call boy

Post Reply
User avatar
rajaarkey
Super member
Posts: 6827
Joined: 10 Oct 2014 10:09
Contact:

call boy

Post by rajaarkey » 02 Apr 2017 17:36

call boy


پریشک : راجیش

سبسے پہلے سبھی پیاسی چُوتوں کو میرے لنڈ کا سلام !

میرا نام راجیش کُمار ہے، میں آپ سب پیاسی چُوتوالِیوں کا اَپنے 7 اِںچ کے کھڑے لنڈ کے ساتھ آپ لوگوں کا سواگت کرتا ہُوں !

میں 24 سال کا نویُوک ہُوں میرا کد 175 سیمی اؤر میرا وجن 65 کِلو ہے اؤر میںنے بہُت ساہس کرکے اَپنی کھُد کی واستوِک کہانی آپ لوگوں کا بتا رہا ہُوں۔

ویسے آپ سب لوگوں کو بتا دُوں کِ میں ایک نمبر کا چُوت کا چُسُّو ہُوں، مُجھے چُوت چاٹنے، چُوسنے اؤر اُسکا رس پینے میں بڑا مجا آتا ہے۔ ویسے میں ایک کال باے بنّا چاہتا ہُوں۔

میں راجستھان کا رہنے والا ہُوں اؤر اَبھی گاںدھینگر، گُجرات میں رہ رہا ہُوں، گاںدھینگر میں میں ایک سِکیورِٹی کمپنی میں نؤکری کرتا ہُوں اؤر ہر 3-4 مہینے باد گھر جاتا ہُوں۔

اَبھی میں اَپنی کہانی پر آتا ہُوں، میں اَپنے پرِوار کے ساتھ گاںو میں رہتا تھا، میرے گھر کے پِچھواڑے میں ایک پرِوار رہتا ہے۔ اُس گھر میں ایک بڑی سیکسی اؤرت رہتی ہے، اُسکا نام شویتا ہے۔ اُسکا سائیج 36 اِںچ، 32 اِںچ، 38 اِںچ ہے۔

اُسکا پتِ پھؤج میں ہے، میںنے اُس اؤرت کو کیسے چودا اؤر کب چودا اِس کہانی میں بتاُّںگا۔

یہ بات اُن دِنوں کی ہے، جب میں گیارہویں ککشا میں پڑھتا تھا، تب میری اُمر 18 سال اؤر 6 مہینے تھی۔

جب میں دوپہر کو سکُول سے آتا تو ہمارے گھر پر کوئی نہیں ہوتا تھا، ایک دِن میں سکُول سے جب گھر آیا تو میرا گھر بںد تھا تو میں اَپنے پِچھواڑے کی ترپھ گیا تو دیکھا کِ شویتا نیم کے پیڑ کے نیچے آدھی نںگی ہوکر نہا رہی ہے۔

جیسے ہی میںنے اُسے دیکھا میرا تو لںڈ اُسکی 36 اِںچ کی چُوچی دیکھ کے کھڑا ہو گیا، ہمارے پِچھواڑے میں ایک چھپّر ہے جِسمیں ہماری بھیںسیں بںدھتی ہیں، میں اُس چھپّر میں گھُس گیا اؤر اُسکی ترپھ دیکھا تو شویتا میری ترپھ ہی دیکھ رہی تھی۔ تو میںنے اُسے دِکھاتے ہُئے اَپنی پینٹ اُتاری اؤر اُسے نہاتا دیکھتے ہُئے مُٹھ مارنے لگا، اَب وو اَپنے بدن پر سابُن لگا رہی تھی اؤر تِرچھی نجر سے میرے 7 اِںچ لںڈ کو مُجھے مُٹھ مارتے ہُئے دیکھ رہی تھی، لیکِن وو جیسے ہی میری ترپھ دیکھتی، میں چھپّر کی دیوار کر آڑ میں ہو جاتا۔ پر اُسے پتا تھا کِ میں اُسے نہاتے دیکھ کے مُٹھ مار رہا ہُوں۔

اَب وو اَپنا پیٹیکوٹ اُوپر کرکے اَپنی جاںگھوں پر سابُن لگا رہی تھی مُجھے اُسکی جاںگھیں ساپھ دِکھائی دے رہی تھی۔ میں اُسے نہاتے ہُئے دیکھ مُٹھ مار رہا تھا اؤر وو کبھی اَپنی چُوچِیوں کو دباتی کبھی اَپنی جاںگھوں کو سہلاتی اؤر اَچانک اُسنے اَپنا پیٹیکوٹ اُوپر اُٹھایا اؤر اَپنی چُوت پر سابُن ملنے لگی۔ اَب میرے ہاتھ کی سپیڈ بڑھ گئی تھی اؤر میں جھڑنے لگا۔

