گھمسان ​​چدائی

User avatar
rajaarkey
Super member
Posts: 6832
Joined: 10 Oct 2014 10:09
Contact:

گھمسان ​​چدائی

Post by rajaarkey » 02 Apr 2017 19:30

گھمسان ​​چدائی


ہیلو دوستو،

کیسے ہو آپ !


میں بھی ہِندی میں مست کہانِیاں کے مادھیم سے اَپنا اَنُبھو آپ کے سامنے رکھتا ہُوں۔

سبسے پہلے میں آپ لوگوں کو پاتر-پرِچے کرا دُوں !

سںجے : 25 سال، شادیشُدا یُوک

منوہر : سںجے کے پِتاجی

سیتا دیوی : سںجے کی ماتاجی

سُشمِتا : سںجے کی بُآ

سُریندر : سںجے کے فُوفا (سُشمِتا بُآ کے پتِ)

سوِتا : 22 سال، سںجے کی بہن

نِرملا : 22 سال، سںجے کی بُآ کی لڑکی

اَشوک : 27 سال کا سںجے کی بُآ کا لڑکا

سُدھا : 26 سال کی سںجے کی بھابھی (اَشوک کی بیوی)

سب لوگ مُںبئی میں ہی رہتے ہیں : سںجے کا پرِوار میرا روڈ پر اؤر بُآ کا پرِوار رہتا ہے اَںدھیری ویسٹ پر !

یہ بات چھہ مہینے پہلے کی ہے جب سںجے کے پِتاجی منوہر نے سُریندر سے دو لاکھ رُپئے کُچھ مہینے پہلے اُدھار لِئے تھے۔

تو ایک دِن پِتاجی نے سںجے کو دو لاکھ رُپئے سے بھرا بیگ دیکر کہا- زاّو اَپنی بُآ کے گھر جا کر یہ دے آاو۔

سںجے ناشتا کرکے بیگ لیکر سیدھا اَپنی بُآ کے گھر پہُںچ گیا۔ سمے دوپہر کا ایک بجا ہوگا۔

آگے کی کہانی سںجے کی جُبانی !

میںنے ڈور-بیل بجائی لیکِن کوئی اُتّر نہیں مِلا۔ میںنے 3 بار کوشِش کی لیکِن کِسی نے دروازا نہیں کھولا۔ میںنے دروازے کو دھکّا دِیا تو دروازا کھُل گیا، میں جُوتے نِکال کر دروازے کو بںد کرکے سیدھا اَںدر گیا اؤر بُآ کو آواز دینے لگا۔

پھِر میں سیدھا کِچن میں گیا۔ وہاں پر بھی کوئی نہیں تھا۔ پھِر میںنے بُآ کے بیڈرُوم کے پاس جا کر دیکھا کِ بیڈ رُوم لاک ہے۔ میں وہاں سے نِرملا کے بیڈرُوم کے پاس گیا اؤر دروازے کو دھکیلا، دروازا کھُلا ہی تھا۔ میں اَںدر گیا اؤر دیکھا کِ نِرملا سِرف لال رںگ کی پیںٹی پہنے ہُئے تھی اؤر اَپنے بال تؤلِیے سے سُکھا رہی تھی۔

واہ ! کیا نزارا تھا ! کیا ممّے-چُوچی تھی- ایکدم دُودھ کی ترہ سپھید اؤر گول-گول اؤر کڑک اؤر اُسکا پھِگر- واऽّہ ! 32-34 ممّے، 25 کمر اؤر 34 گانڈ !

اؤر میرا لںڈ پینٹ میں کھڑا ہونے لگا۔ میرے اَںدر کی واسنا جاگ گئی کیوںکِ میںنے ایک مہینے سے چُدائی نہیں کی تھی کیوںکِ میری پتنی کی تبیّت کھراب چل رہی تھی اؤر ڈاکٹر نے ساپھ منا کِیا تھا۔

میںنے سوچا- مست مال ہے کیوں نا مزا لے لُوں ! میںنے بیگ کو نیچے رکھا اؤر سیدھا نِرملا کے پیچھے گیا اؤر چُوچِیوں پر ہاتھ رکھ کر گردن پر چُمبن کرنے لگا۔

نِرملا ایک دم گھبرا گئی اؤر میرا ہاتھ پکڑ کر چِلّائی- کؤن ہو تُم> یہ کیا کر رہے ہو؟ نِکل زاّو میرے کمرے سے باہر !!

تو میںنے اُسکے کان میں دھیرے سے کہا- میں ہُوں تُمہارا سںجُو ! ( سب لوگ مُجھے سںجُو کہکر بُلاتے تھے)

سںجُو !! (اُسنے میری آواز سے پہچان لِیا تھا) تُم یہ کیا کر رہے ہو؟

میںنے کہا- کُچھ نہیں !

تُم اَںدر کیسے آئے؟

میںنے کہا- دروازا کھُلا تھا اؤر میںنے جب بُآ اؤر تُمکو آواز لگائی تو کِسی نے جواب نہیں دِیا تو میں تُمہارے کمرے میں دیکھنے آیا کِ تُم ہو یا نہیں ! اؤر اَںدر آکر دیکھا تو تُم نںگی کھڑی ہو۔

اِتنا کہتے ہی میںنے پھِر نِرملا کو اَپنی باہوں میں لِیا اؤر چُوچی پر ہاتھ رکھ کر دھیرے دھیرے مسلنے لگا اؤر اُسکی تاریپھ کرنے لگا- تُم کِتنی سُںدر ہو ! ایسی سُںدر لڑکی میںنے آج تک نہیں دیکھی۔ گلے پر چُومنے لگا اؤر لںڈ کو اُسکی گانڈ پر رگڑنے لگا۔

نِرملا چھٹپٹانے لگی اؤر بولی- مُجھے چھوڑ دو بھیّا !

میںنے کہا- نِرملا، پلیز !

اؤر ایک ہاتھ نیچے لے جا کر اُسکی پینٹی میں ڈالنے لگا اؤر بولا- نِرملا تُم اَسل میں اَپسرا سے بھی بہُت سُںدر ہو ! اَگر تُم میری پتنی ہوتی تو میں تُمسے ہی چِپکا رہتا ! ایک پل بھی اَلگ نہیں ہوتا۔

اِتنے میں نِرملا نے مُجھے دھکّا دِیا اؤر کہنے لگی- نہیں بھیّا ! یہ پاپ ہے آپ میرے ساتھ ایسا نہیں کر سکتے ! تُم اَپنی بہن کے ساتھ ایسا نہیں کر سکتے !

میںنے کہا- میں تُمہارا بھائی نہیں ہُوں، ہم آج سے ہم دوست ہیں باے پھریںڈ اؤر گرل پھریںڈ کی ترہ ! اؤر دوستی میں یہ سب زایز ہے۔

میں اَپنے دونوں ہاتھوں سے نِرملا کے چیہرے کو پکڑ کر چُومنے لگا اؤر ایک ہاتھ سے بائیں بُوب کو مسلنے لگا۔ میںنے پھِر نِرملا کو بیڈ پر لِٹا لِیا اؤر نِرملا کے اُپر آکر چُوچی کو مُںہ میں لیکر کو چُوسنے لگا اؤر ایک ہاتھ کو چُوت کے اُوپر رکھ کر مسلنے لگا۔

دوستو، اَب نِرملا نے ساتھ دینا شُرُو کر دِیا اؤر دھیرے دھیرے بولنے لگی- نہیں بھیّا ! پلیز مت کرِئے !

اؤر میںنے کھڑے ہوکر جلدی سے اَپنے کپڑے اُتارے اؤر پُورا نںگا ہو گیا۔ پھِر میں نِرملا کے اُوپر آیا اؤر اُسکو باہوں میں لیکر آںکھ سے آںکھ مِلاکر کہنے لگا- واستو میں تُم بہُت سُںدر اؤر سیکسی ہو ! آئی لو یُو ! نِرملا آئی لو یُو ! نِرملا آج میں بہُت کھُش ہُوں کِ ایک اَپسرا جیسی لڑکی کے ساتھ مستی کر رہا ہُوں !

وو اَپنی آںکھیں بںد کرکے بولی- بھیّا آپ بہُت گںدے ہو ! میں آپکے ساتھ کبھی بھی بات نہیں کرُوںگی !

میںنے کُچھ نہیں کہا اؤر ایک ہاتھ سے چُوچی کی گھُںڈی کو زوऱ-زوऱ سے مسلنے لگا اؤر وو چھٹپٹانے لگی اؤر سِسکاری نِکالنے لگی- اوئیئے ماآّآ اوئیئے ! ماآّآّآ !

میںنے بھی اُسے چُومنا چالُو کر دِیا اؤر وو بھی ساتھ دینے لگی۔ میںنے اَپنی جیبھ اُسکے مُںہ میں ڈالی تو وو بھی میری جیبھ کو چُوسنے کا پریاس کرنے لگی۔ کریب 5 مِنٹ کے باد میںنے اُس کا ہاتھ لیکر میرے لںبے اؤر موٹے لںڈ پر رکھ کر کہا- لو میرے لںڈ سے کھیلو !

وو شرم کے مارے آںکھ بںد کرتے ہُئے ہاتھ چھُڑاکر بولی- نہیں ! میں نہیں کھیلُوںگی، تُم مُجھے چھوڑ دو !

میںنے کہا- ایک بار ہاتھ میں لوگی تو پھِر کبھی نہیں چھوڑوگی ! اؤر اُسکو زبردستی ہاتھ میں پکڑا دِیا اؤر اُسکا ہاتھ پکڑ کر ہِلانے لگا۔ میرا لںڈ کریب 9 اِںچ کا ہے اؤر ہاتھ لگنے سے اؤر بھی ٹائیٹ اؤر لںبا ہوکر تڑپنے لگا۔ نِرملا اُسکو دیکھ کر گھبرا گئی اؤر بولی- یہ تو بہُت ہی بڑا ہے ! میں نہیں لُوںگی اَپنے ہاتھ میں ! مُجھے ڈऱ لگتا ہے !

میںنے کہا- کیسا ڈر ؟ تُم ایک جوان لڑکی ہو ! اِس لںڈ کو آج کل کی لڑکِیاں اَپنی چُوت میں لینے کے لِئے تڑپتی ہیں تُم اِتنی بڑی ہو کر بھی ڈرتی ہو ؟ کل جب تُمہاری شادی ہوگی اؤر تُمہارا پتِ تُمکو سُہاگرات میں چودیگا تو تُم کیا کروگی ؟ ڈر کے مارے تُم واپس اَپنے مایکے آاوگی یا پھِر پتِ سے چُدواّوگی؟

نِرملا بولی- تُم اِتنی گندی بات کیوں کر رہے ہو؟ مُجھے تو بہُت شرم آ رہی ہے، پلیز ایسی گںدی بات مت کऱو !

