چاچا چاچی کی چُدائی

Post Reply
User avatar
rajaarkey
Super member
Posts: 6827
Joined: 10 Oct 2014 10:09
Contact:

چاچا چاچی کی چُدائی

Post by rajaarkey » 25 Oct 2017 17:43

چاچا چاچی کی چُدائی


اَگلے دِن چاچا گاّوں سے لؤٹ آئے۔ سُورج دِن بھر تو پڑھائی- لِکھائی اؤر گھر کے کاموں میں بِزی رہا۔ رات کو جلدی ہی کھانا کھانے کے باد سُورج سون ایکے لِئے آیا۔ چاچِجی اُسکے لِئے دُودھ لائی۔ چاچجی تو پلںگ پیر ہی کھالی لُوںگی پہنے لیتے ہُئے تھے۔ چاچِجی نے کھُد سُورج کو اَپنے ہاتھو سے دُودھ پِلایا پھِر اُنہونے لائیٹ بُجھائے بگیر ہی اَپنے کاپرے کھول کر نائیٹی پہن لی۔ سُورج کا یے درشے دیکھ کر لںڈ کھرا ہو گیا اُسکی لُوںگی پھِر تںبُو بن رہی تھی اؤر اُسکو چاچجی کے سامنے شرم آ رہی تھی۔ چاچِجی اُسکے پاس آئی اؤر ایک ہی جھٹکے میں اُسکی لُوںگی اُپّیر کر چڈّی کھِسکا دی اؤر لںڈ چُوسنے لگی۔ سُورج کو شرم آاَ رہی تھی۔ اُدھر چاچِجی نے اَپنی نائیٹی اُتار دی تھی۔ “ چاچجی دیکھ رہے ہیں چاچِجی،’ سُورج بولا۔” دیکھنے دے بیٹا اُنہونے اَب تک میری چُوت میں کئی موٹے لںڈ جاتے دیکھے ہیں،’ چاچِجی ہستے ہُئے بولی۔ سُورج کا بیکابُو لںڈ چاچِجی کے مُوہ کو چود رہا تھا۔
سُورج سے زیادا سبر نہیں ہو رہا تھا۔ اُسکو پتا تھا پہلی بار وو زیادا کںٹرول نہیں کر پاتا ہے اؤر چاچِجی جیسے مںجے ہُئے کھِلاڑی کو یے بات پتا تھی۔ چاچِجی اُسکا موٹے لںڈ لالیپوپ کی ترہ چُوس رہی تھی اؤر اُسکے چِکنے آںڈ سہلا رہی تھی۔ چاچا کے ڈر سے چُپ بیٹھے سُورج کا ایک مِنِٹ مے پانی چاچِجی کے مُوہ میں چھُوٹ گیا اُسکے مُوہ سے ایک زوردار چیکھ نِکل۔ چاچِجی اُسکے پانی کو رس کی ترہ چاٹ گیّ۔ اُسکے لںڈ کو وے تب تک دباتی رہی جب تک سُورج کے رس کی آکھری بُوںد کھالی نہی ہو گیّ۔ سُورج کا لںڈ جیسے ہی سُست پڑا چاچجی کاپرے کھول کر نیچے آ گیے۔ اُنہونے چاچی کو سیدھا لِٹایا اؤر اُسکے اُپّیر اُلٹے ہو گیے، یانی چاچی کی چُوت چاچا کے مُوہ میں اؤر چاچا کا لںڈ چاچی کے مُوہ میں۔ سُورج کی نزر چاچا کے لںڈ پیر پڑی تو اُسکو بڑا اَسچریا ہُآ۔ چاچا کا لںڈ کِسی 4 سال کے بچّے جِتنا تھا، زیادا سے زیادا دو اِںچ۔ نیچے تیلی بھی چھہوٹی تھی، ایسا لگ رہا تھا جیسے اَںڈکوش کے ٹھیلے میں کِسی نے مُوںگپھلی کے دو دانے بھر دِئے ہو۔ مگر چاچی اُنکے لںڈ کو مزے سے چُوس رہی تھی اؤر چاچا کِسی بھُوکے کُتّے کی ترہ چاچی کی چُوت اؤر اُسکی گاںد باری باری سے چُوسے جا رہے تھے،’ بس کرو میں تُمہارے مُوہ میں جھڑنے والی ہُو، تھوڈا گہرا ڈالو جیبھ کو،،’ چاچی بولی۔ چاچا کی چاٹنے کی آوازیں زور زور سے آ رہی تھی، ایسا لگ رہا تھا جیسے کوئی بِلّی کٹورے سے دُودھ چٹ رہی ہو۔ کوئی ایک مِنِٹ باد ہی چاچی کی موٹی گاںد شاںت ہُئی ، سُورج کو پتا چل گیا چاچی کا پانی نِکل گیا۔ چاچی اَب بیتھ گیی سُورج کھڑا ہُآ تھا۔ وے اُسکے لںڈ کو پھِر سے سہلانے لگی،’ بیٹا اَب تیرے اِن اَںڈِیّیو کا رس میری بچّیڑنی میں دال،’ یے کہ کے وی اُسکے اَںڈکوشوں سے کھیلنے لگی۔ سُورج جوان تھا دو مِنِٹ میں ہی اُسکا لںڈ تن گیا اؤر پُورا 7 اِںچ ہو گیا۔
چاچی نے سُورج کی ترپھ اَپنی گاںد کر دی، سُورج سمجھ گیا چاچی کُتِّ بن کر چُڈواّیگی۔ سُورج نے اَپنے لںڈ کا مُوہ چاچی کی گیلی اؤر پھُولی ہُئی چُوت پیر رکھا۔ ایک جھٹکے میں اُسنے پُورا لںڈ اَںڈر پیل دِیا۔ اُدھر سُورج نے دیکھا کی چاچا چاچی کے نیچے سرک گیے تھے۔ اُنکا مُوہ چاچی کی چُوت کے پاس تھا جبکِ چاچی واپس اُنکا چھہوٹا لںڈ چُوس رہی تھی۔ چاچا چاچی کے چُوت کی کلائیٹارِس چاٹ رہے تھے ساتھ ہی اُنکی جیبھ اُسکے آتے جاتے لںڈ کو بھی چھچھُو رہی تھی۔ اَب چاچا نے اُسکے آںڈ بھی سلرپ سلرپ کر کے چاٹنے شُرُو کر دِئے سُورج بیہال تھا۔ تھوڑی دیر باد چاچا نیچے سے ہٹے اؤر سُورج کے پیچھے آ گیے۔ چاچجی نے اَب سُورج کے کُود رہے آںڈِیّیو اؤر اُسکی گاںد کی چچھید کو چاٹنا شُرُو کر دِیا،’ چود بیٹا چود اَپنے موٹے لںڈ سے اِس راںڈ کو، تیری چاچی بیتچود ہے اِسکو تیرے گرم پانی سے ہی ٹھںڈک مِلیگی،’ وے بولے۔ اَب چاچا اُسکے اَںڈکوشوں پیر جیبھ پھِرنے لگے اؤر اُنکو ہلکے ہلکے مسالنے لگے اؤر تھپکیّا دینے لگے،’ کھالی کرٹ ایرے اِن مرد والے آندِیوں کو اِس رںڈی کے بھوسڈے میں،’ چاچا بولے۔’ نہیں بیٹا اَبھی تو میری چُوت ہی ہے تیرا بچّا پیدا کرنے کے باد ہی یے بھوسڑا بنیگی،’ یے کہ آر چاچی نے اَپنی گاںد سُورج کے سٹروکس کے ساتھ ہِلنی شُرُو کر دی۔ سُورج کوئی 5 مِنِٹ چودنے کے باد تیزُ سے ہاںپھتا ہُآ چاچی کی چُوت میں جھاڑ گیا۔ چاچا اُسکے آںڈ سہلاتے رہے


