آنٹی گلبدن اور اس سات کلام

Post Reply
User avatar
rajaarkey
Super member
Posts: 6832
Joined: 10 Oct 2014 10:09
Contact:

آنٹی گلبدن اور اس سات کلام

Post by rajaarkey » 02 Apr 2017 17:23

آنٹی گلبدن اور اس سات کلام





پریشک : بِگ ڈِک



' لکی پروجیکٹ گائیڈ ' میری زِندگی کا وو رُوہانی اَنُبھو ہے جِسے میں تازِندگی نہیں بھُول پاُّوںگا۔ّ۔ اُسے شبدوں میں بیاں کر پانا بہُت مُشکِل ہے۔ میںنے سوچا نہیں تھا کِ کہانی اِتنی لںبی ہو جایّگی کِ اُسے دو-تین کِشتوں میں لِکھنا پڑیگا۔ّ۔ اِسیلِیے میںنے اُسے سِرف "لکی پروجیکٹ گائیڈ" نام دِیا تھا۔۔ پر اَب تو اُسے "لکی پروجیکٹ گائیڈ-1" ہی کہنا پڑیگا۔ّ۔

کھیر۔۔ "لکی پروجیکٹ گائیڈ" میں آپنے پڑھا کِ ہم دونوں ऑرگازم پر پہُںچ چُکے تھے۔ّ۔ پسینے سے تر-بتر ہو چُکے تھے۔۔ میرا لںڈ ششِ کی چُوت دوارا نِچوڑا جا چُکا تھا۔ّ۔۔ میںنے اُسکی کمر کے کھم کو پکڑا اؤر ایک جھٹکے سے پُورے لںڈ کو باہر نِکال دِیا۔ّ۔شِّ کے یونِپٹوں پے گھِسٹتا ہُآ لںڈ جیسے ہی باہر نِکالا۔۔ اُسکے نِتںب تھرتھرایے اؤر اُسکے مُںہ سے ایک سںتُشٹ اؤر مادک آواز نِکلی۔ّ۔"آऽऽऽऽऽऽہ۔ّ۔ّ۔"

ہم دونوں فرش پر ہی لیٹ گیے۔ّ۔نِروستر۔ّ۔اُنیںدی آںکھوں سے چھت کو تاکتے ہُیے۔ّ۔

جانے کب میری آںکھ لگ گئی تھی پتا ہی نہیں چلا۔ّ۔۔

اَچانک کھُلی تو دیکھا کِ ششِ میرے سُکڑے ہُیے لںڈ کا فورسکِن کھِسکا رہی تھی۔ّ۔اؤر سُپاڑے کے سُراکھ کو (جہاں سے ویرے نِکلتا ہے) بڑے پیار سے نِہار رہی تھی۔ّ۔۔

اؤر دھیرے-دھیرے اَپنے جیبھ کے اَگربھاگ کو نُکیلا سا کرکے اُسمیں مانو گھُسیڑنے کی کوشِش کر رہی تھی۔ّ۔

نسوں میں فِر سے سںچار شُرُو ہو گیا۔ّ۔۔ اؤر اِتنی تیز ہُآ کِ کُچھ ہی پلوں میں میرا لںڈ اَپنی پُوری لمبائی میں آ گیا۔ّ۔

اُسنے فورسکِن کو پُورا نیچے کھیںچ دِیا۔ّ۔۔ سُپاڑا بڑا ہی بھیاوہ لگ رہا تھا۔ّ۔ لال۔ّ۔ کھُوب فُولا ہُآ۔ّ۔

اُسنے اَپنا تھری-میگاپِکسیل کیمرے والا موبائیل اُٹھایا۔ّ۔ کلِک۔ّ۔ کلِک۔ّ۔ کلِک۔ّ۔ اَلگ-اَلگ کونوں سے تکریبن دس فوٹو لِیے۔ّ۔۔ کیمرا ایک ترف رکھا۔ّ۔۔ اَپنی دونوں ٹاںگوں کو میرے پُوری اَدا سے اِٹھلاتے ہُیے میرے کمر کے آجُو-باجُو رکھا۔ّ۔ّ۔ اَپنا مُںہ میری ترف جھُکایا۔ّ۔ اَپنے سُڈؤل ستن میری چھاتی پے دبائے۔ّ۔۔ چُمبن لِیا۔ّ۔ اِس ترہ اُسکے نِتمب تھوڑا اُوپر ہُیے۔ّ۔۔ میرا لںڈ اَپنے ہاتھ سے پکڑا۔ّ۔۔ اؤر سُپاڑے کو یونِدوار پر رگڑنے لگی۔ّ۔۔

جِتنی سِسکارِیاں اُسکے مُںہ سے نِکل رہی تھیں اُسّے زیادا میرے مُںہ سے نِکل رہی تھیں۔ّ۔۔ رہا نہیں جا رہا تھا۔ّ۔ ہاے یے بھُوکھ۔ّ۔۔ جِتنا کھاّو اُتنی ہی بڑھتی ہے۔ّ۔۔ ہاے یے پیاس۔ّ۔ کبھی نا کھتم ہونے والی پیاس۔ّ۔

آدھے گھںٹے پہلے لگ رہا تھا کِ بس آج کے لِیے کافی ہو گیا۔۔ اؤر اَب۔ّ۔ دیر کرنے کا من نہیں ہو رہا تھا۔ّ۔۔ میں بیساخ تا اُسکے ہوٹھوں کو چُوسنے لگا۔ّ۔ اُسکی گردن چاٹتے ہُیے میری جیبھ اُس درار میں پیوست ہونے لگی جِسے وو ऑفِس میں چھلکاتی دِکھاتی تھی۔ّ۔۔ میری ناک بھی دونوں ستن کے بیچ آ گئی تھی۔ّ۔ّاؤر میں اُس کھُشبُو سے مدہوش ہوتا جا رہا تھا۔ّ۔ّدونوں ہاتھوں سے اُسکے ستن اَگل-بگل سے اِس ترہ بھیںچا۔ّکِ میری ناک۔ّ۔میرا مُںہ۔ّ۔ّمیری جیبھ۔ّ۔اؤر میرا پُورا وزُود اُسکے اَمرت کلشوں کے بیچ سما گیا۔ّ۔مُجھے لگا۔ّ۔سورگ اَگر کہیں ہے۔ّ۔ّتو یہیں ہے۔ّ۔یہیں ہے۔ّ۔بس یہیں ہے۔ّ۔۔