میںنے کہا- نِرملا تُونے کبھی اَپنی ممّی اؤر ڈیڈی کی چُدائی دیکھی ہے؟

دوستو، میں اُسکی شرم کو ہٹانا چاہتا تھا اؤر اُسکو پُوری ترہ سے اُکسا رہا تھا اؤر میں اُسکا ہاتھ اَپنے لںڈ پر رکھ کر دھیرے دھیرے سے سہلانے لگا تھا۔

تو وو بولی- نہیں !

اِسلِئے تو تُم کو مالُوم نہیں ہے کِ چُدائی کرتے سمے کِس کِس ترہ کی باتیں ہوتی ہیں !

اُسنے مُجھسے پُوچھا- بھیّا، آپ بھی بھابھی کے ساتھ ایسے ہی باتیں کرتے ہو؟

میںنے کہا- ہاں !اِسّے بھی جیادا گںدی !

تو وو آشچرے-چکِت ہوتے ہُئے بولی- آپکو شرم نہیں آتی؟

میںنے کہا- پہلے بہُت شرم آتی تھی، اَب نہیں ! کیوںکِ ہم لوگوں آدت پڑ گئی ہے اؤر ہمکو سِکھانے والی کؤن ہے، تُمکو پتا ہے ؟ نہیں ؟ اَگر بتا دِیا تو تُم پاگل ہو جاّوگی سُن کر ! اؤر شاید تُم میرا وِشواس بھی نہیں کروگی !

تو وو بولی- کؤن ہے؟

میںنے کہا- پہلے تُم اَندازا کرو ! باد میں میں تُمہیں بتاُّوںگا !

وو بولی- تُمکو بتانا ہو تو بتاّو، نہیں تو بھاڑ میں جاّو !

میںنے کہا- بتاتا ہُوں- اؤر بول پڑا- تُمہاری ممّی ! میرا متلب- بُآ !

تو بولی- میری ممّی ؟

میںنے کہا- ہاں ! تیری ممّی !

میں نہیں مانتی !

میںنے کہا- مت مانو ! لیکِن میںنے تُمہیں اَگر سبُوت دِیا تو تُم مُجھے کیا دوگی؟

وو بولی- پہلے سبُوت، باد میں میں تُجھے کیا دُوںگی، تُم کو باد میں پتا چل جاّیگا !

تو میںنے کہا- تُم کو ایک کام کرنا پڑیگا !

کیا، کیسا کام ؟ میں کوئی کام نہیں کرُوںگی !

میںنے کہا- ایسا ویسا کُچھ نہیں بس میری آئیڈِیا مانو اؤر میں جو کہُوں، تُم ویسا کرو !

دوستو میں باتیں کرتے ہُئے اُسکی چُوت میں اَںگُوٹھاَّ اؤر اُںگلی ڈال کر دانے کو مسلنے لگا تھا، وو باتیں کرتے ہُئے تڑپ رہی تھی اؤر میرے کو بول رہی تھی کِ چھوڑ دو بھیّا پلیز ! آپ ایسا مت کرو ! مُجھے بہُت درد ہو رہا ہے ! آپ بہُت کھراب ہیں !

میںنے اُسے کہا- آج رات کو جب سب لوگ سو جائے تو تُم بِنا آواز کِئے ہی ممّی کے کمرے کے درواجے پر اَپنا کان لگا کر اُنکی باتیں سُنّا ! تبھی تُم کو پتا چلیگا کِ کؤن سچّا ہے اؤر کؤن جھُوٹھا ہے !

تو بولی- ٹھیک ہے ! میں آج ہی پتا کر لُوںگی !

میں چُوت میں اُںگلی ڈال کر چُوت کے دانے کو مسلنے لگا اؤر اَب وو میرے کابُو میں آنے لگی اؤر میٹھی میٹھی سِسکاری لینے لگی۔ اُسکی چُوت سے پانی بھی بہنے لگا تھا۔ میںنے اَب نیچے آکر اُسکی چُوت کو ہاتھوں سے کھولا اؤر چُوت کے پاس مُںہ رکھ کر چُوت کو سُوںگھنے لگا۔

واہ ! کیا میٹھی سُگںدھ تھی ! ایسی سُگںدھ تو موںٹ بلاںک کے پرپھیُوم میں بھی نہیں آتی ہوگی ! میں تو پُورا مدہوش ہو گیا اؤر سورگلوک کے کمل کے پھُول کی کلپنا کرنے لگا۔

تبھی نِرملا بولی- بھیّا، وہاں مُںہ لگاکر کیا کر رہے ہو ؟

میںنے کوئی دھیان نہیں دِیا اؤر میں چُوت سُوںگھنے میں مست تھا۔ تو نِرملا میرے بال کھیںچ کر بولی- بھیّا، کیا کر رہے ہو؟
(¨`·.·´¨) Always
`·.¸(¨`·.·´¨) Keep Loving &;
(¨`·.·´¨)¸.·´ Keep Smiling !
`·.¸.·´ -- raj sharma

گھمسان ​​چدائی

Sponsor

Sponsor
 

User avatar
rajaarkey
Super member
Posts: 6832
Joined: 10 Oct 2014 10:09
Contact:

Re: گھمسان ​​چدائی

Post by rajaarkey » 02 Apr 2017 19:31


میںنے سِر اُٹھا کر کہا- کُچھ نہیں ڈارلِںگ ! تُمہاری چُوت نے تو مُجھے پاگل کر دِیا ہے ! یہ کہ کر میں اُسکی چُوچی چُوسنے لگا اؤر اُںگلی کو چُوت میں ڈال کر آگے پیچھے کرنے لگا۔ تبھی وو بولی- بھیّا، مُجھے کُچھ ہو رہا ہے ! پلیز آپ مُجھے چھوڑ دو !

میںنے کہا- کیا ہو رہا ہے؟

تو بولی- میری چُوت سے کُچھ آنے والا ہے !

میںنے کہا- پلیز رُکو ! اؤر میں مُںہ کو نیچے لے کر چُوت میں جیبھ ڈال کر چُوت کو چاٹنے لگا اؤऱ ایک ہاتھ سے اُسکی چُوچی کو مسلنے لگا اؤر وو پُوری پاگلوں کی ترہ ہوکر بولی- پلیز بھیّا ! جلدی کऱو ! نہیں تو میں مر جاُّوںگی !

میں جلدی جلدی اُسکی چُوت کو چاٹنے لگا اؤر ہاتھ سے اُسکی چُوچی مسلنے لگا۔ کریب پاںچ مِنٹ میں ہی وو زوऱ سے آऽऽऽऽ آऽऽऽऽऽ کر کے جھڑ گئی اؤر سارا چُوترس (پریمرس) میرے مُںہ میں چھوڑ دِیا۔ میںنے پُورا مال چاٹ چاٹ کر ساپھ کِیا۔

تبھی میںنے اُسّے پُوچھا- مزا آیا یا نہیں ؟

تو شرماتے ہُئے بولی- بھیّا پلیز !

میںنے کہا- اَب آگے کا کھیل کھیلیں یا نہیں؟

تو بولی- اِسّے آگے کا کھیل کؤن سا ہے؟

میںنے اُسے سیدھے ہی کہا- اَب میں تُجھے چودُوںگا !

تو بولی- کیسے؟

میںنے لںڈ ہاتھ میں لیکر ہِلاتے ہُئے اُسکی چُوت پر ہاتھ رکھکر کہا- میں اِسے تُمہاری چُوت میں ڈال کر زوऱ سے چودُوںگا !
تو بولی- بھیّا، پلیز آپ اَبھی مُجھے چھوڑ دو ! آپ کل کر لینا !

میںنے کہا- کیوں؟

تو بولی- مُجھے کہیں جانا ہے ! اؤر میں پہلے ہی لیٹ ہو گئی ہُوں ! پلیز مُجھے جانے دیں، میں آپسے وادا کرتی ہُوں !

تو دوستو، میںنے بھی کوئی جبردستی ن کرتے ہُئے اُسکے چُوچُک کو مُںہ میں لیکر ہلکا سا کاٹ کر کہا- میں تُجھے بہُت پیار کرتا ہُوں، میں تیرے ساتھ کوئی زبردستی نہیں کرُوںگا ! تُم جب تُمہاری مرجی ہو، مُجھے بُلا لینا، میں ہازِر ہو جاُّوںگا !

میںنے اَپنے کپڑے پہنے اؤر باہر آکر ہال میں بیٹھ کر ٹیوی۔ چلا کر سوفا پر بیٹھ گیا۔ تبھی وو پاںچ مِنٹ کے باد نِرملا باہر آئی، مُجھسے بولی- تُم آئے کیوں تھے؟

میں بھی بھُول گیا تھا کِ میرے پاس کیش کا بیگ تھا۔ میںنے کہا- تُمہارے کمرے میں میرا کیش کا بیگ پڑا ہے، میں کیش دینے آیا تھا۔ لیکِن بُآ گھر میں نہیں تھی تو میںنے سوچا کِ تُم کو دے دُوں۔ تو بولی- بیگ کہاں ہے؟

میںنے کہا- تُمہارے کمرے میں کُرسی کے پاس رکھا ہے، تُم مُجھے بیگ لا کر دے دو۔

نِرملا بیگ لینے کمرے میں گئی۔ میں بھی پیچھے گیا اؤر نِرملا کو پکڑ کر گھُمایا اؤر اُسکے وکش مسلتے ہُئے چُومنے لگا۔ وو بھی اَپنی جیبھ میرے مُںہ میں ڈال کر گھُمانے لگی۔ کریب़ پاںچ مِنٹ کے باد ہم اَلگ ہُئے اؤر میںنے بیگ نِرملا کے ہاتھ میں دیکر کہا- یہ بیگ اَپنے پاپا کو دے دینا اؤر سیل پر بات کرا دینا ! اؤر میںنے اَپنا سیل نمبر اُسے دے دِیا۔

اؤر میںنے بھی اُسکا سیل نمبر لے لِیا۔ اُسکو کہا- یہ بات تُم کِسی سے مت کرنا اؤر میں بھی کِسی سے نہیں کہُوںگا، کیوںکِ اِسمیں تُمہاری اؤر میرے کھاندان کا اِزّت کا سوال ہے۔

نِرملا بولی- میں نہیں کہُوںگی !

میںنے کہا- تُمہاری پھریںڈس کو بھی نہیں بتانا !

وو بولی- نہیں بتاُّوںگی بھیّا ! آپ مُجھے اِتنا بھی بیوکُوف مت سمجھو !

میںنے کہا- ٹھیک ہے ! تُم مُجھے پھون کروگی یا میں تُجھے پھون کرُوں؟

تو بولی- میں تُجھے پھون کرُوںگی !

میںنے کہا- پرامِس؟

تو بولی- پرامِس !

میںنے کہا- باے !

اؤر میں گھر سے نِکل گیا اؤر سیدھا گھر آکر سو گیا۔ کب رات کے نؤ بجے، مُجھے پتا ہی نہیں چلا۔ ممّی نے مُجھے جگایا۔ میں کھانا کھاکر گھُومنے چلا گیا، رات کو گیارہ بجے گھر آکر سو گیا۔

اَگلے دِن میں پھون کا اِنتزاऱ کرنے لگا۔
کہانی کے اَگلے بھاگ کی پرتیکشا کریں !

