وطن کا سپاہی

User avatar
sexi munda
Gold Member
Posts: 827
Joined: 12 Jun 2016 12:43

Re: وطن کا سپاہی

Post by sexi munda » 29 Oct 2017 13:40



میجر نے اب اپنے لن کو جولی کی گانڈ میں تسلسل کے ساتھ اندر باہر کرنا شروع کر دیا تھا اور جولی مزے کی بلندیوں پر پہنچ چکی تھی۔ میجر کے ہر دھکے پر جولی کے گوشت سے بھرے ہوئے چوتڑ میجر کے جسم سے ٹکراتے تو دھپ دھپ کی آواز سے کمرہ گونجنے لگتا۔ نیچے سے سوزینا کی للی بھی اب جولی کی چوت کو مزہ دینے لگی تھی ، تھوڑی دیر کی چودائی کے بعد سوزینا کی للی نے پانی چھوڑ دیا اور اسکے دھکے لگنے بند ہوگئے۔ مگر جولی ابھی تک سوزینا کے اوپر ہی لیٹی تھی اور میجر کے جاندار دھکوں کا مزہ اپنی گانڈ میں لے رہی تھی۔

میجر نے 5 منٹ تک جم کر جولی کی گانڈ ماری آخر کا جولی کی گانڈ نے ہار مان لی اور وہ میجر سے بولی صاحب بس کر دو اب، میری گانڈ مزید آپکے لوڑَ کے دھکے برداشت نہیں کر سکتی۔ یہ سن کر میجر نے جولی کی گانڈ سے اپنا لن نکالا اور بیڈ سے نیچے اتر گیا، بیڈ سے نیچے اتر کر میجر نے جولی کو اپنی گود میں اٹھایا، جولی نے اپنی ٹانگیں میجر کی کمر کے گرد لپیٹ لی تھیں میجر نے اپنے لن کی ٹوپی کو جولی کی چوت پر رکھا اور جولی ایک جھٹکے مِں میجرکے لن پر اپنا وزن ڈال کر بیٹھ گئی، میجر کا لن جولی کی چوت میں گم ہوا تو میجر نے جولی کو گود میں اٹھائے اسکی چودائی شروع کی۔ میجر نے اپنے ہاتھ جولی کے چوتڑوں پر رکھے ہوئے تھے اور جولی نے میجر کی گردن میں اپنے بازو ڈالے ہوئے تھےجولی اپنی گانڈ اٹھا اٹھا کر اپنی چودائی کروا رہی تھی۔ ساتھ ساتھ وہ میجر کو ہونٹوں کو دیوانہ وار چوس رہی تھی، اسکو میجر کی مردانگی پر پیار آرہا تھا جو جولی کی چوت کا 2 بار پانی نکلوا چکا تھا اور اب بھی وہ جولی کی چوت میں دھکے مار رہا تھا۔

میجر مزید 5 منٹ تک جولی کو گود میں اٹھائے اسکی چوت میں لن سے کھدائی کرتا رہا، آخر کار میجر کا لن پھولنے لگا اور جولی کی چوت نے بھی میجر کے لن پر اپنے پیار کی بارش کرنے کا ارادہ کر لیا۔ مزید 4، 5 جاندار دھکوں سے جولی کی چوت نے میجر کے لن پر برسات کر دیاور جولی کے جسم کو جھٹکے لگنے لگے، ساتھ ہی میجر کے جسم کو بھی جھٹکے لگے اور اس نے اپنی گرما گرم منی جولی کی چوت میں ہی نکال دی۔ جب میجر کے لن سے ساری منی نکل گئی تو میجر نے جولی کو گود سے اتارا اور بیڈ پر ڈھے گیا۔ سوزینا اور جولی اب دونوں ہی میجر کے جسم پر ہاتھ پھیر رہی تھیں اور اسے پیار کر رہی تھیں۔ کچھ دیر کے بعد سوزینا نے کمرے میں موجود دوسرا دروازہ کھولا اور 3 منٹ بعد کمرے میں واپس آئی تو اسکے ہاتھ میں دودھ کا پیالہ تھا۔ سوزینا نے گرم گرم دودھ میجر کو پلایا جسے پی کر میجر ہشاش بشاش ہوگیا۔

اب میجر نے اپنے کپڑے پہنے اور دوسرے شخص کا اٹھایا ہوا بٹوہ نکال کر اس میں سے 1000 ، 1000 کے دو نوٹ نکالے اور جولی اور سوزینا کو دیے۔ دونوں نے نوٹ لینے سے انکار کر دیا اور کہا کہ صاحب آج عرصے بعد کسی اصلی مرد نے جم کر چودائی کی ہے آپ سے ہم پیسے نہیں لیں گی۔ آپ جب چاہو آکر ہماری چودائی کر سکتے ہو، میجر نے ایک بار پھر پیسے دینے پر اصرار کیا مگر دونوں میں سے کسی نے پیسے نہیں لیے البتہ دوبارہ آکر چودائی کرنے کی دعوت ضرور دی۔ میجر نے پیسے واپس بٹوے میں رکھا اور جولی کے ہونٹوں پر ایک پیار بھری کس کر کے کمرے سے نکل گیا۔

================================================== ==============
دوسری طرف تانیہ نے دوسرے شخص کو اپنے جسم کے جلوے دکھا دکھا کر پاگل کر دیا تھا۔ تانیہ کا ڈانس مکمل ہوا تو اس نے اس شخص کو جو آرمی کا آفیسر تھا بازو سے پکڑا اور اپنے ساتھ ایک کمرے میں لے گئی۔ وہ شخص بھی لہراتا ہوا نشے میں دھت تانیہ کی گانڈ کو گھورتا اسکے پیچھے پیچھے کمرے میں چلا گیا۔ کمرے میں پہنچ کر تانیہ نے اس شخص کو بیڈ پر لٹایا اور خود اسکے ساتھ لیٹ کر اسکی شرٹ اتار دی اور اسکے جسم پر ہاتھ پھیرنے لگی۔ اس شخص کی پینٹ سے اسکا کھڑا ہوا لن دیکھ کر تانیہ نے اپنے ہونٹوں پر زبان پھیری اور اسکے نپل پر اپنی زبان پھیرنے لگی۔ تانیہ اپنی زبان کی نوک اس شخص کے نپل پر پھیر رہی تھی جس پر اس شخس کو بہت مزہ آرہا تھا۔

کچھ دیر اس شخص کے نپل چوسنے کے بعد تانیہ نے اپنی ایک ٹانگ اس شخص کی ٹانگوں کے اوپر رکھ لی اور اسکی طرف کروٹ لے کر اسے ہونٹ چوسنے لگی۔ وہ شخص بھی نشے میں دھت تانیہ کے ہونٹ چوس رہا تھا اور اپنے ایک ہاتھ سے تانیہ کے چوتڑوں کو بھی دبا رہا تھا۔ کچھ دیر ہونٹ چوسنے کے بعد تانیہ نے اس شخص کی طرف دیکھا اور اسکے کان کے قریب اپنے ہونٹوں کو لیجا کر آہستہ سے بولی صاحب اپنا نام تو بتاو۔۔۔ وہ شخص نیم کھلی آنکھوں کے ساتھ تانیہ کو دیکھنے لگا اور پھر بولا لڑکی تم خوش قسمت ہو کہ آج تم کیپٹن مکیش کی بانہوں میں ہو۔ آج رات تمہیں اتنا مزہ دوں گا کہ تم ہمیشہ یاد رکھو گی۔ یہ کر اس نے تانیہ کے برا سے نظر آنے والے مموں پر اپنی نظریں جما دیں اور اپنا ایک ہاتھ تانیہ کے نرم نرم مموں پر رکھ کر انہیں دبانے لگا۔

تانیہ نے بھی اپنی ایک ٹانگ سے کیپٹن مکیش کا لن دبانا شروع کر دیا اور تھوڑی دیر کے بعد پھر بولی صاحب آج رات مجھے ایسے چودنا کہ جیسے پہلے کسی نے نا چودا ہو۔ کیپٹن نے کہا تجھے میں اپنی رنڈی بنا کر چودوں گا، فکر نہ کر تیری چوت بار بار پانی چھوڑی گے۔ اب تانیہ نے کہا صاحب کیا آپ روز آتے ہو یہاں؟؟؟ کیپٹن نے تانیہ کے مموں پر نظریں جمائے کہا نہیں میں تو ممبئی کا رہنے والا ہوں، ایک پاکستانی کتے کو پکڑے کے لیے یہاں آیا تھا مگر کرنل صاجب نے بتایا کہ وہ یہاں سے چلا گیا ہے اس لیے آج صبح کی فلائٹ سے میں واپس ممبئی جا رہا ہوں۔ یہ سن کر تانیہ نے نے اپنا ہاتھ کیپٹن مکیش کے لن پر رکھ لیا اور اسکو پینٹ کے اوپر سے ہی سہلانے لگی۔ تانیہ کے ہاتھوں کو اپنے لن پر محسوس کر کے کیپٹن کا لن اور بھی زیادہ اکڑنے لگا تھا۔

اب کی بار تانیہ نے کہا صاحب ممبئی میں کہاں رہتے ہو آپ؟؟ مجھے ممبئی کے کسی ڈانس کلب میں نوکری دلوا دو نا۔ میں ساری زندگی آپکی داسی بن کر رہوں گی۔ پھر روز ڈانس کلب میں ڈانس کرنے کے بعد آپکو اپنے جسم کی گرمی سے سکون دیا کروں گی۔ تانیہ کی یہ بات سن کر کیپٹن نے کہا تیرے جیسی رنڈیاں جامنگر میں ہی ٹھیک ہیں، ممبئی کے ڈانس کلب میں ہائی کلاس ڈانسرز ہوتی ہیں جو باہر سے ڈانس سیکھ کر آتی ہیں۔ ویسے بھی میں شادی ہوں۔ میری پتنی میرے ساتھ ہے صبح وہ میرے ساتھ ہی ممبئی جائے گی اور ممبئی میں میرا کسی لڑکی کے ساتھ کوئی چکر نہیں۔ میری پتنی کو تمہارے بارے میں پتا چل گیا تو وہ تمہیں جان سے مار دے گی۔ بس آج کی رات ہی میرے لوڑے سے اپنی چوت کی پیاس بجھا اور پھر مجھے بھول جا۔

یہ سن کر تانیہ مسکرائی اور بولی اچھا میں آپکے لیے جوس لے کر آتی ہوں۔ جوس پی کر آپ فریش ہوجاو پھر میرے جسم سےخوب کھیلنا۔ یہ کہ کر تانہ اپنی گانڈ ہلاتی ہوئی کمرے میں پڑے فریج کی طرف گئی اور وہاں موجود فریج سے ایک جوس کا ڈبہ نکالا اور گلاس میں ڈال کر اس میں ایک گولی بھی ڈالی اور اچھی طرح ہلا کر کیپٹن کے پاس آگئی کیپٹن جو اب بیڈ پر بیٹھ چکا تھا اس نے تانیہ کے چوتڑوں پر ہاتھ رکھا اور اسے اپنی طرف کھینچ کر اپنی گود میں بٹھا لیا۔ تانیہ بھی بلا جھجک اسکی گود میں بیٹھ گئی ، کیپٹن نے اپنے ہونٹ تانیہ کے مموں پر رکھے اور انہیں چوسنے لگا جب کہ جوس کا گلاس تانیہ کے ہاتھ میں ہی تھا۔ اس نے بھی کیپٹن کو پورا موقع دیا اپنے ممے چوسنے کا۔ تھوڑی دیر کے بعد جب کیپٹن نے تانیہ کے مموں کو چوس چوس کر لال کر دیا اور اسکا برا اتارنے لگا تو تانیہ نے کیپٹن کو روک دیا اور بولی صاحب پہلے یہ جوس پی لو پھر میرے سارے کپڑے اتار دینا۔

یہ سن کر کیپٹن نے تانیہ کے ہاتھ سے جوس کا گلاس پکڑا اور ایک ہی گھونٹ میں سارا گلاس خالی کر دیا۔ اب کیپٹن نے دوبارہ سے تانیہ کے مموں کو گھورنا شروع کیا جو ابھی تک اسکی گود میں بیٹھی تھی۔ پھر کیپٹن کا ہاتھ تانیہ کی نرم و ملائم کمر پر رینگتا ہوا اسکے برا کی ڈوریوں تک آیا جن کو تانیہ نے گرہ لگا کر باندھا ہوا تھا۔ کیپٹن نے اسکے برا کی ڈوریاں کھول کر برا اتار دیا اور دور پھینک دیا۔ تانیہ کے 36 سائز کے بھرے ہوئے خوبصورت ممے کیپٹن نے دیکھے تو وہ تو پاگل ہی ہوگیا۔ مکھن ملائی جیسے گورے چٹے ممے اور پھر انکی شیپ دیکھ کر کیپٹن کی رال ٹپنکنے لگی تھی۔ کیپٹن نے اپنی زبان نکالی اور تانیہ کے چھوٹے چھوٹے نپلز پر پھیرنے لگا۔ تانیہ کی ایک سسکی نکلی اور اس نے اپنا ہاتھ کیپٹن کی گردن کے گرد لیپٹ لیا ، تانیہ نے کچھ دیر پہلے میجر دانش کے لن کو اپنی گانڈ پر محسوس کیا تھا تب سے اسکی چوت میں کھجلی ہو رہی تھی اور اب اپنے نپلز پر کیپٹن مکیش کی زبان لگنے سے تانیہ مدہوش ہونے لگی۔

کیپٹن نے اپنے ایک ہاتھ سے تانیہ کا بایاں مما پکڑ لیا تحا اور اسے دبا رہا تھا جبکہ دوسرا مما کیپٹن کے منہ میں تھا۔ وہ کبھی اپنے منہ سے تانیہ کا مما چوستا تو کبھی اپنے دانتوں سے تانیہ کے نپل کو کاٹتا۔ ابھی کیپٹن نے جی بھر کر تانیہ کے مموں پر پیار نہیں کیا تھا مگر اسکو اپنا سر بھاری بھاری محسوس ہونے لگا۔ اسے چکر آنے لگے تھے۔ وہ کچھ دیر کو رکا اور پھر دوبارہ سے تانیہ کے مموں سے دودھ پینے لگا، مگر پھر اسکو ایسے لگا جیسے وہ اپنے ہوش کھو رہا ہے۔ اور دیکھتے ہی دیکھتے کیپٹن بیڈ پر بے ہوش پڑا تھا جبکہ تانیہ اپنے کپڑے اتار کر دوسرے کپڑے پہن رہی تھی۔ تانیہ جن کپڑوں میں یہاں آئی تھی وہی کپڑے پہن کر اس نے کیپٹن کے کپڑوں کی تلاشی لی اور اس میں سے جو کچھ نکلا اسکو اپنی شرٹ کے گلے میں ہاتھ ڈال کر برا کے اندر رکھ لیا۔ اب تانیہ نے ایک بار میجر کی پینٹ کی طرف دیکھا جہاں کچھ دیر پہلے لن کھڑا ہوا نظر آرہا تھا مگر اب وہاں کسی لن کے آثار نہیں تھے۔

اب تانیہ نے آخری بار کیپٹن کی پینٹ کی جیب میں ہاتھ ڈالا تو وہاں اسے ایک کار کی چابی مل گئی۔ تانیہ نے چاپی اپنی پینٹ کی جیب میں ڈالی اور کمرے سے پرس اٹھا کر اس میں کچھ ضروری چیزیں ڈال کر باہر نکل گئی۔ باہر نکل کر اب وہ میجر دانش کو ڈھونڈنے لگی۔ تھوڑی ہی دیر میں اسے میجر دانش نظر آگیا جو جولی اور سوزینا کے کمرے سے نکل رہا تھا۔ تانیہ نے اسے ترچھی نظروں سے دیکھا اور بولی یہ جناب آپ اس کمرے میں کیا کر رہے تھے۔ میجر نے تانیہ کو سر سے پیر تک دیکھا اور بولا ابھی جو تمہارے ہاٹ ہاٹ ڈانس نے اور تمہارے نرم نرم جسم نے آگ لگائی تھی اسے بجھا رہا تھا۔ اپنے جسم کی تعریف سن کر تانیہ تھوڑا سا شرمائی اور اسکے چہرے پر لالی آگئی۔ پھر اس نے دانش کو کہا یہاں ہم کرن وشال سے بچتے پھر رہے ہیں اور جناب کو جسم کی گرمیاں نکالنے کی پڑی ہوئی ہے۔ یہ سن کر میجر نے کہا شکر کرو ادھر ہی نکال لی ہے جسم کی گرمی، ورنہ تمہارا ڈانس دیکھ کر جو میرا حال ہوا ہے راستے میں تمہیں ہی پکڑ لینا تھا میں نے۔ یہ سن کر تانیہ نے مصنوعی غصے کا اظہار کرتے ہوئے میجر کو گھور کر دیکھا اور بولی شرم کرو کچھ۔ یہ کہ کر وہ میجر دانش کا ہاتھ پکڑے اسے اپنے ساتھ لے گئی اور ایک کمرے کے سامنے جا کر رک گئی اس نے کمرے کا دروازہ کھولا اور میجر دانش کو اندر آنے کو کہا۔ میجر اندر آگیا تو تانیہ نے کمرہ باہر سے بند کر لیا اور میجر کو بتایا کہ وہ شخص کیپٹن مکیش ہے اور وہ ممبئی سے تمہیں پکڑنے ہی آیا تھا مگر کرنل وشال نے آرمی کو آرڈر دے دیا ہے کہ میجر دانش جامنگر سے اب فرار ہوچکا ہے لہذا جامنگر میں اسکی تلاش ختم کر دی جائے۔

تانیہ نے مزید بتایا کہ اب وہ کیپٹن مکیش صبح کی فلائٹ سے انڈین ائیر لائنز کے ذریعے اپنی بیوی کے ساتھ ممبئی جانے کا ارادہ رکھتا ہے۔ ساتھ ہی اس نے اپنی جینز کی جیب سے گاڑی کی چابی نکالی اور میجر دانش کی آنکھوں کے سامنے لہرانے لگی ۔ میجر نے پوچھا یہ کیا؟ تو وہ بولی کیپٹن کی گاڑی کی چابی۔ دانش نے کہا تم پاگل ہو کیپٹن کی گاڑی پر ہم فوری پکڑے جائیں گے اس نے فوری سے پہلے اپنی گاڑی گم ہونے کی اطلاع دے دینے ہے۔ اس پر تانیہ نے اٹھلاتے ہوئے کہا مسٹر صرف تم ہی عقلمند نہیں، تھوڑی عقل ہم میں بھی ہے۔ میں نے کیپٹن کو نیند کی گولی دے دی ہے اب وہ کل رات سے پہلے نہیں اٹھے گا جبکہ ہم صبح ہوتے ہی یہاں سے نکل جائیں گے۔ اسکے بعد تانیہ نے میجر کے سامنے ہی اپنی برا میں ہاتھ ڈالا تو میجر اوپر اٹھ کر تانیہ کی برا میں جھانکنے کی کوشش کرنے لگا، تانیہ کا ہاتھ برا میں گیا اور واپس آیا تو اس میں کچھ کاغذات تھے۔ تانیہ نے میجر کو اپنے برا کی طرف یوں دیکھتے ہوئے پایا تو بولی ابھی ابھی جولی کے کمرے سے نکلے ہو، اس نے تمہاری پیاس نہیں بجھائی کیا جو ابھی بھی ندیدوں کی طرح مجھے دیکھ رہے ہو؟؟؟

یہ سن کر مجر نے کہا جو بات تم میں ہے وہ جولی میں کہاں۔ یہ کہ کر میجر نے تانیہ کو آنکھ ماری اور اسکے ہاتھ سے کاغزات لیکر دیکھنے لگا۔ یہ کیپٹن مکیش کےممبئی کے ٹکٹ تھے۔ ایک کیپٹن مکیش جب کہ دوسرا اسکی بیوی کا تھا۔ میجر نے دونوں ٹکٹ سنبھال کر اپنے پاس رکھ لی، مزید کاغزات میں کیپٹن مکیش کا آئی ڈی کارڈ اور آرمی کے کچھ کارڈز تھے۔ ان میں ایک کارڈ کرنل وشال کا بھی تھا ۔ میجر دانش نے کارڈ پر میجر کا نام پڑھا اور نمبر دیکھا۔ لینڈ لائن نمبر کے ساتھ سٹی کوڈ بھی موجود تھا کوڈ ممبئی کا ہی تھا اسکا مطلب تھا کہ کرنل وشال اصل میں ممبئی میں ہوتا ہے مگر میجر دانش کو پکڑے کی غرض سے جامنگر آیا ہے۔

کرنل وشال کا کارڈ دیکھ کر میجر دانش نے فوری فیصلہ کیا کہ اب چھپ چھپ کر بھاگنے کی بجائے کرنل وشال کو ٹف ٹائم دینے کا وقت آگیا ہے، اب کرنل سے بچ کر بھاگنا نہیں بلکہ اس پر حملہ کرنا ہے۔ یہ سوچ کر میجر نے تانیہ کو کہا کہ اب کچھ دیر کے لیے سوجاتے ہیں نیند پوری کر کے صبح صبح یہاں سے نکلیں گے اور آگے کا پلان بنائیں گے۔

تانیہ نے اوکے کہا اور سیدھی سامنے پڑے بیڈ پر جا کر لیٹ گئی اور فوری طور پر دانش کی طرف منہ کر کے بولی تم نے وہیں صوفے پر سونا ہے بیڈ پر صرف میں لیٹوں گی۔ دانش تانیہ کی بات سن کر مسکرایا اور بولا جیسے محترمہ کا حکم۔ یہ کہ کر میجر پاس پڑے صوفے پر لیٹ گیا اور کچھ ہی دیر میں اسکے خراٹوں کی آوازیں آنے لگیں تھیں۔

================================================== =========

جب سے وجی نے مری کے ہوٹل میں پنکی کے ہونٹوں کا رس چوسا تھا وہ اسکا پہلے سے زیادہ دیوانہ ہوگیا تھا، ہونٹوں کے ساتھ ساتھ وجی نے کافی دیر اپنے ہاتھ سے پنکی کے نرم نرم چوتڑ بھی دبائے تھے اور ایک بار اسکے مموں کے ابھاروں پر بھی اپنا ہاتھ رکھا تھا جسکو پنکی نے فورا ہی ہٹا دیا تھا۔ وجی بھی اب اپنی بہن عالیہ اور والدین کے ساتھ کراچی واپس آچکا تھا۔ مگر اسکے ذہن سے ابھی تک پنکی کے ساتھ گزرے ہو چند خوبصورت لمحات مٹ نہیں پائے تھے۔ وہ ہر وقت پنکی کے بارے میں سوچتا اور اسکی خوبصورتی اور ہونٹوں کے لمس کو یاد کرتا رہتا۔ کراچی سے واپس آکر اسکی ایک دو بار پنکی سے ملاقات تو ہوئی مگر اسے کوئی ایسا موقع نہیں مل پایا تھا کہ وہ دوبارہ سے پنکی کے لبوں سے اپن لب ملا سکے۔ اسکی پنکی سے ملاقات کے دوران اسکی بہن عالیہ بھی ساتھ تھی اور اس نے اپنے بھائی کی بے تابی کو محسوس کر لیا تھا۔ عالیہ نے اس بارے میں پنکی سے بات کرنے کی ٹھان لی اور ایک دن موقع غنیمت جان کر اور پنکی کو خوشگوار موڈ میں دیکھ کراس نے پنکی سے پوچھ ہی لیا کہ کیا وہ وجی سے پیار کرتی ہے؟؟؟

عالیہ کے اس اچانک سوال پر پنکی حیران بھی ہوئی اور ساتھ میں اسکے پنک پنک گالوں پر لالی بھی اتر آئی اور اس نے شرماتے مسکراتے اپنا منہ نیچے کر لیا۔ عالیہ کہ پنکی کی اس ادا پر بے تحاشہ پیار آیا اور اس نے عالیہ کا چہرہ اپنے ہاتھ سے اوپر اٹھاتے ہوئے کہا، واہ مہارانی صاحبہ کا تو خوشی سے لال ہوگیا ہے۔ اب کی بار پنکی عالیہ کو کوئی جوان دینے کی بجائے اسکے گلے سے لگ گئی۔ یہ عالیہ کے لیے واضح جواب تھا کہ پنکی اسکے بھائی وجی سے پیار کرتی ہے۔ اب عالیہ نے پنکی کو بتایا کہ وہ اس بارے میں اپنے ممی ڈیڈی سے بات کرے گی اور وہ لوگ پھر تمہارے گھر تمہارا ہاتھ مانگنے آئیں گے اور میں تمہیں اپنی بھابھی بنا کر اپنے گھر لے آوں گی۔ یہ سن کر پنکی کے دل میں لڈو پھوٹنے لگے اور ایک بار پھر وہ عالیہ سے گلے لگ گئی مگر بولی کچھ نہیں۔