اَچانک مُجھے لںڈ پے کُچھ نمی کا اَہساس ہُآ۔ّ۔۔

"آے ایم ڈرِپِںگ"۔۔ّ۔ اُسنے وہی شوکھ۔ّ۔۔ وہی مادک۔ّ۔ وہی سرسراتی سی آواز میں میرے کان میں کہا۔ّ۔ّ۔

اؤر آہِستا-آہِستا میرا سُپاڑا اُسکی گہرائیّاں ناپنے لگا۔ّ۔۔ اَںدر کافی لسلساپن تھا۔۔ گرماہٹ تھی۔ّ۔۔

اُسنے کُچھ سیکںڈ کے لِیے اَپنے چُوتڑوں کو ویسے ہی ہوا میں رکھا۔ّ۔۔ فِر دھیرے دھیرے اِس ترہ اُوپر-نیچے ہِلانے لگی کِ لںڈ کا سِرف تین-چار اِںچ اَںدر-باہر ہو رہا تھا۔ّ۔ّ۔

کریب اُسکے بیس بار ایسا کرنے کے باد میں اِتنا اُتّیجِت ہو گیا کِ اَپنے کُولہے کی ساری ماںسپیشِیوں کی تاکت اِکٹّھا کرکے ایک جوردار جھٹکا اُوپر کی اور دِیا۔۔

کِ پُورا کا پُورا لںڈ سرسراتا ہُآ اَںدر ہو گیا۔ّ۔۔

"او ماے گاڈ"۔۔ّوو چیکھی۔ّ۔

اؤر بھربھراتے ہُیے میرے لںڈ کو چُوت میں نِگلتے ہُیے بیٹھ گئی۔ّ۔۔

لںڈ کو اَںدر لِیے-لِیے ہی اَپنے چُوتڑوں کو آگے-پیچھے اؤر گول-گول گھُمانے لگی۔ّ۔ّ۔

اُسکی جھاںٹیں میری جھاںٹوں کو رگڑتے ہُیے اَجیب اُتّیجنا پیدا کر رہی تھی۔ّ۔ّ۔ پندرہ-بیس مِنٹ تک یہی چلتا رہا۔ کبھی میں اُسکے دونوں ستنوں کو پکڑتا۔ّ۔ اُنہیں چُوستا۔ّ۔ چاٹتا۔ّ۔۔ اؤر کبھی اُسکے چُوتڑوں میں چپت لگاتا۔ّ۔ اُنہیں مسل دیتا پھِر نیچے کو اور(اَپنی اور) دھکّا دیتا۔ّ۔

اَب میں بھی اَپنی گاںڑ کا چھید سِکوڑکر اَپنی چُوتڑوں کو اُوپر نیچے کر رہا تھا۔ّ۔ وو اؤر جور سی چیکھنے لگی۔ّ۔ چیکھتے-چیکھتے اُسکا پُورا شریر میرے اُوپر گِر سا پڑا۔ّ۔۔ دھڑکنیں اؤر ساںسیں دھؤںکنی کی مانِند چل رہی تھیں۔ّ۔ّوو اَبھی بھی چُوتڑوں کو دھیرے-دھیرے ہِلا رہی تھی۔ّ۔ّاُسکی چُوت سے نِکلا کامرس میری جھاںٹوں اؤر اَںڈوں کو بھِگوتا ہُآ اَنورت بہتا جا رہا تھا ۔۔ّ۔

کُچھ دیر میں وو نِشچیشٹ سی میرے اُوپر پڑی تھی، اَچانک میںنے اَپنے چُوتڑ اُچھالنے کی سپیڈ بڑھا دی۔ّ۔ّکریب پچّیس دھکّوں کے باد میں اِتنے جور سے سکھلِت ہُآ کِ ایک تیز دھار اُسکے چُوت کے اَںدر کے دیواروں پر پڑی اؤر وو چِہُںک اُٹھی۔ّ۔ّمیں دھیرے-دھیرے ہِلاتا ہُیا شاںت ہو گیا۔ّ۔ّ۔پُرسُکُون شاںت۔ّ۔سںتُشٹ اؤر ترپت۔ّ۔!!

ششِ۔ّ۔ّاَگر تُم کہیں یہ پڑھ رہی ہو۔ّ۔ تو شُکرِیا۔ّ۔ مُجھے وہ شام دینے کے لِیے۔ّ۔ وو یادگار لمہا دینے کے لِیے۔ّ۔ ( اؤر اَپنی دو اؤر سہیلِیاں دینے کے لِیے۔۔)

کافی دیر تک ویسے ہی پڑے رہنے کے باد ہم دونوں اُٹھے۔ّ۔ چاے بنا کے پی ۔۔۔ اؤر میں اُسے ایک اؤر شام کا وادا کرکے اُسکے کزِن کے گھر چھوڑ آیا۔ّ۔ میرے لںڈ کی فوٹو اُسکے پاس رہ گئی تھیں۔ّ۔ اُسکے چُوت کی یادیں میرے ساتھ آ گئیں تھیں۔

سمے اَپنی گتِ سے چلتا رہا۔ّ۔ پروجیکٹ اَپنی گتِ سے چلتا رہا۔ّ۔۔

اُس دِن میں شام کو ऑفِس سے لیٹ لؤٹ رہا تھا۔ّ۔۔ ٹریفِک بہُت زیادا تھی۔ّ۔ میری بائیک بس سٹاپ کے ٹھیک سامنے تھی۔ّ۔ اَچانک پیچھے سے آواز آئی۔۔ "سر"

میںنے دھیان نہیں دِیا۔ّ۔ ایک ہاتھ نے میرے کںدھے کو چھُآ۔ّ۔ وو سمِتا تھی۔ّ۔ ساںولی۔ّ۔ بڑی-بڑی آںکھوں والی۔ّ۔ ڈھیلا-ڈھالا سا سلوار کُرتا پہنے ہُیے۔ّ۔ دُپٹّا پُورے وکشستھل کو ایسے ڈھکے ہُیے کِ جِسمیں دیکھکر لگتا تھا کِ اَںدر کھالی ہے۔ّ۔ّکُرتا اِتنا ڈھیلا اؤر بڑا تھا کِ نِتمبھ کا آکار بھی نہیں دِکھتا تھا۔ کُل مِلا کر اُسمیں کوئی سیکس-اَپیل نہیں نزر نہیں آتی تھی۔