پریشک : جیل راز

ہیلو دوستو،

کیسے ہو آپ !

آپنے میری کہانی کا پہلا بھاگ پڑھا ! آشا ہے میری کہانی آپکو پسںد آئی ہوگی۔ اَب آگے !

اَگلے دِن میں پھون کا اِنتزاऱ کرنے لگا۔ اُسنے پھون نہیں کِیا۔ کریب़ دو بجے تک اِںتزار کرنے کے باد میںنے اُسکے سیل پر پھون کِیا پر اُسنے میرا پھون نہیں اُٹھایا اؤر رِجیکٹ کر دِیا۔ کریب़ 5-6 بار کوشِش کی لیکِن اُسنے کوئی جواب نہیں دِیا اؤر پھون کو سوِچ-ऑف کر دِیا۔

میںنے کپڑے بدلے اؤر اُسکے گھر چلا گیا۔ گھنٹی بجائی تو اُسنے دروازا کھولا اؤر بولی- تُم اِس سمے یہا کیوں آئے ہو؟

میںنے جواب دِیا- تُم اَپنا پھون کیوں نہیں اُٹھا رہی ہو؟ اوپھ کرکے رکھے ہو ! اِسلِئے میں سیدھا یہاں آیا ہُوں !

اؤر میںنے اَںدر آکر دروازا بںد کِیا اؤر پُوچھا- ممّی ہے؟

تو بولی- وو اَبھی باہر گئی ہیں !

میںنے پُوچھا- کب آایںگی؟

تو بولی- آنے میں دیऱی ہوگی !

پھِر میںنے کہا- بھابھی تو وو مایکے گئی ہُئی ہے !

میںنے چین کی ساںس لیتے ہُئے کہا- بھگوان کا لاکھ-لاکھ شُکر ہے۔

میںنے اُسکو اَپنے باہوں میں لِیا اؤر اُس کِس کِیا تو وو مُجھسے چھُڑاتے ہُئے بولی- بھیّا، مُجھے چھوڑو ! پلیز بھیّا !

میںنے کہا- نِرملا، کیوں مُجھے اِتنا پریشان کرتی ہو؟

تو بولی- بھیّا پریشان تو آپ کر رہے ہیں !

پھِر میں کِس کرنے لگا اؤر ایک ہاتھ چُوچی کے اُوپر رکھ کر دبانے لگا۔ وو چھٹپٹانے لگی اؤر بولی- بھیّا پلیز ! آپ ہاتھ وہاں سے ہٹاّو !

میںنے کہا- کیا؟

تو وو میرا ہاتھ جو چُوچی کے اُوپر تھا، ہٹاتے ہُئے بولی- بھیّا درد کرتا ہے ! پلیز آپ ہاتھ مت رکھو !

میںنے کہا- اوکے ! اؤر میں اُسکا نیچے کا ہوںٹھ کو چُوستے ہُئے دونوں ہاتھ اُسکی پیٹھ پر پھِرا رہا تھا اؤر دھیرے دھیرے کمیز کی زِپ نیچے کرنے لگا۔

میں اَب ایک ہاتھ پیچھے اَںدر ڈال کر اُسکی نںگی پیٹھ پر پھِرانے لگا۔ جیسے ہی میںنے اُسکی نںگی پیٹھ کو چھُآ تو مُجھے اؤر اُسے یانِ دونوں کو ایسا کریںٹ لگا کِ میں ویکت نہیں کر سکتا اؤر وو ایک دم گھبراکر مُجھے بولی- بھیّا، آپ کیا کر رہے ہیں !

میںنے کوئی جواب نہیں دِیا اؤر پیٹھ پر ہاتھ پھِراتا رہا۔ فِر ایک ہی جھٹکے میں اُسکی برا کا ہُک کھول دِیا۔ اَب میں اُسے چُوم رہا تھا اؤر دونوں ہاتھوں کو اُسکی نںگی پیٹھ پر پھِرا رہا تھا۔

اؤر فِر اُسکو ایک ہی جھٹکے میں باہوں میں اُٹھا لِیا اؤر بیڈرُوم میں لے جاکر بیڈ پے لِٹا دِیا۔ میںنے جلدی سے اَپنے کپڑے اُتارے، سِرپھ چڈّی رہ گئی تو اِتنے میں وو کھڑی ہُئی اؤر باہر جانے لگی۔ میںنے اُسکا ہاتھ جھٹ سے پکڑ لِیا اؤر اَپنی ترپھ کھیںچا۔

میںنے اُسّے کہا- کہاں جا رہی ہو ؟

وو بولی- بھیّا، آپ کیا کر رہے ہیں !

میںنے کہا- ڈارلِںگ میں تو کُچھ بھی نہیں کر رہا ہُوں، میں تو کل کی ترہ تیری سُںدرتا دیکھنا چاہتا ہُوں ! اؤر تُجھے پیار کرنا چاہتا ہُوں !

تو بولی- بھیّا، پلیز، آپ مُجھے ہاتھ مت لگاّو !

میںنے اُسکے پاس جاکر کہا- کیوں؟ تُجھے اَچّھا نہیں لگتا؟

وو بولی- نہیں بھیّا !

میںنے کہا- ٹھیک ہے ! میں تُجھے ہاتھ نہیں لگاُّوںگا، تُم پلیز ایک بار مُجھے اَپنی سُںدرتا دِکھا دو !

وو بولی- پلیز، نہیں بھیّا !

میںنے کہا- کل بھی تو میںنے سب دیکھا تھا !

تو بولی- میں ایک شرت پر ہی دِکھاُّوںگی !

میںنے کہا- اوکے !

وو بولی- تُم مُجھے دُور سے ہی دیکھوگے اؤر مُجھے ہاتھ بھی نہیں لگاّوگے !

میںنے کہا- ٹھیک ہے ! پر تُم بھاگ گئی تو ؟

نِرملا بولی- میں نہیں بھاگُوںگی !

میںنے دروازے کے پاس جاکر کہا- اَب تو تُم کھُش ہو؟

وو بولی- ٹھیک ہے !

اؤر وو مُجھے دیکھنے لگی اؤر اَپنے کپڑے کھولنے لگی، پُورے کپڑے اُتارے لیکِن پیںٹی نہیں اُتاری اؤر مُجھے کہا- بھیّا لو میںنے پُورے کپڑے اُتار دِئے، اَب آپ بھی کپڑے پہن کر مُجھے جانے دیجِئے !

میںنے کہا- نہیں ! تُمنے پُورے کپڑے نہیں اُتارے !

اؤر میں اُسکے پاس گیا، پیںٹی پر ہاتھ لگایا اؤر بولا- یہ کؤن اُتاریگا ؟

تو بولی- بھیّا پلیز ! آپنے قہا تھا کِ میرے پاس نہیں آاوگے !

تو میںنے قہا- میں تیرے پاس اَپنی مرزی سے نہیں آیا، تُمنے پیںٹی نہیں اُتاری تو میںنے سوچا کِ میں ہی اُتار دیتا ہُوں !

تو بولی- چھوڑو مُجھے اؤر جانے دو !

میںنے کہا- رانی، اَبھی تو شُرُآت ہے !

میںنے اُسکو باہوں میں اُٹھایا اؤر بیڈ پر لِٹا دِیا۔ اؤر ایک چُوچی مُںہ لیکر چُوسنے لگا اؤر ایک ہاتھ سے اُسکی پیںٹی اُتارنے لگا۔

پیںٹی کو گھُٹنوں تک لے آیا اؤر ہاتھ کو اُسکی چُوت پر رکھکر بولا- کِتنی پیاری چُوت ہے ! ایسی چُوت تو میری پتنی قی بھی نہیں ہے۔

(¨`·.·´¨) Always
`·.¸(¨`·.·´¨) Keep Loving &;
(¨`·.·´¨)¸.·´ Keep Smiling !
`·.¸.·´ -- raj sharma

User avatar
rajaarkey
Super member
Posts: 6832
Joined: 10 Oct 2014 10:09
Contact:

Re: گھمسان ​​چدائی

Post by rajaarkey » 02 Apr 2017 19:33

اَب میں اُسکے مُںہ کو پکڑ کر چُومنے لگا اؤر اُسکا مُںہ کھولکر جیبھ اَںدر ڈال کر گھُمانے لگا۔ ایک ہاتھ اُسکی چُوت پر ہی پھِرا رہا تھا۔ اَب چُوت سے بھی پانی آنے لگا تھا اؤر میرے ہاتھ گیلے ہو گئے۔ میںنے گیلا ہاتھ اُسے دِکھاتے ہُئے کہا- نِرملا، دیکھا اَب تیری چُوت بھی ساتھ دے رہی رہی ہے !

نِرملا بولی- بھیّا مُجھے جانے دو ! میں یہ سب آپکے ساتھ نہیں کر سکتی !

میںنے اُسکو کہا- ڈارلِںگ، میں نہیں کرُوںگا ! اؤر ایک ہاتھ سے اُسکی چُوچی پر رکھ کر مسلنے لگا اؤر اُسکی چُوت میں اُںگلی کو دھیرے دھیرے آگے پیچھے کرنے لگا۔ کریب پاںچ سے دس مِنٹ کے باد وو اؤر گرم ہو گئی اؤر سِسکاری لیتے ہُئے بولی- بھیّا، پلیز مُجھے چھوڑ دو !



میںنے کہا- اَبھی چھوڑ دیتا ہُوں !

اؤر میںنے مُںہ کو اُسکی چُوت پر رکھا اؤر اُسکی چُوت چاٹنے لگا، پیںٹی کو نِکال کر پھیںک دِیا۔

جیسے ہی میںنے اُسکی چُوت پر مُںہ رکھا تو اُسکو کریںٹ لگا اؤر زوऱ سے چِلّائی- ہاے بھیّا ! آپ کیا کر رہے ہو ! پلیز ایسا مت کرو ! مُجھے کُچھ ہو رہا ہے !

اؤر وو سِسکاری لینے لگی اُاُاُاُاُاُاُاُاُاُاُاُئیئیئیئیئیئیئیئیئیئیئیئیئیئیئیئیّمّمّمّمّمّما بھہّہّہیا پلیز مت کراُواُواو !

میںنے بھی جیبھ چُوت میں ڈالکر چُوت کو زوऱ زوऱ سے چودنے لگا اؤر دونوں ہاتھوں سے اُسکی چ़ُوںچی کی گھُںڈی کو اَںگُوٹھے اؤر اُںگلی میں لیکر زوऱ زوऱ سے مسلنے لگا۔

نِرملا میرے ہاتھوں کو پکڑ کر بولی- پلیز، زوऱ سے مت کرو ! زوऱ سے مت کرو !

