بالی اُمر کی پیاس پارٹ-- urdu sexi stori

User avatar
rajaarkey
Super member
Posts: 6633
Joined: 10 Oct 2014 10:09
Contact:

بالی اُمر کی پیاس پارٹ--3 urdu sexi stori

Post by rajaarkey » 02 Apr 2017 15:47



بالی اُمر کی پیاس پارٹ--3


گتاںک سے آگے۔ّ۔ّ۔ّ۔ّ۔ّ۔ّ۔ّ۔ّ۔ّ۔ّ۔ّ۔ّ۔

سُندر ممّی کا دیوانا یُوں ہی نہی تھا۔۔ نا ہی اُسنے ممّی کی جھُوٹھی تاریف کی تھی۔ّ۔ آج بھی ممّی جب چلتی ہیں تو دیکھنے والے دیکھتے رہ جاتے ہیں۔۔ چلتے ہُئے ممّی کے نِتںب ایسے تھِرکتے ہیں مانو نِتںب نہی کوئی تبلا ہو جو ہلکی سی ٹھپ سے ہی پُورا کاںپنے لگتا ہے۔ّ۔ کٹورے کے آکر کے دونو نِتںبوں کا اُٹھان اؤر اُنکے بیچ کی درار; سب کاتِلانا تھے۔ّ۔

ممّی کے کسے ہُئے شریر کی دُودھِیا رںگت اؤر اُس پر اُنکی کاتِل آدیّں; کؤن نا مر مِٹے!

کھیر، ممّی کے کوہنِیوں اؤر گھُٹنو کے بل جھُکتے ہی سُندر اُنکے پِچھے بیٹھ گیا۔ّ۔ اَگلے ہی پل اُنہونے ممّی کے نِتںبوں پر تھپکی مار کر سلوار اؤر پیںٹی کو نیچے کھیںچ دِیا۔ اِسکے ساتھ ہی سُندر کے مُںہ سے لار ٹپک گیّ،" کیا مست گورے کسے ہُئے چُوتڑ ہیں چاچی۔۔!" کہتے ہُئے اُسنے اَپنے دونو ہاتھ ممّی کے نِتںبوں پر چِپکا کر اُنہے سہلانا شُرُو کر دِیا۔ّ۔

ممّی مُجھسے 90 ڈِگری کے اَنگیل پر جھُکی ہُئی تھی، اِسیلِئے مُجھے اُنکے اُوںچے اُٹھے ہُئے ایک نِتںب کے اَلاوا کُچّھ دِکھائی نہی دے رہا تھا۔۔ پر میں ٹکٹکی لگائے تماشا دیکھتی رہی۔ّ۔ّ۔

"ہائے چاچی! تیری چُوت کِتنی رسیلی ہے اَبھی تک۔ّ۔ اِسکو تو بڑے پیار سے ٹھوکنا پڑیگا۔ّ۔ پہلے تھوڑی چُوس لُوں۔ّ۔" اُسنے کہا اؤر ممّی کے نِتںبوں کے بیچ اَپنا چیہرا گھُسا دِیا۔ّ۔۔ ممّی سِسکتے ہُئے اَپنے نِتںبوں کو اِدھر اُدھر ہٹانے کی کوشِش کرنے لگی۔ّ۔

"آاَیّیشہّہ۔ّ۔اَب اؤر مت تڈپا سُندر۔ّآّاَہّ۔ّ۔۔ میں تیّار ہُوں۔۔ ٹھوک دو اَںدر!"

"ایسے کیسے ٹھوک دُوں اَںدر چاچی۔ّ۔؟ اَبھی تو پُوری رات پڑی ہے۔ّ۔۔" سُںدر نے چیہرا اُٹھاکر کہا اؤر پھِر سے جیبھ نِکال کر چیہرا ممّی کی جاںگھوں میں گھُسا دِیا۔ّ۔

"سمجھا کرو سُندر۔ّ۔ آآہّ۔ّ۔پھرش مُجھے چُبھ رہا ہے۔ّ۔ تھوڑی جلدی کرو۔۔!" ممّی نے اَپنا چیہرا بِلکُل پھرش سے سٹا لِیا۔۔ اُنکے 'دُودھ' پھرش پر ٹِک گیے۔ّ۔ّ،" اَچّچھا۔۔ ایک مِنِٹ۔ّ۔ مُجھے کھڑی ہونے دو۔ّ۔!"

ممّی کے کہتے ہی سُندر نے اَچّھے بچّے کی ترہ اُنہے چھچوڑ دِیا۔ّ۔ اؤر ممّی نے کھڑا ہوکر میری ترپھ مُںہ کر لِیا۔ّ۔
جیسے ہی سُندر نے اُنکا کمیز اُپر اُٹھایا۔۔ ممّی کی پُوری جاںگھیں اؤر اُنکے بیچ چھہوٹے چھہوٹے گہرے کالے بالوں والی موٹی موٹی یونِ کی پھاںکیں میرے سامنے آ گیّ۔ّ۔ ایک بار تو کھُد میں ہی شرما گیّ۔ّ۔ گرمِیوں میں جب میں کیِ بار چھہوٹُو کے سامنے نںگی ہی باتھرُوم سے نِکل آتی تو ممّی مُجھے 'شیم شیم' کہ کر چِڑھاتی تھی۔ّ۔ پھِر آج کیُوں اَپنی شیم شیم کو سُندر کے سامنے پروس دِیا; اُس وقت میری سمجھ سے باہر تھا۔ّ۔۔

سُندر گھُٹنے ٹکے کر ممّی کے سامنے میری ترپھ پیٹھ کرکے بیٹھ گیا اؤر ممّی کی یونِ میری نزروں سے چھِپ گیّ۔ّ۔ اَگلے ہی پل ممّی آںکھیں بںد کرکے سِسکنے لگی۔ّ۔ اُنکے مُںہ سے اَجیب سی آوازیں آ رہی تھی۔ّ۔

میں ہیرت سے سب کُچّھ دیکھ رہی تھی۔ّ۔

"بس-بس۔ّ۔ مُجھسے کھڑا نہی رہا جا رہا سُندر۔ّ۔ دیوار کا سہارا لینے دو۔۔"، ممّی نے کہا اؤر سائیڈ میں ہوکر دیوار سے پیٹھ سٹا کر کھڑی ہو گیّ۔ّ۔ اُنہونے اَپنے ایک پیر سے سلوار بِلکُل نِکال دی اؤر سُندر کے اُنکے سامنے بیٹھتے ہی اَپنی نںگی ٹاںگ اُٹھاکر سُندر کے کںدھے پر رکھ دی۔۔

اَب سُندر کا چیہرا اؤر ممّی کی یونِ مُجھے آمنے سامنے دِکھائی دے رہے تھے۔۔ ہائے رام! سُندر نے اَپنی جیبھ باہر نِکالی اؤر ممّی کی یونِ میں گھُسیڈ دی۔۔ ممّی پہلے کی ترہ ہی سِسکنے لگی۔ّ۔ ممّی نے سُندر کا سِر کسکر پکڑ رکھا تھا اؤر سُںدر اَپنی جیبھ کو کبھی اَںدر باہر اؤر کبھی اُپر نیچے کر رہا تھا۔ّ۔

اَںجانے میں ہی میرے ہاتھ اَپنی سلوار میں چلے گیے۔۔ مینے دیکھا; میری یونِ بھی چِپچِپی سی ہو رکھی ہے۔۔ مینے اُسکو ساپھ کرنے کی کوشِش کی تو مُجھے بہُت مزا آیا۔ّ۔۔

اَچانک ممّی پر مانو پہاڑ سا ٹُوٹ پڑا۔ّ۔ جلدی میں سُندر کے کںدھے سے پیر ہٹانے کے چکّر میں ممّی لڑکھڑا کر گِر پڑی۔ّ۔ اُپر سے پاپا زور زور سے بڑبڑاتے ہُئے آ رہے تھے۔ّ۔،"سالی، کمِنِ، کُتِیا! کہاں مر گیّ۔ّ۔ّ؟"

سُندر بھاگ کر ہماری کھاٹ کے نیچے گھُس گیا۔ّ۔ پر ممّی جب تک سںبھال کر کھڑی ہوتی، پاپا نیچے آ چُکے تھے۔۔ ممّی اَپنی سلوار بھی پہن نہی پائی تھی۔ّ۔

پاپا نیںد میں تھے اؤر شاید نشے میں بھی۔۔ کُچّھ پل ممّی کو ٹکٹکی لگائے دیکھتے رہے پھِر بولے،" بہنچوڑ کُتِیا۔۔ یہاں نںگی ہوکر کیا کر رہی ہے۔ّ؟ کِسی یار کو بُلایا تھا کیا؟" اؤر پاس آکر ایک زور کا تھپّڑ ممّی کو جڑ دِیا۔ّ۔۔

میں سہم گیی تھی۔ّ۔

ممّی تھرتھرتے ہُئے بولی۔ّ۔،"نناہی۔ّ۔ وو ۔۔ّ۔میری سلوار میں کُچّھ گھُس گیا تھا۔ّ۔ پتا نہی کیا تھا۔ّ۔"

"ہمیشا 'کُچّھ' تیری سلوار میں ہی کیُوں گھُستا ہے کُتِیا۔ّ۔ تیری چُوت کوئی شہد کا چھتّا ہے کیا؟۔ّ۔" پاپا نے گُرّتے ہُئے ممّی کا گلا پکڑ لِیا۔ّ۔

ممّی گِڑگِدتے ہُئے پاپا کے کدموں میں آ گِری،"پلیز۔۔ ایسا مت کہِئے۔۔ میرا تو سب کُچّھ آپ کا ہی ہے۔ّ۔۔!"

"ہُوںمّ۔ّ۔ یے بھی تو تیرا ہی ہے۔۔ لے سںبھال اِسکو۔۔ کھڑا کر۔ّ۔" میں اَچرج سے پاپا کا لِںگ دیکھتی رہ گیّ۔۔ اُنہونے اَپنی چین کھولکر اَپنا لِںگ باہر نِکال لِیا اؤر ممّی کے مُںہ میں تھُوسنے لگے۔ّ۔ میں سُندر کا لِںگ دیکھنے کے باد اُنکا لِںگ دیکھ کر ہیران تھی۔۔ اُنکا لِںگ تو چھہوٹا سا تھا بِلکُل۔۔ اؤر مرے ہُئے چُوہے کی ترہ لٹک رہا تھا۔ّ۔۔

"اُپر چلِئے آپ۔۔ میں کر دُوںگی کھڑا۔ّ۔ یہاں چھہوٹی اُٹھ جاّیگی۔ّ۔ جیسے کہوگے ویسے کر لُوںگی۔ّ۔۔" کہتے ہُئے ممّی اُٹھی اؤر پاپا کے لِںگ کو سہلاتے ہُئے اُنہے اُپر لے گیّ۔ّ۔

اُنکے اُپر جاتے ہی سُندر ہڑبڑاہٹ میں میری چارپائی کے نیچے سے نِکلا اؤر درواجا کھول کر بھاگ گیا۔ّ۔

--------------------------------------------------------------------------------------------------------------

تیسرے دِن میں جانبُوجھ کر سکُول نہی گیّ۔۔ دیدی اؤر چھہوٹُو سکُول جا چُکے تھے۔ّ۔ اؤر پاپا شہر۔ّ۔۔

"اَب پڑی رہنا یہاں اَکیلی۔ّ۔ میں تو چلی کھیت میں۔۔" ممّی سجدھج کر تیّار ہو گیی تھی۔۔ کھیت جانے کے لِئے۔ّ۔!