پھر واقعی کچھ دن کے بعد وجی کے والدین عالیہ کے ساتھ پنکی کے گھر آئے اور پنکی کی والدہ سے پنکی کا ہاتھ مانگ لیا۔ پنکی کو جب اس بارے میں پتا لگا تو وہ شرم کے مارے کچن میں ہی چھپ گئی۔ عفت نے اپنی نند کو یوں شرماتے دیکھا تو اسکا ماتھا چوم لیا اور بولی چلو جا کر اپنے ہونے والے ساس سسر کو چائے پیش کرو۔ پنکی نے سر پر دوپٹہ رکھا اور شرماتی ہوئی کانپتے ہاتھوں کے ساتھ ساس سسر کے سامنے جا کر چائے رکھی۔ عالیہ نے پنکی کو آتے دیکھا تو وہ اٹھ کر کھڑی ہوگئی اور پنکی نے چائے ٹیبل پر دکھ دی تو عالیہ نے آگے بڑھ کر اسے گلے لگایا اور اسکی پیشانی پر ایک بوسہ دیا۔ پھر پنکی نے آگے بڑھ کر اپنے ہونے والے سسر جی سے پیار لیا پھر ساس سے پیار لینے گئی تو ساس صاحبہ نے پنکی کو اپنے ساتھ ہی بٹھا لیا۔ پنکی نے کہا کہ میں آپکو چائے بنادوں تو اسکی ہونے والی ساس نے کہا چائے عالیہ بنا لے گی تم ادھر ہمارے پاس بیٹھو۔

خود پنکی کی امی بھی بہت خوش تھیں اور عفت بھی خوش تھی۔ کچھ ہی دیر میں نادیہ بھی کمرے سے تیار ہو کر نکلی اور بڑی خوشدلی کے ساتھ آنے والے مہمانوں سے ملی اور پنکی کے سر پر پیار بھرا ہاتھ پھیرا۔ کافی دیر سب لوگ بیٹھے باتیں کرتے رہے۔ پھر عمیر بھی گھر آگیا تو گھر میں مہمانوں کو دیکھ کر حیران ہوا۔ ابھی تک اسکو کسی نے نہیں بتایا تھا کہ اسکی چھوٹی بہن کا رشتہ آیا ہے۔ عمیر کی نظر عالیہ پر پڑی تو اسنے فورا ہی پہچان لیا، وہ مری میں عالیہ سے ملا تھا۔ عمیر بھی سب مہمانوں کے ساتھ بیٹھ گیا۔ پھر وجی کے ابو نے عمیر سے بات شروع کی اور اپنے آنے کا مقصد عمیر کے سامنے رکھ دیا۔ عمیر نے ایک نظر اپنی والدہ کی طرف دیکھا جنکے چہرے پر خوشی کے واضح آثار موجود تھے اور پھر پنکی کی طرف دیکھا جو چھوئی موئی بنی اپنی ساس کے ساتھ بیٹھی تھی۔ نادیہ بھی عمیر کے ساتھ آکر بیٹھ چکی تھی اس نے بھی عمیر کو رضامندی کا اظہار کرنے کو کہا اور عفت کی بھی یہی مرضی تھی۔

سب کی مرضی دیکھ کر عمیر نے وجی کے ابو کہ ہاں کر دی مگر ساتھ میں یہ بھی کہا کہ ہم ابھی کوئی رسم نہیں کریں گے۔ پہلے دانش بھائی واپس آجائیں تو انکے واپس آنے کے بعد منگنی کی رسم بھی ہوجائے گی اور پھر مناسب موقع دیکھ کر شادی بھی کر دیں گے۔ تب تک آپکی پنکی ہمارے پاس امانت ہے۔ عمیر کے اس فیصلے سے سبھی گھر والے خوش تھے اور وجی کے ابو نے بھی اس پر رضامندی کا اظہار کر دیا کہ بڑے بھائی کی موجودگی خوش آئند ہوگی کسی بھی رسم کے لیے۔ اسکے بعد سب لوگ بیٹھے گھنٹوں باتیں کرتے رہے۔ رات کا ٹائم ہوا تو مہمانوں نے اجازت چاہی، اور تھوڑی ہی دیر میں تینوں مہمان گھر سے چلے گئے۔ مہمانوں کے جانے کے بعد عمیر نے بھی پنکی کے سر پر ہاتھ رکھ کر اسکو پیار دیا اور ڈھیروں دعائیں دی اور پنکی وجی کا چہرہ اپنی آںکھوں میں سجائے اپنے کمرے میں چلی گئی۔

دو گھنٹے بعد پنکی کے موبائل پر کال آئی، سکرین پر وجی کا نام تھا، پنکی نے کال اٹینڈ کی تو آگے سے وجی کی پیار بھری آواز سنائی دی۔ وجی کی آواز سنتے ہی پنکی کے چہرے پر شرم کے بادل چھا گئے ۔ پہلے تو پنکی سے کچھ بولا ہی نہیں گیا۔ مگر پھر آہستہ آہستہ اسکی جھجھک ختم ہوئی تو پنکی کو تب ہوش آیا جب ایک گھنٹے کے بعد کال خود ہی بند ہوگئی۔ اسکے بعد وجی کی دوبارہ سے کال آئی اور اس نے اگلے دن پنکی کو کالج ٹائم کے دوران ملنے کا کہا۔ پنکی تھوڑی دیر انکار کرنے کے بعد وجی کی بات ماننے پر راضی ہوگئی اور دونوں نے پروگرام بنایا کہ کالج ٹائم کے دوران دونوں کہیں دور لانگ ڈرائیو پر جائیں گے۔ اسکے بعد کال بند ہوگئی اور پنکی وجی کے سپنے دیکھنے لگی۔


کرنل وشال امجد کو جونا گڑھ کی طرف روانہ کرنے کے بعد خود اس کچے راستے پر آگے موجود قصبوں کی طرف جا رہا تھا۔ اپنے ساتھ موجود ایک گاڑی کو اس نے جونا گڑھ کی طرف بھیج دیا تھا تاکہ وہ امجد "سردار سنجیت سنگھ" کی جاسوسی کر سکے۔ گوکہ کرنل وشال کا امجد پر شک ختم ہوگیا تھا اور اسے یقین تھا کہ یہ دانش کا ساتھی نہیں بلکہ دانش نے اسکو زبردستی اپنے ساتھ رکھا، مگر پھر بھی کرنل کے ذہن میں کہیں نہ کہیں بے یقنینی کی کیفیت بھی موجود تھی۔ اسی لیے اس نے اپنے چند آدمیوں کو حکم دیا کہ وہ جونا گڑھ تک امجد کا پیچھا کریں اور دیکھیں کہ وہ راستے میں یا جونا گڑھ پہنچ کر کسی سے رابطہ تو نہیں کرتا۔ اور اگر وہ کسی سے رابطہ کرے تو فوری طور پر پتا لگایا جائے کہ اس نے کن لوگوں سے رابطہ کیا اور انکو کیا کہا۔

کچھ ہی دیر کے بعد کرنل وشال سنگھ اپنے قافلے کے ساتھ ایک چھوٹے سے قصبے میں موجود تھا۔ رات کا وقت تھا، قصبے کے لوگ دور سے ہی گاڑیوں کی لائٹس دیکھ کر اٹھ گئے تھے۔ ایسے چھوٹے قصبوں میں عموما مرد حضرات گھر کے باہر ہی سوتے ہیں۔ لہذا جیسے ہی انکی آنکھوں میں لائٹ پڑی انکی آنکھ کھل گئی اور جرائم پیشہ افراد ہونے کی وجہ سے انہوں نے فورا ہی اپنے اپنے گھروں سے اپنی بندوقیں نکال لی تھیں کہ مبادا آنے والا ہمارے مویشی یا دوسرا قیمتی سامان ہتھیانے کی کوشش کریں گے۔ جب گاڑیاں قصبے میں پہنچ گئیں تو انہیں احساس ہوا کہ یہ آرمی اور پولیس کی گاڑیاں ہیں۔ اگر خالی پولیس کی گاڑیاں ہوتیں تو وہ پولیس پر فورا ہی فائرنگ کھول دیتے مگر آرمی سے پنگا لینے کی ہمت ان میں نہیں تھی اس لیے قصبے کے سرپنچ نے سب لوگوں کو اپنی بندوقیں نیچی رکھنے کا کہ دیا۔

کرنل وشال بھی دور سے ہی اندازہ لگا چکا تھا کے سامنے کھڑے لوگوں کے ہاتھوں میں بندوقیں ہیں۔ مگر وہ جانتا تھا کہ جب انہیں پتا لگے گا کہ یہ آرمی کی گاڑیاں ہیں تو وہ کوئی غلطی نہیں کریں گے۔ اس لیے کرنل بلا خوف آگے بڑھتا رہا۔ آبادی سے کچھ دور کرنل نے گاڑیاں رکوا دیں اور گاڑی سے اتر کر ان لوگوں کی طرف بڑھنے لگا۔ کرنل کے ارد گرد مسلح فوجی موجود تھے جو کسی بھی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار تھے جبکہ پولیس والے بھی پیچھے پیچھے اپنی بندوقوں کا رخ قصبے والوں کی طرف کیے چلے آرہے تھے۔

کرنل وشال نے ان لوگوں کے پاس پہنچ کر انہیں پرنام کیا تو انکا سر پنچ آگے آکر کھڑا ہوگیا اور اپنا تعارف کروایا۔ کرنل وشال نے اونچی آواز میں انہیں بتایا کہ آپ لوگ فکر نہیں کریں ہمارا یہاں آنے کا مقصد آپ لوگوں کو نقصان پہنچانا ہرگز نہیں بلکہ ہم یہاں ایک دہشت گرد کو ڈھونڈنے آئے ہییں جو پاکستان سے ہماری سرحد میں داخل ہوا ہے اور ایک بار پکڑَ جانے کے باوجود ہماری قید سے بھاگ نکلا۔ اب اسکے ساتھ ایک دہشت گرد اور بھی موجود ہے اور ساتھ میں ایک لڑکی بھی ہے۔ ہماری معلومات کے مطابق وہ جامنگر بائی پاس سے جونا گڑھ جانے کی بجائے اس کچے راستے پر اسی قصبے کی طرف آئے ہیں۔ اگر آپکو انکے بارے میں کوئی معلومات ہیں تو ان کو پکڑنے میں ہماری مدد کریں ۔ آپکی مدد سے ہی ہم ان دشمنوں کو پکڑ سکتے ہیں۔

کرنل کی بات ختم ہوئی تو قصبے کے سرپنچ نے کرنل وشال کو کہا، ہم لوگ چھوٹے موٹے جرائم ضرور کرتے ہیں، مگر کسی دشمن کو پناہ دینے کی سوچ بھی نہیں سکتے۔ دشم ملک کا کوئی بھی شخص ہمارے ہتھے چڑھ جائے تو ہم اسکو زندہ نہ چھوڑیں اسکو پناہ دینا یا اسکی مدد کرنے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ کرنل وشال نے پھر سے کہا کہ یہ دہشت گرد پیسے کا استعمال کر کے لوگوں کو خریدتے ہیں۔ ہوسکتا ہے آپ میں سے کسی نے پیسے کے لیے انکی مدد کی ہو۔ اگر آپکو کسی ایسے شخص کے بارے میں معلوم ہے تو ہمیں بتائیں اور اگر آپ نے کسی انجان شخص کو اور اسکے ساتھ لڑکی کو دیکھا ہے تو وہ بھی بتائیں۔ سر پنچ نے اس بار کرنل کو للکارا اور غصے سے بولا کہ ایک بار کہ دیا ہم کسی دہشت گرد کی مدد کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتے۔

ہمیں پیسوں سے خریدا نہیں جا سکتا۔ ہم چور ہیں ڈاکو ہیں مجرم ہیں مگر دیش دروہی ہرگز نہیں۔ ہم اپنے دشمن ملک سے آئے کسی بھی اتنگ وادی کی مدد کرنا پاپ سمجھتے ہیں۔ آپ بار بار ہم پر یہ الزام لگا کر ہماری توہین کر رہے ہو۔ اب کی بار کرنل وشال نے سپاٹ لہجے میں کہا سرپنچ جی آپ بالکل ٹھیک فرما رہے ہیں۔ مگر سرکار ہمیں اس ملک کی حفاظت کرنے کی پگار دیتی ہے۔ اور جب تک ہم اپنی تسلی نہیں کر لیتے ہم یہاں سے نہیں جائیں گے۔ ہمیں اس قصبے میں موجود ہر گھر کی تلاشی لینی ہوگی کیا پتا کسی نے گھر میں چھپا کر رکھا ہو؟؟ کرنل کی بات سن کر قصبے کے سرپنچ نے باقی لوگوں کی طرف دیکھا اور ان سے مخاطب ہوکر بولا میں کرنل صاحب کو تلاشی لینے سے ہرگز نہیں روکوں گا یہ انکا فرض ہے، مگر انکی تلاشی لینے سے پہلے ہی مجھے بتادو اگر کسی نے پناہ دی ہے کسی دہشت گرد کو تو انہیں ابھی کرنل صاحب کے حوالے کر دیا جائے۔ میرا وعدہ ہے کہ اسکو کچھ نہیں کہا جائے گا۔ لیکن اگر تلاشی کے دوران کسی کے گھر سے دہشت گرد برآمد ہوئے تو اسکی خیر نہیں پھر۔

تمام لوگوں نے یک زبان ہوکر کہا کہ کرنل کو تلاشی لینے دی جائے، ہم نے کسی کو بھی پناہ نہیں دی۔ یہ سن کر کرنل وشال نے اپنے ساتھیوں کو اشارہ کیا اوروہ 2، 2 کی ٹولیوں میں وہاں موجود گھروں میں گھس کر تلاشی لینے چلے گئے جبکہ کرنل وشال اپنے 2 ساتھیوں کے ساتھ باہر ہی موجود رہا۔ قریب آدھا گھنٹہ کرنل کے آدمی قصبے میں موجود گھروں کی تلاشی لینے کے بعد ناکام لوٹ آئے اور بتایا کہ سر یہاں کوئی موجود نہیں۔ سر پنچ نے فخریہ نظروں سے کرنل کی طرف دیکھا جیسے کہنا چاہ رہا ہو کہ میں نے پہلے ہی کہا تھا ہم دیش دروہی ہرگز نہیں۔

Re: وطن کا سپاہی

Sponsor

Sponsor
 

User avatar
sexi munda
Gold Member
Posts: 827
Joined: 12 Jun 2016 12:43

Re: وطن کا سپاہی

Post by sexi munda » 29 Oct 2017 13:41


کرنل نے سرپنچ کا شکریہ ادا کیا اور اگلے قصبے کی طرف جانے کا ارادہ کیا، ابھی وہ واپسی کے لیے مڑا ہی تھا کہ ایک عورت بھاگتی ہوئی آئی اور اس نے بتایا کہ اسکے ساتھ والے گھر میں ایک لڑکا رہتا ہے جسکی عمر 18 سال ہے۔ اسکا باپ شہر سے باہر گیا ہوا ہے اور کچھ ہی دیر پہلے میں نے اسے اپنی گاڑی میں کہیں جاتے ہوئے دیکھا ہے۔ اسکے ساتھ گاڑی میں ایک لڑکی بھی موجود تھی جسکی شکل میں صحیح سے دیکھ نہیں پائی اور وہ آدھے گھنٹہ پہلے یہاں سے نکلے ہیں۔

کرنل نے اسکی بات سن کر دوبارہ سے اپنے اس اہلکار کو بلا لیا جو جامنگر اور اس قصبے کے بارے میں معلومات رکھتا تھا۔ کرنل نے اس عورت کو کہا کہ اس آدمی کو راستہ سمجھاو کہ وہ کس طرف گئے ہیں۔ تو اس عورت نے اپنی گجراتی زبان میں اسے ایک راستہ سمجھایا جو چھوٹے چھوٹے گاوں اور قصبوں سے ہوتا ہوا جونا گڑھ کے قریب جا کر نکلتا تھا۔ اس اہلکار نے کرنل کو بتایا کہ یہ سارا راستہ کچہ ہے اور جہاں مین روڈ سے 3 گھنٹے میں یہ فاصلہ طے ہونا ہے اس کچے راستے سے 4 گھنٹے لگ جائیں گے۔ کرنل وشال نے فوری اپنے ساتھیوں کو گاڑیوں میں بیٹھنے کا کہا اور سب سے آگے اپنی گاڑی رکھتے ہوئے اس اہلکار کو اپنے ساتھ بٹھا لیا تاکہ وہ راستہ بتا سکے۔ کرنل کے قافلے میں سب کی سب پجارو یا ڈالے وغیرہ تھے جو کچے راستے پر خاصی رفتار سے اپنا سفر طے کر سکتے تھے اسکے برعکس کار کے لیے یہ سفر مشکل تھا اور کار زیادہ رفتار کے ساتھ نہیں چل سکتی۔ اس لیے کرنل کو یقین تھا کہ ان لوگوں کے جونا گڑھ پہنچنے سے پہلے کرنل وشال ان تک پہنچ جائے گا۔


امجد سست رفتاری کے ساتھ جونا گڑھ کا سفر طے کر رہا تھا۔ اسے علم تھا کہ راستے میں ابھی اور بھی پولیس کے ناکوں پر اسے روکا جائے گا مگر اب وہ مطمئن تھا کہ جب کرنل وشال اسے نہیں پہچان پایا تو یہ عام پولیس والے سرسری طور پر گاڑی کی چیکنگ کرنے کے بعد اسکو چھوڑ دیں گے۔ اور ہوا بھی یہی، امجد کو راستے میں جہاں کہیں بھی روکا گیا اس نے اپنا راشن کارڈ نکال کر دکھایا جس پر سردار سنجیت سنگھ کا نام درج تھا، پولیس اہلکاروں نے امجد کی گاڑی کی تلاشی لی اور اسکے آگے جانے دیا۔ یہ کام ہر پولیس ناکے پر ہوا اور امجد بغیر پریشان ہوئے پورے اعتماد کے ساتھ ہر ناکے پر اپنی چیکنگ کرواتا رہا۔

اپنی طرف سے وہ مکمل مطمئن تھا مگر اسکو فکر تھی تو دانش اور تانیہ کی۔ اس نے اپنے طور پر تو کرنل وشال کو چکمہ دے دیا تھا اور اور اب کرنل وشال کچے راستوں سے ہوتا ہوا میجر دانش کو پکڑنے کی کوشش کر رہا تھا۔ مگر امجد جانتا تھا کہ ہر ناکے پر بسوں کو بھی چیک کیا جائے گا، اور جس بس میں اس نے میجر دانش اور تانیہ کو بٹھایا تھا اسکی بھی چیکنگ ہوگی۔ اور اگر کہیں یہ لوگ پکڑے گئے تو سارے کیے کرائے پر پانی پھر جائے گا۔ پہلے آئی ایس آئی کی طرف سے اسکو میجر دانش کی رہائی کا ٹارگٹ ملا تھا، اس سے پہلے کہ امجد اپنا کوئی پلان بناتا میجر دانش خود ہی چھوٹ آیا تھا، اور اب نہ صرف اسکے پکڑے جانے کا دوبارہ سے خوف تھا بلکہ ساتھ میں تانیہ بھی پکڑی جاتی تو مسئلہ اور بھی بڑھ سکتا تھا۔ صرف یہی ایک بات تھی جو امجد کو پریشان کر رہی تھی۔

امجد کو جونا گڑھ کی طرف جاتے ہوئے کوئی ایک گھنٹے سے اوپر کا ٹائم گزر چکا تھا اس دوران امجد نے نوٹ کیا تھا کہ ایک گاڑی مسلسل امجد کا پیچھا کر رہی ہے۔ گو کہ پیچھے آنے والی گاڑی کافی فاصلے پر تھی مگر پھر بھی امجد کا شک تھا کہ یہ گاڑی اسی کے پیچھے آرہی ہے جو ہو نہ ہو کرنل وشال نے ہی بھیجی ہے۔ امجد نے اپنی تسلی کے لیے چند مقامات پر اپنی رفتار بہت دھیمی کر دی اور انتظار کرنے لگا کہ پیچھے آنے والی گاڑی آگے نکلتی ہے یا نہیں۔ مگر امجد کا شک درست نکلا، جیسے ہی امجد اپنی رفتار دھیمی کرتا پیچھے آنے والی گاڑی بھی آہستہ ہوجاتی اور جب امجد اپنی گاڑی کی رفتار بڑھاتا تو پیچھے آنے والی گاڑی بھی رفتار تیز کر لیتی۔

اب جونا گڑھ 1 گھنٹے کی مسافت پر تھا۔ رات کے 3 یا 4 بجے کا ٹائم ہورہا تھا اور امجد کو ٹائلٹ جانے کی بھی ضرورت محسوس ہورہی تھی۔ کچھ ہی فاصلے پر ایک موڑ تھا اور موڑ سے آگے ایک گیس پمپ تھا۔ امجد نے اچانک ہی اپنی گاڑی کی رفتار بڑھا دی اور موڑ مڑنے کے بعد گاڑی گیس پمپ کی طرف لے گیا۔ یوں تو اسے یقین تھا کہ پیچھے آنے والی گاڑی اسی کا پیچھا کر رہی ہے، مگر وہ پھر بھی مکمل تسلی کرنا چاہتا تھا۔ موڑ مڑتے ہی امجد نے اپنی گاڑی سڑکے سے اتار کر کھڑی کر دی مگر پمپ سے دور رکھی کیونکہ وہ چاہتا تھا پیچھے آنے والی گاڑی جیسے ہی موڑ مڑے اسکو امجد کی گاڑی نظر آجائے۔

گاڑی سڑک سے اتار کر امجد گاڑی سے نکلا پمپ پر موجود ٹائلٹ میں چلا گیا۔ بغیر ٹائم ضائع کیے جب امجد باہر نکلا تو اس نے دیکھا پیچھے آنے والی گاڑی اب امجد کی گاڑی سے کچھ آگے کھڑی تھی اور ایک فوجی پمپ پر کھڑا ادھر ادھر دیکھ رہا تھا جیسے کسی کو ڈھونڈنے کی کوشش کر رہا ہو۔ امجد ٹائلٹ سے نکلا اور ٹک شاپ پر چلا گیا وہاں سے ایک جوس کا ڈبہ اور بسکٹ کا پیکٹ اٹھا کر باہر آنے لگا۔ دکاندار نے پیسے مانگے تو امجد نے باہر کھڑے فوجی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا وہ باہر میرے افسر کھڑے ہیں وہ دیں گے پیسے۔ فوجی کو دیکھ کر دکاندار خاموش ہوگیا۔ اور اپنے کاموں میں لگ گیا۔ امجد خاموشی سے باہر آیا مگر اب کی بار وہ سیدھا فوجی کے پاس گیا۔ فوجی نے امجد کو اپنی طرف آتے ہوئے دیکھا تو وہ انجان بن کر ادھر ادھر دیکھنے لگا جیسے وہ امجد کو جانتا ہی نہیں اور نہ ہی وہ امجد کی تلاش میں تھا۔ امجد اس فوجی کے پاس گیا اسکو ست سری آکال کہا اور پھر بولا کہ صاحب جی میرے پاس کھانے کے پیسے نہیں مجھے بہت بھوک لگ رہی ہے میں نے یہ جوس کا ڈبہ اور بسکٹ اس دکان سے لیے ہیں آپ انہیں میری جگہ پیسے دے دیں؟؟