(¨`·.·´¨) Always
`·.¸(¨`·.·´¨) Keep Loving &;
(¨`·.·´¨)¸.·´ Keep Smiling !
`·.¸.·´ -- raj sharma

چاچا چاچی کی چُدائی

Sponsor

Sponsor
 

User avatar
rajaarkey
Super member
Posts: 6827
Joined: 10 Oct 2014 10:09
Contact:

Re: چاچا چاچی کی چُدائی

Post by rajaarkey » 25 Oct 2017 17:44

چاچا چاچی کی چُدائی--05
سُورج کو لگا کو دو بار کی چُدائی کے بو سب سو جاّیںگے لیکِن چاچا چاچی کا خیال کُچھ اؤر ہی تھا۔ چاچِجی نارِیل کا تیل لائی اؤر سُورج نے دیکھا چاچجی گھوڑی بن گیے ہیں۔ چاچِجی نے چاچا کی گاںد کے چچھید پیر تیل لگایا اؤر اُسکو سہلانے لگی، چاچا اُواوہ آ کرتے رہے۔ تھوڑی دیر میں چاچی نے اَپنی ایک اُںگلی چاچا کی گاںد مے سرکا دی، اؤر چاچا کی چُدائی کرنے لگی۔ کوئی دو مِنِٹ باد چاچی کی تین اُںگلِیا چاچا کی گاںد مے ہُردںگ کر رہی تھی۔ کوئی پاںچ مِنِٹ کی چُدائی کے باد چاچی سُورج کے پاس آئی اؤر اُسکے لںڈ پیر تیل ملنے لگی۔ اُسکا لںڈ جب پھُول کر بڑا ہو گیا تو وو بولی، بیٹا اَب تیرے چاچا کو اُنکی بیوی چُڑوانے کا اِنام دے، اَپنا لںڈ اِنکی گاںد مے دال اؤر اِسکے پانی سے اِس ہِجڑے کی گاںد کی پیاس بُجھا،’ یے کہ کر اُنہونے سُورج کا لںڈ چاچا کی گاںد کے پرویش دوار پیر رکھ دِیا۔ سُورج کا لںڈ اِتنا چِکنا تھا کی ایک جھٹکے میں آدھا چاچا کی گاںد کے چچھید میں سرک گیا،چاچا کاںپنے لگے۔ سُورج نے ایکک بڑا جھٹکا اؤر لگایا اؤر اِس بار اُسکا پُورا لںڈ چاچا کی گںد کے اَںڈر تھا،’ مار بیٹا مار، پھاڑ تیرے چاچا کی چُوت، تُو چاچا چاچی کا ساںڈ ہے، چود ہم دونو کو زور زور سے،’ چاچا بولے۔ چاچی پاس آکر سُورج کو کِس کرنے لگی،، چاچی کی گرم ساںسو اؤر چاچا کی ٹائیٹ گاںد نے سُورج کو پاگل کر دِیا،’ ڈال بیٹا سُورج ڈال اَپنا مرڈوالے بیج اِس نپُںسک کی گاںد میں، بھر دے اِسکی گاںد بھی،’ یے کہ کر چاچی سُورج کی آںڈ مسالنے لگی۔ سُورج 6-7 مِنِٹ میں جھاڑ گیا۔ اُس ایک رات سُورج سے چاچا چاچی نے کوئی ڈس بار چُڈوایا۔
چاچا چاچی کے گھر میں ایک 40 سال کی نؤکرانی کام کرتی تھی۔ کبھی کبھی اُسکے ساتھ اُسکا جوان بیٹا اؤر بیٹی بھی آتے تھے۔ اُسکا نام گیتا تھا۔ گیتا ایکدُوم چھہوٹی اؤر موٹی تھی۔ ہائیٹ 5 پھٹ سے بھی کم تھی اؤر وزن 75 کِلو سے بھی زیادا۔ اُسکے مُمّے کوئی 42 اِںچ کی ہِںج، تھوڈا پیٹ بھی نِکلا ہُآ تھا اؤر گاںد تو ہاتھی جیسی تھی۔ وو جب جھاڑُو پوچھا کرتی تو ساری کو اُتار دیتی اؤر سِرف بلاُّس پیٹِکوٹ میں ہی سب کام کرتی تھی۔ اُسکی گاںد کے درار ساآپھ دِکھائی دیتی تھی اؤر اُسکے بُوبس بلاُّس سے ساپھ جھاںتکے تھے۔ وو برا پنٹی نہی پہنتی تھی۔
اُدھر دو مہینے باد چاچی کو اُلٹِیا آنے لگی۔ سُورج کو اُنہونے بتا دِیا اَب وی اَپنے بھتیجے کے بچّے کی ما بنّے والی ہے۔ چاچا بھی کھُوب کھُش تھے۔ مگرا ب چاچی نے بچّا گِر جانے کے ڈر سے سُورج کی چُدائی بںڈ کر دی تھی۔ وی اُسکی مُہتّی مارتی تھی یا چُوس لیتی تھی اؤر چاچا کی گاںد مروتی تھی۔ مگر چُوت بِنا سُورج کا لںڈ پریشان تھا۔ ایک دِن جیسے ہی گیتا گھر آئی چاچی نے اُسکو زور سے بولا،” گیتا، سُن سُورج کو بچپن سے آج تک میں نہلاتی آئی ہُو اَب میں تو نہلا نہیں سکتی آج سے تُو ہی اِسکو نہلایا کر۔’ گیتا سُورج کو باتھرُوم میں لے جبے آئی،’ نہیں چاچی میں اَب بڑا ہو گیا ہُو کھُد نہلا لُوںگا،’ وو بولا۔” بیٹا گیتا بھی تو دیکھے تُو کِتنا بڑا ہو گیا ہے،’ یے کہ کر اُنہونے دونو کو آںکھ ماری۔ گیتا بولی،’ آاو بابُوجی اؤر اَپنے کاپرے اُترو۔’
سُورج باتھرُوم میں کھالی چڈّی میں کھڑا ہو گیا۔ گیتا نے اُسکے بال پیٹھ پیر سابُن لگایا اُسکے پاوں پیر بھی پھِر ننیچے بیٹھے بیٹھے ہی ایک ہی سیکیںڈ میں سُورج کی چڈّی نیچے سرکا دی۔ سُورج کا لںڈ ایکدُوم سیدھا کھڑا تھا اؤر گیتا کو سلیُوٹ کر رہا تھا،’ وا بابُوجی تُمہارا لںڈ تو مست ہے، یے تو ایکدُوم مُسٹںڈا ہے،’ یے کہ کر گیتا نے سابُن مسلنا شُرُو کِیا۔ گیتا اِس ڈھںگ سے اُسکے اؤزار کو مسل رہی تھی کی سُورج کا ایک مِنِٹ میں پھوّارا چھچھُوٹ گیا،’ کیا بابُوجی اِتنی جلدی پانی نِکال دِیا؟’ کوئی بات نہیں ہم آپکو پانی کںٹرول کرما سِکھاّیںگے اؤر لںڈ بھی اِس سے موٹا کر دیںگے،’ یے کہ کر گیتا نے اُسکے لںڈ کو پانی سے دھو دِیا۔ سُورج نہا کر باہر آ گیا،’ کیُو گیتا سُورج بڑا ہُآ ہے کی نہیں؟” چاچی نے پُوچھا۔’ “ ہا بیشی بہُجی بڑے تو ہو گیے مگر اَبھی شسترا کلا میں اِنکو پُورا ماہِر کرما باکی ہے،’ یے کہ کر وو ہنس دی۔