"نہی ممّی۔۔ میں بھی چلُوںگی آپکے ساتھ۔ّ۔ّ۔!" مینے زِد کرتے ہُئے کہا۔ّ۔۔

"پاگل ہے کیا؟ تُجھے پتا نہی۔۔ وہاں کِتنے موٹے موٹے ساںپ آ جاتے ہیں۔ّ۔ کھا جاّیںگے تُجھے۔ّ۔" ممّی نے مُجھے ڈراتے ہُئے کہا۔ّ۔۔

میرے جیہن میں تو سُندر کا 'ساںپ' ہی چکّر کاٹ رہا تھا۔۔ وہی دوبارا دیکھنے ہی تو جانا چاہتی تھی کھیت میں۔ّ۔،" پر آپکو کھا گیے تو ممّی۔ّ۔؟" مینے کہا۔۔

"میں تو بڑی ہُوں بیٹی۔۔ ساںپ کو کابُو میں کر لُوںگی۔ّ۔ مار بھی دُوںگی۔ّ۔ تُو یہیں رہ اؤر سو جا!" ممّی نے جواب دِیا۔ّ۔۔

"تو آپ مار لینا ساںپ کو۔ّ۔ میں تو دُور سے ہی دیکھتی رہُوںگی۔ّ۔۔ کُچّھ بولُوںگی نہی۔ّ۔۔" مینے زِد کرتے ہُئے کہا۔ّ۔

"چُپ کر۔۔ زیادا بکواس مت کر۔ّ۔ یہیں رہ۔۔ میں جا رہی ہُوں۔ّ۔!" ممّی چل دی۔ّ۔

میں روتی ہُئی نیچے تک آ گیّ۔۔ میری آںکھوں سے موٹے موٹے آںسُو ٹپک رہے تھے۔ّ۔سُندر کے 'ساںپ' کو دیکھنے کے لِئے بیچین ہی اِتنی تھی میں۔۔ آخِرکار میری زِد کے آگے ممّی کو جھُکنا پڑا۔ّ۔ پر وو مُجھے کھیت نہی لے گیّ۔۔ کھُد بھی گھر پر ہی رہ گیی وو!

ممّی کو کپڑے بدل کر مُںہ چڑھائے گھر میں بیٹھے 2 گھںٹے ہو گیے تھے۔۔ میں اُٹھی اؤر اُنکی گود میں جاکر بیٹھ گیّ،"آپ ناراز ہو ممّی؟"

"ہاں۔ّ۔ اؤر نہی تو کیا؟ کھیت میں اِتنا کام ہے۔ّ۔ تیرے پاپا آتے ہی میری پِٹائی کریںگے۔ّ۔!" ممّی نے کہا۔ّ۔۔

"پاپا آپکو کیُوں مارتے ہیں ممّی۔۔ ؟ مُجھے پاپا بہُت گںدے لگتے ہیں۔ّ۔

"آپ بھی تو بڑی ہو۔۔ آپ اُنہے کیُوں نہی مارتی؟" مینے بھولیپن سے پُوچّھا۔ّ۔

ممّی کُچّھ دیر چُپ ہی رہی اؤر پھِر ایک لںبی ساںس لی،" چھچوڑ اِن باتوں کو۔۔ تُو آج پھِر میری پِٹائی کروانا چاہتی ہے کیا؟"

"نہی ممّی۔۔!" مینے مایُوس ہوکر کہا۔ّ۔

"تو پھِر مُجھے جانے کیُوں نہی دیتی کھیت میں؟" ممّی نے ناراز ہوکر اَپنا مُںہ پھُلاتے ہُئے کہا۔ّ۔۔

پتا نہی میں کیا جواب دیتی اُس وقت۔۔ پر اِس'سے پہلے میں بولتی۔۔ نیچے سے سُںدر کی آواز آ گیّ،"چاچا۔ّ۔۔ او چاچا!"

ممّی اَچانک کھڑی ہو گیی اؤر نیچے جھاںکا۔۔ سُندر اُپر ہی آ رہا تھا۔۔

"اُپر آتے ہی اُسنے میری اؤر دیکھتے ہُئے پُوچّھا،" چاچا کہاں ہیں اَںجُو؟"

"شہر گیے ہیں۔ّ۔!" مینے جواب دیتے ہُئے اُنکی پیںٹ میں 'ساںپ' ڈھُوںڈھنے کی کوشِش کی۔۔ پر ہُلکے اُبھار کے اَلاوا مُجھے کُچّھ نزر نہی آیا۔ّ۔

"اَچّچھا۔ّ۔ تُو آج سکُول کیُوں نہی گیّ؟" باہر چارپائی پر وو میرے ساتھ بیٹھ گیا اؤر ممّی کو گھُورنے لگا۔ّ۔ ممّی سامنے کھڑی تھی۔ّ۔۔

"بس ایسے ہی۔۔ میرے پیٹ میں درد تھا۔ّ۔" مینے وہی جھُوٹھ بولا جو سُبہ ممّی کو بولا تھا۔ّ۔

سُندر نے میری ترپھ جھُک کر ایک ہاتھ سے میرا چیہرا تھاما اؤر میرے ہوںٹو کے پاس گالوں کو چُوم لِیا۔۔ مُجھے اَپنے بدن میں گُدگُدی سی مہسُوس ہُئی۔ّ۔

"یے لے۔ّ۔ّاؤر باہر کھیل لے۔ّ۔۔!" سُندر نے میرے ہاتھ میں 5 رُپئے کا سِکّا رکھ دِیا۔ّ۔

اُس وقت 5 رُپئے میرے لِئے بہُت تھے۔۔ پر میں بیوکُوف نہی تھی۔۔ مُجھے پتا تھا تو مُجھے گھر سے بھگانے کے لِئے ایسا بول رہا ہے،" نہی۔۔ میرا من نہی ہے۔۔ مینے پیسے اَپنی مُٹّھی میں دبائے اؤر ممّی کا ہاتھ پکڑ کر کھڑی ہو گیّ۔ّ۔

"جا نا چھہوٹی۔ّ۔ کبھی تو میرا پِچّھا چھچوڑ دِیا کر!" ممّی نے ہُلکے سے گُسّے میں کہا۔ّ۔۔

میں سِر اُپر اُٹھا اُنکی آںکھوں میں دیکھا اؤر ہاتھ اؤر بھی کسکر پکڑ لِیا،" نہی ممّی۔۔ مُجھے نہی کھیلنا۔ّ۔۔!"

"تُم آج کھیت میں نہی گیی چاچی۔ّ۔ کیا بات ہے؟" سُندر کی آواز میں وِنمرتا تھی۔۔ پر اُسکے چیہرے سے دھمکی سی جھلک رہی تھی۔ّ۔

"یے جانے دے تب جاُّ نا۔۔ اَب اِسکو لیکر کھیت کیسے آتی۔۔!" ممّی نے بُرا سا مُںہ بناکر کہا۔ّ۔۔

"آج کھالی نہی جاُّنگا چاچی۔۔ چاہے کُچّھ ہو جائے۔۔ باد میں مُجھے یے مت کہنا کِ بتایا نہی۔۔" سُندر نے گُرّتے ہُئے کہا اؤر اَںدر کمرے میں جاکر بیٹھ گیا۔ّ۔۔

"اَب میں کیا کر سکتی ہُوں۔۔ تُم کھُد ہی دیکھ لو!" ممّی نے وِوش ہوکر اَںدر جاکر کہا۔۔ اُنکی اُںگلی مجبُوتی سے پکڑے میں اُنکے ساتھ ساتھ جاکر درواجے کے پِچھے کھڑی ہو گیّ۔ّ۔ ممّی درواجے کے سامنے اَںدر کی اؤر چیہرا کِئے کھڑی تھی۔ّ۔۔

اَچانک پِچھے سے کوئی آیا اؤر ممّی کو اَپنی باہوں میں بھرکر جھٹکے سے اُٹھایا اؤر بیڈ پر لیجاکار پٹک دِیا۔۔ میری تو کُچّھ سمجھ میں ہی نہی آیا۔۔
(¨`·.·´¨) Always
`·.¸(¨`·.·´¨) Keep Loving &;
(¨`·.·´¨)¸.·´ Keep Smiling !
`·.¸.·´ -- raj sharma

User avatar
rajaarkey
Super member
Posts: 6633
Joined: 10 Oct 2014 10:09
Contact:

Re: بالی اُمر کی پیاس پارٹ-- urdu sexi stori

Post by rajaarkey » 02 Apr 2017 15:49


ممّی نے چِلّانے کی کوشِش کی تو وا ممّی کے اُپر سوار ہو گیا اؤر اُنکا مُںہ دبا لِیا،" تُو تو بڑی کمِنِ نِکلی بھابھی۔۔ پتا ہے کِتنی دیر اِںتجار کرکے آیّں ہیں کھیت میں۔ّ۔" پھِر سُندر کی اؤر دیکھکر بولا،"کیا یار؟ اَبھی تک نںگا نہی کِیا اِس رںڈی کو۔۔"

اُسکے چیہرا سُندر کی اؤر گھُومنے پر مینے اُنہے پہچانا۔۔ وو اَنِل چاچا تھے۔ّ۔ ہمارے گھر کے پاس ہی اُنکا گھر تھا۔۔ پیشے سے ڈاکٹر۔ّ۔مّمی کی ہی اُمر کے ہوںگے۔ّ۔ ممّی کو مُشکِل میں دیکھ میں بھاگکر بِستیر پر چڑھِ اؤر چاچا کو دھکّا دیکر اُنکو ممّی کے اُپر سے ہٹانے کی کوشِش کرنے لگی،"چھچوڑ دو میری ممّی کو!" میں رونے لگی۔ّ۔

اَچانک مُجھے دیکھ کر وو سکپکا گیا اؤر ممّی کے اُپر سے اُتر گیا،" تُم۔۔ تُم یہیں ہو چھہوٹی؟"