فوجی نے غصے سے امجد کی طرف دیکھا اور بولا میں کیوں دوں تمہاری جگہ پیسے؟؟؟ امجد بولا صاحب جی بڑی مہربانی ہوگی آپکی۔ مجھے آپکے بڑے صاحب جی نے جونا گڑھ جانے کا حکم دیا ہے اگر پیسے نہیں دیں گے تو یہ دکاندار مجھے یہاں سے جانے نہیں دے گا اور مجھے دیر ہوجائے گی۔ اگر آپ پیسے دے دیں تو میں ابھی چلا جاوں گا اور ٹائم کے ساتھ آپکے بڑے صاحب کی کی بھیجی ہوئِ جگہ پہنچ سکوں گا۔ اس فوجی نے یہ بات سنی تو بولا اچھا اچھا ٹھیک ہے تم جاو میں دے دوں گا پیسے۔ امجد شکریہ ادا کرتے ہوئے اپنی گاڑی میں آکر بیٹھ گیا اور اور بسکٹ کا پیکٹ کھول کر سامنے رکھ لیا اور گاڑی سٹارٹ کر کے دوبارہ سے سفر شروع کر دیا۔ اس فوجی نے جب دیکھا امجد جا رہا ہے تو وہ فورا دکان پر گیا اسکو پیسے دیے اور دوبارہ سے اپنی گاڑی میں بیٹھ کر امجد کا پیچھا کرنے لگا۔

اس ساری کروائی میں امجد صرف اس فوجی کا اعتماد حاصل کرنا چاہتا تھا۔ نہ تو اسے سخت بھوک لگی تھی اور نہ ہی وہ اتنا بے شرم تھا کہ راہ چلتے کسی سے بھی پیسے مانگ لے۔ لیکن یہ حرکت کر کے امجد نے فوجی کے دل میں یہ بات بٹھا دی تھی کہ اگر یہ کوئی دہشت گرد ہے تو اسکو تو فوج سے دور بھاگنا چاہیے، مگر یہ بغیر خوف کھائے ایک فوجی کے پاس آ کر اس سے مدد مانگ رہا ہے۔ اور امجد کا یہ تیر ٹھیک نشانے پر جا کر لگا تھا۔ فوجی نے پیچھا کرتے ہوئے اب کرنل وشال کو کال کی اور اسکو ساری صورتحال سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ امجد کسی بھی طور پر ان لوگوں کے ساتھ ملوث نہیں ہوسکتا۔ بس مجبوری کی وجہ سے یہ انکے ساتھ تھا۔ کرنل وشال نے بھی امجد کی طرف سے گرین سگنل دے دیا مگر پیچھا جاری رکھنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کیا معلوم وہ لوگ اس سے پٹرول پمپ پر ملنے آئیں۔ لہذا تم دھیان رکھنا جیسے ہی کوئی آئے اسکو فورا دھر لینا۔

ایک گھنٹے کی ڈرائیو کے بعد امجد جونا گڑھ شہر کے پہلے پٹول پمپ پر اپنی گاڑی کھڑی کر کے کھڑا تھا۔ جبکہ پیچھے آنے والا فوجی پٹرول پمپ سے کافی دور اپنی گاڑی کھڑی کر کے کھیتوں میں سے ہوتا ہوا پٹرول پمپ کی دیوار کے قریب پہنچ گیا تھا اور امجد پر نظر رکھے ہوئے تھا۔ امجد کی پیٹھ فوجی کی طرف تھی ، وہ اس بات سے تو بے خبر تھا کہ فوجی کہاں کھڑا ہے مگر اتنا ضرور جانتا تھا کہ کہیں نہ کہیں سے وہ امجد پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ جب پٹرول پمپ پر کھڑے ہوئے امجد کو 5 سے 6 گھنٹے ہوگئے اور وہاں کوئی نہ آیا تو اس فوجی نے دوبارہ کرنل وشال کو فون کیا تو کرنل وشال نے اب اسے جونا گڑھ شہر میں داخل ہونے کا کہا اور وہاں موجود آرمی کیمپ میں بلا لیا۔ اور ساتھ ہی اسکو حکم دیا کہ سردار سنجیت سنگھ کو کہو اب وہ اس پٹرول پمپ سے نکل جائے اور کسی محفوظ جگہ پر جا کر چھپ جائے۔

فوجی نے ایسے ہی کیا، وہ واپس اپنی گاڑی تک گیا اور پھر گاڑی میں بیٹھ کر واپس پٹرل پمپ پر آیا وہاں رک کر وہ امجد سے ملا۔ امجد نے حیرانگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا صاحب جی آپ وہی ہو نہ جس پہلے بھی پٹرول پمپ پر ملے تھے مجھے؟؟ تو فوجی نے کہا ہاں میں وہی ہوں۔ میرے صاحب نے مجھے بھیجا ہے اور کہا ہے کہ سردار جی سے کہو اب یہاں کوئی دہشت گرد نہیں آنے والا آپ بے فکر ہو کر جا سکتے ہو یہاں۔ مگر اپنی حفاظت کے لیے زیادہ باہر نہ نکلنا بلکہ کسی محفوظ ٹھکانے پر جا کر چھپ جاو۔ امجد نے فوجی کا شکریہ ادا کیا مگر اپنے ذہن میں موجود پریشانی کو دور کرنے کے لیے فوجی سے پوچھا کہ وہ دہشت گرد جن کو آپ ڈھونڈ رہے ہیں وہ مل گئے یا نہیں؟ فوجی نے کہا نہیں معلوم نہیں انکو آسمان کھا گیا یا زمین نگل گئی۔ وہ کہیں بھی نہیں مل پائے اور نا ہی اب انکا کوئی سراغ مل رہا ہے۔ یہ سن کر امجد کو تسلی ہوئی اور اس نے سوچا کہ دانش اور تانیہ خیریت سے جونا گڑھ پہنچ چکے ہونگے۔ کیونکہ امجد کوئی 6 گھنٹے پٹرول پمپ پر رک کر بظاہر دہشت گردوں کا انتظار کرتا رہا تھا اور وہ بس جس میں اس نے دانش اور تانیہ کہ بٹھایا تھا کوئی 7 گھنٹے قبل جونا گڑھ پہنچ چکی ہوگی۔ اب امجد نے فوجی کو بتایا کہ یہاں اسکے کچھ دوست رہتے ہیں میں انکی طرف جا کر چھپ جاوں گا اس وقت وہی ایک محفوظ جگہ ہے میرے لیے۔ فوجی نے اسکی بات پر بغیر کوئی توجہ دیے اوکے کہا اور وہاں سے چلا گیا۔

امجد بھی اب پٹرول پمپ سے نکلا اور جونا گڑھ میں موجود اپنے ٹھکانے کی طرف بڑھنے لگا۔ وہ جانتا تھا کہ اب اسکا پیچھا نہیں ہوگا اور وہ اطمینان کے ساتھ سرمد کاشف، دانش اور تانیہ کو مل سکتا ہے اور پھر آگے کا پلان بنایا جائے گا۔ کچھ ہی دیر میں مختلف راستوں سے ہوتا ہوا امجد اپنے مطلوبہ ٹھکانے پر پہنچ چکا تھا۔ متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والی اس کالونی میں امجد نے ایک فلیٹ کرائے پر لے رکھا تھا جو اس نے کشمیر کی ایک فیملی کو کرائے پر دیا ہوا تھا۔ اور امجد کا جب دل کرتا وہ یہاں آجاتا تھا۔

امجد جب اس گھر میں پہنچا تو سامنے کمرے میں رانا کاشف اور سرمد گھوڑے بیچ کر سو رہے تھے۔ امجد نے ادھر ادھر دیکھا مگر نہ تو اسے تانیہ کہیں نظر آئی اور نہ ہی میجر دانش۔ پھر امجد دوسرے کمروں میں گیا مگر وہاں بھی اسے کوئی دکھائی نہ دیا تو اوپر والے پورشن میں کشمیری فیملی سے امجد نے جا کر دانش اور تانیہ کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ رات 3 بجے کے قریب بس 2 آدمی ہی آئے ہیں جو اس وقت نیچے ہی ہونگے انکے علاوہ اور کوئی نہیں آیا یہاں پر۔ یہ خبر امجد پر پہاڑ بن کر ٹوٹی تھی۔ جو پہلا خیال اسکے ذہن میں آیا وہ یہی تھا کہ کرنل وشال تانیہ اور میجر کو پکڑ چکا ہے اور پٹرول پمپ سے واپس جانے کا کہنا اور اپنے اعتماد کا اظہار کرنا کرنل کی کوئی چال ہوگی تاکہ وہ امجد کا پیچھا کر کے باقی لوگوں کر بھی پکڑ سکیں۔ یہ خیال ذہن میں آتے ہی امجد کے ماتھے پر پسینے کے قطرے نمودار ہونا شروع ہوگئے تھے۔


صبح 6 بجے تانیہ کی آنکھ کھلی تو وہ بیڈ سے اٹھ کر دانش کو اٹھانے صوفے کی طرف بڑھی مگر وہاں دانش موجود نہیں تھا۔ وہ اپنے کمرے سے نکل کر جولی کے کمرے میں گئی مگر وہاں جولی اور سوزینا گھوڑے بیچ کر سو رہی تھیں۔ پھر تانیہ نے کچھ مزید کمرے چیک کے اور باہر گلی میں بھی دیکھ کر آئی مگر دانش کا کہیں اتا پتا نہیں تھا۔ تانیہ واپس اپنے کمرے میں آئی اور تو میجر دانش سامنے ہی بیڈ پر بیٹھا تھا۔ تانیہ میجر کو کمرے میں دیکھ کر حیران ہوئی اور بولی کہ کہاں تھے تم ؟؟؟ میجر نے کہا تمہیں اس سے کیا تم تو ایسے سوئی پڑی تھی جیسے اپنی اماں جی کے گھر سوئی ہوئی ہو۔ میجر کی بات سن کر تانیہ نے کہا کل سارا دن تو تمہارے ساتھ خوار ہوتی رہی ہوں کی کہیں بھاگ رہی تھی تو کبھی کہیں تھکاوٹ کی وجہ سے اچھی نیند آگئی۔ مگر تم بتاو تم کہں تھے ؟؟؟


میجر نے بتایا کہ تمہارے کیپنٹ مکیش کے کمرے تک گیا تھا۔ اس سے کچھ کام تھا۔ تانیہ نے حیران ہوکر پوچھا تمہیں اس سے کیا کام پڑگیا اور تم وہاں گئے ہی کیوں؟؟ تو میجر نے اسے کہا چھوڑو تمہارا اس سے کیا تعلق۔ بس جس کام کے لیے میں گیا تھا وہ ہوگیا۔ اب تم تیاری کرو ہمیں ممبئی جانا ہے۔ ممبئی کا نام سنتے ہی تانیہ بولی ممبئی کیوں؟؟ ہمیں تو جونا گڑھ جانا ہے؟؟ امجد وہاں ہمارے انتظار میں ہے۔ تانیہ کی بات سن کر میجر نے تانیہ کو کہا اگر تم کرنل وشال کی قیدی بننا چاہتی ہو تو شوق سے جاو جونا گڑھ۔ وہ پاگل کتے کی طرح تمہیں اور مجھے ڈھونڈ رہا ہے۔ جونا گڑھ اور جامکوٹ کے تمام لوکل چینلز پر ہمارے بارے میں خبریں دی جارہی ہیں۔ وہاں جانا موت کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔ ممبئی بہت بڑا شہر ہے وہاں ہمیں آسانی سے رہنے کی جگہ بھی مل جائے گی اور اسکے ساتھ ساتھ کرنل وشال پر کاری ضرب بھی لگا سکیں گے۔ کرنل وشال کے بارے میں بہت سی معلومات میں حاصل کر چکا ہوں۔ اب تیاری کرو نکلیں یہاں سے۔

کچھ ہی دیر میں تانیہ اور اور دانش کیپٹن مکیش کی جیپ میں بیٹھے شہر سے دور جا رہے تھے۔ ایک پلازے کے قریب پہنچ کر میجر دانش نے گاڑی روک لی۔ صبح صبح کا ٹائم تھا پلازے کا مین گیٹ بند پڑا تھا اور باہر ایک چوکیدار بیٹھا تھا۔ میجر دانش نے چوکیدار سے کہا ہمیں مونا جی سے ملنا ہے۔ چوکیدار بولا مونا جی 11 بجے اپنا کام شروع کرتی ہیں ابھی تم لوگ جاو بعد میں آنا۔ میجر دانش نے چوکیدار کو دوبارہ کہا کہ میری بات ہوگئی ہے مونا جی سے تم انہیں خبر دو کہ کیپٹن مرلی وجے آئے ہیں ان سے ملنے۔ کیپٹن کا لفظ سنتے ہی چوکیدار کھڑا ہوا اور پاس کیبن میں موجود فون سے مس مونا کا نمبر ملا یا اور انہیں کیپٹن مرلی کے آنے کی خبر دی۔ مونا جی نے کہا انہیں میرے کمرے تک پہنچا دو۔ چوکیدار نے اب چھوٹا گیٹ کھولا اور دانش کو بولا آپ لوگ گاڑی یہیں کھڑی رہنے دو میں آپکو مونا جی کے کمرے تک لے جاتا ہوں۔ میجر دانش نے گاڑی سے چابی نکالی اور تانیہ کا ہاتھ پکڑ کر چوکیدار کے پیچھے چلنے لگا۔ چیکدار پلازے کی بلڈنگ میں موجودلفٹ کا استعمال کرتے ہوئے چوتھی منزل پر گیا اور ایک کمرے کے سامنے رک گیا چوکیدار نے کمرہ ناک کیا تو اندر سے مونا جی کی آواز آئی کم اِن۔

چوکیدار پیچھے ہٹ کر کھڑا ہوگیا اور میجر دانش کو اندر جانے کا اشارہ کیا۔ میجر دانش تانیہ کو لیے اندر چلا گیا۔ اندر ایک 40 سالہ ادھیڑ عمر خاتون نے میجر دانش اور تانیہ کا استقبال کیا۔ میجر دانش سے ہاتھ ملاتے ہوئے مونا نے اسے کیپٹن مرلی کہ کر مخاطب کیا جبکہ تانیہ سے ملتے ہوئے اسے مسز مرلی کہ کر مخاطب کیا۔ تانیہ ابھی صحیح صورتحال سمجھ نہیں پائی تھی اور دانش سے کچھ پوچھنے ہی لگی تھی کہ دانش کی آواز آئی مونا جی اب جلدی جلدی اپنا کام کریں ہمارے پاس ٹائم بہت کم ہے۔ یہ سن کر مونا تانیہ اور دانش کو لیکر اندر ایک کمرے میں گئی۔ یہ ایک بیوٹی پارلر جیسا کمرہ تھا۔ جہاں ایک 25 سالہ لڑکی اور بھی کھڑی تھی۔

مونا جی نے مسز مرلی یعنی تانیہ کو ایک چئیر پر بیٹھنے کو کہا اور پاس کھڑی لڑکی کو بولی میڈیم جی کا ایک دم زبردست میک اپ کر دو اور ہاف ہئیر کٹ کر کے ہئیر سٹائل بھی بناو۔ تب تک میں مسٹر مرلی کا میک اپ کر لوں۔ تانیہ ابھی تک سمجھ نہیں پائی تھی کہ یہ صبح صبح میک اپ کی کیا ضرورت ہے؟؟؟ اور اس ٹائم کونسا بیوٹی پارلر کھلا ہوتا ہے؟؟ اور دانش کو کیسے پتا کہ یہاں جامنگر میں اس پلازے میں ایک بیوٹی پارلر بھی موجود ہے۔ مگر وہ چپ چاپ بیٹھی اپنا میک اپ کروانے لگی۔ لڑکی نے پہلے تانیہ کا ہئیر کٹ کیا۔ تانیہ کے لمبے گھنے بال جو اسکی قریب قریب اسکی کمر کے برابر تھے اب محض کندھوں تک رہ گئے تھے۔ اسکے علاوہ فرنٹ ہئیر کٹ نے تانیہ کو بالکل ہی نئی لُک دے دی تھی۔ کچھ ہی دیر میں تانیہ کا میک اپ بھی ہوگیا تھا، اب وہ کسی بھی اینگل سے کشمیری یا کسی جہادی تنظیم کی لڑکی نہیں لگ رہی تھی۔ بلکہ تانیہ اب دکھنے میں ہائی کلاس فیملی کی جوان لڑکی کے روپ میں تھی۔ اب اسی لڑکی نے تانیہ کو ساتھ والے روم میں لیجا کر اسے وارڈ روب سے کچھ کپڑے دکھائے۔ یہاں سب کپڑے ہائی کلاس فیملیز کے مطابق تھے۔ تانیہ نے ایک سوٹ پسند کر لیا۔

سکن ٹائٹ پینٹ کے ساتھ ایک لوز سی شرٹ جو تانیہ کے پیٹ پر آکر ختم ہورہی تھی پہن کر تانیہ اپنے آپ کو شیشے میں دیکھنے لگی۔ لائٹ میک اپ، ہئیر کٹ اور اس ڈریس میں تانیہ واقعی کسی ماڈرن گھرانے کی خاتون لگ رہی تھی۔ اب اس لڑکی نے تانیہ کو اسکے ساتھ ہائی ہیل جوتے بھی لا کر دیے جنکو پہن کر تانیہ اور بھی خوبصورت دکھ رہی تھی اور ساتھ بلیک کلر کے گلاسز اسکی شخصیت کو کافی پر اعتماد بنا رہے تھے۔ تانیہ جو کچھ دیر پہلے ایک سیکسی عربی لڑکی کے روپ میں ڈانس کلب میں ڈانس کر رہی تھی اب ایک مکمل صوبر اور گریس فل لڑکی کے روپ میں کھڑی تھی۔ تیار ہو کر جب وہ باہر نکلی تو دانش کو دیکھ کر حیران رہ گئی ۔ میجر دانش اس وقت دانش کم اور کیپٹن مکیش زیادہ لگ رہا تھا۔ مونا جی نے میجر دانش کا میک اپ کچھ اس طرح سے کیا تھا کہ اب اسکا گورا رنگ کچھ کالا ہوگیا تھا اور اگر کوئی کیپٹن میکش کی تصویر دیکھ کر میجر دانش کو دیکھتا تو اسے لگتا اسکے سامنے کیپٹن مکیش ہی کھڑا ہے۔

10 منٹ کے مزید میک اپ ٹچ کے بعد دانش بھی اپنی چئیر سے کھڑا ہوگیا اور جولی نے اسے بھی کچھ مردانہ کپڑے دکھائے جن میں سے میجر دانش نے ایک جوڑے کا انتخاب کیا اور پھر مونا جی کو ایک بڑی رقم دے کر واپس کیپٹن مکیش کی جیپ میں آکر بیٹھ گیا۔ میجر کے ہاتھ میں ایک بیگ بھی تھا جو پہلے نہیں تھا۔ گاڑی میں بیٹھ کر میجر نے گاڑی سٹارٹ کی اور ہائی وے نمبر 6 سے ہوتا ہوا ائیر پورٹ روڈ پر چڑھ گیا۔ اب تانیہ کو سمجھ لگ گئی تھی کہ رات جو ممبئی کے ٹکٹ میجر دانش کو ملے تھے میجر انہی کا استعمال کر کے ممبئی جائے گا اور کیپٹن مکیش کی تصویر دکھا کر اس نے مونا جی سے اپنا میک اپ اسطرح کروایا کہ انکی شکل اب کافی ملتی جلتی لگنے لگی تھی۔

تانیہ نے میجر دانش سے پوچھا کہ باقی سب کچھ تو مجھے سمجھ آگیا مگر تم نے مونا جی کو کیپٹن مکیش کی تصویر کیسے دکھائی؟؟؟ میجر دانش نے جیب سے ایک موبائل فون نکالا اور تانیہ کو پکڑا دیا۔ یہ سامسنگ کمپنی کا گلیکسی ایس 5 موبائل تھا۔ تانیہ نے پوچھا یہ تمہارے پاس کہاں سے آیا؟؟؟ تو میجر نے بتایا کہ تم تو گھوڑے بیچ کر سو گئی تھی مگر میں تھوڑی سی نیند پوری کرنے کے بعد اس کمرے میں گیا جہاں تم نے کیپٹن مکیش کو بے ہوش کیا تھا۔ وہاں جا کر میں نے اسکی مزید تلاشی لی کہ شاید کوئی کام کی چیز مل جائے۔ یہ موبائل ملا، اس سے میں نے کرنل وشال کے بارے میں بھی بہت سی معلومات حاصل کر لی ہیں اور ساتھ ساتھ کیپٹن مکیش کے بارے میں بھی۔ اسی موبائل سے کیپٹن مکیش کی تصویریں بنائیں اور پھر موبائل سے ہی سرچ کیا جامنگر میں میک اپ آرٹسٹ کے بارے میں تو مجھے مونا جی کے فیس بک پیج کے بارے میں پتا لگا وہاں سے انکا موبائل نمبر لے کر انہیں کال کی اور اپنے آپ کو کیپٹن ظاہر کر کے انہیں مجبور کیا کہ وہ صبح 7 بجے ہمیں ملنے کا موقع دیں۔ اور میرا میک اپ اس طرح کر دیں کہ میری شکل دہشت گرد مکیش سے ملے۔ یہ کہ کر دانش نے ایک زور دار قہقہ لگایا اور گاڑی چلانا جاری رکھی۔ پھر میجر دانش نے بتایا کہ کیپٹن مکیش کی 9 بجے کی فلائیٹ ہے ممبئی کی۔ ہم اسی فلائیٹ سے کیپٹن مکیش اور مسز مکیش بن کر ممبئی جائیں گے۔ وہاں آرمی ریذیڈینشل کالونی میں کرنل وشال کا گھر ہے جہاں اسکی ایک بیٹی ٹینا رہتی ہے اور اسکے علاوہ کچھ ملازم ہیں گھر میں۔ کرنل خود جامنگر اور جونا گڑھ مجھے تلاش کر رہا ہے جب تک اسے میری خبر ہوگی میں اسکے مشن کے بارے میں کچھ نہ کچھ پتا لگا لوں گا کہ آخر وہ پاکستان سے کونسی خفیہ معلومات لیکر انڈیا آیا ہے۔

اور کوشش کروں گا کہ یہ بھی پتا لگا سکوں پاکستان میں کونسا نیٹ ورک کرنل وشال کی مدد کرتا ہے۔ تانیہ نے پوچھا کہ ہم رہیں گے کہاں ممبئی میں؟ تو دانش نے کہا اسکا بھی بندوبست میں کر چکا ہوں۔ وہاں کے ایک جرائم پیشہ گروہ سے میری بات ہوئی ہے انکو بھاری رقم دے کر ایک ٹھکانہ حاصل کرلوں گا میں۔ اور اگر کرنل وشال ممبئی آ بھی جائے تو وہ مجھے ڈھونڈنے کے لیے جرائم پیشہ افراد کے ٹھکانوں کی طرف نہیں آئے گا بلکہ آزادی پسند تنظیموں کے ٹھکانوں پر مجھے ڈھونڈنے کی کوشش کرے گا، اس طرح میں سکون سے اپنا کام کرسکتا ہوں۔


اب میجر دانش اور تانیہ مسٹر اینڈ مسز مکیش کے روپ میں ائیر پورٹ پر موجود تھے۔ ریسیپشن پر میجر دانش نے کیپٹن مکیش کا کارڈ دکھایا تو ریسیپشن پر موجود خاتون نے میجر دانش کو خوشآمدید کہا اور ساتھ ہی تانیہ یعنی مسز مکیش کا حال چال پوچھنے لگی۔ کچھ ہی دیر بعد میجر دانش اور تانیہ ممبئی جانے والی فلائیٹ میں موجود تھے اور جہاز ٹیک آف کر چکا تھا۔ ایک گھنٹے اور 10 منٹ کی مختصر فلائٹ کے بعد قریب 10:30 بجے فلائیٹ ممبئی ائیر پورٹ پر لینڈ کر چکی تھی۔ آئیر انڈیا کی فلائٹ میں میجر دانش نے اپنے ذہن میں مزید پلاننگ کی اور کسی حد تک تانیہ کو بھی اپنے پلان کے بارے میں اطلاع دی۔

