میرے ذہن میں بھی لہریں اٹھنے لگی

Post Reply
User avatar
rajaarkey
Super member
Posts: 6827
Joined: 10 Oct 2014 10:09
Contact:

میرے ذہن میں بھی لہریں اٹھنے لگی

Post by rajaarkey » 02 Apr 2017 17:41

میرے ذہن میں بھی لہریں اٹھنے لگی

لیکھِکا : لکشمی بائی

میٹر گیج کی ٹرین تھی، اِسمیں ایّر کنڈیشن کمپارٹمینٹ میں سِرف ٹُو-ٹِیر ہی لگتا تھا۔ کمپارٹمینٹ میں چار برتھ تھی۔ سامنے ایک لگبھگ 45 ورش کا ویکتِ تھا اؤر اُسکے ساتھ میں ایک جوان یُوتی تھی، کریب 22-23 سال کی ہوگی، ساڑی پہنے تھی۔ باتچیت میں پتا چلا کِ وو دونوں سسُر اؤر بہُو تھے۔

دِن کا سفر تھا، میں اؤر میرا دیور سامنے کے دو برتھ میں تھے۔ بیٹھے بیٹھے میں تھک گئی تھی، سو میں نیچے کے برتھ پر لیٹ گئی۔ سامنے بھی وو یُوتی بار بار ہمیں دیکھ رہی تھی، پھِر اُس ویکتِ کو دیکھ رہی تھی۔ میری آںکھے بںد تھی پر کبھی کبھی میں اُنہے دیکھ لیتی تھی۔ میرا دیور آںکھے بںد کِیے اُوںگھ رہا تھا۔

اَچانک مُجھے لگا کِ سامنے وو آدمی یُوتی کے پیچھے ہاتھ ڈال کر کُچھ کر رہا ہے۔ مُجھے شیگھر ہی پتا چل گیا کِ وو اُسکی کمر میں ہاتھ ڈال کر اُسے مل رہا تھا۔ وو بار بار اُسے دیکھ رہی تھی اؤر اُس پر جھُکی جا رہی تھی، جاہِر تھا کِ یُوتی کو مجا آ رہا تھا۔

میںنے اَپنی آںکھیں کُچھ اِس ترہ سے بںد کر رکھی تھی کِ سوئی ہُئی پرتیت ہو۔ کُچھ ہی دیر میں اُس آدمی نے اُسکی چُوںچی دبا دی۔ اُس یُوتی نے اَپنا ہاتھ اُسکے لنڈ پر رکھ دِیا اؤر بڑی آسکتِ سے اُسے دیکھنے لگی۔

میرے من میں بھی ترںگیں اُٹھنے لگی، میرے تن میں بھی ایک ہلکی اَگنِ جل اُٹھی۔ میںنے چُپکے سے دیور کو اِشارا کِیا۔ دیور نے نیںد میں ہی سامنے دیکھا اؤر ستھِتِ بھاںپ لی۔ تھوڑی ہی دیر میں دیور بھی گرم ہو اُٹھا۔ اُسکا لنڈ بھی اُٹھنے لگا۔ اُسنے بھی اَپنا ہاتھ دھیرے سے میری چُوںچِیوں کی ترف بڑھا دِیا۔ میری باہوں کے اُوپر سے اُسکا ہاتھ ریںگتا ہُآ میرے ستن پر آ ٹِکا، جِسے اُس ویکتِ نے آرام سے دیکھ لِیا۔

ہمیں بھی اِس ہالت میں دیکھ کر وو کُچھ کھُل گیا اؤر اُسنے اُس یُوتی کی ساڑی کے اَندر ہاتھ گھُسا دِیا۔ لڑکی اُس آدمی پر لگبھگ گِری سی جا رہی تھی، اؤر اُسے بڑی ہی آسکتِ سے دیکھ رہی تھی مانو چُدنا چاہ رہی ہو۔