میںنے اَپنی پینٹ پہنی اؤر چھپّر سے باہر نِکل کر گھر کا پِچھلا درواجا کھول اَندر جاتے ہُئے اُسے دیکھا تو وو میری ترپھ ہی دیکھ رہی تھی اؤر مُجھے اَپنی اور دیکھتے ہُئے دیکھ کے مُسکرا گئی۔

اَب تو میں اُسے روج اُسے نہاتے دیکھتا ہُآ مُٹھ مارنے لگا اؤر اَب میں دھیرے-2 کھُل کے مُٹھ مارتے ہُئے نہاتے دیکھتا اؤر وو مُجھے دیکھتی ہُئی نہاتے ہُئے اَپنی چُوچی دباتی۔

ایک مہینے باد میری ماں اؤر میرا چھوٹا بھائی میرے ماما کے گھر گیے تو میری ماں شویتا کو میرے کھانے کے بارے میں بتا کے گئی کیوںکِ مُجھے کھانا بنانا نہیں آتا تھا۔

جب میں سکُول سے گھر آیا تو شویتا نے مُجھے بتایا کِ میری ماں میرے ماما کے گھر گئی ہے اؤر آج سے وو مُجھے کھانا کھِلایّگی۔

تو میںنے کہا- ٹھیک ہے !

اُسنے کہا- تُم آج شام 7 بجے کھانا کھانے آ جانا !

پھِر میںنے کھانا کھایا اؤر پھِر پِچھواڑے میں آ گیا تو شویتا نے کہا- میں نہا لیتی ہُوں۔

میںنے کہا- ٹھیک ہے !

اؤر میں اَپنے چھپّر کی اور جانے لگا تو شویتا نے کہا- وہاں جانے کی کوئی جرُورت نہیں ہے، تُم یہیں بیٹھ کے مُجھے نہاتے ہُئے دیکھو۔

میںنے کہا- میں تو کبھی آپکو نہاتے ہُئے نہیں دیکھتا !

تو وو بولی- میں تُمہیں روج دیکھتی ہُوں ! تُم روج مُجھے دیکھتے ہُئے وہاں چھپّر میں مُٹھ مارتے ہو اؤر اَب جھُوٹھ بول رہے ہو !

تو میںنے کُچھ نہیں کہا اؤر وہیں بیٹھ گیا، وو اَپنے کپڑے کھولنے لگی اؤر مُجھسے پُوچھنے لگی- تُجھے میری کؤن سی چیج بہُت اَچّھی لگتی ہے؟

تو میںنے کہا- مُجھے تو تیری چُوچِیاں بہُت اَچّھی لگتی ہیں !

اُسنے کہا- تو پھِر یہاں آاو اؤر اِنہیں اَچّھی ترہ دیکھو !

میں ڈرتے ہُئے اُسکے پاس گیا اؤر دیکھنے لگا تو اُسنے ڈاںٹتے ہُئے کہا- اِنہیں جور-2 سے دباّو !

اؤر میںنے اُسکی دونوں چُوچِیوں کو جور-2 سے دبانا شُرُو کر دِیا۔

پھِر شویتا نے مُجھ سے پُوچھا- راجیش کیا تُونے کبھی کِسی کو چودا ہے یا کِسی کو چُداتے ہُئے دیکھا ہے آج تک؟

تو میںنے منا کر دِیا۔

تُم چُدائی کے بارے میں کُچھ جانتے ہو کیا؟

میںنے جواب دِیا- میں چُدائی کے بارے میں کُچھ نہیں جانتا ہُوں !

تو شویتا کہنے لگی- تُم آج رات ہمارے گھر ہی سونا، آج میں تُمہیں سب سِکھاُّںگی کِ چُدائی کیسے کرتے ہیں اؤر چُدائی کا کیسے مجا لیتے ہیں !

میں من ہی من بہُت کھُش ہُآ کِ آج جمکے چودنے کو مِلیگا۔

پھِر میں شام کو 7 بجے شویتا کے گھر گیا تو شویتا سج دھج کے بیٹھی تھی۔

یارو، میں تُم لوگوں کو بتانا بھُول گیا تھا کِ شویتا کے دو بچّے بھی ہیں ایک لڑکا 3 سال کا اؤر ایک لڑکی 1 سال کی !

اُسنے پہلے اَپنے بچّوں کھِلا کے سُلا دِیا، پھِر ہم دونوں نے کھانا کھایا اؤر ٹیوی دیکھنے لگے۔ اُس سمے پر یے سیڈی پلیّر نہیں چلے تھے۔ شویتا کے گھر میں ایک پُرانا ویسیآر تھا تو شویتا نے اَپنے ویسیآر میں ایک کیسیٹ لگائی اؤر بولی- آج تُجھے سب کُچھ سِکھا دُوںگی !