ممّی شرمِںدا سی ہوکر بیٹھ گیّ،" یے سب کیا ہے؟ جاّو یہاں سے۔۔ اؤر سُندر کی اؤر گھُورنے لگی۔ّ۔ سُندر کھِسِیا کر ہںسنے لگا۔ّ۔

"اَبے پہلے دیکھ تو لیتا۔ّ۔!" سُندر نے اَنِل چاچا سے کہا۔ّ۔۔

"بیٹی۔۔ تیری ممّی کا اِلاج کرنا ہے۔ّ۔ جا باہر جاکر کھیل لے۔۔!" چاچا نے مُجھے پُچکارتے ہُئے کہا۔ّ۔ پر میں وہاں سے ہِلی نہی۔ّ۔

"جاّو یہاں سے۔۔ ورنا میں چِلّا دُوںگی!" ممّی وِرودھ پر اُتر آئی تھی۔ّ۔ شاید مُجھے دیکھ کر۔ّ۔

"چھچوڑ نا تُو ۔۔ یے تو بچّی ہے۔۔ کیا سمجھیگی۔ّ۔ اؤر پھِر یے تیری پرابلم ہے۔۔
ہماری نہی۔۔ اِسکو بھیجنا ہے تو بھیج دے۔۔ ورنا ہم اِسکے آگے ہی شُرُو ہو جاّیںگے۔ّ۔" سُندر نے کہا اؤر سرک کر ممّی کے پاس بیٹھ گیا۔ّ۔۔ ممّی اَب دونو کے بیچ بیٹھی تھی۔ّ۔



"تُو جا نا بیٹی۔۔ مُجھے تیرے چاچا سے اِلاج کروانا ہے۔۔ میرے پیٹ میں درد رہتا ہے۔ّ۔" ممّی نے ہالات کی گںبھیرتا کو سمجھاتے ہُئے مُجھسے کہا۔ّ۔

مینے نا میں سِر ہِلا دِیا اؤر وہیں کھڑی رہی۔ّ۔۔

وو اِںتجار کرنے کے مُوڈ میں نہی لگ رہے تھے۔۔ چاچا ممّی کے پِچھے جا بیٹھے اؤر اُنکے دونو ترپھ سے پیر پسار کر ممّی کی چُوچِیوں کو دبوچ لِیا۔۔ ممّی سِسک اُٹھی۔۔ وو وِرودھ کر رہی تھی پر اُںنپر کوئی اَسر نہی ہُآ۔ّ۔

"نیچے سے درواجا بںد ہے نا؟" سُندر نے چاچا سے پُوچّھا اؤر ممّی کی ٹاںگوں کے بیچ بیٹھ گیا۔ّ۔

"سب کُچّھ بںد ہے یار۔۔ آجا۔۔ اَب اِسکی کھول دیں۔۔" چاچا نے ممّی کا کمیز کھیںچ کر اُنکی برا سے اُپر کر دِیا۔ّ۔۔

"ایک مِنِٹ چھچوڑو بھی۔ّ۔ " ممّی نے جھلّاکر کہا تو وو ٹھِٹھک گیے،" اَچّچھا چھہوٹی۔۔ رہ لے یہیں۔۔ پر کِسی کو بولیگی تو نہی نا۔۔ دیکھ لے۔ّ۔ میں مر جاُّنگِ!"
"نہی ممّی۔۔ میں کِسی کو کُچّھ نہی بولُوںگی۔ّ۔ آپ مرنا مت۔۔ رات والی بات بھی نہی بتاُّنگِ کِسی کو۔ّ۔" مینے بھولیپن سے کہا تو تینو اَواک سے مُجھے دیکھتے رہ گیے۔ّ۔

"ٹھیک ہے۔۔ آرام سے کونے میں بیٹھ جا!" سُںدر نے کہا اؤر ممّی کی سلوار کا ناڈا کھیںچنے لگا۔ّ۔۔

کُچّھ ہی دیر باد اُنہونے ممّی کو میرے سامنے ہی پُوری ترہ نںگی کر دِیا۔۔

میں چُپچاپ سارا تماشا دیکھتی جا رہی تھی۔۔ ممّی نںگی ہوکر مُجھے اؤر بھی سُندر لگ رہی تھی۔۔ اُنکی چِکنی چِکنی لںبی ماںسل جاںگھیں۔۔ اُنکی چھہوٹے چھہوٹے کالے بالوں میں چھِپِ یونِ۔۔ اُنکا کسا ہُآ پیٹ اؤر سینے پر جھُول رہی موٹی موٹی چُوچِیاں سب کُچّھ بڑا پیارا تھا۔ّ۔

سُندر ممّی کی جاںگھوں کے بیچ جھُک گیا اؤر اُنکی جاںگھوں کو اُپر ہوا میں اُٹھا دِیا۔۔ پھِر ایک بار میری ترپھ مُڑکر مُسکُرایا اؤر پِچّھلی رات کی ترہ ممّی کی یونِ کو لپر لپر چاٹنے لگا۔ّ۔۔

ممّی بُری ترہ سیسیّا اُٹھی اؤر اَپنے نِتںبوں کو اُٹھا اُٹھا کر پٹاکنے لگی۔۔ چاچا ممّی کی دونو چُوچِیوں کو مسل رہا تھا اؤر ممّی کے نِچلے ہونٹ کو مُںہ میں لیکر چُوس رہا تھا۔ّ۔

کریب 4-5 مِنِٹ تک ایسے ہی چلتا رہا۔ّ۔ میں سمجھنے کی کوشِش کر ہی رہی تھی کِ آخِر یے اِلاج کؤنسا ہے۔۔ تبھی اَچانک چاچا نے ممّی کے ہوںٹو کو چھچوڑکر بولا،" پہلے تُو لیگا یا میں لے لُوں۔ّ؟"

سُندر نے جیسے ہی چیہرا اُپر اُٹھایا، مُجھے ممّی کی یونِ دِکھائی دی۔۔ سُندر کے تھُوک سے وو اَںدر تک سنی پڑی تھی۔۔ اؤر یونِ کے بیچ کی پتِّیاں اَلگ اَلگ ہوکر پھاںکوں سے چِپکی ہُئی تھی۔۔ مُجھے پتا نہی تھا کِ ایسا کیُوں ہو رہا ہے۔۔ پر میری جاںگھوں کے بیچ بھی کھلبلی سی مچی ہُئی تھی۔ّ۔

"میں ہی کر لیتا ہُوں یار! پر تھوڑی دیر اؤر رُک جا۔۔ چاچی کی چُوت بہُت میٹھی ہے۔ّ۔" سُندر نے کہا اؤر اَپنی پیںٹ نِکال دی۔۔ اِسی پل کا تو میں اِںتجار کر رہی تھی۔۔ سُںدر کا کچّچھا سیدھا اُپر اُٹھا ہُآ تھا اؤر مُجھے پتا تھا کِ کیُوں؟
سُںدر واپس جھُک گیا اؤر ممّی کی یونِ کو پھِر سے چاٹنے لگا۔ّ۔ اُسکا بھاری بھرکم لِںگ اَپنے آپ ہی اُسکے کچّچے سے باہر نِکل آیا اؤر میری آںکھوں کے سامنے لٹکا ہُآ رہ رہ کر جھٹکے مار رہا تھا۔ّ۔

چاچا نے میری اؤر دیکھا تو مینے شرمکار اَپنی نزریں جھُکا لی۔ّ۔۔

چاچا نے بھی کھڑا ہوکر اَپنی پیںٹ نِکال دی۔۔ پر اُنکا اُبھر اُتنا نہی تھا جِتنا سُندر کا۔ّ۔چاچا تھوڑی آگے ہوکر ممّی پر جھُکے اؤر اُنکی گوری گوری چُوچی کے بھُورے رںگ کے نِپّل کو مُںہ میں دبا کر اُنکا دُودھ پینے لگے۔ّ۔مُجھے تب پہلی بار پتا لگا تھا کِ بڑے لوگوں کو بھی 'دُودھ کی زرُورت ہوتی ہے۔ّ۔

ممّی اَپنی دُوسری چُوچی کو کھُد ہی اَپنے ہاتھ سے مسل رہی تھی۔۔ اَچانک میرا دھیان اُنکے دُوسرے ہاتھ کی اؤر گیا۔۔ اُنہونے ہاتھ پِچھے لیجکر چاچا کے کچّچے سے اُنکا لِںگ نِکال رکھا تھا اؤر اُسکو سہلا رہی تھی۔ّ۔ چاچا کا لِںگ سُندر جیسا نہی تھا، پر پھِر بھی پاپا کے لِںگ سے کافی بڑا تھا اؤر سیدھا بھی کھڑا تھا۔ّ۔ ممّی نے اَچانک اُنکا لِںگ پِچھے سے پکڑا اؤر اُسکو اَپنی اؤر کھیںچنے لگی۔ّ۔ّ۔۔

"تیری یہی اَدا تو مُجھے سبسے زیادا پسںد ہے۔ّ۔ یے لے!" چاچا بولے اؤر گھُٹنو کے بل آگے سرک کر اَپنا لِںگ ممّی کے ہوںٹو پر ٹیکا دِیا۔ّ۔ ممّی نے تُرںت اَپنے ہونٹ کھولے اؤر لِںگ کو اَپنے ہوںٹو میں دبا لِیا۔ّ۔

چاچا نے اَپنے ہاتھوں سے پکڑ کر ممّی کی ٹاںگوں کو اَپنی اؤر کھیںچ لِیا۔۔ اِس'سے ممّی کے نِتںب اؤر اُپر اُٹھ گیے اؤر مُجھے سُندر کی ٹاںگوں کے بیچ سے ممّی کی 'گُدا' دِکھنے لگی۔ّ۔ چاچا نے اَپنے ہاتھوں کو ممّی کے گھُٹنو کے ساتھ ساتھ نیچے لیجاکار بِستیر پر جما دِیا۔ّ۔ ممّی اَپنے سِر کو اُپر نیچے کرتے ہُئے چاچا کے لِںگ کو اَپنے مُںہ میں اَںدر باہر کرتے ہُئے چُوسنے میں لگی تھی۔ّ۔۔

اَچانک ممّی اُچّھل پڑی اؤر چاچا کا لِںگ مُںہ سے نِکالتے ہُئے بولی،"نہی سُندر۔۔ پِچھے کُچّھ مت کرو۔۔!"