میرے دیور نے بھی میری چُوںچِیوں پر کھُلے آم ہاتھ فیرنا شُرُو کر دِیا۔ وو ویکتِ اَب مُسکرا اُٹھا اؤر اُسنے بھی کھُلے آم اُس لڑکی کے بلاُّوج میں ہاتھ ڈال دِیا اؤر اُسکی چُوںچِیاں دبانے اؤر مسلنے لگا۔ یہ دیکھ کر میرے دیور نے میرے بلاُّوج میں ہاتھ گھُسا کر میری نںگی چُوںچِیاں پکڑ لی۔

اَب میں اُٹھ کر بیٹھ گئی اؤر اُس ویکتِ کے سامنے ہی دیور کا لنڈ پینٹ کی جِپ کھول کر پکڑ لِیا۔

اُس ویکتِ نے دیکھا کِ سبھی اَپنے کام میں لگ گیے ہیں تو اُسنے لڑکی کو لِٹا دِیا اؤر اُسکے اُوپر چڑھ گیا، اَپنا لنڈ نِکال کر اُسکی ساڑی اُوںچی کرکے اُسکی چُوت پر لگا دِیا۔ دیور بھی مُجھے لِٹانے کا پریاس کرنے لگا۔ میںنے اُسے اِشارے سے منا کر دِیا۔ اُدھر اُس لڑکی کی آہ نِکل پڑی اؤر وو چُدنے لگی تھی۔ پر وو مرد جلدی ہی جھڑ گیا۔

دیور نے اُسے اِشارا کِیا تو اُسنے اُسے سہمتِ دے دی۔ دیور نے اُس لڑکی کی ٹاںگیں اُوںچی کی اؤر اَپنا کڑک لنڈ نِکال کر اُسکی چُوت میں گھُسا دِیا۔

میں بڑی اُتسُکتا سے دیور کو چودتے ہُئے دیکھ رہی تھی۔ سِسکِیوں کا دؤر جاری تھا۔ کُچھ ہی دیر میں وو دونوں جھڑ گیے۔ چُدنے کے باد ہم سبھی آرام سے بیٹھ گیے۔ وو لڑکی میرے دیور کو بہُت ہی پیار بھری نجروں سے دیکھ رہی تھی۔ دیور سے رہا نہیں گیا تو وو اُٹھا اؤر اُسے چُوم لِیا اؤر اُسکے ستن ایک بار دبا دِیے۔

شام ڈھل آئی تھی، ٹرین سٹیشن پر آ چُکی تھی۔ آگرا فورٹ آ چُکا تھا۔ میرا دیور بوگی کے درواجے پر کھڑا تھا۔ گاڑی کے رُکتے ہی ہم اَپنے تھوڑے سے سامان کے ساتھ اُتر پڑے۔ دیور نے سامان اَپنے ساتھ لے لِیا اؤر ہم سٹیشن کے باہر آ گیے۔ ایک ٹیمپو لیکر پاس ہی ایک ہوٹل میں آ گیے۔ راستے بھر واسنا کا کھیل دیکھتے ہُئے اؤر میرے اَںگو سے چھیڑچھاڑ کرتے ہُئے آگرا پہُںچے تھے۔ اِتنی چھیڑچھاڑ سے میں اُتّیجِت بھی ہو گئی تھی۔ مُجھے ایسا مہسُوس ہو رہا تھا کِ بس اَب کوئی میرے اُبھاروں کے ساتھ کھُوب کھیلے اؤر مُجھے مست کر دے۔

ہوٹل کے بِستر پر آتے ہی میںنے اَپنی ساڑی کھول کر ایک ترف فیںک دی اؤر ماتر پیٹیکوٹ اؤر بلاُّوج میں لیٹ گئی۔

میرا دیور مُجھے بڑی اُتسُکتاپُوروک نِہار رہا تھا۔ میری چھاتِیاں واسنا سے پھُول اؤر پِچک رہی تھی۔ چھاتِیوں کا اُبھرنا اؤر سِمٹنا دیورجی کو بڑا ہی بھلا لگ رہا تھا۔ وو میرے پاس ہی بیٹھ کر میرے سینے کو ایکٹک نِہارنے لگا۔

