آشا کا بلاتکار

Post Reply
User avatar
rajaarkey
Super member
Posts: 6844
Joined: 10 Oct 2014 10:09
Contact:

آشا کا بلاتکار

Post by rajaarkey » 25 Oct 2017 17:41

آشا کا بلاتکار



آشا کی آںکھے فٹی پڑ رہی تھی۔ گھُو گھُو کی آواجیں نِکل رہی تھی۔ اُسنے اَپنے ہاتھوں سے جور لگا کر میرا ہاتھ اَپنے مُہ سے ہٹا لِیا۔ اؤر جور سے رو پڈی… اُسکی آںکھو سے آںسُو نِکل رہے تھے… چُوت سے کھُون ٹپکنے لگا تھا۔"بابُوجی … چھوڈ دو مُجھے… مت کرو یے……" اُسنے وِنتی بھرے سور میں روتے ہُیے کہا۔ پر لنڈ اَپنا کام کر چُکا تھا۔"بس…بس… اَبھی سب ٹھیک ہو جایّگا… رو مت…" مینے اُسے پیار سے سمجھایا۔"نہیں بس… چھوڑ دو اَب … میں تو برباد ہو گیی دیدی… آپنے یے کیا کر دِیا…" وو نیچے دبی ہُیی چھٹپٹاتی رہی۔ ہم دونوں نے مِلکر اُسے دبوچ لِیا۔ دبی چیکھیں اُسکے مُہ سے نِکلتی رہی۔ سُنیل نے لنڈ کو دھیرے دھیرے سے اَندر باہر کرنا شُرُ کر دِیا۔"ساب…چھوڑ دو نا … میں تو برباد ہو گیی…… ہاऽऽऽے…" وو رو رو کر… وِنتی کرتی رہی۔ سُنیل نے اَب اُسکی چُوںچِیاں بھی بھیںچ لی۔ وو ہاے ہاے کرکے روتی رہی …نیچے سے اَپنے بدن کو چھٹپٹاکر کر ہِلاتی کر نِکلنے کی کوشِش کرتی رہی۔ لیکِن وو سُنیل کے شریر اؤر ہاتھوں میں بُری ترہ سے دبی تھی۔ اَنتت: اُسنے کوشِش چھوڈ دی اؤر نِڈھال ہو کر روتی رہی۔سُنیل نے اَپنی چُدائی اَب تیج کر دی … اُسکا کُںواراپن دیکھ کر سُنیل اؤر بھی اُتّیجِت ہوتا جا رہا تھا۔ دھکّے تیجی پر آ گیے تھے۔ کُچھ ہی دیر میں آشا کا رونا بند ہو گیا … اؤر اَندر ہی اَندر شاید اُسے مستی چڈھنے لگی… "ہاے میں لُٹ گیی… میری اِزّت چلی گیی…۔" بس آںکھے بند کرکے یہی بولتی جا رہی تھی… نیچے تکِیا کھُون سے سن گیا تھا۔ اَب سُنیل نے اُسکی چُوںچِیاں پھِر سے پکڈ لی اؤر اُنہے دبا دبا کر چودنے لگا۔ آشا اَب چُپ ہو گیی تھی… شاید وو سمجھ چُکی تھی کِ اُسکی جھِلّی فٹ چُکی ہے اؤر اَب بچنے کا بھی کوئی راستا نہی ہے۔ پر اَب اُسکے چیہرے سے لگ لگ رہا تھا کِ اُسے مجا آ رہا ہے۔ مینے بھی چین کی ساںس لی…۔مینے دیکھا کِ سُنیل کا لنڈ کھُون سے لال ہو چُکا تھا۔ اُسکی کُںواری چُوت پہلی بار چُد رہی تھی۔ اُسکی ٹائیٹ چُوت کا اَسر یے ہُآ کِ سُنیل جلدی ہی چرمسیما پر پہُںچ گیا۔ اَچانک نیچے سے آشا کی سِسکاری نِکل پڈی اؤر وو جھڑنے لگی۔ سُنیل کو لگا کِ آشا کو اَنتت: مجا آنے لگا تھا اؤر وو اُسی کارن وو جھڑ گیی تھی۔اَب سُنیل نے اَپنا لنڈ باہر نِکال لِیا اؤر اَپنی پِچکاری چھوڈ دی۔ سارا ویرے آشا کے چُوتڈوں پر فیلنے لگا۔ مینے جلدی سے سارا ویرے آشا کی چُوتڈوں پر فیلا دِیا۔ سُنیل اَب شانت ہو چُکا تھا۔سُنیل بِستر سے نیچے اُتر آیا۔ آشا کو بھی چُدنے کے باد اَب ہوش آیا… وو ویسی ہی لیٹی ہُئی اَب رونے لگی تھی۔"