۔۔" کہکر اُنہونے مُجھے آگے کھیںچا اؤر اَپنے لِںگ کو میرے ہوںٹو پر رگڑنے لگے۔ّ۔۔

مینے ایک بار گھبرا کر اُنکو دیکھا اؤر اُنکی آںکھوں میں دیکھتے ہُئے ہی اَپنے ہونٹ کھول دِئے۔ّ۔

سر نے سِسک کر اَپنے لِںگ کو ایک دو بار میرے کھُلے ہوںٹو پر گول گول گھُمایا اؤر پھِر اَپنا کالے ٹماٹر جیسا سُوپڑا میرے مُںہ میں ٹھُوںس کر باہر نِکالا،" کیسا لگا؟"

مینے سہم کر پِںکی کی اؤر دیکھا۔۔ وہ تِرچھِ نزروں سے میرے مُںہ کی اور ہی گھُور رہی تھی۔ّ۔

باہر نِکال کر سر نے ایک دو بار لِںگ سے میرے ہوںٹو پر تھپکی سی لگائی اؤر میرے ہونٹ کھولتے ہی پھِر سے ویسا ہی کِیا۔ّ۔ اِس بار سُوپدے سے بھی کُچّھ زیادا اَںدر کرکے نِکالا تھا اُنہونے۔ّ۔ مُجھے لگا جیسے اُنکے لِںگ کی گرمی سے میرے ہونٹ پِگھل سے گیے ہوں۔۔ میرے مُںہ میں لار بھر گیّ۔ّ۔

"بتا اِسکو۔۔ کیسا لگ رہا ہے۔ّ؟" سر نے گھُور کر پِںکی کی اؤر دیکھتے ہُئے کہا اؤر پھِر میری اؤر دیکھنے لگے۔ّ۔

"جی۔۔ اَچّچھا۔۔ لگ رہا ہے۔۔!" مینے جواب دِیا اؤر پھِر سے اُنکے میرے ہوںٹو پر لِںگ رکھتے ہی اَپنے مُںہ کو کھول لِیا۔ّ۔ّ۔

"آآّآّہّ۔ّ۔ کیا چُوستِ ہے تُو۔ّ۔" اِشس بار سر نے اَپنا لِںگ میرے گلے تک تھُوس دِیا تھا۔۔ جیسے ہی اُنہونے باہر نِکالا۔۔ مُجھے کھاںسی آ گیّ۔ّ۔ اؤر ساتھ ہی آںکھوں میں آںسُو بھی۔ّ۔

سر کا لِںگ میری لار میں لِپٹ کر چِکنا اؤر رسیلا سا ہو گیا تھا۔ّ۔ّ،" اُنہونے پھِر سے میرے ہوںٹو پر رکھا اؤر تھوڑا تھوڑا اَںدر باہر کرنے لگے۔ّ،" اَیا۔۔ اِسکو بول۔۔ جِتنا آج تُونے کِیا ہے۔۔ یے بھی کرے۔ّ۔ اَیایا۔۔ ورنا میں تُجھے چود دُونگاآّ۔ّ۔۔"

کُچّھ دیر باد اُنہونے میرے مُںہ سے لِںگ نِکل لِیا،" بول۔۔ کیا کہتی ہے۔ّ؟ اِسکو مناّیگی یا اَپنی چُدوایّگی۔ّ۔ّ۔" اُنہونے گُسّا دِکھاتے ہُئے کہا۔ّ۔

مینے مجبُوری وش پِںکی کے چیہرے کی اور دیکھا۔ّ۔ اُسکی نزریں میری نزروں سے مِلی۔۔ پر اُسکے ہاو بھاو سے مُجھے لگا۔۔ وہ نہی کر پاّیگی۔ّ۔،" میں کر تو رہی ہُوں سر۔۔!" مینے ڈرتے ڈرتے کہا۔ّ۔۔

"تُجھے نہی پتا یار۔۔ وو گانا ہے نا۔۔ نِگوڈے مردوں کا۔۔ کہاں دِل بھرتا ہے۔ّ۔ کرنے کو تو تیری چاچی بھی بہُت اَچّھے سے کر دیتی ہے۔ّ۔ پر 'نیے' کا مزا کُچّھ اؤر ہی ہوتا ہے۔۔ سمجھی۔ّ۔ اؤر پھِر 'نیا مال نکھرے کرکے مِلے تو اُسکے تو کہنے۔ّ۔" اَچانک بولتے بولتے وہ گھبرا کر کھڑے ہو گیے۔ّ۔

اَگلے ہی پل مُجھے بھی اُنکی گھبراہٹ کا کارن سمجھ میں آ گیا۔ّ۔ ऑپھیس کے باہر کِسی کی میڈم سے تکرار چل رہی تھی۔ّ۔ اؤر اَب آوازیں تیج ہوکر ऑپھیس کے اَںدر تک سُنائی دینے لگی۔ّ۔ّ۔

"آپ تالا کھُلوا رہی ہیں یا میں گاںو والوں کو بُلواُّوں۔ّ۔۔" باہر سے ایک مردانا آواز سُنائی دی۔ّ۔ّ۔

"سمجھنے کی کوشِش کرو بیٹا۔ّ۔ میرے پاس چابی نہی ہے۔۔ میں کھُد چابی کے اِںتجار میں بیٹھی ہُوں۔ّ۔ّ۔ ںمُجھے بھی کُچّھ۔ّ۔ کُچّھ نِکالنا ہے۔۔ اَںدر کوئی بھی نہی ہے۔۔ تُم لوگ میرا وِشواس کیُوں نہی کر رہے۔ّ۔؟" میڈم کی آواز پُوری ترہ ہڑبڑائی ہُئی سی لگ رہی تھی۔ّ۔

"اوہ مائی گاڈ! کپڑے پہنو جلدی۔۔ اؤر پِچھے چھُپ جاّو۔ّ۔" سر کی گھِگّی سی باںدھ گیّ۔۔ اُنہونے میری سکرٹ اؤر کچھی میری ترپھ اُچّھلتے ہُئے کہا۔ّ،" بچا لے بھگوان! بس آج رکشا کر لے۔ّ۔ وہ کھڑے کھڑے کاںپ رہے تھے۔۔ اؤر ہم دونو بھی۔ّ۔

"ٹھیک ہے۔۔ جا سونُو! گاںو والوں کو اِکٹّھا کر لے۔ّ۔ !" باہر سے مُجھے جانی پہچانی سی آواز آئی۔ّ۔۔

"اوکے اوکے۔۔ ویٹ ئے مِنِٹ۔۔ دیکھتی ہُوں۔۔ شاید دُوسری چابی پرس میں پڑی ہو۔۔ پر تُم شاںت ہو جاّو۔۔ ایسا کرنے سے کیا مِلیگا تُمہے۔ّ۔۔ بیٹا۔۔ میری بات تو۔۔ ہاں مِل گیّ۔ّ۔ ایک مِنِٹ۔۔ پلیز شاںت رہو!" باہر سے میڈم کی کںپکںپتِ ہُئی آواز آئی۔ّ۔۔

اَگلے ہی پل درواجا بھڑاک سے کھُل گیا۔ّ۔ ہم دونو اَلمارِیوں کے پِچھے جاکر ایک دُوسرے سے چِپک کر سہمے ہُئے کھڑے تھے۔ّ۔

کوئی تین چار سیکیںڈ باد ہمیں ایک زور دار چاٹے کی آواز سُنائی دی۔۔ اؤر اِسکے ساتھ ہی ٹیبل کے پلٹنے کی۔ّ۔

"ییئے۔۔ کیا۔۔ کر رہے ہو۔۔ آپ لوگ۔۔ میں تو سِرف یہاں بںڈل چھاںٹ رہا ٹیٹی۔ّتّتھا۔ّ۔!" سر کی کںپکںپتِ ہُئی آواز ہمارے کانو تک آئی۔ّ۔

"سالے۔۔ بہنچوڑ۔۔ تیرے بںڈل تو ہم چھتویّنگے۔۔ ہمارے گاںو کی لڑکِیوں کے ساتھ۔ّ۔" اِس آواز کے تُرںت باد ہمیں 'سر' کے کرہنے کی آواز سُنائی دی۔ّ۔

"کہاں ہو۔۔ پِںکی اؤر اَںجلِ۔۔ باہر نِکل آاو۔۔ ہمنے سب کُچّھ دیکھ لِیا ہے۔۔ باہر نِکلو ورنا ہم کھیںچ کر نِکالیںگے۔ّ۔" یے آواز میں تُرںت پہچان گیّ۔۔ ترُن کی تھی۔ّ۔۔

ہمنے ایک دُوسری کی آںکھوں میں دیکھا اؤر باہر نِکل کر اُنکے سامنے چلے گیے۔ّ۔ دُوسرا لڑکا وہی تھا جو سُبہ ترُن کی موٹرسائیکل کے پِچھے بیٹھا تھا۔ّ۔ ہمارے گاںو کا ہی تھا۔۔ پر مُجھے اُسکا نام نہی پتا تھا۔ّ۔

پِںکی تھرتھرتی ہُئی رو رہی تھی۔ّ۔ اَچانک ترُن اُسکے پاس آیا اؤر ایک زور کا چاںٹا اُسکے گال پر مارا۔ّ۔ پِںکی لڑکھڑا کر مُجھسے ٹکرا گیّ۔ّ۔ مینے اُسکو سںبھالا۔۔ وہ سیدھی کھڑی ہوتے ہی میرے پِچھے چھِپ گیّ۔ّ۔۔

"ہیرامجاڈی۔۔ یے سب کرنے کے لِئے ہی پڑھا رہے ہیں ہم تُجھے۔ّ۔" ترُن نے کہا اؤر گُسّے سے تمتمایا ہُآ سر کی اور بڑھا۔ّ۔

اِسکے باد تو دونو سر پر پِل پڑے۔۔ تین چار مِنِٹ میں ہی اُنہونے سر کو لات گھُوسے مار مار کر نیلا کر دِیا۔ّ۔ سر چھچوڑنے کے باد بھی نیچے پڑے پڑے کراہتے رہے۔ّ۔۔

"بیٹا۔۔ کُول ڈاُّن۔۔ ییّے۔۔ اِس بچّی کا پیپر رہ گیا تھا۔۔ بس۔۔ اِسیلِئے۔۔" میڈم بھی ڈری ڈری سپھائی دینے کی کوشِش کر رہی تھی کِ اَچانک دُوسرا لڑکا گرجنے لگا۔ّ۔،" چُپ سالی رںڈی۔۔ تُو اِسیلِئے بول پا رہی ہے کیُوںکی ہمنے تُجھے چھچوڑ دِیا۔۔ ہمنے سب دیکھا ہے۔۔ اُپر اِنن روشندانو سے۔۔ کہو تو ریکارڈِںگ دِکھایّں۔۔ بات کرتی ہے۔ّ۔!"

"پپّر مُجھے کُچّھ نہی پتا بیٹا۔۔ سرسوتی ما کی کسم۔۔ اَںدر کیا ہو رہا۔۔ تھا۔۔ تُم جو چاہو کرو۔۔ میں کُچّھ نہی بولُوںگی۔ّ۔مںمُجھے کُچّھ نہی پتا۔۔" بولکر میڈم پِچھے دیوار سے جا سٹی۔ّ۔

ترُن نے ہمیں گھُور کر دیکھا۔ّ۔،" چلو اَب۔۔ یا بیںڈ باجے والے لانے پڑیںگے۔ّ۔"

پِںکی کھڑی کھڑی کاںپ رہی تھی۔۔ میں اَپنا سِر جھُکا کر نِکلی تو وو بھی میرے پِچھے پِچھے چل دی۔ّ۔

پِںکی راستے پر چلتے چلتے بُری ترہ رو رہی تھی۔ّ۔ مینے اُسکو چُپ ہو جانے کو کہا تو اُسکا بِلکھنا اؤر بڑھ گیا۔ّ۔ ایگزیم ٹائیم بںد ہُئے کو کریب 1:30، 2 گھںٹے ہو چُکے تھے۔ّ۔ ہم کُچّھ دُور ہی چلے ہوںگے کی ترُن کی بائیک ہمارے پاس آکر رُکی۔۔ بائیک رُکتے ہی سونُو نیچے اُتر گیا اؤر ترُن نے پِںکی کو گھُور کر گُسّے سے کہا،" بیٹھو!"

پِںکی کی نا کرنے کی ہِمّت ہی نا ہُئی۔۔ وہ بائیک پر ایک ترپھ پیر کرکے بیٹھ گیّ۔ّ۔

"دونو ترپھ پیر کرکے مُجھسے چِپک جاّو۔۔ اِنن دونو کو بھی بیٹھنا ہے۔۔ سمجھی!" ترُن کی آواز اِس بار بھی ویسی ہی رُوکھی تھی۔ّ۔

پِںکی نے ویسا ہی کِیا۔۔ نیچے اُتری اؤر دوبارا دونو ترپھ پیر کرکے بیٹھ گیّ۔ّ۔۔ اُسکے باد اُنہونے مُجھے بیٹھنے کو کہا۔ّ۔ میرے بیٹھتے ہی وو دُوسرا لڑکا بھی مُجھسے بِلکُل چِپک کر بیٹھ گیا اؤر اَپنی جاںگھوں سے مُجھے آگے کھِسکا دِیا۔۔

اُسکے لِںگ کا تناو مُجھے اَپنے نِتںبوں پر ساپھ مہسُوس ہو رہا تھا۔ّ۔

ترُن نے بائیک سٹارٹ نہی کی،" کیُوں سالی۔۔ مُجھے تھپّڑ مارتی ہے۔۔ اَب تیری ایسے مارُوںگا، تُجھے جِںدگی بھر یاد رہیگا!" ترُن نے گُسّے سے نیچے تھُوک دِیا۔ّ۔۔

پِںکی کُچّھ بول نہی پا رہی تھی۔۔ بس۔۔ اَویرل روئے ہی جا رہی تھی۔ّ۔۔ مُجھے اَہساس ہو چُکا تھا کِ ہم آسمان سے گِرکر کھجُور میں اَٹک گیے ہیں۔ّ۔۔

"اَچّچھا ہُآ جو ہم اِنہے دیکھتے ہُئے سکُول پہُںچ گیے۔ّ۔ یہاں اِنکا اِںتجار کرتے رہتے تو یے اَپنی مروا کر آ جاتی۔۔ اؤر ہمارے پاس اِتنا مست سبُوت نا ہوتا۔۔ اِنکو جی بھر کر جہاں مرزی، جیسے مرزی چودنے کے لِئے۔ّ۔۔ نہی؟" پیچھے والے نے کہا اؤر اَپنے ہاتھ میرے اؤر پِںکی کے بیچ پھںسا کر میری چُوچِیو کو پکڑ لِیا۔ّ۔۔

"ہُمّ۔۔ سبُوت تو مست ہے۔۔ سالی کو اَپنے کبُوتر اُس ماسٹر سے مسळوتے ریکارڈ کِیا ہے مینے۔۔ اؤر اُسکا لںڈ ہاتھ میں پکڑے ہُئے۔۔ چیہرا ایکدم ساپھ ہے اِسکا۔ّ۔ّ۔" ترُن نے یے کہکر تو ہمارے ہوش ہی اُڑا دِئے۔ّ۔ّ۔

"ہُمّ۔۔ اؤر اِسکے بھی تو۔ّ۔ یے تو سالی چُوس ہی رہی تھی۔ّ۔۔" اُس لڑکے نے میری کرتُوت کا جِکر کِیا۔ّ۔۔

"اِسکا کُچّھ چکّر نہی ہے۔۔ یے تو بیچاری شریپھ ہے۔۔ جب ماںگیںگے دے دیگی۔ّ۔ بات تو اِسّسکی تھی نا۔ّ۔!" بولتے ہی ترُن نے پِںکی کے پیٹ میں کوہنی ماری۔۔ وہ تڑپ کر پِچھے کھِسکی اؤر میں اُس لڑکے کی جاںگھوں پر ہی جا بیٹھی۔ّ۔

"چھچوڑ یار۔۔ اَب جلدی چل۔۔ ورنا یہاں بیٹھے بیٹھے میرا لؤدا اِسکی گاںد میں گھُس جاّیگا۔۔ اؤر سہن نہی ہو رہا مُجھسے۔ّ۔" میرے پِچھے بیٹھے ہُئے لڑکے نے کہا۔ّ۔ّ۔

"اَب کیُوں پھِکر کرتا ہے سونُو۔۔ اَب تو اِس مچھلِ کو جوانی بھر بھی اَپنے جال سے نِکلنے نہی دُوںگا۔ّ۔ بس تھوڑا سا سبر کر۔ّ۔ مینے کسم کھائی ہے کِ اِسکی بیہن کو اِسکے آگے چودُنگا اؤر اِسکو اِسکی بیہن کے آگے چار لڑکوں سے اِکٹّھے چُد-واُّنگا۔ّ۔۔ سالی نیتِکتا کی بات کر رہی تھی میرے سامنے۔ّ۔ مُجھکو گالِیاں دے رہی تھی یے۔ّ۔" ترُن نے کہا اؤر بائیک چلا دی۔ّ۔ّ۔

"وو تو ٹھیک ہے۔۔ وو سب تو چلتا ہی رہیگا یار۔ّ۔ پر آج کی میہنت کا پھل تو لے لیں۔۔ سالِیوں کو ایک ایک بار چود لیتے ہیں۔ّ۔۔ یہاں جںگل میں لے جاکر۔ّ۔" سونُو نے بولتے ہُئے میری چُوچِیو کو بُری ترہ مسل دِیا۔۔ اُسکا لِںگ میرے نِتںبوں کی درار میں گھُستا ہی چلا جا رہا تھا۔ّ۔ّ۔

"ہُمّ۔۔ ٹھیک کہ رہا ہے۔۔ کسمیں تو باد میں بھی پُوری ہوتی رہیںگی۔ّ۔ میری بھی پیںٹ پھٹنے والی ہے۔۔ آگے سے راستا جاتا ہے ایک۔۔ جںگل کے بیچ والے تالاب پر لے چلتے ہے۔۔ دھو دھو کر ماریںگے اِنکی وہاں۔۔ اِسکی پھیڈک تو آج ہی نِکال دیتے ہیں۔۔ کیُوں پِںکی۔۔ آج دِکھانا اَپنے تیور سالی۔۔"

ترُن نے اَپنی بات پُوری کی بھی نہی تھی کِ اَچانک سائیڈ سے نِکلتے ہُئے کِسی بائیک والے نے اُسکو آواز دی،" اَرّے۔۔ ترُن بیٹا!"

"پاپا!" آواز سُنتے ہی پِںکی چِلّا پڑی۔ّ،" روک دو بائیک۔۔ پاپا آ گیے۔۔!" اُسکی آواز میں بھے اؤر کھُشی دونو کا مِشرن تھا۔ّ۔۔ وو ایک بار پھِر رونا شُرُو ہو گیّ۔ّ۔۔

"سسّلا۔۔ آج کِسمت ہی کھراب ہے۔۔ کھبردار اَگر کِسی بات کا جِکر کِیا تو۔۔ اُنکو کُچّھ بھی پتا چلا تو میں پہلے تُمہاری ریکارڈِںگ ہی دِکھاُّنگا اُنکو۔۔" بُرا سا مُںہ بنائے ہُئے ترُن نے لگبھگ 100 گج دُور جانے کے باد بائیک روکی۔۔

اِسکے ساتھ ہی سونُو کے نیچے اُترتے ہی ہم دونو بھی جھٹ سے نیچے آکر کھڑے ہو گیے۔۔ پِںکی کے پاپا بائیک واپس گھُما رہے تھے۔ّ۔

"سوچ لینا تُمہے کیا کہنا ہے۔ّ؟ ہم تو یہی کہیںگے کِ شہر سے آ رہے تھے تو یے اَبھی آتے ہُئے مِلی۔۔ ورنا تُم کھُد ہی سوچ لینا۔۔ کِسکا نُکسان ہے۔ّ۔؟" ترُن نے پِںکی کو دھمکاتے ہُئے سا کہا۔ّ۔ اُسنے اَپنے آںسُو پؤںچّھ لِئے۔ّ۔ ہالات ایسے ہو گیے تھے کِ ہمیں اُنسے ڈر لگ رہا تھا۔۔ اؤر اُنہے ہمسے!

تبھی پِںکی کے پاپا نے بائیک لاکر وہاں روک دی۔۔ اُنکا پہلا سوال ہمسے ہی تھا۔ّ،" اِتنی لیٹ کیسے ہو گیی تُم دونو۔۔ ہمیں تو چِںتا ہونے لگی تھی۔ّ۔ اؤر یے تُمہاری آںکھیں لال کیُوں ہو رکھی ہیں۔۔ تُو تو روئی ہُئی لگ رہی ہے۔۔ کیا بات ہے۔ّ۔ بیٹی؟"

"پاپاآ!" پِںکی اَپنے مںن میں چل رہی گلانِ اؤر گھرنا کی آںچ کو سہانُبھُوتِ کی ہُلکی سی ہوا مِلتے ہی بھڑکنے سے روک نا پائی۔۔ وہ پھِر سے بِلکھ پڑی اؤر جاکر اَپنے پاپا سے لِپٹ کر پھُٹ پھُٹ کر رونے لگی۔ّ۔۔

اُسکے پاپا پیار سے اُسکا سِر پُچکارتے ہُئے بولے۔ّ،" کیا ہو گیا بیٹی۔ّ؟ پیپر اَچّچھا نہی ہُآ کیا؟" پِںکی نے جب کوئی جواب نہی دِیا تو اُنہونے میری اور دیکھا۔ّ۔

"جی چاچا۔۔ پیپر اَچّچھا نہی ہُآ آج کا۔۔ اِسیلِئے اَب تک سکُول میں بیٹھی ہُئی رو رہی تھی۔ّ۔ اَب مُشکِل سے اُٹھا کر لائی ہُوں اِسکو۔ّ۔" مُجھے چاچا کی کہی بات پکڑ لینا ہی اُچِت لگا۔ّ۔۔

میری بات سُنتے ہی اُنن دونو کی جان میں جان سی آ گیّ،" ہا چاچا جی۔۔ یے بھی کوئی رونے کی بات ہے بھلا۔۔ اَبھی ہم آ رہے تھے تو بھی راستے میں روتی ہُئی چل رہی تھی۔ّ۔۔ ہمنے بیٹھا لِیا۔۔ بڑی مُشکِل سے چُپ کروایا تھا کِ آپکو دیکھ کر پھِر رونے لگی۔ّ۔" ترُن نے میری ہاں میں ہاں مِلاتے ہُئے کہا۔ّ۔۔

"چل پگلی۔۔ ہو گیا تو ہونے دے کھراب۔۔ اِس پیپر میں رہ ہی تو جاّیگی۔۔ کوئی پھاںسی پر تو نہی لٹکا رہا کوئی تُجھے۔ّ۔۔ دیکھ۔۔ تُو تو میری کِتنی لاڈلی بیٹی ہے۔۔ چل گھر چل۔۔ کوئی تُجھے کُچّھ نہی کہیگا۔ّ۔ میں تیرے لِئے شہر سے سیب لایا ہُوں۔۔ بس۔۔ دیکھ اَب چُپ ہو جا۔ّ۔ نہی تو۔۔" چاچا نے پتا نہی پِںکی کے کان میں کیا کہا کِ وہ ایکدم کھِلکھِلا اُٹھی۔۔ پر اُسکی آںکھوں سے اَب بھی آںسُو چھلک رہے تھے۔ّ۔

"آاو بیٹھو۔۔!" چاچا نے بائیک سٹارٹ کرتے ہُئے ہمسے کہا اؤر پھِر ترُن سے بات کرنے لگے،" کیا بات ہے بیٹا؟ گھر کا راستا ہی بھُول گیے اَچانک۔۔ جب تک اِنکے پیپر چل رہے ہیں۔۔ تب تک تو پڑھا دو! وو مینُو بھی نہی پڑھتی آجکل۔۔ گھر آکر کھبر لو اُسکی بھی۔ّ۔ّ۔"

"جی چاچا جی۔۔ وو کُچّھ بِزی تھا۔ّ۔ آج سے آاُنگا روج!" ترُن نے کہا اؤر میری ترپھ دیکھ کر کُچّھ اِشارا سا کرتے ہُئے بولا،" اَںجُو!۔۔ تُم بھی آ جانا۔۔ کُچّھ زرُوری سوال کروا دُوںگا۔ّ۔"

اُسکا اِشارا سمجھتے ہی مینے نزریں جھُکا لی۔۔ میری ترپھ سے جواب چاچا جی نے دِیا،" ہاں ہاں۔۔ آ جاّیگی! آایگی کیُوں نہی؟" اُنہونے کہا اؤر بائیک چلا کر گھر کی ترپھ چل دِئے۔ّ۔ّ۔ّ۔۔

"تُونے کُچّھ بتایا تو نہی چاچا چاچی کو۔ّ۔؟" مینے گھر جاتے ہی اَپنے کپڑے بدلے اؤر اَگلے پیپر کی کِتابیں اُٹھا کر واپس پِںکی کے گھر آ گیّ۔ّ۔۔

پِںکی نیچے ہی اَپنی کِتابیں کھول کر اَکیلی بیٹھی تھی۔ّ۔ مینُو شاید اُپر ہی ہوگی۔ّ۔ مُجھے دیکھتے ہی بھڑک گیّ،" مُجھے نہی پتا تھا کِ تُو اِتنی گںدی ہے۔۔ تیری وجہ سے دیکھ کیا ہو گیا۔۔!"