"سمِتا؟۔ّ۔ ہِیر؟۔ّ۔ وہاٹ ہیپّیںڈ؟۔ّ۔ مِسڈ یور بس؟"

"یس سر۔ّ۔وُڈ یُو پلیز ڈراپ می ٹُو نیکسٹ سٹاپ؟"

"اوہ شیور؟" اُوپر سے اُتساہِت اؤر اَںدر سے کھیجھا ہُآ میں بولا۔

سمِتا پیچھے کراس-لیگ (ٹاںگوں کو دونوں ترف کرکے) بیٹھی، جیسے ہی ٹریفِک کم ہُآ، میںنے بائیک بڑھا دی۔ میں اُسکو جلدی سے پہُںچا دینا چاہتا تھا پر اَفسوس کِ اَگلے سٹاپ میں بھی کوئی بس نہیں تھی۔ رِمجھِم بارِش شُرُو ہو گئی تھی۔

"اَب کیا کریں؟" میںنے کہا۔

"سر۔ّ۔ میں اَپنا موبائیل بھُول گئی۔ّ۔ آپکے موبائیل سے ایک کال کر لُوں؟"

"شیور۔۔"

تب تک بارِش کُچھ تیج ہو گئی تھی، ہم دونوں بھیگنے سے بچنے کی ناکام کوشِش کرتے رہے۔

بادل چھایے رہنے کے کارن شاید موبائیل میں نیٹورک نہیں تھا، آسپاس کوئی بُوتھ بھی نزر نہیں آ رہا تھا۔

"اَرجیںٹ ہے؟" میںنے پُوچھا۔

"ہاں۔ّ۔" اُسنے کہا۔

میرا گھر وہاں سے سؤ کدم پے تھا۔

میںنے بیمن سے کہا،"چلو میرے گھر۔۔ لیںڈلائین سے کر لینا !"

سُنتے ہی اُسکی آںکھوں میں اَجیب سی چمک آئی۔ّ۔

کھیر ہم لوگ گھر پہُںچے۔ّ۔۔ کافی بھیگ چُکے تھے۔ّ۔ اُسنے فون لگایا اؤر جانے کیا-کیا باتیں کرتی رہی۔ّ۔ میں بھیتر جاکر کپڑے بدل کر آ چُکا تھا، وو تب بھی فون پے لگی ہُئی تھی۔ّ۔ بات کرتے-کرتے اَنجانے میں (یہ مُجھے تب لگا تھا۔ّ۔ بات میں پتا چلا کِ وہ ہرکت جان-بُوجھکر کی گئی تھی) اُسنے بھیگا دُپٹّا نِکالکر ایک ترف رکھ دِیا اؤر میرے پُورے شریر میں ایکبارگی جھُرجھُری سی ہو گئی۔ّ۔۔ سامنے کا نزارا ہی کُچھ ایسا تھا۔ّ۔

اُسنے لو-کٹ (گہرے گلے والا) کُرتے کے اَندر ایک مہین سا شمیز پہن رکھی تھی جو کِ پانی میں اُسکے بدن سے چِپک گئی تھی اؤر اُسکے ٹھںڈ سے نُکیلے ہو چُکے کالے-کالے نِپّل ساف نزر آ رہے تھے ! پاپِنس کے سائیز کا ایرولا بھی دِکھائی دے رہا تھا اؤر جھٹکا کھانے والی بات یہ تھی کِ اُسکے ستن ایکدم تنے ہُیے بہُت بڑے-بڑے تھے، اِتنے بڑے جِسکی میںنے کلپنا بھی نہیں کی تھی، جِنکو وو ڈھیلے-ڈھالے کُرتے اؤر دُپٹّے کے نیچے ڈھکی رہتی تھی۔ ستنوں کا آکار ساف دِکھائی دے رہا تھا اؤر میری ہالت ویسی ہی ہو رہی تھی جیسے اُپواس کے دِن مِٹھائیّوں کو دیکھکر ہوتی ہے۔ّ۔

اُسنے فون رکھا اؤر اَچانک اَپنا سر اُوپر اُٹھایا اؤر میری چوری پکڑی گئی (تب تک تو میں اُسے چوری ہی سمجھ رہا تھا۔ّ۔۔ مُجھے تھوڑی پتا تھا کِ جال بِچھا ہُآ تھا۔ّ۔ میں دانا چُگ رہا تھا۔ّ۔ اؤر سیّاد کی آںکھوں میں چمک تھی۔ّ۔ شِکار کو دانا چُگتے دیکھنے کی چمک۔ّ۔ّ۔ یا کھُدا۔ّ۔۔ اِن لڑکِیوں کے لِیے کِتنا آسان ہوتا ہے لڑکوں کو پٹانا۔ّ۔)

کاتِل مُسکُراہٹ کے ساتھ اُسنے پُوچھا،"سر آپکے پاس آیرن باکس ہے؟"

"ے۔ے۔ّیس۔ّ۔ّہے !" میری تںدرا بھںگ ہُئی۔ّ۔

"میں یے کُرتا آیرن کر لیتی ہُوں۔ّ۔تھوڑا سُوکھ جایّگا۔ّ۔ تب تک اِف یُو ڈوںٹ مائینڈ۔ّ۔ آپکا کوئی شرٹ پہن لُوںگی !"

"نو پرابلم۔ّ۔"

میں آگے-آگے بیڈرُوم کی ترف چلا۔ّ۔ وو پیچھے-پیچھے آئی۔ّ۔ میں ایک شرٹ نِکالنے لگا۔ّ۔ وو میری ترف پیٹھ کرکے کُرتا اُتارنے لگی۔ّ۔ میںنے شرٹ اُسکو دِیا۔۔

"پلیز باہر جائیّے نا !"