میںنے اُسے پُوچھا- کیا نہیں کرُوں زوऱ سے؟

تو بولی- بھیّا، پلیز آپ مت کرو !

میںنے اُسے کہا- کیا نہیں کرُوں؟

اؤر میں فِر زوऱ زوऱ سے کرنے لگا، وو تڑپنے لگی اؤر بولی- بھیّا پلیز !

وو زوऱ سے سِسکاری لیتے ہُئے بولی- بھیّا، پلیز جلدی کرو ! نہیں تو میں پاگل ہو جاُّوںگی !

میںنے اؤر سپیڈ بڑھا دی اؤر جور زوऱ سے کرنے لگا اؤر وو لںبی ساںس لیتے ہُئے چِلّائی- بھے اِیئیئیئیئیمّمّمّمّمّمیئیئیئیئیئیئیئے اؤر میرے مُںہ پر جھڑ گئی۔

میںنے اُسکا پُورا چُوت رس پِیا اؤر چاٹ کر ساپھ کِیا، تھوڑا سا رس مُںہ میں رکھ کر اُسکے مُںہ کے پاس آیا اؤر اُسکا مُںہ کھول کر میںنے اُسکے مُںہ میں ڈال دِیا اؤر بولا- لو ڈارلِںگ ! تُم بھی اَپنا رس ٹیسٹ کرو اؤر بتاّو کیسا ہے !

وو مُجھے گھُورتے ہُئے بولی- بھیّا، آپ کِتنے گںدے ہو اؤر بیشرم ہو ! اَب مُجھے جانے دو !

میںنے کہا- میںنے تیرے لِئے اِتنا کِیا، تُم میرے لِئے کُچھ بھی نہیں کروگی؟

بولی- اَب میں کیا کرُوں؟

میںنے اَپنی اَںڈرویّر اُتاری اؤر 8 اِںچ کا لںڈ اُسکے مُںہ کے پاس لے جاکر بولا- لو اِسے بھی چُوسو نا !

وو بولی- نہیں بھیّا ! میں نہیں کرُوںگی !

شیش اَگلے بھاگ میں !



پریشک : جیل راز

میں اَپنا لںڈ ہاتھ میں پکڑ کر اُسکے ہوٹھوں کو چھُآنے لگا اؤر جیسے ہی وو کُچھ بولنے لگی میںنے جھٹ سے اُسکا مُںہ پکڑ کر لںڈ اَںدر ڈالا اؤر اُسکو بولا- پلیز ایک بار اِسکو چُوسو !

اؤر میں نِرملا کے بال کو پکڑ کر دھکّا مارنے لگا اؤر میں بھی کھُد آگے پیچھے ہونے لگا۔ میںنے اُسکی مُںہ چُدائی چالُو کر دی۔ کریب دس مِنٹ کے باد میںنے سارا لںڈرس اُسکے مُںہ میں ڈال دِیا اؤر اُسکے پاس لیٹ گیا۔

کریب پاںچ مِنٹ کے باد اُسکا ایک ہاتھ کو پکڑ کر اَپنے لںڈ پر رکھ میں کھُد اُسکا ہاتھ پکڑ کر آگے پیچھے کرنے لگا اؤر اُسکی چُوت کو مسلنے اؤر اُںگلی سے چودنے لگا۔

تو اُسنے کہا- بھیّا پلیز مُجھے جانے دو۔

میںنے کہا- نِرملا، اَسلی کام اَب چالُو ہوگا !

تو وو بولی- کیا؟

ہاں، میں تُجھے اَب چودُوںگا !

اُسنے کہا- نہیں آپ میرے ساتھ ایسا نہیں کر سکتے !

میںنے کہا- نِرملا ایسا ہر لڑکی اؤر لڑکا چودتے ہیں اؤر چُدواتے ہیں جیسے کِ تُمہاری ممّی پاپا سے چُدواتی ہے، تُمہاری بھابھی بھیّا سے چُدواتی ہے، میری پتنی میرے سے چُدواتی ہے، پھِر تُم کیوں منا کر رہی ہو !

اُسکا ہاتھ میرے لںڈ پر رکھتے ہی میرا لںڈ ٹائیٹ ہونے لگا تھا اؤر وو بھی گرم ہو گئی اِن سب باتوں سے، اؤر بولی- بھیّا میںنے پہلے کبھی بھی نہیں کِیا ہے !

(دوستو، میں اُسکی شرم مِٹانا چاہتا تھا اؤر میںنے کل کی ترہ اُس ٹاپِک چھیڑ دِیا)

میںنے اُسّے پُوچھا- کل تو تُمنے اِتنا ناٹک نہیں کِیا، آج اَچانک اِتنا ناٹک کیوں ؟

وو بولی- بھیّا،م کل جو ہُآ وو ایک ہادسے کی ترہ تھا !

میںنے کہا- ٹھیک ہے !

میںنے اُسّے پُوچھا- کل تُمنے اَپنی ممّی-ڈیڈی کی چُدائی دیکھی یا نہیں؟

تو بولی- بھیّا، نہیں !

میںنے کہا- کیوں ؟

بولی- میں ایسی لڑکی نہیں ہُوں !

میںنے اُسکو کہا- میںنے کب کہا کِ تُم ایسی لڑکی ہو ! میں تو تُجھے بتا رہا تھا کِ تُم سِرپھ ایک بار دیکھو اؤر تُمکو سیکھنے کو بھی مِلیگا ! کھیر کل نہیں دیکھی تو تُم آج دیکھنا اؤر مُجھے بتانا کِ کیسی ہے ! ٹھیک ہے ؟ اؤر میںنے چُوت میں اُںگلی آگے پیچھے کرنا زاऱی رکھا اؤر وو میرے لںڈ کو ہِلانے لگی۔

میں اَب اُسکے اُوپر آیا اؤر اُسکی ٹاںگوں کو تھوڑا اَلگ کِیا اؤر اُسکی گیلی چُوت پر لںڈ کو اؤر مُںہ پر مُںہ کو رکھ کر دونوں ہاتھوں کو اُسکی گاںڈ کے نیچے رکھ کر ایک زوऱ کا دھکّا مارا، اُسکی چیکھ میرے مُںہ میں ہی رہ گئی اؤر لںڈ ایک اِنچ اَںدر چلا گیا۔ میں دونوں ہاتھوں کو نیچے سے نِکال کر اُسکی دونوں چُوچی کے چُوچُک مسلنے لگا، ساتھ میں چُمبن بھی کر رہا تھا۔ لںڈ اَںدر رکھا اؤر دھیرے دھیرے اُسکو چودنے لگا۔ تھوڑی دیر کے باد میںنے پھِر ایک زوऱ کا جھٹکا مارا اؤر لںڈ 3 اِںچ اَںدر گھُس گیا اؤر وو میری پیٹھ پر مارنے لگی کیوںکِ اُسکی چیکھ میرے مُںہ میں ہی رہ گئی اؤر اُسکی جھِلّی بھی پھٹ گئی۔ وو ایک دم کُںواری تھی، کھُون نِکلنے لگا اؤر وو تڑپنے لگی، میرے بالوں کو کھیںچنے لگی۔ میںنے مُںہ کو ہٹایا اؤر بولا- کیا ہُآ؟

وو بولی- بھیّا ! مُجھے بہُت درد ہو رہا ہے !

میںنے کہا- نِرملا، مُجھے بھیّا مت کہو اؤر میرے نام سے ہی پُکارو ! ایسا درد پہلی بار کرنے سے ہوتا ہے، تُم گھبراّو مت، میں ہُوں نا !

اؤر میںنے لںڈ باہر نِکالا اؤر اُسکے مُںہ پر ہاتھ رکھا اؤر ایک ہاتھ سے لںڈ کو پکڑ کر اُسکی چُوت پر رکھ اؤر زوऱ کا جھٹکا مارا، اِسکے ساتھ ہی میرا لںڈ 6 اِںچ اُسکی چُوت میں چلا گیا۔

میںنے اُسکے مُںہ سے ہاتھ ہٹایا اؤر چُوچی مسلنے لگا- نِرملا، تیری چُوت تو کمال کی ہے !

وو بولی- بھیّا، پلیز آپ باہر نِکالو، مُجھے بہُت جلن ہو رہی ہے اؤر درد بھی بہُت ہو رہا ہے !

میںنے کہا- کیا نِکالُوں رانی ؟

بھیّا، آپ اِتنے گںدے ہو، اِدھر میں مری جا ऱہی ہُوں اؤر آپ مزاک کے مُوڈ میں ہو !

میںنے کہا- نِرملا، پلیز ایک بار کہو کِ کیا نِکالُوں!

وو بولی- پلیز بھیّا ! میں نہیں کہُوںگی، آپ باہر نِکالو !

میںنے کہا- ٹھیک ہے، جب تک تُم نہیں کہوگی، میں باہر نہیں نِکالُوںگا !

اؤر اِسکے ساتھ ہی اُسکو دھیرے دھیرے چودنے لگا اؤر اُسّے بولا- تُم کِتنی اَچّھی ہو، تُمہارے بُوبس کِتنے پیارے ہیں، تُمہاری چُوت کا کوئی جواب نہیں !

اِتنا کہنے کے باد میں اُسکی چُوچی چُوسنے لگا ساتھ میں دھیرے دھیرے چودنے لگا۔ تھوڑی دیر کے باد اُسکو مزا آنے لگا تو بولی- بھیّا پلیز آپ اؤر اَںدر مت ڈالنا ! نہیں تو میں مر جاُّوںگی !

میںنے کہا- کیا اَںدر نہیں ڈالُوں؟

اؤر میںنے لںڈ کو باہر نِکالا اؤر ایک جھٹکا مارا، میرا پھِر 6 اِںچ تک اَںدر گیا۔ نِرملا سِسکاری لینے لگی- اُواُواُوّیئی اِیئیئیئیئیئی اِیمّمّمّم ممّما آآّآ !مار ڈالا اِس پاگل نے ! میںنے کہا تھا کِ اَںدر مت ڈالو ! پھِر ڈال دِیا !

میںنے کہا- کیا ڈال دِیا؟

تو بولی- بھیّا، میں سِرپھ ایک بار ہی کہُوںگی !

میںنے کہا- ٹھیک ہے، بولو !

اِسکے ساتھ ہی میں اُسکو دھیرے دھیرے چودنے لگا اؤر وو بھی پُوری گرم ہو گئی اؤر بولی- بھیّا، آپ بھابھی کے ساتھ بھی ایسے ہی کرتے ہیں؟

میںنے کہا- نہیں !

تو میرے ساتھ مے ایسا کیوں ؟

میںنے کہا- میری بیوی تو میرے ساتھ کھُلکر پیش آتی ہے، تُمہارے جیسے نہیں ہے، جب میں چودنے کے مُوڈ میں نہیں ہوتا ہُوں تو میرے پاس آکر بولتی- جی آپ مُجھے چودِئے نا ! دیکھو میری چُوت کِتنی تڑپ رہی ہے تُمہارے لںڈ کے لِئے !

