وطن کا سپاہی

User avatar
sexi munda
Gold Member
Posts: 807
Joined: 12 Jun 2016 12:43

وطن کا سپاہی

Post by sexi munda » 29 Oct 2017 13:30

وطن کا سپاہی


رات کے 3 بج رہے تھے اور شاہ فیصل کالونی سے ایک 2006 ماڈل کی کرولا 80 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے شمع شاپنگ سینٹر کے سامنےسے ہوتی ہوئی شاہراہِ فیصل فلائی اور کراس کرنے کے بعد شاہراہِ فیصل پر چلی گئی۔ شاہراہِ فیصل پر آتے ہی گاڑی کی سپیڈ میں خطرناک حد تک اضافہ ہو چکا تھا۔ ڈرائیور شاید بہت جلدی میں تھا رات کے 3 بجے اگرچہ سڑک بالکل سنسان نہیں تھی، کسی حد تک ٹریفک موجود تھی شاہراہ پر مگر کالے رنگ کی یہ کرولا گاڑی اب 150 کلومیٹر فی گھنٹہ کی سپیڈ پر جا رہی تھی۔ ڈرائیور انتہائی مہارت کے ساتھ دوسری گاڑیوں سے بچاتا ہوا اپنی منزل کی طرف رواں دواں تھا۔ راشد مہناس روڈ کو جانے والے ٹرن کے قریب ڈرائیور کو ٹرانسمیٹر پر ایک کال موصول ہوئی جسمیں اسے ایک ہنڈا اکارڈ گاڑی کے بارے میں اطلاع دی گئی جو کچھ ہی دیر پہلے اسی جگہ سے گزری تھی۔ ہنڈا اکارڈ کی سپیڈ 90 کلومیٹر فی گھنٹہ بتائی گئی اور اسکو اس جگہ سے گزرے کوئی 5 سے 10 منٹ ہو چکے تھے۔


رات کے 3 بج رہے تھے اور شاہ فیصل کالونی سے ایک 2006 ماڈل کی کرولا 80 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے شمع شاپنگ سینٹر کے سامنےسے ہوتی ہوئی شاہراہِ فیصل فلائی اور کراس کرنے کے بعد شاہراہِ فیصل پر چلی گئی۔ شاہراہِ فیصل پر آتے ہی گاڑی کی سپیڈ میں خطرناک حد تک اضافہ ہو چکا تھا۔ ڈرائیور شاید بہت جلدی میں تھا رات کے 3 بجے اگرچہ سڑک بالکل سنسان نہیں تھی، کسی حد تک ٹریفک موجود تھی شاہراہ پر مگر کالے رنگ کی یہ کرولا گاڑی اب 150 کلومیٹر فی گھنٹہ کی سپیڈ پر جا رہی تھی۔ ڈرائیور انتہائی مہارت کے ساتھ دوسری گاڑیوں سے بچاتا ہوا اپنی منزل کی طرف رواں دواں تھا۔ راشد مہناس روڈ کو جانے والے ٹرن کے قریب ڈرائیور کو ٹرانسمیٹر پر ایک کال موصول ہوئی جسمیں اسے ایک ہنڈا اکارڈ گاڑی کے بارے میں اطلاع دی گئی جو کچھ ہی دیر پہلے اسی جگہ سے گزری تھی۔ ہنڈا اکارڈ کی سپیڈ 90 کلومیٹر فی گھنٹہ بتائی گئی اور اسکو اس جگہ سے گزرے کوئی 5 سے 10 منٹ ہو چکے تھے۔

یہ معلومات ملتے ہی ڈرائیور نے اپنی گاڑی کی سپیڈ اور بڑھا دی کیونکہ وہ جلد از جلد ہنڈا اکارڈ گاڑی کو ڈھونڈنا چاہتا تھا۔ نرسری فلائی اور کراس کرنے کے بعد گورا قبرستان کے قریب کرولا کے ڈرائیور کو دور سرخ لائٹ نظر آنا شروع ہوئی جو شاید کسی کار کی بیک لائٹس ہی تھیں۔ اسکو دیکھ کر کرولا کے ڈرائیور نے اپنی رفتا میں کمی کی اور اب 150 کی بجائے 100 کی رفتار کے ساتھ اس گاڑی کے پیچھے جانے لگا۔ کچھ ہی دیر میں یہ فاصلہ اور کم ہوگیا اور اب کرولا کا ڈرائیور اپنی رفتار کو 90 کلومیٹر فی گھنٹہ پر لے آیا۔ سامنے جانے والی کار ہنڈا اکارڈ ہی تھی جسکا پیچھا کرنا تھا۔ اور اس میں موجود شخص کے بارے میں معلومات حاصل کرنا تھیں۔ ہنڈا اکارڈ میں کوئی اور نہیں بلکہ انڈین آرمی کا کرنل اور بدنامِ زمانہ تنظیم راء کا خاص ایجینٹ کرنل وِشال سنگھ تھا جو اپنے خاص مشن پر پچھلے کافی دنوں سے کراچی میں موجود تھا۔

پاکستان کی خفیہ ایجینسی بھی کافی دنوں سے کرنل وشال کی سرگرمیوں پر نظر رکھے ہوئے تھی مگر وہ ابھی تک یہ سمجھنے میں ناکام تھے کہ آخر کرنل وشال پاکستان میں کس مقصد سے آیا ہے اور آیا کہ وہ اب تک اپنے مشن میں کامیاب ہو سکا ہے یا نہیں اس بارے میں پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی ابھی تک کچھ معلوم نہ کر سکی تھی۔ میجر دانش گو کہ ایک ہونہار جوان تھا جس نے پاکستان آرمی میں کم عمری میں ہی بہت نام بنایا تھا مگر اب وہ آئی ایس آئی کا بھی سپیشل ایجنٹ تھا۔ آئی ایس آئی اپنے خاص کاموں کے لیے اکثر میجر دانش کا ہی انتخاب کرتی تھی اور آج بھی رات کے 3 بجے میجر دانش کو خاص طور پر کرنل وِشال سنگھ کا پیچھا کرنے کا ٹاسک دیا گیا تھا۔ میجر دانش اپنی تیز ڈرائیونگ کے لیے پہلے ہی مشہور تھا اور آج بھی اس نے طوفانی رفتار سے ڈرائیونگ کرتے ہوئے بالاآخر ہنڈا اکارڈ کو ڈھونڈ نکالا تھا۔

اب میجر دانش اگلی کار سے مناسب فاصلہ رکھتے ہوئے مسلسل اسکے پیچھے جا رہا تھا۔ روڈ بالکل سیدھا تھا، ہنڈا اکاڑ شاہراہِ فیصل کو چھوڑ کر کلب روڈ سے ہوتی ہوئی اب مولوی تمیز الدین روڈ پر 70 کلومیٹر فی گھنٹہ کی سپیڈ سے جا رہی تھی۔ مولوی تمیز الدین روڈ سے بحریہ کمپلیکس اور پھر وہاں سے گاڑی نے اچانک ایک موڑ لیا اور سیدھی کراچی پورٹ کی طرف جانے لگی۔ یہ عام گزرگاہ نہیں تھی۔ یہاں پر پولیس اور رینجرز کی طرف سے خاص طور پر چیکنگ کی جاتی تھی۔ میجر دانش نے دیکھا کہ ہنڈا اکارڈ آگے آنے والی چیک پوسٹ پر کچھ دیر کے لیے رکی ہے۔ یہاں پر رینجرز ہر آنے والی گاڑی کو خصوصی طور پر چیک کرتے تھے۔ میجر دانش نے بھی گاڑی آہستہ رفتار سے چلنے دی۔ جب میجر دانش کی گاڑی آگے کھڑی ہنڈا اکارڑ کے بالکل قریب پہنچ گئی تو میجر دانش نے دیکھا رینجر اہلکار نے ہنڈا اکارڈ میں موجود پچھلی سیٹ پر بیٹھے ہوئے شخص کو سلیوٹ کیا اور ڈرائیور کو ایک کارڈ پکڑا دیا۔ اسکے ساتھ ہی ہنڈا اکارڈ آگے چلی گئی۔

میجر دانش کی گاڑی کو بھی رینجرز اہلکار نے چیکنگ کے لیے روکا تو میجر نے اپنا کارڈ رینجر اہلکار کو دکھایا۔ اہلکار نے وہ کارڈ ساتھ بیٹھے اپنے افسر کو دیا جس نے کارڈ کو خصوصی طور پر چیک کرنے کے بعد میجر دانش کو بھی آگے جانے کی اجازت دی اور اہلکار نے میجر دانش کو سلیوٹ مار کر کارڈ واپس کر دیا۔ میجر دانش نے سلیوٹ مارنے والے شخص سے پوچھا کہ اگلی گاڑی میں کون تھا تو اسنے بتایا کہ اگلی گاڑی میں لیفٹینینٹ کرنل ہارون موجود تھے جو کسی اہم کام سے بندر گاہ کی طرف جا رہے ہیں۔ یہ سنتے ہی میجر دانش کو فکر لاحق ہوگئی۔ کیونکہ اگلی گاڑی میں تو کرنل وشال موجود تھا۔ اور وہ انتہائی مہارت کے ساتھ رینجرز اہلکار کو دھوکا دیکر ایک پاکستانی لیفٹینینٹ کرنل کے حلیے میں کراچی پورٹ پہنچ چکا تھا اور رینجر اہلکار اسکو پہچاننے میں ناکام رہے تھے۔

یہ سنتے ہی میجر دانش نے اپنی گاڑی چلائی اور ہنڈا اکارڈ کو ڈھونڈنے لگا۔ کچھ ہی دور جا کر میجر دانش کو ہنڈا اکارڈ مل گئی۔ اسکی لائٹس بند ہو چکی تھیں۔ میجر دانش نے اپنی گاڑی دور کھڑی کی اور پیدل ہی ہنڈا اکارڈ کی طرف بڑھنے لگا۔ میجر دانش اس وقت اپنی یونیفارم کی بجائے شلوار قمیص میں ملبوس تھا۔ وہ بہت ہی احتیاط کے ساتھ ہنڈا اکارڈ کی طرف جا رہا تھا کیونکہ وہ جانتا تھا کہ کرنل وشال راء کا سب سے خطرناک ایجینٹ ہے اور اپن کام میں ماہر ہے۔ وہ آج تک اپنے کسی بھی مشن میں ناکام واپس نہیں لوٹا تھا۔ اور آئی ایس آئی جانتی تھی کہ اس بار بھی کرنل وشال ہو نہ ہو کسی خطرناک مشن پر ہی پاکستان میں موجود ہے۔ مگر اس پر ہاتھ ڈالنا اتنا آسان نہیں تھا۔ کچھ ہی دیر میں میجر دانش ہنڈا اکارڈ کے قریب پہنچ چکا تھا اسکو دور سے دیکھ کر ہی اندازہ ہوگیا تھا کہ گاڑی میں کرنل موجود نہیں۔ وہ گاڑی کے قریب پہنچا تو اکارڈ کا ڈرائیور ابھی تک گاڑی میں موجود تھا اور ڈرائیونگ سیٹ پر چاک و چوبند بیٹھا تھا۔

میجر دانش نے ڈرائیور سے پوچھا کہ تم یہاں کیوں کھڑے ہو اور یہ کس کی گاڑی ہے؟ تو ڈرائیور نے بتایا کہ لیفٹینینٹ کرنل ہارون صاحب تشریف لائے ہیں انہیں یہاں کوئی کام ہے۔ یہ کہ کر ڈرائیور دوبارہ اپنی مستی میں گاڑی میں لگے گانے سننے لگا اور میجر دانش انتہائی احتیاط کے ساتھ مگر بہت ہی لا ابالی طریقے سے آگے بڑھنے لگا۔ 32 سالہ میجر دانش اپنے چاروں طرف کے حالات سے اچھی طرح باخبر تھا، اسکی چھٹی حس اسکو آنے والے خطرے کے بارے میں بھی بتا رہی تھی مگر وہ بظاہر نارمل انداز میں چلتا جا رہا تھا۔ کچھ دور اسکو پاکستانی یونیفارم میں ایک آرمی آفیس نظر آیا جو ایک ہی لمحے میں غائب ہوگیا۔ میجر دانش نے سوچا ہو نہ ہو یہ کرنل وشال سنگھ ہی ہوگا۔ جو اس وقت تمام سیکورٹی کو چکمہ دیکر پاکستانی لیفٹینینٹ کرنل کے حلیے میں انتہائی حساس علاقے میں موجود ہے۔

جس وہ شخص جاتا نظر آیا تھا اور ایک دم سے غائب ہوگیا تھا وہیں سے ایک گاڑی نکلی جو اب بندر گاہ سے ہوتی ہوئی کیماڑی کی طرف جا رہی تھی۔ میجر دانش نے بھی فورا واپسی اختیار کی اور بھاگتا ہوا اپنی گاڑی میں جا کر بیٹھا اور اسی طرف چل پڑا جہاں دوسری گاڑی جا رہی تھی۔ کیماڑی جیٹی پہنچ کر میجر دانش کو وہی گاڑی دوبارہ نظر آئی مگر اس وقت اس میں کوئی بھی شخص موجود نہیں تھا۔ میجر دانش فورا وہاں سے بھاگتا ہوا اس سائیڈ پر گیا جہاں پر بوٹس موجود ہوتی ہیں۔ وہاں سے میجر دانش کو پتا لگا کہ ہارون صاحب، جو کہ اصل میں کرنل وشال تھا، ایک بوٹ پر سوار ہوچکے ہیں جو ابھی منوڑا بیچ کی طرف جائے گی۔ میجر دانش بھی سیکورٹی اہلکار سے نظر بچا کر اس بڑی سی بوٹ میں چھپ کر بیٹھ گیا۔ کچھ دیر بعد بوٹ دوسری سائیڈ پر پہنچ چکی تھی اور کرنل وشال اپنے کچھ ساتھیوں کے ساتھ بوٹ سے اتر گیا۔ موقع دیکھ کر میجر دانش بھی بوٹ سے نیچے اترا۔ نیچے اتر کر میجر دانش نے دیکھا کہ کرنل وشال کے لیے ایک کالے رنگ کی پجارو کھڑی ہے۔ کرنل وشال اپنے 2 ساتھیوں کے ساتھ پجارو پر سوار ہوا اور کچھ ساتھی واپس اسی بوٹ کی طرف جانے لگے۔

میجر دانش سمجھ گیا تھا کہ اب انکا رخ منوڑا بیچ کی طرف ہی ہوگا جہاں سے بڑے بڑے جہاز سمندری راستے سے دنیا کے مختلف ملکوں کی طرف روانہ ہوتے تھے۔ عام طور پر سمندری جہاز کے ذریعے بڑے بڑے سمگلر سفر کرتے ہیں اور میجر دانش کے ذہن میں پہلا خیال یہی آیا کہ کرنل وشال کسی قیمتی چیز کی سمگلنگ میں انوالو ہے، مگر اگلے ہی لمحے میجر دانش نے اس خیال کو اپنے ذہن سے نکال دیا کہ سمگلنگ کے لیے راء جیسی ایجنسی کبھی بھی کام نہیں کرے گی۔ ایسا کام تو چھوٹے موٹے سمگلرز کے ذریعے کروایا جا سکتا ہے، کرنل وشال کا اس معاملے میں شامل ہونا کسی بڑے خطرے کی طرف اشارہ تھا۔ کالے رنگ کی پجارو یہاں سے جا چکی تھی، اور میجر دانش اب پیدل ہی منوڑا بیچ کی طرف جا رہا تھا۔ میجر دانش بھاگتا ہوا یہ سارا راستہ طے کر رہا تھا۔ پجارو سڑک کے راستے جا رہی تھی جبکہ میجر دانش شارٹ کٹ استعمال کرتا ہوا اپنی منزل کی طرف جا رہا تھا۔ صبح کی ہلکی ہلکی روشنی ہو رہی تھی اور اب بغیر لائٹس کے بھی کافی حد تک نگاہ کام کرنے لگی تھی۔

آدھا گھنٹہ مسلسل بھاگنے کے بعد میجر دانش کے پھیپھڑے جواب دینے لگے تھے۔ اسکا سانس دھوکنی کی طرح چل رہا تھا اب اس میں مزید بھاگنے کی ہمت باقی نہیں رہی تھی۔ مگر ایک انجانا خوف اسکو رکنے نہیں دے رہا تھا۔ کرنل وشال آخر پاکستان کا ایسا کونسا راز لے کر جا رہا تھا یہاں سے؟؟؟ وطنِ عزیز کو آنے والے خطرے کا سوچ سوچ کر میجر دانش کا حوصلہ اور بڑھ رہا تھا اور وہ بغیر رکے مسلسل بھاگتا جا رہا تھا۔ آخر کا ر میجر دانش کو دور ایک جہاز دکھائی دیا۔ جو روانگی کے لیے طیار تھا۔ لیکن یہاں سے ابھی بھی ایک کلومیٹر کا سفر طے کرنا باقی تھا جو میجر دانش نے تقریبا بھاگتے ہوئے ہی طے کیا۔ راستے مِں کچھ دیر کے لیے اپنے آپکو لوگوں کی نظروں میں آنے سے بچانے کے لیے میجر دانش کسی چیز کی اوٹ لے کر رک بھی جاتا تاکہ وہ کرنل وشال کو رنگے ہاتھوں پکڑ سکے۔ جب میجر دانش جہاز کے بالکل قریب پہنچ گیا تو وہاں سے جہاز تک جانا میجر دانش کے لیے نا ممکن ہوگیا تھا۔