رات میں چاچی روز سُورج کی مُوٹھ مارتی تھی اؤر جب چاچجی سے رہا نہی جاتا تو اُنکی گاںد بھی مروا دیتی تھی۔ “ بیٹا گیتا کی ما کل سُبہ آایگی، تیرے چاچجی کے جانے کے باد، تُو شرمانا مت، وو بُدھِیا کھُوب سارے تریکے جانتی ہیل اَںڈ کو بڑا کرنے اؤر پانی کو کںٹرول کرنے کے، تُو بِنا جھِجھک اؤر شرمایے ہُئے اُںسکو سہیوگ کرما وو تُجھے سبسے بڑا چُڑکّڑ بنا دیںگی، تاکِ تیری ٹاںگ کے نیچے سے کوئی لرکی نِکل جائے تو پھِر کِسی دُوسرے لںڈ کے پاس نہیں جاّیگی،’ چاچی بولی۔ “ اُنکی اُمرا کِتنی ہے چاچی؟” سُورج نے پُوچھا،’ بیٹا ہے تو وو ساتھ کی مگر تُجھے اُنکی اُمر سے کیا، تُجھے اَپنا ہتھِیار مزبُوت کرما ہے بس،’ یے کہ کر چاچی نے سُورج کا پانی نِکالا اؤر اُسے پی گیّ۔
اَگلے دِن چاچجی کے جاتے وقت چاچِجی اُنسے بولی،’ سُنوجی 10-12 دِن سُورج کے لںڈ کا اِلاج چلیگا دِن میں کھانا باہر کھا لینا یے آپسے شرماّیگا،’ چاچِجی اُنسے بولی۔ چاچا کے جاتے ہی گیتا اؤر اُسکی ما آ گیے۔ گیتا کی ما تھی تو بُدّھِ مگر اُسکی نزریں بڑی کاتِل تھی۔ گھر کے آںگن میں بِچھے پاٹ پیر سُورج بیتھا تھا۔ “ چاچِجی اُسکے پاس آآئے اؤر بولی بیٹا تیرے کپڑے اُتار اؤر نںگا ہو جاَّ، مے تیرے پاس ہی بیٹھی ہُو،’ اُنہونے کہا۔ سُورج شرما رہا تھا، مگر چاچِجی نے کھُد اُسکا نِکّیر اُتارا، شرٹ اؤر بنِیان اُتارے اؤر چڈّی اُتار کر اُسکو لیٹا دِیا،’ آاو گیتا، آاو اَمّی اَب اِسکا اِلاج شُرُو کرو،’ اُنہونے کہا اؤر وے پاس میں ہی کُرسی پیر بیتھ گیّ۔
گیتا اؤر اُسکی ما نے اَپنا بلاُّس کھول دِیا اؤر سِرف پیٹِکوٹ پہن کر سُورج کے پاس آ گیّ۔ گیتا کی ما کے بُوبس بھی موٹے موٹے تھے، اُمر کی وجہ سے ڈھیلے زرُور دِکھ رہے تھے مگر نِپلس زیادا بڑے نہیں تھے اؤر براُّن کلر کے تھے۔ گیتا کے بُوبس تو تربُوز جیسے تھے اؤر نِپلس موٹے موٹے تھے۔ لگتا تھا جیسے گیتا نِپلس چُسوانے کی شؤکین ہے۔ دونو اؤرتوں نے سُورج کی ٹاںگے چؤری کر دی۔ مارے اُتّیجنا کے سُورج کا لںڈ آسمان کی ترپھ دیکھ رہا تھا۔ “ بیٹا یے ایک رویڈِک تیل کی مالِش کریںگی جِس سے تیرا اؤزار اؤر زیادا سخت اؤر موٹا بنیگا،’ چاچی بولی۔ گیت کی ما نے ایک شیشی سے تیل نِکالا اؤر دھیرے دھیرے سُورج کے لںڈ کے سُپرے پیر ملنے لگی۔ وو سُپرے کی چمری اُپّیر نیچے کر رہی تھی۔ سُورج کی گاںد مارے اُتّیجنا کے اُپّیر نیچے ہو رہی تھی۔ اُدھر گیتا نے اَپنی ہتھیلِیو میں تیل لِیا اؤر اُسکے اَںڈکوشوں کی مالِش شُرُو کر دی،’ سُورج بابُو، جیسے ہی پانی آنے کو ہو ہُمکو بتانا،’ گیتا کی ما بولی۔ “ ہا آںٹیجی اَب میرا پانی نِکالنے والا ہے،’ سُورج بولا۔ یے سُنتے ہی گیتا کی ما نے سُورج کا سُپرا کس کر دبا دِیا اؤر ہاتھ ہِلنا چھچوڑ دِیا۔ گیتا نے سُورج کی گاںد اؤر اَںڈکوشوں کے بیچ کے ہِسّے کو زور سے دبا دِیا۔ سُورج کا نِکلتا پانی رُک گیا۔ کوئی دو مِنِٹ رُکنے کے باد دونو نے پھِر سے مالِش شُرُو کر دی۔ “بیٹا پانی آنے کو ہو تو پہلے بتا دینا،’ گیتا کی ما بولی۔ سُورج کا جیسے ہی پھوّارا چچھُتنے کو ہوتا دونو اؤرتے اُسکو دبا دیتی۔ ایسے سُورج کا پانی کوئی دُس مِنِٹ تک اُنہونے روکا۔ ہر روز تین بار دونو اؤرتے ایسا ہی کرتی، چھہوتے دِن سُورج اَپنے پانی کو کوئی 10 مِنِٹ تک روک پایا ، اُسے سمجھ مے آ گیا کی پانی آنے کو ہو تو رُک جاّو۔ پاچھوے دِن سُورج کھُد ہی کںٹرول کرنے لگ گیا،’ رُک جاّو، وو اُنسے کہتا، دھیرے دھیرے ایک ہپھتے باد سُورج اَپنے ویریاپت پیر نِیںترن سیکھ گیا۔ چاچی بڑی کھُش تھی،’ گیتا یے تُونے بہُت اَچّھا کِیا، بس پہلا بچّا ہو جائے پھِر دُوسرا کھُوب چدوا کر پیدا کرُوںگی،’ چاچِجی بولی۔’ اِس تیل میں ساںڑے کا تیل بھی مِلا ہے 2-4 مہینوں میں اِسکا لںڈ ऑرا آںڈ دونو موٹے ہو جاّیںگے،’ گیتا کی میا بولی۔
(¨`·.·´¨) Always
`·.¸(¨`·.·´¨) Keep Loving &;
(¨`·.·´¨)¸.·´ Keep Smiling !
`·.¸.·´ -- raj sharma

