پیاسا دِل پیاسی رات

Post Reply
User avatar
rajaarkey
Super member
Posts: 6902
Joined: 10 Oct 2014 10:09
Contact:

پیاسا دِل پیاسی رات

Post by rajaarkey » 25 Oct 2017 18:02

پیاسا دِل پیاسی رات



ہم لوگ شہر کی گھنی آبادی کے ایک مدھیم ورگیے مُہلّے میں رہتے تھے۔ وہاں لگبھگ سبھی مکان دو مںجِل کے اؤر پُرانے ڈھںگ کے تھے اؤر سبھی گھروں کی چھتیں آپس میں مِلی ہُئی تھی۔ میرے گھر میں ہم مِیا بیوی کے ساتھ میری بُوڑھی ساس بھی رہتی تھی۔ یہ کہانی میرے پڑوس میں رہنے والے ایک لڑکے راج کی ہے جو پِچھلے مہینے سے 6-7 ہمارے ساتھ والے گھر میں کِرایے پر رہتا تھا۔ راج اَبھی تک کُںوارا ہی تھا اؤر میرا دِل اُس پر آ گیا تھا۔

میرے پتِ کی ڈیُوٹی شِفٹ میں چلتی تھی۔ جب رات کی شِفٹ ہوتی تھی تو میں چھت پر اَکیلی ہی سوتی تھی کیوںکِ گرمی کے دِن تھے۔ راز اؤر میں دونو اَکسر رات کو باتیں کرتے رہتے تھے۔ رات کو چھت پر ہی سوتے تھے۔

آج بھی ہم دونو رات کو کھانا کھا کر روج کی ترہ چھت پر باتیں کر رہے تھے۔ روج کی ترہ اُسنے اَپنا سفید پجاما پہن رکھا تھا۔ وو رات کو سوتے سمے اَںڈروِیر نہیں پہنتا تھا، یے اُسکے پجامے میں سے ساف ہی پتا چل جاتا تھا۔ اُسکے جھُولتا ہُئے لنڈ کا اُبھار باہر سے ہی پتا چل جاتا تھا۔ میںنے بھی اَب رات کو پیںٹی اؤر برا پہنّا بںد کر دِیا تھا۔

میر من راج سے چُدوانے کا بہُت کرتا تھا۔ّ۔۔ کیُںکِ شاید وو ہی ایک جوان لڑکا تھا جو مُجھسے بات کرتا تھا اؤر مُجھے لگتا تھا کِ اُسے میں پٹا ہی لُوںگی۔ وو بھی شاید اِسی چکّر میں تھا کِ اُسے چُدائی کا مجا مِلے۔ اِسلِیے ہم دونوں آجکل ایک دُوسرے میں وِشیش رُچِ لینے لگے تھے۔ وو جب بھی میرے سے بات کرتا تھا تو اُسکی اُتّیجنا اُسکے کھڑے ہُئے لنڈ سے جاہِر ہو جاتی تھی، جو اُسکے پجامے میں سے ساف دِکھتا تھا۔ اُسنے اُسے چھِپانے کی کوشِش بھی کبھی نہیں کی۔ اُسے دیکھ کر میرے بدن میں بھی سِرہن سی دؤڑ جاتی تھی۔

میں جب اُسکے لنڈ کو دیکھتی تھی تو وو بھی میری نجریں بھاںپ لیتا تھا۔ ہم دونو ہی پھِر ایک دُوسرے کو دیکھ کر شرما جاتے تھے۔ اُسکی نجریں بھی جیسے میرے کپڑوں کو بھید کر اَندر تک کا مُآینا کرتی تھی۔ مؤکا مِلنے پر میں بھی اَپنے بوبے کو ہِلا کر۔ّ۔ّیا نیچے جھُک کر دِکھا دیتی تھی یا اُسکے شریر سے اَپنے اَںگوں کو چھُلا دیتی تھی۔ ہم دونو کے من میں آگ تھی۔ پر پہل کؤن کرے، کیسے ہو۔ّ۔ّ؟