بس اَب تو ہو گیا … چُپ ہو جا…دیکھ تیری اِچّھا بھی تو پُوری ہو گیی نا…""دیدی… آپنے میرے ساتھ اَچّھا نہیں کِیا… میں اَب کل سے کام پر نہیں آاُوںگی…" وو اُٹھتے ہُیے روتی ہُئی بولی… اُسنے اَپنے کپڈے اُٹھایے اؤر پہنّے لگی… سُنیل بھی کپڈے پہن چُکا تھا۔ مینے سُنیل کو تُرنت اِشارا کِیا … وو سمجھ چُکا تھا… جیسے ہی آشا جانے کو مُڈی مینے اُسے روک لِیا…"سُنو آشا… سُنیل کیا کہ رہا ہے……" "آشا … مُجھے ماف کر دو … دیکھو مُجھسے رہا نہی گیا تُمہے اُس ہالت میں دیکھ کر… پلیج…""نہیں… نہیں ساب… آپنے تو مُجھے برباد کر دِیا ہے … میں آپکو کبھی ماف نہیں کرُوںگی…" اُسکا چیہرا آںسُاوں سے تر تھا۔سُنیل نے اَپنی جیب سے سؤ سؤ کے دو نوٹ نِکال کر اُسے دِیے…پر اُسنے دیکھ کر مُہ فیر لِیا… اُسنے پھِر اؤر سؤ سؤ کے پاںچ نوٹ نِکال دِیے… اُسکی آںکھو میں ایکبارگی چمک آ گیی… مینے تُرنت اُسے پہچان لِیا۔ مینے سُنیل کے ہاتھ سے نوٹ لِیے اؤر اَپنے پرس سے سؤ سؤ کے کُل ایک ہزار رُپیے نِکال کر اُسکے ہاتھ میں پکڑا دِیے۔ اُسکا چیہرا کھِل اُٹھا۔"دیکھ … یے ساب نے گلتی کی یے اُسکا ہرزانا ہے… ہاں اَگر ساب سے اؤر گلتی کروانا ہو تو اِتنے ہی نوٹ اؤر مِلیںگے…""دیدی … میں آپکی آج سے بہن ہُوں… مُجھے پیسوں کی جرُورت کِسے نہیں ہوتی ہے…" مینے اُسے آشا کو گلے لگا لِیا… "آشا …… ماف کر دینا… تُو سچ میں آج سے میری بہن ہے… تیری اِچّھا ہو … تبھی یے کرنا…" آشا کھُش ہو کر جانے لگی… درواجے سے اُسنے ایک بار پھِر مُڑ کر دیکھا … پھِر بھاگ کر آیی … اؤر میرے سے لِپٹ گیی… اؤر میرے کان میں کہا، "دیدی… ساب سے کہنا … دھنیواد…"" اَب ساب نہیں ! جیجاجی بول ! اؤر دھنیواد کِس لِیے …… پیسوں کے لِیے …"" نہیں … میری چُدائی کے لِیے…"وو مُڑی اؤر باہر بھاگ گیی…… میں اُسے دیکھتی رہ گیی… تو کیا یے سب کھیل کھیل رہی تھی۔ میری نجر جیوںہی میز پر پڑی تو دیکھا کِ سارے نوٹ وہیں پڑے ہُئے تھے … سُنیل اَسمںجس میں تھا…ّآسام کی ہری بھری وادِیاں اؤر جوان دِلوں کا سںگم… کِسکو لُبھا نہیں لیگا۔ ایسے ہی آسام کی ہری بھری جگہ پر میرے پتِ کا پدستھاپن ہُآ۔ ہم دونوں ایسی جگہ پر بہُت کھُش تھے۔ ہمے کمپنی کی ترف سے کوئی گھر نہیں مِلا تھا، اِسلِیے ہمنے تھوڑی ہی دُور پر ایک مکان کِرایے پر لے لِیا تھا… اُسکا کِرایا ہمیں کمپنی کی ترف سے ہی مِلتا تھا۔ میرے پتِ سُنیل کی ڈیُوٹی شِفٹ میں لگتی تھی۔ گھر میں کام کرنے کے لِیے ہمنے ایک نؤکرانی رکھ لی تھی۔ اُسکا نام آشا تھا۔ اُسکی اُمر لگبھگ 20 سال ہوگی۔ بھرپُور جوان، سُندر، سیکسی فِگر… بدن پر جوانی کی لُنائی … چِکناپن … جھلکتا تھا۔سُنیل تو پہلے دِن سے ہی اُس پر فِدا تھا۔ مُجھسے اَکسر وو اُسکی تاریف کرتا رہتا تھا۔ میں اُسکے دِل کی بات اَچّھی ترہ سمجھتی تھی۔ سُنیل کی نجریں اَکسر اُسکے بدن کا مُآینا کرتی رہتی تھی… شاید اَندر تک کا اَہساس کرتی تھی۔ میں بھی اُسکی جوانی دیکھ کر چکِت تھی۔ اُسکے اُبھار چھوٹے چھوٹے پر نُکیلے تھے۔ اُسکے ہوٹھں پتلے لیکِن فُول کی پنکھُڈِیوں جیسے تھے۔ایک دِن سُنیل نے رات کو چُدائی کے سمے مُجھے اَپنے دِل کی بات بتا ہی دی۔ اُسنے کہا -"نیہا… آشا کِتنی سیکسی ہے نا…""ہں آ… ہاں… ہے تو …… جوان لڈکِیاں تو سیکسی ہوتی ہی ہے…" میں اُسکا متلب سمجھ رہی تھی۔"اُسکا بدن دیکھا … اُسے دیکھ کر تو۔ّ۔ یار من مچل جاتا ہے……" سُنیل نے کُچھ اَپنا متلب سادھتے ہُئے کہا۔"اَچّھا جی… بتا بھی دو جانُو… جی کیا کرتا ہے……" میں ہںس پڑی… مُجھے پتا تھا وو کیا کہیگا…"سُنو نیہا … اُسے پٹاّو نا … اُسے چودنے کا من کرتا ہے…""ہاے… نؤکرانی کو چودوگے … پر ہاں …وو چیز تو چودنے جیسی تو ہے…""تو بولو … میری مدد کروگی نا …""چلو یار …تُم بھی کیا یاد کروگے … کل سے ہی اُسے پانی پانی کرتی ہُوں……"پھِر مے سوچ میں پڑ گیی کِ کیا تریکا نِکالا جایے۔ سیکس تو سبھی کی کمجوری ہوتی ہی ہے۔ مُجھے ایک ترکیب سمجھ میں آیّ۔دُوسرے دِن آشا کے آنے کا سمے ہو رہا تھا…… مینے اَپنے ٹیوی پر ایک بلیُو ہِندی فِلم لگا دی۔ اُس فِلم میں چُدائی کے ساتھ ہِندی ڈایلوگ بھی تھے۔ آشا کمرے میں سفائی کرنے آیی تو مے باتھرُوم میں چلی گیّ۔ سفائی کرنے کے لِیے جیسے ہی وو کمرے کے اَندر آیی تو اُسکی نجر ٹیوی پر پڈی… چُدائی کے سین دیکھ کر وو کھڈی رہ گیّ۔ اؤر سین دیکھتی رہی۔میں باتھرُوم سے سب دیکھ رہی تھی۔ اُسے میرا ویڈِیو پلیّر نجر نہیں آیا کیوںکِ وہ لکڈی کے کیس میں تھا۔ وو دھیرے سے بِستر پر بیٹھ گیّ۔ اُسے پِکچر دیکھ کر مجا آنے لگ گیا تھا۔ چُوت میں لنڈ جاتا دیکھ کر اُسے اؤر بھی اَدھِک مجا آ رہا تھا۔ دھیرے دھیرے اُسکا ہاتھ اَب اُسکے ستنو پر آ گیا تھا۔۔ وہ گرم ہو رہی تھی۔ میری ترکیب سٹیک بیٹھی۔ مینے مؤکا اُچِت سمجھا اؤر بتھرُوم سے باہر آ گیی… "اَرے… ٹیوی پر یے کیا آنے لگا ہے…""دیدی… ساب تو ہے نہیں…چلنے دو نا…اَپن ہی تو ہے…""اَرے نہیں آشا… اِسے دیکھ کر دِل میں کُچھ ہونے لگتا ہے…" میں مُسکرا کر بولیمینے چینل بدل دِیا… آشا کے دِل میں ہلچل مچ گیی تھی … اُسکے جوان جِسم میں واسنا نے جنم لے لِیا تھا۔"دیدی… یے کِس چینل سے آتا ہے …"اُسکی اُتسُکتا بڈھ رہی تھی۔"اَرے تُجھے دیکھنا ہے نا تو دِن کو فری ہو کر آنا … پھِر اَپن دونو دیکھیںگے… ٹھیک ہے نا…""ہاں دیدی…تُم کِتنی اَچّھی ہو…" اُسنے مُجھے جوش میں آکر پیار کر لِیا۔ میں روماںچِت ہو اُٹھی… آج اُسکے چُمبن میں سیکس تھا۔ اُسنے اَپنا کام جلدی سے نِپٹا لِیا… اؤر چلی گیّ۔ تیر نِشانے پر لگ چُکا تھا۔کریب دِن کو ایک بجے آشا واپس آ گیّ۔ مینے اُسے پیار سے بِستر پر بیٹھایا اؤر نیچے سے کیس کھول کر پلیّر میں سیڈی لگا دی اؤر میں بھی بِستر پر بیٹھ گیّ۔ یے دُوسری فِلم تھی۔ فِلم شُرُو ہو چُکی تھی۔ میں آشا کے چیہرے کا رںگ بدلتے دیکھ رہی تھی۔ اُسکی آںکھو میں واسنا کے ڈورے آ رہے تھے۔ مینے تھوڈا اؤر اِنتجار کِیا… چُدائی کے سین چل رہے تھے۔میرے شریر میں بھی واسنا جاگ اُٹھی تھی۔ آشا کا بدن بھی رہ رہ کر سِہر اُٹھتا تھا۔ مینے اَب دھیرے سے اُسکی پیٹھ پر ہاتھ رکھا۔ اُسکی دھڈکنے تک مہسُوس ہو رہی تھی۔ مینے اُسکی پیٹھ سہلانی چالُو کر دی۔ مینے اُسے ہلکے سے اَپنی اور کھیںچنے کی کوشِش کی… تو وو میرے سے سٹ گیّ۔ اُسکا کسا ہُآ بدن…اُسکی بدن کی کھُشبُو… مُجھے مہسُوس ہونے لگی تھی۔ ٹیوی پر شاندار چُدائی کا سین چل رہا تھا۔ آشا کا پلُّو اُسکے سینے سے نیچے گِر چُکا تھا… مینے دھیرے سے اُسکے ستنوں پر ہاتھ رکھ دِیا… اُسنے میرا ہاتھ ستنوں کے اُوپر ہی دبا دِیا۔ اؤر سِسک پڈی۔"آشا… کیسا لگ رہا ہے…""دیدی… بہُت ہی اَچّھا لگ رہا ہے…کِتنا مجا آ رہا ہے…" کہتے ہُئے اُسنے میری ترف دیکھا … مینے اُسکی چُوںچِیاں سہلانی شُرُو کر دی… اُسنے میرا ہاتھ پکڈ لِیا…"بس دیدی… اَب نہیں …""اَرے مجے لے لے … ایسے مؤکے بار بار نہیں آتے……" مینے اُسکے تھرتھراتے ہوںٹھوں پر اَپنے ہوںٹھ رکھ دِیے… آشا اُتّیجنا سے بھری ہُیی تھی۔ آشا نے میرے ستنوں کو اَپنے ہاتھوں میں بھر لِیا اؤر دھیرے دھیرے دبانے لگی۔ مینے اُسکا لہںگا اُوپر اُٹھا دِیا… اؤر اُسکی چِکنی جاںگھوں پر ہاتھ سے سہلانے لگی… اَب میرے ہاتھ اُسکی چُوت پر آ چُکے تھے۔ چُوت چِکنائی اؤر پانی چھوڈ رہی تھی۔ میرے ہاتھ لگاتے ہی آشا میرے سے لِپٹ گیّ۔ مُجھے لگا میرا کام ہو گیا۔ "دیدی… ہاے… نہیں کرو نا … ماں…ری… کیسا لگ رہا ہے…"مینے اُسکی چُوت کے دانے کو ہلکے ہلکے سے ہِلانے لگی…۔ وو نیچے جھُکتی جا رہی تھی… اُسکی آںکھے نشے میں بند ہو رہی تھی۔اُدھر سُنیل لنچ پر آ چُکا تھا۔ اُسنے اَندر کمرے میں جھاںک کر دیکھا۔ مینے اُسے اِشارا کِیا کِ اَبھی رُکو۔ مینے آشا کو اؤر اُتّیجِت کرنے کے لِیے اُسّے کہا - "آشا … آ میں تیرا بدن سہلا دُوں…… کپڑے اُتار دے …""دیدی … اُوپر سے ہی میر بدن دبا دو نا…" وو بِستر پر لیٹ گیّ۔ میں اُسکے اُبھاروں کو دباتی رہی…اُسکی سِسکِیاں بڈھتی رہی… مینے اَب اُسکی اُتّیجنا دیکھ کر اُسکا بلاُّوج اُتار دِیا… اُسنے کُچھ نہیں کہا… مینے بھی یہ دیکھ کر اَپنے کپڈے تُرنت اُتار دِیے۔ اَب میں اُسکی چُوت پر اَپنی اُںگلی سے دبا کر سہلانے لگی… اؤر دھیرے سے ایک اُںگلی اُسکی چُوت میں ڈال دی۔ اُسکے مُکھ سے آنّد کی سِسکاری نِکل پڑی…"آشا … ہاے کِتنا مجا آ رہا ہے… ہے نا…""ہاں دیدی… ہاے رے… میں مر گیی…""لنڈ سے چُدوگی آشا… مجا آیّگا…""کیسے دیدی … لنڈ کہاں سے لاّوگی…""کہو تو سُنیل کو بُلا دُوں … تُمہے چود کر مست کر دیگا"ّنہیں …نہیں … ساب سے نہیں …""اَچّھا اُلٹی لیٹ جاّو … اَب پیچھے سے تُمہارے چُوتڑ بھی مسل دُوں…"وو اُلٹی لیٹ گیّ۔ مینے اُسکی چُوت کے نیچے تکِیا لگا دِیا۔ اؤر اُسکی گانڈ اُوپر کر دی۔ اَب مینے اُسکے دونو پیر چؤڑا دِیے اؤر اُسکے گانڈ کے چھید پر اؤر اُسکے آس پاس سہلانے لگی۔ وو آنّد سے سِسکارِیاں بھرنے لگی۔سُنیل درواجے کے پاس کھڈا ہُآ سب دیکھ رہا تھا۔ اُسنے اَپنے کپڑے بھی اُتار لِیے۔ یے سب کُچھ دیکھ کر سُنیل کا لنڈ ٹائیٹ ہو چُکا تھا۔ اُسنے اَپنا لنڈ پر اُںگلِیوں سے چمڑی کو اُوپر نیچے کرنے لگا۔ میں آشا کی گانڈ اؤر چُوتڈوں کو پیار سے سہلا رہی تھی۔ اُسکی اُتّیجنا بہُت بڈھ چُکی تھی۔ مینے سُنیل کو اِشارا کر دِیا… کِ لوہا گرم ہے…… آ جاّو…۔سُنیل دبے پاںو اَندر آ گیا۔ مینے اِشارا کِیا کِ اَب چود ڈالو اِسے۔ اُسکے فیلے ہُیے پاںو اؤر کھُلی ہُیی چُوت سُنیل کو نجر آ رہی تھی۔ یے دیکھ کر اُسکا لنڈ اؤر بھی تنّانے لگا ۔ سُنیل اُسکی پیروں کے بیچ میں آ گیا۔ میں آشا کے پیچھے آ گیی… سُنیل نے آشا کے چُوتڈوں کے پاس آکر لنڈ کو اُسکی چُوت پر رکھ دِیا۔ آشا کو تُرنت ہی ہوش آیا…پر تب تک دیر ہو چُکی تھی۔ سُنیل نے اُس کابُو پا لِیا تھا۔ وو اُسکے چُوتڈوں سے نیچے لنڈ چُوت پر اَڑا چُکا تھا۔ اُسکے ہاتھوں اؤر شریر کو اَپنے ہاتھوں میں کس چُکا تھا۔آشا چیکھ اُٹھی…پر تب تک سُنیل کا ہاتھ اُسکا مُںہ دبا چُکا تھا۔ مینے تُرنت ہی سُنیل کا لنڈ کا نِشانا اُسکی چُوت پر سادھ دِیا۔ سُنیل ہرکت میں آ گیا۔اُسکا لنڈ چُوت کو چیرتا ہُآ اَندر گھُس گیا۔ چُوت گیلی تھی…چِکنی تھی پر اَبھی تک چُدی نہیں تھی۔ دُوسرے ہی دھکّے میں لنڈ گہرائی میں اُترتا چلا گیا۔ آشا کی آںکھے فٹی پڑ رہی تھی۔ گھُو گھُو کی آواجیں نِکل رہی تھی۔ اُسنے اَپنے ہاتھوں سے جور لگا کر میرا ہاتھ اَپنے مُہ سے ہٹا لِیا۔ اؤر جور سے رو پڈی… اُسکی آںکھو سے آںسُو نِکل رہے تھے… چُوت سے کھُون ٹپکنے لگا تھا۔"بابُوجی … چھوڈ دو مُجھے… مت کرو یے……" اُسنے وِنتی بھرے سور میں روتے ہُیے کہا۔ پر لنڈ اَپنا کام کر چُکا تھا۔"بس…بس… اَبھی سب ٹھیک ہو جایّگا… رو مت…" مینے اُسے پیار سے سمجھایا۔"نہیں بس… چھوڑ دو اَب … میں تو برباد ہو گیی دیدی… آپنے یے کیا کر دِیا…" وو نیچے دبی ہُیی چھٹپٹاتی رہی۔ ہم دونوں نے مِلکر اُسے دبوچ لِیا۔ دبی چیکھیں اُسکے مُہ سے نِکلتی رہی۔ سُنیل نے لنڈ کو دھیرے دھیرے سے اَندر باہر کرنا شُرُ کر دِیا۔"ساب…چھوڑ دو نا … میں تو برباد ہو گیی…… ہاऽऽऽے…" وو رو رو کر… وِنتی کرتی رہی۔ سُنیل نے اَب اُسکی چُوںچِیاں بھی بھیںچ لی۔ وو ہاے ہاے کرکے روتی رہی …نیچے سے اَپنے بدن کو چھٹپٹاکر کر ہِلاتی کر نِکلنے کی کوشِش کرتی رہی۔ لیکِن وو سُنیل کے شریر اؤر ہاتھوں میں بُری ترہ سے دبی تھی۔ اَنتت: اُسنے کوشِش چھوڈ دی اؤر نِڈھال ہو کر روتی رہی۔سُنیل نے اَپنی چُدائی اَب تیج کر دی … اُسکا کُںواراپن دیکھ کر سُنیل اؤر بھی اُتّیجِت ہوتا جا رہا تھا۔ دھکّے تیجی پر آ گیے تھے۔ کُچھ ہی دیر میں آشا کا رونا بند ہو گیا … اؤر اَندر ہی اَندر شاید اُسے مستی چڈھنے لگی…