میجر دانش نے ایک بار سوچا کہ وہ یہاں موجود تمام سیکورٹی اہلکارز کو بتا دے کہ یہ پاکستانی یونیفارم میں لیفٹینینٹ کرنل ہارون صاحب نہیں بلکہ راء کا ایجینٹ کرنل وشال ہے مگر پھر اس خیال کو بھی میجر دانش نے ترک کردیا، مبادا سیکورٹی اہلکار بھی بھیس بدل کر آئے ہوں اور حقیقت میں وہ بھی راء کے ہی ایجینٹ ہوں یا پھر راء نے انکو بھاری رقم کے عوض خرید لیا ہو۔ ایسی صورت میں میجر دانش خود خطرے میں پھنس سکتا تھا۔ جو راستہ جہاز کے ڈیک کی طرف جاتا تھا وہاں پر 10 کے قریب مسلح افراد موجود تھے اور ایسی صورت میں ان سے پنگا لینے کا مطلب تھا آبیل مجھے مار۔ اگر عام حالات میں 10 مسلح افراد سے لڑنا ہوتا تو میجر دانش ایک لمحے کو بھی نا سوچتا، مگر یہاں مسئلہ انسے لڑنے کا نہیں بلکہ کرنل وشال کو پکڑنے کا تھا۔ جو یقنیا پاکستان سے کوئی قیمتی راز چرا کر دشمن ملک جا رہا تھا۔ آخر کار میجر دانش نے دوسرا راستہ اختیار کیا، جہاز کے ڈیک کی جانب جانے کی بجائے میجر دانش نے خاموشی سے ایک سائیڈ پر پڑی لائف ٹیوب اٹھائی اور سمندر کے پانی میں اتر گیا۔ گو کہ میجر دانش بہت اچھا تیراک بھی تھا مگر وہ بغیر آواز پیدا کیے جہاز تک پہنچنا چاہتا تھا جسکے لیے لائف ٹیوب کا استعمال ہی بہترین طریقہ کار تھا۔ ٹیوب کی مدد سے میجر دانش سمندری پانی میں موجود بنائے گئے عارضی راستے کے نیچے ہو لیا۔

یہاں پانی کی گہرائی تو زیادہ نہیں ہوتی مگر ایک عام تیراک کے لیے ممکن نہیں ہوتا کہ وہ اس پانی میں اتر سکے۔ لکڑی کےپھٹوں کی مدد سے بنائے گئے راستے استعمال کیے جاتے ہیں اور میجر دانش انہی پھٹوں کے نیچے نیچے جہاز کی طرف جا رہا تھا۔ جہاز کے انتہائی قریب پہنچ کر میجر دانش بہت چوکنا ہوگیا کیونکہ اسکے عین اوپر مسلح افراد موجود تھے جو آپس میں کچھ باتیں کر رہے تھے۔ میجر دانش نے انکی باتیں سننے کی کوشش کی مگر صحیح طور پر سمجھ نہیں پایا۔ یہاں پر میجر دانش کی چھوٹی سی غلطی بھی پانی میں آواز پیدا کر کے اوپر کھڑے مسلح افراد کو چوکنا کر سکتی تھی اس لیے میجر دانش بہت ہی احتیات کے ساتھ جہاز کے بالکل قریب پہنچا۔ جہاز اب چلنے کے لیے بالکل تیار کھڑا تھا۔ اور اس پر سوار ہونا ناممکن تھا جبکہ میجر دانش واپس بھی نہیں جا سکتا تھا۔

میجر دانش نے فورا ہی اپنے اطراف کا جائزہ لیا تو اسے خوش قسمتی سے ایک چھوٹا پائپ پانی پر تیرتا ہوا مل گیا۔ سمندری حدود میں عموما بہت سا فضلہ اور گندا سامان موجود ہوتا ہے، پاکستان میں صفائی کا ناقص انتظام ہونے کی وجہ سے پانی نا صرف بہت زیادہ گدلا ہوتا ہے بلکہ اس میں بہت سا کٹھ کباڑ بھی موجود ہوتا ہے۔ یہی چیز آج میجر دانش کے کام آئی اور اسے ایک پائپ مل گیا۔ میجر دانش جہاز کے بالکل قریب تھا، جیسے ہی جہاز چلنے لگا اور اسکے حفاظتی بند توڑے گئے تو پانی میں بہت زیادہ شور پیدا ہوا جو کہ معمول کی بات تھی، اسی شور کا فائدہ اٹھاتے ہوئے میجر دانش نے ایک ڈبکی لگائی اور پانی کے نیچے جا کر جہاز کے ساتھ ایک سپورٹ کو پکڑ کر کھڑا ہوگیا۔ میجر دانش نے اپنا سانس روک رکھا تھا ۔ سپیشل ٹریننگ کی وجہ سے میجر دانش کم سے کم 3 منٹ تک با آسانی پانی میں اپنا سانس روک سکتا تھا۔ اور ان 3 منٹوں میں جہاز ان مسلح افراد سے کافی دور پہنچ چکا تھا۔ جب میجر دانش کو مزید سانس روکنے میں دشواری کا سامنا ہونے لگا تو اس نے پائپ کا سہارا لیا۔ پائپ پانی کی سطح سے کچھ اوپر باہر نکال لیا اور نیچے سے اپنے منہ کو لگا لیا۔ جس سے میجر دانش کو اب سانس لینے میں آسانی ہو رہی تھی۔ مگر پانی میں جود کیمیکلز اور دوسرے گندے فضلے میجر دانش کے جسم پر بہت برا اثر ڈال رہے تھے۔ ایسے علاقوں میں اکثر جہازوں کا تیل بھی سمندری پانی میں ہی چھوڑ دیا جاتا ہے جو مچھلیوں کی زندگی کے لیے زہر کا کام کرتا ہے۔ میجر دانش کے لیے اس پانی میں اپنی آنکھیں کھولنا بھی مشکل ہو رہا تھا۔ وہ محض پائپ کی مدد سے سانس لینے پر ہی گزارا کر رہا تھا اور اس انتظار میں تھا کہ جہاز بندرگاہ سے دور نکل جائے تاکہ وہ لوگوں کی نظروں میں آئے بغیر جہاز پر چھڑ سکے۔

مزید 10 منٹ گزرنے کے بعد میجر دانش کو احساس ہوا کہ شاید اب پانی کچھ صاف ہے کیونکہ اب اس میں چکناہٹ اور بدبو نہیں رہی تھی۔ میجر دانش نے آنکھیں کھولیں تو واقعی پانی قدرے صاف تھا جسکا مطلب تھا کہ اب جہاز بندرگاہ سے دور نکل آیا ہے۔ میجر دانش نے سپورٹ کی طرف دیکھ جس کو پکڑ کر وہ جہاز کے ساتھ ساتھ سفر کر رہا تھا ، وہاں ایسی بہت سی سپورٹ تھیں۔ یہ اصل میں لوہے کے راڈ سے سیڑھیاں بنائی گئی تھیں جنکی مدد سے کوئی بھی جہاز کی اوپر والی سطح تک پہنچ سکتا تھا۔ضرورت پڑنے پر سمندر کے درمیان انہی سیڑھیوں کا استعمال کرکے سمندری پانی میں اترا جاتا ہے اور جہاز کی بیرونی مرمت کی ضرورت ہو تو وہ کام بھی کیا جا سکتا ہے۔ انہی سیڑھیوں کی مدد سے میجر دانش نے پانی سے سر باہر نکالا اور فورا ہی پیچھے بندرگاہ کی طرف دیکھا جو اب خاصی دور رہ چکی تھی اور بالکل دھندلی نظر آرہی تھی۔ اب کم سے کم وہاں سے کوئی بھی میجر دانش کو نہیں دیکھ سکتا تھا۔ میجر دانش سیڑھیوں کا استعمال کرتے ہوئے جہاز کے اوپر چڑھ چکا تھا۔ حیرت انگیز طور پر یہاں سیکیورٹی کے لیے کوئی موجود نہیں تھا بالکہ ہر طرف خاموشی تھی۔

میجر دانش جھک کر چلتا ہوا اور اپنے آپ کو مختلف چیزوں کی اوٹ میں چھپاتا ہوا ایک کیبن تک پہنچ چکا تھا۔ یہاں سے جہاز کو کنٹرول کیا جاتا تھا۔ اندر پائلٹ بھی موجود تھا اور میجر دانش کو فورا ہی اندازہ ہوگیا کہ جہاز کا رخ مسقط اومان اور دوسرے عرب ممالک کی طرف تھا۔ یہ چیز میجر دانش کے لیے حیران کن تھی کیونکہ میجر دانش کے خیال کے مطابق کرنل وشال کو انڈیا جانا چہیا تھا مگر اس جہاز کا رخ دوسری طرف تھا۔ ابھی میجر دانش یہ سمجھنے کی کوشش کر رہی رہا تھا کہ اسے دور سے ایک چھوٹا جہاز اسی طرف آتا نظر آیا۔ اور جس جہاز پر میجر دانش سوار تھا اسکی رفتار بھی سلو ہونے لگی۔ میجر دانش کی چھٹی حس نے کام کیا اور وہ فورا ہی دوبارہ انہی سیڑھیوں سے اتر کر پانی کے نیچے چلا گیا۔ وہ پائپ میجر نے اپنی شلوار کے نیفے میں پھنسا لیا تھا پانی کے نیچے جا کر میجر نے دوبارہ پائپ نکالا اور اسی کی مدد سے سانس لینے لگا۔ کچھ ہی دیر میں چھوٹا جہاز بڑے جہاز کی دوسری سائیڈ پر آکر رک گیا۔ میجر دانش نے پانی سے سر باہر نکالا تو اسے اطراف میں کچھ نظر نہ آیا، وہ پانی میں ہی جہاز کا سہارا لیکر دوسری طرف گیا تو اس نے دیکھا کہ کرنل وشال ایک سیڑھی کے ذریعے بڑے جہاز سے چھوٹے جہاز میں سوار ہو رہا تھا۔ میجر دانش ایک دفعہ پھر پانی کے نیچے گیا اور تیرتا ہوا چھوٹے جہاز کی دوسری سائیڈ پر پہنچ گیا اور وہاں بھی موجود پانی کے نیچے جہاز کے ساتھ لگی سیڑھیوں کا سہارا لیا۔ کچھ دیر کے بعد جہاز نے چلنا شروع کیا۔ اب کی بار اس جہاز کی رفتار پہلے جہاز سے بہت زیادہ تھی اور میجر دانش کو پانی کے نیچے رہنا مشکل ہوگیا تھا۔

وہ سیڑھیوں سے ہوتا ہوا اوپر جہاز پر چڑھ آیا اور ایک لوہے سے بنے ڈبے کی اوٹ میں چھپ کر بیٹھ گیا۔ اس جہاز کا رخ پہلے جہاز کے الٹی طرف تھا۔ یعنی کہ یہ جہاز دشمن ملک ہندوستان کا تھا اور کرنل وشال پاکستان کی سیکورٹی ایجینسیز کی آنکھوں میں دھول جھونک کر ہندوستان کی طرف جا رہا تھا۔ میجر دانش کے پاس یہ آخری موقع تھا کرنل وشال کو روکنے کے لیے۔ اس نے فورا ہی فیصلہ کیا کہ اسے اس جہاز پر قبضہ کرنا ہوگا اسے واپس پاکستان لیجانا ہوگا۔ گو کہ یہ ایک ناممکن کام تھا مگر میجر دانش کو اس وقت کچھ اور سجھائی نا دیا اور وہ فورا ہی چھپتا چھپاتا جہاز کے کنٹرول روم میں پہنچ گیا۔ شیشے کی کھڑکی سے اس نے اندر دیکھا تو جہاز کا پائلٹ سکھ تھا۔ ہلکی داڑھی اور سر پر سکھوں کے سٹائل کی پگڑی موجود تھی۔ یہ نشانی میجر دانش کے شک کو یقین مین بدلنے کے لیے کافی تھی۔ میجر دانش جسکے کپڑے بھیگے ہوئے تھے ایک ہی آن میں دروازے تک پہنچا اور بغیر آہٹ پیدا کیا پائلٹ کے سر پر پہنچ گیا۔

اس سے پہلے کے ڈرائیور کو کچھ سمجھ آتی میجر دانش کا وار اسکی گردن کے پچھلے حصے پر پڑا اور پائلٹ کو اپنا سر گھومتا ہوا محسوس ہوا اور پھر اسکی آنکھیں بند ہونے لگیں۔ میجر دانش کے ایک ہی وار نے پائلٹ کو بیہوش کر دیا تھا۔ جہاز میں موجود نقشے کی مدد نے میجر دانش نے اندازاہ لگایا کہ واپس پاکستان کی بندر گاہ پر پہننے کے لیے اسے جہاز کو بائے طرف گھمانا ہوگا اور میجر دانش نے ایسا ہی کیا۔ جہاز کی سپیڈ تیز ہونے کی وجہ سے جہاز نے تھوڑے ہچکولے لیے مگر میجر دانش نے فورا ہی اسکو قابو میں کر لیا اور جہاز کی سپیڈ بھی کم کر دی۔ جب جہاز صحیح ڈائریکشن میں جانے لگا تو میجر دانشے نے سپیڈ پھر سے بڑھا دیی۔

جہاز کے نیچے موجود وی آئی پی کمرے میں کرنل وشال نے فوری طور پر محسوس کیا کہ جہاز کو جو ہچکولے آئے ہیں یہ کسی انجان اور اناڑی پائلٹ کی وجہ سے ایسا ہوا ہے۔ کرنل وشال نے فوری طور پر اپنے ساتھ ایک کیپٹن کو لیا اور کنٹرول روم کی طرف بڑھنے لگا۔ کرنل وشال کی عمر 45 کے قریب تھی اور قد 6 فٹ 2 انچ تھا۔ دیو ہیکل جسامت کا حامل کرنل وشال 45 سال کا ہونے کے باوجود جسمانی طور پر فٹ اور بہت سے جوان افسروں پر بھاری تھا۔ اوپر سے اسکا دماغ بھی کسی کمپیوٹر کی طرح تیز چلتا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ جہاز کو ہلکے سے ہچکولوں نے اسے خطرے سے آگاہ کر دیا تھا۔

دوسری طرف میجر دانش اپنی دھن میں مگن جہاز کی رفتار میں مسلسل اضافہ کیے جا رہا تھا ۔ وہ جلد از جلد جہاز کو پاکستان کی سمندری حدود میں پہنچانا چاہتا تھا جہاں سے پاکستانی نیوی فوری اس جہاز کو گرفتار کر لیتی اور کرنل وشال بھی پکڑا جاتا۔ مگر اس سے پہلے کہ جہاز پاکستان کی سمندری حدود میں داخل ہوتا میجر دانش کو دروازہ کھلنے کی آواز آئی۔ میجر دانش کی چھٹی حس نے اسے خطرے سے آگاہ کیا اور وہ بغیر پیچھے دیکھے ایک قلابازی لگا کر اپنے دائیں طرف گھوم گیا۔ ایک سیکنڈ کی دیر میجر دانش کو اگلے جہاں پہنچا سکتی تھی۔ کرنل وشال کے ساتھ آنے والے کیپٹن نے ایک بھاری بھر کم لوہے کا راڈ میجر دانش کے سر پر مارنے کی کوشش کی تھی مگر میجر دانش اپنی پیشہ وارانہ تربیت کی وجہ سے اس وار سے بچ گیا۔ اس سے پہلے کہ کیپٹن اگلا وار کرتا میجر دانش ایک ہی جست میں اسکے سر پر پہنچ چکا تھا اور اپنے آہنی ہاتھوں سے کیپٹن کی گردن کو ایک ہی جھٹکے میں توڑ چکا تھا۔