میری چھت پر اَںدھیرا اَدھِک رہتا تھا اِسلِیے وو میری چھت پر آ جاتا تھا، اؤر بہانے سے اَںدھیریپن کا فایدا ہم دونو اُٹھاتے تھے۔ آج بھی وو میری چھت پر آ گیا تھا۔ میں چھت پر نیچے بِستر لگا رہی تھی۔ وو بھی میری سہیتا کر رہا تھا۔ چُوںکی میںنے پیںٹی اؤر برا نہیں پہن رکھی تھی اِسلِیے میرے بلاُّوج میں سے میرے ستن، جھُکنے سے اُسے ساف دِکھ رہے تھے۔ّ۔ّجِسے میں اؤر بِستر لگانے کے بہانے جھُک جھُک کر دِکھا رہی تھی۔ اُسکا لنڈ بھی کھڑا ہوتا ہُآ اُسکے پزامے کے اُبھار سے پتا چل گیا تھا۔ مُجھے لگتا تھا کِ بس میں اُسکے مست لنڈ کو پکڑ کر مسل ڈالُو۔

"بھابھی۔ّ۔۔ بھیّا کی آج بھی نائیٹ ڈیُوٹی ہے کیا۔ّ۔ّ؟"

"ہاں۔ّ۔۔ اَبھی تو کُچھ دِن اؤر رہیگی۔ّ۔۔ کیوں کیا بات ہے۔ّ۔ّ؟"

"اؤر ماں جی کیا سو گئی ہیں۔ّ۔ّ؟"

"بڑی پُوچھتاچھ کر رہے ہو۔ّ۔۔ کُچھ بتاّو تو۔ّ۔۔!" میں ہںس کر بولی۔

" نہیں بس۔ّ۔۔ ایسے ہی پُوچھ لِیا۔ّ۔۔" یے روز کی ترہ مُجھسے پُوچھتا تھا، شاید یے پتا لگاتا ہوگا کِ کہیں اَچانک سے میرے پتِ نا آ جاّیں۔

ہم دونو اَب چھت کی بیچ کی مُںڈیر پر بیٹھ گیے۔ّ۔۔ مُجھے پتا تھا اَب وو میرے ہاتھ چھُونے کی کوشِش کریگا۔ روز کی ترہ ہاتھ ہِلا ہِلا کر بات کرتے ہُئے وو مُجھے چھُونے لگا۔ میں بھی مؤکا پا کر اُسے چھُوتی تھی۔، پر میرا وار اُسکے لنڈ پر سیدھا ہوتا تھا۔ وو اُتّیجنا سے سِمٹ جاتا تھا۔ ہم لوگ کُچھ دیر تک تو باتے کرتے رہے پھِر اُٹھ کر ٹہلنے لگے۔ّ۔۔ ٹھںڈی ہوا میرے پیٹیکوٹ میں گھُس کر میرے چُوت کو اؤر گانڈ کو سہلا رہی تھی۔ّ۔۔ مُجھے دھیمی اُتّیجنا سی لگ رہی تھی۔

جیسی آشا تھی ویسا ہی ہُآ۔ راج نے آج پھِر مُجھے کُچھ کہنے کی کوشِش کی، میںنے سوچ لِیا تھا کِ آج یدِ اُسنے تھوڑی بھی شُرُوآت کی تو اُسے اَپنے چکّر میں پھںسا لُوںگی۔

اُسنے دھیرے سے جھِجھکتے ہُئے کہا -"بھابھی۔ّ۔۔ میں ایک بات کہُوں۔ّ۔۔ بُرا تو نہیں منوگی " مُجھے سِرہن سی دؤڑ گیّ۔ اُسکے کہنے کے اَنداج سے میں جان گئی تھی کِ وو کیا کہیگا۔

"کہو نا۔ّ۔۔ تُمہاری کِسی بات کا بُرا مانا ہے میںنے۔ّ۔۔" اُسے بڑھاوا تو دینا ہی تھا، ورنا آج بھی بات اَٹک جایّگی۔

"نہیں۔ّ۔۔ وو بات ہی کُچھ ایسی ہے۔ّ۔۔" میرے دِل دِل کی دھڑکن بڑھ گئی۔ میں اَدھیر ہو اُٹھی۔ّ۔۔ میرا دِل اُچھل کر گلے میں آ رہا تھا۔ّ۔۔

"رام کسم۔ّ۔۔ بول دو نا۔ّ۔۔" میںنے اُسکے چیہرے کی ترف بڑی آشا سے دیکھا۔

"بھابھی آپ مُجھے اَچّھی لگتی ہیں۔ّ۔۔" آکھِر اُسنے بول ہی دِیا۔ّ۔ّاؤر میرا فںدا کس گیا۔

"راج۔ّ۔ّمیرے اَچّھے راج ۔۔ّ۔ پھِر سے کہو۔ّ۔ّہاں۔ّ۔۔ ہاں ۔۔ّ۔ کہو۔ّ۔۔ نا۔ّ۔۔" میںنے اُسے اؤر بڑھاوا دِیا۔