بھیّا آپ جھُوٹھ بول رہے ہیں !

میںنے کہا- تُم ایک کام کرو، میری پتنی سے کبھی بھی پُوچھ لینا !

بھابھی کو شرم نہیں آتی؟

میںنے کہا- تُمکو کل ہی بتا دِیا تھا- سب تیری ممّی نے ہی سِکھایا ہے، جب چُدائی کرتے ہیں تو ہم لوگوں کو گںدی بھاشا بولنی چاہِئے، اِسّے پریم بڑھتا ہے اؤر جیون بھر پیار رہتا ہے آپس میں !

اَب میںنے لںڈ کو پُورا باہر نِکالا اؤر پھِر جور کا جھٹکا مارا تو میرا پُورا لںڈ چُوت کو چیرتا ہُآ اَںدر چلا گیا اؤر میں اُسکے اُوپر لیٹ گیا۔

نِرملا بولی- بھیّا پلیز باہر نِکالو ! باہر نِکالو !

میںنے کہا- جب تک تُم نہیں کہوگی میں تُجھے ایسے ہی چودتا رہُوںگا اؤر رگڑتا رہُوںگا !

تو بولی- بھیّا، مُجھے شرم آتی ہے !

میںنے کہا- اَپنی آںکھ بںد کرکے ایک بار کہو- پلیز لںڈ کو باہر نِکالو !

تو بولی- بھیّا میں نہیں کہ پاُّوںگی !

میںنے کہا- ایک بار بول لوگی تو ٹئیک رہیگا، نہیں تو جِںدگی بھر نہیں بول پاّوگی ! اؤر کُچھ نہیں جلدی سے بول دو !

تو بولی دھیرے سے- بھیّا پلیز لںڈ کو باہر نِکالو !

میںنے کہا- کیا نِکالُوں؟

تو بولی- لںڈ کو !

میںنے لںڈ کو باہر نِکالا اؤر واپس زوऱ سے اَںدر ڈالا اؤر دھیرے دھیرے سے چودنے لگا ساتھ میں چُوچی کو مُںہ مے لیکر چُوسنے لگا۔

میںنے اُسّے پُوچھا- کیسا لگ رہا ہے؟

تو بولی- پلیز آپ مُجھے مت پُوچھو !

میںنے اُسّے کہا- نِرملا، تُمکو آج میںنے ایک بہن سے پتنی بنا دِیا ہے، تُمہاری آج پرموشن ہُئی ہے، تُجھے چودنے میں بہُت مزا آ رہا ہے، ایسا مزا تو مُجھے کبھی نہیں آیا !

میں ایسے ہی اُسے گرم کرکے چود رہا تھا اؤر وو بھی میرا کھُلّم-کھُلّا ساتھ دینے لگی تھی۔

دوستو مُجھے اِسکو چودنے میں اِتنا مزا آیا کِ آپکو نہیں بات سکتا ! آپ سمجھ لیجِئے کِ مُجھے جنّت مِل گئی تھی !

میں اُسکی چُوت سے دھیرے دھیرے لںڈ باہر نِکالتا اؤر اَںدر چُوت میں ڈال کر چود رہا تھا، بیچ بیچ میں زوऱ سے شاٹ بھی لگاتا تھا اؤر وو ہر شاٹ کے ساتھ وو سِہر اُٹھتی اؤر مُجھے بولتی -بھیّا، مُجھے کُچھ ہو رہا ہے !

میںنے اُسکی چُوچی کو رگڑتے ہُئے پُوچھا- کیا ہو رہا ہے رانی ؟

تو بولی- میں نہیں بتا سکتی !

میں اَب اُسے زوऱ زوऱ سے چودنے لگا اؤر دونوں ہاتھوں سے اُسکی چُوچی کو مسلتے ہُئے بولا- لے میری رانی، میرا لںڈ لے ! اؤر لے ! اَبھی تیری چُوت کو بھی مزا آ رہا ہے ! تُو مُجھے نہیں بتاّیگی تو تیری چُوت بتاّیگی !

میرے ہر شاٹ کا جواب اُسکی اواواواواواواوہّہّہّآّآّئیئیئیئیئیئیئی ! جلدی ! پلیز جلدی کرو! اواواواواواواواواو آآّآّآّآّآ ! میں تھا۔

میں اُسے ایسے ہی چودنے لگا اؤر پُورے کمرے میں پچ پچ اؤر اُسکی آوازیں گُوںج رہی تھی۔ میںنے نِرملا کو کریب़ 10 مِنٹ اؤر چودا !

وو کِتنی بار جھڑی، مُجھے نہیں مالُوم ! جب میں جھڑنے کو ہُآ تو میںنے پُوچھا- نِرملا، میں اَب جھڑنے والا ہُوں، کہاں نِکالُوں میرا پریم رس؟ تیری چُوت میں یا پھِر تیرے مُںہ میں؟

وو بولی- بھیّا چُوت میں مت ڈالنا ! آپ باہر ہی نِکال لو !

میںنے لںڈ کو چُوت سے باہر نِکالا اؤر اُسکے مُںہ کے پاس لیکر اُسکو بولا- رانی مُںہ کھولو !

وو نا کرنے لگی اؤر اَپنے مُںہ پر ہاتھ رکھ لِیا۔ میںنے اُسکا ہاتھ ہٹایا اؤر لںڈ کو مُںہ میں ڈالکر مُںہ چودنے لگا اؤر کُچھ ہی دیر میں میرے لںڈ نے پِچکاری چھوڑی اؤر میںنے اُسے پریم-رس پِلا دِیا۔ جب میرا لںڈ سِکُڑ گیا تو میںنے باہر نِکالا۔ نِرملا کے مُںہ سے لںڈ نِکالتے ہی وو بیڈ پر نِڈھال ہو گئی اؤر میںنے باتھرُوم زاکऱ شاور لِیا اؤر باہر نِکل اَپنے کپڑے پہنّے لگا، ساتھ میں نِرملا کو آواز لگائی- نِرملا، اُٹھو !

تو وو اُٹھ نہیں پا رہی تھی، میںنے اُسکو سہارا دِیا اؤر باتھرُوم لے گیا اؤر اُسکو مُوتنے کے لِئے بولا۔ وو بیٹھ کر مُوتنے لگی اؤر مُجھسے بولی- بھیّا تُم باہر بیٹھو !

میںنے کہا- اَب میرے سے شرم کیسی ! اَب تو ہم پتِ-پتنی کی ترہ ہیں !
کیسی لگی میری کہانی،
(¨`·.·´¨) Always
`·.¸(¨`·.·´¨) Keep Loving &;
(¨`·.·´¨)¸.·´ Keep Smiling !
`·.¸.·´ -- raj sharma

User avatar
rajaarkey
Super member
Posts: 6832
Joined: 10 Oct 2014 10:09
Contact:

Re: گھمسان ​​چدائی

Post by rajaarkey » 02 Apr 2017 19:35

پریشک : شگن

پرگتِ کا اَتیت- 3 سے آگے

کِسی ن کِسی کارنوش ماسٹرجی پرگتِ سے اَگلے 4-5 دِن نہیں مِل سکے۔ پرگتِ کوئی ن کوئی بہانا کرکے اُنہیں ٹال رہی تھی۔ باد میں ماسٹرجی کو پتا چلا کِ پرگتِ کو ماسِک دھرم ہو گیا تھا۔ وے کھُش ہو گئے۔ کامُکتا کے تیش میں وے یہ تو بھُول ہی گئے تھے کِ اُنکی اِس ہرکت سے پرگتِ گربھ دھارن کر سکتی تھی۔ اِس پرِنام کے مہتو کو سوچکر اُنکے روںگٹے کھڑے ہو گئے۔ وے ایسی گلتی کیسے کر بیٹھے۔ اَپنے آپ کو بھاگیشالی سمجھ رہے تھے کِ وے اِتنی بڑی بھُول سے ہونے والے سںکٹ سے بچ گئے۔ اُنہوںنے تے کِیا ایسا جوکھِم وے دوبارا نہیں اُٹھاّیںگے۔

اُنہیں پتا تھا کِ آم تؤر پر لڑکی کے ماسِک دھرم شُرُو ہونے سے لگبھگ دس دِن پہلے اؤر لگبھگ دس دِن باد تک کا سمے گربھ دھارن کے لِئے اُپیُکت نہیں ہوتا۔ متلب کِ اِس دؤران کِیے گئے سمبھوگ میں لڑکی کے گربھوتی ہونے کی سمبھاونا کم ہوتی ہے۔ کُچھ لوگ اِسے سُرکشِت سمے سمجھ کر بِنا کِسی ساودھانی (کںڈوم) کے سمبھوگ کرنا اُچِت سمجھتے ہیں۔ ویسے کئی بار اُنکی یہ لاپرواہی اُنہیں مہںگی پڑتی ہے اؤر لڑکی کے گربھ میں اَنچاہا بچّا پنپنے لگتا ہے۔ اَگر لڑکی اَوِواہِت ہے تو اُس پر اَنیک ساماجِک دباو پڑ جاتے ہیں جِسّے اُسکے تن اؤر من دونوں پر دُشپربھاو ہوتا ہے۔ ایک گربھوتی کے لِئے ایسے دُشپربھاو بہُت ہانِکارک ہوتے ہیں۔ گربھ دھارن تو ایک لڑکی تتھا اُسکے پرِوار والوں کے لِئے سبسے جیادا کھُشی کا مؤکا ہونا چاہِئے ن کِ سماج سے آںکھیں چُرانے کا۔

ماسٹرجی نے بھگوان کا دُگنا شُکرِیا اَدا کِیا۔ ایک تو اُنہوںنے پرگتِ کو گربھوتی نہیں بنایا دُوسرے اُنہیں پرگتِ کے ماسِک دھرم کی تاریکھ پتا چل گئی جِسّے وے اُسکے ساتھ سُرکشِت سمبھوگ کے دِن جان گئے۔ جِس دِن ماسِک دھرم شُرُو ہُآ تھا اُس دِن سے دس دِن باد تک پرگتِ گربھ سے سُرکشِت تھی۔ یانِ اَگلے پاںچ دِن اؤر۔

یہ سوچ سوچ کر ماسٹرجی پھُولے نہیں سما رہے تھے کِ اَگلے پاںچ دِنوں میں وے پرگتِ کے ساتھ نِشچِنتّا کے ساتھ منمانی کر پاّیںگے۔ آج پرگتِ پاںچ دِنوں کے باد آنے والی تھی۔ یہ سوچکر اُنکے من میں لڈُّو پھُوٹ رہے تھے اؤر اُنکا لںڈ پرتیاشِت آنںد سے پھُول رہا تھا۔