تب تک بھی میں اُسے شرمیلی سی لڑکی سمجھ رہا تھا۔

میں ہال میں چلا گیا۔ّ۔ اَںدر ایک تُوفان سا اُٹھا ہُآ تھا۔ّ۔ سمِتا کے نِپّل۔۔ ایرولا۔۔ پُشٹ ستن۔ّ۔ میری آںکھوں کے سامنے گھُوم رہے تھے اؤر من ہی من آتمگلانِ بھی ہو رہی تھی کِ میں اِتنی سیدھی-سادھی لڑکی کے بارے میں اِس ترہ سے سوچ رہا تھا۔ اَچانک سمِتا آ گئی۔ّ۔ میری شرٹ پہنے ہُیے۔ّ۔۔ چُست۔ّ۔ اِتنا چُست کِ دُوسرے نمبر کا بٹن جیسے کھُلا جا رہا تھا۔ّ۔ وکش باہر چھلک رہے تھے۔ّ۔ تھوڑی سی جھِرّی سے ستن کی اَںدر کی مادک درار اؤر گولائیّاں جھاںک رہے تھے۔ّ۔ اؤر میری نزر ہٹ نہیں رہی تھی۔ّ۔۔ ہالاںکِ سمِتا ساںولی سی تھی پر اُسکے ستنوں کا رںگ گورا-گورا تھا۔ّ۔

شرٹ چُوںکِ شارٹ-شرٹ تھی۔ّ۔۔ اُسکی کمر تک ہی آ رہی تھی اؤر کمر کے نیچے کا ہِسّا سِرف بھیگے ہُئی سی سلوار میں ڈھکا تھا۔ّ۔ّ۔۔ اُس جگہ مُجھے چُوت کا ترِکون ساف دِکھائی دے رہا تھا۔ّ۔اُس ترِکون کا رںگ تھوڑا گہرا تھا، شاید اُسکی جھاںٹیں بھی بھیگکر کپڑے سے چِپک گئی تھیں۔ّ۔ ترِکون۔ّ۔۔ جادُئی ترِکون۔۔!! میری نیّت ڈول چُکی تھی۔ّ۔۔ اَگر سمِتا سیدھے میری آںکھوں میں دیکھتی تو لال ڈورے میری چُگلی کر دیتے۔

"اِسکو کہاں لٹکا دُوں؟" اُسنے اَپنا کُرتا ہوا میں لہرایا۔ّ۔

"اُس کمرے میں۔ّ۔! چلو۔ّ۔!" میںنے دُوسرے کمرے کی ترف اِشارا کِیا۔ّ۔

وو آگے-آگے چلی۔ّ۔اؤر مانو کیامت ہی آ گئی۔ّ۔اُسکے پُشٹ نِتمبوں کے آگے ششِ کے نِتمب کُچھ بھی نہیں تھے۔ّ۔ مست اُبھرے ہُیے۔ّ۔ گول-گول آکار کے۔ّ۔ جیسے ساںچے میں ڈھلے ہُیے۔ّ۔ کسے ہُیے۔ّ۔ ایک لے میں اُوپر نیچے ہوتے ہُیے۔ّ۔ تیور اِچّھا ہُئی کِ اِنہیں چھُو لُوں۔۔ سہلا لُوں۔ّ۔ بھیںچ لُوں۔ّ۔ّ۔۔ اُس درار کو مہسُوس کر لُوں جو اِن مدبھری گھاٹِیوں کے بیچ ہے۔ّ۔
(¨`·.·´¨) Always
`·.¸(¨`·.·´¨) Keep Loving &;
(¨`·.·´¨)¸.·´ Keep Smiling !
`·.¸.·´ -- raj sharma

آنٹی گلبدن اور اس سات کلام

Sponsor

Sponsor
 

User avatar
rajaarkey
Super member
Posts: 6832
Joined: 10 Oct 2014 10:09
Contact:

Re: آنٹی گلبدن اور اس سات کلام

Post by rajaarkey » 02 Apr 2017 17:24


میں کِتنا غلت تھا۔ّ۔۔ سمِتا میں سیکس اَپیل تھا۔ّ۔ اؤر گزب کا سیکس اَپیل تھا۔ّ۔۔ بس چھُپا ہُآ تھا۔ّ۔۔ اَنچھُآ تھا۔ّ۔ آورت تھا۔ّ۔ اؤر یہاں میں بیچین تھا۔ّ۔ اُسے چھُونے اُگھاڑنے کے لِیے۔ّ۔ چھُونے کے لِیے۔ّ۔ اَناورت کرنے کے لِیے۔ّ۔

"یہاں؟"۔۔ّ۔اُسنے پُوچھا۔ّ۔ایک رسّی باںدھ رکھی تھی میںنے۔ّ۔کپڑے سُکھانے کے لِیے۔ّ۔

"یس !"

اُسکے ہاتھ اُوپر اُٹھایے۔ّ۔ّستن اؤر بھی تن گئے۔ّ۔اَب میں جایجا لینے اؤر بھی کریب پہُںچ گیا۔ّ۔ وہ رسّی تک نہیں پہُںچ پا رہی تھی۔ّ۔ پاس پڑا سٹُول کھِسکایا۔۔ اُسپے چڑھ کے سُکھانے لگی۔ّ۔۔ میں اُسکے سامنے کھڑا تھا۔ّ۔اُسکے مدھُگھٹدوے کے ٹھیک نیچے۔ّ۔ اُسنے دونوں ہاتھ اُٹھایے اؤر سنتُلن کھونے کے کارن بھربھرا کے میرے اُوپر آئی۔ّ۔ میں اِس اَپرتیاشِت گھٹنا کے لِیے تیّار نہیں تھا۔۔ پرتِکرِیا میں میںنے اَپنے دونوں ہاتھ اُٹھایے۔۔ ٹھیک ویسے ہی جیسے کوئی چیز سِر پے گِرنے والی ہو اؤر آپ بچنا چاہتے ہوں۔ّ۔۔

سٹُول ایک ترف لُڑھکا۔ّ۔ وو میرے اُوپر گِری۔ّ۔ اُسکے دونوں سُرا-کلش میرے ہاتھوں میں آ گیے۔ّ۔ میں اُنہیں پکڑے-پکڑے نیچے گِر پڑا۔ّ۔۔ اُسکے لمبے-گھنے-کھُشبُودار بال میرے چیہرے پر آ گیے۔ّ۔ اُسکے گال میرے گال سے سٹ گیے۔ّ۔ اُسکے ہوںٹھ میرے کنپٹّی کے نیچے۔ّ۔ اؤر میں اُسکی تیز-تیز چلتی ساںسوں کو مہسُوس کر رہا تھا۔