اُسنے کاںپتے ہاتھوں سے میرے ہاتھ پکڑ لِیے۔ اُسکی کںپکںپی میں مہسُوس کر رہی تھی۔ میں بھی ایکبارگی سِہر اُٹھی۔ اُسکی اور ہسرت بھری نِگہوں سے دیکھنے لگی۔

"بھابھی۔ّ۔۔ میں آپکو پیار کرنے لگا ہُوں۔ّ۔۔!" لڑکھڑاتی جُبان سے اُسنے کہا۔

"چل ہٹ۔ّ۔۔ یے بھی کوئی بات ہے۔ّ۔۔ پیار تو میں بھی کرتی ہُوں۔ّ۔۔!" میںنے ہںس کر گمبھیرتا توڑتے ہُئے کہا

" نہیں بھابھی۔ّ۔۔ بھابھی والا پیار نہیں۔ّ۔۔ " اُسکے ہاتھ میرے بھاری بوبے تک پہُںچنے لگے تھے۔ میںنے اُسے بڑھاوا دینے کے لِیے اَپنے بوبے اؤر اُبھار لِیے۔ پر بدن کی کںپکںپی بڑھ رہی تھی۔ اُسے بھی شاید لگا کِ میںنے ہری جھںڈی دِکھا دی ہے۔ اُسکے ہاتھ جیسے ہی میرے اُروج پر پہُںچے۔ّ۔ّمیرا پُورا شریر تھرّا گیا۔ میں سِمٹ گیّ۔

"راऽऽऽऽج۔ّ۔۔ نہیںऽऽऽ۔۔ّ۔ّ۔ّ۔ ہاے رے۔ّ۔۔" میںنے اُسکے ہاتھوں کو اَپنی چھاتی پر ہی پکڑ لِیا، پر ہٹایا نہیں۔ اُسکے شریر کی کںپکپی بھی بڑھ گیّ۔ اُسنے میرے چیہرے کو دیکھا اؤر اَپنے ہوںٹھ میرے ہوںٹھو کی ترف بڑھانے لگا۔ مُجھے لگا میرا سپنا اَب پُورا ہونے والا ہے۔ میری آںکھے بںد ہونے لگی۔ میرا ہاتھ اَچانک ہی اُسکے لنڈ سے ٹکرا گیا۔ اُسکا تناو کا اَہساس پاتے ہی میرے روںگٹے کھڑے ہو گیے۔ میرے چُوت کی کُلبُلاہٹ بڑھنے لگی۔ اُسکے ہاتھ اَب میرے سینے پر ریںگنے لگے۔ میری ساںسے بڑھ چلی۔ وو بھی اُتّیجنا میں گہری ساںسے بھر رہا تھا۔ میں اَتِاُتّیجنا کے کارن اَپنے آپ کو اُسّے دُور کرنے لگی۔ مُجھے پسینا چھُوٹنے لگا۔ میں ایک کدم پیچھے ہٹ گیّ۔

"بھابھیऽऽऽ ۔۔ّ۔ّ۔ّ۔ مت جاّو پلیج۔ّ۔۔" وہ آگے بڑھ کر میری پیٹھ سے چِپک گیا۔ اُسکا ایک ہاتھ میرے پیٹ پر آ گیا۔ میرا نیچے کا ہِسّا کاںپ گیا۔ میرا پیٹ کںپکںپی کے مارے تھرتھرانے لگا۔ میری ساںسے رُک رُک کر نِکل رہی تھی۔ اُسکا ہاتھ اَب میری چُوت کی ترف بڑھ چلا۔ میرے پیٹیکوٹ کے اَندر ہاتھ سرکتا ہُآ میری چُوت کے بالوں پر آگیا۔ اَب اُسنے تُرنت ہی میری چُوت کو اَپنے ہاتھوں سے ڈھاںپ لِیا۔ میں دوہری ہوتی چلی گیّ۔ سامنے کی اور جھُکتی چلی گیّ۔ اُسکا لنڈ میری چُوتڑوں کِ درار کو رگڑتا ہُآ گانڈ کے چھید تک گھُس گیا۔ میں اَب ہر ترف سے اُسکے کبجے میں تھی۔ وہ میری چُوت کو دبا رہا تھا۔ میری چُوت گیلی ہونے لگی تھی۔

"راج۔ّ۔۔ ہاऽऽऽے رے۔ّ۔ّ۔ّ۔۔ میرے رام جی۔ّ۔۔ میں مر گئی !" میںنے اُسکا ہاتھ نہیں ہٹایا اؤر وو جیادا اُتّیجِت ہو گیا۔