تھوڑی دیر میں جب کیسیٹ چلی تو اُسمیں دو لڑکِیاں ایک لڑکے کو نںگا کر رہی تھی، ایک نے اُسکی شرٹ نِکالی اؤر ایک نے پینٹ ! جِس لڑکی نے اُسکی پینٹ نِکالی، اُسنے اُسکی اَنڈرویّر نِکالی اؤر لنڈ پکڑ کر اُسے چُوسنا شُرُو کر دِیا۔

اَچانک شویتا نے مُجھے کھڑا کر کے میری بھی پینٹ نِکال کے میرا لنڈ چُوسنا شُرُو کر دِیا تو مُجھے ایسے لگا جیسے میں سورگ میں پہُںچ گیا ہُوں اؤر شویتا میرے ہاتھوں کو اَپنی چُوچِیوں پر لاکر بولی- اَب اِنہیں جور-جور سے دباّو اؤر چُوسو بھی !

تو میں اُسکی چُوچِیوں کو دبانے اؤر چُوسنے لگا۔ تھوڑی دیر باد ہم ایک دُوسرے کے ہوںٹھوں کو چُوس رہے تھے۔ پھِر شویتا نے مُجھے ٹیوی کی اور اِشارا کِیا کِ دیکھو وو لڑکا کیسے اُن لڑکِیوں کی چُوت چُوس رہا ہے ! تُم بھی میری چُوت بھی ایسے ہی چُوسو !

پھِر میںنے اُسکا پیٹیکوٹ کھول دِیا، میںنے دیکھا کِ اُسنے نیچے کُچھ نہیں پہنا ہے اؤر مُجھے اُسکی جھاںٹوں سے چھِپی چُوت نجر آنے لگی۔ پہلے میںنے اُسکی چُوت کو چُوما اؤر اَپنی جیبھ چُوت کے اَندر ڈال دی اؤر چُوسنے لگا- واہ ! کیا سواد تھا اُسکی چُوت کا ! تھوڑا نمکین تھوڑا کھارا ! مُجھے تو مجا آ گیا چُوت چُوسنے میں، شویتا جور-جور سے آ़ऽऽऽ۔۔ّ۔۔ اؤر جور سیऽऽ چُوسوऽऽ ! اؤر جور۔ّ۔ّ۔ سے چُوسو ۔۔ّ۔۔ بڑا مجا آ رہا ہے ۔۔ّ۔۔ آہ ۔۔ّ۔۔ اوہ ۔۔ّ۔ّ۔ اَب میں جھڑنے والی ہُوں ۔۔ّ۔۔ آہ ۔۔ّ۔ّ۔۔ اور جور سے ۔۔ّ۔ّ۔ّ۔ آہ ۔۔ّ۔ّمیں گئی۔ّ۔ّ۔

اؤر اَچانک اُسکی چُوت کا رس بُری ترہ بہنے لگا تو شویتا نے مُجھسے کہا- میرا رس پیاو !

تو میں اُسکا پُورا چُوت-رس پی گیا، وو بھی میرا لنڈ بڑے پیار سے چُوس رہی تھی۔

شویتا کے جھڑنے کے تھوڑی دیر باد میرا ویرے بھی نِکلنے لگا تو شویتا میرا پُورا ویرے پی گئی اؤر کہنے لگی- راجیش، میںنے آج تک تیرے ویرے جیسا گاڑھا اؤر سوادِشٹ ویرے کِسی کا نہیں پِیا !

پھِر میںنے کہا- شویتا، مُجھے جھاںٹوں والی چُوت اَچّھی نہیں لگتی، اؤر پھِر ٹیوی کی اور اِشارا کرکے بولا- مُجھے اُن لڑکِیوں کی ترہ سپھاچٹ اؤر ساپھ چُوت پسںد ہے !

تو شویتا بولی- میرے راجا، تُمہیں تھوڑی میہنت کرنی پڑیگی، میں شیوِںگ کا سامان لاتی ہُوں ! تُم میری چُوت کی شیو کر دو ! پھِر دبا کے چودنا !

میںنے کہا- ہاں یہ ٹھیک رہیگا !

پھِر وو شیوِںگ کا سامان لے آئی۔

میںنے اُسکی اُسکی چُوت پے شیوِںگ کریم لگائی اؤر برش کو رگڑنے لگا۔ برش کے مُلایم بال جب چُوت کے اَندر گُدگُدی کرتے تو شویتا آہ۔ّ۔ّ۔۔ اوہ ۔۔ّ۔ّ۔ کرنے لگتی۔ پھِر جب کھُوب جھاگ بن گیے تو میںنے ریجر لِیا اؤر شیو کرنا شُرُو کر دِیا۔ تھوڑی دیر باد چُوت چمکنے لگی اؤر میں دوبارا چُوت چاٹنے لگا تو شویتا بولی- کیا چُوت ہی چاٹتے رہوگے یا چودوگے بھی !