User avatar
rajaarkey
Super member
Posts: 6827
Joined: 10 Oct 2014 10:09
Contact:

Re: چاچا چاچی کی چُدائی

Post by rajaarkey » 25 Oct 2017 17:47

چاچا چاچی کی چُدائی--06
ایک ہپھتے باد گیتا اؤر اُسکی ما نے سُورج سے کہا،’ آج سے چُدائی شُرُو ہوگی اِسمے کںٹرول دِکھانا پریگا بابُو،’ یے کہ کر گیتا اؤر اُسکی ما نے پھِر سے سُورج کی مالِش شُرُو کر دی۔ اِس بار دونو بِلکُل نںگی ہو گیّ۔ گیتا کی چُوت پیر بالوں کا گُچّھا تھا جبکِ اُسکی ما کی چُوت ایکدُوم چِکنی تھی، گیتا کی چُوت کے ہوٹھ اَںڈر دبے ہُئے تھے جبکِ اُسکی ما کی چُوت کے ہاٹ پھُولے ہُئے تھے۔ دونو کی گاںد موٹی تھی۔ کوئی دو مِنِٹ تیل لگا نے کے باد گیتا کی ما سُورج کے اَپّر آئی اؤر اَپنی چُوت کا مُوہ اُسکے لںڈ کے سُپرے پیر رکھا اؤر دھیرے سے اُسکا سُپرا اَپنے بھوسڈے میں سرکا دِیا۔ دھیرے دھیرے گیتا کی ما نے گاںد پھِر اُپّیر کی اؤر لںڈ کو دبا دِیا، سُورج کا آدھا گیلا لںڈ اُسکی ما کے بھوسڈے مے سرک گیا۔ اَب گیتا کی ما اَپنی گاںد کو پُورے زور سے نیچے لائی اؤر اِس بار اُسنے پُورا لںڈ کھا لِیا۔ لںڈ کے پُورا سرکتے ہی گیتا کی ما سُورج کو چودنے لگی اؤر بڑبڑانے لگی،’ ہپھتے بھر کی سویآ کے باد کورا لںڈ مِلا ہے میرے بھوسڈے کو، آج اِسکا رس نِچوڑ نِچوڑ کر نِکالُوںگی اِس مدارچوڑ کا،’ یے کہ کر وو زور زور سے سُورج کو چودنے لگی۔ سُورج بھی نیچے سے چُوتڑ ہِلا رہا تھا۔ اُدھر گیتا سُورج ک اِیک ایک آںڈ کو اَپنے ایکے ک ہاتھ سے اَلگ اَلگ مسل رہی تھی،’ بیٹا پانی نِکل رہا ہو تو بتانا،’ گیتا کی ما بولی۔ کوئی 5 مِنِٹ کی چُدائی کے باد سُورج بولا اَب نِکالنے والا ہے، یے سُنتے ہی گیتا کی ما تُرںت اُسکے لںڈ پیر بیتھ گیی اؤر اَپنی چُوت سے اُسکو کس کر پکڑ لِیا۔ گیتا نے تُرںت آںڈ اؤر گاںد کے بیچ کا ہِسّا دبا دِیا۔ ایسے ہی کوئی 10-12 مِنِٹ سُورج چلا۔ پانی نِکلتے ہی دونو اؤرتوں نے اُسے چاٹ لِیا۔ اَگلی بار گیتا سُورج پیر چڑھِ۔ ایسے ہی اَگلے 5-6 دِن تک دونو اؤرتیں سُورج کے اَپّر چڑھ کر اُسکو چودتِ رہی۔ 12وی دِن سُورج نے کھُد اَپّر چڑھ کر چُدائی شُرُو کی۔ اَب وو اَپّر بھی کںٹرول سیکھ گیا تھا اَب سُورج آسانی سے 20- 25 مِنِٹ تک چود سکتا تھا۔ چاچی بڑی کھُش تھی۔
15 دِن کے باد گیتا کے ساتھ ایک نیی اؤرت آئی۔ وو بھی کوئی 55 سال کیٹ ہی مگر کسا ہُآ بدن تھا۔ بُوبس چھہوٹے تھے کوئی 32 کے۔ گاںد بھی ہاتھ مے آ جائے جِتنی ہی تھی۔ چاچی، گیتا اؤر اُسکی ما نے آپس مے کُچھ باتیں کی اُنکے جانے کے باد چاچی سُورج سے بولی،’ بیٹا اِس اؤرت کا بیٹا پُورا مرد نہیں ہے اؤر یے چاہتی ہے اِسکے پوٹا ہو، تُو اِسکے گھر جاکر سو جایا کر، 10-15 میں زرُور گربھ ٹھہر جاّیگا پھِر واپس آ جانا’ وو بولی۔’ مگر چاچی پھِر آپکو اؤر چاچا کو میرے بگیر کیسے نیںد آایگی؟’ سُورج نے پُوچھا،’ کوئی بات نہی بیٹا ساںڈ کا فرز ہے گایوں کو بچّا دے،’ یے کہ کر چاچی نے اُسے سمجھایا۔ شام کو کھانا کھانے ایکے باد گیتا اؤر اُسکی ما سُورج کو لینّے آئے ساتھ مے وو اؤرت بھی تھی،’ چلو بیٹا ،’ یے کہ کر سُورج اُنکے ساتھ چل دِیا۔ اُن لوگو کا گھر بڑا تھا۔ سُورج سیدھے بیڈرُوم مے گیا۔ گیتا واہا پیر بھی کام کرتی تھی۔ “ گیتا اَب تُم اؤر تُمہاری ما جاّو مے ہُمارے ہِسّے میں سے تُمہے کُچھ نہی دُوںگی، یے کہ کر اُس اؤرت نے اُنکو 500 رس دِئے۔ دونو اؤرتیں چلی گیّں۔ “ ایٹا کپڈرے کھول کر رِلیکس ہو جاّو پلںگ پیر،’ یے کہ کر اُس اؤرت نے سُورج کے کپڑے اُتارنے شُرُو کر دِئے۔ سُورج اَب بِلکُل نںگا تھا۔ اُسکا جوان لںڈ کھڑا تھا۔ “ بیٹا آج کِتنے سالوں باد اَسلی لںڈ دیکھا ہے مینے، میری چُوت کی پیاس بُجھا،’ یے کہ کر اُس اؤرت نے سُورج کے لںڈ کو کِس کِیا۔ “ مگر آںٹِجی آپ تو مُجھے اَپنی بہُو کو مُجھسے چُڑوانے لائی تھی؟” سُورج بولا۔’ “ نہی بیٹا، بہُو کو تو سِرف تیرا ویریا چاہِئے، اُسکو وو ہی دُوںگی، چودیگا تُو مُجھے پِچکاری اُسمے چھچوڑیگا،’ یے کہ کر اُسنے اَپنے کپڑے اُتار دِئے اؤر سُورج کے مُوہ مے اَپنے نِپل ڈال دِئے۔ سُورج اُنکو چُوسنے لگا۔ اُسی وقت ایک جوان اؤرت واہا آئی جِسکے ہاتھ میں دُودھ کا گلاس تھا۔ اُمرا کوئی 22-24 سال۔ ایکدُوم گوری، گُلابی ہوٹھ اؤر کسا ہُآ بدن۔ ساس نے بہُو کے ہاتھ سے دُودھ کا گلاس لِیا اؤر سُورج کے ہوتو سے لگا دِیا۔ سُورج ایک گھُوںٹ مے دُودھ پی گیا۔ بہُو بھی پاس بیٹھی تھی،’ اَب کپڑے اُتار بہُو، ویریا تو نںگی چُوت میں لینا پڑیگا نا،’ یہ کہ کر ساس نے بہُو کے کپڑے اُتارنے شُرُو کر دِئے۔ سُورج کی آںکھیں پھٹی رہ گیّ۔ اُس لیڈی جِتنی سنڈر اؤرت اُسنے آج تک نہی دیکھی تھی، ایکدُوم گُلابی نِپلس اؤر وو بھی چھہوٹے چھہوٹے، پتلا سا پیٹ اؤر ایکدُوم چِکنی گُلابی چُوت۔ گاںد تھوڑی سی باہر نِکلی ہُئی۔ سُورج کا لںڈ ایکدُوم سیدھا تھا، مگر اُسکو پتا تھا بُدھِیا کو سںتُشٹ کِئے بگیر وو اِس سنڈر اؤرت کو چود نہی پاّیگا۔ بُدھِیا تُرںت اَپنی ٹاںگے چھوڑی کر لیٹ گیی اؤر سُورج کو اُپّیر کھیںچ لِیا۔ سُورج کا کسا ہُآ لاڈا ستت سے اُسکی گیلی چُوت میں سرک گیا۔ کوئی دو- تین جھٹکو میں اُسکا وِشال لںڈ بُوڑھی چُوت کی سیوا کر رہا تھا، بہُو آشچریا سے ساس کی ایک جوان لؤںدے سے چُدائی دیکھی رہی تھی۔ چُوڑتے چُوڑتے ہی ساس کو بہُو کا خیال آیا،’ اَب تُو بھی پاس آکر لیٹ جا اؤر اَپنی چُوت کو گرم کر جیسی ہی یے ساںڈ جھڑنے کو ہوگا اِسکو تیرے اُپّیر بھیج دُوںگی تُو اِسکا سارا پانی چُوت میں لے لینا،’ وو بولی۔ وو لرکی پاس آکر لیٹ گیّ، ساس کو چودتے چودتے ہی سُورج نے اُسکے ہوٹھ مُوہ مے لے لِئے اؤر گُلابی ہوٹھوں کو کِس کرنے لگا، اُدھر ساس چُدتے چُدتے بولے جا رہی تھی،’ چود مُجھے میرے ساںڈ، چود پھاڑ دے میرا بھوسڑا مدارچوڑ،’ سُورج کو پتا تھا بُدھِیا کا پانی نِکالنے والا ہے۔ کِس کرتے کرتے سُورج کا رائیٹ ہیںڈ بہُو کے وکش پیر گیا اؤر وو اُسکی کیرِیوں کو زور زور سے مسالنے لگا۔ بہُو کی ہالت کھراب تھی۔ سُورج اَب چُدائی کا راجا تھا۔ بُدھِیا گالی بولتے بولتے جھاڑ گیّ۔ سُورج تُرںت اُس پیر سے ہٹا اؤر بہُو کے اُپّیر آ گیا وو تیّار ہی تھی۔ سُورج کو پتا تھا کُوم چُوڑی چُوت میں ایںٹری تھوڑا ٹائیم لیگی۔ اُسنے دھیرے دھیرے اَپنا لاڈا اَڈجسٹ کِیا اؤر سرکنے لگا ساس کی چُوت ک ایرس سے بھرا لںڈ بہُو کی جوان چُوت میں سرک رہا تھا اؤر اُسکی چیکھیں بڑھ رہی تھی،’ تھوڈا دھیرے کرو بھیّا میری چُوت پھٹ جاّیگی،’ بہُو بولی۔ کوئی 2 مِنِٹ باد سُورج کا پُورا لںڈ اُسکی گُلابی چُوت کی گِرفت میں تھا۔ سُورج نے اَب رپھتیر بڑھا دی تھی اؤر اُسکی گاںد زور زور سے ہِلنے لگی۔ اُدھر بہُو کی ساںس اُپّیر ہی تھی، بھیانک چُدائی سے اُسکے ہوش اُڑ گیے،’ کیُو آںٹِجی اَگر آپکا بیٹا مرد نہیں تو پھِر آپکی بہُو کی سیل کِسنے توڑی؟” سُورج نے ساس سے پُوچھا۔’ بیٹا یے تو مینے ہی مومبتّی، گاجر، مُولی سے اِسکی چُوت کو چود چود کر اِسکی سیل توڑی ہے،’ ساس بولی۔ “ مگرا ب جلدی اِسکی چُوت میں اَپنے بیج ڈالو بیٹا یے زیادا چُدائی کی اَبھیست نہیں ہے دھیرے دھیرے ہوگی،’ ساس بولی اؤر سُورج کے پیچھے آ کر اُسکے اَمرُود کے آکر کے اَںڈکوش دبانے لگی،’ اَب اِن چِکُیوں کا رس اِس گُلابی چُوت مے ڈالو بیٹا،’ وو بولی۔ سُورج اُتیجن سے پاگل تھا۔ اُدھر بہُو کوئی دو بار جھاڑ چُکی تھی،’ ہا بھایّا اَب بھر دو ہُماری چُوت تُمہارے مرد کے رس سے، ہیُوم بچّا دے دو جلدی سے،’ یے کہ کر بہُو نے سُورج کو کس کر دبا دِیا۔ ایک ہی مِنِٹ میں سُورج زور سے چیکھا اؤر پیڑ سے گِرے پتّے کی ترہ کاںپنے لگا۔ ساس کے ہاتھ میں اُسکے چِکُو پتہر جیسے کٹھور ہو گیے تھے۔ بہُو کی پیاسی چُوت ترپت ہو گیّ۔ ایسے ہی کوئی 15 دِن تک سُورج روز رات ساس بہُو کو چودتا رہا۔ پریگنینسی ٹیسٹ میں بہُو پازِٹِو نِکلی، ساس نے سُورج کے چِکُو کو دھنیواد دِیا،’ ہُمنے اِنکی مالِش کر کے اِنکو اِتنا رسیلا بنایا ہے، گیتا اؤر اُسکی ما بولی۔
سال بھر کے بھیتیر بھیتیر سُورج کی چاچی اؤر اُس بہُو نے بِٹو کو جنم دِیا۔ اِس سے دونو کو سںتُشٹِ نہی ہُئی۔ اَگلے سال دونو نے ایک ایک بیٹی کو جنم دِیا۔ 20 سال کا ہوتے ہوتے سُورج 4 بچّوں کا باپ بن چُکا تھا۔ اُسکا لںڈ اَب پُورے 8 اِںچ کا تھا اؤر اَںڈکوش اِتنے بھاری تھے کی اُسکے پیںٹ سے ساپھ دِکھائی دیتے تھے
دو بچّو کے باد چاچی نے ऑپریشن کروا لِیا تھا، اَب سُورج اُنکو آرام سے چودتا تھا۔ بچّے ہالاںکِ چھہوٹے تھے لیکِن چاچی اُنکے سامنے ہی آرام سے سُورج کو چودتِ تھی۔ سُورج جب 22 سال کا ہُآ تو چاچا- چاچی نے اُسکے لِئے ایک سنڈر سی لڑکی ڈھُوںڈھی اؤر اُس سے اُسکی شادی کر دی۔ شادی میں ہالاںکِ سُورج کے ما- باپ اُسکے گھروالے بھی مؤجُود تھے لیکِن چاچا چاچی سبسے زیاد کھُش تھے۔ چاچا چاچی کے دونو بچّے یانی سُورج
(¨`·.·´¨) Always
`·.¸(¨`·.·´¨) Keep Loving &;
(¨`·.·´¨)¸.·´ Keep Smiling !
`·.¸.·´ -- raj sharma