"بھابھی۔ّ۔۔ آپ کِتنی پیاری ہے۔ّ۔۔" میںنے جب کوئی وِرودھ نہیں کِیا تو وہ کھُل گیا۔ اُسنے مُجھے اَب جکڑ لِیا۔ میرے ستنو کو اَپنے کبجے میں لیکر ہولے ہولے سہلانے لگا۔ اُسکے پیار بھرے آلِںگن نے اؤر مدھُر باتوں نے مُجھے اُتّیجنا سے بھر دِیا۔ جِس پیار بھرے تریکے سے وو یے سب کر رہا تھا۔ّ۔۔ میںنے اَپنے آپکو اُسکے ہوالے کر دِیا۔ میرا شریر واسنا کے مارے جھنجھنا رہا تھا۔ اُسکا لنڈ میری گانڈ کے چھید پر دستک دے رہا تھا۔

"تُم مُجھے پیار کرتے ہو۔ّ۔۔!" میںنے واسنا میں اُسے پیار کا اِزہار کرنے کو کہا۔

"ہاں بھابھی۔ّ۔۔ بہُت پیار کرتا ہُوں۔ّ۔ّتب سے جب میں آپسے پہلی بار مِلا تھا !"

"دیکھو راج۔ّ۔ّ۔ّ۔ّیے بات کِسی کو نہیں بتانا۔ّ۔۔ میری اِجّت تُمہارے ہاتھ میں ہے۔ّ۔۔ میں بدنام ہو جاُّوںگی۔ّ۔۔ میں مر جاُّوںگی۔ّ۔۔!" میںنے اُس پر اَپنا جال فیںکا۔

"بھابھی۔ّ۔۔ میں مر جاُّوںگا۔ّ۔ّپر یے بھید کِسی کو نہیں کہُوںگا۔ّ۔۔" میری وِنتی سے اُسکا دِل پِگھل اُٹھا۔

"تب دیری کیُوں۔ّ۔۔ میرا پیٹیکوٹ اُتار دو نا۔ّ۔۔ اَپنے پجامے کی رُکاوٹ ہٹا دو۔ّ۔۔" مُجھسے اَب بِنا چُدے رہا نہیں جا رہا تھا۔ اُسنے میرے پیٹیکوٹ کا ناڑا کھول ڈالا اؤر پیٹیکوٹ اَپنے آپ نیچے فِسل گیا۔ اُسکا لنڈ بھی اَب سوتنتر ہو گیا تھا۔

"بھابھی۔ّ۔۔ آجنا ہو تو پیچھے سے شُرُ کرُو۔ّ۔۔ تُمہاری پیارے پیارے گول گول چُوتڑ مُجھے بہُت پسند ہے۔ّ۔۔" اُسنے اَپنی پسند بِنا کِسی ہِچک کے بتا دی۔

"راऽऽऽج۔ّ۔۔ اَب میں تُمہاری ہُو۔ّ۔۔ پلیز اَب کہیں سے بھی شُرُو کرو۔ّ۔۔ پر جلدی کرو۔ّ۔۔ بس گھُسا دو۔ّ۔۔" میںنے راج سے اَپنی دِل کی ہالت بیاں کر دی۔

"بھابھی۔ّ۔۔ جرا میرے لنڈ کو ایک بار پیار کر لو اؤر تھُوک لگا دو۔ّ۔۔" میںنے پیار سے اُسے دیکھا اؤر نیچے جھُک کر اُسکا لنڈ اَپنے مُںہ میں بھر لِیا۔ّ۔۔ ہاے رام اِتنا مست لنڈ !۔۔ّ۔ وو تو مستی میں فنفنا رہا تھا۔ میںنے اُسکا سُپاڑا کس کے چُوس لِیا۔ اؤر پھِر ڈھیر سارا تھُوک اُس پر لگا دِیا۔ اَب میں کھڑی ہو گیّ۔ّ۔۔ راج کے ہوںٹھو کے چُوما۔ّ۔۔ اؤر اَپنے چُوتڑ اُگھاڑ کر پیچھے نِکال دی۔ میرے گورے چُوتڑ ہلکی روشنی میں بھی چمک اُٹھے۔ میںنے اَپنی چُوتڑ کی پیاری فاںکے اَپنے ہاتھوں سے چیر دی اؤر گانڈ کا چھید کھول کر دے دِیا۔ میرے تھُوک سے بھرا ہُآ اُسکا لنڈ میری گانڈ کے چھید پر آ ٹِکا۔ میںنے ہلکا سا گانڈ کا دھکّا اُسکے لنڈ پر مارا۔ اُسکی سُپاری میرے گانڈ کے چھید میں فںس گیّ۔ اُسکے لنڈ کے اَںدر گھُستے ہی مُجھے اُسکی موٹائی کا اَنُمان ہو گیا۔