میری سمجھ میں تب آیا جب سُندر نے کُچّھ بولنے کے لِئے اُنکی یونِ سے اَپنا مُںہ ہٹایا۔ّ۔ مینے دھیان سے دیکھا۔۔ سُندر کی آدھی اُںگلی ممّی کی گُدا میں پھںسی ہُئی تھی۔۔ اؤر ممّی اَپنے نِتںبو کو سِکوڑنے کی کوشِش کر رہی تھی۔ّ۔ّ۔

"اِسکے بِنا کیا مزا ہے چاچی۔۔ اُںگلی ہی تو ڈالی ہے۔۔ اَپنا لںڈ پھںسوںگا تو کیا کہوگی؟ ہے ہے ہے" سُںدر نے کہا اؤر اُںگلی نِکال کر اَلگ ہٹ کر کھڑا ہو گیا۔ّ۔
ممّی کی یونِ پھُول سی گیی تھی۔ّ۔ اُنکی یونِ کا چھید رہ رہ کر کھُل رہا تھا اؤر بںد ہو رہا تھا۔۔ اَچانک سُندر نے اَپنا لِںگ ہاتھ میں پکڑ کر میری اؤر دیکھا۔ّ۔ وہ اِس ترہ مُسکُرایا مانو مُجھے ڈرا رہا ہو۔ّ۔ مینے ایک دم اَپنی نزریں جھُکا لی۔ّ۔۔

سُندر واپس ممّی کی جاںگھوں کے بیچ بیٹھ گیا۔۔ مُجھے اُسکا لِںگ ممّی کی یونِ پر ٹیکا ہُآ دِکھ رہا تھا۔۔ ممّی کی یونِ لِںگ کے پِچھے پُوری چھِپ گیی تھی۔ّ۔
"لے سںبھال۔۔!" سُںدر نے جیسے ہی کہا۔۔ ممّی چھیٹپاٹا اُٹھی۔۔ پر اُنکے مُںہ سے کوئی آواز نہی نِکلی۔۔ چاچا کا لِںگ ممّی کے مُںہ میں پُورا پھںسا ہُآ تھا۔۔ اؤر سُندر کا لِںگ ممّی کی یونِ میں۔ّ۔

سُندر نے اَپنا لِںگ باہر نِکالا اؤر واپس دھکیل دِیا۔۔ ممّی ایک بار پھِر کسمسائی۔ّ۔ ایسا مُجھے چاچا کے ہاتھوں سے اُنکو اَپنے ہاتھ چھُڑانے کی کوشِش کرتے دیکھ کر لگا۔ّ۔

پھِر تو گھاپگھاپ دھکّے لگنے لگے۔۔ کُچّھ دیر باد ممّی کے ہاتھوں کی چچٹپٹاہٹ بںد ہو کر اُنکے نِتںبوں میں آ گیّ۔ّ۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے وو بہُت کھُش ہیں۔۔ سُندر جیسے ہی نیچے کی اؤر دھکّا لگاتا ممّی نِتںبوں کو اُپر اُٹھا لیتی۔ّ۔ اَب تو ایسا لگ رہا تھا جیسے سُندر کم دھکّے لگا رہا ہے اؤر ممّی زیادا۔ّ۔

ایسے ہی دھکّے لگتے لگتے کریب 15 مِنِٹ ہو گیے تھے۔۔ مُجھے چِںتا ہونے لگی کِ آخِر کوئی اَب کُچّھ بول کیُوں نہی رہا ہے۔۔ اَچانک سُںدر اُٹھا اؤر تیزی سے آگے کی اؤر گیا،" ہٹ یہاں سے۔۔ پِچھے چلا جا۔ّ۔"

مینے ممّی کی یونِ کو دیکھا۔۔ اُسکا چچھید لگبھگ 3 گُنا کھُل گیا تھا۔۔ اؤر کوئی رس جیسی چیز اُنکی یونِ سے بہ رہی تھی۔ّ۔

سُندر کے آگے جاتے ہی چاچا پِچھے آ گیے،" گھوڑی بن جا!"

ممّی اُٹھی اؤر پلٹ کر گھُٹنو کے بل بیٹھ کر اَپنے نِتںبوں کو اُپر اُٹھا لِیا۔ّ۔ سُندر نے ممّی کے مُںہ میں اُںگلی ڈال رکھی تھی اؤر میرے سامنے ہی اَپنے لںڈ کو ہِلا رہا تھا۔ّ۔۔ سُندر کی جگہ اَب چاچا نے لے لی تھی۔۔ گھُٹنو کے بل پِچھے سیدھے کھڑے ہوکر اُنہونے ممّی کی یونِ میں اَپنی لِںگ تھُوس دِیا۔ّ۔ اؤر ممّی کی کمر کو پکڑ کر آگے پِچھے ہونے لگے۔ّ۔۔

اَچانک سُندر نے ممّی کے بالوں کو کھیںچ کر اُنکا چیہرا اُپر اُٹھوا دِیا۔ّ۔ ،"مُںہ کھو لے چاچی۔۔ تھوڈا اَمرت پی لے۔ّ۔"

ممّی نے اَپنا مُںہ پُورا کھول دِیا اؤر سُندر نے اَپنا لِںگ اُنکے ہوںٹو پر رکھ کر تھوڑا سا اَںدر کر دِیا۔ّ۔ اِسکے ساتھ ہی سُندر کی آںکھیں بںد ہو گیی اؤر وو سِسکتا ہُآ ممّی کو شاید وہی رس پِلانے لگا جو اُسنے پِچّھلی رات پِلایا تھا۔ّ۔۔
ممّی بھی آںکھیں بںد کِئے اُسکا رس پیتی جا رہی تھی۔۔ پِچھے سے ممّی کو چاچا کے دھکّے لگ رہے تھے۔ّ۔

"لے۔۔ اَب مُںہ میں لیکر اِسکو ساپھ کر دے۔ّ۔" سُںدر نے کہا اؤر ممّی نے اُسکا لِںگ تھوڑا سا اؤر مُںہ میں لے لِیا۔ّ۔ّ۔رس نِکل جانے کے باد سُںدر کا لِںگ شاید تھوڈا پتلا ہو گیا ہوگا۔ّ۔

اَچانک چاچا ہٹے اؤر سیدھے کھڑے ہو گیے۔ّ۔ وو بھی شاید ممّی کے مُںہ کی اؤر جانا چاہتے تھے۔۔ پر جانے کیا ہُآ۔۔ اَچانک رُک کر اُنہونے اَپنا لِںگ زور سے کھیںچ لِیا اؤر ممّی کے نِتںبو پر ہی رس کی دھار چھچوڑنے لگے۔ّ۔

مُجھے نہی پتا تھا کِ مُجھے کیا ہو گیا ہے۔۔ پر میں پُوری ترہ سے لال ہو چُکی تھی۔۔ میری کچّچی بھی 2 تین بار گیلی ہُئی۔۔ ایسا لگتا تھا۔ّ۔۔

سُندر بِستیر سے اُتر کر اَپنی پیںٹ پہن'نے لگا اؤر میری اؤر دیکھ کر مُسکُرایا،" تُو بھی بہُت گرم مال بنیگی ایک دِن۔۔ سالی اِتنے چسکے سے سب کُچّھ دیکھ رہی تھی۔ّ۔ تھوڑی اؤر بڑی ہوزا جلدی سے۔۔ پھِر تیری ممّی کی ترہ تُجھے بھی مزے دُوںگا۔ّ۔"
مینے اَپنا مُںہ دُوسری ترپھ کر لِیا۔ّ۔۔

چاچا کے بِستیر سے نیچے اُترتے ہی ممّی نِڈھال ہوکر بِستیر پر گِر پڑی۔۔ اُنہونے بِستیر کی چادر کھیںچ کر اَپنے بدن اؤر چیہرے کو ڈھک لِیا۔ّ۔
وو دونو کپڑے پہن وہاں سے نِکل گیے۔ّ۔۔

----------------------------------------------------------------------------

وو دِن تھا اؤر آج کا دِن۔۔ ایک ایک پل جیوں کا تیوں یاد کرتے ہی آںکھوں کے سامنے دؤڑ جاتا ہے۔ّ۔ وو بھی جو مینے اُنکے جانے کے باد ممّی کے پاس بیٹھ کر پُوچّھا تھا۔ّ۔،" یے کیسا اِلاج تھا ممّی؟"

"جب بڑی ہوگی تو پتا چل جاّیگا۔۔ بڑی ہونے پر کیِ بار پیٹ میں اَجیب سی گُدگُدی ہوتی ہے۔۔ اِلاج نا کروایّں تو لڑکی مر بھی سکتی ہے۔۔ پر شادی کے باد کی بات ہے یے۔۔ تُو بھُول جا سب کُچّھ۔۔ میری بیٹی ہے نا؟"

"ہاں ممّی!" میں بھاوُک ہوکر اُنکے سینے سے چِپک گیّ۔ّ۔

"تو بتاّیگی نہی نا کِسی کو بھی۔ّ۔؟" ممّی نے پیار سے مُجھے اَپنی باہوں میں بھر لِیا۔ّ۔

"نہی ممّی۔ّ۔ تُمہاری کسم! پر اِلاج تو چاچا کرتے ہیں نا۔ّ۔ سُندر کیا کر رہا تھا۔ّ۔؟" مینے اُتسُکتا سے پُوچّھا۔ّ۔۔

"وو اَپنا اِلاج کر رہا تھا بیٹی۔ّ۔ یے پرابلم تو سبکو ہوتی ہے۔ّ۔" ممّی نے مُجھے برگالایا۔ّ۔۔

"پر آپ تو کہ رہے تھے کِ شادی کے باد ہوتا ہے یے اِلاج۔۔ اُسکی تو شادی بھی نہی ہُئی۔ّ؟" مینے پُوچّھا تھا۔ّ۔

"اَب بس بھی کر۔۔ بہُت سینی ہو گیی ہے تُو۔ّ۔ مُجھے نہی پتا۔ّ۔" ممّی نے بِدک کر کہا اؤر اُٹھ کر کپڑے پہن'نے لگی۔ّ۔

" پر اُنہونے آپکے ساتھ اَپنا اِلاج کیُوں کِیا؟ اَپنے گھر پر کیُوں نہی۔۔ اُنکی ممّی ہیں، بیہن ہیں۔۔ کِتنی ہی لڑکِیاں تو ہیں اُنکے گھر میں۔۔ !" مُجھے گُسّا آ رہا تھا۔۔ 5 رُپئے میں اَپنا اِلاج کرکے لے گیا کمینا!