"ایمّ۔ّمیں؟ مینے کیا کِیا ہے؟ مُجھ'سے کِسلِئے ایسے بول رہی ہے تُو؟" مینے بھی اَکڑکر گرم لہجے میں ہی اُسکو جواب دِیا۔ّ۔

"اؤر نہی تو کیا؟ میں تو یے سوچ کر ऑپھیس میں چلی گیی تھی کِ سر اَچّھے ہیں۔۔ سِرف پیپر کرنے دینے کے لِئے اَںدر بُلا رہے ہیں۔۔ پر تُو تو سب جانتی تھی نا۔ّ؟ تُونے مُجھے بھی۔ّ۔" پِںکی اَپنی بات کو اَدھُوری چھچوڑ کر ہی اَپنے گھُٹنو میں سِر پھںسا کر رونے لگی۔ّ۔

میں اُسکے پاس جاکر بیٹھ گیی اؤر اُسکو ساںتونا دینے کی کوشِش کی،" سچ پِںکی۔۔ مُجھے نہی پتا تھا کِ وو ایسے نِکلیںگے۔ّ۔ میں بھی یہی سوچ کر اَںدر گیّ۔ّ۔" بولتے ہُئے مینے جیسے ہی اُسکا چیہرا اُپر اُٹھنا چاہا۔۔ اُسنے میرا ہاتھ جھٹک دِیا۔۔ اؤر روتی ہُئی بولی۔۔

" اَب زیادا ناٹک کرنے کی زرُورت نہی ہے۔۔ مینے کیا سُنا نہی کِ سر کیا کہ رہے تھے۔۔ تُونے دِن میں زرُور اُنکے ساتھ ایسا ہی کُچّھ کِیا ہوگا۔۔ تبھی تُو اِتنی دیر سے واپس آئی تھی رُوم میں۔ّ۔ وو کہ بھی تو رہے تھے۔۔ کِ دِن میں تو تُو کھُشی کھُشی سب کُچّھ کر رہی تھی۔۔ اؤر میرے سامنے بھی تو۔ّ۔ بیشرم کہیں کی" کہکر پِںکی نے اَپنے چیہرے کے آںسُو پؤنچھے اؤر گُسّے سے میری اؤر دیکھنے لگی۔ّ۔

"پر۔ّ۔ وو میری مجبُوری تھی پِںکی۔۔ تُو بھی تو اُسکے پاس جاکر بیٹھ گیی تھی آرام سے۔۔ تُونے بھی تو اُسکا پکڑ لِیا تھا۔ّ۔۔" مینے اُسکو یاد دِلایا۔ّ۔۔

"کِتنی گںدی ہے تُو۔۔ مینے تیرے لِئے۔ّ۔ اؤر تُو مُجھے بھی۔ّ۔" کُچّھ یاد کرکے وو پھِر بِلکھ اُٹھی،" وو تو۔۔ اَچّچھا ہُآ پاپا آ گیے ہمیں لینے۔۔ نہی تو پتا نہی کیا ہوتا۔ّ۔"

ٹھیک ہی تو کہ رہی تھی پِںکی۔۔ وو مُجھے بچانے کے لِئے ہی تو سر کے پاس گیی تھی۔۔ مُجھے آویش میں اَپنی کہی گیی بات کا بڑا اَفسوس ہُآ،" ساری یار۔۔ میرا بھی دِماغ کھراب ہو گیا ہے۔۔" مینے بُرا سا مُںہ بناکر کہا۔ّ،" اَب چھچوڑ پِچّھلی باتوں کو۔۔ یے بتا اَب کیا کریں۔ّ؟ وو تو کہ رہے ہیں کِ اُنہونے ہماری ریکارڈِںگ کر لی ہے۔ّ۔۔ "

"مینے تو سوچ لِیا ہے۔۔ شام کو ممّی کو سب کُچّھ سچ سچ بتا دُوںگی۔۔ جو ہوگا دیکھا جاّیگا۔۔ ممّی پاپا مُجھپے پُورا وِشواس کرتے ہیں۔ّ۔ وو اَپنے آپ دیکھ لیںگے اُس کمِنے کو۔ّ۔!" پِںکی کی بات سُنکر ایسا لگا۔۔ جیسے وو فیسلا کر ہی چُکی ہے۔ّ۔

میں اَںدر تک سِہر گیّ۔۔ اُسکے ممّی پاپا تو بھروسا کر لیںگے۔۔ پر بات میرے گھر والوں تک پہُںچ گیی تو میرا کیا ہوگا؟ میرے پاپا تو،" نہی پِںکی۔۔ ایسا مت کرنا پلیز!"

"کیُوں؟ اَپنی ممّی کو نہی بتاُّنگی تو اؤر کِسکو بتاُّنگی۔۔ آخِر ممّی پاپا اِسیلِئے تو ہوتے ہیں۔۔ وو اَپنے آپ سب ٹھیک کر دیںگے۔۔ اؤر اُس ترُن کو بھی سبک سیکھا دیںگے۔ّ۔۔" پِںکی نے گُسّے سے کہا۔ّ۔

"وو تو ٹھیک ہے پاگل۔۔ گھر والے تو وِشواس کر لیںگے۔۔ پر اُنہونے اَگر وو ریکارڈِںگ باہر دِکھا دی تو۔ّ۔ باہر والے تو وِشواس نہی کریںگے نا۔۔ سوچ۔۔ پھِر ہم باہر کیسے نِکل پاّیںگے۔ّ۔۔" اَچانک اُپر سے کِسی کے نیچے آ رہے ہونے کی آواز آئی اؤر مُجھے چُپ ہو جانا پڑا۔ّ۔

مینُو نے آتے ہی مُجھسے پُوچّھا،" تیرا پیپر کیسا ہُآ اَںجُو؟"

"بس۔۔ ٹھیک ہی ہُآ ہے دیدی!" مینے جواب دِیا۔ّ۔ مُجھے نہی پتا تھا کِ پِںکی نے اُسکو کُچّھ بتایا ہے یا نہی۔ّ۔۔

"پاپا بتا رہے تھے کِ تُم دونو آج ترُن کے ساتھ آ رہی تھی راستے میں۔ّ۔"مینُو نے رُوکھی سی آواز میں پُوچّھا۔ّ۔

"ہُوںمّ۔ّ۔" مینے بھی یُوںہی آنمنا سا جواب دِیا۔ّ۔۔

"کُچّھ بول رہا تھا کیا؟" مینُو نے پرشںسُوچک نِگاہوں سے میری اؤر دیکھکر پُوچّھا ہی تھا کِ پِںکی ایک بار پھِر سُبکنا شُرُو ہو گیّ۔ّ۔

"آئے۔ّ۔ آئے پاگل۔ّ۔ رو کیُوں رہی ہے۔۔ بتا نا بات کیا ہے؟ مُجھے لگتا ہے کِ تُمہارے ساتھ زرُور کُچّھ نا کُچّھ ہُآ ہے۔ّ۔ کُچّھ کہا کیا ترُن نے؟" مینُو نے زبردستی پِںکی کو اَپنی چھاتی سے چِپکاتے ہُئے پُوچّھا اؤر پھِر میری اور دیکھا،" بتا نا اَںجُو۔۔ بات کیا ہے؟ میرا دِل بیٹھا جا رہا ہے۔۔ پیپر کی بات کو تو یے اِتنی سیریّس لے ہی نہی سکتی۔ّ۔۔"

میں چُپچاپ ٹکٹکی باںدھے پِںکی کی اور دیکھتی رہی۔۔ مینُو کو سب کُچّھ بتانے میں مُجھے کوئی ایتراج نہی تھا۔۔ آخِر میں بھی تو اُسکی ہُمراج تھی۔۔ پر میں پِںکی کے اِشارے کا اِںتجار کر رہی تھی۔ّ۔۔

"تُو اُپر جا پِںکی۔۔ تھوڑی دیر!" مینُو کو وِشواس تھا کِ کوئی بھی بات ہو۔۔ میں اُسکو۔۔ اَکیلے میں زرُور بتا دُوںگی۔ّ۔۔

"نہی۔۔ بتا دے اَںجُو! ۔۔ میں کُچّھ نہی بولُوںگی۔ّ۔" پِںکی نے کہا اؤر کںبل اوڑھ کر لیٹ گیّ۔۔ مینُو نے مُجھے بات بتانے کا اِشارا کِیا۔ّ۔

"ووّ۔۔ سکُول میں ایک سر نے ہمیں پیپر ٹائیم کے باد پیپر کرنے دینے کا لالچ دیکر ऑپھیس میں بُلا لِیا تھا۔ّ۔۔" مینے بات شُرُو کی ہی تھی کی مینُو آگے کی گھٹنا کو بھاںپ کر گُسّے سے بولی،" تُم پاگل ہو کیا؟ ایسے کیسے چلی گیّ۔۔ تُمہے سمجھنا چاہِئے تھا کِ سیکڑوں بچّوں میں سے اُنہونے تُمہے ہی کیُوں بُلایا۔ّ؟ ۔۔ّ۔ پھِر؟" اُسنے نِراشا بھری اُتسُکتا سے میری اور دیکھا۔ّ۔

"نہی۔۔ ووّ۔ّ۔ پیپر ٹائیم میں میرے پاس سے اُنکو ایک نکل مِل گیی تھی۔۔ کافی دیر تک اُنہونے میرا پیپر اَپنے پاس رکھ لِیا۔۔ باد میں دیا کرکے اُنہونے بولا تھا کِ میں تُمہے باد میں تھوڑا سا ٹائیم دے دُوںگا۔۔ ऑپھیس میں آ جانا۔ّ۔ اِسیلِئے۔ّ۔" مینے اُس پر وِشواس کرنے کا کارن بتایا۔ّ۔

تبھی پِںکی کںبل کے اَںدر سے ہی سُبکتی ہُئی بول پڑی۔ّ،" جھُوٹھ بول رہی ہے یے۔۔ دیدی! اِسکو پتا تھا کِ وو گںدی ہرکت بھی کریںگے۔ّ۔"

میں اُسکی بات کو کاٹ نہی پائی۔۔ نہی تو پِںکی اؤر زیادا ڈیٹیل میں میری بے-اِزّتی کرتی۔۔ تبھی مینُو کھُد ہی بول پڑی،" تُو چُپ ہو جا تھوڑی دیر پِںکی۔۔" اؤر پھِر میری اؤر دیکھتے ہُئے گھبراہٹ سے بولی،" پھِر۔۔ پھِر کیا ہُآ؟"

"پھِر۔۔ ہم پیپر کر ہی رہے تھے کِ وو بکواس کرنے لگے۔۔ ہمیں چھیڑنے لگے۔۔ کہنے لگے کِ مینے اِتنا بڑا رِسک ایسے ہی نہی لِیا ہے۔ّ۔" مینے آگے کہا۔ّ۔

"یے آدمی سچ میں ہی کُتّے ہوتے ہیں۔ّ۔" مینُو جبڑا بھیںچ کر بولی۔ّ۔۔ اؤر مُجھسے آگے کی بات سُن'نے کے لِئے میری اور دیکھنے لگی۔ّ۔

"پھِر۔۔ ہمنے اُنسے رِکویسٹ بہُت کی۔۔ پر وو مانے ہی نہی۔۔ درواجا باہر سے میڈم نے بںد کِیا ہُآ تھا۔ّ۔ ہم باہر نِکل ہی نہی سکتے تھے۔۔ شور کرتے تو ہمے ڈر تھا کِ کہیں کوئی اور نا آ جاے
مینُو پتا نہی کیا سمجھ گیّ۔ّ،" اَپنی چھاتی پر ہاتھ رکھ کر 'ہے بھگوان' کہا اؤر اَپنی آںکھوں میں آںسُو لے آئی۔ّ۔۔

"نہی۔۔ زیادا کُچّھ نہی ہُآ۔۔ تبھی اَچانک ترُن اؤر سونُو وہاں آ گیے۔۔ اؤر اُنہونے تالا کھُلوا کر سر کو بہُت پیٹا۔ّ۔" میں بیچ کی باتوں کو کھا گیّ۔۔ مُجھے پتا تھا کِ وہاں میرا ہی کُسُور نِکلیگا۔ّ۔

"ترُن!" مینُو کی آںکھیں چمک اُٹھی۔۔ سپسٹ دِکھ رہا تھا کی ایک بار پھِر اُسکی آںکھوں میں ترُن کے لِئے پیار اُمڑ آیا ہے۔ّ۔،" پار۔۔ ترُن وہاں کیسے پہُںچا؟" مینُو نے آنںدِت سی ہوتے ہُئے پُوچّھا۔ّ۔

"پتا نہی۔۔ شاید وو پیپر کے باد ہمارے اِںتزار میں تھے۔۔ پھِر ہمیں ڈھُوںڈھتے ہُئے سکُول تک آ گیے ہوںگے اؤر ہماری آوازیں سُن لی ہوگی۔ّ۔"

"شُکرا ہے۔ّ۔ تو اِسیلِئے تُم دونو اُسکے ساتھ آ رہی تھی۔ّ۔ مُجھے تو وِسواس ہی نہی ہو رہا کِ وو ایسا کر سکتا ہے۔ّ۔" مینُو کے ہاو بھاو مںن ہی مںن ترُن کا شُکرِیا اَدا کر رہے تھے۔۔ اَچانک کُچّھ سوچ کر وو بول اُٹھی،" پر۔۔ وو تُمہارا اِںتجار کیُوں کر رہے تھے؟"

"پہلے آپ ساری بات سُن لو دیدی!" مینے سکُچاتے ہُئے کہا۔ّ۔۔

"ہاں۔۔ بولو!" مینُو نے کہا اؤر چُپ ہو گیّ۔ّ۔

"وو۔۔ ووّ۔۔ اُسنے ऑپھیس کے اَںدر کی ہماری پھوٹو کھیںچ لی۔۔ اؤر۔ّ۔" مینے آگے بولنے سے پہلے مینُو کی اور گھبراکر دیکھا۔ّ۔

"اوہّ۔۔ تو یے بات ہے! مینے سوچا کِ اُنہونے تُمہے بچایا ہے۔۔ کُتّا۔۔ کمینا۔ّ۔ پر تُم کیُوں گھبرا رہی ہو۔۔ پھںسیگا تو 'وو' سر ہی پھںسیگا نا۔ّ۔!" مینُو نے ہمیں آشوست کرنے کی کوشِش کی۔ّ۔

"نہی۔۔ وو کہ رہے تھے کِ اُنہونے ہماری سر کے ساتھ گںدی تسویریں اُتار لی ہیں۔ّ۔" مینے ہِچکتے ہُئے کہا۔ّ۔

"ہے بھگوان۔۔ اَب کیا ہوگا۔۔" مینُو چارپائی پر بیٹھی ہُئی تھرتھر کاںپنے لگی۔ّ۔ّ،" ایسا کیا کر رہے۔ّ۔۔ تھے وو۔۔ تُمہارے ساتھ۔ّ۔" مینُو کا چیہرا پیلا پڑ گیا۔ّ۔

"ووّ۔۔ اُسنے پِںکی کی کمیز میں ہاتھ ڈالا ہُآ تھا۔۔ اؤر اِسکے ہاتھ میں۔ّ۔ اَپنا 'وو' پکڑا رکھا تھا۔ّ۔" کہنے کے باد مینے نزریں جھُکا لی۔۔ آگے کُچّھ پُوچّھنے کی مینُو کی ہِمّت ہی نا ہُئی۔۔ اُسکی آںکھوں سے ٹیپر ٹیپر آںسُو بہنے لگے۔ّ۔ مینُو کی سِسکِیاں سُن کر پِںکی بھی بِلکھ اُٹھی اؤر اُٹھکر مینُو سے لِپٹ گیّ۔ّ،" اَچّچھا ہُآ دیدی پاپا آ گیے۔۔ ورنا وو تو ہمیں جںگل میں لے جانے کی بات کر رہے تھے۔ّ۔۔" پِںکی نے بھی میری بات کا جِکر نہی کِیا۔ّ۔

مینُو اَب بھی تھر تھر کاںپ رہی تھی۔ّ،" اَب کیا ہوگا۔ّ۔؟"

"کُچّھ نہی ہوگا دیدی۔۔ میں ممّی کو سب کُچّھ بتا دُوںگی۔۔ آپ بتاّو۔۔ اِسمیں میری کیا غلتی ہے۔ّ۔" پِںکی مینُو سے چِپکے ہُئے ہی بولتی رہی۔ّ۔۔

"نا پاگل۔۔ ممّی کو کُچّھ مت بتانا۔۔ ممّی کو مت بتانا کُچّھ بھی۔ّ۔" مینُو نے جانے کیا سوچ کر میرے مںن کی بات کہ دی۔۔ شاید اُنہے ساتھ ہی اَپنی پولے کھُلنے کا بھی ڈر ہوگا۔ّ۔

کرمشہ ۔۔ّ۔ّ۔ّ۔ّ۔ّ۔ّ۔ّ۔ّ۔ّ۔ّ۔ّ۔ّ۔ّ۔ّ۔ّ۔۔

کرمشہ ۔۔ّ۔ّ۔ّ۔ّ۔ّ۔ّ۔ّ۔ّ۔

(¨`·.·´¨) Always
`·.¸(¨`·.·´¨) Keep Loving &;
(¨`·.·´¨)¸.·´ Keep Smiling !
`·.¸.·´ -- raj sharma

User avatar
rajaarkey
Super member
Posts: 6633
Joined: 10 Oct 2014 10:09
Contact:

بالی اُمر کی پیاس پارٹ--13 urdu sexi stori

Post by rajaarkey » 02 Apr 2017 18:37


بالی اُمر کی پیاس پارٹ--13

گتاںک سے آگے۔ّ۔ّ۔ّ۔ّ۔ّ۔ّ۔ّ۔ّ۔ّ۔ّ۔ّ۔
"کؤن ہے؟" جیسے ہی باہر درواجے پر خت کھاٹ ہُئی۔۔ ہم سب اَچانک چُپ ہو گیے۔۔ ہماری ترپھ سے یے لگبھگ تے ہو چُکا تھا کِ ہم کِسی کو بتائے بِنا ہی کُچّھ تریکا نِکالنے کی سوچیںگے۔۔ پِںکی نے بھی کافی دیر تک روتے رہنے کے باد شاید پرِستھِتِیوں سے سمجھؤتا کر لِیا تھا۔۔ ہم سب اَب ترُن کے کامینیپن کی بات کر رہے تھے۔۔ اؤر مینُو ہمیں کُچّھ اؤر باتیں بتانے والی تھی جو کالیج میں اُسکے ساتھ ترُن آج کل کر رہا تھا۔ّ۔

باہر سے کوئی جواب نہی آیا۔۔ کُچّھ دیر باد اَچانک کِسی نے پھِر درواجا کھٹکھٹایا۔۔

"میں دیکھتی ہُوں۔۔!" کہکر مینُو اُٹھی اؤر درواجے کے پاس جاکر پھِر پُوچّھا۔ّ،" کؤن ہے؟"

"میں ہُوں۔۔ درواجا کھولو!" باہر سے آواز آئی۔ّ۔

مینُو اَچانک کرودھِت سی ہو گیّ۔۔ پھِر اَپنے آپ پر کابُو پاتے ہُئے گھُوم کر بولی،"وہی ہے۔۔ ترُن!"

"درواجا مت کھولنا دیدی۔۔ اُس کامینے کو گھر میں مت گھُسنے دو۔۔!" پِںکی لگبھگ چِلّاتے ہُئے بولی۔ّ۔

مینُو نے ایک لںبی ساںس لی اؤر گُمسُوں سی آواز میں بولی،" اَب ایسا کرنے سے کیا ہوگا۔ّ؟ دیکھیں تو سہی۔۔ یے اَب کیا کہیگا۔ّ۔؟"

"نہی دیدی۔۔ آپ بِلکُل بھی اِس کُتّے کو اَںدر مت آنے دو۔۔ میں اِسکی شکل بھی دیکھنا نہی چاہتی۔۔!" پِںکی اُکھڑ کر کھڑی ہو گیّ۔۔ اؤر اَپنی آںکھوں میں اَجیب سے بھاو لے آئی۔ّ۔۔

"سمجھا کرو!" مینُو نے ہتاش ہوکر کہا۔ّ۔

"نہی دیدی۔۔ اِسکو اَںدر نہی آنے دینا ہے۔۔ ورنا میں اَبھی اُپر جاکر ممّی کو سب بتا دُوںگی۔ّ۔" پِںکی مان'نے کو تیّار ہی نا ہُئی۔ّ۔۔

"ٹھیک ہے۔۔ جیسی تُمہاری مرزی۔۔" مینُو واپس چارپائی پر آکر بیٹھ گیّ،" پر اِس'سے پھایڈا کیا ہوگا پِںکی؟ یے کل پھِر ناٹک کریگا۔ّ۔!"