"راج۔ّ۔۔ پلیج۔ّ۔۔ چلو ن اَب۔ّ۔۔ چلو۔ّ۔ّکرو نا !" پر لگا اُسے کُچھ تکلیف ہُئی۔ میںنے پیچھے جور لگایا تو اُسنے بھی لنڈ کو دبا کر اَںدر گھُسیڑ دِیا۔ پر اُسکے مُکھ سے چیکھ نِکل گیّ۔

"بھابھی۔ّ۔۔ لگتی ہے۔ّ۔۔ جلتا ہے۔ّ۔۔" مُجھے تُرنت مالُوم ہو گیا کِ اُسنے مُجھے ہی پہلی بار چودا ہے۔ اُسکے لنڈ کی سکِن فٹ چُکی تھی۔ میرا من کھُشی سے بھر اُٹھا۔ مُجھے ایک فریش مال مِلا تھا۔ ایک بِلکُل نیا لنڈ مُجھے نسیب ہُآ تھا۔ میرے پر ایک نشا سا چڑھ گیا۔

"راجا۔ّ۔۔ باہر نِکال کر دھکّا مارو نا۔ّ۔۔ دیکھو تو میرا من کیسا ہو رہا ہے۔ ایسی جلن تو بس دو مِنٹ کی ہوتی ہے۔ّ۔۔" میںنے اُسے بڑھاوا دِیا۔

اُسنے میرا کہا مان کر اَپنا لنڈ تھوڑا سا نِکال کر دھیرے سے واپس گھُسیڑا۔ پھِر دھیرے دھیرے رفتار بڑھانے لگا۔ میں اُسکا لنڈ پا کر مست ہو اُٹھی تھی۔ میںنے اَپنے دونو ہاتھ چھت کی مُںڈیر پر رکھ لِیے تھے اؤر گھوڑی بنی ہُئی تھی۔ میںنے اَپنے دونو پاںو پُورے کھول رکھے تھے۔ چُوتڑ باہر اُبھار رکھے تھے۔ راج نے اَب میرے بوبے اَپنے ہاتھوں میں بھر لِیے اؤر مسلنے لگا۔ میں واسنا کے مارے تڑپ اُٹھی۔ اُسے لنڈ پر چوٹ لگ رہی تھی پر اُسے مجا آ رہا تھا۔ اُسکے دھکّے بڑھتے ہی جا رہے تھے۔ اُتّیجنا کے مارے میری چُوت پانی چھوڑ رہی تھی۔ اَچانک اُسنے اَپنا لنڈ باہر نِکال لِیا۔ّ۔۔ اؤر میری ترف دیکھا۔ میں اُسکا اِشارا سمجھ گیّ۔ میں بِستر پر آ کر لیٹ گیّ۔

"بھابھی۔ّ۔۔ آپ بہُت پیاری ہے۔ّ۔ّسچ بہُت مجا آ رہا ہے۔ّ۔۔ جِندگی میں پہلی بار اِتنا مجا آیا ہے۔ّ۔۔" مُجھے پتا تھا کِ جب پہلی بار کِسی چُوت میں لنڈ جایّگا تو ۔۔ّ۔مجا تو نیا ہوگا۔ّ۔۔ اِسلِیے آتما تک تو آنّد مِلیگا۔ اؤر پھِر میری تو جیسے سُہاگ رات ہو گیّ۔ّ۔۔ کئی دِنوں باد چُدی تھی۔ پھِر کِتنے ہی دِنوں سے من میں چُدنے کِ اِچّھا تھی۔ کِسمت تھی کِ مُجھے نیا لنڈ مِلا۔

راج میرے پاس بِستر پر آ گیا۔ میںنے اَپنی دونو ٹاںگے اُوپر اُٹھا دی اؤر چُوت کھول دی۔ راج نے آرام سے بیٹھ کر اَپنا لنڈ ہاتھ سے گھِسا اؤر ہِلا کر چُوت کے پاس رکھ دِیا۔ میں مُسکُرا اُٹھی۔ّ۔۔ اُسے یے نہیں پتا تھا کِ لنڈ کہاں رکھنا ہے۔ّ۔۔ میںنے اُسکا لنڈ پکڑ کر چُوت پر رکھ دِیا۔