کیپٹن میجر دانش کے وار سے زمین پر گر چکا تھا اور اسکی آخری سانسیں نکل چکی تھیں۔ میجر دانش نے بغیر وقت ضائع کیے اپنا اگلا وار کرنل وشال پر کیا مگر وہ حیرت انگیز طور پر پھرتیلا نکلا ۔ وہ نا صرف میجر دانش کے وار سے بچ نکلا بلکہ میجر دانش کے وار سے بچ کر اس نے اپنی لمبی ٹانگ ہوا میں گھمائی جو میجر دانش کی کمر پر لگی اور میجر دانش ہوا میں اچھلتا ہوا کنٹرول روم کی دیوار پر جا کر لگا۔ لیکن اگلے ہی لمحے میجر دانش نے دیوار کا سہارا لیتے ہوے واپس چھلانگ لگائی اور کرنل وشال کی گردن پر وار کیا، مگر اس بار بھی کرنل وشال کی پھرتی نے اسے بچا لیا، اس سے پہلے کہ میجر دانش کے ہاتھ کرنل وشال کی گردن پر پڑے کرنل وشال نے کمال مہارت سے میجر دانش کے بازو پر اپنا وار کیا اور میجر دانش کو اپنے بازو کی ہڈی دو حصوں میں تقسیم ہوتی محسوس ہوئی۔ اس سے پہلے کہ میجر دانش اگلا وار کرتا، کرنل وشال نے میجر دانش کا وار اسی پر آزمایا اور گردن پر حملہ کیا۔ کرنل وشال نے کراٹے کے مخصوص انداز میں اپنے ہاتھ کی ہڈی کو میجر دانش کی گردن کی ہڈی پر اسطرح مارا کہ میجر کو اپنا آپ ہوا میں اڑتا محسوس ہوا اور جسم ہلکا ہوتا ہوا محسوس ہوا۔

میجر دانش نے گھوم کر دوبارہ کرنل وشال پر حملہ کرنے کی کوشش کی جو اب کی بار بالکل پرسکون کھڑا تھا۔ اس سے پہلے کے میجر دانش کے ہاتھ کرنل کی گردن تک پہنچتے میجر کا دماغ اسکا ساتھ چھوڑ چکا تھا اور وہ اپنے وزن پر ہی نیچے گرتا چلا گیا۔ نیچے گرنے سے پہلے ہی میجر دانش کی آنکھوں کے آگے اندھیرا چھا چکا تھا۔ اور جیسے ہی وہ نیچے گرا، کرن وشال دروازہ کھول کر باہر جا رہا تھا۔



میجر دانش کے حواس بحال ہوئے تو اسنے اپنے آپ کو زمین پر پڑا محسوس کیا۔ کچھ دیر میجر دانش آنکھیں کھولے بغیر زمین پر پڑا رہا اور اپنی اطراف کا جائزہ لینے کی کوشش کرنے لگا۔ جو آخری بات اسکو یاد آئی وہ کرنل وشال کا پرسکون چہرہ تھا۔ میجر دانش کے ہاتھ اسکی گردن کی طرف بڑھ رہے تھے مگر نجانے کیوں اسکی گردن تک پہنچنے سے پہلے ہی اسکی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا تھا۔

اب میجر دانش محسوس کرنے لگا کہ اسکے آس پاس کوئی کھڑا ہے یا نہیں؟؟؟ مگر اسکو ایسا کچھ بھی محسوس نہ ہوا، نہ کسی کے قدموں کی آہٹ تھی اور نہ ہی کسی کی باتیں نہ ہی کسی کے سانس لینے کا احساس۔ اچانک ہی میجر دانش کو احساس ہوا کہ اسے جہاز کے چلنے کی آواز بھی نہیں آرہی اور نہی پانی پر جہاز کے ہچکولے محسوس ہو رہے ہیں بلکہ جس جگہ پر وہ لیٹا ہوا تھ


وہ بہت ہی پرسکون اور ساکت جگہ تھی۔ یہ جہاز تو ہرگز نہیں ہوسکتا تھا۔ میجر دانش نے آہستہ آہستہ اپنی آنکھیں کھولیں تو اسنے اپنے آپ کو ایک بند کمرے میں پایا۔ اس نے اپنی گردن کو ادھر ادھر گھما کر دیکھا تو وہ ایک خالی کمر تھا جس میں میجر دانش کے علاوہ اور کوئی موجود نہیں تھا ۔ میجر دانش نے ایک جست میں اٹھنے کی کوشش کی مگر اسے بری طرح ناکامی ہوئی۔ اسکے ہاتھ اور ٹانگیں کسی بہت ہی مضبوط شے سے بندھے ہوئے تھے۔ یہ شاید نائلون کی رسی تھی۔

میجر دانش کو فوری طور پر احساس ہوگیا کہ وہ کرنل وشال کے سامنے بری طرح ناکام ہو چکا ہے۔ اور اس وقت یقینا اسی کی قید میں ہوگا۔ اگلا خیال جو اسکے ذہن میں آیا وہ یہ تھا کہ کرنل وشال اسے بے ہوشی کی حالت میں دشمن ملک ہندوستان ہی لے آیا ہوگا۔ اور اب میجر دانش دشمن ملک کی قید میں ہے۔ یہ احساس ہوتے ہی میجر دانش کے اوسان خطا ہونے لگے اور اسکی سوچنے سمجھنے کی صلاحتیں ختم ہونے لگیں۔ میجر دانش نے ہمیشہ یہ دعا مانگی تھی کہ دشمن کی قید میں جانے سے بہتر شہید ہونا ہے۔ مگر اسکے برعکس میجر دانش اس وقت دشمن کی قید میں تھا۔

اوسان بحال ہونے پر میجر دانش نے پھر سے اٹھنے کی کوشش کی اور تھوڑی سی کوشش کے بعد وہ اب اٹھ کر بیٹھ گیا تھا۔ گوکہ اسکی ٹانگیں اور ہاتھ اب بھی بندھے ہوئے تھے جنکو کسی بھی طور پر کھولنا ممکن نہ تھا۔ نائلون کی رسی اسکے ہاتھوں پر بہت مضبوطی سے بندھی ہوئی تھی جس پر اگر وہ زور آزمائی کی کوشش کرتا تو وہ رسیاں اسکی جلد کے اندر دھنس جاتیں۔ وہ جانتا تھا کہ زور آزمائی کے زریعے اس رسی سے اپنے آپ کو آزاد کرنا ممکن نہیں۔

اب وہ کمرے میں ساکت بیٹھا آس پاس کا جائزہ لے رہا تھا۔ یہ کمرہ مکمل طور پر خالی تھا۔ کمرے میں کوئی لائٹ نہیں تھی صرف ایک سائیڈ پر دیوار میں موجود روشندان سے ہلکی ہلکی روشنی اندر آرہی تھی۔ سامنے ایک بڑا سا لوہے کا مضبوط دروازہ تھا جو یقینا کسی محفوظ ترین کمرے میں ہی ہوسکتا ہے۔ عام گھروں میں یا دفاتر میں اس طرح کے دروازے موجود نہیں ہوتے۔ محض 2 منٹ کے جائزے میں ہی میجر دانش کو احساس ہوگیا کہ یہاں سے اسکا بچ کر نکلنا ممکن نہیں۔

وہ اب سر جھکائے بیتے ہوئے لمحوں کہ یاد کر رہا تھا۔ اسکا گھر سے نکل کر گاڑی میں ہنڈا اکارڈ کا پیچھا کرنا وہاں سے پھر بھاگتے ہوئے بندرگاہ تک پہنچ کر گندے پانی میں پائپ کے ذریعے سانس لینا پھر جہاز چینج کرنا اور وہاں سے کرن وشال سے آمنا سامنا ہونا۔ یہ سب چیزیں اسکے ذہن میں ایک فلم کی طرح چل رہی تھیں۔ اسی فلم میں اچانک ہی میجر دانش کو ایک اور چہرہ یاد آیا۔ یہ چہرہ کسی اور کا نہیں بلکہ اسکی اپنی نئی نویلی دلہن عفت کا چہرہ تھا۔ عفت کا خیال ذہن میں آتے ہی ایک جھماکا ہوا اور میجر دانش کو یاد آیا کہ ابھی ایک دن پہلے ہی تو اسکی شادی ہوئی تھی۔


میجر دانش میرون کلر کی شیروانی میں قیامت ڈھا رہا تھا۔ آج میجر دانش کی شادی کی پہلی رات تھی۔ اسکی بیوی عفت اپنے کمرے میں موجود دلہن بنی بیٹھی اپنے دلہا کا انتظار کر رہی تھی جبکہ باہر کمرے کے سامنے میجر دانش کی بہنیں اسکا راستہ روک کر کھڑی تھیں۔ فوزیہ جسکی عمر25 سال تھی اور پنکی جو ابھی 21 سال کی تھی دونوں ہی اپنے بھائی کا راستہ روک کر کھڑی تھیں۔ ساتھ میں کچھ کزنز اور بھی تھیں جو دولہے میں کو اپنی نئی نویلی دلہن کے پاس جانے سے روک رہی تھیں۔ میجر دانش نے جیب سے ہزار ہزار کے 10 نوٹ نکالے اور پنکی کی طرف بڑھائے وہ جانتا تھا کہ فوزیہ 10 ہزار میں نہیں مانے گی مگر پنکی چھوٹی ہے شاید وہ مان جائے گی۔ مگر اس سے پہلے کہ پنکی وہ پیسے پکڑتی اور دانش کو اندر جانے کا راستہ دیتی فوزیہ نے فورا ہی دانش کا ہاتھ جھٹک دیا اور بولی ہم تو اپنے پیارے بھائی سے سونے کا سیٹ لیں گی پھر اندر جانے کی اجازت ملے گی۔ یہ سن کر میجر دانش نے اپنی امی کی طرف دیکھا مگر وہ بھی آج اپنی بیٹیوں کا ساتھ دینے کا ارادہ رکھتی تھیں۔ انہوں نے بھی کہ دیا کہ تم بہن بھائیوں کا آپس کا معاملہ ہے میں اس معاملے میں کچھ نہیں بول سکتی۔

میجر دانش نے بہت کہا کہ سونے کا سیٹ تم عمیر سے لے لو میرے پاس یہی پیسے ہیں مگر نا تو فوزیہ مانی اور نہ ہی پنکی۔ بال آخر میجر دانش کو ہار ماننی پڑی اور اسنے بری میں بنائی گئی سونے کی چین جو اسکی بیوی عفت کے لیے بنائی گئی تھی وہ فوزیہ کو دی اور پنکی سے وعدہ کیا کہ اسکو بھی ایک اچھی سونے کی چین دلوائی جائے گی۔ اس وعدے کے بعد دونوں بہنوں نے دانش کی جان چھوڑی اور عمیر کی طرف بھاگیں۔ عمیر میجر دانش کا چھوٹا بھائی تھا جسکی عمر 27 سال تھی اور اسکی بھی آج ہی شادی ہوئی تھی۔ اب راستہ روکنے کی باری اسکی تھی اور دونوں بہنیں فوزیہ اور پنکی عمیر کرا راستہ روکے کھڑی تھیں۔ جسکا کمرہ میجر دانش کے کمرے کے ساتھ ہی تھا۔ لیکن دانش کے پاس اب اتنا صبر نہیں تھا کہ وہ دیکھتا عمیر سے بہنوں نے کیا لیا اسنے دروازہ کھولا اور اندر جا کر سکھ کا سانس لیا۔

سامنے بیڈ پر گلاب کے سرخ اور سفید پھولوں کی سیج بنی ہوئی تھی۔ بیڈ کے ایک طرف سرک پتیاں بکھری پڑی تھیں۔ پورا کمرہ گلاب کی خوشبو سے مہک رہا تھا۔ اور سامنے ہی سرخ عروسی جوڑے میں ملبوس 20 سالہ عفت سمٹی بیٹھی تھی۔ یوں تو میجر دانش اور عفت کی عمر میں 12 سال کا فرق تھا مگر دونوں ہی اس شادی سے بہت خوش تھے۔ عفت نے جب سے دانش کو دیکھا تھا وہ تو اسکی دیوانی ہوگئی تھی، اس دیوانگی نے عمر کا یہ بڑا فرق بھی مٹا دیا تھا اور وہ صرف دانش کی ہی ہوکر رہ گئی تھی۔ عفت نے اپنے نام کی لاج بھی رکھی تھی۔ وہ ہر طرح کی غیر اخلاقی چیزوں سے دور رہی اور اس نے اپنی عزت کی حفاظت بھی کی۔ اپنی جوانی پر اسنے کسی غیر مرد کا سایہ تک نہیں پڑنے دیا تھا۔ عفت ایک آزاد خیال اور ماڈرن لڑکی ضرور تھی مگر اسکے ساتھ ساتھ شرم و حیا اور پاکدامنی میں بھی اپنی مثال آپ تھی۔ اگرچہ وہ غیر مردوں سے پردہ نہیں کرتی تھی مگر کبھی کسی غیر مرد کو اسنے اپنے قریب بھی نہیں آنے دیا تھا۔ گوری رنگت اور بھرپور جوانی کے باوجود عفت نے اپنی عفت کو قائم رکھا تھا اور میجر دانش کو بھی عفت کی پاکدامنی اور حسنِ اخلاق نے متاثر کیا تھا۔

یہی وجہ تھی کہ میجر دانش عفت کو اپنی شریکِ حیات بنانے کے لیے خوشی خوشی راضی ہوگیا تھا۔ کمرے میں داخل ہوکر سب سے پہلے دانش نے اپنی شیروانی اتاری۔ مسلسل 4 گھنٹے سے دانش اس ہیوی شیروانی میں بڑی مشکل سے گزارہ کر رہا تھا۔ وہ اپنی شادی کے لیے پینٹ کوٹ سلوانا چاہتا تھا مگر عفت کی فرمائش پر اس نے شیروانی سلوائی۔ دانش اس طرح کے لباس کا بالکل عادی نہ تھا۔ مجض اپنی ہونے والی بیوی کے کہنے پر اس نے 4 گھنٹے سے شیروانی زیب تن کر رکھی تھی۔ شیروانی اتار کر ایک سائیڈ پر رکھنے کے بعد وہ آہستہ آہستہ چلتا ہوا سیج کے قریب پہنچا ، جہاں سمٹی ہوئی عفت شرم کے مارے اور بھی سمٹ گئی تھی۔ میجر دانش کرتے اور پاجامے میں ملبوس اپنی بیوی کے سامنے بیٹھ گیا تو عفت نے گھونگٹ میں سے ہی آنکھیں اٹھا کر دانش کا دیدار کیا۔ سرخ دوپٹے میں سے دانش کامدھم مگر مسکراتا ہوا چہرہ نظر آیا۔ دانش کے چہرے پر نظر پڑتے ہی عفت کے چہرے سرخی آگئی اور اسنے دوبارہ اپنی نظریں جھکا لیں۔ دانش نے بھی اپنی دلہن کا یہ انداز دیکھا تو بے اختیار اس پر پیار آگیا، دانش نے آہستگی کے ساتھ اپنے دونوں ہاتھوں سے عفت کا گھونگٹ اوپر اٹھایا۔ ۔ ۔ گھونگٹ اٹھاتے ہی بے اختیار دانش کے منہ سے اپنی بیوی کے حسن میں تعریفی کلمات نکلنا شروع ہوئے جنہیں سن کر عفت کے چہرے کا رنگ انار کے رس کی طرح سرخ ہونے لگا۔ شرم کے مارے وہ نا تو اپنی آنکھیں اوپر اٹھارہی تھی اور نہ ہی کچھ بول پا رہی تھی۔




وطن کا سپاہی

Sponsor

Sponsor
 

User avatar
sexi munda
Gold Member
Posts: 807
Joined: 12 Jun 2016 12:43

Re: وطن کا سپاہی

Post by sexi munda » 29 Oct 2017 13:30


دانش نے اپنی ایک انگلی سے عفت کا چہرہ اوپر اٹھایا تو بھی عفت کی آنکھیں جھکی رہیں۔ اس پر دانش نے بے اختیار کہا اب ہم اتنے بھی برے نہیں جو آپ ہماری طرف دیکھنا بھی گوارا نہ کریں۔ یہ سنتے ہی بے اختیار عفت نے اپنی آنکھیں اٹھائیں اور دانش کو دیکھنے لگی۔ بڑی بڑی آنکھوں میں موجود خوشی واضح نظر آرہی تھی۔ اور انمیں چھپا دانش کے لیے پیار بھی اب واضح ہوگیا تھا۔ دانش بے اختیار آگے بڑھا اور ان حسین آنکھوں پر ایک بوسہ دے دیا۔ عفت نے دانش کو بالکل منع نہیں کیا محض اپنی آنکھیں بند کر لیں۔ دانش نے اپنے ہونٹ کچھ دیر آنکھوں پر رکھنے کے بعد اٹھائے دوبارہ سے حسن کے اس پیکر کو دیکھنے لگا۔ عفت کا چہرہ اب بھی خوشی اور پیار کے ملے جلے تاثرات کی وجہ سے سرخ ہورہا تھا۔ اور اسکی تیز تیز سانسیں اسکے جزبات کی عکاسی کر رہی تھیں۔