User avatar
rajaarkey
Super member
Posts: 6827
Joined: 10 Oct 2014 10:09
Contact:

Re: چاچا چاچی کی چُدائی

Post by rajaarkey » 25 Oct 2017 17:48

چاچا چاچی کی چُدائی--07
سُورج کی پتنی کا نام نِشا تھا۔ وو 20 سال کی کمسِن لڑکی تھی۔ کوئی 5پھٹ 4 اِںچ ٹ، 36، 26، 38 کا پھِگر اؤر رںگ گورا تھا۔ جب رات کو سُورج سُہگرات کے لِئے کمرے میں جانے لگا تو چاچِجی اُسکو کونے میں لے گیّ،’ بیٹا، اُسکی کُںواری چُوت کو نرمی سے چودنا، زیادا کھُون خرابا مت کرنا، ‘ وے بولی۔ سُورج کے لںڈ کو اُنہونے پاجاما کے اُپّیر ہی دبا دِیا،’ اِتنا موٹا ہتھِیار کُںواری چُوت ایکدُوم نہی لے پاّیگی میرے راجا،’ اُنہونے کہا۔
سُورج کمرے میں گھُسا تو نِشا نے اُسکے پیو چچھُئے اؤر دُودھ کا گلاس پکرا کر کونے میں کھڑی ہو گیّ۔ سُورج نے اُسے پاکر کر بِستیر پیر لِٹایا، اؤر دھیرے دھیرے اُسکے گہنے کاپرے اُترنے لگا،’ لائیٹ تو بںڈ کر دو جی،’ نِشا بولی۔ سُورج نے نائیٹ لیںپ جلا لِیا۔ جب سِرف برا اؤر چڈّی بچے تو نِشا بولی،’ مُجھے بہُت شرم آ رہی ہے اِنکو مت اُتارنا،’ اُسنے کہا۔ سُورج نے اَپنے کاپرے بھی اُتار دِئے اؤر سِرف چڈّی پہن کر نِشا کو کِس کرنے لگا۔ نِشا کی کھُشبُو سے سُورج ساںڑ کی ترہ بیقابُو ہو رہا تھا۔ اُسنے نِشا کی برا بھی اُتار پھیںکی اؤر اُسکے بُوبس مسالنے لگا چُوسنے لگا۔ دُوسرے ہاتھ سے وو نِشا کی چُوت کو چڈّی کے اَپّر سے دبا رہا تھا۔ جب اُسکو لگا کی نِشا کی چڈّی گیلی ہو گیی ہے تو اُسنے زبردستی اُسکی چڈّی اُتار پھیںکی۔ نِشا نے دونو ہاتھو سے اَپنی چُوت کو دھک دِیا۔ سُورج نیچے آیا اؤر اُسکی ملائیدار چُوت چاٹنے لگا۔ نِشا اُتّیجنا کے شِکھر پیر تھی۔ سُورج نے لوہے کو گرم دیکھ کر ہتھودے سے وار کرما مُناسِب سمجھا۔ اُسنے اَپنے لںڈ کا مُوہ اُسکی کُوارِ چُوت کے مُوہ پیر رکھا اؤر دھیرے دھیرے سرکنے لگا، نِشا درد سے چھٹپٹا رہی تھی،’ بس رانی توڑا دھیریا رکھو اِتنا سا درد سہن کر لو پھِر تُمہے بہُت آنںد مِلیگا،’ وا بولا۔’ ایسا کؤنسا زرُوری ہیجی یے سب،باد میں کر لینا میرے واہا بہُت درد ہو رہا ہے، نِشا بولی۔ مگر سُورج اَپنی زِںدگی کی پہلی سیل توڑنے کو بیقابُو تھا۔ اِس سے پہلے اُسنے چُدائی تو بہُت کیٹ ہی مگر سیل بںد چُوت اُسکو آج پہلی بار ہی نیسیب ہُئی تھی۔ سُورج اَپنا مزبُوت لںڈ بیرہمی سے سرکتا گیا،نِشا روٹی رہی اؤر مانا کرتی رہی۔ سُورج کا لںڈ اُسکی چھُوٹ کے کھُون سے لتھپتھ تھا مگر وو رُکا نہی اؤر بو لںڈ کو کم جگہ میں ہی اَںڈر باہر کرنے لگا۔ سُورج کا آدھا لںڈ ہی اَںڈر گیا تھا۔ چدڈار پُوری کی پُوری نِشا کے کھُون سے بھر گیی تھی۔ اُدھر نِشا درد سے چیکھنے لگی تو ڈر کر سُورج کو لںڈ باہر نِکلنا پڑا۔’ میں مار جؤںگی پلیز یے کام پھِر کر لینا مُجھ پیر رہم کرو آج آج،’ نِشا گِڑگِدنے لگی۔ سُورج گُسّے سے کمرے سے باہر آ گیا۔ چاچی وہیں کھڑی تھی،’ مینے دروازے کے چچھید سے سب کُچھ دیکھا ہے، بہُو کی سیل تو ٹُوٹ گیی اَب 2-3 رُک کر اُسکو چاڈنا ، 4-5 چُدائی کے باد وو نارمل ہوگی،’ اُنہونے کہا۔’ لیکِن چاچی کُںواری چُوت کو یے لںڈ آدھا ہی چود پایا، میرا لںڈ تو اَب نِیںترن سے باہر ہے، اُسنے چاچی سے کہا۔ چاچی بولی،’ چل بیٹا میرے رُوم میں تیری چاچی ہی تیرے کام آایگی،’ اُنہونے کہا۔ رُوم کا دروازا بُوںد ہوتے ہی سُورج نے چاچی کا پیٹِکوٹ اُپّیر کِیا اؤر ایک ہی سکوںد میں نِشا کے کھُون سے لال لںڈ چاچی کے بھوسڈے میں سرکا دِیا،’ بیٹا اِس سے زیادا میری کیا خُشنسیبی ہوگی کیٹ اُ اَپنی سُہگرات کے دِن اَپنی چاچی کو چود رہا ہے، جی بھر کے چاچی کو چود، اِس سُہگرات کو میں یاد رکھُوںگی،’ چاچی بولی۔ چاچجی نے اِن دونو چُدائی کرنے والو پیر پھُول برسانے شُرُو کر دِئے۔ سُورج کو لگا جیسے وو چاچی کو نہی اَپنی پتنی کو چود رہا ہے چاچی کو لگا جیسے وو اَپنے پتِ کے ساتھ سُہاگ رات مانا رہی ہے۔