وہاں پرگتِ بھی ماسٹرجی سے مِلنے کے لِئے بیقرار ہو رہی تھی۔ اُسکے بھولے بھالے جوان جِسم کو ایک نیا نشا چڑھ گیا تھا۔ جِن اَنُبھوّں کا اُسکے شریر کو اَب تک بودھ نہیں تھا وے اُسکے تن من میں کھلبلی مچا رہے تھے۔ اَچانک اُسے سامانے منورںجن کی چیزوں سے کوئی لگاو ہی نہیں رہا۔ گُڈّے-گُڈِیاں، آںکھ-مِچولی، تاش، اُچھل-کُود وگیرہ جو اَب تک اُسے اَچّھے لگتے تھے، مانو نیرس ہو گئے تھے۔ اُسے اَپنی دیہ میں نئے نئے پرواہوں کی اَنُبھُوتِ ہونے لگی تھی۔ اُسکی اِندرِیاں اُسے چھیڑتی رہتی تھیں اؤر اُسکا من ماسٹرجی کے گھر میں گُزرے کشنوں کو یاد کرتا رہتا۔

وہ اَپنے آپ کو شیشے میں جیادا نِہارنے لگی تھی۔ اُسکے ہاتھ اَپنے یؤون کے پرمان-رُوپی ستنوں اؤر سپرش کی پیاسی یونِ کو سہلانے میں لگے رہتے۔

اُسنے پِچھلے 4-5 دِنوں میں اَپنی چھوٹی بہنوں کو اَچّھے سے پٹا لِیا تھا۔ ماسٹرجی کی مِٹھائی کے آلاوا اُسنے اُنکے لِئے ترہ ترہ کی چیزیں بنا کر دیں اؤر اُنکو اَپنی مرزی کے مُتابِق کھیل-کُود کی آزادی دے دی۔ بدلے میں وہ اُنسے بس اِتنا چاہتی تھی کِ ماسٹرجی کے یہاں اُسکی پڑھائی کی بات وے ماں-باپُو کو ن بتاّیں۔ اُنمیں یہ شڈیںتر ہو گیا کِ ایک دُوسرے کی شِکایت نہیں کریںگے اؤر ماں-باپُو کو کُچھ نہیں بتاّیںگے۔ پرگتِ کھُش ہو گئی۔ اُسکی بھولی بہنوں کو اُسکی اَسلی اِچّھا پتا نہیں تھی۔ ہوتی بھی کیسے۔ّ۔ّ؟ اُنکے شریر کو کِسی نے اَبھی تک پرجولِت جو نہیں کِیا تھا۔ وے اَبھی بہُت چھوٹی تھیں۔

پرگتِ کو ماسٹرجی نے 12 بجے کا سمے دِیا تھا جِسّے وے اُسکے ساتھ آرام سے 4-5 گھںٹے بِتا سکتے تھے۔ آج شنِوار ہونے کے کارن سکُول کی چھُٹّی تھی۔ پرگتِ نے جلدی جلدی گھر کا زرُوری کام نِپٹا دِیا اؤر دوپہر کا کھانا بھی بنا دِیا جِسّے اَںجلِ اؤر چھُٹکی کو اُسکے دیر سے گھر واپس لؤٹنے سے کوئی سمسیا ن ہو۔ 11 بجے تک سب کام پُورا کرکے وہ نہانے گئی اؤر اَچّھی ترہ سے سنان کِیا۔ پھِر تیّار ہو کر بالوں میں چمیلی کے پھُولوں کی وینی لگا کر ٹھیک سمے پر اَپنے گںتوے ستھان کے لِئے روانا ہو گئی۔

اُدھر ماسٹرجی نے پہلے کی ترہ ساری تیّاری کر لی تھی۔ اِس بار، زمین کے بجاے اُنہوںنے اَپنے بِستر پر پربںدھ کِیا تھا۔ وے جانتے تھے کِ پہلی پہلی بار جب کِسی لڑکی کو گھر لاّو تو اُسے بیڈرُوم میں نہیں لے جانا چاہِئے کیوںکِ جیاداتر لڑکِیاں وہاں جانے سے کتراتی ہیں۔ شُرُو شُرُو کی مُلاقات میں لڑکی کو ایسا پرتیت نہیں ہونا چاہِئے کِ تُمہارا اِرادا سمبھوگ کرنے کا ہے۔ یہ بات اَگر وہ جانتی بھی ہو تو بھی پہلا مِلن بیڈرُوم کے باہر ہونا اُسکے لِئے منوّیجنانِک تؤر پر ٹھیک ہوتا ہے۔ وہ اَپنے آپکو سُرکشِت مہسُوس کرتی ہے !!

جب ایک بار شاریرِک سمبندھ ستھاپِت ہو جاّیں پھِر فرک نہیں پڑتا !!

اَب تو پرگتِ کے ساتھ اُنکے سںبںدھوں میں کوئی بھید نہیں رہ گیا تھا۔ اَب وے اُسے نِہسںکوچ اَپنی شیّا پر لے جا سکتے تھے۔ اُنہوںنے ایسا ہی کِیا۔ ساتھ ہی اُنہوںنے ایک کٹوری میں شہد ڈال کر سِرہانے کے پاس چھُپا دِیا۔ ایک چھوٹا تؤلِیا اؤر گُنگُنے پانی کی چھوٹی بالٹی بھی پاس میں رکھ لی۔ اُنکا اِرادا پرگتِ کو ایک نئی پرکرِیا سِکھانے کا تھا۔

پرگتِ ٹھیک سمے پر ماسٹرجی کے گھر پہُںچ گئی اؤر ایک پُوروانُمانِت تریکے سے چُپچاپ پیچھے کے دروازے سے اَندر پرویش کر گئی۔ لُکی چھُپی نزروں سے اُسنے پہلے ہی یکین کر لِیا تھا کِ کوئی اُسے دیکھ ن رہا ہو۔ پہلے کی ترہ باہر کا درواجا تالابںد تھا۔ اَب وے دونوں کامدیو کے اَکھاڑے میں چِںتامُکت اَوستھا میں پرویش کر چُکے تھے۔ دونوں نے ایک دُوسرے کو دیکھ کر ایک راہت کی ساںس لی۔ اُنہیں ڈر تھا کہیں کوئی مُشکِل اُنکے مِلن میں بادھا ن بن جائے۔ اَب تک سب ٹھیک تھا اؤر وے بھگوان کا شُکرِیا اَدا کر رہے تھے۔

دونوں نے بِنا کِسی وارتالاپ کے ایک دُوسرے کو آلِںگن میں لے لِیا اؤر بہُت دیر تک آپسی سپرش کا آنںد اُٹھاتے رہے۔ ماسٹرجی نے بِنا ڈھیل دِئے اَپنے ہوٹوں کو پرگتِ کے ہوٹوں پر رکھ دِیا اؤر پِچھلے پاںچ دِنوں کے وِرہ کا ہرجانا سا لینے لگے۔ پرگتِ بھی ایک شریشٹھ شِشیا کا پرمان دیتے ہُئے اُنکے ہوٹوں کو اَپنی جیبھ سے کھول کر ماسٹرجی کے مُںہ کی جاںچ پرکھ کرنے لگی۔

پرگتِ کی اِس ہرکت نے ماسٹرجی کی سُپت اِندرِیوں کو جکھجھور دِیا اؤر اُنکے شریر کے نِمن ہِسّے میں رکتسںچار کی وردّھِ ہونے لگی۔ اِسکے پھلسورُوپ اُنکے لںڈ میں اُورجا اُتپنن ہُئی اؤر وہ وستر-یُکت ہونے کے باوجُود اَپنے اَستِتو کا پرمان پرگتِ کی جاںگھوں کو دینے لگا۔ پرگتِ کو ماسٹرجی کے لںڈ کی یہ شرارت اَچّھی لگی اؤر اُسنے سوتہ اَپنی جاںگھیں تھوڑی کھول کر اُسکا سواگت کِیا۔

ماسٹرجی کے لںڈ کو پرگتِ کی جاںگھوں کا اَبھِوادن پسںد آیا اؤر اُسنے رِکت ستھان میں اَپنی جگہ بنا لی۔ پرگتِ کو یہ اؤر بھی اَچّھا لگا اؤر اُسنے ماسٹرجی کو کسکر جکڑ لِیا۔ کُچھ دیر ایسے رہنے کے باد دونوں کی پکڑ ڈھیلی ہُئی اؤر وے اَلگ ہو گئے۔

ماسٹرجی نے شاںتِ بھںگ کرتے ہُئے پُوچھا،" کُچھ کھاّوگی ؟ بھُوکھ لگی ہے؟"

پرگتِ،"اَبھی نہیں۔ آپکو؟"

ماسٹرجی،"مُجھے بھی اَبھی نہیں۔ تھوڑی دیر باد دیکھیںگے، ٹھیک ہے ؟"

پرگتِ،"جی، ٹھیک ہے !"

" چلو پھِر یہاں آ جاّو !" کہتے ہُئے ماسٹرجی پرگتِ کو بیڈرُوم میں لے گئے۔

بِستر دیکھ کر پرگتِ کو بھی چین آیا۔ ماسٹرجی نے اُسکے کپڑے اُتارنے شُرُو کِیے اؤر تھوڑی دیر میں اُسے پُورا نِروستر کرکے بِستر پر چِتت لِٹا دِیا۔ اُسکا آدھا شریر بِستر پر اؤر چُوتڑوں سے نیچے کا بھاگ نیچے لٹکا دِیا۔ اِس ترہ اُسکی یونِ بِستر کے کِنارے پر تھی۔

ماسٹرجی نے پاس رکھے چھوٹے تؤلِیے کو گُنگُنے پانی میں بھِگو کر نِچوڑ لِیا اؤر پرگتِ کے ستن، پیٹ اؤر نیچے کے ہِسّے کو اَچّھے سے پوںچھنے لگے۔ ویسے تو پرگتِ نہا کر آئی تھی پر ماسٹرجی اُسکے شریر کو ن کیول ساف کر رہے تھے، وے اُسکی کامُکتا کو بھی اُکسا رہے تھے۔ اُنہوںنے اُسکی یونِ کے آس پاس اؤر اُسکی جاںگھوں کی سپھائی کی اؤر پھِر تؤلِیا سُکھانے کے لِئے کُرسی پر پھیلا دِیا۔

ماسٹرجی نے اَپنے کپڑے بھی اُتار دِئے اؤر پُورن نگن اَوستھا میں پرگتِ کی ٹاںگوں کے بیچ زمین پر بیٹھ گئے۔ اُنہیں نیچے بیٹھتا دیکھ کر پرگتِ ایکدم اُٹھ کر بیٹھ گئی اؤر کھُد بھی نیچے آنے لگی تو ماسٹرجی نے اُسے واپس ویسے ہی لِٹا دِیا۔ اُسکی ٹاںگیں کھول دیں تتھا اُسکو تھوڑا اَپنی ترپھ کھیںچ لِیا جِسّے اُسکی چُوت بِستر سے اَدھر ہو گئی اؤر ماسٹرجی کے مُںہ کی پہُںچ تک آ گئی۔ پرگتِ ایک بار پہلے اَپنی چُوت پر ماسٹرجی کے مُںہ کا اَنُبھو کر چُکی تھی اؤر ایک بار پھِر اُس اَنُبھُوتِ کی اَپیکشا سے اُسکا جِسم اُتّیجِت ہو گیا۔ اُسنے اَپنی آںکھیں مُوںد لیں اؤر ہاتھوں سے ڈھک لیں۔