میں بولا- مُجھے تو چودنا آتا ہی نہیں ہے !

شویتا بولی- چودوگے تبھی تو چودنا سیکھوگے ! چُوت ہی چاٹتے رہوگے تو چاٹنا ہی سیکھوگے۔

پھِر شویتا چارپائی پر لیٹ گئی اؤر بولی- میرے راجا یہاں آاو اؤر اَپنا یہ مُوسلچںد میری اِس اوکھلی میں ڈال کے دبا کے کُٹائی کرو !

تو میں بولا- میری چُد‌دو رانی ! میری تو کُچھ سمجھ میں نہیں آیا کِ تُم کیا بول گئی ؟

تو وو ہںس کے بولی- میرے بُدّھُو چودُو راجا ! اَپنا یہ لمبا لنڈ میری اِس میں گھُسا دو !

اؤر اُسنے اَپنی ٹاںگیں پھیلا دی، میںنے اَپنا لنڈ اُسکی چُوت پے رکھ کر دھکّا مارا تو لنڈ پھِسل کے سائیڈ میں چلا گیا تو شویتا بولی- میرے پیارے چودُو راجا، یہ ایسے ہی اَندر چلا جاتا تو ہر آدمی چودُو بن جاتا !

اؤر پھِر اَپنے ہاتھ سے میرا لنڈ پکڑ کر اَپنی چُوت کے چھید پر لگایا اؤر بولی- اَب مارو دھکّا، جور سے مارنا کِ پُورا لنڈ ایک ہی جھٹکے میں چُوت کو پھاڑ کے اَندر چلا جایے اؤر پھِر دھُںآدھار جھٹکے مارنا، میرے درد کی پرواہ مت کرنا !

پھِر مینے ایک جور کا جھٹکا مارا اؤر پُورا لنڈ ایک ہی جھٹکے میں چُوت کے اَندر پیل دِیا، شویتا جور سے چِلّا پڑی- آہ ۔۔ّ۔ّ۔ّ۔۔ تھوڑے دھیرے، سالے ماریگا کیا ۔۔ّ۔ّ۔ّ۔ّ۔۔

میںنے کہا- تُم ہی تو بولی تھی کِ جور سے پیلنا !

اِتنے جور سے پیلنے کو تھوڑے ہی بولا تھا ؟

تو میں رُک گیا۔

وو بولی- رُک کیوں گیا سالے؟

تو میں بولا- سالی کبھی رُکنے کو بولتی ہے کبھی چودنے کو !

تو وو بولی- کِ میںنے تُجھے پہلے کہا تھا کِ میں کُچھ بھی بولُوں تُو رُکنا مت ! جور-جور سے دھکّے مارتے رہنا ! تو تُو رُکا کیوں؟ اَب جور -جور سے دھکّے مارتے ہُئے چُدائی کر !

اؤر چُوچِیوں کو بھی کھُوب دبا اؤر چُوس !

تو پھِر میںنے راجدھانی میل کی ترہ دھکّوں کی رفتار بڑھا دی۔ 30 مِنٹ تک دبا کے چُدائی چلی۔ اِس دؤران شویتا 3 بار جھڑی اؤر جب میں جھڑنے والا تھ تو میںنے کہا- میرا نِکلنے والا ہے !

تو شویتا بولی- راجا تُم اَپنا یے اَمرت مُجھے پِلانا ! میری چُوت کو مت پِلانا !

تو میںنے اَپنا لنڈ اُسکی چُوت سے نِکال کر اُسکے مُںہ میں ڈال دِیا اؤر وو میرا پُورا ویرے گٹاگٹ پی گئی۔ اُس رات اُسنے مُجھے اَلگ-اَلگ آسنوں سے چودنا سِکھایا اؤر پھِر ہم روج چُدائی کرتے ! جب اُسکا پتِ چھُٹ‌ٹی آتا تو ہم چھُپ کے چُدائی کرتے۔

پھِر ایک بار اُسکی بڑی بہن کی لڑکی اُسکے گھر آئی تو میںنے اُسے بھی چودا ! اُسکا نام بیربتی تھا، وو 19 سال کی تھی اؤر اُسکے جیٹھ کی لڑکی وِملا کو کیسے چودا اؤر وِملا کی گاںڈ کیسے ماری یے آپکو اَگلی کہانی میں بتاُّںگا !



(¨`·.·´¨) Always
`·.¸(¨`·.·´¨) Keep Loving &;
(¨`·.·´¨)¸.·´ Keep Smiling !
`·.¸.·´ -- raj sharma

call boy

Sponsor

Sponsor
 

Post Reply