اس سے پہلے کے میجر دانش دوبارہ حسن کے اس مجسمے کا بوسہ لیتا، عفت نے اپنا ہاتھ آگے بڑھا کر اپنی خوبصورت اور نازک ہتھیلی دانش کے سامنے پھیلا دی۔ دانش نے حیران ہوکر عفت کے ہاتھ کو دیکھا اور پھر عفت کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھا۔ تھوڑے سے وقفے کے بعد عفت نے پہلی بار اپنے ہونٹ کھولے۔ عفت نے بہت ہی پیار بھری آواز میں دانش کو مخاطب کیا اور بولی ہر شوہر اپنی بیوی کا چہرہ پہلی بار دیکھنے کے بعد اسے منہ دکھائی میں کچھ دیتا ہے۔ آپ تو میرا بوسہ بھی لے چکے مگر منہ دکھائی میں کچھ نہیں دیا۔ یہ سن کر دانش کو بھی اپنی غلطی کا احساس ہوا اور وہ شرمندہ ہو کر بولا کہ بس تمہاری خوبصورتی نے مجھے مدہوش کر دیا اور مجھے کچھ یاد ہی نہیں رہا۔ اپنے حسن کی تعریف میں یہ چند معمولی جملے عفت کے لیے بہت بڑا تحفہ تھے۔ انکو سن کر عفت کو لگا جیسے اسکی زندگی مکمل ہوگئی ہو اور اسے زندگی میں دانش کے ساتھ کے سوا اور کچھ نہیں چاہیے۔

اس سے پہلے کے عفت کچھ بولتی، دانش آگے جھکا ، اور بیڈ کے سائیڈ پر پڑے ٹیبل کا دراز کھول کر اس میں سے ایک چھوٹی سی ڈبیا نکالی جسمیں ایک سونے کی چین موجود تھی۔ اس چین میں ایک چھوٹا سا مگر بہت ہی خوبصورت لاکٹ بھی موجود تھا جو دل کی شکل کا تھا۔ میجر دانش نے وہ چین عفت کی طرف بڑھائی تو عفت نے اٹھلاتے ہوئے کہا خود پہنائیں گے تو تحفے کی قدر کا پتا چلے گا۔ یہ سن کر دانش مسکرایا اور اپنے چین کی ہک کھول کر ہاتھ عفت کی گردن کی طرف لیکر گیا۔ عفت نے دانش کو رکنے کا اشارہ کیا اور اپنا بڑا سا دوپٹہ کندھوں سے ہٹا کر اپنا بھاری بھر کم سونے کا سیٹ اپنے گلے سے اتارنے لگی۔ سیٹ اتارتے ہوئے دانش بڑے ہی غور کے ساتھ اپنی شریکِ حیات کو دیکھ رہا تھا، دانش کی نظر جب عفت کے سینے پر پڑی تو وہ اپنی آنکھیں جھپکانا ہی بھول گیا۔ عفت کی صراحی دار لمبی گردن اورگورا سینہ، نیچے سینے کے ابھار اور بیچ میں کلیویج لائن۔ عفت کے چہرے کے نین نقش تو پیارے تھے ہی مگر آج دانش اسکے سینے کے نشیب و فراز دیکھ کر سانس لینا ہی بھول گیا تھا۔

عفت جب اپنے گلے سے زیور اتار چکی تو اس نے دوپٹہ مزید پیچھے ہٹایا اور دانش کی طرف دیکھا جسکی نظریں عفت کے سینے پر گڑھی ہوئی تھیں۔ عفت نے بھی اس بات کو محسوس کر لیا اور اسکا سینا فخر سے اور پھولنے لگا۔ پھر اسنے دانش کے سامنے ایک چٹکی بجائی اور ایک ادا سے بولی کیا دیکھ رہے ہیں جناب؟؟ دانش کو ہوش آیا اور وہ اپنی چوری پکڑی جانے پر تھوڑا شرمندہ بھی ہوا مگر پھر بولا اپنی قسمت کو داد دے رہا ہوں، ایسی خوبصورت اور جوانی سے بھرپور بیوی کا ساتھ خوش نصیب لوگوں کو ہی ملتا ہے۔ یہ کہ کر وہ آگے بڑھا اور اپنے ہاتھ عفت کی گردن کے پیچھے لے گیا۔ اس نے پیچھے سے چین کی ہُک بند کی۔ اور پھر پیچھے ہٹ کر عفت کے گلے میں موجود منہ دکھائی میں دی گئی چین کو دیکھنے لگا۔ چین میں لٹکتا ہوا لاکٹ عفت کی کلیویج لائن سے کچھ اوپر تھا، دانش نے لاکٹ کو دیکھا اور آگے بڑھ کر اپنے ہونٹ لاکٹ والی جگہ پر رکھ کر ایک پیار بھرا بوسہ دیا۔ عفت کو دانش کے ہونٹ اپنے سینے پر محسوس ہوئے تو اسکی بھی ایک سسکی نکل گئی۔ یہ پہلا موقع تھا کہ کسی مرد کے ہونٹوں نے عفت کے سینے پر پیار بھرا بوسہ دیا تھا۔

دانش نے یہیں بس نہی کی بلکہ آگے بڑھ کر عفت کی کمر کے گرد اپنے بازو ڈال لیے، عفت بھی ادائے دلربا سے اٹھی اور اپنے شوہر کے قریب ہوگئی۔ عفت نے کبھی کسی مرد کو اپنے قریب نہیں آنے دیا تھا مگر وہ اپنے جیون ساتھی اپنے شوہر سے کسی بھی قسم کی شرم محسوس نہیں کر رہی تھی۔ صنفِ نازک کی ادا اور فطری شرم تو اسمیں موجود تھی ہی مگر بناوٹی شرم اور اپنے شوہر سے ہچکچانا یہ عفت کی فطرت میں شامل نہیں تھا۔ وہ جانتی تھی کہ جنسی تسکین نہ صرف اسکا حق ہے بلکہ اسکے شوہر کا بھی حق ہے۔ اور دونوں ایکدوسرے کے ساتھ تعاون کریں گے تو مکمل تسکین حاصل کی جاسکتی ہے۔

عفت قریب ہوئی تو دانش نے اپنے ہونٹوں سے عفت کے نرم و نازک ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھ دیے۔ عفت کو 440 وولٹ کا جھٹکا لگا۔ وہ نہیں جانتی تھی کہ جب کوئی مرد عورت کے ہونٹوں کو چومتا ہے تو کیسا محسوس ہوتا ہے۔ آج پہلی بار اسکے ہونٹوں پر دانش کے ہونٹ لگے تو وہ اس احساس سے آشنا ہوئی۔ عفت نے بھی جواب میں دانش کے ہونٹوں کو چوما اور پھر دونوں ایکدوسرے کے ہونٹ چوسنا شروع ہوگئے۔ عفت کے ہونٹ کسی گلاب کی پنکھڑی کی طرح نرم و نازک اور رسیلے تھے۔ دانش یہ رس اپنے ہونٹوں سے مسلسل چوس رہا تھا۔ اسی دوران عفت میں اپنے دوپٹے میں لگی سیفٹی پنز کو کھولنا شروع کیا اور کچھ ہی دیر میں بھاری دوپٹہ اسکے سر سے اتر چکا تھا۔ دوپٹہ اترتے ہی عفت کو اپنا آپ بہت ہلکا پھلکا محسوس ہونے لگا اور وہ اور بھی زیادہ شدت کے ساتھ دانش کی بانہوں میں اسکے ہونٹوں کو چوسنے لگی۔ دانش تھوڑی تھوڑی دیر بعد عفت کے اوپری ہونٹ کو اپنے منہ میں لیتا اور اسکو اچھی طرح چوستا اور پھر نیچے والے ہونٹ کو اپنے منہ میں لیکر چوستا۔ عفت کو یہ سب بہت اچھا لگ رہا تھا۔ اسکی زندگی میں یہ سب پہلی بار ہورہا تھا مگر وہ پوری طرح اسکی لزت سے لطف اندوز ہوری تھی۔

دانش نے اپنی زبان عفت کے ہونٹوں پر پھیرنا شروع کی تو وہ سمجھ گئی اور اپنے ہونٹوں کو کھول کر دانش کو اندر کا راستہ دکھایا۔ جیسے ہی عفت نے اپنے ہونٹوں کو کھول کر دانش کو راستہ دیا دانش کی زبان عفت کے منہ میں چلی گئی اور عفت کی زبان کے ساتھ کھیلنے لگی۔ عفت نے بھی دانش کا مکمل ساتھ دیا اور اپنے منہ میں اسکی زبان کو چوسنے لگی۔ عفت کے نرم و نازک ہونٹ جب اور گرم زبان جب دانش کی زبان کو چوس رہی تھی تو اسی دوران دانش کو اپنے انڈر وئیر میں ہلچل محسوس ہونے لگی۔ اور دانش کے ہاتھ خود بخود عفت کی کمر سے ہوتے ہوئے اسکو چوتڑوں تک جا پہنچے۔ گوشت سے بھرے ہوئے چوتڑ ہاتھ میں پکڑتے ہی دانش نے انکو زور سے دبا دیا اور عفت نے کے منہ سے ایک سسکی نکلی آووچ ۔ ۔ ۔ اب دونوں ایک دوسرے کو آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر فرینچ کس کرنے لگے اور ساتھ ساتھ دانش کے ہاتھ عفت کے 32" کے چوتڑوں کا مساج کرنے لگے۔ عفت کو بھی اپنی پینٹی میں گیلا پن محسوس ہونے لگا۔

کچھ دیر عفت کے ہونٹوں کا رس چوسنے کے بعد اب دانش نے اپنے ہونٹوں کا رخ عفت کی گردن کی طرف کر دیا، جیسے ہی عفت کی گردن پر دانش کے ہونٹ لگے عفت تڑپ اٹھی۔ اسنے اپنا ہاتھ دانش کی گردن پر رکھ کر اسکو مضبوطی کے ساتھ تھام لیا اور دانش عفت کے اوپر جھک کر اسکی گردن پر زبان پھیرنے لگ گیا۔ دانش کبھی عفت کی گردن پر زبان پھیرتا تو کبھی اپنے ہونٹوں سے چوستا۔ جب دانش اپنے دانتوں سے عفت کی گردن کو ہلکا سا دباتا تو شدتِ جذبات سے عفت کی سسکی نکلتی جسکو دانش بہت انجوائے کرتا۔ گردن سے ہوتے ہوئے اب دانش کی زبان عفت کی کلیویج لائن کو چوسنے لگی۔

عفت کے بلاوز کی فٹنگ بہت زبردست تھی جو اسنے سپیشل تیار کروایا تھا۔ وہ اپنے شوہر کو اپنے حسن سے مکمل طور پر مزہ دینا چاہتی تھی۔ فٹنگ والے بلاوز میں عفت کے سینے کے ابھار بہت ہی خوبصورت کلیویج لائن بنا رہے تھے جو کسی بھی مرد کو پاگل کردینے کے لیے کافی تھی۔ ۔ دانش نے اب عفت کو بیڈ پر لٹا دیا تھا اور خود اسکے ساتھ لیٹ کر عفت کے اوپر جھک کر اسکے سینے پر پیار کر رہا تھا۔ دانش کا ایک ہاتھ عفت کی گردن کے نیچے سے نکلتا ہوا اسکے کندھے پر پیار کر رہا تھا اور دوسرا ہاتھ عفت کی بائیں ٹانگ کی تھائی پر مساج کر رہا تھا۔ اور عفت اپنا سر پیچھے کی طرف کھینچ کر ہلکی ہلکی سسکیاں لے رہی تھی۔

دانش کا ہاتھ اب عفت کی تھائی سے ہوتا ہوا اسکے بائیں ممے کے اوپر آگیا تھا۔ عفت کی سانسیں تیز تیز چلنے کی وجہ سے اسکے سینے کے ابھار یعنی کے اسکے ممے بھی اوپر نیچے ہورہے تھے۔ دانش نے بہت پیار سے عفت کا بایاں مما اپنے ہاتھ میں پکڑا اور اسکو دبانے لگا۔ دانش کی زبان اب بھی عفت کی کلیویج لائن کو چوسنے میں مصروف تھی۔ کچھ دیر اسی حالت میں عفت کو پیار کرنے کے بعد دانش نے عفت اپنی جانب کروٹ دلوائی اور اسکی کمر پر موجود بلاوز کی زپ مکمل کھول دی۔ اب میجر دانش اپنے مضبوط ہاتھ کے ساتھ عفت کی نرم و نازک کمر کا مساج کر رہا تھا۔ سنگ مرمر کی طرح ملائم کمر کا مساج کرتے ہوئے دانش اپنے آپکو دنیا کا سب سے خوش قسمت انسان تصور کر رہا تھا۔ 32 سال کی عمر میں 20 سالہ خوبصورت گرم جوانی کا مل جانا یقینی طور پر خوش قسمتی ہی ہو سکتی ہے۔ اور جوانی بھی ایسی جسکو آج تک کسی نے چھوا تک نہ ہو۔

کچھ دیر بعد میجر دانش نے عفت کا بلاوز اتارا تو نیچے گورے جسم پر سرخ رنگ کا برا عفت کے مموں کو چھپانے کا اہم کردار ادا کر رہا تھا۔ عفت کا لہنگا اسکے ناف سے کافی نیچے تھا لہنگے سے اوپر عفت کا گورا جسم شروع ہوتا نظر آرہا تھا جو بہت ہی صاف شفاف اور ہر قسم کے داغ سے پاک تھا۔ دانش نے اپنے ہونٹ عفت کی ناف پر رکھ دیے اور اسے چومنے لگا۔ اس عمل سے عفت کو ایک عجیب سرور مل رہا تھا جو اس نے پہلے کبھی نہ محسوس کیا اور نہ ہی اسکے بارے میں کبھی سوچا تھا۔ دانش نے اپنے دونوں ہاتھوں سے عفت کے ممے پکڑ رکھے تھے جو سرخ رنگ کے برا میں قید تھے اور وہ اپنی زبان اور ہونٹ عفت کی ناف میں گھما رہا تھا۔ عفت نے اپنے نازک مہندی والے ہاتھوں سے دانش کو سر سے پکڑ رکھا تھا اور مزے کی شدت سے اف، آوچ اوئی کی آوازیں نکال رہی تھی۔ اب دانش نے عفت کی ناف کو چھوڑ کو اپنی زبان کو اپر کی طرف پھیرنا شروع کیا اور آہستہ آہستہ عفت کے مموں سے ہوتا ہوا دوبارہ اسکی کلیویج لائن میں اپنی زبان پھرینے لگا۔ عفت کے ہاتھ اب دانش کی کمر پر تھے اور وہ اپنے ہاتھوں سے دانش کی کمر کو جکڑے ہوئے تھی کچھ دیر کلیویج لائن کے ساتھ کھیلنے کے بعد دانش ایک بار پھر سے اپنی زبان کو نیچے کی طرف لایا اور ناف سے ہوتا ہوا اس سے بھی نیچے تک آگیا جہاں سے عفت کا لہنگا شروع ہوتا تھا۔

دانش نے عفت کے لہنگے سے اسکی ہُک کو کھولا اور دیکھتے ہی دیکھتے اسکا لہنگا بھی اتار دیا۔ اب عفت محض سرخ رنگ کے برا اور سرخ رنگ کی ہی پینٹی میں دانش کے سامنے لیٹی تھی۔ عفت کی آنکھوں میں اب لال ڈورے واضح نظر آرہے تھے جو اسکی سیکس کی خواہش کو واضح کر رہے تھے۔ دانش اب عفت کی گوری چٹی ٹانگوں پر پیار کرنے لگا۔ عفت کی ٹانگیں بالوں سے بالکل پاک تھیں۔ عفت نے اپنے شوہر کے ساتھ سہاگ رات منانے کی سپیشل تیاری کر رکھی تھی اسی لیے اس نے آج ہی اپنی ٹانگوں کی ویکس کی تھی اور سارے فالتو بال صاف کر دیے تھے۔ نرم و ملائم ریشمی ٹانگوں پر دانش کبھی اپنے ہاتھ پھیرتا تو کبھی اپنی زبان سے یہ گوری گوری ٹانگیں چاٹنے لگتا۔ دانش نے ابھی تک اپنا ہاتھ عفت کی پینٹی کو نہیں لگایا تھا۔ بلکہ اس نے اپنے ہاتھوں کو اور زبان کو عفت کی پینٹی سے دور ہی رکھا تھا۔ مگر پھر بھی دانش کو عفت کی سرخ پینٹی میں درمیان کے حصے میں گیلا پن نظر آرہا تھا ۔