ماسٹرجی نے اَپنے شریر کے کِسی اؤر ہِسّے کو پرگتِ سے نہیں لگنے دِیا اؤر سیدھے اَپنی جیبھ پرگتِ کی یونِ کے بیچوںبیچ لگا دی۔ پرگتِ کو مانو 11000 وولٹ کا جھٹکا لگا اؤر ہالاںکِ وہ اِسکے لِئے تیّار تھی پھِر بھی زور سے پھُدک گئی اؤر اَپنی ٹاںگیں اُوپر اُٹھا لیں۔ ماسٹرجی نے جیسے تیسے پرگتِ کو نِیںترن میں کِیا اؤر دھیرے دھیرے اُسکی چُوت چاٹنے لگے۔ کبھی اَپنی جیبھ اُسکے یونِدوار کے چاروں ترپھ گھُماتے، کبھی دایّں باّیں کی ہرکت کرتے تو ک
: شگن
(¨`·.·´¨) Always
`·.¸(¨`·.·´¨) Keep Loving &;
(¨`·.·´¨)¸.·´ Keep Smiling !
`·.¸.·´ -- raj sharma

User avatar
rajaarkey
Super member
Posts: 6832
Joined: 10 Oct 2014 10:09
Contact:

Re: گھمسان ​​چدائی

Post by rajaarkey » 02 Apr 2017 19:38

پرگتِ کا اَتیت 4 سے آگے

ماسٹرجی اؤر پرگتِ گُسلکھانے میں گئے اؤر ماسٹرجی نے اُسکو نہلانا شُرُو کِیا۔ بالوں کو گیلا کرکے شیںپُو کِیا اؤر پھِر اُسکے بدن پر سابُن لگا کر اُسکے اَںگ اَںگ کو ملنے لگے۔ ماسٹرجی کے ہاتھوں کو اُسکا سابُن سے سنا ماںسل جِسم بہُت اَچّھا لگ رہا تھا۔ اُنکے ہاتھ پھِسل پھِسل کر اُسکے شریر پر گھُوم رہے تھے اؤر اُسکے ستنوں اؤر چُوتڑوں پر وِشیش دِلچسپی دِکھا رہے تھے۔ اُنہوںنے اُسکو اَپنے باجُو اُوپر اُٹھانے کو کہا اؤر اُسکی کاکھوں اؤر کمر پر سابُن ملنے لگے۔ پھِر اُنہوںنے اُسے گھُما کر اُسکی پیٹھ اَپنی ترپھ کر لی اؤر پیٹھ، چُوتڑ اؤر ٹاںگوں پر ہاتھ چلانے لگے۔

پرگتِ کو مزا آ رہا تھا۔ ماسٹرجی نے نیچے بیٹھ کر اُسکی ٹاںگیں دھونی شُرُو کیں اؤر پھِر سابُن کے ہاتھوں سے یونِ کو وِشُدّھ کرنے لگے۔ پرگتِ کو اَب جیادا گُلگُلی ہونے لگی اؤر اُسنے اَپنی ٹاںگیں بںد کر لیں۔ ماسٹرجی کا ہاتھ اُسکی ٹاںگوں کے بیچ ہی جکڑا گیا۔ وے جکڑی ہُئی ٹاںگوں کے بیچ اَپنی ہتھیلی سہلانے لگے۔ دونوں کو مزا آ رہا تھا۔ ماسٹرجی کا لںڈ اُتسُک ہونے لگا۔ پرگتِ کی یونِ بھی مچلنے لگی !!!!

ماسٹرجی نے پرگتِ کو شاور سے نہلا دِیا اؤر اَب کھُد نہانے لگے۔ پرگتِ نے اُنسے سابُن لے لِیا اؤر اُنکو نہلانے لگی۔ پُورے بدن پر سابُن لگاکر رگڑ کر ساف کرنے لگی پر اُنکے لِںگ کو شرم کے مارے نہیں چھُآ۔ ماسٹرجی ویاکُل ہو گئے اؤر اُسکے ہاتھوں کو اَپنے لِںگ پر لے جاکر چھوڑ دِیا۔ اُنکا لِںگ شِتھِلتا اؤر کڑکپن کے بیچ کی اَوستھا میں تھا۔

یہ وہ اَوستھا ہوتی ہے جِسمیں پُرُش کو لںڈ چُسوانے میں سبسے جیادا مزا آتا ہے کیوںکِ اُسکا پُورا لںڈ آسانی سے لڑکی کے مُںہ میں چلا جاتا ہے۔ لڑکی کو بھی لںڈ کی یہ اَوستھا اَچّھے لگتی ہے کیوںکِ ایک تو مُںہ میں پُورا لے پاتی ہے دُوسرے جب لںڈ اُسکے مُںہ میں بڑا ہونے لگتا ہے تو ایک اَجیب سا خُشی کا اَہساس ہوتا ہے۔ اُسے لگتا ہے مانو وہ اَپنے مُںہ سے لِںگ میں سپھُورتِ اؤر شکتِ ڈال رہی ہے۔ مانو کِسی مُورچھِت اِںسان میں پران ڈال رہی ہو۔ اُسے اَپنی اِس یوگیتا پر ناز ہوتا ہے اؤر وہ اَپنے آپ کو شکتِدایک اؤر جیوندایک سمجھنے لگتی ہے۔

ایک ترہ سے یہ سچ بھی ہے۔ ایک لڑکی (یا اؤرت) کِتنی آسانی سے آدمی میں نِشچے، سںکلپ، شکتِ، ویرتا اؤر پؤرُش جیسے گُنوں کا جنن کر دیتی ہے، وہ اُسکے لِئے پریرنا سروت بن جاتی ہے اؤر اُسکی خ اتِر وہ کوئی بھی مُکام ہاسِل کرنے کو تیّار ہو جاتا ہے اؤر سپھل بھی ہوتا ہے۔ شاید اِسیلِیے ستری کو شکتِ کا رُوپ مانا جاتا ہے۔ آدمی بھلے ہی اَپنا لںڈ کھڑا نا کر سکے، اؤرت اُسکا لںڈ جھٹ سے کھڑا کروا سکتی ہے۔ اِسّے بڑھ کر اؤر کیا شکتِ ہو سکتی ہے۔

کھیر، ماسٹرجی نے لںڈ کو پرگتِ کے مُںہ کی ترپھ پہُںچایا اؤر پرگتِ کو نِہارنے لگے۔ اُنکی آںکھوں سے اَنُرودھ برس رہا تھا۔ پرگتِ سمجھدار تھی اؤر اُسنے آدھے گدرایے ہُئے لںڈ کو مُںہ کے ہوالے کر دِیا۔ ماسٹرجی کا اَدھمرا لںڈ لچیلا، چھوٹا اؤر نرم تھا سو پرگتِ کو پُورا لںڈ مُںہ میں لینے میں کٹھِنائی نہیں ہُئی۔

ماسٹرجی کا لںڈ، جیسے سپیرے کا ناگ ٹوکری میں لوٹا ہوتا ہے، پرگتِ کے مُںہ میں آسین ہو گیا۔ جب پرگتِ نے اُسکو جیبھ سے سہلانا اؤر مسلنا شُرُو کِیا تو جیسے ناگ کی ٹوکری کا ڈھکّن کھول دِیا ہو، ماسٹرجی کا لںڈ اُٹھنے لگا اؤر اَپنے لچیلیپن، چھُٹپن اؤر نمرتا کو چھوڑ کر کٹھور اؤر وِراٹ رُوپ دھارن کرنے لگا۔ پرگتِ کو اُسکے مُںہ میں اَںگڈائی لیتا ہُآ اؤر لِںگ سے لںڈ بنتا ہُآ مردانا اَںگ بہُت اَچّھا لگ رہا تھا۔ اُسنے مُںہ سے اُسے چودنا شُرُو کِیا۔ ماسٹرجی بھی یہی چاہتے تھے۔ نہانے کے باد وے پرگتِ کے ساتھ ایک لمبا سمبھوگ کرنا چاہتے تھے۔ اِسکے لِئے اُنکے لںڈ کا ایک اؤر بار پرموتّیجِت ہونا مدّگار سابِت ہونا تھا۔ ایسا ہونے کے باد اُنکا لںڈ آسانی سے اَگلا وِسپھوٹ نہیں کریگا اؤر وے جِتنی دیر چاہیں پرگتِ کو ترہ ترہ کے آسنوں میں چود سکیںگے۔

یہ سمبھوگ کی اَودھِ بڑھانے کا ایک سرل اُپاے ہے۔ پہلے ایک بار ہست-میتھُن کرکے لاوا اُگل دو اؤر اُسکے باد لںڈ چُسوا کر اُسے کھڑا کرواّو اؤر پھِر سمبھوگ کرو۔ اِسّے مرد کو تین ترہ کا سُکھ (ہست-میتھُن، مُکھ-میتھُن اؤر سمبھوگ) بھی مِلتا ہے اؤر وہ دیر تک چُدائی بھی کر سکتا ہے۔ پرگتِ کی مدد کے تؤر پر اُنہوںنے اُسکے مُںہ میں دھکّم-پیل شُرُو کر دی اؤر تھوڑی ہی دیر میں وے اُسکے مُںہ میں برسنے لگے۔ برسنے سے پہلے اُنہوںنے آخری دھکّا ایسا لگایا کِ اُنکا لںڈ پرگتِ کے کںٹھ میں گہرائی تک چلا گیا۔ اَب تو پرگتِ کو اُنکی اِس کرتُوت کا پُوروانُمان سا تھا۔ جب تک اُنکا لںڈ ہِچکِیاں بھر رہا تھا پرگتِ نے اُسے مُںہ میں ہی پکڑے رکھا اؤر اُسکو پُورا نِچوڑ کر ہی باہر آنے دِیا۔ ماسٹرجی کو پرگتِ پر بہُت مان ہونے لگا تھا۔ اُسکی سیکس پرکرِیاّوں میں نِپُنتا کا سارا شریے وے اَپنے آپ کو دے رہے تھے۔ ماسٹرجی نے ایک بار پھِر پرگتِ پر پانی ڈال کر اُسے تاجا کر دِیا اؤر کھُد بھی نہا لِئے۔

ماسٹرجی اؤر پرگتِ نہانے کے باد باہر آیے تو دونوں کو بھُوکھ لگ رہی تھی۔ ماسٹرجی نے پرگتِ کو اَپنا ایک ساف کُرتا پہنّے کو دے دِیا۔ کُرتا اُسکے لِئے کاپھی ڈھیلا تھا اؤر کندھوں سے نیچے ڈھلک رہا تھا۔ آستین بھی کاپھی بڑی تھیں۔ آستین کو تو اُوپر چڑھا لِیا پر کندھوں سے ڈھلکتا ہُآ کُرتا پہن کر وہ بہُت کامُک لگ رہی تھی۔ گیلے بال اؤر کُرتے کے نیچے نںگی ہونے سے اُسکے آکرشن میں چار چاںد لگ گئے تھے۔ّ۔ّ۔۔