ائیر پورٹ سے باہر نکل کر میجر دانش نے ایک ٹیکسی لی اور نہرو نگر میں موجود ایک گھر کا پتا بتایا۔ راستے میں میجر دانش نے ایک جگہ ٹیکسی رکوائی۔ ٹیکسی رکی تو میجر دانش نیچے اترا اور آس پاس موجود لوگوں کا جائزہ لینے لگا۔ ان میں سے ایک شخص جو قدرے غریب لگ رہا تھا میجر دانش اسکی طرف بڑھا اور اس سے کہا کہ میں کافی مشکل میں ہوں اپنے موبائل سے مجھے ایک کال تو کرنے دو۔ اس شخص نے میجر دانش کو اوپر سے نیچے تک دیکھا اور بولا کیا صاحب، اتنا پیسا ہے تمہارے پاس اور ایک موبائل نہیں رکھ سکتے کیا؟؟؟ میجر دانش نے گلیکشی ایس 5 لہراتے ہوئے کہا یار موبائل تو ہے مگر میں ابھی ابھی کینڈا سے آیا ہوں تو میرے پاس سِم موجود نہیں اور مجھے بہت ارجنٹ کال کرنی ہے۔ میجر کی توقع کے عین مطابق اس شخص نے مطالبہ کر دیا کہ صاحب کال کر لو مگر اس کال کے ہم 50 روپے لے گا تم سے۔ میجر دانش نے کہا ٹھیک ہے یار تم 100 روپے لے لینا مجھے کال کرنے دو۔ میجر نے اسکا موبائل لیکر ایک شخص کو کال کی اور اسے بتایا کہ وہ ممبئی پہنچ چکا ہے اور کچھ ہی دیر میں اسکی بتائی ہوئِ جگہ پر پہنچ جائے گا۔ اب اسے فوری طور پر اپنا مطلوبہ سامان چاہیے۔ دوسری سائڈ پر موجود شخص نے کہا تم بے فکر ہوجاو تمہیں سب کچھ مل جائے گا۔ یہ کہ کر اس نے فون بند کر دیا۔ میجر دانش نے جیب سے 100 کا نوٹ نکالا اور اس شخص کو دے دیا ساتھ میں موبائل بھی واپس کر دیا۔

اس شخص نے خوشی خوشی 100 کا نوٹ جیب میں رکھ لیا، میجر دانش واپسی کے لیے جانے لگا مگر پھر اچانک اس شخص کی طرف مڑا جیسے کوئی چیز بھول گیا ہو۔ اس شخص نے میجر کو اپنی طرف آتا دیکھا تو بولا کیا صاحب کوئی اور کال بھی کرنی ہے؟؟ تو میجر دانش نے اسے کہا یار کال تو بار بار کرنی پڑے گی، ابھی میں باہر سے آیا ہوں تو میرے پاس اپنا آئی ڈی کارڈ بھی نہیں اگر تم اپنی سِم مجھے دے دو تو میں تمہیں 500 روپے دوں گا۔ اس پر وہ شخص بولا نہ صاحب ہمیں بھی کال کرنی ہوتی ہے ہم تم کو اپنی سم نہیں دے گا۔ میجر نے کہا اچھا یار 1000 روپے لے لو۔ اب اس شخص نے تھوڑا سا سوچا کہ اس شخص کی مجبوری سے فائدہ اٹھانا چاہیے اور فوری سم نکال لی موبائل سے مگر ساتھ میں کہا صاحب 2000 لے گا ہم اس سِم کا۔ میجر دانش نے کہا یار 500 روپے میں سم مل جاتی ہے میں تو تمہیں 1000 دے رہا ہوں چلو تم 1500 لے لو۔ وہ شخص بولا نہ صاحب 2000 میں سودا طے کرنا ہے تو سم لے جاو نہیں تو جاو۔ دانش نے جیب سے 2000 روپے نکالے اس شخص کو دیے اور واپس گاڑی میں آگیا۔

ٹیکسی اب نہرو نگر کی طرف جارہی تھی۔ پیچھے بیٹھی تانیہ نے پوچھا کہ یہ ڈرامہ کیوں کیا؟؟؟ نئی سِم لے لیتے؟؟ تو میجر دانش نے تانیہ کو منہ چڑاتے ہوئے کہا کہیں بھی اپنا پروف چھوڑنا بے وقوفی ہوگی۔ اگر میں کیپٹن مکیش کے نام پر بھی سیم نکلوا لوں تو انہیں پتا چل جائے گا کہ میں ممبئی میں ہوں اور وہ آسانی سے اس سِم کو ٹریس کر سکتے ہیں۔ مگر یہ ایک راہ چلتے شخص کی سِم ہے اسکو کوئی ٹریس نہیں کرے گا۔ یہ سن کر تانیہ خاموشی سے دوسری طرف دیکھنے لگی۔ کچھ ہی دیر میں دونوں نہرو نگر کے ایک چھوٹے سے گھر میں موجود تھے۔ گھر پہنچ کر تانیہ نے مونا جی کی طرف سے لائے گئے شاپنگ بیگ کھول کر دیکھے تو ان میں کچھ لیڈیز کپڑے موجود تھے اور 2 جینٹس سوٹ تھے۔ گھر پہنچ کر میجر دانش نے اپنا چہرہ گرم پانی سے اچھی طرح دھویا تاکہ یہاں کیپٹں مکیش کا کوئی جاننے والا دانش کو مکیش سمجھ کر ملنے ہی نہ چلا آئے۔ چہرہ اچھی طرح صاف کرنے کے بعد میجر دانش واش روم سے باہر آگیا اور دوبارہ سے ایک نمبر پر کال کی۔ اور مطلوبہ سامان منگوایا۔

کچھ ہی دیر میں دروازے پر دستک ہوئی اور ایک کالا سا چھوٹے قد کا شخص میجر دانش کو ایک چھوٹا سا بیگ پکڑا کر واپس چلا گیا۔ میجر نے تانیہ کے سامنے ہی بیگ کھولا تو اس میں سے 2 چھوٹے ریوالر برامد ہوئے اور ساتھ میں گولیوں کے کچھ راونڈز بھی تھے۔ اسکے علاوہ ایک گاڑی کی چابی کچھ نقد رقم بھی بیگ میں موجود تھی۔۔۔ تانیہ نے یہ سب کچھ دیکھا تو بولی یہ ریوالور کی تو سمجھ آتی ہے جرائم پیشہ لوگوں سے با آسانی مل جاتے ہیں مگر یہ گاڑی کی چابی اور ساتھ نقد رقم؟؟؟ یہ کیا چکر ہے؟؟/ میجر دانش نے مسکراتے ہوئے کہا تمہیں کہا تھا نہ کہ اب ہم نے بھاگنے اور چھپنے کی بجائے کرنل وشال پرکاری ضرب لگانی ہے تو میں نے کیپٹن مکیش کے فون سے پاکستان میں رابطہ کیا اور انہوں نے انڈیا میں موجود اپنے لوگوں کے ذریعے یہ چیزیں پہنچائی ہیں۔

یہ کہ کر میجر دانش نے گاڑی کی چابی ہاتھ میں پکڑی اور لفافہ کمرے میں موجود ایک الماری میں رکھ کر گھر سے باہر چلا گیا۔ 5 منٹ بعد میجر دانش واپس آیا تو اسکے پاس ایک لیپ ٹاپ کا بیگ موجود تھا۔ تانیہ نے پوچھا اب یہ کہاں سے آیا؟ میجر دانش نے بتایا باہر کھڑی گاڑی میں یہ لیپ ٹاپ تھا۔ میجر نے لیپ ٹاپ آن کیا اور بیگ میں سے ہی ریلائنس موبائلز کی ایک تھری جی ڈیوائس نکال کر انٹرنیٹ آن کر لیا۔ تانیہ نے دانش سے پوچھا انٹرنیٹ پر کیا کرو گے؟؟؟ میجر دانش نے تانیہ کی طرف دیکھا اور پھر آہستہ سے بولا گندی گندی تصویریں دیکھنے لگا ہوں دیکھو گی تم؟؟؟ یہ سن کر تانیہ نے دانش کو گھورا اور بولی خود ہی دیکھو ، یہ کہ کر تانیہ سامنے موجود صوفے پر بیٹھ گئی۔ میجر نے تانیہ کو کہا ساتھ ہی کچن ہے وہاں جا کر کچھ کھانے کا ہی بندوبست کر دو پیٹ میں چوہے دوڑ رہے ہیں۔ تانیہ بولی یہ جو گند دیکھنے لگے ہو اسی سے بھر لو نا پیٹ اپنا۔ میجر نے ایک قہقہ لگایا اور بولا ارے یار ان چیزوں سے تو کبھی پیٹ نہیں بھرتا، پلیز کچھ کھانے کا بندوبست کرو۔ تانیہ اٹھی اور ساتھ موجود کچن میں جا کر دیکھنے لگی کہ وہاں کیا کچھ موجود ہے۔

میجر دانش نے اب انٹرنیٹ ممبئی کے نقشے دیکھنے لگا، یہاں اس نے مختلف شراب خانے، ڈانس کلب، یونیورسٹیز ، آمی کالونیز، ریلوے سٹیشنز، بس سٹینڈز وغیرہ کے پوائنٹس ذہن نشین کر لیے۔ اسکے ساتھ ساتھ اس نے کرنل وشال کی بیٹی ٹینا کی فیس بک پروفائل کھول کر بھی اسکو چیک کرنا شروع کیا۔ یہ پروفائل میجر کو کیپٹن مکیش کےموبائل سے ملی تھی۔ ٹینا ممبئی یونیورسٹی میں ماسٹرز کر رہی تھی ۔ میجر نے نہرو نگر سے ممبئی یونیورسٹی تک کا روڈ میپ دیکھا اور اپنے پاس موجود کیپٹں موکیش کے موبائل میں گوگل میپ میں پوائنٹس سیو کر لیے۔ یہ راستہ بالکل آسان تھا کیونکہ ممبئی ائیر پورٹ کے ساتھ ہی ممبئی یونیورسٹی تھی جہاں سے کچھ دیر پہلے میجر دانش ٹیکسی میں بیٹھ کر آیا تھا۔

اسکے بعد میجر نے آرمی ریذیڈینشل کالونی تک کا راستہ بھی اچھی طرح ذہن نشین کر لیا اور اسکو بھی اپنے موبائل میں محفوظ کر لیا۔ ٹینا کی فیس بک پروفائل سے ہی میجر دانش کو یہ بات بھی پتا لگی کہ وہ اکثر اوقات ساکشی گیلری کے قریب واقع مشہور نائٹ کلب ، کلب علیبی بھی جاتی ہے۔ اور ٹینا کے فیس بک سٹیٹس کے مطابق اسکو آج بھی اپنے کچھ دوستوں کے ساتھ اسی کلب میں جانا تھا۔ میجر دانش نے اس کلب تک جانے کا راستہ بھی ذہن نشین کر لیا۔ یہ سارا کام کر کے میجر دانش فارغ ہوا تو تانیہ بریڈ گرم کر چکی تھی ساتھ میں چائے بنا کر انڈے اور جام کے ساتھ ٹرے میں رکھے وہ میجر دانش کے پاس آگئی۔

دونوں نے ملکر ناشتہ کیا تو میجر دانش نے تانیہ کو اپنے اگلے پروگرام کے بارے میں بتایا۔ ناشتہ کرتے ہی تانیہ اور میجر دانش دونوں گھر سے نکل گئے، گھر کو باہر سے لاک کرنے کے بعد گھر کے ساتھ ہی کھڑی کالے رنگ کی ہنڈا سِٹی میں بیٹھے اور ممبئی یونیورسٹی کی طرف جانے لگے۔ گو کہ میجر دانش کو کافی حد تک راستہ پتا لگ چکا تھا مگر پھر بھی ٹائم بچانے کی خاطر میجر نے اپنا موبائل تانیہ کو پکڑا دیا جو اب گوگل میپ سے میجر دانش کو راستہ بتا رہی تھی۔ 20 منٹ کی ڈرائیو کے بعد میجر دانش یونیورسٹی آف ممبئی کے سامنے موجود تھا۔ میجر سب سے پہلے ٹینا کے ڈیپارٹمنٹ گیا اور وہاں موجود ریسیپشن پر اپنا تعارف کیپٹن مرلی کے نام سے کروایا اور سرسری طور پر جیب سے ایک کارڈ نکال کر دکھا دیا۔ ریشیپشن پر موجود خاتون کیپٹن کا لفظ سن کر ہی سیدھی ہوگئی تھی کارڈ دیکھنے کی اس نے زحمت نہیں کی میجر دانش نے بھی کیپٹن مکیش کا کارڈ واپس جیب میں رکھ لیا اور شکر کیا کہ اسکی توقع کے مطابق خاتون نے کارڈ چیک نہیں کیا اور نام سن کر ہی تعاون کے لیے تیار ہوگئی۔ اب میجر دانش نے ریشیپشن پر موجود خاتون سے ٹینا کے بارے میں پوچھا تو خاتون نے بتایا کہ وہ اس وقت لیکچر روم میں ہیں اور کچھ ہی دیر میں انکا یہ آخری لیکچر ختم ہوجائے گا تو آپ ان سے مل سکتے ہیں۔

دانش نے اسے بتایا کہ مجھے ملنا نہیں ہے ٹینا سے، بس آپ نے میری اتنی مدد کرنی ہے کہ مجھے اسکی گاڑی دکھا دیں۔ مجھے کرنل صاحب نے بھیجا ہے مس ٹینا کی سیکورٹی کی غرض سے۔ خفیہ اطلاع کے مطابق ہمسایہ ملک کے کچھ خفیہ ایجینسی کے لوگ مس ٹینا کو اغوا کرنا چاہتے ہیں تاکہ کرنل وشال سے اپنی مرضی کی باتیں منوا سکیں۔ یہ سن کر ریسیپشن پر موجود خاتون کے چہرے پر خوف کے آثار دیکھے جا سکتے تھے، وہ میجر کو فوا ہی پارکنگ ایریا میں لے گئی اور وہاں موجود شخص سے ٹینا کی گاڑی کے بارے میں پوچھ کر میجر کو گاڑی دکھا دی۔ میجر نے اس خاتون کا شکریہ ادا کیا اور گاڑی کا نمبر ماڈل اور کلر ذہن نشین کرتا ہوا واپس اپنی گاڑی میں چلا گیا جہاں تانیہ اسکا انتظار کر رہی تھی۔ جانے سے پہلے میجر دانش نے خاتون کو ایک بار پھر اپنا نام بتایا اور بولا یہ ٹاپ سیکریٹ بات ہے، مس ٹینا کوبھی اسکے بارے میں پتا نہیں چلنا چاہیے نہیں تو وہ پریشان ہوجائیں گی۔

گاڑی میں بیٹھنے کے بعد دانش نے تانیہ کو بھی ٹینا کی گاڑی کے بارے میں معلومات دیں اور ساتھ موجود ایک سٹور کے قریب اپنی گاڑی لگا کر کھڑا ہوگیا۔ قریب 2 بجے میجر نے دیکھا کہ دور یونیورسٹی بلڈنگ سے کچھ لوگ نکل رہے ہیں اور پارکنگ ایریا کی طرف جا رہے ہیں۔ پھر پارکنگ سے گاڑیاں نکلنا شروع ہوئیں تو کچھ ہی دیر بعد تانیہ نے ایک گاڑی کی طرف اشارہ کیا جو گیٹ سے باہر نکلنے ہی والی تھی۔ میجر دانش گاڑی دیکھتے ہی پہچان گیا تھا یہ ٹینا کی ہی گاڑی تھی۔ بی ایم ڈبلیو بی 4 سیریز کی یہ کنورٹ ایبل کار بھی کالے رنگ کی ہی تھی۔ ڈرائیونگ سیٹ پر ایک خوبصورت لڑکی بیٹھی تھی اور اسکے ساتھ فرینٹ سیٹ پر ایک لڑکا بیٹھا تھا۔ ڈرائیونگ سیٹ پر موجود لڑکی یقینا ٹینا ہی تھی میجر دانش نے گاڑی چلائی اور آہستہ رفتار کے ساتھ اس گاڑی کے پیچھے جانے لگا۔ ایک گھنٹے تک مسلسل اس گاڑی کا پیچھا کرنے کے بعد میجر دانش ممبئی کے آرمی ریذیڈینشیل ایریا میں موجود تھا۔ یہاں ٹینا کی گاڑی بڑے بنگلہ نما گھر میں چلی گئی جبکہ دانش کی گاڑی اس گھر کے سامنے سے ہوتی ہوئی اس ایریا سے باہر آگئی اور اب دوبارہ سے نہرو نگر جا رہی تھی۔ میجر دانش کرنل وشال کی رہائش گاہ دیکھ چکا تھا جو اسکے لیے ایک بہت بڑی کامیابی تھی۔


امجد کے ذہن میں جیسے ہی یہ خیال آیا اس نے فوری طور پر سرمد اور کاشف کو نیند سے جگایا اور ان سے میجر دانش اور تانیہ کے بارے میں پوچھا، انہوں نے بھی لاعلمی کا اظہار کیا تو امجد کی پریشانی میں اور اضافہ ہوگیا، امجد کویوں پریشان دیکھ کر سرمد نے پوچھا کیا ہوا ؟ سب خیریت تو ہے نہ؟؟ امجد نے اسے بتایا کہ ابھی تک وہ دونوں نہیں پہنچے نہ تانیہ نے رابطہ کرنے کی کوشش کی ہے۔ مجھے فکر ہے کہ وہ دونوں کرنل وشال کے ہاتھ لگ گئے ہیں۔ امجد کے بات سن کر سرمد نے فورا کاشف کی طرف دیکھا اور بولا میں نے تمہیں کہا تھا کہ پچھلی بس میں وہ دونوں ہیں اور اسی چیک پوسٹ پر وہ دونوں پکڑے گئے ہونگے۔ سرمد کی بات سن کر امجد کو یقین ہوگیا کہ میجر دانش اور تانیہ پکڑے گئے ہیں۔ اس نے فوری طور پر سرمد اور کاشف کو اپنا سامان باندھنے کا کہا اوراوپر جا کر کشمیری فیملی کو بھی خطرے سے آگاہ کر دیا۔ یوں تو وہ فیملی عام شہری کی حیثیت سے ہی رہ رہے تھے اور انکا امجد کی سرگرمیوں سے قطعا کوئی تعلق نہ تھا مگر کشمیری ہونے کے ناطے انہیں امجد سے ہمدردی ضرور تھی اور وہ جانتے بھی تھے کہ امجد کسطرح انڈین آرمی کے خلاف اپنی لڑائی جاری رکھے ہوئے ہے۔

امجد نے انہیں خطرے سے آگاہ کیا تو انہوں نے بھی اپنا ضروری سامان ساتھ لیا اور چلنے کے لیے تیار ہوگئے۔ نیچے امجد اور اسکے ساتھی بھی جانے کے لیے تیار تھے کہ کمرے میں موجود ٹیلیفون کی گھنٹی بجی۔ 2 مرتبہ گھنٹی بجنے کے بعد فون بند ہوگیا۔ امجد تھوڑی دیر کو رکا اور دوبارہ سے فون آنے کا انتظار کرنے لگا۔ 2 بار فون کی گھنٹی بجی اور پھر سے بند ہوگیا۔ اب امجد کے چہرے پر خوشی کے آثار آئے اور تیسری بار پھر فون آیا اور اس بار تیسری گھنٹی بھی بجی امجد خوشی سے چلایا یہ تانیہ کا فون ہے اور فورا آگے بڑھ کر فون اٹینڈ کر لیا۔

یہ اصل میں انکا کوڈ ورڈ تھا انجان نمبر سے آنے والا فون امجد ریسیو نہیں کرتا تھا۔ اس لیے تانیہ کو جب بھی امجد کو انجان نمبر سے فون کرنا ہوتا تو وہ دو بار فون کار کے 2 بیل ہونے پر فون بند کر دیتی تھی اور تیسری بار فون کرتی تو امجد سمجھ جاتا تھا کہ یہ تانیہ کا فون ہے۔ امجد نے جیسے ہی فون ریسیو کیا اور ہیلو کہا تو آگے سے تانیہ کی آواز سنائی دی۔ تانیہ نے امجد کو سلام کیا اور پوچھا کیسے ہیں آپ بھیا؟؟؟ امجد نے تانیہ کو جواب دینے کی بجائے کہا تم لوگ کہاں ہو اور ابھی تک پہنچے کیوں نہیں ہم کب سے تمہارا انتظار کر رہے ہیں۔۔۔۔ امجد کی بات ختم ہوئی تو تانیہ بولی میں اس وقت تو کچن میں ہوں اور آپکے میجر صاحب کے لیے ناشتہ بنا رہی ہوں۔ اور آپ ہمارا انتظار نہ کریں ہم نہیں آئیں گے۔ تانیہ کی بات سن کر امجد تھوڑا حیران ہوا اور بولا کیا مطلب تم لوگ نہیں آو گے اور ابھی تم ہو کہاں پر؟؟؟ تانیہ نے جواب دیا کہ مجھے نہیں معلوم بس ہم خیریت سے ہیں ۔ باقی پھر مناسب وقت دیکھ کر آپکو میں بتاوں گی کہ ہم کہاں ہیں۔

یہ کہ کر تانیہ نے فون بند کر دیا اور امجد نے سکون کا سانس لیا۔ امجد نے سرمد اور کاشف کو بھی بتایا کہ وہ دوںوں ٹھیک ہیں مگر کہاں پر ہیں یہ تانیہ نے نہیں بتایا۔ اتنے میں اوپر رہنے والی کشمیری فیملی اپنا سامان سمیٹ کر نیچے آچکی تھی مگر امجد نے انکو حوصلہ دیا اور بتایا کہ سب ٹھیک ہے تانیہ کی کال آگئی ہے وہ خیریت سے ہے۔ میرا شک غلط تھا آپ لوگ جائیں اور سکون سے رہیں۔ انہوں نے بھی سکھ کا سانس لیا اور واپس اپنے پورشن میں چلے گئے۔ تھوڑی دیر بعد دوبارہ سے اسی نمبر سے فون آیا جو امجد نے پہلی بیل پر ہی ریسیو کر لیا۔ اب کی بار آگے سے دانش کی آواز آئی۔ امجد نے پوچھا کہاں ہو یار ہم کب سے تمہارا انتظار کر رہے ہیں۔ دانش نے کہا بھیا میں تو ہنی مون منانے ممبئی آگیا ہوں۔ یہاں مستی کر رہا ہوں۔ اور ابھی اپنی بیوی کے ساتھ شہر کی سیر کر رہا ہوں۔ آپ فکر نہ کریں بس ہم نے سوچا کہ میکے واپس آنے سے پہلے کیوں نہ ممبئی کی سیر ہی کر لیں۔ اس لیے آپکے ہاں آنے کی بجائے ہم سیدھا ممبئی آگئے ہیں۔ کچھ دنوں تک ہماری واپسی ہوجائے گی۔ آپ فکر نہ کریں تانیہ میرے ساتھ ہے اور بہت خوش ہے اپنی نئی زندگی سے۔ یہ کہ کر دانش نے فون بند کر دیا۔ اور امجد قہقہے مار مار کر ہنسنے لگا۔

سرمد اور کاشف اسکی شکل دیکھ رہے تھے۔ امجد نے دونوں کو اپنی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھتے ہوئے پایا تو بولا یار یہ دانش بہت پہنچی ہوئی چیز ہے اسکا دماغ بہت تیز چلتا ہے۔ اور اسکو یہ بھی پتا ہے فون پر بات کیسے کرنی ہے، دونوں ممبئی میں ہیں اس وقت اور ہنی مون منا رہے ہیں۔ ہنی مون کا سن کر سرمد اور کاشف کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں۔ امجد نے دونوں کی حیرت کو کم کرنے کے لیے بتایا کہ یار وہ کوڈ ورڈ میں بات کر رہا تھا نہ، اگر کوئی ہمارا نمبر ٹریس کر بھی رہا ہو تو وہ یہی سمجھے گا کہ یہ تانیہ کا میکہ ہے جہاں دانش اور تانیہ نے آنا تھا مگر وہ یہاں آنے کی بجائے ممبئی چلے گئے ہیں ہنی مون منانے۔ پھر امجد نے سیریس ہوتے ہوئے کہا لیکن مجھے یہ سمجھ نہیں آئی کہ یہ دونوں اتنی جلدی ممبئی کیسے پہنچ گئے؟؟ جامنگر سے ممبئی تک کا بس کا سفر 14 گھنٹے کا ہے اتنی جلدی ممبئی پہنچنا ممکن نہیں۔۔۔ ہوسکتا ہے وہ دونوں یہیں جونا گڑھ ہوں اور کچھ دیر میں آجائیں۔