"تُجھے نہی پتا بیٹی۔ّ۔ ہمیں اُنکا بہُت سا کرزا چُکانا ہے۔۔ اَگر میں اُسکو اِلاج کرنے نہی دیتی تو وو مُجھے اُٹھا لے جاتا ہمیشا کے لِئے۔ّ۔ پیسوں کے بدلے میں۔ّ۔ پھِر کؤن بنتی تیری ممّی۔ّ؟" ممّی نے کپڑے پہن لِئے تھے۔ّ۔۔

میں نادان ایک بار پھِر بھاوُک ہوکر اُنسے لِپٹ گیّ۔۔ مینے مُٹّھی کھول کر اَپنے ہاتھ میں رکھے 5 رُپئے کے سِکّے کو نفرت سے دیکھا اؤر اُسکو باہر چھت پر پھیںک دِیا،" مُجھے نہی چاہِئے اُسکے رُپئے۔۔ مُجھے تو بس ممّی چاچِئے۔ّ۔"
اُسکے باد جب بھی میں اُسکو دیکھتی۔۔ مُجھے یہی یاد آتا کِ ہمیں اُنکا کرز اُتارنا ہے۔۔ نہی تو وو ایک دِن ممّی کو اُٹھا کر لے جاّیگا۔ّ۔ اؤر میری آںکھیں اُسکے لِئے گھرنا سے بھر اُٹھتی۔۔ ہر بار اُسکے لِئے میری نفرت بڑھتی ہی چلی گیی تھی۔ّ۔

سالوں باد، جب مُجھے یے اَہساس ہو گیا تھا کِ ممّی جھُوٹھ بول رہی تھی۔۔ تب بھی; میری اُسکے لِئے نفرت برکرار رہی جو آج تک جیوں کی تیوں ہے۔ّ۔۔ یہی وجہ تھی کِ اُس دِن اَپنے بدن میں سُلگ رہی یؤون کی آگ کے باوجُود اُسکو کھُد تک آنے نہی دِیا تھا۔ّ۔۔

کھیر۔۔ میں اُس دِن شام کو پھِر چشمُو کے آنے کا اِںتجار کرنے لگی۔ّ۔۔

(¨`·.·´¨) Always
`·.¸(¨`·.·´¨) Keep Loving &;
(¨`·.·´¨)¸.·´ Keep Smiling !
`·.¸.·´ -- raj sharma

User avatar
rajaarkey
Super member
Posts: 6633
Joined: 10 Oct 2014 10:09
Contact:

بالی اُمر کی پیاس پارٹ--4 urdu sexi stori

Post by rajaarkey » 02 Apr 2017 16:00


بالی اُمر کی پیاس پارٹ--4

گتاںک سے آگے۔ّ۔ّ۔ّ۔ّ۔ّ۔ّ۔ّ۔ّ۔ّ۔ّ۔ّ۔ّ۔

ٹھیک پِچّھلے دِن والے ٹائیم پر ہی ترُن نے نیچے آکر آواز لگائی۔ّ۔ مُجھے پتا تھا کِ وو شام کو ہی آایگا۔۔ پر کیا کرتی، نِگوڈا دِل اُسکے اِںتجار میں جانے کب سے دھڑک رہا تھا۔۔ میں بِنا اَپنی کِتابیں اُٹھائے نیچے بھاگی۔۔ پر نیچے اُسکو اَکیلا دیکھکر میں ہیران رہ گیّ۔ّ۔

"رِںکی نہی آئی کیا؟" مینے بڑی اَدا سے اَپنی بھینی مُسکان اُسکی اؤر اُچّھلی۔ّ۔۔

"نہی۔۔ اُسکا پھون آ گیا تھا۔۔ وو بیمار ہے۔۔ آج سکُول بھی نہی گیی وو!" ترُن نے سہج ہی کہا۔ّ۔۔

"اَچّچھا۔ّ۔ کیا ہُآ اُسکو؟ کل تک تو ٹھیک تھی۔ّ۔" مینے اُسکے سامنے کھڑی ہوکر اَپنے ہاتھوں کو اُپر اُٹھا ایک مادک اَںگڑائی لی۔۔ میرا سارا بدن چٹک گیا۔۔ پر اُسنے دیکھا تک نہی گؤر سے۔ّ۔ جانے کِس مِٹّی کا بنا ہُآ تھا۔ّ۔۔

"پتا نہی۔۔ آاو!" کہکر وو کمرے میں جانے لگا۔ّ۔۔

"اُپر ہی چلو نا! چارپائی پر تںگ ہو جاتے ہیں۔ّ۔" میں باہر ہی کھڑی تھی۔۔

"کہا تو تھا کل بھی، کِ چیر ڈال لو۔ّ۔ یہیں ٹھیک ہے۔۔ کل یہاں چیر ڈال لینا۔۔" اُسنے کہا اؤر چارپائی پر جاکر بیٹھ گیا۔ّ۔

"آ جاّو نا۔۔ اُپر کوئی بھی نہی ہے۔ّ۔" میں دونو ہاتھوں کو درواجے پر لگاکر کھڑی ہو گیّ۔ّ۔ آج بھی مینے سکُول ڈریس ہی ڈالی تھی۔۔ میری سکرٹ کے نیچے دِکھ رہی گھُٹنو تک کی چِکنی ٹاںگیں کِسی کو بھی اُسکے اَںدر جھاںکنے کو لالایِت کر سکتی تھی۔۔ پر ترُن تھا کِ میری اؤر دیکھ ہی نہی رہا تھا،" اُپر ٹیبل بھی ہے اؤر چیرس بھی۔ّ۔ چلو نا اُپر!" مینے آگرہ کِیا۔ّ۔۔

اَب کی بار وو کھڑا ہو گیا۔۔ اَپنے چسمیں ٹھیک کِئے اؤر 2 کدم چل کر رُک گیا،" چلو!"

میں کھُشی کھُشی اُسکے آگے آگے مٹکتی ہُئی چلکر سیڑھِیاں چڑھنے لگی۔۔ یُوں تو میری کوشِش کے بِنا بھی چلتے ہُئے میری کمر میں کامُک لچک رہتی تھی۔ّ۔ جان بُوجھ کر اؤر بل کھانے سے تو میرے پِچّھواڑے ہاہاکار مچ رہا ہوگا۔۔ مُجھے وِسواش تھا۔ّ۔۔

اُپر جانے کے باد وو باہر ہی کھڑا رہ گیا۔۔ مینے اَںدر جانے کے باد مُڑکر دیکھا،" آاو نا۔۔ اَںدر!" مینے مُسکُرکر اُسکو دیکھا۔ّ۔ میری مُسکُراہٹ میں ہرپال ایک کاتِل نِمںترن رہتا تھا۔۔ پر جانے کیُوں وہ سمجھ نہی پا رہا تھا۔ّ۔ یا پھِر جانبُوجھ کر مُجھے تڈپا رہا ہو۔ّ۔۔ شاید!

ترُن اَںدر آکر کُرسی پر بیٹھ گیا۔۔ ٹیبل کے سامنے۔ّ۔

"کؤنسی بُک لیکر آاُ پہلے!" میرے چیہرے پر اَب بھی ویسی ہی مُسکان تھی۔ّ۔

"سائینس لے آاو! پہلے وہی پڑھ لیتے ہیں۔۔" ترُن نے میرے چیہرے کے بھاوّں کو پڑھنے کی پہلی بار کوشِش سی کی۔ّ۔ مُجھے بڑا آنںد آیا۔۔ میری اؤر اُسکو یُوں لگاتار دیکھتے پاکر۔ّ۔۔

"ٹھیک ہے۔ّ۔" مینے کہا اؤر بیگ میں کِتاب ڈھُوںڈھنے لگی۔ّ۔ کِتاب مُجھے مِل گیی پر مینے اُسکے دیکھنے کے ڈھںگ سے اُتساہِت ہوکر نہی نِکلی،" پتا نہی کہاں رکھ دی۔ّ۔ رات کو میں پڑھ رہی تھی۔۔ ہُوںمّم؟ " مینے تھوڑا سوچنے کا ناٹک کِیا اؤر اُسکی ترپھ پیٹھ کرکے اَپنے گھُٹنے زمین پر رکھے اؤر نِتںبوں کو اُپر اُٹھا آگے سے بِلکُل جھُک کر بیڈ کے نیچے جھاںکنے لگی۔ّ۔ ٹھیک اُسی ترہ جِس ترہ اَنِل چاچا نے ممّی کو جھُکا رکھا تھا اُس دِن; بیڈ پر۔ّ۔۔

اِس ترہ جھُک کر اَپنے نِتںب اُپر اُٹھانے سے یقینن میری سکرٹ جاںگھوں تک کھِسک آئی ہوگی۔۔ اؤر اُسکو میری چِکنی گدرائی ہُئی گوری جاںگھیں مُفت میں دیکھنے کو مِلی ہوںگی۔ّ۔ میں کریب 30-40 سیکیںڈ تک اُسی پوزِشن میں رہکر بیڈ کے نیچے نزریں دؤڑتی رہی۔ّ۔

جب میں کھڑی ہوکر پلٹی تو اُسکا چیہرا دیکھنے لایک تھا۔۔ اُسنے نزریں زمین میں گاڑا رکھی تھی۔ّ۔ اُسکے گورے گال لال ہو چُکے تھے۔۔ یے اِس بات کا سبُوت تھا کِ اُسنے 'کُچّھ' نا 'کُچّھ' تو زرُور دیکھا ہے۔ّ۔

"یہاں تو نہی مِلی۔۔ کیا کرُوں؟" میں اُسکی اؤر دیکھ کر ایک بار پھِر مُسکُرائی۔۔ پر اُسنے کوئی ریسپانس نا دِیا۔ّ۔۔

"مُجھے اَلماری کے اُپر چڑھا دوگے کیا؟ کیا پتا ممّی نے اُپر پھیںک دی ہو۔ّ۔" میرے مین میں سب کُچّھ کلِیر تھا کِ اَب کی بار کیا کرنا ہے۔ّ۔

"رہنے دو۔۔ میں دیکھ لیتا ہُوں۔۔" وو کہکر اُٹھا اؤر اَلماری کو اُپر سے پکڑ کر کوہنِیاں موڑ اُپر سرک گیا،"نہی۔۔ یہاں تو کُچّھ بھی نہی ہے۔ّ۔ چھچوڑو۔۔ تُم میتھ ہی لے آاو۔۔ کل تک ڈھُوںڈھ لینا۔ّ۔"

مینے مایُوس سی ہوکر میتھ کی کِتاب بیگ سے نِکال کر ٹیبل پر پٹک دی۔۔ اَب کاٹھ کی ہاںڑی بار بار چڑھانا تو ٹھیک نہی ہے نا۔ّ۔۔

"وو پڑھنے لگا ہی تھا کی مینے ٹوک دِیا،" یہاں ٹھیک سے دِکھائی نہی دے رہا۔۔ سامنے بیڈ پر بیٹھ جاُّ کیا؟"