؟؟؟ ؟؟ ؟؟ّ؟ّ؟ّ؟ --1 <http://sexikahani۔blogspot۔com/2009/03/1_05۔html>
آشا کا بلاتکار --1

آسام کی ہری بھری وادِیاں اؤر جوان دِلوں کا سںگم… کِسکو لُبھا نہیں لیگا۔ ایسے ہی آسام کی ہری بھری جگہ پر میرے پتِ کا پدستھاپن ہُآ۔ ہم دونوں ایسی جگہ پر بہُت کھُش تھے۔ ہمے کمپنی کی ترف سے کوئی گھر نہیں مِلا تھا، اِسلِیے ہمنے تھوڑی ہی دُور پر ایک مکان کِرایے پر لے لِیا تھا… اُسکا کِرایا ہمیں کمپنی کی ترف سے ہی مِلتا تھا۔ میرے پتِ سُنیل کی ڈیُوٹی شِفٹ میں لگتی تھی۔ گھر میں کام کرنے کے لِیے ہمنے ایک نؤکرانی رکھ لی تھی۔ اُسکا نام آشا تھا۔ اُسکی اُمر لگبھگ 20 سال ہوگی۔ بھرپُور جوان، سُندر، سیکسی فِگر… بدن پر جوانی کی لُنائی … چِکناپن … جھلکتا تھا۔سُنیل تو پہلے دِن سے ہی اُس پر فِدا تھا۔ مُجھسے اَکسر وو اُسکی تاریف کرتا رہتا تھا۔ میں اُسکے دِل کی بات اَچّھی ترہ سمجھتی تھی۔ سُنیل کی نجریں اَکسر اُسکے بدن کا مُآینا کرتی رہتی تھی… شاید اَندر تک کا اَہساس کرتی تھی۔ میں بھی اُسکی جوانی دیکھ کر چکِت تھی۔ اُسکے اُبھار چھوٹے چھوٹے پر نُکیلے تھے۔ اُسکے ہوٹھں پتلے لیکِن فُول کی پنکھُڈِیوں جیسے تھے۔ایک دِن سُنیل نے رات کو چُدائی کے سمے مُجھے اَپنے دِل کی بات بتا ہی دی۔ اُسنے کہا -"نیہا… آشا کِتنی سیکسی ہے نا…""ہں آ… ہاں… ہے تو …… جوان لڈکِیاں تو سیکسی ہوتی ہی ہے…" میں اُسکا متلب سمجھ رہی تھی۔"اُسکا بدن دیکھا … اُسے دیکھ کر تو۔ّ۔ یار من مچل جاتا ہے……" سُنیل نے کُچھ اَپنا متلب سادھتے ہُئے کہا۔"اَچّھا جی… بتا بھی دو جانُو… جی کیا کرتا ہے……" میں ہںس پڑی… مُجھے پتا تھا وو کیا کہیگا…"سُنو نیہا … اُسے پٹاّو نا … اُسے چودنے کا من کرتا ہے…""ہاے… نؤکرانی کو چودوگے … پر ہاں …وو چیز تو چودنے جیسی تو ہے…""تو بولو … میری مدد کروگی نا …""چلو یار …تُم بھی کیا یاد کروگے … کل سے ہی اُسے پانی پانی کرتی ہُوں……"پھِر مے سوچ میں پڑ گیی کِ کیا تریکا نِکالا جایے۔ سیکس تو سبھی کی کمجوری ہوتی ہی ہے۔ مُجھے ایک ترکیب سمجھ میں آیّ۔دُوسرے دِن آشا کے آنے کا سمے ہو رہا تھا…… مینے اَپنے ٹیوی پر ایک بلیُو ہِندی فِلم لگا دی۔ اُس فِلم میں چُدائی کے ساتھ ہِندی ڈایلوگ بھی تھے۔ آشا کمرے میں سفائی کرنے آیی تو مے باتھرُوم میں چلی گیّ۔ سفائی کرنے کے لِیے جیسے ہی وو کمرے کے اَندر آیی تو اُسکی نجر ٹیوی پر پڈی… چُدائی کے سین دیکھ کر وو کھڈی رہ گیّ۔ اؤر سین دیکھتی رہی۔میں باتھرُوم سے سب دیکھ رہی تھی۔ اُسے میرا ویڈِیو پلیّر نجر نہیں آیا کیوںکِ وہ لکڈی کے کیس میں تھا۔ وو دھیرے سے بِستر پر بیٹھ گیّ۔ اُسے پِکچر دیکھ کر مجا آنے لگ گیا تھا۔ چُوت میں لنڈ جاتا دیکھ کر اُسے اؤر بھی اَدھِک مجا آ رہا تھا۔ دھیرے دھیرے اُسکا ہاتھ اَب اُسکے ستنو پر آ گیا تھا۔۔ وہ گرم ہو رہی تھی۔ میری ترکیب سٹیک بیٹھی۔ مینے مؤکا اُچِت سمجھا اؤر بتھرُوم سے باہر آ گیی… "اَرے… ٹیوی پر یے کیا آنے لگا ہے…""دیدی… ساب تو ہے نہیں…چلنے دو نا…اَپن ہی تو ہے…""اَرے نہیں آشا… اِسے دیکھ کر دِل میں کُچھ ہونے لگتا ہے…" میں مُسکرا کر بولیمینے چینل بدل دِیا… آشا کے دِل میں ہلچل مچ گیی تھی … اُسکے جوان جِسم میں واسنا نے جنم لے لِیا تھا۔"دیدی… یے کِس چینل سے آتا ہے …"اُسکی اُتسُکتا بڈھ رہی تھی۔"اَرے تُجھے دیکھنا ہے نا تو دِن کو فری ہو کر آنا … پھِر اَپن دونو دیکھیںگے… ٹھیک ہے نا…""ہاں دیدی…تُم کِتنی اَچّھی ہو…" اُسنے مُجھے جوش میں آکر پیار کر لِیا۔ میں روماںچِت ہو اُٹھی… آج اُسکے چُمبن میں سیکس تھا۔ اُسنے اَپنا کام جلدی سے نِپٹا لِیا… اؤر چلی گیّ۔ تیر نِشانے پر لگ چُکا تھا۔کریب دِن کو ایک بجے آشا واپس آ گیّ۔ مینے اُسے پیار سے بِستر پر بیٹھایا اؤر نیچے سے کیس کھول کر پلیّر میں سیڈی لگا دی اؤر میں بھی بِستر پر بیٹھ گیّ۔ یے دُوسری فِلم تھی۔ فِلم شُرُو ہو چُکی تھی۔ میں آشا کے چیہرے کا رںگ بدلتے دیکھ رہی تھی۔ اُسکی آںکھو میں واسنا کے ڈورے آ رہے تھے۔ مینے تھوڈا اؤر اِنتجار کِیا… چُدائی کے سین چل رہے تھے۔میرے شریر میں بھی واسنا جاگ اُٹھی تھی۔ آشا کا بدن بھی رہ رہ کر سِہر اُٹھتا تھا۔ مینے اَب دھیرے سے اُسکی پیٹھ پر ہاتھ رکھا۔ اُسکی دھڈکنے تک مہسُوس ہو رہی تھی۔ مینے اُسکی پیٹھ سہلانی چالُو کر دی۔ مینے اُسے ہلکے سے اَپنی اور کھیںچنے کی کوشِش کی… تو وو میرے سے سٹ گیّ۔ اُسکا کسا ہُآ بدن…اُسکی بدن کی کھُشبُو… مُجھے مہسُوس ہونے لگی تھی۔ ٹیوی پر شاندار چُدائی کا سین چل رہا تھا۔ آشا کا پلُّو اُسکے سینے سے نیچے گِر چُکا تھا… مینے دھیرے سے اُسکے ستنوں پر ہاتھ رکھ دِیا… اُسنے میرا ہاتھ ستنوں کے اُوپر ہی دبا دِیا۔ اؤر سِسک پڈی۔"آشا… کیسا لگ رہا ہے…""دیدی… بہُت ہی اَچّھا لگ رہا ہے…کِتنا مجا آ رہا ہے…" کہتے ہُئے اُسنے میری ترف دیکھا … مینے اُسکی چُوںچِیاں سہلانی شُرُو کر دی… اُسنے میرا ہاتھ پکڈ لِیا…"بس دیدی… اَب نہیں …""اَرے مجے لے لے … ایسے مؤکے بار بار نہیں آتے……" مینے اُسکے تھرتھراتے ہوںٹھوں پر اَپنے ہوںٹھ رکھ دِیے… آشا اُتّیجنا سے بھری ہُیی تھی۔ آشا نے میرے ستنوں کو اَپنے ہاتھوں میں بھر لِیا اؤر دھیرے دھیرے دبانے لگی۔ مینے اُسکا لہںگا اُوپر اُٹھا دِیا… اؤر اُسکی چِکنی جاںگھوں پر ہاتھ سے سہلانے لگی… اَب میرے ہاتھ اُسکی چُوت پر آ چُکے تھے۔ چُوت چِکنائی اؤر پانی چھوڈ رہی تھی۔ میرے ہاتھ لگاتے ہی آشا میرے سے لِپٹ گیّ۔ مُجھے لگا میرا کام ہو گیا۔ "دیدی… ہاے… نہیں کرو نا … ماں…ری… کیسا لگ رہا ہے…"مینے اُسکی چُوت کے دانے کو ہلکے ہلکے سے ہِلانے لگی…۔ وو نیچے جھُکتی جا رہی تھی… اُسکی آںکھے نشے میں بند ہو رہی تھی۔