ماسٹرجی نے اُسکو گلے لگا کر پیار کِیا اؤر کھانے کی میز پر لے گئے۔ ماسٹرجی نے سِرپھ لُںگی پہن رکھی تھی۔ دونوں نے کھانا کھایا۔ ماسٹرجی نے ہلکے کھانے کا بںدوبست کِیا تھا جِسّے کھانے کے باد بھاریپن اؤر آلسے ن مہسُوس ہو اؤر وے اَپنے جِسم کی پیاس اَچّھے سے بُجھا سکیں۔ اُنہوںنے پرگتِ کو بھی ہلکا کھانا کھانے کا سُجھاو دِیا اؤر وہ اُنکی بات مان رہی تھی۔ کھانے کے باد دونوں بِستر پر لیٹ گئے اؤر تھوڑی دیر وِشرام کِیا۔ وِشرام کے وقت ماسٹرجی پولے پولے ہاتھوں سے پرگتِ کے پیٹ اؤر پیٹھ کو ناکھُونوں سے کھُرچ رہے تھے۔ وے پرگتِ کو اؤر اَپنے آپکو تھوڑا بہُت اُتّیجِت ہی رکھنا چاہتے تھے۔

کُرتے کے اُوپر سے ماسٹرجی کی نُکیلی اُںگلِیاں اُسکے بدن میں سرسراہٹ پیدا کر رہی تھیں۔ اُسے بڑا اَچّھا لگ رہا تھا۔ اُسنے بھی ماسٹرجی کے بدن پر ہاتھ چلانے شُرُو کر دِئے۔ ماسٹرجی پیار سے اُسکے بالوں میں ہاتھ پھیرنے لگے اؤر بِلکُل ہلکے ہاتھ اُسکے وکش پر چلانے لگے۔ دھیرے دھیرے کُرتے میں سے پرگتِ کا بدن اُگھڑنے لگا اؤر کُرتا اُسکی گردن کے پاس اِکٹھٹھا ہو گیا۔ نیچے سے تو ویسے ہی نںگی تھی۔

ماسٹرجی نے اُسے سیدھا لِٹا دِیا۔ اُسکی ٹاںگیں تھوڑی کھول دیں اؤر گھُٹنے اُٹھا کر موڑ دِئے۔ اُسکے سِر کے نیچے سے تکِیا ہٹا کر اُسکو بِستر پر سپاٹ کر دِیا۔ اَب وہ بِستر پر لیٹی ہُئی چھت کو دیکھ رہی تھی۔ ماسٹرجی نے لُںگی اُتاری اؤر اَپنے آپکو چودنے کی ہالت میں لے آیے۔ اُنکا لںڈ اَبھی شِتھِل ہی تھا۔ پر اُنہوںنے اُس لٹکے ہُئے لِںگ کے ساتھ ہی پرگتِ کی چُوت کے دوار کے اُوپر اؤر اُسکے اِرد گِرد اَپنا سُپاڑا گھُمانے لگے۔ اَپنا وزن اَپنے ہاتھوں پر رکھا ہُآ تھا، اُنکا مُںہ پرگتِ کے ممّوں کے اُوپر اؤر اُنکا نِچلا ہِسّا دںڈ لگانے کی ہالت میں اِس ترہ تھا کِ وے لںڈ سے نابھِ سے لیکر جاںگھوں تک چھُو سکتے تھے۔

اِس اَوستھا میں لںڈ اُسکے نِچلے بھاگ سے رگڑ رہے تھے اؤر مُںہ سے ممّوں کو ایک-ایک کرکے چُوس رہے تھے۔ تھوڑی دیر باد اُنہوںنے اَپنے گھُٹنے بِستر پر ٹِکا دِئے اؤر ہاتھوں اؤر گھُٹنوں کے بل آگے بڑھتے ہُئے اَپنے اُبھرتے لِںگ کو ممّوں کے بیچ میں لگا دِیا۔ پھِر اَپنے ہاتھوں سے دونوں ممّوں کا لِںگ کے دونوں ترپھ جوڑ دِیا۔ اَب اُنکا لِںگ ممّوں کے بیچ میں تھا اؤر اُنہوںنے ممّوں کو چودنے جیسی ہرکت شُرُو کی۔ راستے میں کُرتے کی رُکاوٹ ہو رہی تھی سو ماسٹرجی نے اُسکا سِر اُٹھاکر کُرتا گلے میں سے نِکال دِیا۔ اَب وہ پُوری نںگی تھی۔

آگے جاتے وقت اُنکا سُپاڑا پرگتِ کی ٹھوڑی تک جاتا۔ ماسٹرجی کے لؤڑے میں گرمائیش آ رہی تھی اؤر وہ سُوجنے لگ رہا تھا۔ اُنہوںنے اَپنے آپ کو تھوڑا اؤر اُوپر سرکایا جِسّے آگے جاتے وقت اَب اُنکا لںڈ پرگتِ کے ہوٹوں تک پہُںچ رہا تھا۔ پر کیوںکِ پرگتِ کا سِر سیدھا تھا وہ اُسے مُںہ میں نہیں لے پا رہی تھی۔ اُسنے پاس رکھے تکِیے کو سِر کے نیچے رکھ لِیا اؤر اَگلی بار جب لںڈ آگے کو آیا پرگتِ کے مُںہ نے سُپاڑے کو پکڑ لِیا۔ پرگتِ ایسے مُسکرائی جیسے کوئی کھیل جیت لِیا ہو۔ ماسٹرجی نے جب پیچھے کی ترپھ لںڈ کھیںچا تو پرگتِ نے آسانی سے جانے نہیں دِیا۔ ماسٹرجی کو یہ کھیل پسںد آیا۔

مردوں کو سیکس کے دؤران اَگر کوئی بات اَچّھی لگتی ہے تو اُسکا سیدھا اَسر اُنکے لںڈ پر پڑتا ہے اؤر وہ اؤر کڑک ہو جاتا ہے۔ ایسا ہی ماسٹرجی کے ساتھ بھی ہُآ۔ اُنکا لںڈ اَب سمبھوگ کے لِئے تیّار ہو گیا۔

ماسٹرجی نے نیچے سرک کر لںڈ کو یونِ مُکھ پر رکھا اؤر اَندر کی ترپھ دبانے لگے۔ ہالاںکِ پرگتِ کی چُوت سمبھوگ کی آکاںکشا میں بھیگی ہُئی تھی پھِر بھی اَبھی وہ سمبھوگ کے لِئے نئی سی ہی تھی، اَتہ لِںگ پرویش آسان نہیں تھا۔ ماسٹرجی دھیرے دھیرے جور لگاتے رہے اؤر چھوٹے چھوٹے دھکّے مارتے رہے۔ پرگتِ بھی اُنکا ساتھ دے رہی تھی اؤر لِںگ پرویش کے لِئے آتُر تھی۔ اُن دونوں کا سںیُکت پریاس کام آیا اؤر دھیرے دھیرے لںڈ اَندر بڑھتا گیا۔

کُچھ دیر میں پُورا لںڈ اَندر باہر ہونے لگا۔ ماسٹرجی کو پرگتِ کی سںکری پر چِکنائی-یُکت چُوت چودنے میں بڑا مزا آ رہا تھا۔ اُنکے لںڈ کی چھڑ کو اَچّھا گھرشن مِل رہا تھا اؤر لںڈ کے ہر ہِسّے کو چُوت کی دیواروں سے نرم رگڑ مِل رہی تھی۔ جب لںڈ باہر آتا تو چُوت مانو بںد ہو جاتی جب اَندر جاتا تو ہر بار ایسا لگتا جیسے کوئی وِگھن پار کرکے پرویش کر رہا ہے۔ اِس اَتِرِکت گھِساو سے میتھُن سُکھ میں وردّھِ ہو رہی تھی۔ ماسٹرجی نے کُچھ دیر چودنے کے باد ایک بار لںڈ پُورا اَندر کر دِیا اؤر جھُک کر پرگتِ کی پیٹھے کے نیچے ہاتھ رکھ کر اُسے اُٹھا کر بِٹھا لِیا اؤر کھُد اَپنے ٹاںگیں موڑ کر پیچھے ہو کر پیٹھ کے بل لیٹ گئے۔

اَب پرگتِ اُنکے اُوپر بیٹھی ہُئی تھی، لںڈ اُسکے اَندر تھا اؤر اُسکے گھُٹنے بِستر پر ٹِکے ہُئے تھے۔ ماسٹرجی کے سںکیت دیکھتے ہُئے اُسنے اَپنے کُولہے اُوپر نیچے کرکے چُدوانا شُرُو کر دِیا۔ اُسے ایسا لگ رہا تھا مانو وہ چُدوا نہیں رہی بلکِ ماسٹرجی کو چود رہی ہو !! وہ اَپنی گتِ سے اؤر جِتنا من کر رہا تھا اُتنا اُوپر نیچے ہو رہی تھی۔ ستھِتِ اُسکے نِیںترن میں تھی اؤر یہ سنچالن اُسے اَچّھا لگ رہا تھا۔

جب تھوڑا تھک گئی تو گھُٹنے اُوپر کرکے اَپنے پاںو کے تلوے بِستر پر ٹِکا دِئے اؤر اُنکے سہارے اُٹھٹھک-بیٹھک کرنے لگی۔ ماسٹرجی کا تنا لںڈ جب اَندر جاتا تو اُسے اَپنے شریر میں پرِپُورنتا مہسُوس ہوتی۔ جب باہر آتا تو اَپنے آپ کو اَدھُوری مہسُوس کرتی۔ ماسٹرجی نے اُسکی پیٹھ کے پیچھے ہاتھ رکھ کر اُسے اَپنے سینے کی ترپھ کھیںچ لِیا جِسّے اُسکے ستن اؤر جُلپھیں اُنکے سینے کو رِجھانے اؤر گُدگُدانے لگے۔ پرگتِ کی گھُڑسواری جاری تھی۔ پرگتِ جوش میں آ رہی تھی اؤر اُسنے اَپنی گتِ اؤر اُچھال دونوں بڈھا دیں۔ کئی بار ایسے میں لںڈ مُڑ سکتا ہے اؤر اُسے چوٹ بھی آ سکتی ہے۔ اِس بات کا دھیان رکھتے ہُئے اُنہوںنے پرگتِ کو رفتار دھیمے کرنا کا اِشارا کِیا اؤر تھوڑی دیر باد رُکنے کو کہا۔
(¨`·.·´¨) Always
`·.¸(¨`·.·´¨) Keep Loving &;
(¨`·.·´¨)¸.·´ Keep Smiling !
`·.¸.·´ -- raj sharma

Post Reply