میری آںکھ اَچانک ہی کھُل گئی۔ دیور کو یُوں گھُورتے دیکھ کر میں ایک بار پھِر سے واسنا میں بھر گئی۔ میں جھٹ سے اُٹھ کر بیٹھ گئی۔ پر اِس بات سے اَنجان کِ میرے بلاُّوج کے دو بٹن کھُل چُکے تھے اؤر میری گول گول اُبھار برا کے ساتھ باہر جھاںکنے لگے تھے۔ دیور کا ہاتھ میرے اُبھاروں کی ترف بڑھنے لگے۔ جیسے ہی اُسکے ہاتھ میرے بلاُّوج پر گیے، میںنے اُسکے ہاتھ پکڑ لِیے،"دیور جی۔ّ۔ ہاتھ دُور رکھِیے۔ّ۔ کیا اِرادا ہے؟" میںنے تِرچھی نجرو سے اُسے نِہارتے ہُئے کہا۔

دیور ایکدم سے ہڑبڑا گیا،"بھابھی، میں تو یے بٹن بںد کر رہا تھا !" پر اُسکا لنڈ تو کھڑا ہو چُکا تھا، اِسلِیے میں تو یہی سمجھی تھی کِ وو میرے چھاتِیاں مسلنا چاہتا ہے۔ پھِر مرد نام کا تو وہی تھا میرے سامنے، اؤر اُس ٹرین میں لڑکی کو چود ہی چُکا تھا۔ میںنے تِرچھی نِگاہوں سے اُسے دیکھا اؤر اُٹھ کھڑی ہُئی اؤر بولی،"تو لگا دے بٹن۔ّ۔ !"

دیور نے میرے اِشارے کو سمجھ لِیا اؤر میرے بلاُّوج کا بٹن لیکر میرے ستن دباتے ہُئے لگانے لگا۔

"بھابھی بلاُّوج تو ٹائیٹ ہے۔ّ۔!"

"تو دبا کر لگا دے نا !" میںنے اَپنے اُبھارو کو تھوڑا اؤر اُبھار دِیا۔ دیور سے رہا نہیں گیا اؤر اُسکے دونوں ہاتھوں نے میرے ستنوں کو گھیر لِیا اؤر اَپنے ہاتھوں میں کس لِیا۔

"ہاے رے دیور جی۔ّ۔ اِنہیں تو چھوڑو نا۔ّ۔ یے بلاُّوج تھوڑے ہی ہے۔ّ۔!" میںنے اُسے ہلکا سا دھکّا دے دِیا اؤر ہںستی ہُئی باتھ رُوم میں چلی گئی۔ دیور مُجھے پیاسی نجروں سے دیکھتا رہ گیا۔ میںنے اَچّھی ترہ نہایا دھویا اؤر فریش ہو کر باہر آ گئی۔ کُچھ ہی دیر میں دیور بھی فریش ہو گیے تھے۔ اُسکے ہاتھ اَبھی بھی میرے اَںگوں کو مسلنے کے لِیے بیچین ہو رہے تھے۔ اُسکے ہاتھ کبھی میرے چُوتڑوں پر پڑتے تھے اؤر کبھی کِسی نا کِسی بہانے چھاتی سے ٹکرا جاتے تھے۔

ہم دونوں تیّار ہو کر نیچے کھانا کھانے آ گیے تھے۔ رات کے نؤ بج رہے تھے، ہم باہر ہوٹل کے باگ میں ٹہلنے لگے۔ میرا من تو دیور پر لگا تھا ۔ من ہی من دیور سے چُدنے کی یوجنا بنا رہی تھی۔ میرے تن بدن میں جیسے آگ سی لگی تھی۔ تن کی اَگنِ کو مِٹانا جرُوری تھا۔

میںنے دیور کے چُوتڑوں پر ہاتھ مار کر دیکھا تو پتا چلا کِ اُسنے اَںڈروِیر نہیں پہنی تھی۔ اُسکے نںگے سے چُوتڑو کا مُجھے اَہساس ہو گیا تھا۔

میںنے بھی پجامے کے نیچے پیںٹی اؤر کُرتے کے اَندر برا نہیں پہنی تھی۔ باگ میں گھُومتے گھُومتے میںنے کہا،"دیور جی، میں ایک چیز بتاُّوں۔ّ۔!"