تبھی ہمیں ترُن کی اُںچی آواز سُنائی دی،" چاچی جی۔ّ۔! اواُواو چاچی جی!"

"ہاں۔۔ کؤن ہے؟ اَرے بیٹا ترُن!۔۔ وو بچّے نیچے ہی پڑھ رہے ہیں۔۔ درواجے پر ہاتھ مار دو۔ّ۔" اُپر سے چاچا جی کی آواز آئی۔ّ۔۔

"درواجا نہی کھول رہی۔۔ سو تو نہی گیی ہیں وو؟" ترُن نے جواب دِیا۔ّ۔

"اَبھی سے کیسے سو جاّیںگی۔ّ۔ ؟ میں آتا ہُوں۔ّ۔" چاچا جی نے کہا اؤر اَگلے ہی پل اُنکے کدموں کی آہٹ ہمیں جینے میں سُنائی دی۔ّ۔ سب چُپ ہوکر کِتاب میں دیکھنے لگے۔ّ۔۔

"اَرے بھائی۔۔ درواجا کیُوں نہی کھول رہے تُم لوگ۔ّ؟ باہر ترُن کھڑا ہے۔۔" چاچا جی نے آکر ہمیں پڑھتے دیکھا اؤر درواجا کھول دِیا۔ّ۔

"ووّ۔۔ ہمیں سُنائی ہی نہی دِیا۔۔" مینُو نے کِتاب میں دیکھتے ہُئے ہی جواب دِیا۔ّ۔

"نمستے چاچا جی۔۔" ترُن نے اَںدر آتے ہی دونو ہاتھ جوڑ کر مُسکُراتے ہُئے پرنام کِیا۔ّ۔

"نمستے بیٹا ترُن! دیکھنا کہیں کل والا پیپر بھی آج کی ترہ ہی بیکار نا ہو جائے۔۔ آج بڑی مُشکِل سے چُپ کرایا ہے اِسکو۔ّ۔" چاچا جی نے کہا اؤر بولے،" بھائی۔۔ ہم تو مُوّی دیکھ رہے ہیں۔۔ شولے۔۔ بڑی مست پِکچر ہے۔۔ میں تو چلتا ہُوں۔ّ۔ تُم لوگ پڑھ لو!"

"کوئی بات نہی چاچا جی۔۔" ترُن نے کہا اؤر چاچا جی کے اُپر چڑھتے ہی اَپنے اَسلی رُوپ میں آ گیا،" یہاں مُجھے بھی کافی اَچّھِ مُوّی دیکھنے کو مِلیگی آج۔۔ ہے ہے ہے۔ّ۔"

ہم تینو کِتابوں میں آںکھیں گڑائے بیٹھے رہے۔۔ کِسی نے اُسکی ترپھ دیکھا تک نہی۔۔ سِواے میرے۔۔ مینے بھی بس ہلکی سی نزر اُٹھا کر ہی اُسکو دیکھا تھا۔ّ۔

"کیا بات ہے۔۔ ایسا گُسّا تو مینے کِسی کو آتے نہی دیکھا۔ّ۔ کب تک ایسے ہی بیٹھے رہوگے۔ّ۔؟" ترُن نے کہا اؤر میرے پاس آکر بیٹھ گیا،"کیا بات ہے لاڈو! آج تو سکُول میں ہی کام چالُو کر رکھا تھا۔۔ کیا مست سین تھا یار۔ّ؟" کہتے ہُئے اُسنے میری جاںگھ پر ہاتھ رکھ دِیا اؤر دھیرے دھیرے سہلانے لگا۔ّ۔۔ مینے اُسکی ہرکت کا کوئی وِرودھ نہی کِیا۔ّ۔۔

"دیدی۔۔ اِس کامینے کو بول دو یہاں سے چلا جائے۔۔ ورنا میں اَبھی سب کُچّھ ممّی کو بتا دُوںگی۔ّ۔" پِںکی نے گُسّے سے مینُو کی اؤر دیکھتے ہُئے کہا اؤر رونے سی لگی۔ّ۔

"اَچّچھا! اوہ لے لے لے لے لے۔۔ ممّی کو بتا دیگی مُنِیا۔ّ۔" ترُن نے اُسکی بات کا مزاک سا بنایا اؤر پھِر چیہرے پر خُوںخار سے بھاو لاتے ہُئے کہا،"جا! بتا دے جِسکو بتانا ہے۔۔ مُجھے بھی مؤکا مِل جاّیگا بتانے کا۔۔ آخِر کب تک اِتنی بڑے راج کو دِل میں چھُپا کر رکھُوںگا۔ّ۔ میں سبُوت بھی ساتھ لایا ہُوں۔۔!" ترُن نے کہا اؤر گںدی سی ہںسی ہںسنے لگا۔ّ۔۔

پِںکی گُسّے میں لال پیلی ہوتی ہُئی تپاک سے کھڑی ہو گیّ۔۔ اَب تک تو وہ اُپر جا بھی چُکی ہوتی۔۔ اَگر مینُو نے اُسکا ہاتھ نا پکڑ لِیا ہوتا،" مان تو جا پِںکی۔۔ بیٹھ جا آرام سے۔۔ میں تُجھسے باد میں بات کرُوںگی۔۔ مان جا پلیز!"

"پر دیدی۔۔ آپ مُجھے بتانے دو نا ممّی کو۔۔ آپکو کیا فرک پڑتا ہے۔۔ ممّی گُسّا کریںگی تو مُجھ پر کریںگی۔۔ اِسکے چیہرے سے تو نکاب ہٹ جاّیگا نا۔۔ کُچّھ نہی ہوگا۔۔ آپ وِشواس کرو۔۔ ممّی ہماری ہی بات کا وِشواس کریںگی۔۔ اِس 'کُتّے' کی بات کا نہی۔۔ چھچوڑ دو مُجھے۔۔ بس ایک بار اُپر جانے دو۔ّ۔

"ہاں ہاں۔۔ جانے دو نا۔۔ کیُوں پکڑ رکھا ہے بیچاری کو۔ّ؟ ممّی تو اِسکی ہی بات کا وِشواس کریںگی نا!" ترُن نے اُتّیجِت ہوتے ہُئے کہا۔ّ۔

"مان جا پِںکی۔۔ پلیز۔۔!" مینُو نے اُسکا ہاتھ پکڑے رکھا۔ّ۔

"پر کیُوں دیدی؟۔۔ مُجھسے یے یہاں بیٹھا ہُآ دیکھا نہی جا رہا۔ّ۔" پِںکی نے ایک بار بھی ترُن کے چیہرے کی اور نہی دیکھا تھا۔ّ۔۔

"اِسکے پاس۔ّ۔" مینُو بولتے ہُئے بِلکھ پڑی۔ّ،" میرے بھی سبُوت ہیں۔ّ۔ مینے اِسکی باتوں میں آکر اِسکو لیٹر لِکھے تھے۔۔ کیِ بار تو اِسنے کھُد لِکھ کر بھی میری رائیٹِںگ میں مُجھسے کاپی کروائے ہیں۔۔ میں اِسکی باتوں میں آ گیی تھی پِںکی۔۔ کیِ لیٹر بہُت گںدے ہیں۔۔ مان جا پلیز!" مینُو نے کہنے کے باد پِںکی کا ہاتھ چھچوڑ دِیا۔۔ پر پِںکی اُپر نہی جا پائی اؤر اَپنے کںبل میں گھُس کر سُبکنے لگی۔ّ۔ّ۔

"نہی نہی۔۔ پھِر بھی۔۔ تُمہاری مرزی ہے! میں تو اِتنا ہی شریپھ ہُوں۔۔ پِںکی نے تھپّڑ مارا۔۔ مینے کُچّھ نہی کہا۔۔ اَب چاچا چاچی بھی پیٹ لیںگے۔۔ میرا کیا جاتا ہے؟" ترُن نے چٹکھارا سا لیکر کہا اؤر اَپنا ہاتھ سرکاتے ہُئے میری جاںگھوں کی جڑ تک لے گیا۔۔ میں کسمسا اُٹھی۔۔ پر مینے اُس سمے اُسکے ہاتھ کو وہاں سے ہٹانا چاہا۔ّ۔۔

"اَچّچھا۔۔ اِنکی دیکھا دیکھی اَب تُو بھی آںکھ مٹکانے لگی۔۔ تیرے سے تو میں باد میں نِپٹ لُوںگا۔۔ بہُت اَچّچھا سوچ رکھا ہے تیرے بارے میں۔۔" اُسنے کہا اؤر اَپنا ہاتھ وہاں سے ہٹا لِیا۔۔

"تُم۔ّ۔" مینُو کی آںکھوں میں آںسُو اُمڑ آئے۔ّ،" تُم چاہتے کیا ہو ترُن؟ کیُوں ہماری جِںدگی برباد کرنے پر تُلے ہُئے ہو۔۔ کیا مِل جاّیگا تُمہے؟"

"تُم سب جانتی ہو جان! پھِر پُوچّھ کیُوں رہی ہو۔۔ بات تو تُمہے مان'نِ ہی پڑیگی۔۔ آج نہی تو کل۔۔ میں تو تُمہارے فایدے کے لِئے ہی یہاں آیا ہُوں۔ّ۔ ورنا مُجھے شہر میں کوئی جُگاڑ کرنا پڑا تو جِسکے کمرے پر لے جاُّنگا۔۔ وو بھی لالچ کریگا۔۔ سمجھ رہی ہو نا تُم!" ترُن نے جِس اَںداج میں بات کہی تھی۔۔ میں بھی سِہر اُٹھی۔ّ۔

مینُو نے اَپنی نزریں جھُکا لی اؤر اَںدر ہی اَںدر سُبکتی رہی۔۔ لگ رہا تھا۔۔ جیسے وو پُوری ترہ ٹُوٹ چُکی ہے،" میں۔۔ تُمہاری بات مان لُوںگی ترُن۔۔ مُجھے بس تھوڑا سا وقت دو۔۔ تُم نہی جانتے مُجھ پر کیا بیت رہی ہے۔۔ جو کُچّھ بھی ہُآ۔۔ اُسمیں میں کھُد اَپنی غلتی مان رہی ہُوں۔ّ۔ میں۔۔ میں ہی نیچ تھی جو ایسا ویسا سوچا۔۔ تُمسے۔ّ۔ " مینُو پھپھک پڑی۔۔ پر اُسنے بولنا جاری رکھا،" تُمسے پیار کِیا۔۔ ۔۔ّ۔تُمہارے۔ّ۔۔ دِکھائے ہُئے سپنے۔ّ۔ّ۔۔ اَپنی آںکھوں میں بسا لِئے۔۔ اِسمیں تُمہارا کیا دوش ہے ترُن۔ّ۔ ہے نا؟"

"دیکھو۔۔ مُجھے اَب ایموشنل کرکے اؤر بیوکُوف بنانے کی کوشِش مت کرو۔۔ کِتنے دینو سے میں تُمہاری یہی بات سُنتا آ رہا ہُوں۔ّ۔ تُم ہر بار۔۔ اَپنے آںسُو دِکھا کر مُجھے مجبُور کر دیتی ہو۔ّ۔ آج کُچّھ مت کہو۔۔ سِرف یے بتاّو کِ کرنا ہے یا نہی۔۔ ورنا میں کل ساری چیزیں اَپنے دوستوں میں باںٹ دُوںگا۔۔ پھِر کرتی رہنا اُنکو اِکٹّھے۔۔ ایک ایک کے کمرے پر جاکر۔۔!"

پِںکی جو اَب تک کںبل میں لِپٹی سُوبک رہی تھی۔۔ اَچانک اُٹھ بیٹھی اؤر بِپھر پڑی،" لو۔۔ کر لو تُمہے جو کرنا ہے۔۔ آ جاّو۔۔ سو جاّو میرے ساتھ۔۔ پر میری دیدی کو کُچّھ مت کہو۔۔ اِنکے سارے لیٹر واپس دے دو۔ّ۔" پِںکی کی آواز میں گُسّا اؤر تڑپ دونو ہی برابر تھے۔ّ۔ مُجھے دونو بہنو کی بڑی دیا آ رہی تھی۔۔ بیچاری کِس اُلجھن میں پھںس گیی دونو ۔۔ اؤر ایک تو۔۔ مُجھے اَہساس تھا کِ ایک تو میری وجہ سے ہی پھںس گیی تھی۔ّ۔ شاید اِسکو ہی کہتے ہیں 'کویلے کی دلالی میں مُںہ کالا'

پر ترُن جانے کِس مِٹّی کا بنا ہُآ تھا۔۔ اُسکے چیہرے پر ایک شِکن تک نا آئی۔۔ اُلٹا بیشارموں کی ترہ کھِلکھِلانے لگا،" یے ہُئی نا بات! بولو۔۔ کیا کہتی ہو؟ شُرُآت کِس'سے کرُوں؟"

"تُم چُپ ہو جاّو پِںکی! تُم اُپر جاکر پڑھ لو۔ّ۔" مینُو نے کہا۔۔

"نہی۔۔ میں آپکو چھچوڑ کر کہیں نہی جاُّنگِ۔۔" پِںکی نے کہا اؤر واپس لیٹ کر سُبکنے لگی۔ّ۔

شاید پِںکی والا آئیڈِیا اُسکے جیہن میں چڑھ گیا تھا،" ٹھیک ہے۔۔ جو چاہو۔۔ میرے ساتھ کر لینا۔۔ پر آج کی ریکارڈِںگ میرے سامنے ڈیلیٹ کر دو پہلے۔ّ۔ بولو!" مینُو نے اَپنے آںسُو پؤںچّھتے ہُئے کہا۔ّ۔

ترُن کُچّھ دیر چُپ چاپ اُسکو دیکھتا رہا۔۔ پھِر بولا،" آج نہی۔۔ کل کر دُوںگا۔۔ تُمہارے سامنے!"

"نہی۔۔ یے بات میری مان لو۔۔ اَبھی سب کُچّھ ڈیلیٹ کرو میرے سامنے۔ّ۔ اؤر وو سارے لیٹر بھی آج ہی لے آاو۔۔ میں آج کے باد تُمسے کوئی واستا نہی رکھنا چاہتی۔ّ۔!" مینُو نے تھوڑا درڑھ ہوکر کہا۔ّ۔۔

"تُمنے باد میں منا کر دِیا تو؟" ترُن نے پُوچّھا۔ّ۔

"نہی کرُوںگی۔۔ وادا کرتی ہُوں۔۔ اؤر لیٹر چاہے باد میں مُجھے دے دینا۔ّ۔ پر ریکارڈِںگ اَبھی ڈیلیٹ کرو۔ّ۔۔"

"پر پھِر میں اِس'سے بدلا کیسے لُوںگا۔ّ۔ ؟" ترُن پِںکی کو راستے پر آتے دیکھ کھُش ہوتے ہُئے بولا۔۔

"دیکھو۔۔ اَب ایسے بکواس مت کرو۔ّ۔! اِسکی ترپھ سے میں تُمسے ماپھی ماںگ لیتی ہُوں۔۔ اؤر۔۔ اؤر یے بھی ماںگ لیگی۔۔ پر کم سے کم اِتنا تو مت گِرو ترُن۔۔ یے۔۔ یے تُمہے بھائی کہتی ہے۔ّ۔ تُم کیُوں؟۔پلیز۔۔ جب میں تُمہاری ہر بات مان رہی ہُوں تو تُم کیُوں۔ّ۔ّ؟"

"اوکے۔ّ۔" ترُن نے کُچّھ دیر سوچنے کے باد کہا۔ّ،" آ جاّو۔۔ تُمہارے سامنے ہی ڈیلیٹ کر دیتا ہُوں۔۔ پر پہلے اِس'سے بولو کی مُجھسے ماپھی ماںگے۔ّ۔۔"

مینُو تُرںت اُٹھکر ہمارے پاس آکر ترُن کے دُوسری اؤر بیٹھ گیّ۔ّ۔،" ماںگ لیگی ترُن۔۔ پلیز۔۔ اَب اُسکو تںگ کیُوں کر رہے ہو۔ّ؟ کل اِنکا پیپر بھی ہے۔ّ۔!"

"اُسکی چِںتا اَب تُم مت کرو۔۔ وو میرا کام ہے۔ّ۔ سالا بھاگ کر جاّیگا تو جاّیگا کہاں۔ّ۔؟۔۔ یے دیکھو۔۔" کہ کر ترُن نے اَپنے موبائیل میں ریکارڈ کی ہُئی ویڈِیو چلا دی۔ّ۔ مینے مینُو کی اور دیکھا۔۔ اُسنے اَپنا سِر جھُکایا ہُآ تھا۔۔ پر تِرچھِ نزروں سے وا سکرین کی اور ہی دیکھ رہی تھی۔ّ۔۔ تسویر اِتنی ساپھ نہی تھی۔۔ پر ہم دونو پہچانے جا سکتے تھے۔ّ۔ جیسے ہی میرے سر کی جاںگھوں کے بیچ بیٹھ کر اُسکے لِںگ کو مُںہ میں لِئے ہُئے ہونے کا سین آیا۔۔ ترُن نے مُسکُرکر میری اؤر دیکھا۔۔ شاید اُسکے باد مینُو نے بھی۔۔ پر تب تک مینے نزریں جھُکا لی تھی۔ّ۔

"دیکھا۔۔ کِتنی مستی سے چُوس رہی ہے۔۔ ہا ہا ہا۔۔ یے ہے مست لڑکی۔۔ تُم جانے کیُوں بِدکتِ رہتی ہو۔۔" ترُن نے مینُو کی اؤر دیکھتے ہُئے کہا۔ّ۔

"لاّو۔۔ مُجھے دے دو۔۔ میں کھُد ڈیلیٹ کرُوںگی۔۔"مینُو نے کہا۔ّ۔

"یے لو جان۔۔ تُمہارے لِئے تو میں جان بھی دے سکتا ہُوں۔ّ۔" ترُن نے مینُو کو موبائیل دے دِیا۔ّ۔

"مزاک کر رہے ہو یا۔ّ۔!" مینُو بول کر رُک گیّ۔ّ۔

"کمال ہے مینُو۔۔ کیا تُمہے نہی پتا میں تُمسے کِتنا پیار کرتا تھا۔۔ وو تو۔ّ۔" بولتا ہُآ ترُن اَچانک دںگ رہ گیا۔۔ اؤر ساتھ میں میں بھی۔ّ۔۔

"میں تُمہے غلت سمجھ رہی تھی ترُن۔۔ مُجھے ماف کر دو پلیز۔ّ۔ اَب جیسا تُم کہوگے۔۔ میں کھُشی کھُشی کرنے کو تیّار ہُوں۔۔ اؤر ہمیشا کرُوںگی۔ّ۔ آئی لو یُو جان۔ّ۔" مینُو نے اَچانک ترُن کو اَپنی باہوں میں بھر لِیا اؤر اُسکے ہوںٹو کو اَپنے ہوںٹو میں لیکر چُوسنے لگی۔ّ۔ میں چؤںک پڑی۔۔ یے اَچانک مینُو کو کیا ہو گیا۔ّ۔ّ؟

"لو۔۔ یہی بات تھی تو پہلے ہی نا بول دیتی۔۔ ایسے ہی گرم ہونا تھا تو میں ایک سے ایک بڑھِیا بلُو پھِلم دِکھا دیتا تُمہے۔۔" ترُن اَپنے ہوںٹو کو آزاد کروا کر ہںستا ہُآ بولا۔ّ،" اَبھی دِکھاُّ کیا؟ ۔۔ موبائیل میں اؤر بھی ہیں۔۔ اَسلی والی۔ّ۔!"