"راجا۔ّ۔۔ نیے ہو نا۔ّ۔۔ تُمہے تو کھُوب مجا دُوںگی مے۔ّ۔ّآ جاّو۔ّ۔۔ مُجھ پر چھا جاّو۔ّ۔۔" میںنے چُدائی کا نیوتا دِیا۔

اُسنے ہلکا سا جور لگایا اؤر لنڈ بِنا کِسی رُکاوٹ کے میری گیلی چُوت کے اَندر سرکتا ہُآ گھُسنے لگا۔ مُجھے چُوت میں تیکھی میٹھی سی گُدگُدی اُٹھنے لگی اؤر لنڈ اَندر سرکتا رہا۔

"آہऽऽऽ ۔۔ّ۔ راج۔ّ۔۔ میرے پیار۔ّ۔۔ ہاے رے۔ّ۔ّ۔ّ۔۔ اؤر لمبا سا گھُسا دے۔ّ۔ّاَندر تک گھُسا دے۔ّ۔۔" میری آہ نِکلتی جا رہی تھی۔ سُکھ سے سرابور ہو گئی تھی۔ اُسنے میرے دونو چُوںچک کھیںچ ڈالے۔ّ۔۔ درد ہُآ ۔۔ّ۔ پر اَناڑی کا سُکھ ڈبل ہوتا ہے۔ّ۔۔ سب سہتی گیّ۔ اَب اُسکے دھکّے اِںجن کے پِسٹن کی ترہ چل رہے تھے۔ پر اَب وو میرے شریر کے اُوپر آ گیا تھا۔ّ۔ّمیں پُوری ترہ سے اُسّے دب گئی تھی۔ مُجھے پریشانی ہو رہی تھی پر میں کُچھ بولی نہی۔ّ۔۔ وو اَپنا لنڈ تیجی سے چُوت پر پٹک رہا تھا، جو مُجھے اَسیم آنّد دے رہا تھا۔

"بھابھی۔ّ۔۔ آہ رے۔ّ۔۔ تیری چُوت مارُوں۔ّ۔۔ اوہ ہاں۔ّ۔۔ چود ڈالُو۔ّ۔۔ تیری تو۔ّ۔۔ ہاے بھابھی۔ّ۔ّ۔ّ۔۔" اُسکی سِسکارِیاں مُجھے سُکُون پہُںچا رہی تھی۔ اُسکی گالِیاں مانو چُدائی میں رس گھول رہی تھی۔ّ۔۔

"میرے راجا۔ّ۔۔ چود دے تیری بھابھی کو۔ّ۔۔ مار اَپنا لنڈ۔ّ۔۔ ہاے رے راج۔ّ۔ّتیرا موٹا لنڈ۔ّ۔۔ چود ڈال۔ّ۔۔" میںنے اُسے گالی دینے کے لِیے اُکسایا۔ّ۔۔ اؤر راج۔ّ۔۔

" میری پیاری بھابھی۔ّ۔۔ بھوسڑی چود دُوں۔ّ۔۔ تیری چُوت فاڑ ڈالُو۔ّ۔۔ ہاے رے میری۔ّ۔۔ کُتِیا۔ّ۔ّمیری پیاری۔ّ۔۔" وو بولتا ہی جا رہا تھا۔

"ہاں میرے راجا ۔۔ّ۔ مجا آ رہا ہے۔ّ۔۔ مار دے میری چُوت ۔۔ّ۔"

"بھابھی ۔۔ّ۔تُم بہُت ہی پیاری ہو۔ّ۔ّکِتنے فُول جھڑتے ہے تُمہاری باتوں میں۔ّ۔۔ تیری تو فاڑ ڈالُوں۔ّ۔۔ سالی !" فکافک اُسکے دھکّے تیج ہوتے گیے۔ّ۔۔ میں مستی کے مارے سِسکارِیاں بھر رہی تھی۔ّ۔ّوو بھی جوش میں گالِیاں دے کر مُجھے چود رہا تھا۔ اُسکا لنڈ پہلی بار میری چُوت مار رہا تھا۔ سو لگ رہا تھا کِ وو اَب جیادا دیر تک رہ نہیں پایّگا۔