کچھ دیر عفت کی ٹانگوں پر اپنی زبان پھیرنے کے بعد جب دانش کا لن اسکو زیادہ ہی تنگ کرنے لگا تو اس نے عفت کو چھوڑ کر پہلے اپنا کرتا اتارا اور اسکے بعد شیروانی کے ساتھ والا پاجامہ بھی اتار دیا۔ عفت اس بار بالکل بھی نہیں شرمائی اور بجائے شرم سے آنکھیں بند کرنے کو وہ اپنے شوہر کے جسم کو بہت پیار اور جنسی طلب کی شدت کے ساتھ دیکھ رہی تھی۔ دانش عفت کے سامنے محض سفید رنگ کے انڈر وئیر اور سفید ہی رنگ کی بنیان میں تھا۔ اسکا جسم بھی بہت خوبصورت اور ورزشی تھا۔ آخر ایک آرمی کا جوان تھا وہ جسکی آدھی زندگی مختلف قسم کی ٹرینینگ اور ورزش وغیرہ میں ہی گزری تھی۔ دانش بیڈ پر بیٹھا تھا ، عفت جو لیٹی ہوئی تھی دانش کے جسم کو دیکھ کر اٹھی اور خود ہی دانش کے قریب ہوتی ہوئی۔ سرخ برا اور پینٹی میں عفت کسی قیامت سے کم نہیں لگ رہی تھی۔


دانش کے قریب آنے کے بعد عفت نے خود ہی اپنے ہونٹ پہلے دانش کے ہونٹوں پر رکھ دیے اور اسکا رس چوسنے لگی، پھر ہونٹوں کو چھوڑ کو وہ دانش کی گردن تک آئی اور اسکی گردن پر اپنے ہونٹوں اور دانتوں سے پیار کرنے لگی۔ دانش کو 20 سالہ جوان عفت کی یہ بےباکی بہت اچھی لگ رہی تھی۔ پھر عفت نے خود ہی دانش کی بنیان اوپر کی اور اسکو اتار دیا۔ دانش کا سینہ بالوں سے بالکل پاک تھا۔ آجکل کے نوجوان فیشن کے طور پر اپنا سینہ بھی شیو کرتے ہیں ایسا ہی دانش نے کر رکھا تھا۔ ہلکا گندمی رنگ اور کسا ہوا جسم، عفت کا آئیڈیل گویا اسکے سامنے تھے۔ عفت کو ہمیشہ سے ہی کشادہ سینے والے اور ورزشی جسم والے مرد پسند تھے۔ فلموں میں بھی وہ جب انڈیا کے ہیرو کو دیکھتی جسکا سینہ بالوں سے پاک ہوتا تو اسکا بہت دل کرتا کہ اسکے ہونے والے شوہر کا سینہ بھی ایسا ہی ہو۔ اور دانش کا کا سینہ اور جسم کی بناوٹ بالکل عفت کی پسند کے مطابق تھی۔ عفت آگے جھکی اور دانش کے سینے پر موجود نپلز پر زبان پھیرنے لگی۔ عورت کے نپلز کی طرح مرد کے نپلز بھی بعض اوقات سیکس کے دوران سخت ہوجاتے ہیں۔ اسی طرح دانش کے نپل اس وقت سخت تھے جن پر عفت اپنی زبان تیز تیز چلا رہی تھی۔ کبھی عفت دانش کے نپل منہ میں لیکر انکو چوس لیتی تو کبھی محض زبان پھیرنے پر ہی گزارا کرتی ۔

عفت نے دانش کو لیٹنے کو کہا تو دانش بیڈ پر لیٹ گیا۔ وہ عفت کو پورا موقع دینا چاہتا تھا کہ وہ بھی اپنی مرضی سے دانش کے ساتھ اپنی سہاگ رات کو انجوائے کرے۔ دانش کے لیٹنے کے بعد عفت نے سر تا پاوں دانش کے جسم کا جائزہ لیا۔ کچھ دیر اس نے اپنی نظریں دانش کے انڈر وئیر پر روک لیں جہاں اسے بہت بڑا ابھار نظر آرہا تھا۔ عفت جانتی تھی کہ یہ لن کا ابھار ہے جو اسکی چوت میں جانے کو بے تاب ہو رہا ہے۔ عفت نے تعریفی نظروں سے دانش کی طرف مسکراتے ہوئے دیکھا اور پھر اپنی ٹانگیں پھیلا کر دانش کے اوپر بیٹھ گئی۔ دانشے کی ٹانگوں پر بیٹھنے کے بعد عفت دانش کے اوپر جھکی اور اسکے سینے پر پیار کرنے لگی۔ سینے سے ہوتی ہوئی عفت نیچے تک آئی اور انڈر وئیر کے اوپر تک اپنی زبان پھیری۔

انڈر وئیر تک پہنچنے کے بعد عفت نے بلا جھجک اپنا ہاتھ دانش کے لن پر رکھ دیا جو ابھی تک انڈر وئیر کی قید میں تھا۔ عفت کی یہ بے باکی دانش کو بہت پسند آرہی تھی۔ وہ بھی ایسی ہی بیوی چاہتا تھا جو نہ صرف گرم ہو بلکہ اپنی گرمی کا اظہار کرنا بھی جانتی ہو۔ اور بستر میں اپنے شوہر کے ساتھ سیکس انجوئے کرنے کی خواہش بھی رکھتی ہو۔ دانش نے ہلکی آوازمیں عفت سے پوچھا کہ میرا ہتھیار کیسا لگا تمہیں؟؟؟ تو عفت نے ایک شرارتی مسکراہٹ سے کہا یہ تو جب آپ اپنا کام کرو گے تبھی پتا لگے گا اسکے بارے میں۔ یہ سن کر دانش کو عفت پر ایک دم سے پیار آیا اور اسنے عفت کو اپنے اوپر گرا لیا۔ اور دیوانہ پیار اسکو پیار کرنے لگا۔ دانش اب اپنے ہاتھ عفت کے چوتڑوں پر بھی پھیر رہا تھا۔ 32 سائز کے نرم اور گوشت سے بھرے ہوئے چوتڑ دانش کو بہت پسند آئے تھے۔ مگر ابھی تک ان پر سرخ رنگ کی پینٹی موجود تھی۔

اسی دوران عفت جو دانش کے اوپر جھکی ہوئی تھی اسکو اپنی چوت پر سخت چیز لگتی محسوس ہوئی۔ عفت نے اسکا مزہ لینے کے لی اپنا وزن دانش کے اوپر ڈالا تو عفت کی چوت اس سخت لن کے اور قریب ہوگئی۔ اور چوت لن کی رگڑ سے عفت اور دانش دونوں کو ہی مزہ آنے لگا۔ کچھ دیر کے بعد دانش نے اسی پوزیشن میں عفت کے برا کی ہُک کو کھول دیا اور اور اسکو سیدھا بٹھا کر اسکے مموں کو برا کی قید سے آزاد کر دیا۔ عفت پینٹی پہنے دانشے کے لن کو اوپر بیٹھی تھی، انڈر وئیر میں ہونے کے باوجود دانش کا لن عفت کی چوت کو مزہ دے رہا تھا۔ اور عفت کے 34 سائز کے ممے پہلی بار کسی مرد کے سامنے ننگے ہوئے تھے۔ اور دانش وہ خوش قسمت تھا جس نے ان خوبصورت سڈول اور کسے ہوئے مموں کا پہلی مرتبہ نظارہ کیا تھا۔ دانش نے اپنے ہاتھ عفت کی کمر سے آگے کو لاتے ہوئے اسکے مموں پر رکھ دیے اور عفت کے منہ سے ایک سسکاری نکلی۔ اور مزے کی شدت سے اسکی آنکھیں بند ہوگئی۔

دانش نے عفت کو اپنے اوپر سے اتارا اور اسکو بیڈ پر لٹا کر خود اسکے اوپر جھک کر اسکے گورے گورے دودھ جیسے مموں کو دیکھنے لگا۔ عفت کا پورا جسم ہر قسم کے داغ سے پاک تھا اور اسی طرح اسکے مموں پر بھی کوئی نشان موجود نہیں تھا۔ گورے گورے مموں پر ہلکے براون رنگ کے 2 دائرے اور ان پر ایک چھوٹا سے ہلکا براون نپل بہت ہی خوبصورت لگ رہا تھا۔ دانش نے پہلے اپنے ہاتھوں سے ان نپلز کو چھوا اور پھر انکو اپنے منہ میں لیکر چوسنے لگا۔ دانش کے اس عمل نے عفت کو پاگل کر دیا تھا اور اس نے اپنی ایک ٹانگ دانش کی ٹانگوں کے درمیان پھنسا دی تھی عفت کی اس حرکت کا نتیجہ یہ ہوا کے دانش کی بھی ایک ٹانگ عفت کی ٹانگوں کے درمیان چلی گئی۔ اور ساتھ ہی ساتھ اسکا لن بھی عفت کی چوت کے ساتھ گلے ملنے لگا۔ عفت نے اپنی چوت کو آہستہ آہستہ دانش کے لن پر رگڑنا شروع کر دیا تھا اور دانش مسلسل عفت کے ممے چوسنے میں مصروف تھا۔

دانش نے پہلے بھی کچھ لڑکیوں کے خوبصورت مموں کو چوسا تھا مگر ایسے صاف گورے اور خوبصورت ممے اسے کبھی نصیب نہیں ہوئے تھے۔ اسی لیے وہ دل بھر کر ان مموں کا دودھ پینا چاہتا تھا۔ اور عفت بھی دانش کے ساتھ مکمل تعاون کر رہی تھی۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ اگر اکیلا مرد ہی عورت کو پیار کرتا رہے اور جواب میں عورت رسپانش نہ دے تو نہ مرد کو سیکس کا اصل مزہ آتا ہے اور نہ ہی عورت کو۔ مگر عفت ان عورتوں میں سے نہیں تھی۔ اپنی فطری شرم و حیا اور پاکدامنی کے باوجود وہ سیکس کے طریقوں سے نہ صرف واقف تھی بلکہ یہ بھی جانتی تھی کہ سیکس کا اصل مزہ لینے کے لیے شوہر کا پورا پورا ساتھ دینا لازمی ہے۔

جب دانش کا عف کے مموں سے دل بھرنے لگا تو وہ آہستہ آہستہ نیچے کی طرف آنے لگا، اور اب کی بار دانش نے ایک ہی جھٹکے میں عفت کی پینٹی اتار دی تھی۔ عفت کی پینٹی جیسے ہی اتری عفت نے اپنی ایک ٹانگ دوسری ٹانگ پر رکھ کر اپنی پھدی کو چھپانا چاہا مگر دانش نے درمیان میں اپنا ہاتھ رکھ کر عفت کی نرم تھائی کو پکڑا اور اسکی ٹانگوں کو تھوڑا سا کھول دیا۔ ٹانگیں کھولنے کے بعد دانش بہت ہی اشتیاق کے ساتھ عفت کی چھوٹی سی پھدی کو دیکھنے لگا۔ چھوٹی سی اس لیے کہ یہ بالکل ان ٹچ پھدی تھی۔ جس پر کبھی کسی مرد نے تو کیا خود عفت نے بھی چھیڑ خانی نہیں کی تھی۔ اس نے اپنی پھدی کو اپنے شوہر کی امانت سمجھتے ہوئے بہت ہی سنبھال کر رکھا ہوا تھا۔ عفت کی پھدی کے دونوں لب آپس میں ملے ہوئے تھے۔ ان میں زرا برابر بھی فاصلہ نہیں تھا۔ پھدی کے لبوں کا رنگ ہلکا ہلکا سرخ اور گلابی تھا اور بالوں کا نام و نشان تک موجود نہیں تھا۔ لبوں کے درمیان ہلکی ہلکی چکناہٹ موجود تھی جو دانش کے جسم کی گرمی پانے کے بعد نمودار ہوئی تھی۔ دانش نے اپنا ایک ہاتھ آہستہ آہستہ عفت کی پھدی کے لبوں پر پھیرنا شروع کیا تو عفت کی آنکھیں سرخ ہونے لگیں، اسکے منہ سے آہ، آہ، اف آوچ،، آوئی آہ آہ جیسی سسکیاں نکل رہی تھی اور اس نے اپنے دونوں ہاتھوں سے دانش کا وہ ہاتھ پکڑ لیا تھا جس کو وہ عفت کی پھدی کے لبوں پر مسل رہا تحھا۔ مگر اسکے باوجود دانش نے اپنا ہاتھ اسکی پھدی پر مسلنا جاری رکھا جسکی وجہ سے عفت کی پھدی کے لبوں میں موجود چکناہٹ میں اضافہ ہونے لگا۔

کچھ ہی دیر بعد دانش عفت کے اوپر جھک کر اسکی پھدی کی سائیڈوں پر اپی زبان پھیر رہا تھا جس سے عفت کا پورا جسم کانپنے لگا تھا اب۔ عفت کی ٹانگیں بری طرح کانپ رہی تھیں، اسکا پیٹ تیز تیز سانسوں کی وجہ سے اوپر نیچے ہورہا تھا جبکہ اسکے ممے بھی مسلسل اوپر نیچے ہورہے تھے۔

دانش نے اپنی زبان کو آہستہ آہستہ عفت کی پھدی کے لبوں کے اوپر کیا تو عفت نے سختی سے دانش کا ہاتھ پکڑ لیا اور اسکو ایسا کرنے سے منع کیا۔ دانش نے سوالیہ نظروں سے عفت کی طرف دیکھا تو اسنے کانپتی ہوئی آواز میں کہا یہ جگہ گندی ہے۔ مگر دانش تو پھدی چاٹنے کا شوقین تھا۔ وہ تو بہت گندی اور بالوں سے بھری ہوئی پھدی بھی بہت شوق سے چاٹتا تھا تو ایسی صاف ستھری اور ان چھوئی پھدی کو وہ کیسے چھوڑ سکتا تھا۔ دانش نے مسکراتے ہوئے عفت کی طرف دیکھا اور اپنے ہونٹ عفت کی پھدی کے اوپر رکھ کر ایک پیار بھرا لمبا بوسا دیا۔ اس بوسے نے تو جیسے عفت کی جان ہی نکال دی تھی۔

اس سے پہلے کہ عفت دانش کو دوبارہ روکتی ایسا کرنے سے دانش کی زبان عفت کی پھدی کے لبوں پر اپنا جادو چلانا شروع ہوگئی تھی۔ دانش کی گیلی زبان کو اپنی پھدی کے لبوں پر محسوس کر کے عفت کے جسم میں ایک کرنٹ دوڑ گیا۔ اور اسکی سسکیوں سے اب کی بار پورا کمرہ گونجنے لگا۔ دانش کی زبان نے عفت کو اتنا مزہ دیا تھا کہ وہ دوبارہ دانش کو روک ہی نا پائی ایسا کرنے سے اور دانش مسلسل اپنی زبان سے عفت کی پھدی کو چوسے جا رہا تھا۔ کچھ دیر بعد دانش نے اپنی زبان سے عفت کی پھدی کے لبوں پر دباو بڑھایا اور اپنی زبان ہلکی سی پھدی کے لبوں کے درمیان داخل کر دی۔ دانش کی اس حرکت نے عفت کی رہی سہی برداشت کو بھی ختم کر دیا تھا اور اب اس نے اپنی ٹانگوں کو سختی سے دبا لیا تھا مگر ٹانگوں کے درمیان دانش کا سر موجود تھا جسکی وجہ سے وہ اپنی پھدی کو دانش کی زبان سے علیحدہ نہ کر پائی۔ اب عفت اپنا سر دائیں بائیں مارنے لگی تھی۔ اور اسکی چوت مسلسل پہلے سے زیادہ گیلی ہوتی جا رہی تھی۔

کچھ ہی دیر کے بعد عفت کو اپنی ٹانگوں میں چیونٹیاں رینگتی محسوس ہونے لگیں۔ اور اپنی پھدی پر اسے سوئیاں چبھتی محسوس ہو رہی تھیں۔ وہ اس صورتحال سے گھبرا گئی اور کانپتی ہوئی آواز میں دانش سے بولی کہ یہ میرے جسم کو کیا ہورہا ہے؟ دانش نے عفت کی اس بات کا کوئی جواب نہ دیا، وہ جانتا تھا کہ عفت جیسی کنواری لڑکی اس لذت سے بالکل ہی نا آشنا ہے اور وہ نہیں جانتی کہ ابھی اسکی پھدی سے کیسا لاوا نکلنے والا ہے۔ دانش بلا رُکے عفت کی پھدی میں اپنی زبان کو چلا رہا تھا کہ اچانک ہی عفت کے جسم نے جھٹکے لگانا شروع کیے اور ساتھ ہی اسکی چوت سے ایک گرم پانی کا فوارہ چل نکلا۔ تھوڑا گاڑھا اور چکنا پانی دانش کے منہ پر آکر گرا تھا، کچھ قطرے اچھل کر ہوا میں گئے اور دانش کی کمر پر آکر گرے جبکہ کچھ پانی اسکے منہ کے اندر بھی گیا جسکو وہ بلا جھجک پی گیا تھا۔