"نہی۔۔ پر مُجھے تُمہارا یے بلیکمیلِںگ والا تریکا بِلکُل پسںد نہی۔۔ کیا میں تُمہے ویسے نہی کرنے دیتی سب کُچّھ۔۔ ایک نا ایک دِن تو مان ہی جاتی نا۔۔ تُمسے سبر ہی نہی ہُآ۔ّ۔" مینُو نے اُسکی چھاتی پر ہاتھ پھیرتے ہُئے کہا۔ّ۔

ترُن بھی ایکدم پِگھل سا گیا،" مینُو کی چھاتِیوں کو ایک ایک کرکے اَپنے ہاتھوں میں لیکر دیکھتا ہُآ بولا،" ووّ۔۔ تو پِںکی نے دِماغ کھراب کر دِیا تھا۔۔ ورنا مینے پہلے کب کِیا ایسا۔۔ بولو۔۔ کِتنے دِن سے تُم مُجھے ہاتھ نہی لگانے دیتی تھی۔۔ اَگر مُجھے یے تریکا اُسے کرنا ہوتا تو میں پہلے ہی نا کر لیتا۔ّ۔"

"پھِر۔۔ وو۔۔ گںدے لیٹر کیُوں لِکھوائے مُجھسے۔۔ بولو!" مینُو اُسکی کِسی ہرکت کا کوئی وِرودھ نہی کر رہی تھی۔ّ۔۔ اؤر تُم کہ رہے تھے کِ اُس دِن تُمنے میرے پھوٹو بھی کھیںچے تھے۔۔ وو کیُوں بھلا۔۔" مینُو نے پیار سے بولتے ہُئے ہی کہا۔۔ میری سمجھ میں نہی آ رہا تھا کی مینُو اَچانک پلٹی کیسے مار گیّ۔ّ۔۔

ترُن ہںستا ہُآ تھوڑا شرمِںدا ہوکر بولا۔ّ،" ہاں۔۔ وو میں اَپنی غلتی مانتا ہُوں۔ّ۔ پر وو سِرف آخِری ہتھِیار تھا۔ّ۔ میں تُمہارا اِس کدر دیوانا ہو گیا ہُوں کِ مُجھے ہمیشا ڈر لگتا تھا کِ کہیں۔۔ کبھی۔۔ تُم مُجھسے دُور ہو گیی تو۔۔"

"اوہ جان! آئی لو یُو۔۔ تُمنے ایسا سوچ بھی کیسے لِیا۔۔ کیا تُمہے نہی پتا کِ میں تُمہے اَپنی جان سے بھی زیادا پیار کرتی ہُوں۔۔ کُچّھ بھی کر سکتی ہُوں۔۔ تُمہے کھُش کرنے کے لِئے۔ّ۔ّ۔!" مینُو نے کہا اؤر ایک بار پھِر اُس'سے لِپٹ گیّ۔ّ۔۔

"پِںکی کو اُپر بھیج دو۔۔ اِسکا کُچّھ پتا نہی۔۔ کب بکھیڑا کر دے۔۔"ترُن نے آہِستا سے اُسکے کان میں کہا۔ّ۔۔

"ایک بات کہُوں۔ّ۔ ترُن۔ّ۔ اَگر بُرا نا مانو تو۔۔"

"ہاں۔۔ بولو نا۔۔ آج کُچّھ بھی بولو جان۔ّ۔۔!" ترُن لٹتُو ہو گیا تھا۔۔ مینُو کی اَداّوں پر۔ّ۔۔

"مُجھے رہ رہ کر وو لیٹر یاد آ رہے ہیں۔۔ میرا دِماغ کھراب ہو رہا ہے۔۔ پلیز۔۔ تُم اُنہے میرے سامنے جلا دو۔۔ پھِر میں تُمہے ایسا پیار کرُوںگی کِ تُم کبھی مُجھے بھُول نہی پاّوگے۔ّ۔!" مینُو نے گُنگُناتے ہُئے بات کہی۔ّ۔

"میرا اُلُّو بنا رہی ہو نا؟۔ّ۔ میں سب سمجھ گیا۔۔ مُوّی ڈیلیٹ کروا لی۔۔ لیٹر اؤر جلا دِئے تو میرے پاس کیا بچیگا۔ّ۔؟ تُم رںگ بدل گیی تو۔۔" ترُن کا ماتھا اَچانک ٹھنکا۔ّ۔

"تُمہاری یہی بات مُجھے سبسے زیادا کھراب لگتی ہے۔۔ اِتنے شکّی کیُوں ہو تُم۔ّ؟ مینے آج تک اَپنی کوئی بات پلٹی ہے کیا؟۔۔ چلو کوئی بات نہی۔ّ۔ تُم وو لیٹر لاکر دِکھا دو مُجھے۔۔ تینو کے تینو۔۔ پھِر جی بھر کر پیار کرنے کے باد جلا دینا۔۔ مُجھے بہُت اَچّچھا لگیگا جان۔۔ تُمہے نہی پتا۔۔ اُس دِن کے باد سے میں ڈھںگ سے سو بھی نہی پائی ہُوں۔۔ پلیز۔۔" کہکر مینُو نے پھِر سے ترُن کے ہوںٹو کو اَپنے کابُو میں کر لِیا۔ّ۔

کُچّھ دیر ترُن مستی سے مینُو کے گُلابی ہوںٹو کو چُوستا رہا۔۔ پھِر ہٹ کر بولا،" آج تو تُم کُچّھ زیادا ہی گرم ہو گیی ہو جان۔۔ آج تو اَپنے آپ تُمنے میرا پکڑ بھی لِیا۔۔ ٹھیک ہے۔۔ میں لیٹر لینے جا رہا ہُوں۔۔ تُم اَپنا مُوڈ مت بدلنا۔۔ دیکھنا کِتنا مزا دُوںگا میں تُمہے۔۔" ترُن نے کہا اؤر اُسکے ہاتھ سے موبائیل لیکر چلا گیا۔ّ۔ّ۔

ترُن کے جاتے ہی پِںکی اُٹھکر بیٹھ گیّ،" تُم بہُت گںدی ہو دیدی۔ّ۔ مُجھسے بات مت کرنا آج کے باد!"
(¨`·.·´¨) Always
`·.¸(¨`·.·´¨) Keep Loving &;
(¨`·.·´¨)¸.·´ Keep Smiling !
`·.¸.·´ -- raj sharma

User avatar
rajaarkey
Super member
Posts: 6633
Joined: 10 Oct 2014 10:09
Contact:

بالی اُمر کی پیاس پارٹ--14 urdu sexi stori

Post by rajaarkey » 02 Apr 2017 18:39


بالی اُمر کی پیاس پارٹ--14

گتاںک سے آگے۔ّ۔ّ۔ّ۔ّ۔ّ۔ّ۔ّ۔ّ۔ّ۔ّ۔ّ۔
"اؤر میں کیا کرتی پِںکی؟" ترُن کے جاتے ہی مینُو کا چیہرا مُرجھا گیا۔۔ اُسنے درواجا کھول کر باہر جھاںکا اؤر پھِر بںد کرکے آ گیّ۔ّ،" میرے پاس کوئی اؤر راستا تھا ہی نہی۔۔ اُسکو اَپنی باتوں میں لینے کے اَلاوا۔۔ بس اَب دُآ کرو کِ وو لیٹر لے آئے اؤر یہاں آنے تک اَپنا موبائیل نا دیکھے۔ّ۔!"

"کیا متلب دیدی؟ تُم ناٹک کر رہی تھی اُسکے ساتھ۔۔" پِںکی کھُش ہوکر بولی۔ّ۔

"اؤر نہی تو کیا؟ جو لڑکا اِتنی نیچے گِر سکتا ہے کِ میرے ساتھ ساتھ تُمہے بھی اَپنی ہوس کا شِکار بنانے کے لِئے بلیکمیل کرنے کی سوچے۔۔ کیا میں اُسکے بارے میں ایسا سوچُوںگی۔ّ۔؟" مینُو نے کہا اؤر راج کی بات بتاتے ہُئے بولی۔ّ۔،" مینے اُسکا ایمایمسیفارمیٹ کر دِیا ہے اُسکے موبائیل میں جِتنی بھی ویڈِیو ہوںگی سب ڈِلیٹ ہو گئی ہوںگی
"کیا؟" پِںکی سے بھی زیادا کھُشی میرے چیہرے پر تھی،" یے۔۔ ایمایمسی کیا ہوتا ہے؟"

"ملٹی میڈیّا کارڈ۔۔ کل کالیج میں اُسنے مُجھے میرے سنیپس دِکھائے تھے۔۔ وو بھی اُسی میں تھے۔۔ اؤر تُمہاری ریکارڈِںگ بھی۔۔ کم سے کم تُمہارا جھںجھٹ تو ختم ہو گیا اَب۔۔ اَگر اُسنے اَپنے کںپیُوٹر میں کاپی نہی کی ہوگی تو۔ّ۔ آئیندا سے بچ کر رہنا۔ّ۔ تُم بچّی نہی ہو جو کِسی کی بھی باتوں میں یُوں آ جاّو۔۔!" مینُو نے کہا۔۔

"یے تو کمال ہو گیا۔ّ۔" پِںکی اُٹھکر ہمارے پاس آ گیّ۔۔ اَچانک اُسکا کھِل چُکا چیہرا پھِر سے مُرجھا گیا۔ّ۔ّ۔،" پر اَب اَگر اُسنے لیٹر نہی دِئے تو پہلے۔۔ وو تو کہ رہا تھا کِ وو 'پہلے' نہی دیگا۔ّ۔ّ۔"

"میں کوشِش کرکے دیکھُوںگی۔۔ ورنا۔۔ باد میں تو مِل ہی جاّیںگے۔۔ اِسنے میرا جینا ہرام کر دِیا ہے کالیج میں۔ّ۔ میں آج سب کُچّھ ختم کر دینا چاہتی ہُوں۔۔ چاہے وو۔ّ۔ چاہے وو کِسی بھی کیمت پر ہو۔ّ۔!" مینُو لںبی ساںس لیتے ہُئے بولی۔ّ۔

"ایک کام کریں دیدی۔۔!" پِںکی نے مینُو کے گالوں پر ہاتھ لگا اُسکا چیہرا اَپنی اؤر گھُما لِیا۔ّ۔

"کیا؟" مینُو نے پُوچّھا۔۔

"میں درواجے کے پِچھے لٹّھ لیکر کھڑی ہو جاتی ہُوں۔۔ جیسے ہی وو آایگا۔۔ میں زور سے اُسکے سِر میں دے مارُوںگی۔ّ۔ اؤر آپ دونو اُس'سے لیٹر۔ّ۔" پِںکی کا آئیڈِیا مُجھے بھی پسںد آیا تھا۔۔ پر میں اُنکے اِس کھیل میں شامِل ہوکر ترُن سے دُشمنی مول نہی لینا چاہتی تھی۔ّ۔۔ میں اُنکو کُچّھ بہانا بناکر گھر جانے کے لِئے بولنے ہی والی تھی کِ مینُو بول پڑی۔ّ۔

"تُجھے تو اؤر کُچّھ آتا ہی نہی۔۔ پِچّھلے جنم میں تُو کسائی تھی کیا؟ اَگر تُم اُسکو لٹّھ مروگی تو اُسکی چیکھ نہی نِکلیگی کیا؟ گھر والے نیچے آ گیے تو سارے کِئے کرائے پر پانی پھِر جاّیگا۔ّ۔ اؤر اَگر وہ بچکر بھاگ گیا تو پھِر میری کھیر نہی! میں اُسکو پیار سے باتوں میں اُلجھا کر ہی دیکھُوںگی۔۔ اَگر بات بن گیی تو۔ّ۔ نہی تو" مینُو نے اَپنا سِر جھُکا لِیا۔ّ،" تُو اُپر چلی جانا پِںکی۔۔ پلیز۔۔ تیرے آگے مُجھسے نہی ہوگا۔۔ اؤر میں آج اُس'سے ہر ہالت میں لیٹر لینا چاہتی ہُوں۔ّ۔ چاہے مُجھے کُچّھ بھی کرنا پڑے۔ّ۔!"

پِںکی اُسکے باد کُچّھ نہی بولی۔۔ بس یُوںہی اُداس بیٹھی کُچّھ سوچتی رہی۔۔ اَچانک میرے مںن میں ہی ایک سوال کؤںدھا۔ّ،" پر دیدی۔ّ۔؟"

"کیا؟" مینُو نے میری ترپھ دیکھ کر پُوچّھا۔ّ۔

"و۔ّوّ۔۔ ایسے تو آپ۔ّ۔۔ آپ کے پیٹ میں بچّا آ جاّیگا اُسکا۔ّ۔!" مینے شرماتے ہُئے کہا۔ّ۔

کُچّھ دیر تو مینُو چُپ رہی۔۔ پھِر آہ سی بھرتے ہُئے بولی،" دیکھتے ہیں۔۔ کیا ہوگا!"

"پھِر دیکھوگی کیا؟ اَگر آپ نے اُسکے ساتھ 'وو' کر لِیا تو پھِر کیا کروگی۔۔ پھِر تو آپ 'ما' بن ہی جاّوگی نا۔ّ۔!" میری بات پر جب مُجھے نکاراتمک پرتِکرِیا نہی مِلی تو مینے اؤر کھُلکر کہا۔ّ۔

مینُو اِس بات پر ہںسنے سی لگی،" تُو بچّی ہے اَبھی۔۔ تُجھے کِسنے بتایا۔ّ؟"

"ووّ۔۔ ممیری ایک سہیلی کہ رہی تھی۔ّ۔" مینے بہانا بناکر کہا۔ّ۔۔

"تُمہارے آپس میں یہی سب باتیں کرتی رہتی ہو کیا؟" پِںکی نے مُجھے ڈاںٹ'تے ہُئے کہا۔۔ اؤر پھِر بولی،" ایسا نہی ہوتا۔۔ زرُوری نہی کِ ایک بار میں ہی 'ایسا' ہو جائے۔۔ اؤر پھِر بازار میں اِتنی دوائیّاں بھی تو آتی ہیں۔ّ۔ اَگر مجبُوری میں مُجھے کرنا پڑا تو 'وو' لے لُوںگی۔ّ۔۔"

"سچ!" میں چاہکر بھی اَپنے چیہرے کو کھِلنے سے روک نا سکی۔ّ۔ یے بات تو میرے تڑپ رہے شریر کے لِئے سںجیونی کی ترہ تھی،" سچ میں آتی ہیں ایسی دوائی؟"

"تُو تو اِس ترہ کھُش ہو رہی ہے جیسے مُسیبت مُجھ پر نہی۔۔ تُجھ پر آئی ہُئی ہو۔۔ تُم دونو تو نِسچِںت ہو ہی جاّو۔۔ جہاں تک میرا خیال ہے۔۔ تُمہاری ریکارڈِںگ کاپی نہی کی ہوگی اُسنے۔۔ آج ہی تو لی تھی۔۔ پھِر اُسکا کںپیُوٹر بھی شہر میں اُسکے دوست کے پاس ہے۔ّ۔ پر میری بات دھیان رکھنا۔۔ لڑکے کُتّے ہوتے ہیں۔۔ کبھی بھی اِنکی باتوں میں مت آنا۔ّ۔!" مینُو نے ہم دونو کو سمجھاتے ہُئے کہا۔ّ۔

"پر دیدی۔۔ اُسنے آپ کی سنیپس کاپی کر رکھی ہوںگی تو؟" پِںکی چِںتِت ہوکر بولی۔ّ۔

"آ۔۔ دیکھا جاّیگا۔۔ اَب کرنی کا پھل تو بھُگتنا ہی پڑیگا۔۔ میں ہی پاگل تھی جو اُسکی باتوں میں آ گیّ۔ّ۔" مینُو نے لںبی ساںس لیکر کہا،" چلو۔۔ اَب اَپنی اَپنی چارپائیّوں پر بیٹھ جاّو۔۔ تُمہارے چیہرے سے یے نہی لگنا چاہِئے پِںکی کی میں ناٹک کر رہی ہُوں۔۔ تُو تو ایسا کر۔۔ اُپر چلی جا۔۔!"

مینُو جاکر اَپنی چارپائی پر بیٹھ گیّ۔۔ پِںکی میرے پاس ہی بیٹھی رہی،" نہی دیدی۔۔ آپکو چھچوڑ کر میں اُپر نہی جاُّنگِ۔۔ میں اُسکے آتے ہی سو جاُّنگِ۔۔ کںبل اؤدھ کر۔ّ۔۔"

ہمیں ترُن کا اِںتجار کرتے کرتے لگبھگ ایک گھںٹا ہو گیا تھا۔ّ۔ اَب مینُو کے دِماغ میں ترہ ترہ کی باتیں آنی شُرُو ہو گیی تھی۔ّ۔،" کہیں ایسا تو نہی کی اُسنے اَپنا موبائیل دیکھ لِیا ہو اؤر وہ میری چالاکی سمجھ گیا ہو؟" مینُو نے چِںتِت سی ہوتے ہُئے کہا۔ّ۔

"پھِر کیا ہوگا دیدی؟" پِںکی کا چیہرا بھی مینُو جیسا ہی ہو گیا۔۔

"پتا نہی۔۔ پر وو مُجھ پر وِشواس نہی کریگا آج کے باد۔۔ موبائیل دیکھ لِیا ہوگا تو شاید وو کل کالیج میں ہی بات کریگا مُجھسے۔ّ۔ 'مُجھے اؤر مؤکا شاید ہی مِلے اَب۔۔ کِتنے ہی دینو سے اُس'سے پیار سے بات کر کر کے ٹائیم ماںگتی آ رہی ہُوں۔ّ۔ 'وو' مُجھے دھمکی دیتا ہے کِ اَگر مینے اُسکی بات جلد ہی نہی مانی تو وو مُجھے دوستوں کے ساتھ۔ّ۔" بات اَدھُوری چھچوڑ کر مینُو سُبکنے لگی۔ّ،" یے مینے کیا کر دِیا بھگوان۔ّ۔۔!"

"آپ رو کیُوں رہی ہو دیدی۔ّ؟ پلیز۔۔ سب ٹھیک ہو جاّیگا۔۔ میں اُس'سے ماپھی بھی ماںگ لُوںگی۔۔" پِںکی اُسکے پاس جاکر بیٹھ گیّ۔ّ۔ّ،" آپ جیسا کہوگی میں ویسا ہی کر لُوںگی۔۔ آپ روّو مت پلیز۔ّ۔"

مینُو نے اَپنے آںسُو پؤںچّھ لِئے۔۔ پر تناو اُسکے چیہرے پر ساپھ جھلک رہا تھا۔ّ،" کل اَگر وو تُمہے اَپنی بائیک پر بیٹھنے کو کہے تو بیٹھنا مت۔ّ۔ بُلکی تُم بات ہی مت کرنا۔ّ۔ ویسے شاید وو مُجھسے بات کرنے کے لِئے کالیج میں جاّیگا۔۔ زرُور!"

------------------------------------------------------------------------

اَگلے دِن ہم اَکیلے نہی گیے۔۔ کلاس کی کیِ لڑکِیاں ہمارے ساتھ تھی۔ّ۔ سکُول میں جانے کے باد بھی ہم اُنکے ساتھ ہی رہے۔۔ پیپر کا ٹائیم ہونے پر ہم اَپنی اَپنی سیٹ پر جاکر بیٹھ گیے۔ّ۔۔

"تُم۔۔ کل گھر لیٹ پہُںچی تھی کیا؟" سںدیپ نے میرے پاس بیٹھتے ہی پُوچّھا۔ّ۔

اَچانک آتے ہی کِئے گیے اِس سوال سے میں سکپکا گیّ۔،" نہی۔۔ ہاآں۔۔ وو میں پِںکی کے ساتھ تھی۔۔"مینے آدھا سچ بولتے ہُئے سوال کِیا،" تُمہے کیسے پتا؟"

"تُمہاری ممّی شِکھا سے پُوچّھنے آئی تھی۔ّ۔ مُجھے تو تب گھر پہُںچے 2 گھںٹے ہو گیے تھے۔ّ۔!" سںدیپ نے بتایا اؤر آگے پُوچّھا،" آج کی کیسی تیّاری ہے۔ّ؟"

مینے کوئی جواب نہی دِیا۔۔ بس مُسکُرکر رہ گیّ۔ّ۔ مُجھے شرم آ رہی تھی اُسکو 'ہیلپ' کی کہتے ہُئے۔ّ۔

وو میری ہالت بھاںپتے ہُئے بولا،" پرچی مت کرنا۔۔ میرے پیپر سے اُتارتی رہنا ساتھ ساتھ۔۔ میں ٹیڑھا ہوکر بیٹھ جاُّنگا۔ّ۔"

مینے کرِتگے نزروں سے اُسکی اؤر دیکھا تو وو مُسکُرا دِیا،"تُم پیدل آتی ہو کیا؟"

"ہاں۔۔" مینے اُسکی اؤر بِنا دیکھے کہا۔۔ آج پہلی بار مُجھے لگ رہا تھا کِ وو مُجھ پر کُچّھ 'زیادا' ہی لتُّ ہے۔ّ۔

"چاہو تو میرے ساتھ چل پڑنا۔۔ پاپا کی بائیک لایا ہُوں میں آج!" سںدیپ نے سیدھا ہوکر کہا۔۔ رُوم میں سر آ گیے تھے۔ّ۔

"ن۔ّنہی۔۔ وو پِںکی بھی میرے ساتھ جاّیگی۔ّ۔" مینے سر سے نزریں بچاکر اُسکی بات کا جواب دے ہی دِیا۔ّ۔ اَپنے سٹائیل میں۔۔!

کُچّھ دیر چُپ بیٹھا رہنے کے باد اُسکی آواز ایک بار پھِر میرے کانو تک آئی،" کوئی بات نہی۔۔ وو بھی چل پڑیگی اَگر تُم چلنا چاہو تو۔۔"

"ٹھیک ہے۔۔ میں بات کرکے دیکھ لُوںگی۔۔!" مینے جواب دِیا اؤر آنسر سیٹ مِلتے ہی سب بچّے چُپ ہو گیے۔۔ ہم دونو بھی۔ّ۔۔

---------------------------------------------------------

ایگزیم ختم ہونے کے باد میں بہُت کھُش تھی۔۔ پِںکی بھی۔۔ اُسکا بھی پیپر بہُت اَچّچھا ہُآ تھا۔۔ دراَسل آج کل کے مُقابلے سکھتیِ نا کے برابر تھی۔۔ اؤر نا ہی کل والے سر ہی ہمیں کہیں نزر آئے۔ّ۔ جیسے ہی میں باہر نِکلی، پِںکی کھُشی سے اَپنا بورڈ گھُومتے ہُئے مُجھسے آ ٹکرائی،" مزے ہو گیے آج تو!"

سںدیپ ہمسے کُچّھ ہی آگے آگے چل رہا تھا۔۔ جیسے ہی ہم ऑپھیس کے سامنے سے نِکلے۔۔ میڈم نے ہمیں ٹوک دِیا،" کیسا پیپر ہُآ اَںجُو!" وو درواجے کے پاس کھڑی شاید ہمارا ہی اِںتجار کر رہی تھی۔ّ۔۔

"ٹھیک ہو گیا میڈم۔۔" مینے سِر جھُکا کر کہا اؤر ٹھِٹھک گیّ۔ّ۔

"گُڈ۔۔ کِسی بات کی چِںتا مت کرنا بیٹا۔۔ سمجھ گیی نا دونو!" میڈم نے مُسکُرکر کہا۔ّ۔

"جی۔۔" میں اؤر کُچّھ بولتی۔۔ اِس'سے پہلے ہی پِںکی نے میرا ہاتھ کھیںچ لِیا۔۔ اؤر تھوڑی آگے جاکر بولی،" آج پھِر پھںسنے کا اِرادا ہے کیا؟"

"نہی۔۔ وو سُن۔ّ۔" مینے اُسکی بات کو ٹالتے ہُئے کہا،" ووّ۔۔ سںدیپ کہ رہا تھا کِ 'وو' آج بائیک لیکر آیا ہے۔۔ ہم دونو کو ساتھ لیکر چلنے کی کہ رہا تھا۔۔ بول؟"

"اَچّچھا۔۔ پر مُجھے ڈر لگ رہا ہے۔۔ کہیں۔۔" پِںکی اَپنی بات بیچ میں ہی چھچوڑ کر چُپ ہو گیّ۔ّ۔

"دیکھ لے۔۔ میں تو بس بتا رہی ہُوں۔۔" مینے بات اَپنے سِر سے ٹال دی۔ّ۔

"ہُمّ۔۔ چل ٹھیک ہے۔۔ کہاں ہے 'وو'؟" پِںکی نے شاید سںدیپ کو ہمارے آگے آگے چلتے دیکھا نہی تھا۔ّ۔

"وو رہا۔۔ شاید ہمارا ہی ویٹ کر رہا ہے۔۔!" مینے سںدیپ کی اور اِشارا کرتے ہُئے کہا۔ّ۔

"چل۔ّ۔!" اُسنے کہا اؤر ہم دونو اُسکے پاس جاکر کھڑے ہو گیے۔۔

"کیا سوچا۔ّ؟ چلنا ہے کیا؟" سںدیپ نے مُجھسے پُوچّھا تو میں پِںکی کی اؤر دیکھنے لگی۔ّ۔

"چلو! جلدی پہُںچ جاّیںگے اؤر کیا؟" پِںکی نے جواب دِیا۔ّ۔۔
-------------------------------------------------------------

سںدیپ بِکے باہر نِکال لایا اؤر ہمارے پاس لاکر روک دی۔۔ میں بیٹھنے کے لِئے تیّار ہو ہی رہی تھی کِ پِںکی مُجھسے پہلے ہی اُسکے پِچھے بیٹھ گیّ۔۔ اؤر مُجھسے بولی،" آ جاّو!"

میں من مسوس کر پِںکی کے پِچھے جا بیٹھی۔۔ پتا نہی کیُوں۔۔ پر مُجھے لگ رہا تھا کِ میرے اؤر پِںکی کے بیچ میں زیادا جگہ ہے۔۔ اؤر پِںکی اؤر سںدیپ کے بیچ کم۔ّ۔ میرا مُںہ سا چڑھ گیا۔۔ اؤر ہم چل پڑے!