اُسنے اَپنے ستنوں کو چھُڑانے کی چیشٹا نہیں کی۔۔ میںنے کھُد ہی اَپنے ہاتھ ہٹا لِیے۔ّ۔ اُسکے ستن میرے سینے سے چِپٹ گیے اؤر مُجھے ایسا مہسُوس ہُآ جیسے اُسنے دھیرے سے میرے گردن میں چُوما ہو۔۔

میرے پُورے شریر میں کرںٹ دؤڑ گیا۔ّ۔ لںڈ کی نسوں اؤر رگوں میں گرم کھُون اُفنّے لگا۔ّ۔۔ میرا لوّر پتلے وُولکاٹ کا ہونے کے کارن لںڈ کا کٹھورتا کا اَہساس سمِتا کو ہو چُکا تھا اؤر مُجھے اُسکی چُوت کے اُبھار کا۔ّ۔ اُسنے اَپنے چُوت کو لںڈ کے ٹھیک اُوپر لاکر تھوڑا سا دباو بڑھایا۔ّ۔ دِل کی دھڑکن۔ّ۔ لںڈ کی فڑکن اؤر چُوت کا سپںدن۔ّ۔ تینوں تیج ہو گیے تھے۔ّ۔

اَب میں سمجھ چُکا تھا کِ سمِتا چاہتی کیا ہے۔ّ۔۔

میںنے اُسکے ماںسل نِتمبوں کو پکڑکر اَپنے لںڈ پے اؤر دباو بڑھایا۔ّ۔ اُسنے مُجھے اِتنی جور سے بھیںچا کِ اُسکے ستن پِگھلنے سے لگے۔ّ۔ اؤر اُسکی گرمی سے میں پِگھلنے لگا۔ّ۔

اُسنے اَپنے سُلگتے ہُیے ہوںٹھ میرے ہوںٹھوں پے رکھ دِیے اؤر میں بیساکھتا اُنہیں چُوسنے لگا۔ّ۔

اُسنے اَپنے چُوتڑ ہِلانا شُرُو کر دِیا۔ّ۔ اُسنے اَپنے ہاتھ فرش پر ٹِکایے اؤر چیہرا اؤر کںدھا اُوپر اُٹھایا۔ّ۔میںنے اُسکے شرٹ کے اُوپر کے دونوں بٹن کھول دِیے اؤر دونوں گولائیّوں کو اَپنے ہاتھ میں لے لِیا۔ّ۔ تھوڑا سہلایا۔ّ۔ چُچُوک پے چُٹکی کاٹی اؤر مُںہ میں لیکر چُوسنے لگا۔ّ۔

سمِتا سِسکاری بھرتے ہُیے اَپنے چُوتڑوں کو اُوپر نیچے کرنے لگی۔

اُسنے میرے لوّر کے اَںدر ہاتھ ڈال کر میرا لںڈ پکڑ لِیا۔ّ۔ اَپنی ترجنی سے سُپاڑے کے سُراکھ کا جایجا لِیا جِسمیں لسلسا پرِ-کم نِکل رہا تھا۔ّ۔۔

اَچانک وو نیچے کی ترف سرکی، میرا لوّر پُورا اُتار دِیا اؤر میرے تنّایے ہُیے لںڈ کو چُومنے-چاٹنے لگی۔ّ۔

میں بیکابُو ہوتا جا رہا تھا۔ّ۔ لںڈ چُوستے-چُوستے اُسنے اَپنی گاںڈ گھُما کے میرے مُںہ کے سامنے کر دِیا۔۔ میں اِشارا سمجھ گیا۔ّ۔ اُسکی سلوار کا ناڑا کھولا اؤر اُسکی پیںٹی سرکا دی۔۔

ایک مدہوش کر دینے والی سُگںدھ سے میرے نتھُنے بھر گیے۔ّ۔ اُسکی ٹاںگوں کو چؤڑا کرکے میںنے اَپنی جیبھ اُسکی یونِ کی پںکھُڑِیوں کے بیچ دھںسا دی۔ّ۔ بیچ-بیچ میں اَپنی اُںگلی اُسکی چُوت میں گھُسیڑکر اُسکے جی-سپاٹ کو چھیڑ دیتا تھا اؤر فِر جیبھ کی نوک سے اُسکے کلائیٹورِس کو چاٹنے لگا۔ّ۔۔

سمِتا اَپنے چُوتڑوں کو اُوپر نیچے ہِلانے لگی۔ّ۔ دس مِنٹ کے باد ہم وُمن-ऑن-ٹاپ پوزِشن پے آ گیے۔ّ۔ سمِتا جیسے ہی سیدھی ہوکر میرے اُوپر آئی میںنے اُسنے چُوچکوں کو اَپنے مُںہ کے ہوالے کر دِیا۔ وو اَپنے چُوتڑ اُٹھاکر میرے لںڈ کے سُپاڑے کو چُوت کے فاںکوں میں رگڑنے لگی۔ جب چُوت پُوری ترہ گیلی ہو گئی تو اُسنے دھیرے سے سُپاڑا چُوت کے اَںدر لے لِیا۔ّ۔

تھوڑی دیر تک ایسے ہی پُورے ترہ فُولے ہُیے سُپاڑے کا سائیز ناپنے کے باد اؤر ہاتھ سے پکڑ کر لںڈ کی لمبائی کا اَںداجا لگانے کے باد، پُوری ترہ اِس بات سے آشوست ہونے کے باد کِ وو اِس لمبائی کو جھیل لیگی، وو دھیرے سے نیچے بیٹھی اؤر میرا لںڈ کریب چار اِںچ اَںدر دھںس گیا۔

"آآّہ" وو تھوڑا سا تڑپی۔ّ۔ اؤر اُتنا ہی اَںدر ڈالے-ڈالے کریب دو مِنٹ تک اُوپر-نیچے ہِلتی رہی، فِر ایک جھٹکے کے ساتھ پُورا نیچے بیٹھ گئی اؤر اُسکی چُوت نے میرا پُورا ساڑھے آٹھ اِںچ کا لںڈ نِگل لِیا۔ّ۔ پُورا ساڑھے آٹھ اِںچ۔ّ۔۔ چُوت کی لیلا اَپمپار ہے!