شادی کے باد سُورج نے چاچِجی کی چُدائی جاری رکھی۔ نِشا کو بھی وو چودتا لیکِن اُسکو بِلکُل بھی مزا نہی آتا تھا،’ چاچِجی وو چُپچاپ لیٹی رہتی ہے کُچھ بھی نہی بولتی ایسا لگتا ہے جیسے کِسی لاش کو چود رہا ہُو،’ سُورج نے چاچِجی سے کہا۔ “ بیٹا، میں ہُو نا تیرے گرم لںڈ کے لِئے کبھی کبھی اُسکو چیںج کے لِئے چود دِیا کر،’ چاچی بولی۔ نِشا شادی کے ٹھیک 4 مہینے باد گربھوتی ہو گیی اؤر بچّا پیدا کرنے اَپنے میکے چلی گیّ، سُورج کی چاچی- چاچا کی چُدائی چلتی رہی۔ اُدھر گیتا کی ما تو چل بسی تھی وو بھی اَب زیادا کام نہی کرتی تھی، اُسکی 18 سال کی بیٹی پُونم اَب گھر کا کام کرتی تھی۔ وو ایکدُوم کالے رںگ کیٹ ہی اؤر اُسکے بُوبس موٹے تھے اؤر اُسکے دُبلے پتلے بدن پیر اَلگ سے نزر آتے تھے۔ کوئی 36-37 کا سائیز ہوگا۔ سُورج کے مُوہ میں اُسکے بُوبس دیکھتے ہی پانی آاَ جاتا۔ وو اُسکے کالے نِپلس کی کلپنا کرتا۔ پُونم کی کمر پتلی تھی گاںد آوریج تھی کوئی 34 کی ہوگی۔ “ چاچی پُونم کی چُدائی کارواو نا اُسکے بُوبس دیکھ کر لںڈ بیقابُو ہو جاتا ہے،’ سُورج نے چاچی کے سامنے پھرمائیش رکھی۔ اَگلے دِن گیتا کو کونے میں لے جا کر چاچی نے پُوچھا،’ گیتا سُورج کا تیری بیٹی کو چودنے کا بڑا من ہے، کیا کرے؟’ اُسنے پُوچھا،’ دو- تین مہینے رُک جاّو چاچِجی، اِسکا گؤنا ہو گیا ہے، شادی ہو جائے پھِر کوئی دِکّت نہی،’ اُسنے کہا۔ کبھی کبھی گیتا کے ساتھ اُسکا 16 سال کا بیٹا کالُو بھی گھر آ جاتا تھا۔ ایک دِن گیتا نے چاچِجی سے کہا،’ چاچِجی کالُو کا لںڈ بھی تیّار ہے، کہو تو آپکی چُوت پیر چوٹ کروا دُو؟” اُسنے پُوچھا، چاچی جیسا چُڑکّڑ کہا منا کرنے والا تھا۔
اَگلے دِن کالُو نِکّیر پہن کر ما کے ساتھ آیا۔ “ کالُو تُو چاچِجی کے کمرے میں جا اُنکے بدن میں درد ہے اُنکی مالِش کر آ،’ گیتا نے اَپنے بیٹے سے کہا۔ کالُو کمرے میں گیا تو دیکھا چاچِجی کھالی برا اؤر چڈّی پہن کر اُلٹی لیتی ہُئی تھی اُنکی موٹی گاںد کالُو کو ساپھ دِکھائی دے رہی تھی۔ بیک اؤر ٹاںگو پیر مالِش کرتے کرتے کالُو کا لںڈ بیقابُو تھا۔ اُسکا نِکّیر پھٹا جا رہا تھا۔ چچجی سیدھی ہُئی۔ کالُو اُنکی تھائیس اؤر پیٹ اؤر کںدھو پیر مالِش کر رہا تھا، چاچِجی نے اُسکا کھڑا لںڈ دیکھ کر برا اُتار دی اؤر بولی،’ لے بیٹا تھوڑی اِدھر بھی مالِش کر دے۔’ کالُو چاچی کے موٹے موٹے بُوبس مسالنے لگا۔ دو مِنِٹ باد ہی چاچِجی نے چڈّی نیچے کھِسکا دی اؤر بولی،’ کالُو بیٹا اِدھر بھی تیل لگا کر اَچّھی مالِش کر دے۔’ کالُو نے پہلی بار اَسلی چُوت دیکھی تھی وو بھی اِتنی نزدیک سے، وو چُپچّھپ چُوت کی مالِش کرنے لگا۔’ بیٹا تھوڑی اُںگلی سے اِسکی چُدائی بھی کر دے،’ چاچی بولی۔ کالُو چاچِجی کی چُوت میں اَپنی اُںگلی اَںڈر باہر کرنے لگا۔
(¨`·.·´¨) Always
`·.¸(¨`·.·´¨) Keep Loving &;
(¨`·.·´¨)¸.·´ Keep Smiling !
`·.¸.·´ -- raj sharma

Post Reply