"لگتا ہے تُمہارا پڑھنے کا مںن ہے ہی نہی۔۔ اَگر نہی ہے تو بول دو۔۔ بیکار کی میہنت کرنے کا کیا فایڈا۔ّ۔" ترُن نے ہلکی سی نارازگی کے ساتھ کہا۔ّ۔۔

مینے اَپنے رسیلے ہونٹ باہر نِکالے اؤر ماسُوم بن'نے کی آکٹِںگ کرتے ہُئے ہاں میں سِر ہِلا دِیا،" کل کر لیںگے پڑھائی۔۔ آج رِںکی بھی نہی ہے۔۔ اُسکی سمجھ میں کیسے آایگا نہی تو؟"

"ٹھیک ہے۔۔ میں چلتا ہُوں۔۔ اَب جب رِںکی ٹھیک ہو جاّیگی۔۔ تبھی آاُنگا۔ّ۔" وہ کہکر کھڑا ہو گیا۔ّ۔۔

"اَرے بیٹھو بیٹھو۔ّ۔ ایک مِنِٹ۔ّ۔" مینے پُورا زور لگاکر اُسکو واپس کُرسی پر بِٹھا ہی دِیا۔ّ۔ وو پاگل ہُآ ہو نا ہو۔۔ پر میں اُسکو چھچھُو کر مدہوش زرُور ہو گیی تھی۔ّ۔ّ۔

"کیا ہے اَب!" اُسنے جھلّا کر کہا۔ّ۔۔

"بس ایک مِنِٹ۔ّ۔" مینے کہا اؤر کِچن میں چلی گیّ۔ّ۔ّ۔

کُچّھ ہی پلوں باد میں اَپنے ہاتھوں میں چاے اؤر بِسکِٹس لیکر اُسکے سامنے تھی۔۔ مینے وو سب ٹیبل پر اُسکے سامنے پروس دِیا۔۔ پروس تو مینے کھُد کو بھی دِیا ہی تھا اُسکے سامنے، پر وو سمجھے تب نا!

"تھیںکس۔۔ پر اِسکی کیا زرُورت تھی۔ّ۔۔" اُسنے پہلی بار مُسکُرا کر میری اؤر دیکھا۔ّ۔ میں کھُس ہوکر اُسکے سامنے بیڈ پر بیٹھ گیّ۔ّ۔

"اَںجلِ! تُم سکُول کیُوں نہی جاتی۔ّ۔؟ رِںکی بتا رہی تھی۔ّ۔" چاے کی پہلی چُسکی لیتے ہُئے اُسنے پُوچّھا۔ّ۔۔

"اَب کیا بتاُّ؟" مینے بُرا سا مُںہ بنا لِیا۔ّ۔۔

"کیُوں کیا ہُآ؟" اُسنے ہیرت سے میری اؤر دیکھا۔۔ مینے کہا ہی اِس ترہ سے تھا کی مانو بہُت بڑا راج میں چچِپانے کی کوشِش کر رہی ہُوں۔۔ اؤر پُوچّھنے پر بتا دُوںگی۔ّ۔۔

"وو۔ّ۔۔" مینے بولنے سے پہلے ہلکا سا وِرام لِیا،" پاپا نے منا کر دِیا۔ّ۔"

"پر کیُوں؟" وہ لگاتار میری اور ہی دیکھ رہا تھا۔ّ۔ّ۔

"وو کہتے ہیں کِ۔ّ۔۔" میں چُپ ہو گیی اؤر جانبُوجھ کر اَپنی ٹاںگوں کو موڑ کر کھول دِیا۔ّ۔ اُسکی نزریں تُرںت جھُک گیّ۔۔ میں لگاتار اُسکی اؤر دیکھ رہی تھی۔۔ نزریں جھُکنے سے پہلے اُسکی آںکھیں کُچّھ دیر میری سکرٹ کے اَںدر جاکر ٹھہری تھی۔ّ۔ میری پیںٹی کے درشن اُسکو زرُور ہُئے ہوںگے۔ّ۔۔
(¨`·.·´¨) Always
`·.¸(¨`·.·´¨) Keep Loving &;
(¨`·.·´¨)¸.·´ Keep Smiling !
`·.¸.·´ -- raj sharma

User avatar
rajaarkey
Super member
Posts: 6633
Joined: 10 Oct 2014 10:09
Contact:

Re: بالی اُمر کی پیاس پارٹ-- urdu sexi stori

Post by rajaarkey » 02 Apr 2017 16:00


کُچّھ دیر یُوںہی ہی نزریں جھُکی رہنے کے باد واپس اُپر اُٹھنے لگی۔۔ پر اِس بار دھیرے دھیرے۔ّ۔ مینے پھِر مہسُوس کِیا۔۔ میری جاںگھوں کے بیچ جھںکتا ہُآ وو کسمسا اُٹھا تھا۔ّ۔۔ اُسنے پھِر میری آںکھوں میں آںکھیں ڈال لی۔ّ۔۔

"کیا کہتے ہیں وو۔۔" اُسکی نزریں بار بار نیچے جا رہی تھی۔ّ۔

مینے جاںگھیں تھوڑی سی اؤر کھول دی۔ّ۔،" وو کہتے ہیں کِ میں جوان ہو گیی ہُوں۔۔ آپ ہی بتاّو۔۔ جوان ہونا نا ہونا کیا کِسی کے ہاتھ میں ہوتا ہے۔ّ۔ یے کیا کوئی بُری بات ہے۔ّ۔۔ میں کیا سچ میں اِتنی جوان ہو گیی ہُوں کِ سکُول ہی نا جا سکُوں؟"

ایک بار پھِر اُسنے نزریں جھُکا کر سکرٹ کے اَںدر کی میری جوانی کا جیجا لِیا۔ّ۔ اُسکے چیہرے کی بدلی رںگت یے پُشٹِ کر رہی تھی کی اُسکا من بھی مان رہا ہے کِ میں جوان ہو چُکی ہُوں; اؤر پکے ہُئے رسیلے آم کی ترہ مُجھے چُوسا نہی گیا تو میں کھُد ہی ٹُوٹکر گِرنے کو بیتاب ہُوں۔ّ۔ّ۔

"یے تو کوئی بات نہی ہُئی۔ّ۔ زرُور کوئی دُوسری وجہ رہی ہوگی۔ّ۔ تُمنے کوئی شرارت کی ہوگی۔۔ تُم چھِپا رہی ہو۔ّ۔" اَب اُسکی جھِجھک بھی کھُل سی گیی تھی۔۔ اَب وہ اُپر کم اؤر میری جاںگھوں کے بیچ زیادا دیکھ رہا تھا۔۔ اُسکی جاںگھوں کے بیچ پیںٹ کا ہِسّا اَب اَلگ ہی اُبھرا ہُآ مُجھے دِکھائی دے رہا تھا۔ّ۔۔

"نہی۔۔ مینے کوئی شرارت نہی کی۔۔ وو تو کِسی لڑکے نے میرے بیگ میں گںدی گںدی باتیں لِکھ کر ڈال دی تھی۔۔ وو پاپا کو مِل گیا۔ّ۔" پُوری بیشرمی کے ساتھ بولتے بولتے مینے اُسکے سامنے ہی اَپنی سکرٹ میں ہاتھ ڈال اَپنی کچھِ کو ٹھیک کِیا تو وو پاگلا سا گیا۔ّ۔۔

"آ۔ّایسا کیا کِیا تھا اُسنے۔ّ۔؟ متلب ایسا کیا لِکھا تھا۔ّ۔" اَب تو اُسکی نزریں میری کچھِ سے ہی چِپک کر رہ گیی تھی۔ّ۔ّ۔

"مُجھے شرم آ رہی ہے۔ّ۔ !" مینے کہا اؤر اَپنی جاںگھوں کو سِکوڈ کر واپس آلتھی پالتی لگا لی۔ّ۔ مُجھے لگ رہا تھا کِ اَب تک وو اِتنا بیسبرا ہو چُکا ہوگا کِ کُچّھ نا کُچّھ زرُور کہیگا یا کریگا۔ّ۔۔

میرا شک غلت نہی تھا۔ّ۔ میری کچھے کے درشن بںد ہوتے ہی اُسکا لٹتُو سا پھیُوز ہو گیا۔ّ۔ کُچّھ دیر تو اُسکو کُچّھ سُوجھا ہی نہی۔ّ۔ پھِر اَچانک اُٹھتے ہُئے بولا،" اَچّچھا! میں چلتا ہُوں۔ّ۔ ایک بات بولُوں؟"

"ہاں۔۔!" مینے شرمکار اَپنی نزریں جھُکا لی۔۔ پر اُسنے ایسا کُچّھ کہا کِ میرے کانو سے دھُآں اُٹھنے لگا۔ّ۔

"تُم سچ میں ہی جوان ہو چُکی ہو۔۔ جب کبھی سکرٹ پہنو تو اَپنی ٹاںگیں یُوں نا کھولا کرو۔۔ ورنا تُمہارے پاپا تُمہارا ٹُوُّشن بھی ہٹوا دیںگے۔ّ۔" اُسنے کہا اؤر باہر نِکلنے لگا۔ّ۔۔

مینے بھاگکر اُسکی باںہ پکڑ لی،" ایسا کیُوں کہ رہے ہو۔ّ؟"

وو درواجے کے ساتھ کھڑا تھا اؤر میں اَپنے دونو ہاتھوں سے اُسکے ہاتھ پکڑے اُسکے سامنے کھڑی تھی۔ّ۔۔

"مینے سِرف سلاہ دی ہے۔۔ باکی تُمہاری مرزی۔ّ۔!" اُسنے سِرف اِتنا ہی کہا اؤر اَپنی نزریں مُجھسے ہٹا لی۔ّ۔ّ۔

"تُمہے میں بہُت بُری لگتی ہُوں کیا؟" مینے بھربھرا کر کہا۔ّ۔ اُسکے اِس کدر مُجھے لجِّت کرکے اُٹھنے سے میں آہت ہُئی تھی۔ّ۔ آج تک تو کِسی نے بھی نہی کِیا تھا ایسا۔ّ۔ دُنِیا مُجھے ایک نزر دیکھنے کو ترستی تھی اؤر مینے اُسکو اَپنی دُنِیا ہی دِکھا دی تھی۔ّ۔ پھِر بھی!