"ہاں بتاّو ۔۔۔" اُسنے اُتسُکتا سے پُوچھا۔

"پہلے آںکھیں بںد کرو۔ّ۔ پھِر ایک جادُو بتاتی ہُوں۔ّ۔" میںنے شرارت سے کہا۔ میری واسنا اُبل رہی تھی۔

اُسنے آںکھیں بںد کر لی۔ میںنے اَپنا ہاتھ دھیرے سے اُسکے اُٹھتے ہُئے لنڈ پر رکھ دِیا،"دیور جی آںکھیں بںد ہی رکھنا۔ّ۔ پلیج مت کھولنا ۔۔۔!" دھیرے سے میںنے اُسکے لنڈ پر کساو بڑھا دِیا

"آہ۔ّ۔ بھابھی۔ّ۔!" اُسکے مُکھ سے آہ نِکل پڑی۔

"دیکھو آںکھیں نہیں کھولنا۔ّ۔ تُمہے میری کسم۔ّ۔!" اؤر لنڈ کو ہؤلے سے اُپر نیچے کرنے لگی۔

"سی سیऽऽऽऽऽऽ۔۔۔ آہ رے۔ّ۔" اُسکی سِسکارِیاں فُوٹ پڑی۔

"تُمہیں میری کسم ہے۔ّ۔ آںکھ بںد ہی رکھنا۔ّ۔!" میںنے ساودھانی سے باگ میں اِدھر اُدھر دیکھا، اؤر پجامے میں ہاتھ گھُسا کر اُسکا نںگا لنڈ تھام لِیا۔ بس مسلا ہی تھا کِ کُچھ آہٹ ہُئی، میںنے تُرنت ہی ہاتھ باہر کھیںچ لِیا۔ دیور کی آںکھیں کھُل گئی،"بھابھی، میں کوئی سپنا دیکھ رہا تھا کیا ؟"

"چُپ بھی رہو۔ّ۔ بڑا آیا سپنے دیکھنے والا۔ّ۔ اَب چلو کمرے میں۔ّ۔" میںنے اُسے جھِڑکتے ہُئے کہا ۔

ہم دونوں واپس کمرے میں آ گیے۔ ڈبل بیڈ والا کمرا تھا۔ دیور بڑی آس لگایے مُجھے دیکھ رہا تھا۔ پر میںنے اَپنے بِستر پر لوٹ لگا دی اؤر آںکھیں بںد کرکے لیٹ گئی۔ دیور نے بتّی بُجھا دی۔ میں اِنتزار کرتی رہی کِ اِتنا کُچھ ہو گیا ہے، دیور جی چودے بِنا نہیں چھوڑیںگے۔ پر بس میں تو اِنتزار ہی کرتی رہ گئی۔ اُسنے کُچھ نہیں کِیا۔ اَںدھیرے میں میںنے اُسے دیکھنے کا پریاس کِیا، پر وو تو چِتت لیٹا آںکھیں بںد کِئے ہُئے تھا۔

مُجھے کُلبُلاہٹ ہونے لگی، چُوت میں آگ لگی ہُئی تھی اؤر یے لنڈ لِیے ہُئے سو رہا تھا۔ اَب میںنے سوچ لِیا تھا کِ چُدنا تو ہے ہی۔ میںنے دھیرے سے اَپنے پُورے کپڑے اُتار لِیے۔ پھِر دیور کے پجامے کا ناڑا دھیرے سے کھیںچ کر ڈھیلا کر دِیا اؤر پجاما نیچے کھیںچ دِیا۔ اُسکا لنڈ سیدھا تنا ہُآ کھڑا تھا۔ یانِ اُسکا لنڈ مُجھے چودنے کے لِیے تیّار تھا۔