User avatar
sexi munda
Gold Member
Posts: 807
Joined: 12 Jun 2016 12:43

Re: وطن کا سپاہی

Post by sexi munda » 29 Oct 2017 13:31


عفت کا جسم کچھ دیر جھٹکے کھاتا رہا اور پھر اسکو سکون مل گیا۔ عفت کے چہرے پر خوشی اور اطمینان کے آثار تھے۔ لیکن ساتھ ساتھ وہ حیران بھی تھی کہ آخر اسکی چوت سے اتنا پانی نکلا کیسے۔ اس نے سن رکھا تھا کہ سیکس کے دوران عورت کی چوت پانی چھوڑتی ہے مگر اسکا خیال تھا کہ جیسے اسکی پینٹی گیلی ہورہی تھی بس اتنا ہی پانی ہوتا ہوگا۔ اسے نہیں معلوم تھا کہ گرم پانی کا ایک فوارہ چل نکلتا ہے پھدی سے۔

دانش نے اپنا منہ پاس کپڑے ٹشو سے صاف کیا اور اسکے بعد نیچے لیٹ گیا اور عفت کو اوپر آنے کو کہا۔ عفت ایک بار پھر پہلے کی طرح دانش کے اوپر آکر بیٹھ گئی تھی۔ اسکی چوت اب بھی دانش کے لن کے اوپر تھی مگر فرق یہ تھا کہ پہلے عفت نے پینٹی پہن رکھی تھی جبکہ اب اسکی چوت مکمل ننگی اور گرم تھی۔ دانش کے لن کا احساس ملتے ہی اس چوت نے ایک بار پھر سے چکنا ہونا شروع کر دیا تھا۔ اور عفت اب ایک بار پھر دانش کے اوپر جھک کر اسکے جسم پر پیار کر رہی تھی۔ کچھ دیر بعد دانش نے عفت سے فرمائش کی کہ اب وہ اسکا انڈر وئیر اتار دے۔ اور منہ دکھائی کے بعد اب چوت دکھائی بھی وصول کر لے۔ دانش کی یہ بات سن کر عفت بے اختیار کھلکھلا کر ہنسنے لگی۔ اور دانش کو کہنے لگی یہ چوت دکھائی کیا ہوتی ہے؟؟ تو دانش نے کہا جس طرح منہ دکھانے کا تحفہ ہوتا ہے اسی طرح تم نے اپنی چوت مجھے دکھائی اسکا بھی تحفہ لے لو۔ عفت نے نزاکت سے اٹھلاتے ہوئے کہا کہاں ملے گا چوت دکھائی کا تحفہ؟ دانش نے جواب دیا میرا انڈر وئیر اتارو اسی میں موجود ہے تمہارا چوت دکھائی کا تحفہ۔ اس پر عفت نے اپنا ہاتھ دانش کے انڈروئیر کے اوپر سے ہی اسکے لن پر رکھ دیا اور کہنے لگی یہ تو میرا حق ہے۔ جو مجھے ملنا ہی ہے لازمی۔ مگر پہلی بار چوت دکھائی کا تحفہ تو کچھ اور ہنا چاہیے؟

دانش نے بھی عفت کی اس بے باکی پر چوت دکھائی کے تحفے کی آفر کر دی کہ عفت جو مانگے گی اسکو ملے گا۔ مگر عفت نے بجائے کوئی اور تحفہ مانگے بغِر کچھ کہے دانش کا انڈر وئیر اسکے گھٹنوں تک نیچے اتار دیا ۔ انڈر وئیر اترنے کی دیر تھی دانش کا 8 انچ لمبا لن ایک دم سے باہر نکال آیا۔ 8 انچ کا لمبا اور صحت مندلن دیکھ کر عفت کی آنکھوں میں ہوس اور بھی بڑھ گئی۔ ہوس کے ساتھ ساتھ اسکی آنکھوں میں حیرت کے آثار بھی تھے۔ اسے اندازہ تھا کہ مرد کا لن سیکس کے دوران کافی لمبا اور سخت ہوجاتا ہے مگر وہ یہ نہیں جانتی تھی کہ وہ اتنا لمبا بھی ہوسکتا ہے۔

عفت غور سے دانش کے لن کو دیکھنے لگی اور بلا جھجھک اس پر اپنا ہاتھ رکھ کر پیار کرنے لگی۔ دانش نے عفت سے پوچھا کیسے لگا تمہیں میرا لن؟؟ تو عفت نے بھی بے باکی سے جواب دیا بہت مست ہے۔ خوب مزہ آنے والا ہے ابھی مجھے۔ یہ کہ کر عفت نے دوبارہ سے دانش کا لن اپنے دونوں ہاتھوں مں لے کر اسکو سہلانا شروع کر دیا۔ عفت اپنے ہاتھ کو دانش کے لن کی ٹوپی سے لیکر اسکے ٹٹوں تک نیچے کی طرف پھیرتی اور پھر دوبارہ سے اپنے ہاتھ اوپر ٹوپی تک لیکر جاتی۔ نرم ہاتھوں کی یہ گرمی دانش کو بہت مزہ دے رہی تھی ، اسی مزے کی وجہ سے لن کی ٹوپی پر مذی کے 2 قطرے نمودار ہوئے جنکو عفت نے اپنے ہاتھوں سے ہی دانش کے لن پر پھیر دیا۔ وقفے وقفے سے دانش کے لن پر کچھ قطرے نمودار ہوتے جنکو عفت اپنے ہاتھوں سے دانش کے لن پر پھیر دیتی۔ دانش کا لن اب کافی چکنا ہو چکا تھا۔

دانش نے عفت سے فرمائش کی کہ وہ اسکے لن کو منہ میں لیکر چوسے۔ جس کو عفت نے فورا ہی رد کر دیا اور بولی وہ ایسا گندہ کام نہیں کرے گی۔ دانش نے کہا اس میں گندہ کام والی کونسی بات ہے؟ میں نے بھی تو تمہاری چوت پر زبان پھیری ہے۔ عفت کہنے لگی میں نے آپکو منع تو کیا تھا کہ ایسا نہ کریں آپ۔ دانش بولا کہ لیکن تمہیں مزہ تو آیا نہ ایسا کرنے سے؟ عفت نے ہاں میں سر ہلا دیا۔ جس پر دانش نے کہا اب تم نہیں چاہتی کہ تمہارے شور کو بھی مزہ آئے؟؟ اس پر عفت کچھ دیر دانش کو دیکھتی رہی پھر بولی میں صرف اس پر اپنی زبان پھیروں گی مگر منہ میں نہیں لونگی۔ اور زبان بھی لن کے نچلے حصے پر پھیروں گی ٹوپی پر ہرگز نہیں۔ دانش نے فورا ہی کہا جیسے تمہارا دل کرتا ہے ویسے ہی کرو۔ کوئی زبردستی نہیں تمارے ساتھ۔

اب عفت کی زبان دانش کے لن کی ٹوپی سے کچھ نیچے لگتی اور رگڑ کھاتی ہوئی اسکے ٹٹوں تک جاتی جو بالوں سے ویسے ہی صاف تھے جیسے عفت کی چوت بالوں سے پاک تھی۔ اس عمل کے دوران کبھی کبھی عفت دانش کے لن پر اپنے ہونٹوں سے بھِی پیار کرتی مگر اس نے ابھی تک لن اپنے منہ میں نہیں لیا تھا۔ البتہ دانش کے ٹٹوں کو وہ 2 سے 3 بار اپنے منہ میں لیکر چوس چکی تھی۔ وہ جانتی تھی کہ یہاں سے مرد کی رطوبت نہیں نکلتی۔ رطوبت نکلنے والی جگہ لن کا اوپر والا حصہ ہے جہاں وہ پہلے ہی مذی کے بے شمار قطرے دیکھ چکی تھی۔ اس لیے ابھی تک اس نے وہاں پر اپنے ہونٹ یا اپنی زبان نہیں پھیری تھی۔

دانش نے بھی عفت کو مجبور نہیں کیا اور تھوڑی دیر بعد جب عفت کی چوت پہلے کی طرح چکنی ہوگئی تو دانش نے عفت کو بیڈ پر لیٹنے کو کہا اور خود اسکی ٹانگوں کے درمیان آخر بیٹھ گیا۔ اس عمل کے دوران عفت نے دانش کو الماری سے سفید چادر نکالنے کو کہا جو عفت کی ساس نے خاص طور پر عفت کو دی تھی اور اسکو سمجھا دیا تھا کہ دخول سے پہلے یہ چادر ضرور بچھا لے اس سے مرد کے اعتماد میں اضافہ ہوگا۔


عفت کے کہنے پر دانش نے سفید چادر عفت کے نیچے بچھائی اور اب عفت کی ٹانگیں کھولے دانش اپنا 8 انچ کا لن لیے اس نازک سی چوت کو پھاڑنے کے لیے تیار بیٹھا تھا۔ عفت کی آنکھوں میں اب وضح طور پر خوف نمایاں ہورہا تھا۔ اسکی نطریں دانش کے لن پ تھیں اور وہ یہی سوچ رہی تھی کہ اتنا بڑا لن اسکی نازک سی باریک سے پھدی میں کیسے داخل ہوگا۔ عفت کے خوف اور ڈر کو دیکھتے ہوئے اور اسکی چوت کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے دانش نے ڈریسنگ ٹیبل سے تیل کی شیشی اٹھائی اور اس سے عفت کی چوت کو چکنا کرنے لگا۔ پھر اس نے تھوڑا سا تیل اپنے لن پر انڈیلا اور اسکو بھی اچھی طرح مسل مسل کر چکنا کر دیا۔ اب دانش نے عفت کو اشارہ کیا کہ وہ تیار رہے، عفت سمجھ گئی کہ اب یہ موٹا لن اسکی چوت کی نازک دیواروں کو چیرتا ہوا اسکی گہرائیوں میں جا کر ٹکریں مارنے والا ہے۔ اس نے اپنی آنکھیں بند کر لیں اور خود سپردگی کے عالم میں انتظار کرنے لگی کہ کب اسکا شوہر اسکا کنوارہ پن ختم کر کے اسکو ایک لڑکی سے عورت اور ایک کلی سے پھول بناتا ہے۔

اچانک ہی عفت کو اپنی چوت کے سوراخ پر ایک موٹی اور سخت چیز کا دباو محسوس ہوا، اس سے پہلے کہ وہ آنکھیں کھول کر اسکا نظارہ کرتی عفت کی ایک زور دار چیخ نکلی، اسکو ایسے لگا جیسے کوئی گرم لوہے کی سلاخ نے اسکے جسم کو چیر کر رکھ دیا ہے۔ دانش نے فورا اپنا ایک ہاتھ عفت کے ہونٹوں پر رکھ کر اسکی مزید چیخ و پکار کو ختم کیا۔ اس ایک دھکے سے ہی عفت کی آنکھوں میں آنسو آگئے تھے۔ گو کہ ابھی اسکا کنوارہ پن ختم نہیں ہوا تھا اور دانش کے لن کی محض ٹوپی ہی اسکی چوت کے لبوں کو چیرتی ہوئی اندر تک گئی تھی مگر اسکے باوجود عفت کو لگا جیسے پورے کا پورا 8 انچ کا لن اسکی چوت میں اتر چکا ہے۔ عفت کی 2، 3 ہلکی چیخوں کے بعد دانش نے ایک بار پھر اپنے جسم کا دباو عفت پر بڑھایا اور اس دباوہ کا سارا مرکز اپنے لن کو رکھا، جس کی وجہ سے لن عفت کی چوت کی دیواروں سے رگڑ کھاتا ہوا کچھ مزید اندر چلا گیا اور عفت کی چیخیں ایک بار پھر بلند آواز کے ساتھ کمرے میں گونجنے لگیں۔

ان چیخوں کو پہلے تو دانش نے اپنے ہاتھ سے روکا مگر پھر اسکے بعد عفت کے ہونٹوں پر اپنے ہونٹوں کو رکھ کر اسکی چیخوں کو اپنے منہ کے اندر ہی کہیں گمر کر دیا۔ اس دھکے دانش کو اپنے لن کے راستے میں رکاوٹ محسوس ہوئی تھی اور اس رکاوٹ نے دانش کے لن کو مزید اندر جانے سے روک دیا تھا۔ کچھ دیر دانش نے اپنا لن اسی رکاوٹ کے سامنے روک کر رکھا پھر جب عفت کی چیخوں میں کمی ہوئی تو دانش نے اپنا لن تھوڑا سا باہر نکالا اور طاقت کے ساتھ اس رکاوٹ پے دے مارا۔ اس بار میجر دانش کے فولادی لن نے اپنے راستے میں آنے والی ہر رکاوٹ کو تہس نہس کر ڈالا تھا۔ کمرہ عفت کی چیخوں سے گونج رہا تھا، عفت کی کنواری چوت اب کنواری نہیں رہی تھی۔ اسکا پردہ پھٹ چکا تھا اور خون کی چھوٹی سی دھار اسکی چوت سے نکل کر نیچے بچھی ہوئی سفیر چادر پر جا گری تھی۔

عفت اپنی چوت سے نکلنے والے خون سے بے خبر اپنی چوت میں ہونے والے بے تحاشہ درد کو برداشت کرنے کی ناکام کوشش کر رہی تھی جبکہ میجر دانش اپنی پھول جیسی نازک بیوی کا درد کم ہونے کا انتظار کر رہا تھا تاکہ وہ مزید دھکے مار کر اپنی بیوی کو سہاگ رات کے اصل مزے سے آشنا کر سکے۔ اسکے لیے دانش کو زیادہ انتظار نہیں کرنا پڑا، عفت کے اندرموجود گرمی اور سیکس کو انجوائے کرنے کی خواہش نے جلد ہی اسکو درد بھلا دی تھی۔ اور اب وہ قدرے اطمینان کے ساتھ اپنے شوہر کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے اشارہ کر رہی تھی کہ اپنا کام جاری رکھو۔ عفت کی طرف سے اشارہ ملتے ہی دانش اوپر اٹھا اور ایک زور دار دھکا عفت کی چوت میں مارا جس سے دانش کا 8 انچ کا لن مکمل طور پر عفت کی چوت کی گہرائیوں میں اتر گیا تھا۔

ایک بار پھر عفت کی چیخوں سے کمرہ گونجا مگر اس بار عفت نے خود ہی اپنی چیخ پر قابو پا لیا تھا۔ ایک چیخ کے بعد دوسری چیخ اسنے خود ہی روک لی تھی۔ اور دانش نے بھی نیچے بچھی ہوئی چادر پر سرخ نشان دیکھ لیا تھا جس سے وہ مکمل مطمئن ہوگیا تھا کہ عفت کا کنوارہ پن دانش کے مضبوط لن نے ہی ختم کیا ہے۔ اب اسکو اپنی پیاری سی بیوی پر اور بھی زیادہ پیار آنے لگا تھا۔ وہ اپنے لن کو عفت کی چوت میں روک کر اسکا درد کم ہونے کا انتظار کر رہا تھا کہ اچانک ہی عفت نے اپنی گانڈ ہلا کر خود ہی دانش کا لن اپنی چوت کے اندر باہر کرنا شروع کر دیا۔ اتنا مظبوط سگنل ملنے پر دانش نے اب خود سے عفت کی چوت کے اندر جھٹکے مارنے شروع کیا۔ عفت کی چوت نے بہت مضبوطی کے ساتھ دانش کےلن کو جکڑ رکھا تھا جس کی وجہ سے دانش کا لن بہت مشکل سے اندر باہر ہو رہا تھا۔ دانش کے لن نے بہت عرصے بعد اتنی ٹائٹ چوت میں اپنا لن اتارا تھا۔ اور آج اسکو صحیح مزہ آرہا تھا چودائی کا۔ جبکہ عفت بھی اپنے شوہر کا پورا ساتھ دے رہی تھی۔ دانش جو ابھی تک آرام آرام سے چت میں لن داخل کر رہا تھا عفت کی طرف سے گانڈ کو تیز تیز ہلانے سے اسکو سگنل ملا کہ اپنی سپیڈ بڑھا دو۔

یہ سگنل ملتے ہی دانش نے اپنی سپیڈ بڑھا دی، کچھ ہی جھٹکوں کے بعد عفت کو اپنے جسم میں پہلے کی طرح سوئیاں چبھتی محسوس ہونے لگیں اور دیکھتے ہی دیکھتے اسکی چوت نے اپنے پانی سے دانش کے لن کو مکمل بھگو دیا تھا۔ دانش کا لن اب بہت آسانی سے عفت کی چوت میں کھدائی کر رہا تھا۔ عفت کی چوت کے پانی نے اسکی چوت کو اور دانش کے لن کو مزید چکنا کر دیا تھا۔ دانش بغیر رکے دھکے لگانے میں مصروف تھا۔ اور اب دانش کے ان دھکوں سے عفت کی چیخیں سسکیوں میں بدل چکی تھیں۔ چکنی چوت نے لن کو آزادانہ اندر باہر جانے کی اجازت دے دی تھی اور اسی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے دانش نان سٹاپ مشین چلا رہا تھا اپنی بیوی کی چوت میں۔