ایک چیکھ سی نِکلی سمِتا کے کںٹھ سے اؤر شریر ایںٹھنے سا لگا۔ّ۔ چُپچاپ بیٹھکر۔ّ۔ لںڈ کو نِگلے ہُیے وو درد پیتی رہی۔ّ۔ جب درد کا اَہساس کم ہُآ تو فِر سے چُوتڑ ہِلا-ہِلاکر مُجھے چودنے لگی۔ّ۔ جِن آںکھوں میں چںد لمہوں پہلے اَسیم درد تھا۔ّ۔ اَب اُنمیں چمک تھی۔ّ۔ مستی تھی۔ّ۔ نشا تھا۔ّ۔ اُنماد تھا۔ّ۔

جِس چُوت میں سُپاڑا بھی بمُشکِل جا رہا تھا اُسمیں میرا پُورا لںڈ بلکِ میرا پُورا وزُود سمایا ہُآ تھا۔ّ۔!

کالیج میں کِسی نے یے لائینیں سُنائی تھیں:

پہلے تو ن جاتی تھی کیل چُوت میں

اؤر اَب تو بن گئی ہے جھیل چُوت میں

ایک دِن گھُس گئی چیل چُوت میں

وہاں اُسکو مِل گیا وکیل چُوت میں

وکیل نے ٹھوک دی اَپیل چُوت میں

کِ میںنے تو لگائی تھی سیل چُوت میں

فِر کِسنے بنا دی جھیل چُوت میں

اِتنا کومل ہوتی ہے یہ چُوت کِ ایک اِںچ کا کڑا سُپاڑا بھی اُسکے لِیے کشٹپرد ہوتا ہے۔ّ۔اؤر اِتنی لچکدار ہوتی ہے یہ چُوت کِ چار اِںچ سے لیکر آٹھ-نؤ اِںچ کے لںڈ کو نِگل سکتی ہے۔ّ۔۔!

ہے چُوت۔ّ۔تُجھے نمن ہے۔ّ۔پرچںڈ لںڈ کا نمن۔ّ۔!!!

فِلوسافی بہُت ہُئی۔ّ۔ بہرہال۔ّ۔ جب اُسکے درد کا اَہساس کم ہُآ تو فِر سے چُوتڑ ہِلا-ہِلاکر مُجھے چودنے لگی۔۔

اؤر میں بھی نیچے سے پِل پڑا۔ّ۔ کبھی اُسکے چُوتڑوں کو بھیںچکر۔ّ۔ کبھی اُسکے ستنوں کو بھیںچکر۔ّ۔

چالیس مِنٹ کے جدّوزہد کے باد آکھِر ہمیں مںزِل مِل ہی گئی۔ّ۔ سمِتا نِڈھال ہوکر میرے اُوپر لیٹ گئی۔ّ۔ نا وو میری پروجیکٹ سٹُوڈیںٹ رہی۔ّ۔ نا میں اُسکا گائیڈ رہا۔ّ۔ سب برابر ہو گیا تھا۔ّ۔ کوئی اَںتر نہیں تھا۔ّ۔

کریب دس مِنٹ باد میںنے اُسکا چیہرا اُٹھایا اؤر چُوم لِیا۔ّ۔ اؤر اُسنے مُجھے باںہوں میں کس لِیا۔ّ۔

باہر بارِش بھی تھم چُکی تھی۔ّ۔

ہم دونوں اُٹھے۔ّ۔ اُسکے کپڑے سُوکھ چُکے تھے۔ّ۔ اُسنے کپڑے پہنے۔ّ۔۔

اَپنا پرس اُٹھایا۔۔ مُجھے کِس کِیا اؤر شوکھی سے مُسکُرایے ہُیے کہا،"اَگر میں آپکو ایک راز کی بات بتاُّوں تو آپ ناراز تو نہیں ہوںگے؟"

"نہیں۔ّ۔بولو !"

اُسنے اَپنا پرس کھولا اؤر اَپنا موبائیل نِکالکر دِکھایا۔۔

میں بھؤںچک۔۔"تو تُمنے جھُوٹھ کہا تھا کِ تُم اَپنا موبائیل بھُول گئی تھی ؟"

"سر آپنے وادا کِیا تھا۔ّ۔ آپ ناراز نہیں ہوںگے۔ّ۔ جبسے ششِ نے مُجھے آپکے کِںگ سائیز پرائیویٹ پارٹس کے فوٹو دِکھایے تھے تبسے میںنے ٹھان لِیا تھا۔۔ کِ اَگر میری جوانی کِسی کے لِیے بینکاب ہوگی، بیپردا ہوگی۔ّتو اِسی کے لِیے ہوگی"

"تو وو تُمہارا بس چھُوٹنا۔ّ۔"

"سب پلانِںگ تھی سر۔ّ۔ میں تو اَپنی سکُوٹی لیکر آتی ہُوں۔ّ۔" اُسنے کھِلکھِلاتے ہُیے راج کھولا۔

میں اُلُّو کی ترہ اُسے دیکھ رہا تھا۔ّ۔ فِر میںنے پُوچھ ہی لِیا،"تُمنے تو اِتنا کھُوبسُورت شریر پایا ہے۔ّ۔ آج اَگر تُم یہاں نہیں آتی تو مُجھے پتا بھی نہیں چلتا۔۔ لیکِن تُم یے سب اِتنا چھُپا-چھُپا کے کیوں رکھتی ہو۔ّ۔؟"

"میرا پرِوار تھوڑا دکِیانُوسی خیالوں والا ہے۔۔ اؤر ہمیں اَپنے آپکو اَچّھا دِکھانے کا اَدھِکار نہیں ہے !"

"بٹ یُو آر فیبُلس۔۔ !"

"تھیںکس فار د کامپلِمیںٹ۔ّ۔ اؤر آپ بھی سر۔۔ کِتنے اَچّھے ہیں۔۔ ۔کِتنے پیشنیٹ اؤر پاورفُل لوہر ہیں۔ّ۔۔ آپکی بیوی کِتنی کھُشکِسمت ہوگی !"

ہم دونوں نے ایک دُوسرے کو باںہوں میں بھرا۔ّ۔ اُسنے فُسفُساتے ہُیے میرے کانو میں کہا،"آپکے پھوٹوگرافس نیہا نے بھی دیکھے ہیں۔ّ۔ اؤر وو جل جایّگی جب میں اُسکو آج کی بات بتاُّوںگی۔ّ۔ باے سر !"