اَپنے گاںو کے سٹیںڈ پر پہُںچے ہی تھے کِ کِسی نے ہاتھ دیکر سںدیپ کو روک لِیا۔ّ،" کیسا پیپر ہُآ؟"

"اَچّچھا ہو گیا! چل گھر آ جا۔۔ آج کرِکیٹ کھیلنے چلیںگے۔۔ کل ہِندی کا پیپر ہے۔۔" سںدیپ نے مُسکُرکر کہا۔ّ۔

"نہی یار۔۔ آج نہی۔۔ ایسے اَچّچھا نہی لگیگا۔ّ۔!" اُس لڑکے نے سںدیپ سے کہا۔ّ۔

"کیُوں؟ آج کیا ہو گیا۔ّ؟" سںدیپ نے اُسی بھاو میں پُوچّھا۔ّ۔

"تُمہے نہی پتا؟ اوہّ۔۔ تُم تو سُبہ ہی چلے گیے ہوگے پیپر دینے۔۔ وو کِسی نے ترُن کو مار دِیا۔۔ آج کریب 10 بجے پتا لگا۔ّ۔ کِسی نے اُسکو کل رات میں مار کر چؤپال میں پھیںک دِیا۔ّ۔ّ۔"

"کیاَّ؟ کؤنسا ترُن؟ اَپنے والا؟" سںدیپ کے چیہرے کا رںگ اَچانک سپھید ہو گیا۔ّ۔ ہماری تو گھِگّی ہی باںدھ گیی تھی۔۔ ہم دونو ڈری ڈری سی آںکھوں سے ایک دُوسری کو دیکھنے لگی۔ّ۔

"ہاں یار۔۔ گاںو میں پولیس آئی ہُئی ہے۔۔ بیچارا کِتنا شریپھ تھا۔ّ۔ اُس'سے کِسی نے کیا دُشمنی نِکالی ہوگی۔ّ۔ بیچارا!"

"اوہّ۔۔ یے تو بہُت بُرا ہُآ یار۔۔ میں اَبھی اُسکے گھر جاکر آتا ہُوں۔۔" سںدیپ نے کہا اؤر پِچھے دیکھنے لگا۔ّ۔۔

"ٹھیک ہے۔۔ ہم چلے جاّیںگے۔ّ۔" پِںکی نے کہا اؤر میرے ساتھ ہی نیچے اُتر گیّ۔ّ۔

"تُمہے پڑھانے آتا تھا نا وو؟" سںدیپ نے پُوچّھا۔ّ۔۔

"ہاں۔۔" پِںکی نے سِر جھُکا کر کہا اؤر بِنا ایک بھی پل گںوائے چل دی۔ّ۔ میں بھی ڈگمگاتے ہُئے کدموں سے اُسکے پِچھے ہو لی۔ّ۔ّ۔

"یے کیسے ہُآ پِںکی؟" مینے ترُن کا جِکر کِیا۔ّ۔

"چُپ۔ّ۔ کُچّھ مت بول یہاں۔ّ۔" پِںکی نے کہا اؤر ہم گلِیوں کے بیچ سے گھر کی اور چلتے رہے۔ّ۔ّ۔

ہم جلدی جلدی چلتے ہُئے پِںکی کے گھر پہُںچ گیے۔۔ ہم سیدھے اُپر چلے گیے۔ّدیکھا تو مینُو بھی وہیں بیڈ پر لیٹی ہُئی تھی۔۔ چاچا چاچی دونو کھاموش بیٹھے تھے۔۔ مینُو کا چیہرا پیلا پڑا ہُآ تھا۔ّ۔

"کیا ہُآ ممّی؟" پِںکی نے سب جانتے ہُئے بھی سوال کِیا۔ّ۔

"کُچّھ نہی۔۔ تُم نیچے جاکر پڑھ لو۔۔!" چاچا نے کہا۔ّ۔

"نہی۔۔ وو گاںو میں سب کہ رہے ہیں کِ۔ّ۔" پِںکی نے بولا ہی تھا کِ چاچا شُرُو ہو گیے۔ّ۔۔

"ہاں۔۔ کِسمت کے کھیل نِرالے ہوتے ہیں بیٹی۔۔ کِتنا شریپھ تھا بیچارا۔ّ۔ مُجھے تو اَب بھی ایسا لگ رہا ہے کِ وو نیچے سے آواز دے رہا ہے۔۔ آخِری وقت بھی ڈھںگ سے بات نہی کر پایا میں۔۔ بڑا پچہتاوا ہو رہا ہے۔۔ پڑھنے میں کِتنا تیج تھا۔۔ اُسکے ما باپ کی تو کمر ہی ٹُوٹ گیی ہوگی۔ّ۔۔" پِںکی کے پاپا بھی بہُت دُکھی لگ رہے تھے۔ّ۔۔

"پر۔۔ پر یے ہُآ کیسے؟" میں اَپنے آپکو روک نہی پائی۔ّ۔

"کؤن جانے بیٹی؟ اَب اُسکی کِسی سے دُشمنی بھی کیا ہوگی؟ وو تو زیادا بات بھی نہی کرتا تھا کِسی سے۔ّ۔ بھگوان ہی جانتا ہے کیا ہُآ ہوگا۔ّ۔؟" چاچا نے اَپنا ماتھا پکڑ لِیا۔ّ۔

"اَب چھچوڑِئے نا پاپا۔۔ ہونا تھا جو ہو گیا۔ّ۔ آپ کیُوں بار بار۔ّ۔" مینُو کی آںکھیں نم ہو گیّ۔ّ۔

"چھچوڑو بیٹی۔۔ چھچوڑو۔۔" چاچا نے کہا اؤر اَپنی آںکھیں پؤنچھتے ہُئے گھُٹنے پر ہاتھ رکھا اؤر اُٹھ گیے۔ّ،"تُو اِتنا چھہوٹا مںن کیُوں کر رہی ہے۔۔ پِںکی اؤر اَںجلِ کا بھی تو بھائی ہی تھا 'وو'۔۔ جب یے نہی رو رہی تو تُو کیُوں۔ّ۔ سُبہ سے۔ّ۔ چھچوڑ بیٹی۔۔ ہونی کا لِکھا کوئی نہی ٹال سکتا۔ّ۔"

مینُو کںبل میں دُبک کر سِسک'نے لگی۔ّ۔ مُجھسے وہاں اؤر کھڑا نا رہا گیا۔ّ۔،" اَچّچھا چاچی۔۔ میں چلتی ہُوں۔۔!"

"ٹھیک ہے بیٹی۔۔ جا۔۔ کپڑے بدل لے۔۔ سُبہ سے کُچّھ کھایا بھی نہی ہوگا۔ّ۔" چاچی بھی کھڑی ہو گیی اؤر جاکر مینُو کے پاس بیٹھ گیّ۔ّ۔

میں اَپنے گھر جانے کو پِںکی کے گھر سے باہر نِکلی ہی تھی کِ ایک موٹا سا تھُلتھُلا پالِسِیا گھر کے باہر آکر کھڑا ہو گیا۔ّ۔،" مینُو کا گھر آسپاس ہی ہے کیا؟۔ّ۔؟"

میں ہڑبڑا گیّ۔۔ پولیس والا بھلا مینُو کو کیُوں پُوچّھ رہا ہے۔ّ،" جی۔۔ یہی ہے!" مینے ہڑبڑاہٹ میں ہی جواب دِیا۔ّ۔

"ٹھیک ہے۔۔ دھنیواد۔ّ۔!" اُسنے کہا اؤر واپس ہمارے گھر کی اور چل دِیا۔ّ۔

کُچّھ سوچ کر میں واپس ہو لی۔۔ اَںدر سیڑھِیوں پر جاکر مینے مینُو کو آواز دی،" دیدی۔ّ۔ّ۔"

"مینُو۔۔ نیچے اَںجُو بول رہی ہے شاید۔ّ۔۔" اُپر سے چاچا کی آواز میرے کانو میں پڑی۔ّ۔۔

کُچّھ دیر باد مینُو نیچے آ گیّ۔۔ میرے پاس آتے ہی وہ پھپھک پڑی۔ّ،" آںکھوں میں آںسُاوں کا جھرنا سا اُمڑ پڑا،" ییئے۔۔ یے کیا ہو گیا اَںجُو۔ّ؟"

"پر۔۔ آپ رو کیُوں رہی ہیں دیدی۔۔ جو ہُآ سہی ہُآ۔۔ ہمیں کیا متلب ہے۔۔ اُسکے کرموں کا پھل مِل گیا اُسکو۔ّ۔" مینے مینُو کے کںدھے پکڑتے ہُئے کہا۔ّ۔

"پتا نہی اَںجُو۔۔ رہ رہ کر کلیجا سا پھٹا جا رہا ہے۔ّ۔ بہُت یاد آ رہی ہے اُسکی۔۔ اُسنے دھوکھا دے دِیا تو کیا ہُآ۔۔ مینے تو اُس'سے سچّا پیار کِیا تھا نا۔۔ کل اَگر اُسکو واپس نا بھیجتی تو شاید وو۔ّ۔" مینُو بُری ترہ کراہتے ہُئے رونے لگی۔ّ۔۔

"نا۔۔ دیدی۔۔ پلیز۔۔ ایسا مت کرو۔۔ چُپ ہو جاّو۔۔ مُجھے آپکو کُچّھ بتانا ہے۔ّ۔" مینے اُسکے مُںہ پر ہاتھ رکھ دِیا۔ّ۔ اُسکی آواز کُچّھ دیر باد بںد ہو گیّ۔۔ پر آںسُو نہی تھامے۔ّ،"کیا؟"

"وو۔ّ۔ ایک پولیس والا باہر آیا تھا۔۔ آپکا نام لیکر گھر پُوچّھ رہا تھا۔ّ۔" مینے اُسکے شاںت ہونے کے باد جواب دِیا۔ّ۔

مینُو میری بات سُنتے ہی سُنن رہ گیّ۔ّ۔۔ مُجھے ایسا لگا جیسے یُویّسیس پر ایک اؤر پہاڑ ٹُوٹ پڑا ہو۔۔ وا تھرتھر کاںپتِ ہُئی بولی۔ّ،" میرا نام لیکر۔ّ۔ پر کیُوں؟"

"پتا نہی دیدی۔۔ وو کُچّھ نہی بولا۔۔ پُوچّھ کر واپس چلا گیا۔ّ۔!" مینے بُرا سا مُںہ بنا کر کہا۔ّ۔

"ہے۔۔ بھگوان۔۔ اَب کیا ہوگا۔ّ۔" مینُو میں کھڑی رہنے تک کی ہِمّت نہی بچی۔۔ مینے اُسکو سںبھالا اؤر چارپائی پر لِٹا دِیا۔۔ اَچانک وہ نِشبد: سی ہو گیّ۔۔ پتا نہی کیا ہو گیا اُسکو۔ّ۔ میں گھبرا گیّ۔۔ مینے چاچا کو آواز لگائی،" چاچا۔۔ جلدی آاو۔ّ۔"

میری آواز میں گھبراہٹ کو بھاںپ کر اُپر سے چاچا، چاچی اؤر پِںکی۔۔ تینو دؤڑے دؤڑے نیچے آئے،"کیا ہُآ؟"

"پپتا نہی۔ّ۔ اَچانک بیہوش سی ہو گیّ۔۔" مینے کہا اؤر اَلگ کھڑی ہو گیّ۔ّ۔

"مینُو۔۔ مینُو بیٹی۔ّ۔ پانی لیکر آاو جلدی۔ّ۔"چاچا نے پِںکی سے کہا۔ّ۔

کُچّھ دیر باد مینُو نے آںکھیں کھول دی۔۔ آںکھیں کھولتے ہی وہ چاچا سے لِپٹ کر بُری ترہ رونے لگی۔ّ۔۔

"مان جا بیٹی۔۔ تُو ایسا کریگی تو اِنکا کیا ہوگا۔ّ۔ بس کر۔۔ چُپ ہو جا۔ّ۔" چاچا اُسکے سِر پر پیار سے ہاتھ پھیرنے لگے۔۔ کُچّھ دیر باد اُسنے اَپنی آںکھیں بںد کر لی اؤر دھیرے دھیرے شاںت ہو گیّ۔ّ۔۔

تھوڑی دیر باد اَچانک درواجے پر ایک ہٹّا کیٹا لںبا سا پولیس والا پرکٹ ہُآ۔۔ اُسکے پِچھے وہی تھُلتھُلا سا پالِسِیا کھڑا تھا۔ّ۔ اُنہونے اَںدر دیکھا اؤر بِنا اِجازت لِئے ہی اَںدر آ گیے۔۔ چاچا، چاچی اؤر پِںکی; تینو اُنن پولیس والوں کو دیکھ کر ہڑبڑا سے گیے۔۔

"جی کہِئے؟" چاچا کھڑے ہو گیے۔ّ۔

"ہُوںمّم۔۔" لںبُو نے اَپنا سِر ہِلاتے ہُئے آگے کہا،" تو۔ّ۔ّ۔ّ۔۔ یے مینُو ہے!"

"جی۔۔ پر آپ کیُوں پُوچّھ رہے ہیں۔ّ؟" چاچا بھی اُسکے مُںہ سے مینُو کا نام سُنکر گھبرا سے گیے۔۔ پر مینُو آںکھ بںد کِئے لیٹی رہی۔ّ۔۔

پولیس والے نے چاچا کی بات کا کوئی جواب نہی دِیا۔۔ چُپچاپ کھڑا رہا۔۔ پھِر اَچانک تیج ترّار آواز میں بولا،" کیا ہو گیا اِسکو؟"

کرمشہ۔ّ۔ّ۔ّ۔ّ۔ّ۔ّ۔ّ۔ّ۔ّ۔ّ۔ّ۔ّ۔

(¨`·.·´¨) Always
`·.¸(¨`·.·´¨) Keep Loving &;
(¨`·.·´¨)¸.·´ Keep Smiling !
`·.¸.·´ -- raj sharma

User avatar
rajaarkey
Super member
Posts: 6633
Joined: 10 Oct 2014 10:09
Contact:

بالی اُمر کی پیاس پارٹ--15 urdu sexi stori

Post by rajaarkey » 02 Apr 2017 18:43


بالی اُمر کی پیاس پارٹ--15

گتاںک سے آگے۔ّ۔ّ۔ّ۔ّ۔ّ۔ّ۔ّ۔ّ۔ّ۔ّ۔ّ۔
چاچا کو کاٹو تو کھُون نہی۔۔ شاید اُنہے بھی کِسی پولیس والے کو یے بتاتے ہُئے تھوڈا اَجیب لگ رہا تھا کِ مینُو 'ترُن' کے بارے میں سُنکر سدمے میں آ گیی ہے۔ّ،" بیٹھِئے نا۔۔ دروگا ساہب; جا پِںکی۔۔ اُپر سے کُرسی لا دے۔۔ اؤر کُچّھ چاے دُودھ لے آ، ساہب کے لِئے!" چاچا نے پِںکی سے کہا اؤر اُنکے پاس آکر کھڑے ہو گیے۔ّ۔

وو پولیس والا بھی شاید پھری ہوکر ہی وہاں آیا تھا۔۔ چاچا کے کہتے ہی دھمم سے چارپائی پر بیٹھ گیا،"یے ٹھیک ہے۔۔ آپنے بتایا نہی۔۔ کیا ہو گیا اِسکو؟"

دُوسرا موٹا پولیس والا لٹّھ کے سہارے کوہنی ٹِکائے اُسکے پاس کھڑا رہا۔ّ۔

"ججئی۔۔ ووّ۔۔ ترُن اِنکو پڑھانے آتا تھا۔۔ کافی گھُل مِل گیا تھا۔۔ ہمارے پرِوار سے۔۔ اِسیلِئے تھوڑی سی۔ّ۔" چاچا نے ہِچکتے ہُئے کہا۔ّ۔۔

"پر یے تو اُسکی اُمر کی ہی لگ رہی ہے۔ّ۔ اِسکو پڑھانے آتا تھا وو؟" پولیس والے نے مینُو کا چیہرا گؤر سے دیکھتے ہُئے پُوچّھا۔ّ۔

"ججی ہاں۔۔ اِسکی اِںگلیش تھوڑی کمجور ہے۔۔ اِسکو بھی اِںگلیش پڑھا دیتا تھا۔۔ ویسے کھاس تو اِنن بچِّیوں کو ہی پڑھنے آتا تھا۔۔ اِنکے ایگزیم چل رہے ہیں۔۔ دُوسوی کے۔ّ۔" چاچی نے جواب دِیا۔ّ۔

"ہُوںمّ۔ّ۔" اُسنے مُجھے اُپر سے نیچے تک گھُور کر دیکھا۔۔ مُجھے لگا مانو اُسکی آںکھیں پُوچّھ رہی ہوں۔۔'یے بچّی کہاں سے لگ رہی ہے؟'۔۔ کُچّھ دیر تک مُجھے یُوںہی گھُورتے رہنے کے باد بولا،" اِنن 'بچِّیوں' کو شاید اِتنا دُکھ نہی ہے۔۔ جِتنا آپکی بڑی بیٹی کو ہے۔۔" اُسنے بچِّیوں شبد پر کُچّھ کھاس زور دِیا۔ّ۔

"نہی نہی۔۔ داروگا ساہب۔۔ میری دونو بیٹِیوں سمیت ہم دونو کو بھی اُس'سے بہُت لگاو تھا۔۔ بس۔۔ یے۔۔ مینُو باتوں کو تھوڑا زیادا دِل پر لیتی ہے۔۔ اِسیلِئے۔۔" چاچا بولتے بولتے رُک گیے۔ّ۔ وو تھوڑے شرمِںدا سے لگ رہے تھے۔۔ پولیس والے کے بات کہنے کے ڈھںگ سے۔ّ۔

"تینو بیٹِیاں آپکی نہی ہیں کیا؟" پولیس والا سوال پر سوال کِئے جا رہا تھا۔ّ۔

تبھی پِںکی آئی اؤر دو کُرسِیاں رکھ کر واپس چلی گیّ۔۔ پولیس والا اُٹھا اؤر کُرسی پر بیٹھ گیا۔ّ۔ دُوسرے پولیس والے نے بھی اَپنی کُرسی اَلگ کھیںچی اؤر اُس پر بیٹھ گیا۔ّ۔ّ۔

"جی۔۔ نہی۔۔ یے۔۔ اَںجلِ میرے بھائی کی بیٹی ہے۔۔ یے بھی کیِ دِن سے یہیں پڑھنے کے لِئے آ رہی تھی۔ّ۔۔" چاچا نے میری اور اِشارا کِیا۔ّ۔

"ہُمّ۔۔ کِتنے بجے آتا تھا وو۔۔ پڑھانے؟" اُسنے اَگلا سوال کِیا۔۔ کم سے کم میری سمجھ میں نہی آ رہا تھا کِ وو بات کو کہاں لے جانا چاہتا ہے۔ّ۔۔

"یہی کوئی سات ساڑھے سات بجے تک آتا تھا۔۔ کل بھی اِسی وقت آیا تھا۔۔ ہے نا؟" چاچا نے بول کر میری ترپھ دیکھا۔ّ۔

مینے سویکرتِ میں سِر ہِلایا،" ہاں۔۔" اؤر میری آںکھوں کے سامنے کل رات وہاں ہُئی گھٹنا تیرنے لگی۔۔ مینے نزریں جھُکا لی۔ّ۔۔


"جاتا کِتنے بجے تھا۔ّ۔ واپس؟" پولیس والے نے پُوچّھا۔ّ۔

"اُسکا کُچّھ پکّا نہی تھا ساہب۔۔ 10۔۔1ّ۔۔ 12 بھی بج جاتے تھے کبھی کبھی۔۔ پہلے اِنکو پڑھاتا تھا۔۔ باد میں مینُو کو تھوڑی اِںگلیش سیکھا دیتا تھا۔ّ۔ " چاچا اُس بات کو کھا گیے کِ کبھی کبھی وو 'یہاں' بھی سو جاتا تھا۔ّ۔،" کل 'وو' کیِ دِن باد آیا تھا۔ّ۔!"

"ہُوںمّمّ۔ّ۔" پولیس والے نے دُوسرے پولیس والے کو دیکھا۔۔ اُسنے بھی اَپنا سِر ہِلا دِیا۔ّ۔

"کل کِتنے بجے گیا تھا واپس۔ّ؟" پولیس والے نے چاچا کی اور دھیان سے دیکھتے ہُئے کہا۔ّ۔

"وو تو اِنہے پتا ہوگا۔ّ؟" چاچا نے میری اؤر دیکھ کر کہا،"کِتنے بجے گیا تھا اَںجُو؟"

اَچانک مُجھسے سوال ہونے پر میں ہڑبڑا سی گیّ۔۔ سمجھ میں ہی نہی آیا کِ کیا کہُوں۔۔ اؤر کیا نہی۔۔ پولیس والا بھی میری اؤر ہی دیکھنے لگا تھا۔۔ اِسیلِئے میں اؤر بھی زیادا پریشان ہو گیّ۔ّ۔

تبھی پِںکی چاے لیکر آ گیّ۔۔ اُسنے چاے کا کپ پکڑا اؤر چُسکی لیکر بولا،"کوئی بات نہی۔ّ۔ آرام سے سوچ کر بتا دو۔ّ۔!"

"ججئی۔۔ یہی کوئی 11 بجے کے آسپاس گیا ہوگا۔ّ۔!" مُجھے یہی کہنا اُچِت لگا۔۔ مُجھے لگا اَگر مینے اُسکے پہلے جانے کی بات بول دی تو پھِر اؤر سوال کھڑے ہو جاّیںگے۔ّ۔

پولیس والا میری ہی اؤر دیکھتا رہا۔ّ۔،" ٹھیک ٹھیک یاد ہے نا؟"

مینے 'ہاں' میں سِر ہِلا دِیا،"جی۔۔ گیارہ یا سوا گیارہ بجے ہی گیا تھا۔ّ۔"

"چلو کوئی بات نہی۔ّ۔ 2-4 دِن میں پوسٹمورٹُوم رِپورٹ آ جاّیگی۔۔ مُجھے باد میں آنا پڑیگا۔ّ۔!" اُسکے کھڑا ہوتے ہی دُوسرا پولیس والا بھی جھٹ سے چاے اَدھُوری چھچوڑ کر کھڑا ہو گیا۔ّ۔

"جی۔۔ کوئی بات نہی۔۔ پر۔۔ ہمیں جو کُچّھ پتا تھا۔۔ ہم بتا چُکے ہیں۔۔ آپ ترُن کی رِپورٹ کے باد یہاں کیُوں آنا چاہتے ہیں۔۔" چاچا نے آشںکِت ہوکر پُوچّھا۔ّ۔

"اوہو۔۔ ایسی کوئی کھاس بات نہی ہے ملِک ساہب۔۔ بس۔۔ گاںو میں کِسی نے مُجھے بتایا کِ وو یہاں پڑھانے آتا تھا۔۔ پھِر مینُو اُسکے ساتھ کالیج میں بھی پڑھتی ہے۔۔ اِس'سے کُچّھ نا کُچّھ جانکاری مِل ہی جاّیگی۔۔ اُسکے دوستوں کے بارے میں۔۔ آپ بیپھِکر رہیں۔ّ۔ !" پہلی بار اُس پولیس والے نے چاچا سے تمیز سے بات کی۔ّ،" اَبھی مینُو بھی کُچّھ بتانے کی ہالت میں نہی ہے۔۔ اِسیلِئے کہا تھا کی باد میں آاُنگا۔ّ۔!"