User avatar
sexi munda
Gold Member
Posts: 827
Joined: 12 Jun 2016 12:43

Re: وطن کا سپاہی

Post by sexi munda » 29 Oct 2017 13:41


یہ سوچ کر امجد نے بھی کچھ آرام کرنے کی ٹھانی ساری رات کا سفر اور پھر اتنی دیر پٹرول پمپ پر کھڑے ہوکر اسکی حالت خراب ہوگئی تھی۔ آرام کرنے کی غرض سے امجد بھی اسی کمرے میں لیٹ گیا جہاں باقی لوگ موجود تھے، 4، 5 گھنٹے آرام کرنے کے بعد رات 9 بجے کے قریب امجد کی آنکھ ٹیلیفون کی گھنٹی سن کر کھلی۔ امجد نے فون ریسیو کیا تو دانش کی آواز تھی ، دانش نے امجد کو کہا کہ وہ جونا گڑھ میں ہی تھوڑی آتش بازی کا بندوبست کرے تاکہ لوگوں کہ پتہ لگے ہماری شادی ہوئی ہے اور ساتھ ہی سرمد یا کاشف کو جامنگر بھیج کر میرے دوستوں کو وہیں پر روکو ، وہ میرا ہنی مون خراب کرنے ممبئی تک نہ آجائیں۔ انہیں بتاو کہ میں ابھی جامنگر میں ہی ہوں۔ یہ کہ کر دانش نے فون بند کر دیا۔ امجد کو میجر دانش کے اس میسج کی بخوبی سمجھ آگئی تھی اور وہ سمجھ گیا تھا کہ اب میجر دانش ایکشن کے موڈ میں ہے۔


میجر دانش کرنل وشال کے گھر کو دیکھ کر واپسی کے لیے مڑا اور اب اسکی منزل کلب علیبی تھا۔ یہاں بھی تانیہ دانش کو موبائل کی مدد سے راستہ بتا رہی تھی اور 20 منٹ کے بعد میجر دانش اور تانیہ کلب پہنچ چکے تھے جو اس وقت بند پڑا تھا۔ میجر نے کلب کے آس پاس کا اچھی طرح معائنہ کیا اور وہاں سے نکلنے والے مختلف راستوں کا اچھی طرح معائنہ کیا تاکہ وقت پڑنے پر اگر بھاگنا پڑے تو یہاں سے نکلنے والے راستوں کا اچھے سے علم ہو۔ اسکے بعد میجر نے تانیہ سے امجد کا نمبر پوچھ کر اسکوکچھ ضروری ہدایات دیں ۔ پھر شہر کے مختلف علاقوں میں بلا وجہ پھرتا رہا۔ میجر کا مقصد مین راستوں کے بارے میں علم حاصل کرنا تھا۔ خاص طور پر کلب علیبی سے آرمی ریزیڈینشل ایریا تک جانے والے مختلف راستوں پر امجد نے بار بار راونڈ لگایا تاکہ وہ یہ راستے ذہن نشین کر سکے ساتھ ہی اس نے تانیہ سے بھی کہا کہ وہ بھی ان راستوں کو اچھی طرح سمجھ لے اور یہاں سے واپس نہرو نگر تک جانے کا راستہ بھی ذہن نشین کر لے۔

کچھ دیر مزید آوارہ پھرنے کے بعد میجر دانش شام کے7 بجے واپس اپنے نہرو نگر والے گھر میں پہن چکا تھا اور اب رات کی تیاری کر رہا تھا۔ اس نے ایک جرائم پیشہ گروہ سے رابطہ کیا اور انکو ٹینا کی تصویر بھی سینڈ کر دی۔ میجر دانش نے انہیں فون پر موجود شخص سے کہا کہ اس لڑکی کو ہر حال میں آج رات اغوا کرنا ہے، مگر اس بات کا خیال رہے کہ میں کوئی دنگا فساد نہیں چاہتا، اپنے لوگوں کو پستول وغیرہ دے کر نہ بھیجنا، کوئی خون خرابی نہیں چاہیے، اور زیادہ شور و غل بھی نہ ہو چپ چاپ 3، 4 لوگ جائیں اور اس لڑکی کو گاڑی میں ڈال کر میرے مطلوبہ ٹھکانے تک پہنچا دیں۔ آدھی رقم تمہارے بینک اکاونٹ میں پہنچ چکی ہے باقی کی رقم کام ہونے کے بعد تمہیں مل جائے گی۔ مگر لڑکی کو ایک خراش تک نہیں آنی چاہیے۔

یہ کر کر میجر نے فون بند کردیا۔ تانیہ نے پوچھا کہ اسے اغوا کر کے کیا کرو گے؟؟؟ میجر دانش نے تانیہ کو آنکھ ماری اور بولا تم تو کسی کام آتی نہیں چلو تانیہ کے ساتھ ہی آج کی رات اچھی گزر جائے گی۔ میجر کی بات سن کر تانیہ کے چہرے پر مسکراہٹ بھی آئی اور اس نے مصنوعی غصے کا اظہار کرتے ہوئے دانش کو 2، 4 سنا دیں۔ اب دانش نے تانیہ کو تیار ہونے کے لیے کہا ان دونوں نے کلب علیبی جانا تھا۔ تانی کچھ دیر میں ہی، یعنی کے 1 سے 2 گھنٹے میں تیار ہوکر نکلی تو میجر دانش تانیہ کو دیکھ کر پلکیں جھپکانا ہی بھول گیا اور دل ہی دل میں مونا جی کی تعریفیں کرنے لگا جنہوں نے اتنا سیکسی ڈریس بھیجا تھا۔

بغیر بازوں کےسرخ رنگ کا یہ ڈریس تانیہ کے سینے کے ابھاروں سے ہوتا ہوا 2 حصوں میں تقسیم ہوکر تانیہ کی گردن تک جا رہا تھا اور گردن کے پیچھے جا کر دونوں حصوں کو تانیہ نے ہلکی سی گرہ لگا رکھی تھی۔ تانیہ کے سینے کے ابھار اس ڈریس میں کافی واضح ہورہے تھے ، ڈریس کا نیچلا حصلہ ویسے تو تانیہ کو پاوں تک آرہا تھا اور پیچھے سے کپڑے کا کچھ حصہ زمین کو بھی چھو رہا تھا مگر تانیہ کی تھائی سے ڈریس میں ایک کٹ تھا جسکی وجہ سے تانیہ کی بائیں ٹانگ تھائی سے لیکر نیچے ٹخنے تک نظر آرہی تھی، تانیہ کی گوری دودھ جیسی بالوں سے پاک ٹانگ دیکھ کر میجر دانش کی پینٹ میں کچھ ہونے لگا تھا۔ تانیہ نے میجر کو اپنی طرف یوں آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر دیکھتے ہوئے پایا تو اسکی آنکھوں میں تھوڑا غرور واضح ہونے لگا، اتنے حسن پر تھوڑا سا غرور تو بنتا ہی تھا۔ اب تانیہ اٹھلاتی ہوئی میجر سے بولی ایسے ہی دیکھتے رہو گے یا کلب بھی چلو گے؟؟؟ یہ کہ کر تانیہ آگے چل پڑی، اب میجر نے تانیہ کو پیچھے سے جو دیکھا تو اسکی پینٹ میں لن کا ابھار واضح ہونے لگا تھا۔ تانیہ کا یہ ڈریس بیک لیس تھا۔ یعنی تانی کی کمر بالکل ننگی تھی اور اسکے برا کی کوئی سٹرپ بھی نظر نہیں آرہی تھی جسکا مطلب تھا کہ اس ڈریس کے نیچے سے تانیہ نے کوئی برا نہیں پہنا۔ اس سوچ نے میجر دانش کو 240 وولٹ کا جھٹکا مارا تھا اور نیچے تانیہ کی 32 انچ کی گانڈ علیحدہ ہی نظر آرہی تھی۔ کولہوں سے ڈریس ٹائٹ ہونے کی وجہ سے تانیہ کے چوتڑوں کا ابھار کافی واضح تھا۔ مختصر یہ کہ تانیہ اس ڈریس میں کسی فلم کی سیکسی ہیروئین لگ رہی تھی اوپر سے اسکے کندھوں تک خوبصورت بال اور چہرے پر ایک بل کھاتی لٹ اسکے حسن کو چار چاند لگا رہی تھی۔ ہلکی سرخ رنگ کی لپ اسٹک تانیہ کے رسیلے ہونٹوں کو اوربھی زیادہ دلکش بنا رہی تھی ۔

تانیہ نے ایک بار پھر پیچھے مڑ کر میجر دانش کو دیکھا جو ابھی تک سکتے کی حالات میں تانیہ کی خوبصورتی اور اسکی ننگی کمر کو دیکھ کر اپنی آنکھیں ٹھنڈی کر رہا تھا، تانیہ نے زیرِ لب مسکراتے ہوئے میجر کو دیکھا اور بولی میجر صاحب اسی طرح لڑکیوں کو دیکھ کر لٹو ہوتے رہو گے تو کر لی آپ نے کرنل وشال کی جاسوسی، اب ہوش میں آو اور چلنے والی بات کرو۔ تانیہ کی بات سن کر میجر اپنے ہوش میں واپس آیا اور مسکراتا ہوا بولا اب تم اتنی ہاٹ ہاٹ ڈریسنگ کرو گی تو مجھ جیسا شریف انسان تو سکتے میں آہی جائے گا نا۔۔۔ تانیہ اسکی بات سنکر مسکرائی اور بولی تم نے ہی ایسے ڈریسیز کا انتخاب کیا ہے مجھے تو معلوم بھی نہیں تھا کہ تم نے مونا جی سے کیا خریدا ہے۔ ایسے ہی باتیں کرتے دونوں اپنی گاڑی کے قریب پہنچ چکے تھے اور تانیہ محسوس کر رہی تھی کہ گلی میں موجود جو چند لوگ تھے انکی نظریں بھی تانیہ کے جسم کا جی بھر کر نظارہ کرنے میں مصروف تھیں۔ میجر نے گاڑی سٹارٹ کی اور کلب علیبی کی جانب روانہ ہوگیا۔ راستے میں تانیہ نے پوچھا کہ اگر ٹینا کو اغوا ہی کروانا تھا تو ہمیں وہاں جانے کی کیا ضرورت ہے اغوا کرنے والے خود ہی ٹینا کو اغوا کرکے ہماری کہی ہوئی جگہ پر پہنچا دیتے۔

میجر نے تانیہ کی طرف دیکھا اور بولا اصل میں اسکو اغوا نہیں کروانا بلکہ اغوا ہونے سے بچانا ہے۔ اسلیے میرا وہاں جانا ضروری ہے۔ تانیہ نے حیران ہوکر پوچھا کیا مطلب؟ یہ جو تم نے غنڈوں کو اتنی بڑی رقم دی ہے یہ اغوا ہونے سے بچانے کے لیے دی ہے؟؟؟ میجر بولا نہیں اغوا کرنے کے لیے ہی دی ہے مگر جب وہ اغوا کریں گے تو میں نے بالی ووڈ کے ہیرو کی طرح اینٹری مار کر ٹینا کو اغوا ہونے سے بچانا ہے۔ اور غنڈوں کو پیسے اس لیے دیے ہیں ک سب کچھ اصلی لگے اگر ڈرامہ کرنے کے لیے کرائے کے لوگ بھیجوں گا تو کسی کو بھی شک ہوسکتا ہے مگر اصلی غنڈے اپنا کام اچھی طرح کرنا جانتے ہیں۔ تانیہ نے کہا اور اگر اس سب میں تمہیں کچھ ہوگیا تو؟؟؟ میجر نے تانیہ کی طرف دیکھا اور مسکراتے ہوئے بولا تمہیں میری بڑی فکر ہورہی ہے۔۔۔ کہیں مجھ سے پیار تو نہیں ہوگیا؟؟؟؟؟ تانیہ میجر کی بات سن کر سٹپٹا گئی اور بولی نہیں وہ میں نے تو ویسے ہی پوچھا ہے کہ کچھ بھی ہوسکتا ہے ایسی صورتحال میں پھر میں کہاں تمہیں ہسپتالوں میں لیکر پھروں گی۔ تانیہ کا جواب سنکر میجر ہنسنے لگا اور دوبارہ سے گاڑی چلانے لگا۔ کل علیب سے کچھ فاصلے پر میجر نے گاڑی ایک کم روشنی والی جگہ پر روک دی اور خود گاڑی سے اتر کر تانیہ کو ڈرائیونگ سیٹ پر آنے کا کہا، تانیہ گاڑی سے اتری اور اپنی اونچی ہیل والی سینڈل پہنے بل کھاتی نازک کمریا کے ساتھ چلتی ہوئی گاڑی تک آئی اور میجر دانش کی نظریں ایک بار پھر اسکے جسم کا ایکسرے کرنے لگیں۔

گاڑی کے قریب آکر تانیہ ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھی تو اسکے ڈریس کا نچلا کٹ والا حصہ اسکی ٹانگ سے سرکتا ہوا نیچے چلا گیا اور اسکی بائیں ٹانگ تھائی سے لیکر نیچے تک ننگی ہوگئی مگر تانیہ نے اس چیز کا کوئی نوٹس نہیں لیا کیونکہ یہ اسکے لیے معمولی سی بات تھی مگر میجر دانش کے لیے اب اپنے اوپر کنٹرول کرنا مشکل ہوتا جا رہا تھا۔ اب تانیہ نے میجر کی طرف دیکھا اور اسکو دوسری طرف سے آنے کا اشارہ کیا مگر میجر نے تھوڑا سا جھک تانیہ کو بتایا کہ وہ کلب علیبی اکیلی جائے اوراندر کسی بھی ڈانس فلور پر جا کر انجوئے کرے۔ چاہے تو ڈانس کرے چاہے تو کسی ٹیبل پر بیٹھ کر کسی بھی شخص سے خوش گپیاں کرے۔ اور جیسے ہی ٹینا نطر آئے اس پر نظر رکھے کہ وہ اندر کس سے ملتی ہے اور کوئ بھی غیر معمولی چیز نظر آئے تو فورا میجر دانش کو اسکے فون پر ااطلاع دے۔ یہ کہتے ہوئے میجر دانش نے ایک مہنگا موبائل تانیہ کی طرف بڑھایا اور اسکو کہا اس موبائل کو استعمال کرتے ہوئے تم مجھے کال کر سکتی ہو۔ تانیہ نے وہ موبائل اپنے پاس موجود پرس میں رکھا اور دانش سے پوچھا کہ تم کہاں ہوگے؟؟؟ دانش نے بتایا میں بھی کلب علیبی آوں گا مگر وہاں ہم دونوں ایکدوسرے سے نہیں ملیں گے اور نہ ہی کوئی بات چیت ہوگی، اور کچھ دیر اندر رکنے کے بعد شاید میں واپس چلا جاوں مگر تم نے اندر ہی رہنا ہے تب تک جب تک ٹینا وہاں سے نکل نہیں جاتی، اسکے بعد تم چاہو تو گاڑی لیکر واپس نہرو نگر چلی جانا میں ٹینا کو غنڈوں سے بچا کر سیچوایشن کے مطابق فیصلہ کروں گا کہ مجھے رات کو گھر واپس آنا ہے یا رات کہیں اور گزارنی ہے۔ ساتھ ہی میجر نے تانیہ کو خصوصی ہدایت دی کہ نائٹ کلب میں شراب اور وہسکی وغیر ہرگز نہ پیے ورنہ صورتحال بگڑ بھی سکتی ہے۔

تانیہ میجر کو اوکے کہ کر کلب عبیلی کی طرف نکل گئی جب کہ میجر دانش کلب کے باہر ادھر ادھر آوارہ گھومنے لگا۔ پھر کلب کے باہر موجود ایک چھوٹی سی دکان پر بیٹھ کر سگریٹ پینے لگا۔ دانش سموکر نہیں تھا مگر کبھی کبھار اپنے آپ کو آوارہ انسان دکھانے کی خاطر لا ابالی سٹائل میں سموکنگ بھی کرتا تھا۔ اس وقت بھی وہ ایک فارغ انسان نظر آرہا تھا جسکو سارا دن آوارہ پھرنے کے علاوہ کوئی کام نہ ہو۔ کچھ دیر ادھر ادھر پھرنے کے بعد اب میجر دانش ایک دکان پر بیٹھا کوک پی رہا تھا اور ٹائم پاس کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ مگر ٹائم تھا کہ جیسے رک سا گیا تھا۔ رات کے 10 بجنے کو تھے مگر ابھی تک ٹینا کا کوئی اتا پتا نہیں تھا۔

دوسری طرف تانیہ کلب علیبی پہنچی تو اسکے سامنے ہی گاڑی لگا کر گاڑی سے اتر گئی، ایک ویلے بھاگتا ہوا تانیہ کے پاس آیا اور اس سے گاری کی چابی لیکر پارک کرنے چلا گیا جب کہ تانیہ ایک ادائے بے نیازی سے کار کا ٹوکن اپنے پرس میں رکھتے ہوئے نائٹ کلب میں داخل ہوگئی۔ قریب 9:30 کا ٹائم تھا اس لیے نائٹ کلب میں ابھی زیادہ گہما گہمی نہیں تھی چند لوگ ہی اندر موجود تھے کچھ کپل تھے تو کچھ بڑی عمر کے افراد بھی تھے۔ چند نوجوان اپنی گرل فرینڈز کے ساتھ ڈانس فلور پر ڈانس کرنے میں مگن تھے۔ تانیہ پر اعتماد انداز میں چلتی ہوئی ایک خالی ٹیبل دیکھ کر اس پر بیٹھ گئی ، اور ڈانس فلور پر نوجوانوں کو ڈانس کرتا دیکھنے لگی۔

پھر تانیہ نے ایک ڈرنک آرڈر کی جو چند منٹ میں ہی آگئی ، اب تانیہ ڈرنک پینے کے ساتھ ساتھ ٹانگ پر ٹانگ رکھے نوجوان لڑکے لڑکیوں کو ڈانس کرتا دیکھ کر انجوائے کر رہی تھی۔ تانیہ کے آس پاس بیٹھے چند بڑی عمر کے مردوں کی نظریں تانیہ پر ہی تھیں اور وہ یہ اندازہ لگانے کی کوشش کر رہے تھے کہ یہ قاتل حسینہ اکیلی ہے یا اسکے ساتھ کوئی بوائے فرینڈ وغیرہ بھی ہے۔ کچھ دیر صبر کرنے کے بعد ایک شخص نے ہمت کی اور اپنی سیٹ سے اٹھ کر تانیہ کے قریب آگیا ، اور بڑے پر اعتماد انداز میں تانیہ کو مخاطب کرتے ہوئے بولا ، ہیلو بیوٹی فُل لیڈی، اِف یو ڈانٹ مائنڈ مے آئی سِٹ ہیر؟؟ تانیہ نے اسکا سر تا پیر جائزہ لیا اور بولی یو ڈانٹ نیڈ مائی پرمیشن۔ یہ کہ کر تانیہ پھر سے ڈانس دیکھنے لگی اور وہ شخص تانیہ کے ساتھ والی چئیر پر بیٹھ گیا مگر تانیہ اسے اگنور کر رہی تھی۔

اس شخص کی عمر 35 کے لگ بھگ ہوگی مگر شاید نوجوان لڑکیوں کا شوقین تھا۔ تانیہ کے پاس بیٹھ کر اس نے تانیہ کو دوبارہ سے مخاطب کیا اور اپنا ہاتھ تانیہ کی طرف بڑھاتے ہوئے اپنا تعارف کروایا ، تانیہ نے پھر سے ایک لمحے کو اسکی طرف دیکھا اور پھر اپنا ہاتھ بڑھا کر اس سے ہاتھ ملایا اور اپنا نام انجلی بتایا۔ اس شخص کا نام سبھاش تھا۔ پہلے پہل تو تانیہ نے اسے کوئی خاص لفٹ نہ کروائی مگر پھر اسے احساس ہوا کہ ٹینا کے آنے میں ابھی وقت ہوگا کیونکہ نائٹ کلب کی اصل رونقیں تو 11 سے 12 بجے کے درمیان ہی آتی ہیں لہذا ٹائم پاس کرنے کے لیے اس لنگور کو تھوڑی بہت لفٹ کروا دینی چاہیے۔ اب تانیہ نے اس شخص سے بات چیت شروع کی تو وہ اپنے بارےمیں تانیہ کو بتانے لگا، اپنا بزنس اور پرسنل لائف کے بارے میں وہ بلا جھجک تانیہ کو سب کچھ بتا رہا تھا۔ اور تانیہ بھی اپنے ذہن میں کہانی بنا رہی تھی کہ اگر یہ میرے بارے میں کچھ پوچھتا ہے تو میں کیا بتاوں گی

کچھ ہی دیر کے بعد سبھاش نے تانیہ کو ڈانس کی آفر کر دی جو تانیہ نے تھوڑا سا ہچکچانے کے بعد قبول کر لی۔ اس وقت رومانٹک سلو میوزک چل رہا تھا تو تانیہ نے ٹیبلز کے درمیان میں ہی اس شخص کے ساتھ سلو کپل ڈانس کرنا شروع کر دیا، تانیہ نے اپنا ایک ہاتھ اسکے ہاتھ میں دے رکھا تھا جبکہ دوسرا ہاتھ اسکے کندھے پر رکھا ہوا تھا جبکہ سبھاش کا دوسرا ہاتھ تانیہ کی کمر پر تھا اور وہ ہولے ہولے تانیہ کی کمر پر ہاتھ پھیر رہا تھا۔ اسی طرح کچھ اور کپلز بھی کپل ڈانس کرنے میں مشغول تھے اور جو مرد پہلے تانیہ کو گھور رہے تھے وہ اب اپنے آپ کو کوس رہے تھے کہ اگر وہ پہل کر لیتے تو شاید اس حسینہ کے ساتھ اب وہ بانہوں میں بانہیں ڈالے ڈانس کر رہے ہوتے۔

ڈانس کے دوران بھی سبھاش اپنےلبوں کو تانیہ کے کانوں کے قریب لا کر اس سے باتیں کر رہا تھا اور تانیہ بھی ہلکی آواز میں اسکی باتوں کے جواب دے رہی تھی، تانیہ نے اسے بتایا کہ وہ سنگل ہے اور اسکا کوئی بوائے فرینڈ نہیں وہ یہاں اکیلی ہی ٹائم پاس کرنے آئی ہے۔ یہ جان کر سبھاش کی مردانگی نے ایک انگڑائی لی اور اسے لگا کہ آج تانیہ کی تنہائی کو وہ مٹا سکتا ہے۔ یہ جان کر کہ تانیہ سنگل ہے اب سبھاش تھوڑا ریلیکس ہوگیا تھا اور ڈانس کرتے کرتے اب تانیہ کو اپنے سے قریب کر لیا تھا۔ تانیہ نے بھی کوئی مزاحمت نہیں کی اور اس شخص کو اپنے قریب ہونے دیا وہ جانتی تھی کہ کسی بھی ٹائم تانیہ با آسانی اس سے جان چھڑوا کر جا سکتی ہے۔ تانیہ کے ممے سبھاش کے سینے کو ٹچ کر رہے تھے اور سبھاش نظریں بچا کر بار بار تانیہ کے سینے میں بننے والی خوبصورت کلیویج کو دیکھ رہا تھا جبکہ اسکا ہاتھ مسلسل تانیہ کی کمر کا مساج کر رہا تھا۔ وہ تانیہ کی گردن سے لیکر اسکے چوتڑوں سے کچھ اوپر تک جہاں تک تانیہ کی کمر ننگی تھی اپنے ہاتھ سے تانیہ کے جسم کی گرمی کو محسوس کر رہا تھا۔

قریب 15، 20 منٹ دونوں اسی طرح ڈانس کرتے رہے اور اسکے بعد میوزک رک گیا اور تمام کپل اپنی اپنی جگہ پر واپس جا کر بیٹھ گئے جبکہ ڈانس فلور پر ابھی تک تیز میوزک چل رہا تھا اور وہاں نوجوان لڑکے لڑکیاں بے ہنگم ڈانس کرنے میں مصروف تھے۔ اب سبھاش اور تانیہ دوبارہ سے بیٹھے باتیں کرنے میں مصروف تھے ۔ تانیہ سبھاش کے ساتھ اب بالکل نارمل انداز میں بات کر رہی تھی جیسے وہ اس کو بہت عرصے سے جانتی ہو اور بات بات پر کھلکھلا کر ہنس رہی تھی۔ جب کہ سبھاش کی نظریں مسلسل تانیہ کے نسوانی حسن کے گرد گھوم رہی تھیں جسکا تانیہ کو بھی اچھی طرح اندازہ تھا مگر اس نے کسی رد عمل کا اظہار نہیں کیا۔ سبھاش نے تانیہ کو ڈرنکس کی آفر بھی کروائی مگر تانیہ نے کلئیر بتا دیا کہ سافٹ ڈرنک چلے گی وہسکی وغیرہ نہیں جس پر سبھاش نے اپنے لیے وہسکی اور تانیہ کے لیے کوک منگوائی جسکو تانیہ ایک ایک سِپ لیکر پینے لگی۔