"اَرے۔ّ۔۔ اَرے۔ّ۔۔ یے کیا۔ّ۔ّ؟" میںنے پیار سے کہا۔ّ۔۔ اُسکا نِکلنے والا تھا۔ اُسکے شریر میں ایٹھن چالُو ہو گئی تھی۔ میں جانتی تھی کِ مرد کیسے جھڑتے ہیں۔

"ہاں بھابھی۔ّ۔۔ مُجھے کُچھ ہو رہا ہے۔ّ۔۔ شاید پیشاب نِکل رہا ہے۔ّ۔۔ نہیں نہیں۔ّ۔۔ یے ۔۔ّ۔یے۔ّ۔۔ ہای۔ّ۔۔ بھابھی۔ّ۔ّیے کیا۔ّ۔۔" اُسکے لنڈ کا پُورا جور میری چُوت پر لگ رہا تھا۔ اؤر ۔۔ّ۔ اؤر۔ّ۔۔ اُسکا پانی چھُوٹ پڑا۔ّ۔۔ اُسکا لنڈ فُولتا۔ّ۔۔ پِچکتا رہا میری چُوت میں سارا ویرے میری چُوت میں بھرنے لگا۔ میںنے اُسے چِپکا لِیا۔ وو گہری گہری ساںسے بھرنے لگا۔ اؤر ایک ترف لُڑھک گیا۔ میں پیاسی رہ گیّ۔ّ۔۔ پر وو ایک 22 ورشیے جوان لڑکا تھا، میرے جیسی 33 سال کی اؤرت کے ساتھ اُسکا کیا مُکابلا۔ّ۔ّ۔ اُسمیں تاکت تھی۔ّ۔ّجوش تھا۔ّ۔۔ پُوری جوانی پر تھا۔ وو تُرنت اُٹھ بیٹھا۔ وو شاید مُجھے چھوڑنا نہیں چاہ رہا تھا۔ مُجھے بھی لگ رہا تھا کِ کہی وو اَب چلا نا جایے۔ پر میرا اَنُمان گلت نِکلا۔ وو پھِر سے مُجھسے پیار کرنے لگا۔ مُجھے اَب اَپنی پیاس بھی تو بُجھانی تھی۔ میںنے مؤکا پا کر پھِر سے اُسے اُتّیجِت کرنا چالُو کر دِیا۔ کُچھ ہی دیر میں وو اؤر اُسکا لنڈ تیّار تھا۔ ایکدم ٹناٹن سیدھا لوہے کی ترہ تنا ہُآ کھڑا تھا۔

"بھابھی۔ّ۔ّپلیز ایک بار اؤر۔ّ۔۔ پلیج۔ّ۔۔" اُسنے بڑے ہی پیار بھرے شبدوں میں اَنُرودھ کِیا۔ پیاسی چُوت کو تو لنڈ چاہِیے ہی تھا۔ّ۔۔ اؤر پھِر مُجھے ایک بار تو کیا۔ّ۔۔ بار بار لنڈ چاہِیے تھا۔ّ۔۔

"میرے راجا۔ّ۔۔ پھِر دیر کیوں ۔۔ّ۔ چڑھ جاّو نا میرے اُوپر۔ّ۔۔" میںنے اَپنی ٹاںگے ایک بار پھِر چُدوانے کے لِیے اُوپر اُٹھا دی اؤر چُوت کے درواجے کو اُسکے لنڈ کے لِیے کھول دِیا۔

وو ایک بار پھِر میرے اُوپر چڑھ گیا۔ّ۔۔ اُسکا لوہے جیسا لنڈ پھِر میرے شریر میں اُترنے لگا۔ اِس بار اُسکا پُورا لنڈ گہرائی تک چود رہا تھا۔ میں فِر سے آنّد میں مست ہو اُٹھی۔ّ۔۔ چُوتڑوں کو اُچھال اُچھال کر چُدوانے لگی۔ اَب وو پہلے کی اَپیکشا سفائی سے چود رہا تھا۔ اُسکا کوئی بھی اَںگ میرے شریر سے نہیں چِپکا تھا۔ میرا سارا شریر فری تھا۔ بس نیچے سے میری چُوت اؤر اُسکا لنڈ جُڑے ہُیے تھے۔ دونو ہو بڑی سرلتا سے دھکّے مار رہے تھے۔ وار سیدھا چُوت پر ہی ہو رہا تھا۔ چھپ چھپ اؤر فچ فچ کی مدھُر آواجے اَب سپشٹ آ رہی تھی۔ وو میرے بوبے مسلے جا رہا تھا۔ میری اُتّیجنا دو چُدائی کے باد چرمسیما پر آنے لگی۔ّ۔۔ میرا شریر جمین پر پڑے بِستر پر کسنے لگا، میرا اَںگ اَںگ اَکڑنے لگا۔ میرے جِسم کا سارا رس جیسے اَںگ اَںگ میں بہنے لگا۔ میرے دونو ہاتھوں کو اُسنے دبا رکھے تھے۔ میرا بدن اُسکے نیچے دبا فڑفڑا رہا تھا۔