تبھی مینُو اُٹھ کر بیٹھ گیّ۔۔ اَپنے ہاتھوں سے اَپنے چیہرے پر سُوکھ چُکے آںسُاوں کو ساپھ کرتے ہُئے رُوکھی سی آواز میں بولی،" جی۔۔ اَبھی پُوچّھ لیجِئے۔۔ میں ٹھیک ہُوں۔۔"

"اوہّ۔۔ تو آپ بھی سب سُن رہی تھی۔۔" پولیس والے نے پلٹ کر کہا اؤر واپس آکر کُرسی پر بیٹھ گیا۔۔

"جی کیا پُوچّھا ہے آپکو؟ پُوچّھ لیجِئے۔۔ میں ٹھیک ہُوں۔۔!" مینُو نے نزریں جھُکائے ہُئے ہی کہا۔ّ۔۔

پولیس والے نے چاچا کی اؤر دیکھ کر کہا،" میں مینُو سے اَکیلے میں کُچّھ پُوچّھنا چاہتا ہُوں۔ّ۔ آپ تھوڑی دیر کے لِئے اُپر چلے جاّو۔ّ۔!"

چاچا نے گھبراکر چاچی کی اور دیکھا اؤر تھوڑے سے ہڑبڑاہٹ میں بولے۔ّ،" پر۔۔ ایسی کیا بات پُوچّھنی ہیں ساہب۔۔ آپ پُوچّھ لیجِئے جو بھی پُوچّھنا ہے۔۔ ہم کُچّھ نہی بولیںگے۔ّ۔!" اؤر دونو وہیں کھڑے رہے۔۔ میں چلکر چاچی کے پاس آکر کھڑی ہو گیّ۔ّ۔

"آپ سمجھنے کی کوشِش کریں۔۔ مُجھے کالیج کی کُچّھ باتیں پُوچّھنی ہیں۔۔ آپکے یہاں رہتے یے کھُل کر بتا نہی پاّیگی۔ّ۔!" پولیس والا لںبُو بولا۔۔

"ہماری بیٹی ایسی نہی ہے ساہب۔۔ سیدھی کالیج جاتی ہے۔۔ اؤر سیدھی آتی ہے۔۔ پھالتُو باتوں پر یے دھیان نہی دیتی۔ّ۔ اؤر کم سے کم اَپنی ممّی کو تو سب کُچّھ بتا ہی دیتی ہے۔۔ میں چلا جاتا ہُوں۔۔ اِسکی ممّی یہیں بیٹھ جاّیگی۔۔" چاچا نے ناراز سا ہوتے ہُئے کہا۔ّ۔

"دیکھِئے۔۔ میرے لِئے تو چاہے اِسکو پںچایت میں لے چلو۔۔ میں تو وہاں بھی پُوچّھ لُوںگا۔ّ۔ مُجھے کیا فرق پڑتا ہے۔۔ میں تو اِسکے بھلے کے لِئے ہی آپکو جانے کے لِئے بول رہا ہُوں۔۔ سِرف اِسی بات کے کارن مینے آپ لوگوں کو وہاں نہی بُلوایا۔۔ میں ایسا بھی کر سکتا تھا۔۔ باکی آپکی مرزی ہے۔ّ۔ ہاں مینُو۔۔ میں تُمسے کُچّھ بھی پُوچھُو۔۔ اِنکے سامنے۔۔ تُمہے کوئی ایتراج تو نہی ہے نا۔ّ۔ ؟متلب۔۔ تُمہاری سارے باتیں تُمہاری ممّی کو سچ میں پتا ہوتی ہیں کیا؟" اِنسپیکٹر کی آںکھیں گھُوماتے ہُئے جاکر مینُو پر جم گیّ۔ّ۔

مینُو کُچّھ دیر اَپنا سِر جھُکائے بیٹھی رہی۔۔ پھِر ممّی کی اؤر دیکھ کر بولی،" آپ لوگ جاّو ممّی۔۔ اَںجُو میرے پاس رہ جاّیگی۔ّ۔!"

چاچا چاچی کُچّھ دیر اُنمانے سے وہیں کھڑے رہے۔۔ پھِر چاچا نے مُوڈ کر کہا،" ٹھیک ہے۔۔ آ جاّو تُم بھی۔ّ۔"

چاچا چاچی دونو اُپر چلے گیے۔۔ میں اؤر مینُو دونو اَسمنجھس سے اُنن پولیس والوں کو دیکھنے لگے۔ّ۔۔

"کؤنسے کالیج میں ہو مینُو؟" پولیس والے نے مینُو کو شرارتی نزروں سے گھُور کر دیکھا۔ّ۔۔

مینُو نے بھی اُنن آںکھوں میں للک کو پہچان لِیا۔۔ اُسنے تُرںت اَپنا سِر جھُکا لِیا،" جاٹ کالیج میں۔ّ۔!"

"اَرے واہ! میں بھی تو اُسی کالیج میں پڑھا ہُوں۔۔ 2 سال پہلے ہی گریجُیّشن کںپلیٹ کی ہے وہاں سے۔۔" پولیس والے نے کہا اؤر مینُو کے برابر والی چارپائی پر جاکر بیٹھ گیا۔ّ،" تبھی پولیس میں سیلیکشن ہو گیا تھا۔۔ بائی دا وے، آئی'م اِنسپیکٹر مانو!" اُسنے کہا اؤر مینُو کی ترپھ اَپنا ہاتھ بڑھا دِیا۔ّ۔ مِلانے کے لِئے!

پر مینُو کے دونو ہاتھ کںبل میں ہی دُبکے رہے۔۔ اُلٹا وہ تھوڑی سی کھِسک کر پِچھے ہو گیّ۔ّ۔

"ویل۔ّ۔" اِنسپیکٹر نے اَپنا دُوسرا ہاتھ بھی آگے بڑھایا اؤر پہلے بڑھے ہُئے ہاتھ کی ہتھیلی کھُجلانے لگا۔۔ اَپنی کھیج مِٹانے کے لِئے۔ّ۔،" کے۔کے۔ ماںن سر اَب بھی وہاں ہیں کیا؟ بڑا اَچّچھا پڑھتے تھے۔ّ۔ وو میرے پھیوُریٹ سر تھے۔ّ۔!"

"جی۔۔ اَب 'وو' پرِنسِپل ہیں۔ّ۔ پر آپ یے باتیں ممّی پاپا کے سامنے بھی تو پُوچّھ سکتے تھے۔ّ۔ وو پتا نہی کیا سوچ رہے ہوںگے۔۔" مینُو نے شِکایتی لہجے میں کہا۔ّ۔اؤر مُجھے کھڑی دیکھ کر بولی،"یہاں آ جاّو اَںجُو۔۔ میرے پاس بیٹھ جاّو!"

میں جاکر اُسکی چرپائی پر بیٹھ گیّ۔ّ۔۔

اَچانک 'وو' اِنسپیکٹر سینجیدا سا ہوکر پِچھے ہٹ گیا۔۔ کُچّھ دیر سوچتا رہا۔۔ پھِر بولا۔ّ،"تو میں یے مان لُوں کِ اَںجلِ کے سامنے تُمسے کُچّھ بھی پُوچّھ لُوں۔۔ تُمہے کوئی فرق نہی پڑیگا۔ّ۔!"

"جی۔۔ پُوچہِئے!" مینُو نے آشںکِت ہوکر جواب دِیا۔ّ۔۔

"ترُن کو تُم کِتنا جانتی تھی۔ّ۔" اِنسپیکٹر نے پُوچّھا۔ّ۔

یے سوال سُنتے ہی مینُو کی آںکھوں میں آںسُو آ گیے۔۔ پر وو اَپنے کو سںیمِت رکھتے ہُئے بولی،" جی۔۔ میرے ساتھ کالیج میں پڑھتا تھا۔۔ بہُت اِںٹیلِجیںٹ تھا۔۔ ہمارے گاںو کا تھا اؤر ہُومیں پڑھنے آتا تھا۔ّ۔ بس!"

"بس؟" اِنسپیکٹر نے مینُو کے آخِری شبد کو دوہرایا۔۔ پر اُسکے 'بس' میں پرشنوچک بھاو تھے۔ّ۔۔

"جی۔ّ۔ !" مینُو نے اَپنا سِر جھُکائے ہُئے اِتنا ہی کہا۔ّ۔۔

"پر۔۔ آپکو دیکھ کر تو کوئی بھی کہ سکتا ہے کِ آپکو اُس'سے لگاو تھا۔۔ 'پھِلمی' بھاشا میں کہُوں تو۔۔ پیار۔۔ یا ۔۔۔ آکرشن۔ّ۔ یا۔ّ۔ زیادا کھُل کر بولُوں تو۔ّ۔شاریرِک آکرشن! تُمہارے گھر والوں نے پتا نہی 'اِس' آکرشن کو آج تک کیُوں نہی پہچانا۔ّ۔۔ میں تو دیکھتے ہی سمجھ گیا تھا۔ّ۔" اِنسپیکٹر نے رُک رُک کر بات پُوری کی۔ّ۔۔

مینُو اؤر میں۔۔ دونو اُسکی بات سُنکر ستبدھ ہو گیّ۔۔ پر میں کُچّھ نا بولی۔۔ میں اَپنا مُںہ کھولے مینُو کی اور دیکھنے لگی۔ّ۔۔

"ییئے۔۔ آپ کیا بات کر رہے ہیں۔ّ؟ ایسا کُچّھ نہی تھا۔ّ۔!" مینُو سکپکا کر بولی۔ّ۔

"تو پھِر ایسا ہوگا کِ آپ روز یُوںہی روتی رہتی ہوںگی۔۔ کِتنے ہی لوگ مرتے ہیں روج۔۔ ہے نا؟" اِنسپیکٹر نے ویںگے کِیا۔۔

مینُو نے کوئی جواب نہی دِیا۔ّ۔

"بولتی کیُوں نہی۔ّ؟ ایسا کیا تھا تُم دونو کے بیچ۔۔ جو آپکو اِس ترہ سے رونے پر مجبُور کر رہا ہے۔۔ جیسے کوئی اَپنا چلا گیا ہو۔۔!" اِنسپیکٹر نے سیدھے سیدھے پُوچّھا۔ّ۔۔

مینُو پھپھک پڑی۔ّ،" پلیز۔۔ آپ ایسے سوال نا کریں۔۔ ہاں۔۔ وو ہم سبکو اَچّچھا لگتا تھا۔ّ۔ ہمارے گھر روز آتا تھا۔۔ اَب ایسے تو گھر میں رہنے والے 'کُتّے' کے لِئے بھی دُکھ ہوتا ہے۔۔ تو کیا آپ اُسکو بھی اُسی نزر۔ّ۔۔"

اِنسپیکٹر مُسکُراتا ہُآ بولا،" تو تُمہارے کہنے کا متلب ہے کِ 'ترُن' تُمہارے لِئے سِرف ایک 'کُتّا' تھا۔۔ پلیز ڈان'ٹ مائیںڈ۔۔!"

"م‍میئینے تو سِرف اُداہرن دِیا تھا۔۔ آپ۔ّ۔!" مینُو نے اُسکی نزروں میں نزریں ڈال کر ہتاشا سے دیکھا۔ّ۔

"چلو چھچوڑو۔۔ کل جب وو آیا تو یہاں پر کؤن کؤن تھا۔ّ۔؟" اِنسپیکٹر نے بات پلٹ دی۔ّ۔

"ہم تینو ہی تھے۔۔ اؤر ایک بار پاپا آئے تھے۔۔ نیچے۔۔ درواجا کھولنے۔ّ۔" مینُو نے یے بات کہ کر اِنسپیکٹر کو ایک اؤر بات پکڑا دی۔ّ۔

"کیُوں؟ تُم میں سے کوئی بھی تو درواجا کھول سکتی تھی۔ّ؟"

"ججئی۔۔ وو ہمیں اُسکی آواز سُنائی نہی دی۔ّ۔!" مینُو نے وہی سپھائی دے ڈالی جو رات چاچا کو دی تھی۔ّ۔

"ہُوںمّ۔ّ۔ پھِر کیا ہُآ؟" اِنسپیکٹر نے اِس اَںداج میں پُوچّھا۔۔ جیسے اُسکو پتا ہو کِ کل رات یہاں کُچّھ اَلگ ہُآ ہو۔ّ۔

مینُو بھی اُسکے اَںداج کو دیکھ کر ہڑبڑا گیّ۔ّ۔،" ججئی۔۔ کیا متلب۔ّ؟ بس پڑھایا اؤر پھِر چلا گیا۔ّ۔!" مینُو کی ساںسیں بھاری ہو گیّ۔ّ۔

"کِتنے بجے؟" اِنسپیکٹر نے پُوچّھا تو میں ڈر گیّ۔۔ مُجھے لگا کہیں مینُو اُسکے جلدی واپس جانے کی بات نا کہ دے۔ّ۔۔

"یہی۔۔ کوئی 11 بجے کے آسپاس۔ّ۔" مینُو کا جواب سُنکر میری جان میں جان آئی۔ّ۔

"آپنے اِس بات کا جواب بڑی جلدی دے دِیا۔ّ۔ اِسکا متلب آپ لیتے ہُئے ہماری ساری باتیں سُن رہی تھی۔ّ۔" اِنسپیکٹر نے اَپنی آںکھیں سِکوڈ کر اُسکو گھُورا۔ّ۔۔

"ککیا متلب۔ّ؟ مُجھے پتا تھا کِ وو کِتنے بجے گیا تھا۔۔ مینے بتا دِیا۔۔" مینُو اِنسپیکٹر کو دیکھتے ہُئے بولی۔ّ۔۔

"نہی۔۔ بس۔۔ تُمہارے پاپا کہ رہے تھے کِ وو کبھی 10 بجے تو کبھی 12 بجے جاتا تھا۔۔ اِسیلِئے مُجھے لگا تُمہے یاد کرکے بولنا چاہِئے تھا۔ّ۔ ویسے۔۔ کل کیا پڑھایا تھا اُسنے؟" اِنسپیکٹر اَب سیریّس ہوتا جا رہا تھا۔ّ۔

اِس سوال پر ہم دونو ہی بگلے جھاںکنے لگے۔ّ۔ پھِر کُچّھ دیر باد مینُو بولی۔ّ،" ایسی باتیں کیُوں پُوچّھ رہے ہیں آپ۔ّ۔ّ؟"

اِنسپیکٹر مُسکُراتا ہُآ بولا،" کوئی بات نہی۔ّ۔ چھچوڑو! یے ہی بتا دو کِ اُسکو کِسنے مارا ہے۔ّ؟"

مینُو اَچانک کاںپنے سی لگی،" یائی۔ّیے کیا۔۔ پُوچّھ رہے ہیں آپ؟ ںمُجھے کیا پتا؟"

"ہا ہا ہا۔۔ اِدھر اُدھر کی بات کرُوں تو آپکو تکلیف ہوتی ہے۔۔ سیدھے متلب کی بات پر آ جاُّ تو آپکو تکلیف ہوتی ہے۔۔ ٹھیک ہے۔۔ آپ ہی بتا دیجِئے کِ کیا کیا پُوچھُو۔۔ تاکِ میں کاتِل تک پہُںچ جاُّ؟ ۔۔ آخِر یے ہی تو کام ہے میرا!" اِنسپیکٹر نے گھاگھ لہجے میں کہا۔ّ۔

"ایمیم۔ّہمیں کیا پتا۔۔ آپ پتا لگائیئے۔۔ مُجھسے کیُوں پُوچّھ رہے ہیں آپ۔۔ یے سب۔۔"مینُو پُوری ترہ سے ہڑبڑا گیی تھی۔ّ۔

"اِسیلِئے پُوچّھ رہا ہُوں۔۔ کیُوںکی 'اُسکے' مرڈر کے تار آپسے جُڑے ہُئے ہیں۔۔ پہلے مینے یے سوچا تھا کِ تُمہارے اؤر ترُن کے سںبںدھوں کا تُمہارے گھر والوں کو پتا چل گیا ہوگا۔۔ اِسیلِئے اُنہونے اُسکو ختم کروا دِیا۔ّ۔ پر اَب۔۔ اُنسے بات کرنے کے باد میں نِسچِںت ہُوں۔۔ اُنکو کُچّھ نہی پتا اِس بارے میں۔۔ پر 'تُمہارے' چیہرے سے ہی لگ رہا ہے کِ 'بھیںس' یہاں پھںسی کھڑی ہے۔ّ۔ سمجھ گیی نا؟" اِنسپیکٹر کی بات سُنکر مینُو کا بُرا ہال ہو گیا۔۔

"میں سچ کہ رہی ہُوں۔۔ مُجھے کُچّھ نہی پتا۔ّ۔!" مینُو سُبکتے ہُئے بولی۔ّ۔

"تُمہے میرا شُکرگُزار ہونا چاہِئے۔۔ مینے یے باتیں تُمہارے گھر والوں کے سامنے نہی کہی۔۔ گاںو والوں کو کِسی کو نہی پتا کِ میں تہکیکات یہاں سے شُرُو کر رہا ہُوں۔ّ۔ سِرف اِسیلِئے تاکِ آپ بیقُسُور نِکلیں تو تُمہاری اِزّت بچی رہے۔ّ۔ پر کم سے کم اَب میں تو جانتا ہی ہُوں کِ تُمہارے اؤر ترُن کے بیچ سںبںدھ تھا۔۔ جو سماج کی نزروں میں غلت تھا۔ّ۔

اؤر یے بھی کِ تُمہارا 'وو' ایک ہی یار نہی تھا۔ّ۔ اؤر بھی تھے۔۔ اؤر تُمہے پتا ہے کِ اُنمیں سے کِسنے اُسکو مار دِیا۔ّ۔ اؤر مُجھے بھی جان'نا ہے۔۔ اَب تُم سیدھے تریکے سے بتاّو یا ٹیڑھے تریکے سے۔۔ مرزی تُمہاری ہے۔ّ۔؟"

میں اَواک سی ہوکر مینُو کے چیہرے کی اؤر دیکھنے لگی۔۔ مینُو اَجیب سی ہِچکِیاں سی لیتے ہُئے سِسکنے لگی۔۔ پر اُس اِنسپیکٹر پر کوئی فرق نہی پڑا۔۔ وو اُسکی اؤر دیکھتا ہُآ لگاتار مُسکُرا رہا تھا۔۔ آخِرکار مینُو کی سِسکِیاں کم ہُئی اؤر اُسنے تڑپ کر پُوچّھا،" یے سب کیسے کہ رہ ہیں آپ۔ّ؟ اؤر کیُوں؟"

"اِسیلِئے۔۔" اِنسپیکٹر نے کہا اؤر 3 پنّے اُسکو دِکھا کر مُسکُراتا ہُآ بولا۔ّ،" بڑی سُندر لِکھائی ہے۔ّ۔۔ یے۔۔ یے تُمہاری ہی لِکھائی ہے نا۔ّ؟"

ہم دونو کی ساںسیں اُپر کی اُپر اؤر نیچے کی نیچے رہ گیّ۔۔ مینُو ہکلاتے ہُئے بولی،" یایئے۔۔ یے آپکو کہاں مِلے؟"

"دیکھا! ڈھُوںڈھنے پر ہوں تو بھگوان بھی مِل جاتا ہے۔۔ بس شردّھا ہونی چاہِئے۔ّ۔ اَب کیا کہتی ہو۔ّ؟" اِنسپیکٹر اَب بھی مُسکُرا رہا تھا۔ّ۔

"بھگوان کی کسم۔۔ مُجھے نہی پتا اُسکو کِسنے۔۔ اؤر کیُوں۔ّ۔ّ۔ّ؟" مینُو دھیرے سے بولی۔ّ۔۔

"کوئی بات نہی۔ّ۔ وو سب باد میں دیکھ لیںگے۔ّ۔اَبھی آرام کرو۔۔ میں بار بار یہاں آاُنگا تو گھر والے پریشن ہو جاّیںگے۔ّ۔ کل کالیج آکر 'اِس' نںبر۔ پر پھون کر لو۔۔" اِنسپیکٹر مینُو کو ایک کاگج پر نںبر۔ لِکھ کر دیتا ہُآ بولا۔ّ۔ میں تُمہے کالیج سے لینے آ جاُّنگا۔۔ باکی باتیں اَب کل ہی کریںگے۔ّ۔" اِنسپیکٹر نے مُسکُرکر کہا اؤر اُسکی اور ہاتھ بڑھا دِیا۔۔ مِلانے کے لِئے!

مینُو سُنن سی ہوکر اِنسپیکٹر کے ہاتھ کی اور دیکھتی رہی۔۔ پھِر اُسنے اَپنا ہاتھ کںبل سے باہر نِکالا اؤر دُوسرے ہاتھ سے اَپنے آںسُو پؤںچّھتے ہُئے اِنسپیکٹر کا ہاتھ پکڑ لِیا۔ّ۔۔

"یے۔۔ یے میرے ساتھ کیا ہو گیا اَںجُو؟۔۔ اَب کیا کرُوں میں؟ گھر والوں کو بھی میرے اؤر ترُن کے بارے میں پتا لگ گیا تو۔ّ۔؟ کِتنا وِشواس کرتے تھے مُجھپر۔۔ میں تو جی ہی نہی پاُّنگِ اَب!" پولیس والوں کے جاتے ہی مینُو نے رونا بِلکھنا شُرُو کر دِیا۔ّ۔۔!"

مینے بھی بھرے مںن سے اُسکو شںتونا دینے کی کوشِش کی،"نہی پتا لگیگا دیدی۔۔ آپ کُچّھ مت بتانا اُنہے۔ّ۔ اُنکو بتانا ہوتا تو وو آج ہی نا بتا دیتے۔۔ آج بھی تو اُنکو اُپر بھیج دِیا تھا نا۔۔ پہلے ہی۔۔!"