میں دھیرے سے اُٹھی اؤر دیور کے اُوپر چڑھ کر بیٹھ گئی۔ اُسکے لنڈ کو سیدھے ہی اَپنی چُوت سے لگا دِیا اؤر دھیرے سے جور لگا دِیا۔ اُسکا لنڈ فک سے اَندر گھُس گیا۔ دیور یا تو پہلے سے ہی جگا ہُآ تھا یا آدھی نیںد میں تھا۔ّ۔ جھٹکے سے اُسکی آںکھ کھُل گئی۔ پر دیر ہو چُکی تھی۔ میںنے اُسکے جِسم پر کبجا کر لِیا تھا اؤر اُسکے اُوپر لیٹ کر اُسے جکڑ لِیا تھا۔

میری چُوت جور لگا کر اُسکے لنڈ کو لیل چُکی تھی۔

"اَرے۔ّ۔رے۔ّ۔ بھابھی۔ّ۔ یے کیا۔ّ۔ ہاے رے۔ّ۔ " اُسکے لنڈ میں میٹھی میٹھی گُدگُدی ہُئی ہوگی۔ اُسکے ہاتھ میری کمر پر کستے چلے گیے۔

"دیور جی، نیںد بہُت آ رہی ہے کیا۔ّ۔؟ پھِر تیری بھابھی کا کیا ہوگا۔ّ۔؟"

"میں تو سمجھا تھا کِ آپ مُجھسے سیکسی مجاک کر رہی ہیں۔ّ۔ !"

"ہاے۔ّ۔ دیور جی۔ّ۔ لنڈ اؤر چُوت میں کیسی دوستی۔ّ۔ لنڈ تو چُوت کو ماریگا ہی۔ّ۔!"

"بھابھی، آپ بڑی پیاری ہے۔ّ۔ میرا کِتنا دھیان رکھتی ہے۔ّ۔ آہ رے۔ّ۔ لنڈ کے اُوپر بیٹھ جاّو نا۔ّ۔!"

دیور نے بتّی جلا دی۔ میں اَپنی پوجیشن بدل کر کھڑے لنڈ پر سیدھے بیٹھ گئی۔ لنڈ چُوت میں جڑ تک اُتر گیا اؤر پیںدے سے ٹکرا گیا۔ ہلکا سا درد ہُآ۔ اُسکے ہاتھ آگے بڑھے اؤر میری چُوںچِیوں کو اَپنے کبجے کر لِیا اؤر اُنہیں مسلنے لگا۔ میرا جِسم ایک بار پھِر سے میٹھی آگ میں جل اُٹھا۔ میں دھیرے سے اُس پر لیٹ گئی اؤر ہؤلے ہؤلے چُوت اُوپر نیچے کرکے لنڈ کو اَندر باہر کرکے سورگیے آنّد لینے لگی۔

اُسکے ہوںٹھوں کو اَپنے ہوںٹھوں میں دبا لِیا اؤر سِسکاری بھر بھر کر ہِلتے ہُئے چُدنے لگی۔ دیور بھی واسنا بھری آہیں بھرنے لگا۔ پر دیور نے جلدی ہی مُجھے کس کر لپیٹ لِیا اؤر اؤر ایک کُلاںچی بھر کر اُوپر آ گیا۔ مُجھے اُسنے دبا لِیا۔

پر اَب اُسکے لنڈ کا نِشانا میری گانڈ تھی۔ اِشارا پاتے ہی میںنے اَپنی گانڈ تھوڑی سی اُوںچی کر لی ۔ بس پھِر تو راہی کو راستا مِل گیا اؤر میرے چُوتڑوں کے پٹ کھولتے ہُئے چھید پر آ ٹِکا، اُسنے میری آںکھوں میں آںکھیں ڈال دی اؤر آںکھوں ہی آںکھوں میں مُجھے چودنے لگا۔ میں اُسکے آںکھوں کے وار سہتی رہی۔ّ۔ میری آںکھیں چُدتی رہی۔ّ۔ اؤر میرے مُکھ سے آہ نِکل پڑی۔