کچھ دیر کے بعد دانش نے پوزیشن چینج کرنے کے لیے عفت کی چوت سے اپنے لن کو نکالا تو عفت کو ایسا لگا جیسے اسکی چوت میں پھنسا ہوا کوئی موٹا ڈنڈا ایک دم سے باہر نکل گیا ہو اور اب اسکو اپنی چوت پہلے کی طرح ہلکی پھلکی محسوس ہو رہی تھی۔ مگر دانش نے بغیر ٹائم ضائی کیے خود نیچے لیٹ کر عفت کو اپنے اوپر بٹھا لیا اور اسکی چوت کو اپنے لن کے اوپر سیٹ کر کے نیچے سے ایک زور دار دھکا عفت کی چوت میں مارا۔ اس دھکے نے عفت کے چوتڑوں کو دانش کے زیرِ ناف حصے سے ملا دیا تھا اور دھپ کی ایک آواز پیدا ہوئی۔ ایک بار پھر عفت کو لوہے کی گرم سلاخ اپنی نازک چوت میں جاتی ہوئی محسوس ہوئی اور اسکی ایک چیخ بھی نکلی مگر اب کی بار اس چیخ میں درد کے ساتھ ساتھ مزہ بھی تھا۔

دانش کے ایک ہی دھکے سے پورا لن عفت کی چوت میں گھس گیا تھا اور اب دانش کا ہر دھکا عفت کے چوتڑوں اور دانش کے زیر ناف حصے کے ملاب کا باعث بن رہا تھا جس کی وجہ سے پورا کمرہ دھپ دھپ کی آوازوں سے گونج رہا تھا۔ دانش نے عفت کو اپنے اوپر لٹا کر اپنے سینے سے لگا لیا۔ عفت کے ممے دانش کے سینے میں چھپ گئے تھے اور دانش عفت کو چوتڑوں سے پکڑ کر اپنا لن تیزی کے ساتھ اسکی چوت میں اندر باہر کر رہا تھا۔ عفت نے اپنا سر اٹھا کر اپنے گرم ہونٹ دانش کے ہونٹوں سے ملا دیے اور چدائی کے ساتھ ساتھ کسنگ کرنے کا مزہ بھی لینے لگی۔ اب لن کافی روانی کے ساتھ عفت کی چوت میں پمپ چلا رہا تھا۔ اور اس پمپ کے چلنے سے جلد ہی دوبارہ پانی نکلنے والا تھا۔ عفت اب اپنی سہاگ رات کو فل مزے سے انجوئے کر رہی تھی۔

اگرچہ ابھی بھی عفت کو اپنی چوت کی دیواروں کے ساتھ دانش کا لن رگڑتا ہوا ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے اسکے جسم کے ساتھ کوئی ریگ مال سے رگڑائی کر رہا ہو، مگر اس چبھن اور رگڑائی کا بھی اپنا ہی انوکھا مزہ تھا۔ کچھ دیر دانش کے ہونٹ چوسنے کے بعد اب عفت اٹھ کر بیٹھ گئی تھی، اب کی بار وہ خود بھی دانش کے لن کے اوپر اچھل رہی تھی جس کی وجہ سے لن کی چوٹ پہلے سے زیادہ لگ رہی تھی۔ پہلے صرف دانش نیچے سے دھکے مار رہا تھا مگر اب عفت خود بھی اچھل رہی تھی، عفت کی چوت سے جب لن باہر نکلتا تو دانش نیچے کی طرف ہوتا اور عفت اوپر کی طرف اٹھتی، جب لن نے اندر جانا ہوتا تو دانش ایک زور دار دھکا اوپر کی طرف مارتا اور عفت بھی اپنے پورے وزن کے ساتھ دانش کے لن کے اوپر آتی۔ دانش اور عفت اب اپنی سہاگ رات کی پہلی چودائی کو فل انجوائے کر رہے تھے۔ اتنے میں عفت کو اپنے جسم میں وہی سوئیاں چبھتی محسوس ہونے لگیں۔ مگر اپ کی بار وہ جانتی تھی کہ اسکے نتیجے میں ملنے والا مزہ کیا اہمیت رکھتا ہے۔

دانش نے بھی اب کی بار پوری رفتار کے ساتھ دھکے لگانا شروع کر دیا تھے اور اس نے عفت کے چوتڑوں کو زور سے پکڑ رکھا تھا۔ کچھ دیر مزید دھکے لگانے کے بعد دانش نے مزید کچھ زور دار دھکے لگائے اور اسکے ساتھ ہی اپنی ساری منی اپنی بیوی عفت کی چوت کے اندر نکال دی۔ جیسے جیسے دانش کے لن سے منی نکل رہی تھی ویسے ہی عفت کی چوت بھی اپنا پانی چھوڑ رہی تھی۔ چوت اور لن نے جب اکٹھے پانی چھوڑا تو عفت کی چوت میں جیسے سیلاب آگیا۔ اور یہ سیلاب بہت ہی زیادہ گرم پانی کا تھا جس سے عفت کی چوت اور گرم جوانی کو ایک سکون مل گیا۔

دونوں اپنا اپنا پانی چھوڑنے کے بعد کافی دیر تک ایک دوسرے کے گلے سے لگ کر گہرے گہرے سانس لیتے رہے۔ دانش کا 8 انچ کا لن اب چھوٹا ہوکر 2 انچ کا ہوگیا تھا جسکو عفت بہت ہی اشتیاق کے ساتھ دیکھ رہی تھی اور حیران ہورہی تھی کہ یہ ننھا منا سا 2 انچ کا لن کچھ ہی دیر پہلے کیسے لوہے کے راڈ کے طرح اسکی چوت میں گھسا ہوا تھا۔ میجر دانش نے آج اپنی بیوی کو ان کھلی کلی سے کھلا ہوا گلاب بنا دیا تھا اور عفت بھی لن کے مزے سے پہلی بار آشنا ہوئی تھی۔ دونوں ابھی تک ایکدوسرے کے جسم کی گرم حاصل کر رہے تھے اور وقفے وقفے سے ایک دوسرے کو چوم بھی رہے تھے۔

اسی چوما چاٹی کے دوران دانش کے لن نے ایک بار پھر اپنا سر اٹھانا شروع کیا اور دیکھتے ہی دیکھتے 2 انچ کی للی سے وہ 8 انچ کا لمبا اور موٹا تازہ لن بن گیا۔ عفت لن کو اس طرح لمبا ہوتے ہوئے بہت حیرت سے دیکھ رہی تھی۔ عفت سمجھ گئی تھی کہ اسکے شوہر کا ابھی دل نہیں بھرا اور وہ ایک اور چدائی کا راونڈ لگا کر اپنی پیاس بجھانا چاہتا ہے۔ گوکہ عفت بہت بری طرح تھک چکی تھی اور اسکی چوت آج کی پہلی چدائی کے بعد مزید لن لینے کی متحمل نہیں تھی مگر پھر بھی اسنے شوہر کو انکار کرنا مناسب نہیں سمجھا۔ اچھی بیوی وہی ہوتی ہے جو مرد کے لن کے لیے اپنی پھدی کو ہر وقت تیار رکھے۔ یہی عفت نے بھی کیا اور بغیر کوئی نخرہ دکھائے دوبارہ سے چدنے کے لیے تیار ہوگئی۔

دانش ایک بار پھر اپنی بیوی کی ٹانگیں کھولیں اپنا لن ہاتھ میں پکڑے عفت کی پھدی مارنے کے لیے تیار بیٹھا تھا کہ اتنے میں ساتھ پڑے دراز میں موبائل کی گھنٹی بجنے لگی۔ میجر دانش نے سب کچھ بھلا کر آگے بڑھ کر موبائل اٹھانا چاہا تو عفت نے منع کر دیا اور کہا کم سے کم آج کی رات تو موبائل کو چھوڑ دو۔ مگر میجر دانش نے کہا کہ اسکا اپنا پرسنل موبائل آف ہے، یہ خاص موبائل ہے جس پر اسکی خفیہ ایجنسی کی طرف سے انتہائی ضروری کام کے لیے ہی کال آتی ہے وہ اس کال کو ریجیکٹ نہیں کر سکتا۔ یہ کہ کر اسنے کال اٹینڈ کی تو آگے سے فون پر اسکو فوران ڈیوٹی پر آنے کا کہا گیا۔ دشمن ملک کا ایک ایجینٹ پاکستان کے کچھ خفیہ راز چرا کر واپس اپنے ملک بھاگنے کی تیاری کر رہا تھا اور کراچی میں اس وقت میجر دانش سے زیادہ ہونہار خفیہ ایجینٹ موجود نہیں تھا۔ اس لیے آئی ایس آئی نے میجر دانش کی سہاگ رات کا خیال کیے بنا ہی اسکو کال کر کے واپس ڈیوٹی پر بلایا۔

میجر دانش جس میں وطن کی محبت کا جذبہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا اس نے بھی بغیر کچھ اور کہے اپنی گرم اور جوان بیوی کی چکنی چوت کو چھوڑا اور فورا ہی اپنی الماری سے عام کپڑے نکال کر بیوی کے سر پر بوسہ دیکر کمرے سے نکل گیا۔ عفت حیران اور پھٹی ہوئی نظروں سے میجر دانش کو دیکھ رہی تھی کہ کیسے اچانک ہی سہاگ رات پر جب وہ اپنا لن عفت کی چوت میں ڈالنے ہی والا تھا، دانش سب کچھ بھول کر اپنا فرض ادا کرنے نکلنے گیا تھا۔ میجر دانش نے اپنی کالے رنگ کی کرولا گاڑی سٹارٹ کی اور گھر سے نکل کھڑا ہوا۔
جاری ہے۔


میجر دانش انہی سوچوں میں گم تھا کہ اچانک اسکے سر پر ٹھنڈے یخ پانی کی ایک بالٹی انڈیل دی گئی۔ سر پر ٹھنڈا پانی پڑتے ہی میجر دانش اپنی سوچوں کی دنیا سے واپس آیا تو اسنے دیکھا وہ اسی اندھیرے کمرے میں ہے جہاں کرنل وشال سے آمنا سامنا ہونے کے بعد اسکی آنکھ کھلی تھی۔ یوں تو میجر دانش کو سپیشل ٹرینینگ دی گئی تھی کہ کسی بھی قسم کے حالات میں اپنے ارد گرد کا خیال رکھنا ہے مگر عفت کی یادوں میں گم ہو کر میجر دانش کو پتا ہی نہیں لگا کب اسکے قید خانے کا دروازہ کھلا اور ایک مرد اور ایک عورت اندر داخل ہوئے۔ میجر دانش کو ہوش تب آیا جب اسکے سر پر ٹھنڈے پانی کی بالٹی انڈیلی گئی۔

میجر دانش نے ہوش میں آتے ہی دوبارہ ہلنے جلنے کی کوشش کی مگر ایک بار پھر وہ بری طرح ناکام رہا۔ کمرے میں بہت ہلکی سی روشنی تھی جس میں وہ آنے والے مرد اور عورت کو پہچان نہیں پا رہا تھا۔ انکی بلکہ مدھم سی شکل نظر آرہی تھی۔ میجر دانش نے اندازہ لگایا کہ مرد کی عمر 30 کے لگ بھگ رہی ہوگی جبکہ عورت کی عمر 25 سے 26 سال ہوگی۔ میجر دانش انکو پہچاننے کی کوشش کر رہا تھا کہ آنے والے مرد نے عورت کو واپس چلنے کا اشارہ کیا اور بولا آ ہی گیا ہے یہ پاکستانی کتا ہوش میں، چل اب اسکے لیے کھانا بھجوا دے۔ میجر دانش نے مرد کو آواز دی اور پوچھا کہ تم کون ہو ؟؟ اور میں کہاں ہوں اسوقت؟؟ مرد نے ایک بار مڑ کی میجر دانش کو دیکھا اور بغیر کوئی جواب دیے واپس چلا گیا۔

کچھ دیر کے بعد دوبارہ سے دروازہ کھلا اور وہی عورت جو پہلے اندر آئی تھی اپنے ہاتھ میں ایک پلیٹ لیے اندر آئی۔ اس نے میجر دانش کے سامنے آکر بڑی حقارت سے اسکے سامنے پلیٹ رکھی اور بولی چل اب کھا لے ۔ یہ کہ کر وہ عورت چپ چاپ واپسی کے لیے مڑ گئی۔ میجر دانش ایک بار پھر چلایا کہ تم کون ہو؟؟ اور میں کہاں ہوں؟ عورت مڑی اور بولی میں کون ہوں تجھے اس سے مطلب چپ کر کے روٹی کھا پھر تجھے ادھر سے شفٹ کرنا ہے۔ میجر دانش نے ایک بار پھر پوچھا اتنا تو بتا دو میں کب سے ہوں ادھر؟؟ اس پر عورت بولی کل رات تجھے باس بےہوشی کی حالت میں لایا تھا اور آج تجھے ہوش آیا ہے۔ یہ کہ کر وہ عورت واپس چلی گئی اور دروازہ ایک بار پھر بند ہوگیا۔

میجر دانش نے پہلے تو حقارت سے کھانے کی طرف دیکھا جیسا کہ کہنا چاہ رہا ہو کہ وہ دشمن کا دیا ہوا کھانا نہیں کھائے گا۔ مگر پھر کھانے پر نظر پڑتے ہی اسکے شدید بھوک محسوس ہونے لگی اور وہ چپ چاپ پلیٹ کی طرف ہاتھ بڑھانے لگا۔ پلیٹ میں پتلی دال اور ساتھ کچھ روٹیاں پڑی تھیں۔ میجر دانش کے دونوں ہاتھ آپس میں مضبوطی سے بندھے ہوئے تھے۔ اس نے بہت مشکل سے روٹی کھائی ۔ حیرت انگیز طور پر میجر دانش سارا کھانا کھا گیا اور پلیٹ ایسی صاف کر دی جیسے دھلی ہوئی ہو۔ اسکو شدید بھوک لگی تھی۔ کھانا کھانے کے بعد میجر دانش نے پھر سے کمرے میں نظریں دوڑائیں تو پورا کمرہ خالی تھا۔ اندر اندھیرے کے سوا کچھ نہیں تھا۔ پھر میجر دانش چلایا اور پانی مانگنے لگا۔ مگر شاید اسکی آواز سننے والا کوئی نہیں تھا۔

کافی وقت گزرنے کے بعد میجر دانش کو پھر سے دروازے کے پاس کچھ قدموں کی آواز آئی تو اس نے پھر سے پانی کے لیے چلانا شروع کر دیا۔ کچھ دیر بعد دروازہ کھلا اور وہی عورت ہاتھ میں پانی کا جگ لے آئی۔ اور میجر دانش کے سامنے رکھ کر کھانے والی پلیٹ اٹھا کر باہر چلی گئی۔ میجر دانش نے اس بار اس سے کچھ نہیں پوچھا کیونکہ وہ سمجھ گیا تھا کہ اس سے کوئی جواب نہیں ملے گا۔ لہذا وہ چپ چاپ پانی پینے میں لگ گیا۔ اتنا تو اسکو یقین تھا کہ وہ کرنل وشال کی قید میں ہے۔ مگر اندر آنے والا مرد کرنل وشال ہرگز نہیں تھا۔ اور یہ عورت کون تھی میجر دانش اسکو بھی نہیں جانتا تھا۔ وہ یہ بھی نہیں جانتا تھا کہ وہ کب سے اس کمرے میں قید ہے۔

میجر دانش اب آنے والے حالات کے بارے مین سوچنے لگا۔ وہ جانتا تھا کہ یہ لوگ مجھے ماریں گے تو نہیں۔ کیونکہ دشمن ہمیشہ اپنے دشمن کو زندہ رکھنے کی ہی کوشش کرتا ہے تاکہ اس سے زیادہ سے زیادہ راز اگلوا سکے۔ اب میجر دانش اندازہ لگانے لگا کہ آخر کرنل وشال کونسی معلومات لیکر پاکستان سے فرار ہوا تھا؟؟ اور اب وہ میجر دانش کے ساتھ کیا کرے گا۔ مگر ان میں سے کسی بھی بات کا جواب نہیں تھا میجر کے پاس۔ میجر انہی خیالوں میں گم تھا کہ دوبارہ سے دروازہ کھلا اور ایک لمبا چوڑا آدمی اندر داخل ہوا۔ اسکے پیچھے 2 آدمی اور بھی تھے جو ہاتھ میں گن لیے کھڑے تھے۔ یہ تینوں لوگ شکل سے ہی کسی بدماش گروپ کے غنڈے لگ رہے تھے۔ آگے آنے والے شخص نے میجر دانش کے قریب کھڑے ہوکر اسکو سر کے بالوں سے پکڑا اور کھڑا ہونے کو کہا۔ میجر دانش لڑکھڑاتا ہوا کھڑا ہوگیا اور اس آدمی کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولا کہ تم کون ہو اور میں یہاں کیوں ہوں؟؟ میجر کی آنکھوں میں خوف کا شائبہ تک نہ تھا۔ اس شخص نے میجر دانش کے منہ پر ایک زور دار تھپڑ مارا جس سے میجر کا منہ ایک لمحے کے لیے دائیں سائیڈ پر مڑ گیا مگر میجر نے فورا ہی واپس اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈالی اور بولا بتاو مجھے تم کون ہو اور کیا چاہتے ہو؟؟