"ٹیک کیّر !"۔۔ّمیں کِںکرتویوِمُوڑھ کھڑا رہ گیا۔ّ۔

فِر نیہا کا ماسُوم چیہرا میری آںکھوں کے سامنے گھُوم گیا۔ّ۔ اؤر میرے ہوٹھوں پے ایک بھیدبھری مُسکان نا چاہتے ہُیے بھی آ ہی گئی !

(¨`·.·´¨) Always
`·.¸(¨`·.·´¨) Keep Loving &;
(¨`·.·´¨)¸.·´ Keep Smiling !
`·.¸.·´ -- raj sharma

User avatar
rajaarkey
Super member
Posts: 6832
Joined: 10 Oct 2014 10:09
Contact:

Re: آنٹی گلبدن اور اس سات کلام

Post by rajaarkey » 02 Apr 2017 17:26


پریشک : راجا بابُو

جب میرا ٹرانسپھر جیپُر سے جالندھر ہُآ تو اَپنے ایک دوست کی وجہ سے مُجھے ایک کرنل ساہب کی کوٹھی میں پیئیںگ-گیسٹ کے رُوپ میں رہنے کا ٹھِکانا مِل گیا۔ کرنل ساہب کریب 10 سال پہلے بھگوان کو پیارے ہو گئے تھے، گھر میں اُنکی 70 ورشیّا پتنی، 40 ورشیے پُتر تتھا 36 ورشیّا بہُو کُل جما تین پرانی رہتے تھے۔ رہنے کے لِہاج سے گھر اؤر گھر والے بہُت اَچّھے تھے۔ کرنل ساہب کی پتنی کا نام راجبیر کؤر تھا، وو ایک بہُت ہی شِشٹ، سؤمے، گںبھیر اؤر آکرشک مہِلا تھیں، اُنکو دیکھکر بار بار من میں ایک ہی بات آتی تھی کِ کاش یے میری ماں ہوتیں۔ اُنکے پُتر کا نام مہِںدر سِںہ تھا، وہ سُںدر، لمبا اؤر یوگے آدمی تھا۔ مہِںدر کی پتنی کا نام مںجیت کؤر تھا، وہ گوری، سُںدر اؤر سیکس سے بھرپُور مہِلا تھی۔ دُربھاگے سے اِنکے کوئی سںتان نہیں تھی۔

یہاں رہتے ہُئے مُجھے 2 مہینے ہو گئے تو میں مںجیت کا دیوانا ہو چُکا تھا، جب وو چلتی تو اُسکے بھاری بھاری چُوتڑ میرے لںڈ کو کھڑا کر دیتے۔ 4-6 دِن میں ایک بار مُٹھ مار کر اَپنی گرمی نِکالنے کے اَلاوا اؤر کوئی راستا سمجھ نہیں آ رہا تھا۔

ایک دِن پتا چلا کِ دِلّی میں مںجیت کے بھائی کی شادی ہے اؤر وو اَپنے پتِ کے ساتھ 15 دِن کے لِئے دِلّی جا رہی ہے۔ مُجھے ایسا لگا جیسے کِسی نے میری جان نِکال لی ہو۔

جِس دِن یے لوگ دِلّی گئے، میں شام کو گھر آیا تو ماں جی اَکیلی تھی، ماں جی کو وو لوگ بیجی کہتے تھے، اِسلِئے میں بھی بیجی کہنے لگا۔ میںنے کہا- بیجی، جو کام میرے لایک ہو بتا دیجِایگا، میں کر دُوںگا۔

میںنے کھانا بنانے میں بیجی کی مدد کی، دونوں نے کھانا کھایا اؤر میں اَپنے کمرے میں چلا گیا۔ میرا اؤر بیجی کا کمرا اَگل-بگل تھا اؤر دونوں کے بیچ ایک کامن باتھرُوم تھا جِسکا درواجا دونوں کمروں میں کھُلتا تھا۔

میں اَبھی لیٹا ہی تھا کِ جور سے کُچھ گِرنے کی آواج آئی، میں باہر آیا تو دیکھا کِچن میں بیجی گِر گئی ہیں، میںنے جلدی سے اُنہیں اُٹھایا اؤر سہارا دیکر اُنکے کمرے میں لاکر بیڈ پر لِٹا دِیا۔ بیجی لگبھگ 5'6" لمبی اؤر ٹیوی / پھِلم سٹار ریما لاگُو کی ترہ بھرے بدن کی تھیں۔ لیٹنے کے باد بھی بیجی کا کراہنا کم نہیں ہو رہا تھا، میرے پُوچھنے پر بتایا کِ باںہ اؤر کُولہے پر بہُت درد ہو رہا ہے۔

میںنے دیکھا کِ اُنکی داہِنی باںہ کُہنی کے پاس کاپھی لال تھی۔

بیجی نے کہا- پُتّر، سمّنے باری وِچ مُوو پئی ائے، کڈ سے لیا !

میںنے مُوو نِکالی اؤر بیجی سے کہا- لائیئے، میں لگا دیتا ہُوں۔

باںہ پر مُوو لگانے کے باد میںنے کہا- بیجی، آپ اُلٹے لیٹو، میں ہِپ پر بھی لگا دُوں !

ایک پل کی ہِچک کے باد بیجی پلٹیں اؤر بولیں- لا دے پُتّر، ربب تیرا بھلا کرے، تینُّو سُکھی رکھے، جے آجج تُوں ناں ہُںدا تے میں تاں اُٹھ کے کمرے وِچ بی نئی آ پادیں۔

بیجی پیٹ کے بل لیٹ گئیں تو میںنے اُنکے گاُّون کو کمر تک اُٹھا دِیا، اُنکی کیلے کے تنے جیسی چِکنی، سُڈؤل اؤر گوری گوری ٹاںگے دیکھکر میرا من مچل گیا۔ مرُون کلر کی پیںٹی اُنکے جِسم کی شان میں چار چاںد لگا رہی تھی۔ میںنے تُںرت اَپنے آپ کو کوسا، کھُد کو کابُو میں کِیا کِ یے تو ماں ہے۔

بیجی کی کمر پر کُچھ نہیں دِکھا تو میںنے پُوچھا کہاں درد ہے بیجی ؟

بیجی نے اَپنے داہِنے چُوتڑ پر ہاتھ رکھکر کہا- ایتّھے !