"میرے راجا۔ّ۔۔ مُجھے چود دے جور سے۔ّ۔ّہاے رام جی۔ّ۔۔ کس کے جرا۔ّ۔۔ اوہऽऽऽऽऽऽ ۔۔ّ۔ّ۔ّ۔ میں تو گئی میرے راجا۔ّ۔۔ لگا۔ّ۔ّجرا جور سے لگا۔ّ۔۔" میرے شریر میں تیج میٹھی میٹھی تراوٹ آنے لگی۔ّ۔۔ لگا سب کُچھ سِمٹ کر میری چُوت میں سما رہا ہے۔ّ۔۔ جو کِ باہر نِکلے کی تیّاری میں ہے۔

"میرے راجا۔ّ۔۔ جکڑ لے مُجھے۔ّ۔۔ کس لے ہاऽऽऽی۔ّ۔۔ میری تو نِکلی۔ّ۔۔ مر گییऽऽऽ اُوئیئیऽऽऽऽऽ آہऽऽऽऽऽ ۔۔ّ۔ " میں چرمسیما لاںگھ چُکی تھی۔ّ۔۔ اؤر میرا پانی چھُوٹ پڑا۔ پر اُسکا لنڈ تو تیجی سے چود رہا تھا۔ اَب اُسکے لنڈ نے بھی اَنگڑائی لی اؤر میری چُوت میں ایک بار پھِر پِچکاری چھوڑ دی۔ پر اِس بار میںنے اُسے جکڑ رکھا تھا۔ میری چُوت میں اُسکا ویرے بھرنے لگا۔ ایک بار پھِر سے میری چُوت میں ویرے چھوڑنے کا اَہساس دے رہا تھا۔ کُچھ دیر تک ہم دونوں ہی اَپنا رس نِکالتے رہے۔ جب پُورا ویرے نِکل گیا تو ہم گہری گہری ساںسے لینے لگے۔ میرے اُوپر سے ہٹ کر وو میرے پاس ہی لیٹ گیا۔ ہم دونو شانت ہو چُکے تھے۔ّ۔ّاؤر پُوری سنتُشٹِ کے ساتھ چِت لیٹے ہُئے تھے۔ رات بہُت ہو چُکی تھی۔ راج جانے کی تیّاری کر رہا تھا۔ اُسنے جانے سے پہلے مُجھے کس کر پیار کِیا۔ّ۔۔ اؤر کہا۔ّ۔۔"بھابھی۔ّ۔۔ آپ بہُت پیاری ہے۔ّ۔۔ آجنا ہو تو کل بھی۔ّ۔۔" ہِچکتے ہُیے اُسنے کہا، پر یہا کل کی بات ہی کہاں تھی۔ّ۔۔

میںنے اُسے کہا -"میرے راجا۔ّ۔ّمیرے بِستر پر بہُت جگہ ہے۔ّ۔۔ یہی سو جاّو نا۔ّ۔۔"

"جی۔ّ۔ّبھابھی۔ّ۔ّرات کو اَگر مُجھے پھِر سے اِچّھا ہونے لگی تو۔ّ۔۔"

"آج تو ہماری سُہاگرات ہے نا۔ّ۔۔ پھِر سے میرے اُوپر چڑھ جانا۔ّ۔ّاؤر چود دینا مُجھے۔ّ۔۔"

"بھابھی۔ّ۔ّآپ کِتنی۔ّ۔ّ۔ّ۔۔"

"پیاری ہُوں نا۔ّ۔۔ اؤر ہاں اَب سے بھابھی نہی۔ّ۔ّمُجھے کہو نیہا۔ّ۔ّسمجھے۔ّ۔۔" میںنیں ہںس کر اُسے اَپنے پاس لیٹا لِیا اؤر بچپن کی آدت کے اَنُسار میںنے اَپنا ایک پاںو


(¨`·.·´¨) Always
`·.¸(¨`·.·´¨) Keep Loving &;
(¨`·.·´¨)¸.·´ Keep Smiling !
`·.¸.·´ -- raj sharma

پیاسا دِل پیاسی رات

Sponsor

Sponsor
 

Post Reply