User avatar
sexi munda
Gold Member
Posts: 827
Joined: 12 Jun 2016 12:43

Re: وطن کا سپاہی

Post by sexi munda » 30 Oct 2017 11:59


باہر دانش کو بھی فارغ گھومتے کافی دیر ہو چکی تھی، کوئی 11 بجے کے قریب دانش کو ایک کنورٹ ایبل بی ایم ڈبلیو نائٹ کلب کی طرف آتی دکھا دی، دانش نے فورا گاڑی پہچان لی یہ ٹینا کی ہی گاڑی تھی اور ٹینا خود ڈرائیو کر رہی تھی جبکہ اسکے ساتھ والی سیٹ پر وہی لڑکا بیٹھا تھا جو یونیورسٹی سے نکلتے ہوئے ٹینا کے ساتھ تھا۔ اب دانش چوکنا ہوگیا تھا اور ادھر ادھر دیکھنے لگا کہ ٹینا کی کوئی نگرانی تو نہیں ہورہی؟ یا اسکے ساتھ آس پاس کوئی گارڈز وغیرہ موجود ہوں۔ آخر کرنل کی اکلوتی بیٹی تھی کیا معلوم اسکی حفاظت کے لیے پوری فوج موجود ہو آس پاس، مگر کچھ دیر بعد دانش کو اطمینان ہوگیا کہ ٹینا کی نہ تو نگرانی ہورہی ہے اور نہ ہی اسکے آس پاس کوئی موجود ہے۔ ٹینا اب کلب میں داخل ہوچکی تھی، دانش نے دوبارہ سے ایک نمبر ملایا اور بولا کہ آدھے گھنٹے بعد اپنے آدمیوں کو کلب عبیلی بھیج دو، لڑکی کلب میں جا چکی ہے اور امید ہے کہ رات 1 سے 2 بجے تک ہی نکلے گی۔ لیکن کسی بھی وجہ سے وہ پہلے بھی باہر آسکتی ہے لہذا اپنے آدمی ابھی بھیج دو۔

فون کر کے دانش خود بھی کلب کے اندر چلاگیا۔ ویسے تو میجر دانش کی عمر 32 کے لگ بھگ تھی مگر اس وقت اپنے حلیے سے اور ڈریسنگ کی وجہ سے وہ 25، 26 سال کا لا ابالی اور لا پرواہ لڑکا لگ رہا تھا۔ کلب کے اندر جا کر دانش نے دیکھا تو خوب ہلہ گلہ تھا، شور، لائٹس اور لوگوں کے بولنے کی آوازیں ، دانش کو ایسے لگ رہا تھا جیسے وہ کسی بکرا منڈی میں آگیا ہو۔ کان پڑی آواز سنائی نہیں دیتی تھی یہاں تو۔ کچھ ہی دیر کے بعد دانش کی نظر ٹینا پر پڑی جو اپنے ساتھ آئے لڑکے کے ساتھ راک میوزک پر ڈانس کر رہی تھی الٹے سیدھے سٹیپ کرنے کو آج کل کی نوجوان نسل ڈانس کا نام دیتی ہے، اور یہی کچھ ٹینا کر رہی تھی، اسکے ساتھ موجود لڑکے کو بھی ڈانس کے بارے میں کچھ خاص معلومات نہیں تھیں وہ بھی الٹے سیدھے ہاتھ چلا رہا تھا، اور کبھی اسکے ہاتھ ٹینا کی کمر پر ہوتے تو کمر سے ہوتے ہوئے ٹینا کے ہپس تک بھی ضرور جاتے، ٹینا نے نیلے رنگ کی ٹائٹس پہن رکھی تھی جسکی وجہ سے اسکے چوتڑوں کے بیچ میں موجود لائن اور ٹانگوں اور چوتڑوں کا جوڑ تک واضح ہورہا تھا اوپر ٹینا نے ایک لوز سی شرٹ پہن رکھی تھی جس میں اسکے ممے ہلتے واضح محسوس ہورہے تھے۔ یعنی اس نے نیچے سے برا نہیں پہنا ہوا تھا۔

ڈانس کرتے ہوئے کبھی ٹینا لڑکے کی طرف اپنی پیٹھ کرتی تو لڑکا ٹینا کے پیٹ پر ہاتھ رکھ کر اسے اپنے ساتھ لگا لیتا جس سے ٹینا کے چوتڑ اس لڑکے کے جسم سے ٹچ ہوتے، اور دونوں کی ہائٹ ایک جیسی ہونے کی وجہ سے ٹینا کی گانڈ اور لڑکے کے لن کا آپس میں ملاپ ہورہا تھا۔ دانش ایک سائیڈ پر بیٹھ کر ٹینا پر نظر رکھے ہوئے تھا کہ اچانک اسکی نظر تانیہ پر پڑی جو ابھی تک سبھاش کے ساتھ بیٹھی باتیں کر رہی تھی۔ اور دانش کو ایسے محسوس ہورہا تھا جیسے تانیہ بہت عرصے سے سبھاش کو جانتی ہو۔ تانیہ کو کلب میں آئے 2 گھنٹے سے زیادہ کا ٹائم ہوچکا تھا مگر وہ ابھی تک فریش لگ رہی تھی جبکہ دانش کا باہر کھڑے ہو ہو کر برا حال ہوچکا تھا۔ سبھاش اور تانیہ ڈانس فلور پر نوجوانوں کا ڈانس دیکھنے میں مصروف تھے اور تانیہ کی نظریں بار بار ٹینا اور کو دیکھ رہی تھیں۔ تانیہ میجر دانش کو بھی دیکھ چکی تھی مگر اس سے نظریں نہیں ملا رہی تھی تاکہ کسی کو شک بھی نہ ہوسکے۔

اب تانیہ اپنی ٹیبل سے اٹھی اور وہ بھی ڈانس فلور پر چلی گئی پیچھے پیچھے سبھاش بھی ڈانس فلور پر گیا اور اب کی بار دونوں نے ڈانس شروع کیا تو ڈانس فلور پر جیسے تحلکہ مچ گیا۔ تانیہ تو پہلے سے ہی ڈانسر تھی مگر سبھاش بھی لگتا تھا کہ ڈانس میں خاصا ماہر ہے۔ تانیہ اور سبھاش کو ڈانس کرتا دیکھ کر کچھ نوجوان رک گئے اور اپنا ڈانس بھول کر ان لوگوں کو دیکھنے لگے۔ ڈی جے نے بھی جب تانیہ اور سبھاش کو ڈانس کرتے دیکھا تو اس نے میزک چینج کیا اور شاکِرا کا ہپس ڈانٹ لائی لگا دیا جس پر تانیہ کا جسم تھرکنے لگا تو تمام نوجوان تانیہ اور سبھاش کے گرد دائرہ بنا کر کھڑے ہوگئے اور دونوں کا ڈانس دیکھنے لگے، تانیہ کا جسم میوزک کی بیٹس کے ساتھ ہل رہا تھا تانیہ کبھی سبھاش کی بانہوں میں ہوتی جو اسے دونوں ہاتھوں سے ہوا میں اٹھا لیتا ، ہوا میں تانیہ اپنی ٹانگوں سے مختلف سٹیپ کرتی اور واپس زمین پر آکر اسکا جسم دوبارہ سے تھرکنے لگتا۔ ٹینا بھی اب اپنا ڈانس چھوڑ کر تانیہ کا ڈانس دیکھنے لگی۔ کچھ دیر کے بعد ہپس ڈانٹ لائی ختم ہوا تو تانیہ کا ڈانس بھی ختم ہوگیا۔

تانیہ اور سبھاش اب ڈانس فلور سے نیچے اترنے لگے تو تمام لوگوں نے ونس مور ونس مور کی آوازیں لگائیں مگر تانیہ نے سب سے معذرت کی اور نیچے آگئی جبکہ باقی لوگ پھر سے ڈانس کرنے لگے۔ تانیہ ابھی بھی سبھاش کے ساتھ ہی تھی۔ سبھاش کو بھی تانیہ جیسی خوبصورت لڑکی کا ساتھ ملا تو وہ ساتھ چپک ہی گیا تھا اور کہیں اور جانے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا۔ جبکہ دانش ایک سائیڈ پر بیٹھا سب سے الگ تھلگ ٹینا پر نظر رکھے ہوئے تھا۔

12 بجے ٹینا ڈانس فلور سے نیچے آئی اور نیچے پڑے ٹیبلز پر ایک ٹیبل کا انتخاب کر کے اسی لڑکے کے ساتھ بیٹھ گئی، لڑکے نے وہسکی آرڈر کی اور تانیہ کے ہاتھوں میں ہاتھ دے کر بیٹھ گیا۔ دونوں ایکدوسرے سے باتیں کرنے میں ایسے محو تھے کہ انہیں ایکدوسرے کا خیال ہی نہیں تھا۔ دانش سمجھ چکا تھا کہ ابھی انکا یہاں سے نکلنے کا کوئی ارادہ نہیں۔ لڑکا اب تک وہسکی کے 2 گلاس اندر انڈیل چکا تھا جبکہ ٹینا ابھی تک پہلا گلاس ہی لیے بیٹھی تھی۔ دانش کو ایک بار فون پر کال بھی آئی اور لڑکی کے بارے میں پوچھا تو دانش نے کہا تم جانو اور تمہارا کام۔ لڑکی ڈانس کلب میں ہی ہے جب باہر آئے تو تمہارا کام اغوا کرنا ہے۔ باہر کھڑے ہوکر ویٹ کرو۔ جب تک وہ خود باہر نہیں آجاتی۔

دانش کی بے چینی اب بڑھنے لگی تھی ، رات کا 1 بجنے والا تھا مگر ایسے لگ رہا تھا کہ ٹینا کا آج رات یہیں رکنے کا پروگرام ہے۔ ٹینا اور اسکا دوست اب ہاتھ میں وہسکی کا گلاس لیے سلو میوزک پر ڈانس کر رہے تھے۔ جبکہ دوسری طرف تانیہ سبھاش کے ساتھ بیٹھی باتیں کر رہی تھی مگر اسکی نظریں بار بار تانیہ کو دیکھ رہی تھیں۔ اب دانش ترکیب سوچنے لگا کہ آخر ٹینا کو کیسے باہر نکالا جائے۔ پھر اسنے ایک ویٹر کو تانیہ کے ٹیبل کی طرف آتے دیکھا، دانش اس ویٹر کی طرف بڑھا اور جب وہ ویٹر عین تانیہ کی ٹیبل پر پہنچا تو دانش نے سائیڈ سے اسے ہلکا سا دھکا دیا اور وہ سبھاش کی طرف گرنے لگا، ویٹر تو بچ گیا مگر اسکے ہاتھ میں موجود ٹرے میں وہسکی کا ایک گلاس سبھاش کے اوپر گر گیا۔ یہ حرکت کر کے دانش فورا ہی ہجوم میں غائب ہوگیا جبکہ سبھاش ویٹر کو ڈانٹنے لگا۔ تانیہ نے دیکھ لیا تھا کہ یہ دھکا دانش نے دیا ہے وہ سمجھ گئی تھی کہ دانش اس سے کوئی بات کرنا چاہتا ہے اس نے اپنے پرس سے ایک ٹشو نکالا اور آگے بڑھ کر سبھاش کے کپڑون پر ٹیشو پھیرنے لگی۔ اور ویٹر کو وہاں سے جانے کا اشارہ کیا۔ ویٹر کے جانے کے بعد تانیہ نے سبھاش کو کہا کہ آپکے کپڑے خاصے خراب ہوگئے ہیں بہتر ہے واش روم میں جا کر تھوڑا پانی ڈال لیں ، آپکے چہرے پر بھی وہسکی گری ہے اسے بھی صاف کر آئیں۔ مگر سبھاش تو تانیہ کو ایک لمحے کے لیے بھی اکیلا نہیں چھوڑنا چاہ رہا تھا ، اسے لگ رہا تھا کہ وہ ایک منٹ کے لیے بھی ادھر ادھر ہوا تو تانیہ پر کوئی اور قبضہ کر لے گا۔ لیکن تانیہ کے اسرار پر وہ نا چاہتے ہوئے بھی واش روم چلا گیا، اسکے جاتے ہی دانش ہجوم سے واپس نکلا اور تانیہ کے قریب آکر بولا کہ رات کافی ہوگئی ہے، جو حرکت میں نے تمہارے اس عاشق کے ساتھ کی ہے وہی حرکت تم ٹینا کے ساتھ کرو تاکہ اسکو باہر جانے کا ہوش آئے۔ اس کے بعد چاہو تو ساری رات اپنے اس عاشق کے ساتھ گزار دو۔ یہ کہ کر دانش نے تانیہ کو آنکھ ماری اور کلب سے باہر نکل گیا۔ باہر اب ہجوم نہ ہونے کے برابر تھا چند لوگ ڈانس کلب کے آس پاس ٹہل رہے تھے باقی رات زیادہ ہونے کی وجہ سے اپنے اپنے گھروں کو جا چکے تھے۔

ان لوگوں میں دانش نے با آسانی کچھ ایسے لوگوں کو پہچان لیا جو شکل سے ہی جرائم پیشہ لگ رہے تھے اور کسی کے انتظار میں تھے۔ دانش سمجھ گیا تھا کہ یہی وہ لوگ ہیں جو ٹینا کو اغوا کرنے کی کوشش کریں گے۔ دانش ایک سائیڈ پر کچھ فاصلے پر چھپ کر بیٹھ گیا اور ٹینا کے باہر آنے کا انتظار کرنے لگا۔ کچھ ہی دیر کے بعد دانش نے دیکھا کہ پارکنگ سے ٹینا کی گاڑی ڈانس کلب کے داخلے کے سامنے آکر رکی اور اندر سے ویلے نکلا۔ دانش سمجھ گیا کہ تانیہ نے اندر اپنا کام کر دیا ہے اور ٹینا اب باہر آرہی ہے۔ اس نے اپنی گاڑی سامنے ہی منگوا لی تھی پارکنگ سے۔ واقعی یہی ہوا کچھ ہی دیر میں دانش کو ٹینا آتی دکھا ئی دی اور دانش چوکنا ہوگیا۔

ٹینا کی گاڑی دیکھ کر وہ غنڈے بھی چوکنے ہوگئے تھے کیونکہ دانش نے ٹینہ کی گاڑی کا ماڈل اور نمبر بھی ان غنڈوں کو بتا دیا تھا۔ جیسے ہی ٹینا کلب سے باہر نکلی وہ غنڈے گاڑی کی طرف بڑھنے لگے۔ دانش نے دیکھا کہ یہ ٹوٹل 3 غنڈے تھے۔ جبکہ قریب ہی ایک کار کھڑی تھی جسمیں ایک شخص ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھا تھا اور ان غنڈوں کو آگے بڑھتا دیکھ کر اس نے اپنی گاڑی سٹارٹ کرلی تھی۔ دانش ابھی تک اپنی جگہ پر ہی تھا۔ جیسے ہی ٹینا گاڑی کے پاس پہنچی اور گاڑی میں بیٹھنے لگی ان غنڈوں میں سے ایک نے آگے بڑھ کر تانیہ کے منہ پر ہاتھ رکھا اور اسے کھینچتے ہوئے دوسری طرف لیجانے لگا۔ اس اچانک حملے سے ٹینا بری طرح ڈر گئی تھی اس نے چیخیں مارنے کی کوشش کی مگر اسکے منہ پر غنڈے کا ہاتھ تھا۔

ٹینا کے ساتھ موجود لڑکے نے جب یہ دیکھا تو وہ بھاگتا ہوا غنڈوں کے قریب گیا اور ان میں سے ایک غنڈے کے زور سے دھکا دیا جو لڑھکتا ہوا دور جا گرا، اب وہ لڑکا ٹینا کی طرف بڑھنے لگا تو دوسرے غنڈے نے جیب سے خنجر نکال لیا اور اس لڑکے کی طرف خنجر لہراتا ہوا بولا چل شاباش نکل یہاں سے ورنہ جان سے جائے گا۔ آس پاس موجود لوگ بھی یہ دیکھ کر اکٹھے ہوگئے تھے اور ٹینا اور باقی غنڈوں کے گرد گھیرا ڈال لیا تھا۔ جب غنڈوں نے دیکھا کہ معاملہ خراب ہو سکتا ہے تو جس نے ٹینا کو پکڑ رکھا تھا اسنے ٹینا کو گھما کر اسکی گردن کے گرد اپنا ایک ہاتھ ڈال لیا اور دوسرے ہاتھ میں خنجر پکڑ کر ٹینا کی گردن پر رکھ دیا۔ اتنی دیر میں پہلا ڈاکو جسکو ٹینا کے دوست نے دھکا دیا تھا وہ بھی کھڑا ہوچکا تھا اور اپنی جیب سے خنجر نکلا کر لوگوں کو سائڈ پر ہونے کا کہ رہا تھا۔ جبکہ ٹینا اب چیخیں مار رہی تھی اور بچاو بچاو کی آوازیں لگا رہی تھی۔

مگر خنجر دیکھ کر کسی میں آگے بڑھنے کی ہمت نہیں تھی۔ ٹینا چیخ چیخ کر کہ رہی تھی اجے مجھے بچاو، اجے مجھے بچاو، مگر اجے صاحب میں خنجر دیکھ کر آگے بڑھنے کی ہمت ختم ہوگئی تھی۔ اوپر سے جس شخص کو اجے نے دھکا دیا تھا وہ خنجر لہراتا ہوا اب اجے کے قریب آیا اور اسکی گردن پر خنجر رکھتا ہوا بولا جان پیاری ہے تو نکل لے ادھر سے ورنہ ادھر ہی تیری گردن علیحدہ کر دوں گا۔ خنجر دیکھ کر اب اجے صاحب کی ٹانگیں کانپنے لگی تھیں اور اس نے عقلمندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے وہاں سے دوڑ لگانے میں ہی عافیت جانی۔ اجے کو یوں دوڑتا دیکھ کر ٹینا اور زور سے اجے کو آوازیں دینے لگی پلیز اجے مجھے چھوڑ کر نا جاو، یو لو می نا۔۔۔ اجے پلیز واپس آو۔۔۔ مگر اجے صاحب کا لو ہوا میں اڑ چکا تھا اور اب انہیں صرف اپنی جان کی فکر تھی۔

جب ٹینا نے دیکھا کہ اب اجے واپس آنے والا نہیں تو اس نے غنڈوں کو دھمکی دیتے ہوئے کہا میرے پاپا آرمی میں کرنل ہیں وہ تمہیں چھوڑیں گے نہیں ۔۔۔ چھوڑ دو مجھے جانے دو۔ مگر غنڈوں کو تو پیسے ملے تھے وہ بھلا کیسے چھوڑ سکتے تھے ٹینا کو۔ اجے کو بھاگتا دیکھ کر اب جو لوگ غنڈوں کے ارد گرد کھڑے تھے وہ بھی ایک ایک کر کے سائیڈ پر ہونے لگے اور پہلا غنڈہ ٹینا کی گردن پر خنجر رکھے آہستہ آہستہ لوگوں کے ہجوم سے نکلنے لگا۔ اب موقع تھا دانش کی سلطان راہی والی اینٹری مارنے کا۔

دانش آوارہ لڑکوں کی طرح گلے میں چین ڈال اور اسے ہاتھ میں گھماتے ہجوم سے نکلا اور بولا یار یہ کون چیخ رہی ہے چپ کروا اسے۔۔۔۔ یہ کہ کر وہ ایک دم ایسے چپ ہوا جیسے اسے سانپ سونگھ گیا ہو۔ اسنے سب کو یہ شو کروایا کہ اسے یہاں ہونے والے واقعے کے بارے میں علم نیں وہ تو بس لڑکی کی چیخیں سن کر آگیا ادھر مگر اب اسکے ساتھ ہی ایک غنڈہ ہاتھ میں خنجر لیے کھڑا تھا جبکہ دوسرا اب گاڑی تک پہنچ چکا تھا اور گاڑی کے دونوں دروازے کھول چکا تھا تاکہ ٹینا کو گاڑی میں ڈال کر فورا یہاں سے کلٹی ماری جائے۔ اور جس غنڈے نے ٹینا کو پکڑ رکھا تھا وہ آہستہ آہستہ ٹینا کو گھسیٹتے ہوئے وہاں سے گاڑی کی طرف جانے کی کوشش کر رہا تھا۔

دانش کے ساتھ جو غنڈا تھا اس نے اب کی بار دانش کی طرف خنجر لہرایا اور بولا چل بے شیانے نکل تو بھی ادھر سے ورنہ اپنی جان سے جائے گا۔ دانش اب کی بار بولا ارے باپ رے تم لوگ تو لڑکی کو اغوا کر رہے ہو۔ یہ کہ کر وہ ڈرنے کی ایکٹنگ کرنے لگا اور اس غنڈے سے تھوڑا دور ہوگیا اور پھر بولا دیکھو میرے بھائی ایسے نا کرو وہ معصوم لڑکی ہے چھوڑ دو اسے۔۔۔ جانے دو اسے کیا ملے گا تمہیں ایک معصوم لڑکی کو اغوا کر کے۔ اب کی بار ایک غنڈا غرایا اور بولا چپ کر بے۔ کوئی آگے بڑھنے کی ہمت نہ کرے ورنہ ہم کسی کا لحاظ نہیں کریں گے۔

غنڈے مسلسل گاڑی کی طرف بڑھ رہے تھے جبکہ دانش بھی انکے ساتھ ساتھ ایک ایک قدم گاڑی کی طرف بڑھا رہا تھا جبکہ باقی موجود لوگ آہستہ آہستہ دور ہٹ رہے تھے۔ ٹینا ابھی بھی چلا رہی تھِی میرے پاپا تم لوگوں کو نہیں چھوڑیں گے وہ تمہارے پورے خاندان کو برباد کر دیں گے۔ مگر غنڈوں پر ٹینا کی ان دھمکیوں کا ذرہ برابر اثر نہی ہورہا تھا۔ ٹینا نے اب میجر دانش کی طرف دیکھ کر اس سے مدد کی اپیل شروع کر دی تھی ایک دانش ہی تو تھا جو ابھی تک دور ہٹنے کی بجائے ایک ایک قدم غنڈوں کی طرف بڑھ رہا تھا اور انہیں سمجھا رہا تھا۔ اور اپنے ساتھ والے غنڈے سے محض چند قدم کی دوری پر تھا۔ اور ٹینا کی واحد امید بھی ابھی وہی تھا۔ ٹینا دانش کو نہیں جانتی تھی مگر اس وقت اس سے مدد مانگ رہی تھی

اب وہ غنڈہ ٹینا کو لیکر گاڑی کے بالکل قریب پہنچ چکا تھا جبکہ دروازے کھولنے والا غنڈہ گاڑی کی دوسری سائیڈ پر جا کر گاڑی میں بیٹھ چکا تھا۔ پہلے غنڈے نے اب ٹینا کی گردن سے خنجر ہٹایا اور اسے گاڑی کی پچھلی سیٹ پر دھکیلنے لگا، میجر دانش اسی چیز کے انتظار میں تھا جیسے ہی غنڈے نے ٹینا کی گردن سے خنجر ہٹایا میجر دانش نے ایک ہی جست میں ساتھ والے غنڈے پر حملہ کر دیا اور اس سے خنجر چھین کر اسکے سینے پر چلا دیا، میجر نے خنجر اس طرح مارا خنجر سینے میں گھسنے کی بجائے محض اسکی چمڑی کو چیر دے اور خون بہنا شروع ہوجائے۔ اس غنڈے کے لیے یہ حملہ بالکل بھی متوقع نہیں تھا خنجر کی تیز دھار سینے پر لگتے ہی اس نے ایک چیخ ماری اور زمین پر بیٹھ گیا اسکی چیخ سن کر دوسرے غنڈے نے پیچھے مڑ کر دیکھا جو ٹینا کو گاڑی میں دھکا دینے کے لیے تیار تھا، مگر جیسے ہی اس نے پیچھے مڑ کر دیکھا اسکو اپنی ران میں لوہے کا سریا گھستا محسوس ہوا اور وہ بھی اپنی ٹانگ پکڑ کر زمین پر آرہا، دانش نے پہلے غنڈے پر وار کرتے ہی وہیں سے خنجر اس غنڈے کی ران پر دے مارا تھا جو ٹینا کو گاڑی میں بٹھانے کی کوشش کر رہا تھا، خنجر مارنے کے ساتھ ہی میجر دانش 2 چھلانگوں میں اس غنڈے کے قریب پہنچ چکا تھا اور اس نے اب ٹینا کا ہاتھ پکڑا اور اسے کھینچتے ہوئے دوسری طرف بھاگنے لگا، مگر ٹینا جو اس وقت ڈری ہوئی اور سہمی ہوئی تھی اوپر سے اس نے بڑی ہیل والی جوتی پہن رکھی تھی وہ بھاگ نہی سکی اور وہیں پر گر گئی، اتنی دیر میں گاڑی سے باقی دو غنڈے بھی نکل آئے اور دانش کی طرف لپکے۔ دونوں کے ہاتھ میں خنجر تھے۔