میںنے بیجی کی پیںٹی تھوڑی نیچے کھِسکائی تو دیکھا میری ہتھیلی کے برابر جگہ ایکدم لال تھی، میںنے چھُآ تو بیجی کراہ اُٹھیں۔ میںنے پیںٹی تھوڑا اؤر اؤر نیچے کھِسکائی تاکِ مُوو اَچّھے سے لگ سکے۔ ہلکے ہلکے ہاتھوں سے مُوو لگائی اؤر پیںٹی اُوپر کرکے گاُّون نیچے کر دِیا۔ میںنے بیجی سے کہا- میں آپکے لِئے ہلدی ڈالکر دُودھ لاتا ہُوں، آپ پِیوگے تو سارا درد چلا جاّیگا۔

کِچن میں جاکر دو گِلاس دُودھ گرم کِیا، ایک گِلاس کھُد پی لِیا اؤر دُوسرے میں ہلدی ڈالکر بیجی کے لِئے لے آیا۔ بیجی کو سہارا دیکر اُٹھایا اؤر وو دھیرے دھیرے دُودھ پینے لگیں۔ بیجی دُودھ پی رہی تھیں اؤر میری آںکھوں کے سامنے بار بار اُنکی گوری ٹاںگیں اؤر چُوتڑ آ رہے تھے۔ میںنے تے کر لِیا کِ آج بیجی کی بجانی ہے۔ بیجی کے دُودھ پینے کے باد اُنسے کھالی گِلاس لیکر کِچن میں رکھا اؤر آکر بیجی سے پُوچھا- اَب درد کیسا ہے؟

تو بولی- اَجّے تے اؤںوے اِی ہیگا پُتّر۔

میںنے کہا- بیجی، ایک بار مُوو پھِر لگوا لو، سُبہ تک آرام آ جاّیگا۔

ہاتھ کا سہارا دیتے ہُئے بیجی کو اُلٹا کِیا اؤر اُنکا گاُّون کمر سے اؤر تھوڑا اُوپر تک اُٹھا دِیا۔ مُوو کی ٹیُوب اُٹھائی اؤر اَپنے پاس رکھکر بیجی کی پیںٹی نیچے کھِسکانے لگا۔ پیںٹی نیچے کھِسکاتے کھِسکاتے اُنکے گھُٹنوں تک کر دی۔ اَپنی ہتھیلی پر مُوو لی اؤر اُنکے چُوتڑوں پر ملنے لگا۔ میرا دھیان مُوو ملنے میں کم اؤر چُوتڑ سہلانے میں جیادا تھا۔ اِس بیچ میرا لںڈ 70 سال کی اؤرت کو چودکر ایک نیا اَنُبھو کرنے کے لِئے تیّار ہو چُکا تھا اؤر لُںگی کے اَندر پھڑپھڑا رہا تھا۔

جب میں کاپھی دیر تک سہلاتا رہا تو بیجی نے کہا- پُتّر ! تیرے اَںکل جی نُو گئے 10 سال ہو گے نے، آجج تُوں میںنُّو اونّا دی یاد لیا دِتّی ائے ! او وی اینجے اِی سہلاںدے رہںدے سی ! میںنُّو بؤہت چانہدے سی، روج جیتُون دے تیل نال میرِیاں لتّاں دی مالش کردے سی ! فیر لتّاں سے وِچ اِی وڑ جاںدے سی۔ میں اونّا نُوں پیار نال پُچُّ کہںدی سی تے او وی میںنُّو پیار نال پُچُّ کہںدے سی۔

میںنے کہا- بیجی، کیا میں آپکو پُچُّ کہ سکتا ہُوں ؟

کہنے لگی- آہو پُچُّ ! تُوں میںنُو پُچُّ کہ سکنا ائے۔

میرا کام لگبھگ بن چُکا تھا۔

میںنے کہا- پُچُّ ! وو جیتُون کا تیل کہاں رکھا ہے ؟

بیجی نے اَلماری کے اُوپر والے کھانے کی اور اِشارا کر دِیا۔ میں اُٹھا باتھرُوم گیا، پیشاب کِیا اؤر اَپنا اَںڈروِیر اُتار کر رکھ آیا۔ جیتُون کے تیل کا ڈِبّا نِکالا، بیجی یانِ اَپنی پُچُّ کی پیںٹی اُتار دی اؤر ٹاںگوں پر جیتُون کے تیل سے مالِش کرنے لگا۔

کُچھ دیر باد میںنے کہا- پُچُّ، آپ سیدھے ہو جاّو تو آگے بھی کر دُوں۔

وو سیدھی ہوکر پیٹھ کے بل لیٹ گئیں۔ میں اُنکی ٹاںگوں کے بیچ بیٹھ گیا اؤر ہلکے ہلکے ہاتھوں سے اُنکی جاںگھو کو سہلانے لگا، دھیرے دھیرے میں تھوڑا سا آگے کھِسک گیا اؤر لُںگی میں سے اَپنا لںڈ باہر نِکال کر پُچُّ کی چُوت سے چھُآیا تو بڑی سیکسی آواج میں بولیں- کی کر رہیا ائے پُچُّ ؟

میںنے لںڈ کو اَندر سرکاتے ہُئے کہا- کُچھ نہیں پُچُّ۔

میرا پُورا لںڈ 70 سال کی بیجی کی چُوت میں چلا گیا تھا، تاجُّب یہ تھا کِ بیجی کی چُوت کِسی 20 سال کی کُںواری چُوت سے کم نہیں تھی۔

اُس رات بیجی کو دو بار چودا، ہم دونوں سںتُشٹ ہوکر سویے۔ اُس دِن سے آج تک ہمیں جب بھی اِچّھا ہوتی ہے رات کو باتھرُوم کے راستے ایک کمرے میں آ جاتے ہیں اؤر مجے لیتے ہیں۔



(¨`·.·´¨) Always
`·.¸(¨`·.·´¨) Keep Loving &;
(¨`·.·´¨)¸.·´ Keep Smiling !
`·.¸.·´ -- raj sharma

Post Reply