"کُچّھ نہی پتا اِنن پولیس والوں کا۔۔ یے سب اِنکی چال ہوتی ہے۔۔ اَگر مُجھسے اِنکو سچّائی کا پتا نہی لگا تو پھِر تھوڑے ہی میرے بارے میں سوچیںگے۔ّ۔ اؤر جب مُجھے کھُد ہی کُچّھ نہی پتا تو میں بتؤںگی کیا؟" مینُو نے روتے ہُئے ہی کہا۔ّ۔

"پر دیدی۔۔ اِنہونے آپکو شہر میں مِلنے کو کیُوں بولا۔۔ ؟" مینے آشںکِت ہوکر پُوچّھا۔ّ۔۔

"اَب کیا پتا؟" مینُو نے اَپنے گالوں پر لگاتار لُڑھک رہے آاُنسُاو کو پُںچّھتے ہُئے سُبکِ لی۔ّ۔

"کہیں۔ّ۔ اُنن لیٹرس کے لِئے اَب یے تو آپکو بلیکمیل نہی کریںگے نا۔ّ؟" میرے دِماغ میں جو آیا۔۔ مینے بول دِیا۔ّ۔

میری بات سُنکر مینُو نے پھِر سے رونا شُرُو کر دِیا۔ّ۔

"میں تو بس ایسے ہی کہ رہی ہُوں دیدی۔۔ پولیس والے ایسا تھوڑے ہی کر سکتے ہے۔۔ آپ چُپ ہو جاّو۔۔ شاید اُپر سے کوئی آ رہا ہے۔ّ۔!" مینے سیڑھِیوں سے آہت سُنکر کہا۔ّ۔

مینُو نے تُرںت اَپنے آںسُو پؤںچّھ لِئے۔ّ۔ تبھی اُپر سے چاچی اؤر پِںکی دونو نیچے آ گیے۔ّ۔

"ایسا کیا پُوچّھ رہے تھے وو؟" چاچی نے آتے ہی مینُو سے سوال کِیا۔ّ۔

مینُو کوئی جواب نہی دے پائی۔۔ اَچانک میرے ہی مںن میں کُچّھ آ گیا جو مینے بول بھی دِیا،" کُچّھ کھاس نہی چاچی۔ّ۔ ترُن کے دوستوں کے بارے میں پُوچّھ رہے تھے۔۔ کیسے ہیں کیا کرتے ہیں۔۔ ترُن پڑھائی میں کیسا ہے۔۔ اِس ترہ کی باتیں۔ّ۔"

"اِنن باتوں کو پُوچّھنے کے لِئے وو ہمیں اُپر کیُوں بھیجتے۔ّ؟ زرُور کوئی دُوسری ہی بات ہوگی۔۔ تُم کُچّھ چھِپا رہی ہو نا؟" چاچی نے گھُور کر مینُو کو دیکھا۔ّ۔

"نیی ممّی۔۔ وو۔۔ یے بھی پُوچّھ رہے تھے کِ ترُن کی کوئی گرل پھریںڈ تو نہی تھی۔۔ اُسکا کوئی اِس ترہ کا لاپھد۔ّ۔ّ۔ کالیج میں۔۔ بس اِسی ترہ کی باتیں پُوچّھ رہے تھے۔۔ اِسیلِئے آپکو اُپر بھیج دِیا ہوگا۔۔!" مینُو نے میری بات تھوڑی سی اؤر سُدھار دی۔ّ۔

"تو۔۔ تُمنے کہ دِیا ہوگا نا کی وو ایسا نہی تھا۔ّ۔؟" چاچی نے پاس بیٹھکر پُوچّھا۔ّ۔

"ہاں۔ّ۔" مینُو نے اَپنا سِر ہِلاتے ہُئے کہا اؤر پھِر اَپنے آںسُو پؤچّھنے لگی۔ّ۔۔

"کِتنا نایکدیل تھا بیچارا۔۔ کیڑے پڑیں اُنکو جِنہونے اِتنا گھٹِیا کام کِیا ہے۔ّ۔ تُو رو مت بیٹی۔۔ بھگوان اُنکو زرُور سزا دیںگے۔ّ۔ بس کر۔۔ اَب اَپنی پڑھائی کر لے۔ّ۔ اِنن بچِّیوں کا بھی تو کل پیپر ہے نا۔ّ۔ آج تو اِنن دونو نے کھانا بھی نہی کھایا آکر۔ّ۔ تُو بھی یہیں کھا لینا اَںجُو۔۔ میں کھانا بنانے جا رہی ہُوں۔۔ آجا۔۔ میرے ساتھ اُپر آ ایک بار۔ّ۔!" چاچی نے کھڑی ہوکر مُجھے ساتھ آنے کو کہا۔ّ۔۔

"نہی چاچی۔۔ میں گھر جا رہی ہُوں۔۔ ممّی چِںتا کر رہی ہوگی۔ّ۔"مینے کہا۔ّ۔

"اَرے مینے پھون کر دِیا تھا۔۔ تُو آ تو ایک بار۔ّ۔!" چاچی نے میرا ہاتھ پکڑا اؤر اُپر لے گیّ۔ّ۔

"آجا۔۔ کِچن میں آجا۔۔ اَںدر تیرے چاچا ہوںگے۔۔! چاچی نے کہا اؤر میں اُنکے ساتھ کِچن میں چلی گیّ۔ّ۔۔

"دیکھ بیٹی۔۔ سچ سچ بتانا۔۔ کُچّھ بھی چھِپانا مت۔ّ۔" چاچی نے کہا۔ّ۔

"کیا چاچی۔ّ؟" میرا دِل دھڑکنے لگا۔ّ۔

"پولیس والوں نے کُچّھ اؤر بات بھی پُوچھِ تھی کیا؟" چاچی نے میرے گال سہلاتے ہُئے پُوچّھا۔ّ۔

"نہی چاچی۔۔ بس اُسکے کالیج کے بارے میں ہی پُوچّھ رہے تھے۔۔ پرِنسِپل کؤن ہے۔۔ ؟ ایسی ایسی باتیں۔ّ۔" مینے اُنسے نزریں مِلائے بِنا ہی جواب دِیا۔ّ۔

"ترُن یہاں آتا تھا تو تُونے کُچّھ ایسا ویسا تو مہسُوس نہی کِیا نا؟" چاچی نے پُوچّھا۔۔

میں سمجھ تو سب گیی تھی۔۔ پر اَںجان بنتے ہُئے بولی،" کیسا چاچی۔ّ۔؟"

"چل چھچوڑ۔۔ ایک بات مان لیگی نا میری۔ّ۔!" چاچی نے پیار سے کہا۔ّ۔

"کیا؟" میں گھبرا سی گیّ۔ّ۔

"وو۔۔ گھر پر مت بتانا کی پولیس والے یہاں آئے تھے۔۔ اؤر مینُو سے پُوچہتاچّھ کر رہے تھے۔۔ سمجھ گیی نا۔۔ بیوجہ اُنہے بھی چِںتا ہوگی۔۔ اؤر بات کہیں کی کہیں نِکل جاتی ہے بیٹی۔۔ تُو تو جانتی ہے کِ مینُو کِتنی بھولی ہے۔۔!"

"جی چاچی۔ّ۔ میں تو ویسے بھی کِسی کو نہی بتاتی۔۔" مینے بھولیپن سے جواب دِیا۔ّ۔۔

"شاباش۔۔ جا اَب۔۔ پڑھ لے اَچّھے سے۔۔ اؤر مینُو کو بھی سمجھانا۔۔ اَب پریشان ہوکر مِلیگا بھی کیا؟ وو بیچارا واپس تو نہی آ جاّیگا نا۔ّ۔ جا۔۔ میں کھانا بنا دیتی ہُوں۔۔ تُمہارے لِئے۔ّ۔" چاچی نے پیار سے میرے سِر پر ہاتھ پھیرا۔ّ۔

"جی اَچّچھا چاچی۔۔" مینے کہا اؤر نیچے آ گیّ۔ّ۔۔

"اَب کیا ہوگا دیدی۔۔" پِںکی گھبرائی ہُئی مینُو کا ہاتھ پکڑے پُوچّھ رہی تھی۔ّ۔۔

"اِسکو۔۔ بتا دِیا کیا؟" مینے جاتے ہی مینُو سے پُوچّھا۔ّ۔

مینُو نے ہاں میں سِر ہِلایا اؤر بولی،"میری یے سمجھ میں نہی آ رہا کِ 'وو' ایسا کیُوں کہ رہے تھے کِ تُمہارے کیِ یار ہیں۔۔ اؤر اُنمیں سے ہی کِسی نے۔ّ۔"

"یُوںہی تُکّا مار رہے ہوںگے۔ّ۔ وو تو یے بھی کہ رہے تھے کِ آپکو پتا ہے کِ کِسنے مارا ہے ترُن کو۔ّ۔" مینے کہا۔ّ۔۔

"ہاں۔۔ ہو بھی سکتا ہے۔ّ۔!" مینُو نے لںبی ساںس لیکر کہا۔ّ۔

"پھِر۔۔ تُم کل اُنکو پھون کروگی کیا۔۔ دیدی؟" پِںکی نے پُوچّھا۔ّ۔ مینُو نے کوئی جواب نہی دِیا۔۔ پِںکی نے پھِر کہا،" بولو نا دیدی۔ّ؟"

"پتا نہی۔۔ میری تو کھُد سمجھ میں نہی آ رہا کِ کیا کرُوں۔ّ۔؟" مینُو نے کہا۔ّ۔۔

"اَگر کرو تو اُنکے ساتھ بیٹھکر کہیں مت جانا دیدی۔ّ۔ مینے دیکھا تھا۔۔ وو بار بار آپکو بُری نزر سے دیکھ رہے تھے۔۔" پِںکی نے بھولا سا چیہرا بناکر کہا۔ّ۔

مینُو نے اُسکی اِس بات کا بھی کوئی جواب نہی دِیا۔۔ 'لڑکے تو سبھی ایسے ہوتے ہیں۔۔ اُنکی تو نزر ہی بُری ہوتی ہے۔۔ پر اِنسپیکٹر تو اُس'سے 4-5 سال ہی بڑا تھا۔ّ۔' ۔۔ّ۔ مینُو من ہی من سوچتی رہی۔ّ۔۔
اَگلے دِن ہم دونو تیّار ہوکر سکُول جانے کے لِئے اُنکے گھر سے نِکال لِئے۔۔ مینُو تو تب تک اُٹھی بھی نہی تھی۔۔ میں اُس'سے بات کرنا چاہتی تھی۔۔ پر چاچی نے منا کر دِیا۔ چاچی نے بتایا کِ وو رات بھر سوئی نہی ہے۔

ہم گاںو سے نِکلے ہی تھے کِ سںدیپ ہمیں پیدل ہی جاتا دِکھائی دِیا۔۔ وو اَکیلا ہی تھا۔۔ ہمیں آتا دیکھ کر وہ رُک گیا۔۔

"ہیلو!" سںدیپ نے پہلے پِںکی اؤر پھِر مُجھے دیکھ کر کہا۔۔

"ہائی۔۔" جواب سِرف مینے دِیا۔۔ پِںکی کُچّھ دیر چُپ رہنے کے باد جھِجھکتے ہُئے بولی۔ّ،" کُچّھ پتا چلا۔۔ ترُن کے بارے میں۔ّ۔؟"

سںدیپ کے چیہرے پر اُداسی سی چھا گیّ،" پتا نہی۔۔ پر منیشا کہ رہی تھی کِ اُسنے رات کو لڑائی سی کی آوازیں سُنی تھی۔۔ چؤپال میں!"

"کؤن منیشا؟ وہی کیا جو ٹراکٹیر چلاتی ہے۔۔ اؤر موٹرسائیکل بھی؟" پِںکی نے سںدیپ کی اور دیکھ کر پُوچّھا۔ّ۔

"ہاں۔۔ اؤر کیا کرے بیچاری !۔۔ نا تو اُسکا کوئی بھائی ہے۔۔ اؤر نا ہی 'ما' ۔۔۔ باپ شراب پیکر پڑا رہتا ہے 24 گھںٹے۔۔ وہی تو سںبھال رہی ہے گھر کو۔۔" سںدیپ نے پِںکی کی بات پر پرتِکرِیا دی۔ّ۔

"پر اُسنے کیسے سُنی؟" مینے پُوچّھا۔ّ۔

"اَرے۔۔ اُسکا گھر چؤپال کے ساتھ لگتا ہُآ ہی تو ہے۔ّ۔!" سںدیپ بولا۔ّ۔

"ہاں۔۔ وو تو مُجھے پتا ہے۔۔ پر اِتنی رات کو۔۔ وو جاگ رہی تھی کیا؟" مینے یُوںہی بات کرنے کے لِئے بات کو آگے بڑھا دِیا۔۔ سںدیپ سے بات کرتے ہُئے مُجھے بہُت اَچّچھا لگ رہا تھا۔ّ۔۔

"وو تو کہ رہی ہے کِ اُسنے 9:00 بجے کے آسپاس آوازیں سُنی تھی۔ّ۔ 'وو' بھیںساں کو چارا ڈالنے کے لِئے گھر کے باہر برامدے میں آئی تھی۔ّ۔ تبھی اُسکو چؤپال سے کُچّھ بہس ہونے کی آوازیں آئی۔۔ اُسنے اَپنی دیوار سے جھاںک کر دیکھنے کی کوشِش کی پر اَںدھیرے کی وجہ سے کُچّھ دِکھائی نہی دِیا۔ّ۔ پھِر وو یے سوچ کر واپس چلی گیی کِ 'نشیڑی' (نشا کرنے والے) آکر بیٹھ گیے ہوںگے۔ّ۔

مینے گھبراکر پُوچّھا،" اُسنے۔ّ۔ کِسکو بتائی ہے یے بات؟"

"ترُن کے گھروالوں کو۔۔ اؤر اُس 'چھہوکرے' سے اِنسپیکٹر کو بھی۔ّ۔ کیُوں؟" سںدیپ نے بتانے کے باد سوال کِیا۔ّ۔۔

"نہی۔۔ کُچّھ نہی۔ّ۔" میرا دِل بیٹھ گیا۔۔ اِنسپیکٹر نے یے ' 9:00 بجے والی بات کا جِکر ہمارے پاس کیُوں نہی کِیا۔۔ مینے تو اُسکو یے بتایا تھا کِ ترُن 11:00 بجے تک ہمارے پاس ہی تھا۔۔" میرے مںن میں اَںجانا سا ڈر بیٹھتا چلا گیا۔۔

"اَرے ہاں۔۔ وو۔۔ شِکھا تُمہے بُلا رہی تھی۔۔ کیِ دِن پہلے کہا تھا۔۔ مُجھے یاد ہی نہی رہا۔ّ۔" سںدیپ نے کہا۔ّ۔

"کِسکو؟" مینے پُوچّھا۔۔ پِںکی کُچّھ بول ہی نہی رہی تھی۔ّ۔

"تُم دونو ہی آ جانا۔۔ کیا دِکّت ہے؟" وہ مُسکُراتے ہُئے بولا۔ّ۔

"ٹھیک ہے۔۔ ہم دونو آ جاّیںگے۔ّ۔!" مینے اُسکو جواب دیکر پِںکی کا ہاتھ پکڑ کر کھیںچا،" کیا ہو گیا پِںکی؟"

"کُچّھ نہی۔۔" اُسنے سِرف اِتنا ہی کہا۔۔ شاید اُسکے مںن میں بھی وہی اُدھیڑبُن چل رہی تھی۔۔ جو میرے مںن میں تھی۔ّ۔۔
-------------------------------------

سکُول میں جاتے ہی مُجھے پرِنسِپل میڈم نے ایک ترپھ بُلا کر پُوچّھا۔ّ،" تُمہارے گاںو میں کِسی لڑکے کا مرڈر ہو گیا نا؟"

"جی۔۔ ترُن کا! " مینے سِر جھُکائے ہُئے ہی جواب دِیا۔ّ۔

"یے۔۔ وہی لڑکا تھا نا۔۔ جو۔۔ پرسوں یہاں آ گیا تھا۔ّ؟" میڈم بولتے ہُئی بیچ میں ایک بار جھِجھکی۔ّ۔۔

"جی!" مینے یُوںہی اُداسی بھری 'ہامی' بھری۔ّ۔۔

"اوہ مائی گاڈ! مُجھے بھی وہی لگ رہا تھا۔۔ آج نیُوسپّیّر میں اُسکی پھوٹو آئی ہُئی تھی۔۔ یے سب کیسے ہُآ؟" میڈم نے پُوچّھا۔ّ۔ّ۔

"پتا نہی میڈم!" مینے نیراستا سے جواب دِیا۔ّ۔

"ہُوںمّ۔ّ۔ کِسی کو بتانا مت۔ّ۔ اُس دِن وو لڑکے پھِر واپس آئے تھے۔۔ 'سر' کے ساتھ کُچّھ بات کرکے گیے تھے اَکیلے میں۔ّ۔ شاید اِنکے بیچ 'کاںپرمائیز' ہُآ تھا کُچّھ۔ّ۔ دُوسرے لڑکے سے پُوچّھنا!"

"جی۔۔ اُس'سے میں بات نہی کرتی میڈم۔۔ سِرف شکل سے ہی جانتی ہُوں۔ّ۔" مینے کہا۔۔

"چلو کوئی بات نہی۔ّ۔ مُجھے تو بڑی دیا آ رہی ہے۔۔ بیچارے کی۔۔ 'اِنن' سر کی بھی بہُت پولِٹِکل اَپروچ ہے۔۔ کِتنے تو شراب کے ٹھیکے چلاتے ہیں اِنکے۔ّ۔ّ۔ کہیں۔ّ۔ّ۔" وہ کُچّھ دیر چُپ رہی،"۔۔۔ پر تُم اِس بات کا جِکر مت کرنا کہیں بھی۔۔ تُمہاری بات بھی سامنے آ جاّیگی نہی تو! ۔۔ّ۔ سمجھ گیی نا۔ّ۔ّ؟" میڈم نے پھُسپھُستے ہُئے میرے کانو میں بات ڈال دی۔ّ۔۔

"جی۔۔ میڈم۔۔" مینے کہا اؤر پِںکی کے پاس آ گیّ۔ّ۔

"کیا کہ رہی تھی میڈم؟" پِںکی نے اُسکے پاس جاتے ہی مُجھسے پُوچّھا۔ّ۔۔

"چھچوڑ۔۔ باد میں بتاُّنگِ۔۔ پہلے پیپر دے لے۔ّ۔!" مُجھے اُسکو اِس وقت بیوجہ کی ٹینشن دینا اَچّچھا نہی لگا۔ّ۔
------------------------------------

کھیر۔۔ ہمارا پیپر اَچّچھا ہو گیا۔۔ اَگلے دِن چھُٹّی تھی۔۔ واپس آتے ہُئے بھی ہم سںدیپ کے ساتھ ہی آئے تھے۔ّ۔ وہ پِںکی کے گھر کے کریب تک ہمارے ساتھ آیا۔ّ۔

گھر جاتے ہی ہمنے دیکھا۔۔ مینُو نیچے اَکیلی ہی بیٹھی تھی۔ّ۔

"کیا ہُآ؟ گیی نہی کیا آج بھی؟" پِںکی نے پُوچّھا۔ّ۔

"نہی۔ّ۔!" مینُو نے مرا ہُآ سا جواب دِیا۔ّ۔۔

"پھِر۔۔ وو اِنسپیکٹر یہیں آ گیا تو؟" مینے بھاری من سے کہا۔ّ۔ّ۔


کرمشہ۔ّ۔ّ۔ّ۔ّ۔ّ۔ّ۔ّ۔ّ۔ّ۔ّ۔ّ۔ّ۔

(¨`·.·´¨) Always
`·.¸(¨`·.·´¨) Keep Loving &;
(¨`·.·´¨)¸.·´ Keep Smiling !
`·.¸.·´ -- raj sharma

User avatar
rajaarkey
Super member
Posts: 6633
Joined: 10 Oct 2014 10:09
Contact:

بالی اُمر کی پیاس پارٹ--16 urdu sexi stori

Post by rajaarkey » 02 Apr 2017 18:48


بالی اُمر کی پیاس پارٹ--16

گتاںک سے آگے۔ّ۔ّ۔ّ۔ّ۔ّ۔ّ۔ّ۔ّ۔ّ۔ّ۔ّ۔

"میں کیا کرُوں؟ میری تو کُچّھ سمجھ میں ہی نہی آ رہا۔۔ مُجھے ڈر لگ رہا ہے۔۔ اُسکو پھون کیسے کرُوںگی میں؟ وو تو۔۔ وو تو مُجھے کالیج سے لے جانے کی بات کر رہا تھا۔۔ میں اَکیلی بھلا۔ّ۔" مینُو پریشان سی ہوکر بول رہی تھی۔ّ۔

"کل چل پڑنا دیدی۔۔ کل ہماری چھُٹّی ہے۔۔ میں بھی آپکے ساتھ چل پڑُوںگی۔۔!" پِںکی نے اُسکو سہارا سا دینے کی کوشِش کی۔ّ۔

"نہی۔۔ ممّی پاپا کیسے مانیںگے؟ کوئی بہانا بھی نہی ہے۔۔ آئے اَںجُو! تُو چل پڑ نا میرے ساتھ۔ّ۔ پلیز!" مینُو نے کُچّھ سوچکر کہا،" میں چاچا چاچی کو بول کے دیکھ لُوںگی۔ّ۔!"

"پر۔۔ پر میں کیا کرُوںگی دیدی۔ّ؟" مینے اَچکچا کر کہا۔ّ۔

"دیکھ لے یار۔۔ تیرے ساتھ مُجھے بھی تھوڑی ہِمّت مِل جاّیگی۔۔ ہم دونو کو دیکھ کر تو وو بھی۔ّ۔" مینُو نے یاچنا بھری نِگاہوں سے میری اؤر دیکھا۔ّ۔

"ٹھیک ہے۔۔ پر۔۔ پاپا سے پُوچّھنا پڑیگا۔۔ 'وو' منا کر سکتے ہیں۔۔ اؤر پھِر بہانا تو وہاں بھی بنانا پڑیگا کُچّھ۔۔" مینے 'اَپنی' ترپھ سے ہاں کہتے ہُئے بولا۔ّ۔

"چل۔۔ میں اَبھی تیرے ساتھ گھر چلتی ہُوں۔ّ۔ میں منا لُوںگی اُنکو۔۔ کِسی بھی ترہ۔۔!" مینُو تھوڑے اُتساہ کے ساتھ بولی۔ّ۔

"پر۔۔ اَبھی تو ہمیں ایک بار سیکھا کے گھر جانا ہے۔۔ وو بُلا رہی تھی ہمیں۔۔ پتا نہی کیا بات ہے؟" پِںکی بیچ میں ہی بول پڑی۔ّ۔ میں تو بھُول ہی گیی تھی۔۔

"ٹھیک ہے۔۔ تُم تب تک وہاں ہو آاو۔۔ میں چاچی کے پاس جا رہی ہُوں۔۔ چاچا نے اَبھی پی تو نہی رکھی ہوگی نا؟" مینُو مُجھسے پُوچّھنے لگی۔ّ۔

"نہی۔۔ اَبھی تو شُرُو نہی کی ہوگی۔۔ آپ اَبھی چلی جاّو۔۔ پر میرا نام مت لینا کی مُجھے جانا ہے۔۔ پاپا منا کر دیںگے۔۔" مینے اُسکو پاپا کے میرے بارے میں وِچاروں سے اَوگت کرایا۔ّ۔

"ٹھیک ہے۔۔ میں اَبھی جا کر آتی ہُوں۔۔ تُم بھی مِل آاو شِکھا سے۔۔" مینُو نے کہا اؤر باہر چلی گیّ۔۔ ہم بھی چاچی کو بولکر سںدیپ کے گھر کی اؤر چل پڑے۔ّ۔۔

-------------------------------------------------------------------

ہم سیکھا کے گھر میں اُپر چڑھ ہی رہے تھے کِ نیچے سے سںدیپ کا بڑا بھائی 'ڈھولُو' آ گیا۔۔ مُجھے اُسکے اَسلی نام کا نہی پتا۔۔ گاںو میں سب اُسکو 'ڈھولُو' ہی کہتے ہیں۔ّ۔۔ ہمارے مُوڈ کر دیکھتے ہی وہ مُسکُرکر بولا۔ّ،" آاو۔۔ آاو۔۔ آج کیسے درشن دے دِئے دیوِیو!"