دانش اب کی بار ٹینا کے آگے آگیا اور ٹینا جو زمین پر گر گئی تھی دانش کے پیچھے چھپ گئی آگے بڑھنے والے غنڈے نے دانش پر حملہ کیا جسکو دانش نے پیچھے کی طرف جھک کر خالی جانے دیا، خنجر دانش کے سینے سے کچھ ہی انچ کے فاصلے سے گزرا تھا، ابھی دانش اس حملے سے بچ کر سیدھا ہی ہوا تھا کہ دوسرے غنڈے نے بھی دانش پر وار کیا مگر دانش نے ہاتھ آگے بڑھا کر اسکے وار کو اپنے بازو سے روکا اور اپنا بازو گھما کر ایسا جھٹکا دیا کہ خنجر اسکے ہاتھ سے نکل کر زمین پا جا گرا جو دانش نے پہلی فرصت میں ہی نیچے جھک کر اٹھا لیااور اسی غنڈے کی طرف وار کرنے کے لیے لپا مگر پہلے والا غنڈہ جسکا وار خالی گیا تھا دانش پر اگلا وار کر چکا تھا، اس غنڈے نے یہ وار دانش کی ٹانگ پر کیا تھا دانش نے پھرتی کے ساتھ اپنی ٹانگ بچاتے ہوئے ایک دوسری طرف گھومنے کی کوشش کی، دانش اس خطرناک وار سے بچ تو گیا مگرخنجر کی نوک اسکی تھائی کی بیک سائیڈ کو ہلکا سا چیرتی ہوئی نکل گئی جس سے فوری طور پر میجر دانش کو اپنی ٹانگ میں تیز جلن محسوس ہونے لگی۔

لیکن اس موقع پر ٹانگ کی جلن کو بھول کر میجر دانش نے دوبارہ سے اس غنڈے پر حملہ کیا اور اس بار اسکے سینے پر زور دار گھونسہ مارا جس سے اسکو اپنا سانس رکتا ہوا محسوس ہونے لگا اور وہ نیچے کو جھکنے لگا، میجر نے موقع ضائع کیے بغیر اسکی گردن پر اپنا مخصوص وار کیا جس سے ایک غنڈہ بے ہوش ہوکر زمین پر گر گیا جب کہ دوسرے غنڈے نے میجر دانش کی غفلت کا فائدہ اٹھا کر ایک زور دار کِک میجر کی کمر پر ماری جس سے میجر دانش قلابازی کھاتا ہوا 3، 4 فٹ دور جا گرا، اس غنڈے نے اب دوبارہ سے ٹینا کی طرف بڑھنا شروع کیا جو ابھی تک زمین پر خوفزدہ بیٹھی تھی مگر دانش نے فورا ہی کراٹے کے انداز میں بیک قلابازی لگائی اور ایک ہی لمحے میں اس غنڈے اور ٹینا کے درمیان میں آگیا اور اسکی گردن پر ایک گھونسہ رسید کیا جس سے اسکا سانس رک گیا اور وہ گردن پکڑ کر زمین پر آرہا۔ پہلے دو غنڈوں میں سے ایک تو ابھی تک اپنی ٹانگ کو پکڑ کر بیٹھا تھا جس میں میجر دانش کا مارا ہوا خنجر ابھی تک پیوست تھا جبکہ دوسرے غنڈے نے ہمت کی اور میجر دانش پر حملہ کیا لیکن میجر دانش اب پوری طرح تیار تھا اور اس نے نیچے جھکتے ہوئے اس غنڈے کے گھونسے سے اپنا چہرہ بچایا مگر ساتھ ہی پیچھے قلابازی کھا کر اپنی ٹانگ سے اس پر وار کیا جو اسکے جبڑوں کو ہلا گیا۔ ، میجر دانش نے سیدھے ہوتے ہی ایک زور دار کِک اس کی کمر پر ماری جس سے وہ غنڈہ بھی زمین پر ڈھیر ہوگیا۔

باقی کھڑے لوگ محض تماشہ دیکھ رہے تھے کسی میں آگے بڑھنے کی ہمت نہیں تھی۔ اب میجر دانش نے ٹینا کی طرف دیکھا جو سہمی ہوئی نظروں سے اپنے چاروں طرف دیکھ رہی تھی ، میجر دانش نے اسکا ہاتھ پکڑ کا اٹھایا اور دوبارہ سے ہجوم سے دور بھاگنے لگا مگر اس بار پھر اس سے بھاگا نہیں گیا اور وہ لڑکھڑانے لگی۔ ٹینا کی ٹانگیں بری طرح کانپ رہی تھیں۔ وہ بہت ڈر گئی تھی، اب میجر دانش نے اسکے کولہوں کے گرد اپنا بازہ پھیلایا اور اسے اپنے کندھے پر اٹھا کر ہجوم سے دور بھاگنے لگا، بھاگتے بھاگتے اس نے ٹینا سے پوچھا آپ کے پاس گاڑی ہے؟؟؟ ٹینا نے ہانپتے ہانپتے کہا ہاں ہے، کلب کے سامنے کھڑی ہے ، میجر دانش پہلے سے ہی جانتا تھا کہ اسکی گاڑی کلب کے سامنے کھڑی ہے مگر ٹینا کو اس پر شک نہ ہو اسی لیے اسکی گاڑی کے بارے میں پوچھا میجر پہلے ہی کلب کی طرف بھاگ رہا تھا۔

گاڑی کے قریب پہنچ کر اس نے ٹینا کو دروازہ کھولے بغیر ہی فرنٹ سیٹ پر بٹھایا اور اس سے خود جمپ لگا کر ڈوائینگ سیٹ پر بیٹھ گیا۔ اب میجر نے ٹینا سے گاڑی کی چابی مانگی تو اسنے ادھر ادھر دیکھنا شروع کیا، مگر اسکے پاس چابی نہیں تھی، پھر اس نے اپنے پرس میں دیکھا تو پرس میں بھی چابی نہیں تھی۔ میجر سمجھ گیا کہ چابی کہیں باہر گری ہے، میجر نے اپنے ذہن پر زور دیا تو اسے یاد آیا ویلے سے چابی پکڑ کر جب ٹینا گاڑی کی طرف آئی تھی تو تبھی غنڈے نے اسے پکڑ لیا تھا، اور ٹینا کے ہاتھ سے چابی نیچے گرگئی تھی۔ میجر چھلانگ لگا کر دوبارہ گاڑی سے باہر نکلا اور اپنے آس پاس چابی ڈھونڈنے لگا آخر کار میجر کو گاڑی سے کچھ ہی دور چابی مل گئی ، میجر نے فورا چابی اٹھای اور گاڑی کی طرف بڑھا مگر اس سے پہلے کہ وہ گاڑی میں بیٹھتا اسکو ایسے محسوس ہوا جیسے اسکی ٹانگ کو کوئی چیز چیرتی ہوئی دوسری طرف نکل گئی ہو۔ پیچھے موجود ایک غنڈے نے اپن خنجر دانش کی طرف پھینکا تھا جو سیدھا اسکی پنڈلی پر جا کر لگا اور 2 انچ کے قریب دانش کے گوشت کو چیرتا ہوا اندر چلا گیا۔ میجر دانش نے مڑ کر دیکھا تو وہ غنڈہ ابھی دور تھا اور یہ وہی تھا جسکی ٹانگ میں میجر دانش نے خنجر مارا تھا۔ میجر نے فورا اپنے ہاتھ سے خنجر پکڑا اور ایک جھٹکے سے کھینچ کر ٹانگ سے نکال لیا مگر اسکا تکلیف کی شدت سے برا حال ہوگیا۔ اب میجر دانش اپنی تکلیف کو بھلاتا ہوا دوبارہ سے لنگڑاتا ہوا گاڑی کے قریب گیا اور دوبارہ سے گاری کے دروازے سے پھلانگتا ہوا ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ گیا ۔ میجر نے گاڑی سٹارٹ کی گئییر لگایا اور تیز رفتاری کے ساتھ ڈانس کلب سے دور جانے لگا۔

User avatar
sexi munda
Gold Member
Posts: 827
Joined: 12 Jun 2016 12:43

Re: وطن کا سپاہی

Post by sexi munda » 30 Oct 2017 12:00



قصبے سے اس عورت کے بتائے ہوئے راستے پر کرنل وشال اپنے قافلے سمیت روانہ ہوا مگر جونا گڑھ پہنچنے تک نہ تو اسے میجر دانش ملا اور نہ ہی کوئی گاڑی ملی۔ البتہ اپنی جیب کی ہیڈ لائٹس کی روشنی میں کرنل وشال کو ایک کار کے ٹائرز کے نشان ضرور ملے چند جگہوں پر۔ جہاں کہیں بالکل کچا راستہ آتا وہاں کرنل کو گاڑی کے ٹائر کے نشان نظر آتے جس سے اسکی امید اور بڑھتی جاتی کہ وہ صحیح سمت میں جا رہا ہے مگر جونا گڑھ پہنچنے تک بھی اسکو کوئی گاڑی نہیں ملی تو وہ سیدھا جونا گڑھ میں موجود آرمی کے ہیڈ کوارٹر چلا گیا۔ کرنل مسلسل سی آئی ڈی کے اے سی پی اور راء کے اعلی عہدیداروں سے رابطے میں تھا مگر کوئی نہیں جانتا تھا کہ میجر دانش کو آسمان کھا گیا یا زمین نگل گئی۔ صبح کے ٹائم کرنل کو اس سپاہی کی کال آئی جسے کرنل نے امجد عرف سردار سنجیت سنگھ کا پیچھا کرنے کے لیے بھیجا تھا۔ اسنے فون پر امجد کے بارے میں بتایا کہ اس پر شک کرنا بالکل صحیح نہیں وہ کافی دیر سے انکے بتائے ہوئے پٹرول پمپ پر کھڑا ہے مگر وہاں کہیں بھی کسی دہشت گرد کے آنے کے آثار دکھائی نہیں دیتے۔

تب کرنل نے اس سپاہی کو کہا کہ سردار جی سے کہو اب یہاں سے جائیں اور کسی محفوظ ٹھکانے پر جا کر رہیں کہیں دوبارہ سے دہشت گردوں کے ہاتھ نہ لگ جائیں۔ اسکے بعد کرنل نے راجکوٹ بھیجی ہوئی ٹیم سے رابطہ کیا کہ شاید کرنل کا خیال غلط ہو اور میجر دانش جونا گڑھ کی بجائے راجکوٹ کی طرف چلا گیا ہو، مگر وہاں سے بھی اسے یہی رپورٹ ملی کے ہر بس اور ہر گاڑی کو چیک کیا گیا مگر مطلوبہ افراد ابھی تک نہیں مل سکے۔ کرنل اب سر پکڑ کر بیٹھا تھا کہ آخر دانش کو ڈھونڈے توڈھونڈے کیسے؟؟؟ اب یہ کرنل کی انا کا مسئلہ بن گیا تھا۔ اور وہ ہر صورت میں میجر دانش کو پکڑ کر عبرت ناک سزا دینا چاہتا تھا۔ ایک لمحے کو کرنل کے ذہن میں یہ بات بھی آئی کہ ہوسکتا ہے جہاں پر اسے دانش کے استعمال میں موبائل ملا تھا دانش اس سے آگے ہی بیدی پورٹ کی طرف چلا گیا ہو اور ہائی وے نمبر 6 پر ریلائنس گیس پمپ پر جو ویڈیو کرنل نے دیکھی وہ دانش کی نہ ہو بلکہ اس سے مشابہ کوئی شخص ہو۔۔۔ مگر پھر کرنل نے اس خیال کو بھی جھٹک دیا کیونکہ سردار سنجیت سنگھ کا پکڑے جانا اور اسکا یہ بتانا کہ 2 دہشت گرد اور 1 لڑکی جامنگر بائی پاس روڈ سے کچے علاقے کی طرف گئے تھے اور پھر وہ مونچھوں والا شخص جو کرنل نے ویڈیو میں دیکھا ، کرنل کی آنکھیں دھوکا نہیں کھا سکتیں وہ یقینا دانش ہی تھا، اس خیال کے آتے ہی کرنل نے بیدی پورٹ جانے والے خیال کو ذہن سے نکال دیا اور دوبارہ سے سوچنے لگا کہ آخر دانش کہاں جا سکتا ہے، کونسے ایسے علاقے ہیں جہاں سے دانش کو مدد مل سکتی ہے اور وہ کہاں پناہ لے سکتا ہے؟؟؟

مگر کرنل کو اپنا دماغ خالی محسوس ہورہا تھا اسکے سوچنے سمجھنے کی صلاحیتیں ختم ہوتی جا رہی تھیں۔ کرنل نے شام کے وقت ایک میٹنگ بھی بلائی جس میں آرمی کے مزید 2 کرنل راٹھوڑ سنگھ اور سمیر الیاس شامل تھے اور انکے ساتھ راء کی پروفیشنل ٹیم بھی تھی جو فون کی مدد سے کسی بھی شخص کو ٹریس کرنے میں ماہر تھیں۔ مگر انکے لیے بھی میجر دانش کا سراغ لگانا نا ممکن نظر آرہا تھا۔ انکو میجر کی آخری لوکیشن جامنگر بائی پاس ہی مل رہی تھی جسکا ذکر سردار سنجیت سنگھ نے کرنل وشال کے سامنے کیا تھا۔ جب کچھ نہ بن پایا تو آخر کار سب نے یہی فیصلہ کیا کہ اب دوبارہ سے سردار سنجیت سنگھ کی تلاش کی جائے تاکہ اسے سے مزید پوچھ گچھ ہوسکے اور ہوسکتا ہے وہ میجر دانش کے ساتھ ملا ہوا ہو اور اسنے جان بوچھ کر کرنل کو غلط راستے کی طرف بھیج دیا ہو۔ گوکہ کرنل وشال بذاتِ خود اس فیصلے کے حق میں نہیں تھا کیونکہ اسکو امجد یعنی سردار سنجیت سنگھ کی باتوں میں سچائی اور اعتماد نظر آیا تھا اور کرنل وشال کا خیال تھا کہ وہ کبھی دھوکا نہیں کھا سکتا۔ اس لیے وہ اس فیصلے کے خلاف تھا، مگر باقی دونوں کرنلز اور راء کی اعلی قیادت کے دباو کے تحت سردار سنجیت سنگھ کو ڈھونڈنے کا فیصلہ کر لیا گیا۔

یہ فصلہ ہونے کے بعد میٹینگ ختم ہوگئی اور جونا گڑھ شہر میں سادہ کپڑوں میں پولیس، سی آئی ڈی اور راء کے لوگ سردار سنجیت سنگھ کی تلاش میں نکل کھڑے ہوئے، کرنل وشال نے اپنے ٹیبلیٹ میں موجود ویڈیو دکھا کر امجد کی تصویریں بھی نکال لی تھیں اور تمام ڈیپارٹمنٹس کو بھیج دی تھی کہ اگر اس حلیے کا کوئی بھی شخص نظر آئے تو اسکو فوری حراست میں لیکر آرمی ہیڈ کوارٹر پہنچا دیا جائے ۔

کرنل وشال پچھلے دو دن سے میجر دانش کی وجہ سے خوار ہورہا تھا۔ پہلے تو اس نے اپنے ہاتھوں سے اپنے وفادار داود اسمعیل اور اسکے گینگ کا خاتمہ کر دیا تھا اور اب میجر دانش کو ڈھونڈنے میں وہ بری طرح ناکام دکھائی دے رہا تھا۔ اب وہ تھوڑا ریلیکس کرنا چاہتا تھا۔ ریلیکس کرنے کی غرض سے کرنل اب اپنے آفس سے نکلا اور جامنگر میں موجود آرمی کالونی پہنچ گیا جہاں وہ ایک کیپٹن کو جانتا تھا۔ کیپٹن کا نام سریش چوپڑا تھا جو کچھ عرصہ قبل ہی ممبئی میں کرنل وشال سے ٹریننگ لیکر آیا تھا اور اب اسکی پوسٹنگ جونا گڑھ میں تھی جہاں وہ اپنی پتنی نیہا چوپڑا کے ساتھ رہتا تھا۔ کیپٹن کی شادی کو ابھی صرف 3 ماہ ہوئے تھے اور ممبئی سے واپسی پر وہ کرنل وشال کو خاص طور پر اپنے ہاں دعوت کا کہ کر آیا تھا۔ جب کرنل وشال نے آرام کرنے کا سوچا تو اسکے ذہن میں کیپٹن کی دی ہوئی دعوت آگئی، کرنل نے سوچا کہ یہاں رہ کر اپنا دماغ مزید خراب کرنے سے بہتر ہے اسکے گھر جا کر تھوڑی دیر آرام کروں گا اور نہا دھوکر تازہ دم ہوکر پھر سے اپنے مشن پر لگ جاوں گا۔ تھکاوٹ دور ہوگی تو اسکا ذہن پہلے کی طرح تیزی سے کام کرنا شروع کر دے گا۔

کرنل نے کیپٹن سریش کے دروازے پر دستک دی تو دوسری دستک پر کیپٹن نے دروازہ کھولا اور کرنل کو اپنے سامنے پا کر بہت خوش ہوا اور ایک زور دار سلیوٹ مارا۔ کرنل نے خوشدلی سے آگے بڑھ کرکیپٹن سے ہاتھ ملایا اور کیپٹن اسے سیدھا اپنے گھر لے گیا۔ اندر لیجا کر سریش نے کرنل کو صوفے پر بٹھایا اور اسکا حال چال پوچھنے لگا۔ کرنل وشال کمرے میں موجود بڑے صوفے پر بیٹھ گیا تھا جبکہ سریش اسکے سامنے پڑے ہوئے صوفے پر بیٹھ گیا اور باتیں کرنے لگا۔ کرنل وشال سے جب سریش نے پوچھا کہ آپ کب سے جونا گڑھ میں موجود ہیں تو پہلے تو کرنل اپنی پوری کہانی بتانے لگا مگر پھر یہ سوچ کر خاموش ہوگیا کہ ایک کیپٹن کیا سوچے گا کہ اسکا آفیسر ایک پاکستانی ایجنٹ کو گرفتار نہیں کر سکا۔۔ بلکہ وہ کرنل کی قید سے نکل کر بھاگ بھی گیا اور ابھی تک پکڑا نہیں جا سکا۔

کرنل نے جیسے ہی یہ سوچا اس نے فوری بات بنا دی کہ بس جونا گڑھ میں ایک ضروری میٹنگ تھی ، تو میٹنگ سے فارغ ہوکر تمہارا خیال آیا۔ سوچا تم سے بھی مل لیں اور ابھی تمہاری نئی نئی شادی ہوئی ہے تو تمہیں اور تمہاری پتنی کو شادی کا کوئی تحفہ بھی دے دیں۔ کیپٹن سریش کرنل کی بات سن کر بہت خوش ہوا اور بولا کہ سر نیہا تو ابھی نہا رہی ہے وہ نکلتی ہے تو میں اسکو بتاتا ہوں کہ کرنل صاحب آئے ہیں ہمارے غریب خانے پر اور ایک آرمی آفیسر کے لیے سب سے بڑا تحفہ تو اسکی پروموشن ہی ہوتی ہے۔ اگر مجھے کیپٹن سے میجر کے عہدے پر پروموٹ کردیں تو آپکی بڑی کِرپا ہوگی۔ کرنل نے کیپٹن کی بات سنی تو سپاٹ لہجے میں بولا پروموشن اتنی آسانی سے نہیں ہوتی سریش، بہت پاپڑ بیلنا پڑتے ہیں اپنے افسروں کو خوش کرنا پڑتا ہے ، کارکردگی دکھانا پڑتی ہے جس سے افسر کی نظروں میں تمہاری اہمیت بڑھ جائے اور پھر ٹیسٹ پاس کرنا بھی ضرور ہوتا ہے۔ کرنل کی بات سن کر سریش کھسیانی ہنسی ہنسنے لگا اور بولا سر آپکو تو معلوم ہی ہے میری کارکردگی کے بارے میں اور میں نے ٹیسٹ بھی دے رکھا ہے۔ اگر آپ چاہیں تو مجھے اس ٹیسٹ میں پاس بھی کروا سکتے ہیں اور میری سفارش کر کے مجھے پروموشن بھی دلوا سکتے ہیں۔

کیپٹن کی بات سن کر میجر نے ایک لمبی ہوں ں ں کی اور بولا سریش میاں تم تو ایسے سمجھ رہے ہو جیسے پروموشن میرے کہنے پر ہی ہونی ہے۔ اپنے افسروں کو خوش کرو پروموشن ہوجائے گی تمہاری۔ سریش ایک بار پھر ڈھٹائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بولا سر آپ تو میرے افسروں کے بھی افسر ہیں آپ کہیں گے تو بھلا کس میں جرات ہے کہ میری پروموشن کو روک سکے۔ اس سے پہلے کہ کرنل وشال اسکی بات کا جواب دیتا کمرے میں موجود دوسرا دروازہ کھلا اور ایک 23 سالہ لڑکی کمرے میں داخل ہوئی۔ یہ نیہا چوپڑا تھی سریش چوپڑا کی پتنی۔ کمرے میں آتے ہی نیہا سریش سے مخاطب ہوئی جانو اب می نے نہا لیا ہے آج رات خوب مزے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس سے پہلے کہ نیہا اس سے آگے کچھ کہتی اسکی نظر سامنے بیٹھے کرنل وشال پر پڑگئی اور اسکی بولتی یہیں پر بند ہوگئی۔ سریش بھی نیہا کی بات سن کر تھوڑا سا شرمندہ ہوا اور مگر نیہا کو ہاتھ کے اشارے سے آگے بلایا اور کرنل وشال کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولا سر کو پرنام کرو۔ یہ ہمارے کرنل صاحب ہیں جن کے بارے میں میں نے تمہیں بتایا تھا۔

کرنل کا نام سنتے ہی نیہا نے اپنے چہرے پر مسکراہٹ سجا لی اور آگے بڑھ کر کرنل وشال کے سامنے جھکی اور اسکے پاوں چھونے لگی۔ کرنل وشال اپنے صوفے پر ہی بیٹھا حسن کے اس مجسمے کو دیکھ رہا تھا، نیہا جب کرنل کے سامنے جھکی تو اسکے ہاف بلاوز میں سے اسکے 36 سائز کے مموں کا ابھار دیکھ کر کرنل کو سریش کی قسمت پر رشک آنے لگا۔ کرنل نے اپنے ہاتھ سے نیہا کے کندھے پر تھپکی دی جو اسکے سامنے جھک کر اسکے پیر چھو رہی تھی، جھکتے ہوئے جلدی میں اسکی ساڑھی کا پلو ڈھلک گیا تھا جس کی وجہ سے کرنل کو نیہا کے سینے پر موجود 2 خوبصورت مموں کے درمیان بننے والی خوبصورت لائن دیکھنے کا موقع ملا تھا۔ کرنل نے جب نیہا کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر تھپکی دی تو اسکا جسم گرم اور گیلا تھا۔ وہ نہا کر ساڑھی لگا کر سیدھی اسی کمرے میں آئی تھی اور اس نے اپنا جسم ٹاول سے صاف کرنا بھی گوارہ نہ کیا تھا۔