اُسکا پیارا سا لنڈ میری گانڈ میں اُتر گیا۔ پیار سے وو مُجھے آںکھوں سے چودتا رہا۔ّ۔ اُسکی یے پیاری سٹائیل مُجھے اَندر تک مار گئی۔ میری آںکھوں میں ایکٹک دیکھنے سے پانی آ گیا اؤر میںنے اَپنے چکشُ دھیرے سے بند کر لِیے۔ میری گانڈ لنڈ کو پُورا نِگل چُکی تھی۔ گانڈ کی دیوار میں تیج گُدگُدی چل رہی تھی۔ اُسکے دھکّے تیج ہو گیے تھے۔ّ۔ لگ رہا تھا کِ اُسکا مال نِکلنے والا ہے۔

میںنے اُسے اِشارا کِیا اؤر اُسکے پلک جھپکتے ہی لنڈ گانڈ میں سے نِکال کر چُوت میں پھِر سے پیل دِیا۔ میرا اَنترںگ آنّد سے نہا گیا۔ چُوت کی چُدائی سورگ جیسی آنّدّایی لگ رہی تھی۔ میری چُوت اُچھل اُچھل کر اُسکا ساتھ دینے لگی۔ میرے جِسم میں تںرگیں اُٹھنے لگی۔ّ۔ سارا شریر سنسناہٹ سے بھر اُٹھا۔ سارا شریر آنّد سے بھر اُٹھا۔ آںکھے بںد ہونے لگی۔ دیور کا لنڈ بھی موٹا پرتیت ہونے لگا۔ دونوں اور سے بھرپُور کساوٹ کے ساتھ چُدائی ہونے لگی۔

لنڈ میری چُوت میں تراوٹ بھر رہا تھا۔ میری چُوت اَب دھیرے دھیرے رس چھوڑنے لگی تھی۔ ۔۔۔ اؤر اَچانک اُسکا لنڈ اَتینت کٹھور ہوکر میری چُوت کے پیںدے میں گڑنے لگا اؤر پھِر ایک گرم گرم سا اَہساس ہونے لگا۔ اُسکا ویرے میری چُوت میں بھرنے لگا۔ تبھی میری چُوت نے بھی اَںگڑائی لی اؤر اُسکے ویرے میں اَپنا رس بھی اُگل دِیا۔ دونوں رس ایک ہو گیے اؤر چُوت میں سے رِسنے لگے۔

دیور نے مُجھے کس کر دبوچ رکھا تھا اؤر چُوتڑ کو دبا دبا کر اَپنا ویرے نِکال رہا تھا۔ میں بھی چُوت کو اُوپر اُٹھا کر اَپنا پانی نِکال رہی تھی۔ دیور نے پُورا ویرے چُوت میں کھالی کر دِیا اؤر اُچھل کر کھڑا ہو گیا۔ میںنے بھی سنتُشٹ من سے کروٹ بدلی اؤر گہری نیند میں سو گئی۔ سُبہ دیر سے اُٹھی تب تک دیور اُٹھ چُکا تھا۔ مُجھے جگا ہُآ دیکھ کر اُسنے میری ٹاںگیں اُوپر کی اؤر میری چُوت کو کھول کر ایک گہرا چُمبن لِیا۔

"گھر میں بھابھی کا ہونا کِتنا جرُوری ہے یہ مُجھے آج پتا چلا۔ّ۔! ہے نا۔ّ۔؟" دیور نے پیار سے دیکھا۔

"ہاں سچ ہے۔ّ۔پر دیور نا ہو تو بھابھی کِسّے چُدیگی پھِر۔ّ۔ بولو۔ّ۔؟" ہم دونوں ہی ہںس پڑے اؤر باہر جانے کی تیّاری کرنے لگے۔ّ۔۔











(¨`·.·´¨) Always
`·.¸(¨`·.·´¨) Keep Loving &;
(¨`·.·´¨)¸.·´ Keep Smiling !
`·.¸.·´ -- raj sharma

میرے ذہن میں بھی لہریں اٹھنے لگی

Sponsor

Sponsor
 

Post Reply