"شِکھا ہے بھیّا؟" پِںکی نے سیڑھِیوں میں ہی کھڑے ہوکر پُوچّھا۔ّ۔۔

"اُپر تو چلو۔ّ۔ یہیں سے واپس جاّوگی کیا؟" اُسنے ہںستے ہُئے کہا اؤر ہمارے پاس آکر 'میرے' کںدھے پر ہاتھ رکھ لِیا۔۔

ہم ایسے ہی اُپر آ گیے۔۔ اُسنے میرے کںدھے سے اَپنا ہاتھ نہی ہٹایا۔ّ۔ میرے شریر میں گڑ رہی اُسکی اُںگلِیوں کا دباو مُجھے کُچّھ 'دُوسری' ہی ترہ کا مہسُوس ہُآ۔ّ۔ اُنکی چچھُاَن میرے سکُول کے ٹیچرس کی اُںگلِیوں کی ترہ تھی۔۔ جو مؤکا مِلتے ہی میرے بدن پر یہاں وہاں 'اَپنے' ہاتھ ساپھ کرنا نہی بھُولتے تھے۔ّ۔ّ۔

"بھابھی جی کہاں ہیں۔ّ؟" مینے کسمسا کر اُنکی پتنی کے بارے میں پُوچّھا۔۔

ڈھولُو نے اَپنا ہاتھ ہٹا لِیا۔ّ،" وو۔ّ۔ وو تو مایکے گیی ہے اَپنے۔ّ۔ 2-4 دِن میں آایگی۔ّ۔۔

"اؤر شِکھا۔ّ۔؟" پِںکی نے پُوچّھا۔ّ۔

"وو سب ترُن کے گھر گیے ہُئے ہیں۔ّ۔ بس آتے ہی ہوںگے۔۔ بیٹھو۔ّ۔!" ڈھولُو کی نزریں لگاتار میری اُٹھتی بیٹھتی چھاتِیوں پر گڑھی ہُئی تھی۔۔ شرٹ میں اُنکی کساوٹ باہر سے ہی ساپھ نزر آ رہی تھی۔ّ۔،" تب تک ٹیوی دیکھ لو۔۔!" اُسنے ٹیوی چلایا اؤر دُوسرے کمرے میں چلا گیا۔ّ۔

کریب 2-4 ہی مِنِٹ ہُئے ہوںگے۔۔ ڈھولُو نے مُجھے دُوسرے کمرے سے آواز دی،" اِدھر آنا، اَںجُو! ایک بار!"

مینے پِںکی کی ترپھ دیکھا۔۔ وہ یُوںہی ہلک سے مُسکُرا دی۔۔ مینے کھڑی ہوکر کہا،"شاید مُجھے بُلا رہا ہے۔۔ میں اَبھی آئی۔۔!"

"ٹھیک ہے۔۔"پِںکی نے جواب دِیا اؤر پھِر ٹیوی کی اور دیکھنے لگی۔۔ میں باہر نِکل کر دُوسرے کمرے کے درواجے پر جاکر کھڑی ہو گیّ۔ّاؤر بڑی شرافت سے پُوچّھا،"کیا؟"

"اوہّو۔۔ اَںدر تو آاو!" ہاتھ میں ریوّلویر لِئے اُسکی نلی میں پھُوںک مارتا ہُآ وا بولا۔ّ۔ میں اَجیب سی نزروں سے دیکھتی ہُئی اُسکے منو بھاوّں کو پڑھنے کی کوشِش کرتے ہُئے اُسکے پاس جاکر کھڑی ہو گیّ۔۔ گاںو میں سبکو پتا تھا کِ وہ ایسے ہی اُلٹے سیدھے کام کرتا رہتا ہے۔۔ اِسیلِئے اُسکے ہاتھ میں ریوّلویر دیکھ کر مُجھے ہیرانی نہی ہُئی۔ّ۔ّ۔،"ہاں؟"

"تُو تو پُوری جوان ہو گیی ہے اَںجُو! مینے تو تُجھے سال بھر باد دیکھا ہے۔۔" اُسنے میرے پاس جانے کے باد ریوّلویر ایک ترپھ رکھ دی اؤر آںکھوں ہی آںکھوں میں میری چھاتِیو کا بھار سا تولنے لگا۔ّ۔۔

مینے لجا کر نزریں جھُکا لی۔۔ مینُو دیدی ٹھیک ہی کہتی تھی۔۔ آدمی تو سارے ہی 'کُتّے' ہوتے ہیں۔۔ لڑکی کو تو بس جوان ہونے کی دیر ہوتی ہے۔۔

"ہا ہا ہا۔۔ شرما گیّ۔ّ۔ ہے نا؟" اُسنے میرا ہاتھ پکڑ لِیا۔ّ۔

"ککیا کہ رہے تھے آپ؟" مینے اَچکچا کر پُوچّھا۔۔ پِںکی کے وہاں ہونے کا اَسر میرے جواب پر ساپھ دِکھائی دے رہا تھا۔۔ میں ڈری ہُئی سی تھی۔ّ۔

"پہلے تو یے بتا۔۔ پرچے (ایگزیمس) کیسے جا رہے ہیں تیرے۔ّ۔؟" وہ اَب بھی میرے ایک ہاتھ کو پکڑے ہُئے تھا۔ّ۔

"ٹھیک جا رہے ہیں۔۔ اَبھی تک!" مینے ہڑبڑاہٹ میں جواب دِیا۔۔ میری کلائی پر اُسکے ہاتھ کی پکڑ مجبُوت ہوتی جا رہی تھی۔ّ۔

"شاباش! کوئی لوچا ہو تو بتانا۔۔ کِسی بات کی پھِکر مت کِیا کر۔۔ مست رہا کر۔۔ کِسی سے گھبرانے کی کوئی زرُورت نہی ہے۔۔ کوئی چھیڑے تو بس ایک بار نام بتا دینا۔ّ۔ سمجھ گیی نا!" اُسنے بولتے ہُئے ریوّلویر اُٹھا کر مُجھے دِکھائی اؤر واپس تکِیے کے نیچے رکھ دی۔ّ۔ مُجھے پہلی بار لگا کِ شاید اُسنے پی رکھی ہے۔ّ۔

مینے اَپنا سِر ہِلا دِیا۔۔ پر بول نہی پائی۔ّ۔

"ہے ہے ہے۔۔ شرماتے ہُئے تو تُو اؤر بھی گجب کی لگتی ہے۔۔ کیا جوانی دی ہے رام نے تُجھے! سُنا تھا تیرے بارے میں لڑکوں سے۔۔ پر وِشواس نہی تھا کِ تُو سچ میں اِتنا مست مال بن گیی ہوگی۔ّ۔۔" بولتے بولتے اُسنے میرا دُوسرا ہاتھ بھی پکڑ کر اَپنی ترپھ کھیںچ لِیا۔۔ میرے اَپنے مںن میں پِںکی کے اِدھر آ جانے کے ڈر کو چھچوڑ کر کوئی اؤر ڈر نہی تھا۔ّ۔

اُسکے مُجھے اَپنی ترپھ کھیںچتے ہی میں کھیںچتی چلی گیّ۔ّ۔ بیڈ پر بیٹھے ہُئے ڈھولُو کا گھُٹنا میرے گھُٹنو کے بیچ آ پھںسا۔۔ نا چاہتے ہُئے بھی مُجھے اَپنی جاںگھیں کھول دینی پڑی۔۔ اؤر میرے گال شرم سے لال ہو گیے۔ّ۔

"کُچّھ تو بول اَںجُو! کیا اِرادا ہے؟ مُجھے بھی باکی لڑکوں کی ترہ تڈپاّیگی کیا؟" ڈھولُو مُجھے دھیرے دھیرے اؤر بھی زیادا اَپنے پاس کھیںچنا جا رہا تھا۔۔ پر وہ شاید اِسی کوشِش میں تھا کی میں بھی کُچّھ پہل کرُوں۔۔ اِسیلِئے وو پُورا زور نہی لگا رہا ہوگا۔ّ۔

میں کُچّھ نا بولی۔۔ گھبرا کر اَپنا چیہرا گھُمایا اؤر درواجے کی اور دیکھنے لگی۔ّ۔

"تھوڑے دِن پہلے تیرے بیگ میں تُجھے ایک لو لیٹر مِلا ہوگا۔۔ مِلا تھا نا۔۔" اُسنے ایک ہاتھ سے میرا ہاتھ چھچوڑ کر میرا چیہرا اَپنی اؤر گھُما لِیا۔۔ میں تُرںت نیچے دیکھنے لگی۔ّ۔ کُچّھ بول نہی پائی۔ّ۔

"بول نا! مِلا تھا نا لیٹر؟" اُسنے دوبارا پُوچّھا۔۔ تو مینے 'ہاں' میں سِر ہِلا دِیا۔ّ۔

"وو اَپنا کھاس چیلا ہے۔۔ ایک نںبر۔ کا بچّا ہے۔۔ بہُت نام کماّیگا۔۔ ہے ہے ہے۔۔ نام بتاُّ اُسکا؟" ڈھولُو نے میرے سکرٹ کا سامنے والا نِچلا سِرا پکڑ کر اَپنے ہاتھ میں لے لِیا۔ّ۔

میں کُچّھ نہی بول پائی۔۔ اُسکی اِن چھہوٹی چھہوٹی ہرکتوں سے میرے بدن میں واسنا کا تُوپھان سا اُٹھنے لگا تھا۔ّ۔۔

"بول نا۔۔ نام بتا دُوں کیا؟" ڈھولُو میری سکرٹ کے کپڑے کو دھیرے دھیرے اَپنی ہتھیلی میں لپیٹ'تا جا رہا تھا۔۔

"پِںکی آ جاّیگی۔۔" مینے اُسکی آںکھوں میں دیکھ کر اَپنے ڈر کی وجہ بتائی۔ّ۔

"چل پاگل۔۔ میرے ہوتے ہُئے بھی ڈرتی ہے۔۔ سُن! شیلُو ہے 'وو' ۔۔ تیری جوانی پر بہُت مرتا ہے۔۔ اُسی نے مُجھے بولا تھا۔۔ سںدیپ سے تیرے لِئے ایک دھانسُ سا گرما گرم 'لو لیٹر' لِکھوانے کو۔۔ مست لِکھا ہُآ تھا نا؟" ڈھولُو کی اِس بات نے تو میرا دِل بُری ترہ دھڑکا دِیا۔ّ۔۔

"کیا؟ سںدیپ۔ّ۔ّ۔" مینے لگبھگ اُچّھلتے ہُئے اَپنی پرتِکرِیا دی۔ّ۔۔

"ہاں۔۔ پر یے بات سںدیپ سے مت پُوچّھنا۔۔ اُسنے شیلُو سے کسم لی ہے کِ 'وو' کِسی کو نہی بتاّیگا۔۔ سمجھ گیی نا۔ّ۔" مُجھے اَہساس بھی نہی ہُآ کِ کب اُسنے میری سکرٹ کو آگے سے پُورا لپیٹ لِیا۔۔ جیسے ہی میری 'کچھی' کے کِناروں پر اُسکی اُںگلِیوں کا اَہساس ہُآ۔۔ مینے گھبراکر ایک بار جھُک کر اَپنی نںگی ہو چُکی جاںگھوں; ایک بار باہر درواجے کی اؤر; اؤر پھِر کسمساتے ہُئے اُسکی آںکھوں میں دیکھا۔ّ۔۔

"نہی بولیگی نا کِسی کو بھی۔۔ یے اَںدر کی باتیں ہوتی ہیں پاگل۔۔ ایسی باتیں باہر نہی بتاتے۔ّ۔۔ نہی بتاّیگی نا تُو۔۔" ڈھولُو نے اَپنا گھُٹنا میری ٹاںگوں کے بیچ سے نِکالا اؤر مُجھے پُر زور سے اَپنی اور کھیںچ لِیا۔۔ اُسکا چیہرا میری چُوچِیو سے آکر ٹکرایا۔۔ شراب کی گںدھ میرے نتھُنو میں سما گیّ۔۔ اُسکا ایک ہاتھ میرے ہاتھ کو پکڑے ہُئے اَپنے لِںگ پر تھا۔۔ میری ہالت کھراب ہو گیّ۔ّ۔

میری ساںسوں کو تیج ہوتے دیکھ وہ اُتساہِت سا ہوکر بولا،"بول نا میری رانی۔۔ کِسی کو کُچّھ نہی بتاّیگی نا۔۔!"

"نہی!" مینے اَپنے سِر کو ہلکا سا ہِلا کر اَپنا جواب دِیا۔۔ اؤر بگلیں جھاںکنے لگی۔ّ۔

"دے دیگی نا شیلُو کو۔۔ تیرا دیوانا ہے وو۔۔ مدارچوڑ پاگل سا ہو گیا ہے۔۔ جب سے تُونے سکُول جانا بںد کِیا ہے۔۔ میری مان لے۔۔ دے دیگی نا اُسکو؟" ڈھولُو نے کہتے ہُئے میرے ہاتھ کو اَپنے ہاتھ کے نیچے لیکر اَپنے لِںگ پر دبا دِیا۔۔

'وو' پل تو میں جِںدگی بھر نہی بھُول سکتی۔۔ اُسکے بِنا کہے ہی مینے اَپنی اُںگلِیوں کا گھیرا بنا کر اُسکے 'لِںگ' کو کسکر اَپنی مُٹّھی میں پکڑ لِیا اؤر سِسکتے ہُئے بولی،" آآہ۔ّ۔ ہاآ۔۔ دے دُوںگی۔ّ۔ پر کہاں دُوں۔ّ؟"

"ہائے میری جان۔۔ تیری مُٹّھی کِتنی گرم ہے۔۔ تیری چُوت کیسی ہوگی ساَّلیئیئی۔۔" وہ پاگلا سا گیا۔۔ میری سکرٹ کو اُپر اُٹھا کر اُسنے ہاتھ کو آگے کچھی میں پھںسا کر نیچے سرکا دِیا۔ّ،" اوہ تیری ما کا لؤدا۔ّ۔۔ ایسی گؤری اور چِکنی چُوت تو مینے جِںدگی بھر نہی دیکھی۔۔ یے تو اَبھی سے ٹپک رہی ہے۔ّ۔"

ڈھولُو نے ایک اُںگلی میری یونِ کی پھاںکوں میں گھُمائی اؤر اُسکو باہر نِکال کر میری اؤر اَپنی آںکھوں کے سامنے کرکے ایسے کھُش ہُآ مانو مدھُ مکّھِیوں کے چھتّے سے شہد نِکال لایا ہو۔ّ۔ ،" تیری چُوت تو میں لُوںگا۔ّ۔ چھچوڑ سالے بیہن کے لؤدے کو۔۔ 'اُس' پِدّی کی اؤلاد کو اِس مال کی کیا کدر ہوگی۔۔ 'وو' بھی سالا تیری اور دیکھیگا تو اُسکی گاںد میں گولی مار دُوںگا سیدھی۔ّ۔۔ تُو تو ایک نںبر کا سامان ہے۔۔ بول کب دیگی مُجھے؟"

اُسکی باتوں اؤر ہرکتوں سے میں بھی پاگل سی ہو چُکی تھی۔۔ مُجھے 'ویسے' بھی اِس بات سے کوئی فرق نہی پڑنا تھا کِ میری جوانی سے 'وو' بیہن کا لؤدا کھیلے یے 'یے' بیہن کا لؤدا۔ّ۔ پر میں اِتنی مدہوش ہو چُکی تھی کِ بات کا جواب دینا ہی بھُول گیّ۔ّ۔

"بول نا میری رںگیلی چھمِیِیا۔۔ اَب میں تیری چُوت مارے بِنا نہی مانُوںگا۔۔ دیگی نا مُجھے۔۔ لیگی نا میرا لؤدا اَپنی چُوت میں۔ّ؟" وا میرا ہاتھ چھچوڑ کر دونو ہاتھوں کو سکرٹ میں پِچھے لے جاکر میرے نِتںبوں کو بُری ترہ مسلتا ہُآ بولا۔ّ۔ّ۔

"آآّآہہ!" میں سِسکتے ہُئے بولی،" پر کہاں لُواُواُوں۔۔" میری آںکھیں بںد ہو گیّ۔۔ میں سب کُچّھ بھُول چُکی تھی۔ّ۔۔

"یہیں لے لے رانی۔۔ اَبھی لے لے۔ّ۔" اُسنے جاکر درواجا بںد کِیا اؤر واپس آکر بیٹھتے ہی اَپنی پیںٹ کی زِپ کھول کر اَپنا پھںپھنتا ہُآ لِںگ باہر نِکال لِیا۔ّ۔

میں ڈر گیّ۔ّ،" نہی۔۔ اَبھی نہی۔۔ پِںکی ہے یہاں۔۔!"

"اَرّرّرّریئیّیّی۔۔" اُسنے میری ایک نا سُنی اؤر مُجھے اُٹھاکر اَپنی گود میں بیٹھاتے ہُئے میری ٹاںگوں کو اَپنی کمر کے دونو اؤر پِچھے نِکال دِیا۔ّ۔،( دوستوں میں یانی آپکا دوست راج شرما رُکاوٹ کے لِئے مافی چاہتا ہُوں لیکِن کاپی کرنے والے بھائیّو سے یہی کہُوںگا کی اَگر کہانی پوسٹ کرنے کا شوک ہے تو مہنت کرو )" وو تو ٹیوی دیکھ رہی ہے۔ّ۔ بس دو مِنِٹ کی بات ہے۔۔ ایک بار تو یہیں گھُسوا کر دیکھ لے۔۔ تیری چُوت کو بھی میرے لؤدے کا چسکا لگ جاّیگا۔۔"

اُسنے کہتے ہی میری کچھی میرے گھُٹنو تک نیچے سرکا دی اؤر میرے گھُٹنو کو موڑ کر مُجھے اؤر آگے سرکاتے ہُئے اَپنے لِںگ پر بیٹھا لِیا۔۔ اُسکا لِںگ میرے نِتںبوں کی درار کے بیچوں بیںچ پھںسا کھڑا تھا۔۔ اؤر میری یونِ کی پھاںکیں اُسکی موٹائی کے اَنُرُوپ پھیل کر اُس پر ٹِکی ہُئی تھی۔۔

اَپنے لِںگ کو میرے یونِ کے چچھید پر ٹِکانے کے لِئے اُسنے مُجھے اُپر اُکسایا ہی تھا کِ تبھی درواجا کھُلا۔۔ میرے کانو میں 'ساری بھائی' بولنے کی آواز آئی اؤر درواجا پھِر سے بںد ہو گیا۔ّ۔ّ۔

ہڑبڑا کر اُسنے مُجھے چھچوڑ دِیا۔۔ آواز سںدیپ کی تھی۔۔ میں کھڑی ہوکر اَپنی کچھی کو اُپر سرکاتے ہُئے رونے لگی۔ّ،" تُمنے درواجا بںد کیُوں نہی کِیا۔۔"

"اِسکی ما کی چُوت۔۔ اِس درواجے پر اَںدر کُنڈی نہی ہے۔۔ پر تُو چِںتا کیُوں کر رہی ہے۔۔ کُچّھ نہی ہوگا۔ّ۔ " ڈھولُو اَپنی پیںٹ کی زِپ بںد کرتا ہُآ بولا۔ّ۔

"سںدیپ نے دیکھ لِیا۔ّ۔" میں روتی ہُئی بولی۔ّ۔۔

"تُو رو کیُوں رہی ہے میری رانی۔۔ میں تیرا یار ہُوں۔۔ اؤر وو میرا بھائی۔۔ کیا ہُآ جو اُسنے دیکھ لِیا تو۔۔ یے بتا۔۔ کب آایگی میرے پاس۔ّ؟"

میں کُچّھ نہی بولی۔۔ کھڑی کھڑی سُبکتی رہی۔ّ۔

"موبائیل ہے تیرے پاس؟" ڈھولُو نے میرا ہاتھ واپس پکڑ لِیا۔۔ میں 'نا' میں سِر ہِلاتے ہُئے اَپنے آںسُو پؤںچّھنے لگی۔ّ۔۔

"دیکھ۔۔ تیرے یار کے پاس تین موبائیل ہیں۔۔ جو مرزی لے جا۔۔ بس میرے نام کے اَلاوا کوئی بھی پھون آئے تو اُٹھانا مت۔۔ تیرے پاس جب بھی مؤکا ہو۔۔ مُجھے پھون کرکے بُلا لینا۔۔ یا میں بُلا لُوںگا۔۔ لے لے۔۔ کوئی بھی ایک پھون اُٹھا لے۔ّ۔" اُسنے اَپنے تینو موبائیل میرے آگے رکھ دِئے۔ّ۔

"نہی۔۔ میں پھون نہی رکھ سکتی۔۔ گھر میں پتا چل جاّیگا کِسی کو۔۔" مینے اِنکار میں اَپنا سِر ہِلاتے ہُئے کہا۔ّ۔

"اَرے۔۔ وائیبریشن کر دُوںگا میری رانی۔۔ اَپنی چھاتِیو میں چھُپا کر رکھنا۔۔ جب بھی میرا پھون آایگا۔۔ تیری چُوچِیو میں گُدگُدی سی ہوگی۔ّ۔ کِسی کو پتا نہی چلیگا رانی۔۔ لے لے۔ّ۔" اُسنے اَپنے آپ ہی ایک موبائیل کو سیٹِّںگس چیںج کرکے میری سکرٹ کی جیب میں ڈال دِیا،" جا اَب۔۔ چِںتا مت کرنا کِسی بھی بات کی۔ّ۔ اؤر ہاں۔۔ شِکھا آج ہی ماما کے گھر چلی گیی ہے۔۔ 2-3 دِن باد آایگی تو میں پھون کرکے بتا دُوںگا۔ّ۔ّ۔ اَب تُم آرام سے گھر جاّو۔۔ چِںتا نہی کرنا۔۔ کِسی بھی بات کی۔۔ میں ہُوں نا۔ّ۔ تیرا یار!"


کرمشہ۔ّ۔ّ۔ّ۔ّ۔ّ۔ّ۔ّ۔ّ۔ّ۔ّ۔ّ۔ّ۔ّ۔
دوستوں پُوری کہانی جانّے کے لِئے نیچے دِئے ہُئے پارٹ جرُور پڑھے ۔۔ّ۔ّ۔ّ۔ّ۔ّ۔ّ۔ّ۔ّ۔ّ۔ّ۔ّ۔ّ۔ّ۔ّ۔
۔۔۔

(¨`·.·´¨) Always
`·.¸(¨`·.·´¨) Keep Loving &;
(¨`·.·´¨)¸.·´ Keep Smiling !
`·.¸.·´ -- raj sharma

Post Reply

Who is online

Users browsing this forum: No registered users and 3 guests