اُدھر سُنیل لنچ پر آ چُکا تھا۔ اُسنے اَندر کمرے میں جھاںک کر دیکھا۔ مینے اُسے اِشارا کِیا کِ اَبھی رُکو۔ مینے آشا کو اؤر اُتّیجِت کرنے کے لِیے اُسّے کہا - "آشا … آ میں تیرا بدن سہلا دُوں…… کپڑے اُتار دے …""دیدی … اُوپر سے ہی میر بدن دبا دو نا…" وو بِستر پر لیٹ گیّ۔ میں اُسکے اُبھاروں کو دباتی رہی…اُسکی سِسکِیاں بڈھتی رہی… مینے اَب اُسکی اُتّیجنا دیکھ کر اُسکا بلاُّوج اُتار دِیا… اُسنے کُچھ نہیں کہا… مینے بھی یہ دیکھ کر اَپنے کپڈے تُرنت اُتار دِیے۔ اَب میں اُسکی چُوت پر اَپنی اُںگلی سے دبا کر سہلانے لگی… اؤر دھیرے سے ایک اُںگلی اُسکی چُوت میں ڈال دی۔ اُسکے مُکھ سے آنّد کی سِسکاری نِکل پڑی…"آشا … ہاے کِتنا مجا آ رہا ہے… ہے نا…""ہاں دیدی… ہاے رے… میں مر گیی…""لنڈ سے چُدوگی آشا… مجا آیّگا…""کیسے دیدی … لنڈ کہاں سے لاّوگی…""کہو تو سُنیل کو بُلا دُوں … تُمہے چود کر مست کر دیگا"ّنہیں …نہیں … ساب سے نہیں …""اَچّھا اُلٹی لیٹ جاّو … اَب پیچھے سے تُمہارے چُوتڑ بھی مسل دُوں…"وو اُلٹی لیٹ گیّ۔ مینے اُسکی چُوت کے نیچے تکِیا لگا دِیا۔ اؤر اُسکی گانڈ اُوپر کر دی۔ اَب مینے اُسکے دونو پیر چؤڑا دِیے اؤر اُسکے گانڈ کے چھید پر اؤر اُسکے آس پاس سہلانے لگی۔ وو آنّد سے سِسکارِیاں بھرنے لگی۔سُنیل درواجے کے پاس کھڈا ہُآ سب دیکھ رہا تھا۔ اُسنے اَپنے کپڑے بھی اُتار لِیے۔ یے سب کُچھ دیکھ کر سُنیل کا لنڈ ٹائیٹ ہو چُکا تھا۔ اُسنے اَپنا لنڈ پر اُںگلِیوں سے چمڑی کو اُوپر نیچے کرنے لگا۔ میں آشا کی گانڈ اؤر چُوتڈوں کو پیار سے سہلا رہی تھی۔ اُسکی اُتّیجنا بہُت بڈھ چُکی تھی۔ مینے سُنیل کو اِشارا کر دِیا… کِ لوہا گرم ہے…… آ جاّو…۔سُنیل دبے پاںو اَندر آ گیا۔ مینے اِشارا کِیا کِ اَب چود ڈالو اِسے۔ اُسکے فیلے ہُیے پاںو اؤر کھُلی ہُیی چُوت سُنیل کو نجر آ رہی تھی۔ یے دیکھ کر اُسکا لنڈ اؤر بھی تنّانے لگا ۔ سُنیل اُسکی پیروں کے بیچ میں آ گیا۔ میں آشا کے پیچھے آ گیی… سُنیل نے آشا کے چُوتڈوں کے پاس آکر لنڈ کو اُسکی چُوت پر رکھ دِیا۔ آشا کو تُرنت ہی ہوش آیا…پر تب تک دیر ہو چُکی تھی۔ سُنیل نے اُس کابُو پا لِیا تھا۔ وو اُسکے چُوتڈوں سے نیچے لنڈ چُوت پر اَڑا چُکا تھا۔ اُسکے ہاتھوں اؤر شریر کو اَپنے ہاتھوں میں کس چُکا تھا۔آشا چیکھ اُٹھی…پر تب تک سُنیل کا ہاتھ اُسکا مُںہ دبا چُکا تھا۔ مینے تُرنت ہی سُنیل کا لنڈ کا نِشانا اُسکی چُوت پر سادھ دِیا۔ سُنیل ہرکت میں آ گیا۔اُسکا لنڈ چُوت کو چیرتا ہُآ اَندر گھُس گیا۔ چُوت گیلی تھی…چِکنی تھی پر اَبھی تک چُدی نہیں تھی۔ دُوسرے ہی دھکّے میں لنڈ گہرائی میں اُترتا چلا گیا۔






(¨`·.·´¨) Always
`·.¸(¨`·.·´¨) Keep Loving &;
(¨`·.·´¨)¸.·´ Keep Smiling !
`·.¸.·´ -- raj sharma

آشا کا بلاتکار

Sponsor

Sponsor
 

Post Reply