نیہا جب کرنل کے پاوں چھو کر واپس اٹھی تو اس نے اپنے پلو کو دوبارہ سے سینے پر سجا لیا اور کرنل کے سامنے دونوں ہاتھ جوڑ کا اسے پرنام کیا۔ نیہا سیدھی کھڑی ہوئی تو اب اسکے گیلے بدن پر پانی کے قطرے نظر آنے لگے، کرنل وشال کی نظریں نیہا کے پیٹ پر موجود اسکی خوبصورت ناف پر پڑی جہاں پانی کا ایک موٹا قطرہ ناف کے سوراخ میں اٹکا ہوا تھا، کرنل کا دل کیا کہ اپنی زبان نیہا کی ناف پر رکھ کر پانی کے اس قطرے کو پی جائے مگر وہ ایسا نہ کر سکا اور محض اپنی اس خواہش کو ہی پی سکا ۔ سریش نے نیہا کو بیٹھنے کا اشارہ کیا تو وہ کرنل کے ساتھ ہی اسکے صوفے پر تھوڑی فاصلے پر بیٹھ گئی۔ کرنل وشال نے اسکا حال چال پوچھا اور پھر سریش کے بارے میں پوچھنا شروع کیا کہ یہ خوش تو رکھتا ہے نا تمہیں؟؟ تو نیہا نے شرماتے ہوئے ہاں میں سرہلایا۔ کرنل ابھی بھی اپنی آنکھوں کو نیہا کے گیلے بدن کی خوبصورتی سے خیرہ کر رہا تھا۔ آخری بار اس نے بالی ووڈ اداکارہ زرین خان کی چدائی کی تھی جسکا جسم بہت بھرا ہوا اور بھاری تھا اور اس وقت اسکے سامنے ایک جوان دبلی پتلی مگر گرم جسم والی لڑکی بیٹھی تھی اور کرنل وشال کا لن بار بار اسکے کان میں کہ رہا تھا کہ اس لڑکی چوت کی گرمی چیک کرنی چاہیے۔

سریش کو بھی اس بات کا احساس ہوگیا تھا کرنل کی نظریں اسکی بیوی کے گیلے بدن پر ہیں۔ کرنل کبھی نیہا کے مموں پر نظریں جمائے تو کبھی سائڈ سے اسکے پیٹ کے کچھ حصے پر نظریں جمائے سریش اور نیہا سے باتیں کر رہا تھا، کبھی کبھی کرنل وشال نیہا کی ننگی کمر کا بھی دیدار کرنے سے باز نہیں آرہا تھا۔ کرنل وشال کو اس طرح اپنی پتنی کی طرف دیکھتے ہوئے سریش کو فطری طور پر غصہ آنا چاہیے تھا مگر شاید وہ کسی اور طبیعت کا مالک تھا۔ غصہ کرنے کی بجائے وہ خوش ہورہا تھا کہ کرنل صاحب کو اسکی بیوی کا جسم پسند آیا اور وہ بار بار اسکے جسم کا نظارہ کر رہے ہیں۔ یہیں سے کیپٹن سریش کے ذہن میں ایک گھٹیا خیال آیا کہ میں اپنے افسر کو خوش کروں یا نہ کروں مگر میری پتنی نیہا کرنل وشال کو خوش کر سکتی ہے اور اس طرح میری پروموشن پکی ہے ۔ یہ سوچ آتے ہی اسکے چہرے پر ایک شیطانی مسکراہٹ آگئی اور وہ بہانے سے دوسرے کمرے میں گیا اور نیہا کو بھی آواز دی۔

نیہا کرنل وشال سے اجازت لیکر اپنی جگہ سے اٹھی اور اپنے پتی کی بات سننے دوسرے کمرے میں چلی گئی۔ سریش نے نیہا کے اندر آتے ہی اسکو اپنی بانہوں میں بھر لیا اور اپنا ہاتھ اسکی گیلی کمر پر پھیرتا ہوا بولا آج تو میری جان قیامت لگ رہی ہے۔ یہ گیلا بدن اور اس پر تمہارے پستانوں کا ابھار مجھے پاگل کر رہے ہیں۔ سریش کے منہ سے اپنے سیکسی جسم کی تعریف سن کر نیہا بولی صرف تمہیں ہی نہیں تمہارے اس بڈھے ٹھرکی افسر کو بھی میرا جسم پاگل کیے دے رہا ہے۔ نیہا کی بات سن کر سریش آہستہ سے ہنسا اور بولا ہاں میں نے دیکھا ہے اسکی نظریں تو تمہارے جسم سے ہٹنے کا نام ہی نہیں لے رہیں۔ بس تم اب اپنے پتی کا ایک کام کر دو۔ نیہا نے سوالیہ نظروں سے سریش کو دیکھا کہ کونسا کام؟؟؟ تو سریش نے کہا بس اسی طرح کرنل صاحب کے پاس بیٹھی رہو ، بلکہ تھوڑا قریب ہوکر بیٹھ جاو تاکہ تمہارے جسم کی خوشبو سے بھی ہو لطف اندوز ہوسکے، اس سے تھوڑا ہنسی مذاق کروکہ اسے یہ اپنا ہی گھر معلوم ہو، اسے خوش کرو تاکہ تمہارا پتی کیپٹن کے عہدے سے میجر کے عہدے پر ترقی پا سکے۔۔۔

نیہا نے اپنے پتی کی بات سنی تو بولی وہ سب تو ٹھیک ہے مگر اس بڈھے کی نیت خراب ہوجانی ہے تمہاری پتنی پر۔ سریش، جو یہی چاہتا تھا کہ وشال کی نیت خراب ہو اور وہ نیہا کے جسم سے لطف اندوز ہو مگر نیہا کو کھل کر نہیں کہ رہا تھا، بولا اسکی نیت خراب ہو بھی جائے تو وہ بڈھا آخر کیا کر لے گا تم ہٹی کٹی ہو ایک دینا اسکو الٹے ہاتھ کی، میں بھی تمہارے ساتھ ہوں ڈرنے کی کیا بات ہے۔ بس تم اس سے تھوڑا دل لگی کرو، میں کسی بہانے سے تھوڑی دیر کو باہر چلا جاوں گا تاکہ وہ بڈھا بھی اپنی ٹھرک پوری کر سکے مگر بدلے میں تم اس سے میری پروموشن کی بات ضرور کرنا۔ نیہا نے سریش سے کہا اور اگر اس نے حد سے زیادہ بڑھنے کی کوشش کی اور میرے ساتھ کچھ غلط کرنا چاہا تو؟؟؟ کیپٹن وشال نے کہا تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تم دیکھ لینا تمہیں کیا کرنا ہے۔۔۔ سنبھالنے کی کوشش کرنا مسئلہ زیادہ خراب ہو تو مجھے کال کر لینا مایں ساتھ ہی تو جاوں گا فورا آجاوں گا۔ نیہا نے اثبات میں سر ہلایا اور واپس کرنل وشال کے پاس جا کر بیٹھ گئی مگر اب کی بار وہ وشال کے قدرے قریب بیٹھی تھی اور اسکی ساڑھی کا پلو جو پہلے اسکے سینے پر پھیلا ہوا تھا اب بیچ میں سکڑ گیا تھا جس سے نیہا کی کلیوج لائن واضح ہوگئی تھی اور اب کرنل بغیر کسی رکاوٹ کے نیہا کی کلیویج لائن کی خوبصرورتی کو دیکھ سکتا تھا۔

کچھ دیر تک تینوں بیٹھے باتیں کرتے رہے اور نیہا بہانے سے کرنل کے مزید قریب ہوگئی تھی، اب نیہا کے بدن کی میٹھی میٹھی خوشبو کرنل کے جسم میں آگ لگا رہی تھی اور اسے پہلے سے زیادہ نیہا کے بدن کی طلب محسوس ہونے لگی تھی۔ اس سے پہلے کہ کرنل وشال کی طلب اور بڑھتی سریش نے کرنل کی حالت کو دیکھتے ہوئے یہاں سے کھسکنے کا سوچا، وہ اپنی جگہ سے کھڑا ہوا اور بولا سر میں آپکے کھانے وغیرہ کا بندوبست کرتا ہوں، مارکیٹ سے کچھ کھانے کو لے آوں تب تک آپ اور نیہا بیٹھ کر باتیں کریں۔ اور ہاں نیہا، سر سے میری پروموشن کی بات ضرور کرنا، شاید تمہاری بات مان جائیں سر۔ یہ کہ کر کیپٹن سریش فورا کمرے سے نکل گیا اور پیچھے صوفے پر سریش کی جوان پتنی نیہا اپنے گیلے بدن کے ساتھ کرنل وشال کو اپنے بدن کی گرمی سے خوش کرنے کا پورا پلان بنا چکی تھی۔

سریش کے جاتے ہی نیہا بغیر ٹائم ضائع کیے کرنل وشال کے بالکل قریب ہوکر بیٹھ گئی، نیہا کا ننگا گیلا بدن اب کرنل کے بازو کے ساتھ لگ رہا تھا اور نیہا نے اپنا ہاتھ کرنل کے کندھے پر رکھا اور دوسرا ہاتھ کرنل کی ٹانگ پر رکھ کر اسکو سہلاتے ہوئے بولی کہ سر اگر میں کہوں تو کیا واقعی آپ میرے پتی کی پروموشن کروا دیں گے؟؟؟ نیہا کے اس طرح فوری رسپانس نے کرنل وشال کو تھوڑا حیران تو کیا مگر وہ کہتے ہیں نہ اندھا کیا مانگے دو آنکھیں، جس چکنے بدن کو چودنے کی خواہش کرنل پچھلے آدھے گھنٹے سے دل میں دبائے بیٹھا تھا وہ خود ہی چدنےکے لیے تیار تھی۔

کرنل نے اپنا بازو نیہاکے گرد لپیٹا اور اپنا ہاتھ اسکی کمر سے مسلتا ہوا اسکے پیٹ تک لے آیا اور نیہا کےپیٹ کو مسلتے ہوئے بولا تمہاری بات نہیں مانیں گے ہم تو بھلا اور کس کی مانیں گے ؟؟؟ کرنل نے اپنے ہاتھ سے نیہا کے پیٹ پر ایک چٹکی کاٹی جس پر نیہا نے اپنے نچلے ہونٹ کو دانتوں میں دبا کر ایک سسکی لی اور بولی اوئی ماں۔۔۔۔۔ اور پھر نیہا اپنا ہاتھ کرنل کی ٹانگ سے اٹھا کر اسکے سینے پر پھیرنے لگی۔ کرنل نے ابھی تک اپنی یونیفارم پہن رکھی تھی جسکی شرٹ کے اوپری بٹن نیہا نے فورا ہی کھول لیے تھے اور کرنل کے سینے پر اپنا ہاتھ پھیرنے لگی ۔

کرنل نے بھی بغیر سمے برباد کیے اپنا ہاتھ نیہا کی کمر پر رکھا اور اسکی کمر کو کھینچ کر نیہا کو اپنے سامنے اپنی گود میں لے آیا، نیہا نے اپنی دونوں ٹانگیں پھیلا لیں اور کرنل کی گود میں گٹھنے صوفے پر لگا کر بیٹھ گئی۔ نیہا کی ساڑھی کا پلو ابھی بھی نیہا کے سینے پر تھا مگر اسکی کلیویج سے ہٹ چکا تھا اور ایک سائیڈ پر سمٹا ہوا تھا۔ کرنل نے نیہا کے کندھے سے پلو ہٹایا اور نیچے گرا دیا۔ اب نیہا کرنل کے سامنے اپنے شارٹ بلاوز میں اسکی گود میں بیٹھی تھی۔ نیہا کا بلاوز اسکے مموں کے اوپری حصے کو چھپانے کے لیے ناکافی تھا، مموں کا اوپر والا حصہ کرنل کی آنکھوں کے سامنے تھا اور بلاوز کی فٹنگ نیہا کے مموں کو آپس میں ملائے ہوئے تھی جسکی وجہ سے مموں کے درمیان گہری لائن بن رہی تھی جو کسی بھی عورت کی خوبصورتی کی علامت ہوتی ہے، اور مموں کی یہی لائن مردوں کو اپنی طرف کھینچتی ہے۔ نیہا کا بلاوز ممے ختم ہوتی ہی محض ایک انچ نیچے تک جا رہا تھا اسکے بعد اسکے جسم ناف کے نیچے تک ننگا تھا یہاں تک کہ نیہا کی ساڑھی کا نچلا حصہ شروع ہوگیا۔ کرنل کا ہاتھ نیہا کی ننگی کمر کا مساج کر رہا تھا۔ گردن سے لیکر نیچے ساڑھی تک نیہا کی کمر ننگی تھی بلاوز کا پچھلا حصہ محض 8 باریک ڈوریوں سے آپس میں کسا ہوا تھا جبکہ اسکی کمر اور باقی کا خوبصورت بدن ابھی بھی کافی حد تک گیلا تھا اور پانی کی بوندیں اسکے بدن کی خوبصورتی کو چار چاند لگا رہی تھیں۔ کرنل کی عادت تھی کہ وہ ہمیشہ سیکس کا آغاز لڑکی کے ہونٹ چوس کر کرتا تھا مگر آج نیہا کے گرم جوان بدن پر موجود پانی کے قطرے کرنل کا دل لے گئے تھے اور اس نے نیہا کے ہونٹوں سے شہد پینے کی بجائے اسکے بدن سے آبِ حیات پینا شروع کردیا۔ کرنل نے اپنے ہونٹ سب سے پہلے نیہا کے کندھے اور گردن کے درمیان والی ہڈی پر رکھے اور بہت پیار کے ساتھ ہونٹوں کو آپس میں ملا کر نیہا کے جسم کے اس حصے پر موجود پانی کو چوس لیا، پھر میجر نے اپنی زبان باہر نکالی اور نیہا کی گردن سے لیکر اسکے مموں کے ابھار تک موجود سارا پانی اپنی زبان سے چاٹ لیا ۔ جیسے جیسے کرنل نیہا کے بدن سے آبِ حیات پی رہا تھا ویسے ویسے نیہا کی سسکیاں کرنل کے جوش میں اضافہ کر رہی تھیں اور اسکی پینٹ میں لن نے سر اٹھانا شروع کر دیا تھا۔

نیہا گھٹنوں کے بل کرنل کی گود میں بیٹھی اپنے مموں کو کرنل کے آگے کر رہی تھی تاکہ وہ زیادہ سے زیادہ نیہا کے بدن کو چاٹ سکے ، مموں پر موجود پانی کو کرنل نے شہد سمجھ کر اپنے ہونٹوں سے پیا اور پھیر مموں سے نیچے اپنے ہونٹ لاتے ہوئے نیہا کے پیٹ کو اوپری حصے سے زیرِ ناف تک پورے بدن کو اپنے ہونٹوں اور زبان سے چاٹنے اور چوسنے لگا۔ نیہا اب پیچھے کی جانب جھکی ہوئی تھی جبکہ اسکا پیٹ اگے کی جانب نکلا ہوا تھا جس پر میجر کی زبان تیز تیز چل رہی تھی اور پانی کا ایک ایک قطرہ پینے میں مصروف تھی، کرنل نے اپنے ہاتھ نیہا کی کمر پر رکھ کر اسکو پیچھے جھکنے میں سہارا دے رکھا تھا۔ چھوئی موئی سی نیہا کا وزن کچھ زیادہ نہ تھا اس لیے کرنل نے ایک ہاتھ نیہا کی کمر سے ہٹایا اور اسکے بلاوز کے اوپر سے ہی اسکے بائیں دائیں ممے پر ہولے سے رکھ دیا۔ اپنے مموں پر کرنل کا مضبوط ہاتھ محسوس کیا تو نیہا نے بھی ایک سسکی لی اور اپنا ایک ہاتھ کرنل کے ہاتھ پر رکھ کر آہستہ سے دبا دیا۔ جسکا مطلب تھا کہ کرنل اپنے ہاتھ سے نیہا کے نرم و نازک ممے کو دبانا شروع کرے، اور کرنل نے یہی کیا جہاں ایک طرف اسکی زبان اب نیہا کی ناف میں گول گول گھوم رہی تھی وہیں اسکا بایاں ہاتھ نیہا کے دائیں ممے کو آہستہ آہستہ دبا رہا تھا۔

نیہا اپنا ایک ہونٹ دانتوں میں دبائیں آہ آہ ، ام ام کی ہلکی ہلکی سسکیاں لے رہی تھی۔ جب کرنل نیہا کے گیلے بدن سے سارا پانی پی چکا تو اس نے نییہا کو کمر سے پکڑا اور صوفے پر لٹا کر خود اسکے اوپر آگیا، نیہا کی ایک ٹانگ صوفے پر سیدھی تھی جب کہ دوسری آدھی مڑی ہوئی تھی اور صوفے سے نیچے تھی جبکہ اسکی دونوں ٹانگوں کے درمیں کرنل کی ایک ٹانگ تھی، نیہا کو صوفے پر لٹا کر کرنل نے اپے یونیفارم کی شرٹ کے سارے بٹن کھول دیے اور شرٹ اتار کر ساتھ موجود ٹیبل پر رکھ دی اور اسکے بعد اپنی بنیان بھی اتار دی۔ کرنل کے سینے پر ہلکے ہلکے بال تھے جنہیں دیکھ کر نیہا نے ایک بار اپنے ہونٹوں پر زبان پھیری اور پھر کرنل کی طرف ایک فلائنگ کس پھینکی، نیہا کے ہونٹ جب گول گول گھومے اور آپس میں ملے تو کرنل اسکے ہونٹوں کا بھی دیوانہ ہوگیا اور اسکے اوپر جھک کر دیوانہ وار اسکے ہونٹوں کو چوسنے لگا جبکہ نیہا کی دیوانگی بھی کچھ کم نہیں تھی وہ اپنے دونوں ہاتھ کرنل کی کمر پر پھیر رہی تھی اور کرنل کا پورا پورا ساتھ دے رہی تھی، نیہا نے اپنا منہ کھولا اور کرنل کی زبان کو اندر جانے کا راستہ دیا، جیسے ہی کرنل نے اپنی زبان نیہا کے گرم گرم منہ میں ڈالی نیہا نے منہ بند کر لیا اور اسکی زبان کو اپنے منہ میں لیکر چوسنے لگی۔

کرنل کو نیہا کی یہ دیوانگی بہت اچھی لگ رہی تھی۔ اسکو ہمیشہ ایسی لڑکیاں پسند تھیں جو نہ صرف چودائی میں مرد کا پورا پورا ساتھ دیں بلکہ مرد سے زیادہ شدت کا مظاہرہ کریں۔ اور چودائی سے پہلے فور پلے کا بھی خوب مزہ لیں۔ نیہا ایسی ہی ایک لڑکی تھی جو نہ صرف چدائی اور فور پلے کا خود مزہ لیتی بلکہ مرد کو اکسانا اور زیادہ شدت سے پیار کرنے پر بھی مجبور کرتی تھی۔ یہ خوبی بہت ہی کم لڑکیوں میں ہوتی ہے ۔ اور نیہا انہی چند لڑکیوں میں سے تھی۔ کیپٹن سریش کا خیال تھا کہ نیہا کرنل کو اپنے بدن کا تھوڑا تھوڑا نظارہ کروائے گی اور کرنل وہیں پر ہتھیار ڈال دے گا اور پروموشن پر مان جائے گا اور اگر بات آگے بڑھی تو چوما چاٹی تک چلی جائے گی اور سریش جانتا تھا کہ اسکی پتنی کسنگ کرنے میں کمال درجے کی مہارت رکھتی ہے لہذا اسے یقین تھا کہ اپنے ہونٹوں کے جادو سے نیہا کرنل وشال کو منا لے گی۔ ایک خیال سریش کے دل میں یہ بھی تھا کہ شاید گرمی اس حد تک بڑھ جائے کہ کرنل اسکی پتنی کی چوت لینے کی ضد کر بیٹھے، ایسے میں اول تو سریش کا یقین تھا کہ سنیہا حالات کے مطابق سنبھال لے گی اور دوسری طرف اسکے شیطانی ذہن میں تھا کہ اب اسکی پتنی نہ بھی سنبھال سکی کرنل کو تب بھی زیادہ سے زیادہ ایک بار ہی کرنل اسکی پتنی کی چودائی کرے گا مگر بدلے میں سریش کی پروموشن پکی ہوجائے گی۔ لیکن وہ یہ نہیں جانتا تھا کہ اسکی پتنی جنگلی بلی ہے اور لن کی کس حد تک دیوانی ہے۔ نیہا نہ صرف شادی سے پہلے سریش کا لن لے چکی تھی بلکہ اپنے محلے کے کچھ اور لوڑوں سے بھی اپنی چوت کی پیاس بجھاتی رہی تھی اور شادی کے بعد بھی جب سریش ڈیوٹی پر ہوتا تھا تو وہ کالونی میں موجود ایک میجر کے لن کو اپنی چوت سے سکون پہنچانے کا کام کرتی تھی۔ اور آج جب سریش نے خود ہی اپنی پتنی کو کرنل کو خوش کرنے کو کہا تو نیہا دل و جان سے راضی ہوگئی اور اس نے تبھی سوچ لیا تھا کہ آج کرنل کے لوڑے سے بھی چدائی کروا کے دیکھے گی۔

اور ابھی تک نیہا کا یہ ایکسپیرینس بہت اچھا جا رہا تھا۔ کرنل نے بہت ہی رومانٹک انداز میں پہلے نیہا کے بدن سے پانی پیا تھا اور پھر آہستہ آہستہ سے اسکے ممے دبانا شروع کیے تھے، کرنل کو کسی چیز کی جلدی نہیں تھی۔ وہ آرام سے اور سکون کے ساتھ نیہا کی چوت لینا چاہتا تھا۔ جو مرد جلدی کرتے ہیں وہ عورت کو بیچ راہ میں چھوڑ کر فارغ ہوجاتے ہیں جبکہ کرنل 45 سال کو تجربہ کار مرد تھا جو اچھی طرح جانتا تھا کہ عورت کو منزل تک پہنچانے کا صحیح طریقہ کیا ہے۔ تبھی وہ فور پلے کا ہمیشہ سے ہی شوقین رہا تھا۔ کسنگ کے دوران کرنل اپنا ایک ہاتھ نیہا کی کمر کے نیچے لیجا کر اسکے برائے نام بلاوز کی ڈوریا کھول چکا تھا اور اب مموں پر بلاوز کی گرفت کمزور ہوگئی تھی جسکی وجہ سے نیہا کے ممے جو گہری لائن بنا رہے تھے اب اس میں تھوڑی کمی آگئی تھی۔ نیہا کے خوبصورت گلابی ہونٹوں کا رس چوس کر اب کرنل نے دونوں ہاتھوں سے نیہا کے ممے بلاوز کے اوپر سے ہی پکڑ رکھے تھے اور انکو دبا رہا تھا جبکہ اپنی زبان وہ نیہا کی کلیویج لائن میں پھیر کر پیار کر رہا تھا۔

نیہا کے دونوں ہاتھ جو کرنل کی کمر پر کافی دیر سے مسج کر رہے تھے ان میں سے ایک ہاتھ رینگتا ہوا کرنل کی ٹانگوں تک جا چکا تھا اور ٹانگ سے ہوتا ہوا اب دونوں ٹانگوں کے درمیان موجود لوڑے کو تلاش کر رہا تھا۔ جلدی ہی نیہا کو اپنی مطلوبہ چیز مل گئی اور کرنل کے لوڑے پر ہاتھ لگتے ہی اسکی چوت نے اپنا منہ کھول دیا جیسے ابھی اور اسی وقت وہ اس لوڑے کو اپنے اندر سما لینا چاہتی ہو۔ کرنل کے لوڑے کو پینٹ کے اوپر سے ہی ہاتھ لگا کر نیہا کو اتنا اندازہ تو ہوگیا تھا کہ کرنل کے پاس اس بڑھاپے میں بھی کافی تگڑا لن ہے ۔ کچھ دیر نیہا کے مموں کو بلاوز کے اوپر سے دبانے کے بعد کرنل نے ایک ہی جھٹکے میں نیہا کے مموں کو اس چھوٹے سے بلاوز کی قید سے آزاد کروا دیا۔ ممے جیسے ہی بلاوز کی قید سے آزاد ہوئے جیلی کی طرح دائیں بائیں ہل کر انہوں نے اپنی آزادی کا جشن منایا۔ اتنے سافٹ اور خوبصورت ممے دیکھ کر کرنل کی رال ٹپکنے لگی تھی۔ کرنل کے پاس ایک سے بڑھ کر ایک بچی تھی جو کرنل کے ایک اشارے پر اسکے لن کے نیچے آجاتی تھی اور اپنے بڑے بڑے مموں سے کرنل کو اپنا دودھ پلاتی تھیں، مگر جو بات نیہا کے مموں میں تھی وہ کسی اور کے مموں میں کرنل کو نظر نہیں آئی۔

Post Reply