"اَب یے کیا پاگلپن ہے۔ّ۔ چھچوڑو مُجھے۔ّ۔!" اُسنے ہلکا سا گُسّا دِکھاتے ہُئے کہا۔ّ۔۔

ناری کُچّھ بھی سہن کر سکتی ہے۔۔ پر اَپنے بدن کی اُپیکشا نہی۔۔ میرے اَںدر کا ناری-سوابھِمان جاگ اُٹھا۔۔ میں اُس'سے لِپٹ گیّ۔۔ چِپک گیّ،" پلیز۔۔ بتاّو نا۔۔ میں سُندر نہی ہُوں کیا؟ کیا کمی ہے مُجھمیں۔۔ مُجھے تڑپاکر کیُوں جا رہے ہو۔ّ۔ّ۔"

میری چُوچِیا اُسمیں گاڑی ہُئی تھی۔ّ۔ میں اُپر سے نیچے تک اُس'سے چِپکی ہُئی تھی۔۔ پر اُسّپر کوئی اَسر نا ہُآ،" ہٹو! اَپنے ساتھ کیُوں مُجھے بھی جیلیل کرنے پر تُلی ہُئی ہو۔ّ۔ چھچوڑو مُجھے۔ّ۔ میں آج کے باد یہاں نہی آنے والا۔ّ۔" کہکر اُسنے زبردستی مُجھے بِستیر کی ترپھ دھکیلا اؤر باہر نِکل گیا۔ّ۔۔

میری آںکھیں رو رو کر لال ہو گیّ۔ّ۔ وہ مُجھے اِس کدر جیلیل کرکے گیا تھا کِ میں گھر والوں کے آنے سے پہلے بِستیر سے اُٹھ ہی نا سکی۔ّ۔ّ۔

-----------------------------------------------------------

جب دو دِن تک لگاتار وو نہی آیا تو پاپا نے اُسکو گھر بُلایا۔ّ۔ّ،" تُم آتے کیُوں نہی بیٹا؟" میں پاس کھڑی تھرتھر کاںپ رہی تھی۔۔ کہیں وو پاپا کو کُچّھ بتا نا دے۔ّ۔ّ۔

"وو کیا ہے چاچا جی۔ّ۔ آجکل میرے ایگزیم کی بھی تیّاری کرنی پڑ رہی ہے۔۔ اؤر رات کو دھرمپال کے گھر جانا ہوتا ہے۔۔ اُنکی بیٹِیوں کو پڑھانے کے لِئے۔۔ اِسیلِئے ٹائیم کم ہی مِل پاتا ہے۔ّ۔" بولتے ہُئے اُسنے میری ترپھ دیکھا۔ّ۔۔ مینے آںکھوں ہی آںکھوں میں اُسکا دھنیواد کِیا۔ّ۔ّ۔

"ہُوںمّ۔ّ۔ کؤنسی کلاس میں ہیں اُسکی بیٹِیاں؟" پاپا نے پُوچّھا۔ّ۔۔

"ایک تو اِسکی کلاس میں ہی ہے۔۔ دُوسری اِس سال کالیج جانے لگی ہے۔۔ اُسکو اِںگلیش پڑھاکر آتا ہُوں۔ّ۔۔" اُسنے جواب دِیا۔ّ۔۔

"تو تُو ایسا کیُوں نہی کرتا۔۔ اُنکو بھی یہیں بُلا لے۔ّ۔ نیچے کمرا تو کھالی ہے ہی اَپنا۔۔ جب تک چاہے پڑھا۔ّ۔۔!" پاپا نے کہا۔ّ۔۔

"نہی۔ّ۔ وو یہاں نہی آایںگی چاچا۔ّ۔ مُجھے ڈبل پے کرتے ہیں وو۔۔ اُنکے گھر رات کو پڑھانے کے لِئے۔ّ۔ اُنہونے میرے گھر آنے سے بھی منا کر دِیا تھا۔ّ۔۔" ترُن نے بتایا۔ّ۔۔

"اوہّ۔۔ تو ٹھیک ہے۔۔ میں دھرمپال سے بات کر لُوںگا۔ّ۔ اَںجلِ بھی وہیں پڑھ لیگی۔۔ وو تو اَپنا ہی گھر ہے۔ّ۔" پاپا نے جانے کیسے یے بات کہ دی۔ّ۔ مُجھے بڑا اَجیب سا لگا تھا۔ّ۔،" پر تُمہے گھر چھچوڑ کر جانا پڑیگا اَںجُو کو۔۔ رات کی بات ہے اؤر لڑکی کی جات ہے۔ّ۔۔"

ترُن نے ہاں میں سِر ہِلا دِیا۔ّ۔ اؤر میرا رات کا ٹُوُّشن سیٹ ہو گیا۔ّ۔ دھرمپال چاچا کے گھر۔ّ۔ّ۔


دھرمپال چاچا کی دونو لڑکِیاں بڑی کھُوبسُورت تھی۔ّ۔ بڑی کو میرے مُقابلے کی کہ سکتے ہیں۔۔ میناکشی۔ّ۔ پِچّھلے سال ہی ہمارے سکُول سے بارہوی کی پریکشا پاس کی تھی۔ّ۔ اُسکا یؤون بھی میری ترہ پُورے شباب پر تھا۔ّ۔ پر دِل سے کہُوں تو وو میری ترہ چںچل نہی تھی۔ّ۔ بہُت ہی شرمیلی اؤر شریپھ سوابھاو کی تھی۔ّ۔۔ گھر باہر سب اُسکو مینُو کہتے تھے۔ّ۔۔ پیار سے۔ّ۔

چھہوٹی میری اُمر کی ہی تھی۔۔ پر شریر میں مُجھسے تھوڑی ہلکی پڑتی تھی۔ّ۔ ویسے سُںدر وو بھی بہُت تھی اؤر چںچل تو مُجھسے بھی زیادا۔ّ۔ پر اُسکی چںچلتا میں میری ترہ تڑپ نہی تھی۔۔ اُنمُکت ویوہار تھا اُسکا۔۔ پر بچّوں کی ترہ۔ّ۔ گھر والوں کے ساتھ ہی آس پڑوس میں سبکی لاڈلی تھی وو۔۔ پرِیںکا! ہم سب اُسکو پِںکی کہتے تھے۔ّ۔

اَگلے دِن میں ٹھیک 7 بجے نہا دھوکر ٹُوُّشن جانے کے لِئے تیّار ہو گیّ۔۔ یہی ٹائیم بتایا تھا ترُن نے۔ مںن ہی مںن میں 3 دِن پہلے والی بات یاد کرکے جھِجھک سی رہی تھی۔۔ اُسکا سامنا کرنا پڑیگا، یہی سوچ کر میں پریشان سی تھی۔۔ پر جانا تو تھا ہی، سو مینے اَپنا بیگ اُٹھایا اؤر نِکل لی۔ّ۔۔

دھرمپال چاچا کے گھر جاکر مینے آواز لگائی،"پِںکی!"

تبھی نیچے بیٹھک کا درواجا کھُلا اؤر پِںکی باہر نِکلی،" آ گیی اَںجُو! آ جاّو۔۔ ہم بھیّا کا اِںتجار کر رہے ہیں۔ّ۔" اُسنے پیار سے میری باںہ پکڑی اؤر اَںدر لے گیّ۔۔

میں مینُو کی ترپھ دیکھ کر مُسکُرائی۔۔ وو رزائی میں دُبکی بیٹھی کُچّھ پڑھ رہی تھی۔ّ۔

"تُم بھی آج سے یہیں پڑھوگی نا اَںجُو؟ پاپا بتا رہے تھے۔ّ۔!" مینُو نے ایک نزر مُجھکو دیکھا اؤر مُسکُرا دی۔ّ۔۔

"ہاں۔ّ۔ دیدی!" مینے کہا اؤر پِںکی کے ساتھ چارپائی پر بیٹھ گیّ۔ّ،" یہیں پڑھاتے ہیں کیا وو!"

جواب پِںکی نے دِیا،" ہاں۔۔ اُپر ٹی۔وی۔ چلتا رہتا ہے نا۔ّ۔ وہاں شور ہوتا ہے۔ّ۔اِسیلِئے یہیں پڑھتے ہیں ہم! تُم سکُول کیُوں نہی آتی اَب۔۔ سب ٹیچرس پُوچھتے رہتے ہیں۔۔ بہُت یاد کرتے ہیں تُمہے سب!"

ہائے! کیا یاد دِلا دِیا پِںکی نے! میں بھی تو اُنن دینو کو یاد کر کر کے تڑپتِ رہتی تھی۔۔ ٹیچرس تو یاد کرتے ہی ہوںگے! کھیر۔۔ پرتیکش میں میں اِتنا ہی بولی،" پاپا کہتے ہیں کِ ایگزیمس کا ٹائیم آ رہا ہے۔ّ۔ اِسیلِئے گھر رہکر ہی پڑھائی کر لُوں۔ّ۔

"سہی کہ رہی ہو۔۔ میں بھی پاپا سے بات کرُوںگی۔۔ سکُول میں اَب پڑھائی تو ہوتی نہی۔ّ۔" پِںکی نے کہا۔ّ۔۔

"کب تک پڑھاتے ہیں وو۔۔" مینے پُوچّھا۔ّ۔۔

"کؤن بھیّا؟ وو تو دیر رات تک پڑھاتے رہتے ہیں۔۔ پہلے مُجھے پڑھاتے ہیں۔۔ اؤر جب مُجھے لٹکے آنے شُرُو ہو جاتے ہیں ہے ہے ہے۔ّ۔تو دیدی کو۔ّ۔ کیِ بار تو وو یہیں سو جاتے ہیں۔ّ۔!" پِںکی نے وِستار سے جانکاری دی۔ّ۔۔

مینُو نے ہمیں ٹوک دِیا،" یار۔۔ پلیز! اَگر بات کرنی ہے تو باہر جاکر کر لو۔۔ میں ڈِسٹرب ہو رہی ہُوں۔ّ۔"

پِںکی جھٹ سے کھڑی ہو گیی اؤر مینُو کی اؤر جیبھ دِکھا کر بولی،" چل اَںجُو۔۔ جب تک بھیّا نہی آ جاتے۔۔ ہم باہر بیٹھتے ہیں۔ّ۔!"

ہم باہر نِکلے بھی نہی تھے کِ ترُن آ پہُںچا۔ّ۔ پِںکی ترُن کو دیکھتے ہی کھُش ہو گیّ،" نمستے بھیّا۔۔!"

سِرف پِںکی نے ہی نمستے کِئے تھے۔۔ مینُو نے نہی۔۔ وو تو چارپائی سے اُٹھی تک نہی۔ّ۔ میں بھی کُچّھ نا بولی۔۔ اَپنا سِر جھُکائے کھڑی رہی۔ّ۔۔

ترُن نے مُجھے نیچے سے اُپر تک گؤر سے دیکھا۔۔ مُجھے نہی پتا اُسکے مین میں کیا آیا ہوگا۔۔ پر اُس دِن میں اُپر سے نیچے تک کپڑوں سے لد کر گیی تھی۔۔ سِرف اُسکو کھُش کرنے کے لِئے۔ّ۔ اُسنے سکرٹ پہن'نے سے منا جو کِیا تھا مُجھے۔۔

"آاو بیٹھو!" اُسنے سامنے والی چارپائی پر بیٹھ کر وہاں رکھا کںبل اؤدھ لِیا۔۔ اؤر ہمیں سامنے بیٹھنے کا اِشارا کِیا۔ّ۔

پِںکی اؤر میں اُسکے سامنے بیٹھ گیے۔۔ اؤر وو ہمیں پڑھانے لگے۔۔ پڑھاتے ہُئے وو جب بھی کاپی میں لِکھنے لگتا تو میں اُسکا چیہرا دیکھنے لگتی۔۔ جیسے ہی وہ اُپر دیکھتا تو میں کاپی میں نزریں گاڑا لیتی۔ّ۔ سچ میں بہُت کیُوٹ تھا وو۔۔ بہُت سمارٹ تھا!

اُسکو ہمیں پڑھتے کریب تین گھںٹے ہو گیے تھے۔۔ جیسا کِ پِںکی نے بتایا تھا۔۔ اُسکو 10:00 بجتے ہی نیںد آنے لگی تھی،" بس بھیّا۔۔ میں کل سارا یاد کر لُوںگی۔۔ اَب نیںد آنے لگی ہے۔ّ۔۔"
(¨`·.·´¨) Always
`·.¸(¨`·.·´¨) Keep Loving &;
(¨`·.·´¨)¸.·´ Keep Smiling !
`·.¸.·´ -- raj sharma

User avatar
rajaarkey
Super member
Posts: 6633
Joined: 10 Oct 2014 10:09
Contact:

Re: بالی اُمر کی پیاس پارٹ-- urdu sexi stori

Post by rajaarkey » 02 Apr 2017 16:01


"تیرا تو روج کا یہی ڈرمّا ہے۔ّ۔ اَبھی تو 10:30 بھی نہی ہُئے۔ّ۔" ترُن نے بڑے پیار سے کہا اؤر اُسکے گال پکڑ کر کھیںچ لِئے۔ّ۔ میں اَںدر تک جل بھُن گیّ۔۔ میرے ساتھ کیُوں نہی کِیا ایسا۔۔ جبکِ میں تو اَپنا سب کُچّھ 'کھِںچوانے' کو تیّار بیٹھی تھی۔ّ۔ کھیر۔۔ میں سبر کا گھُوںٹ پیکر رہ گیّ۔ّ۔ّ۔

"میں کیا کرُوں بھیّا؟ مُجھے نیںد آ ہی جاتی ہے۔۔ آپ تھوڑا پہلے آ جایا کرو نا!" پِںکی نے ہںستے ہُئے کہا۔۔ تاجُّب کی بات تھی اُسکو مرد کے ہاتھ اَپنے گالوں پر لگنے سے زرا سا بھی فرق نہی پڑا۔۔ اُسکی جگہ میں ہوتی تو۔ّ۔ کاش! میں اُسکی جگہ ہوتی۔ّ۔۔

"ٹھیک ہے۔۔ کل اَچّھے سے تیّار ہوکر آنا۔۔ میں ٹیسٹ لُوںگا۔۔" کہتے ہُئے اُسنے میری ترپھ دیکھا،" تُم کیُوں مُںہ پھُلائے بیٹھی ہو۔۔ تُمہے بھی نیںد آ رہی ہے کیا؟"

مینے اُسکی آںکھوں میں آںکھیں ڈالی اؤر کُچّھ دیر سوچنے کے باد اُتّر دِیا۔۔ اِشارے سے اَپنا سِر 'نا' میں ہِلاکر۔ّ۔ مُجھے نیںد بھلا کیسے آتی۔۔ جب اِتنا سمارٹ لڑکا میرے سامنے بیٹھا ہو۔ّ۔۔

"تُمہے پہلے چھچوڑ کر آاُ یا باد میں ساتھ چلوگِ۔ّ۔" وہ اِس ترہ بات کر رہا تھا جیسے پِچّھلی باتوں کو بھُول ہی گیا ہو۔۔ کِس ترہ مُجھے تڑپتِ ہُئی چھچوڑ کر چلا آیا تھا گھر سے۔ّ۔ پر پھِر بھی مُجھے اُسکا مُجھسے اُس گھٹنا کے باد 'ڈائیریکٹ' بات کرنا بہُت اَچّچھا لگا۔ّ۔۔

"آ۔۔ آپکی مرزی ہے۔ّ۔!" مینے ایک بار پھِر اُسکی آںکھوں میں آںکھیں ڈالی۔ّ۔۔

"ٹھیک ہے۔۔ چلو تُمہے چھچوڑ آتا ہُوں۔ّ۔ پہلے۔۔" وہ کہکر اُٹھنے لگا تھا کی تبھی چاچی نیچے آ گیّ،" اَرے۔۔ رُوکو! میں تو چاے بناکر لائی تھی کی نیںد کھُل جاّیگی۔۔ پِںکی تو کھرّاٹے لے رہی ہے۔ّ۔"

چاچی نے ہم تینو کو چاے پکڑا دی اؤر وہیں بیٹھ گیّ۔ّ،" اَںجُو! اَگر یہیں سونا ہو تو یہاں سو جاّو! سُبہ اُٹھکر چلی جانا۔ّ۔ اَب رات میں کہاں جاّوگی۔۔ اِتنی دُور۔ّ۔"

"میں چھچوڑ آاُنگا چاچی۔۔ کوئی بات نہی۔ّ۔" ترُن چاے کی چُسکی لیتا ہُآ بولا۔ّ۔۔

"چلو ٹھیک ہے۔۔ تُم اَگر گھر نا جاّو تو یاد کرکے اَںدر سے کُنڈی لگا لینا۔۔ میں تو جا رہی ہُوں سونے۔ّ۔ اُس دِن کُتّے گھُس گیے تھے اَںدر۔ّ۔" چاچی نے یے بات ترُن کو کہی تھی۔۔ میرے اَچرج کا ٹھِکانا نا رہا۔۔ کِتنا گھُل مِل گیا تھا ترُن اُنن سبسے۔۔ اَپنی جوان بیٹی کو اُسکے پاس چھچوڑ کر سونے جا رہی ہیں چاچی جی۔ّ۔ اؤر اُپر سے یے بھی چھچھُوٹ کی اَگر سونا چاہے تو یہیں سو سکتا ہے۔ّ۔ میں سچ میں ہیران تھی۔ّ۔ مُجھے ڈال میں کُچّھ نا کُچّھ تو ہونے کا شک پکّا ہو رہا تھا۔ّ۔ پر میں کُچّھ بولی نہی۔ّ۔۔

"آئے پِںکی۔۔ چل اُپر۔ّ۔!" چاچی نے پِںکی کے دونو ہاتھ پکڑ کر اُسکو بیٹھا دِیا۔ّ۔ پِںکی اِشارا مِلتے ہی اُسکے پِچھے پِچھے ہو لی۔۔ جیسے اُسکی آدت ہو چُکی ہو۔ّ۔۔

"چلو!" ترُن نے چاے کا کپ ٹرے میں رکھا اؤر کھڑا ہو گیا۔ّ۔ میں اُسکے پِچھے پِچھے چل دی۔ّ۔۔

راستے بھر ہم کُچّھ نہی بولے۔۔ پر میرے من میں ایک ہی بات چکّر کاٹ رہی تھی۔ّ،" اَب مینُو اؤر ترُن اَکیلے رہیںگے۔ّ۔ اؤر جو کُچّھ چاہیںگے۔۔ وہی کریںگے۔ّ۔۔
--------------------------------------------------------------

اَگلے دِن مینے باتوں ہی باتوں میں پِںکی سے پُوچّھا تھا،" مینُو کہاں سوتی ہے؟"

"پتا نہی۔۔ پر شاید وو بھی اُپر ہی آ جاتی ہیں باد میں۔۔ وو تو ہمیشا مُجھسے پہلے اُٹھ جاتی ہیں۔ّ۔ کیُوں؟" پِںکی نے بِنا کِسی لاگ لپیٹ کے جواب دے دِیا۔ّ۔

"نہی، بس ایسے ہی۔۔ اؤر تُم؟" مینے اُسکی بات کو ٹال کر پھِر پُوچّھا۔ّ۔۔

"میں۔۔ میں تو کہیں بھی سو جاتی ہُوں۔۔ اُپر بھی۔۔ نیچے بھی۔ّ۔ تُم چاہو تو تُم بھی یہیں سو جایا کرو۔۔ پھِر تو میں بھی روج نیچے ہی سو جاُّنگِ۔۔ دیکھو نا کِتنا بڑا کمرا ہے۔ّ۔" پِںکی نے دِل سے کہا۔ّ۔۔

"پر۔۔ ترُن بھی تو یہاں سو جاتا ہے نا۔۔ ایک آدھ بار!" میری چھانبین جاری تھی۔ّ۔

"ہاں۔۔ تو کیا ہُآ؟ یہاں کِتنی چارپائی ہیں۔۔ 6!" پِںکی نے گِن کر بتایا۔ّ۔

"نہی۔۔ میرا متلب۔۔ لڑکے کے ساتھ سونے میں شرم نہی آایگی کیا؟" مینے اُسکا مین ٹٹولنے کی کوشِش کی۔ّ۔۔

"دھات! کیسی باتیں کر رہی ہو۔۔ 'وو' بھیّا ہیں۔۔ اؤر ممّی پاپا دونو کہتے ہیں کِ وو بہُت اَچّھے ہیں۔۔ اؤر ہیں بھی۔ّمیں بھی کہتی ہُوں!" پِںکی نے سینا تان کر گرو سے کہا۔ّ۔۔

میری سمجھ میں کُچّھ نہی آ رہا تھا۔۔ میں کھڑی کھڑی اَپنا سِر کھُجانے لگی تھی۔۔ تبھی مینُو نیچے آ گیی اؤر مینے اُسکو چُپ رہنے کا اِشارا کر دِیا۔ّ۔۔


کرمشہ۔ّ۔ّ۔ّ۔ّ۔ّ۔ّ۔ّ۔

دوستوں پُوری کہانی جانّے کے لِئے نیچے دِئے ہُئے پارٹ جرُور پڑھے ۔۔ّ۔ّ۔ّ۔ّ۔ّ۔ّ۔ّ۔ّ۔ّ۔ّ۔ّ۔ّ۔ّ۔ّ۔
۔۔۔
آپکا دوست
راج شرما
(¨`·.·´¨) Always
`·.¸(¨`·.·´¨) Keep Loving &;
(¨`·.·´¨)¸.·´ Keep Smiling !
`·.¸.·´ -- raj sharma

Post Reply

Who is online

Users browsing this forum: No registered users and 7 guests