اب کی بار بھی میجر کی آنکھوں میں خوف نہیں تھا۔ میجر سیدھا کھڑا تھا اسکے پاوں بھی بندھے ہوئے تھے اور ہاتھ بھی۔ میجر کی بات کا جواب دینے کی بجائے اس شخص نے کہا یہاں میں تیری باتوں کے جواب دینے نہیں آیا، جو میں پوچھوں صرف اسکا جواب دے۔ ورنہ یہ پیچھے جو لوگ کھڑے ہیں یہ اپنی بندوق کی ساری گولیاں تیرے جسم میں اتار دیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ابھی اس شخص کی بات مکمل نہیں ہوئی تھی کہ میجر دانش نے اپنا سر بہت زور دار طریقے سے سامنے کھڑے شخص کی ناک پر دے مارا جس سے وہ بلبلاتا ہوا پیچھے کی طرف لڑکھڑاتا ہوا 4، 5 قدم پیچھے ہوگیا۔ دانش کی اس حرکت سے پیچھے دو کھڑے لوگوں نے اپنی اپنی بندوقوں کے رخ دانش کے سر کی طرف کر دیے مگر انکے باس نے فورا ہی ہاتھ کے اشارے سے انکو منع کر دیا کہ گولی نہیں چلانی۔

User avatar
sexi munda
Gold Member
Posts: 807
Joined: 12 Jun 2016 12:43

Re: وطن کا سپاہی

Post by sexi munda » 29 Oct 2017 13:32



اب وہ غصے میں دانش کی طرف دیکھنے لگا تو میجر دانش بولا تیرے ان کرائے کے کتوں سے میں تو کیا میرے ملک کا بچہ بھی نہیں ڈرے گا۔ ہمت ہے تو انکو کہ میرے پر گولی چلائیں۔ اصل میں دانش جو آئی ایس آئی کا قابل ایجینٹ تھا وہ اچھی طرح جانتا تھا کہ کوئی بھی آرمی کبھی دوسری آرمی کے قیدی کو اتنی آسانی سے نہیں مارتے۔ کیونکہ انکا مقصد قیدی سے زیادہ سے زیادہ معلومات لینا ہوتا ہے۔ اس لیے وہ کبھی گوارا نہیں کرتے کہ ہاتھ آئے قیدی کو کچھ معلومات لیے بغیر مار دیں۔ یہی وجہ تھی کہ میجر دانش بالکل نڈر کھڑا تھا۔

اب کی بار اندر آنے والے شخص نے پوچھا بتاو تم لیفٹینینٹ کرنل ہارون کا پیچھا کیوں کر رہے تھے؟ اور ہماری شپ پر کیا کرنے آئے تھے؟؟؟ اسکی یہ بات سن کر میجر دانش نے ایک قہقہ لگایا اور بولا یہ دھوکا کسی اور کو دینا، کرنل وشال جیسے کتے کو میں کسی بھی روپ میں پہچان سکتا ہوں۔ وہ لیفٹینینٹ کرنل ہارون نہیں بلکہ کرنل وشال تھا جسکا میں پیچھا کر رہا تھا۔ میجر کی یہ بات سن کر وہ شخص مسکرایا اور بولا اچھا تو تم جانتے ہو کہ وہ کرنل وشال تھا۔ چلو یہ تو اچھی بات ہے۔ اب یہ بھی بتا دو کہ تم انکا پیچھا کیوں کر رہے تھے؟؟؟ اسکی یہ بات سن کر دانش بولا کہ میں تب تک تمہارے کسی سوال کا جواب نہیں دوں گا جب تک تم میرے چند سوالوں کے جواب نہیں دے دیتے۔ دوسرے شخص نے پوچھا کونسے سوال؟؟ تو میجر دانش بولا کہ میں اس وقت کہاں ہوں؟؟ اور تم لوگ کون ہو؟ دانش کی بات سن کر وہ شخص بولا تم اس وقت جام نگر میں ہو اور ہم کون ہیں یہ جاننے کی تمہیں کوئی ضرورت نہیں۔

یہ جواب سن کر دانش نے اندازہ لگا لیا کہ یہ انڈیا کا ساحلی شہر ہے ، اب میجر دانش کو یقین ہوگیا تھا کہ وہ ہندوستان کا قیدی بن چکا ہے۔ مگر اسنے بغیر پریشان ہوئے اگلا سوال کیا کہ میں کتنی دیر بےہوش رہا؟؟ اس پر وہ شخص بولا ہمیں 3 دن پہلے بتا دیا گیا تھا کہ ایک پاکستان کتا پکڑا گیا ہے اور کل تمہیں یہاں پہنچا دیا گیا تھا۔ تب سے تم ادھر ہی ہو۔ یہ سن کر میجر دانش حیران رہ گیا۔ 3 دن پہلے اس شخص کو پتا لگا تھا کہ میجر دانش کرنل وشال کے قبضے میں ہے، اسکا مطلب کہ میجر دانش کم سے کم 3 دن سے بے ہوش پڑا تھا۔ اب کی بار وہ شخص دھاڑا کہ اب بتاو تم کرنل وشال کا پیچھا کیوں کر رہے تھے؟؟؟ اسکی بات سن کر میجر دانش نے بلا توقف کہا جب وہ روڈ پر ٹریفک کی خلاف ورزی کرتے ہوئے 90 کی بجائے 130 کلومیٹر فی گھنٹہ کی سپیڈ سے گاڑی چلائے گا تو میں تو اسکا پیچھا کروں گا ہی نا۔ میری تو ڈیوٹی ہے یہ۔ میجر دانش کا یہ جواب سن کر دوسرا شخص دھاڑا کیا مطلب ہے تمہارا؟ میجر دانش مسکراتے ہوئے بولا ارے یار میں ٹریفک پولیس میں ہوں کراچی میں۔ رات 3 بجے ایک ہنڈا اکارڈ جس میں تمہارا کرنل وشال کہیں جا رہا تھا اس گاڑی کا پیچھا کیا کیونکہ وہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پورے 130 کلومیٹر۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس سے پہلے کہ میجر دانش کی بات مکمل ہوتی ایک زناٹے دار تھپڑ میجر کے منہ پر پڑا جس نے میجر دانش کے چاروں طبق روشن کر دیے تھے۔

میجر دانش کو دوبارہ سے اسی شخص کی غراتی ہوئی آواز آئی ابے خبیث انسان ایک ٹریفک پولیس کو کیسے پتا ہوسکتا ہے کہ لیفٹینینٹ کرنل ہارون کے بھیس میں کرنل وشال جا رہا ہے۔۔۔ تو یقینا آئی ایس آئی کا کتا ہے۔ سچ سچ بول نہیں تو تیری زبان کھینچ کر سچ اگلوا لوں گا میں۔۔۔۔ اس شخص کی یہ بات سن کر میجر دانش نے اپنی زبان باہر نکال دی۔۔۔۔ وہ شخص حیران ہوکر میجر کو دیکھنے لگا تو میجر بولا لو پکڑ لو زبان اگلوا لو جو سچ تم نے اگلوانا ہے۔ یہ کہ کر میجر دانش ہنسنے لگا اور پھر بولا یار گاڑی کے شیشے کالے تھے مجھے تو نہیں پتا تھا اندر کون ہے۔ میں نے تو پیچھا کرنا شروع کر دیا تھا۔ پھر بندر گاہ کے قریب میں نے کرنل وشال کو کچھ اسلحہ برادر لوگوں کے ساتھ باتیں کرتے سنا، وہ لوگ اسکو کرنل وشال کہ کر ہی مخاطب کر رہے تھے تو میں سمجھ گیا کہ یہ آدمی جو قانون کی خلاف ورزی کر رہا ہے یہ کرنل وشال ہے۔

میجر کی یہ بات ختم ہوئی تو وہ شخص مسکرانے لگا اور بولا چوتیا سمجھ رکھا ہے کیا تو نے ہمیں؟؟ کچھ بھی بولے گا اور ہم مان لیں گے؟؟؟ میجر دانش برا سا منہ بناتے ہوئے بولا اچھا یار نہ مانو۔ جو سچ ہے میں نے تمہیں بتا دیا۔ وہ شخص پھر بولا سچ سچ بتا آئی ایس آئی نے کس مقصد سے تجھے بھیجا تھا کرنل کے پیچھے؟؟؟ میجر دانش نے انجان بنتے ہوئے کہا کون آئی ایس آئی؟؟؟ پھر خود ہی بول پڑا اچھا اچھا پاکستان کی خفیہ ایجینسی۔۔۔ ارے یار وہ اتنے پاگل تھوڑی ہیں ایک ٹریفک کانسٹیبل کو کرنل کا پیچھا کرنے بھیج دیں، میں نے بتایا نا کہ وہ اوور سپیڈینگ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ایک اور زناٹے دار تھپڑ میجر دانش کے چہرے پر لگا اور اسکی بات بیچ میں ہی رہ گئی۔ اب کی بار میجر دانش نے غصے سے اس شخص کی طرف دیکھا اور اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈالتے ہوئے بولا کہ اس تھپڑ کا بدلہ تو میں تجھ سے ضرور لوں گا۔ ایک بار میرے ہاتھ تو کھول پھر دیکھ تجھے تیرے ان بھائیوں کے سامنے کتے کی موت ماروں گا۔

میجر دانش کی یہ بات سن کر وہ شخص زور زور سے ہنسنے لگا۔ اور بولا اچھا چل یہ بتا کہ ایک ٹریفک پولیس والے نے ہمارے آرمی کیپٹن کو ایک ہی وار میں کیسے جان سے مار دیا؟؟؟ اس پر میجر دانش نے کہا اس میں کونسا بڑی بات ہے، میرے ہاتھ کھول ابھی بتا دیتا ہوں کہ اسے کیسے مارا تھا۔ یہ کہ کر میجر دانش ہنسنے لگا اور بولا اچھا تو وہ جو میرا ایک ہاتھ لگنے سے مر گیا وہ تمہارا آرمی کیپٹن تھا؟؟؟ حیرت ہے یار کیا زنخے بھرتی کرتے ہو تم لوگ آرمی میں۔۔ ابھی شکر کرو انکے سامنے پاکستان کا ٹریفک کانسٹیبل تھا کہیں واقعی میں آئی ایس آئی کا ایجینٹ آجاتا تو تمہارا کرنل وشال بھی اسی کیپٹن کی طرح اگلے جہاں پہنچ جاتا۔

ایک اور تھپڑ میجر دانش کے چہرے پر لگا مگر اس بار میجر دانش نے تھپڑ کھاتے ہی جوابی حملہ کیا اور ایک بار پھر اپنا سر اس شخص کی ناک پر دے مارا۔ وہ اپنا توازن برقرار نہ رکھ سکا اور زمین پر جا گرا۔ پیچھے کھڑے گن مین ایک بار پھر اپنی گنوں کا رخ میجر دانش کی طرف کر کے کھڑے ہوگئے مگر اس بار وہ ڈرے ہوئے تھے اور 2، 2 قدم پیچھے ہٹ گئے تھے۔ انکو دیکھ کر میجر دانش نے قہقہ لگایا اور بولا چلاو گولی چلاو۔۔۔ مگر انہوں نے گولی نہیں چلائی اور وہ شخص بھی اب اپنی جگہ پر کھڑا ہوگیا تھا۔ اسکے ناک سے اب خون نکل رہا تھا۔ اسکا ایک ہاتھ اپنی ناک پر تھا۔ وہ شخص اب غصے میں بولا گھی سیدھی انگلی سے نہیں نکلے گا تو انگلی ٹیڑھی بھی کرنی آتی ہے ہمیں۔ راء کے پاس تم جیسے آئی ایس آئی کے پِلوں کو سیدھا کرنے کے ایک سو ایک طریقے ہیں۔ اب وہی تم سے نمٹیں گے۔ یہ کہ کر وہ شخص واپس چلا گیا اور کمرے میں ایک عجیب سی بدبو پھیل گئی۔ میجر دانش سمجھ گیا تھا کہ یہ سپیشل گیس چھوڑی گئی ہے میجر کو بے ہوش کرنے کے لیے۔ اس نے اپنی سانس روکنے کی بالکل کوشش نہیں کی کیونکہ وہ جانتا تھا کہ وہ اتنی دیر سانس نہیں روک سکتا کہ اس گیس کا اثر زائل ہوسکے لہذا فضول میں سانس روکنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ کچھ ہی سیکنڈ میں میجر دانش زمین پر بے ہوش پڑا تھا۔



میجر دانش کے گھر سے نکلنے کا عفت کے سوا اور کسی کو معلوم نہ ہوا۔۔ البتہ عفت دانش کے کمرے سے نکلتے ہی فورا اپنے کپڑے پہن کر دانش کو روکنے کے لیے باہر نکلی مگر جیسے ہی وہ گھر کے گیٹ پر پہنچی چوکیدار دروازہ بند کر رہا تھا اور دور میجر دانش کی گاڑی کی بیک لائٹس نظر آرہی تھیں۔ عفت کو دیکھ کر چوکیدار بولا سلام بی بی جی۔--- میں شرفو۔۔۔ آپکا چوکیدار۔۔۔ میجر صاحب اکثر رات کو اسی طرح اچانک چلے جاتے ہیں اور اگلی صبح تک واپس آجاتے ہیں۔ آپ بے فکر ہوکر اندر جائیں۔ عفت چوکیدار کی بات سنے بغیر اندر آگئی تھی۔ ابھی وہ اپنے کمرے میں جانے ہی لگی تھی کہ پیچھے سے آواز آئی بیٹا کیا ہوا؟؟ یہ دانش کی امی کی آواز تھی یعنی عفت کی ساس۔ عفت نے ساس کو سامنے دیکھ کر انکو سلام کیا اور بتایا کہ اچانک دانش کو کوئی فون کال آئی اور وہ بنا کچھ بتائے گاڑی لیکر کہیں چلے گئے ہیں۔

میجر دانش کی والدہ نے آگے بڑھ کر اپنی بہو کو پیار کیا اور کہنے لگیں بیٹا تمہیں تو پتا ہی ہے وہ ایک سپاہی ہے اور وطن کے لیے اپنی جان بھی دے سکتا ہے۔ اکثر اسکو ایمرجینسی میں جب بھی بلایا جاتا ہے وہ سب کچھ چھوڑ کر اپنا فرض ادا کرنے چلا جاتا ہے۔ بس تم دعا کرو کہ وہ خیریت سے واپس آجائے۔ اسکے بعد دانش کی والدہ نے ایک بار پھر اپنی نئی نویلی دلہن کا ماتھا چوما اور واپس اپنے کمرے میں چلی گئیں۔ عفت بھی اپنے کمرے میں جانے ہی لگی تھی کہ اسکو کچھ آوازیں سنائی دیں۔ یہ آوازیں عفت کے ساتھ والے کمرے سے آرہی تھیں۔ عفت نے کان لگا کر سنا تو یہ عمیر کی بیوی نادیہ کی آوازیں تھیں۔ اوئی میں مر گئی، پلیز عمیر آہستہ کریں۔ آہ۔۔۔۔ اف اف اف آہ آہ آہ۔۔۔۔۔ آوچ۔ ۔ ۔ ہائے میں مر گئی۔۔۔ آوازیں سیکس سے بھرپور تھیں اور نادیہ کی ان آوازوں کے ساتھ ساتھ دھپ دھپ کی مخصوص آوازیں بھی آرہی تھیں جن سے عفت سمجھ گئی کہ جس طرح ابھی دانش عفت کی چودائی کر رہا تھا اسی طرح اسکا بھائی عمیر بھی اپنی نئی نویلی دلہن کو چودنے میں مصروف ہے۔

نادیہ کی یہ آوازیں سن کر عفت کو ایک عجیب سا سرور ملا تھا۔ وہ مسکراتی ہوئی اندر کمرے میں آگئی اور دروازہ بند کر کے اپنے کان پھر سے دیوار کے ساتھ لگا دیے۔ اب کی بار اسکو یہ آوازیں اور بھی واضح آرہی تھیں۔ دھپ دھپ کی آوازوں میں کافی تیزی آگئی تھی اور نادیہ اب اف آہ۔۔۔ مزہ آگیا جانو، اور زور سے چودو مجھے، مزہ آرہا ہے، زور زور سے دھکے مارو۔۔۔۔ آہ جانو بہت مزہ آرہا ہے۔۔۔۔۔۔ جیسی آوازیں نکال رہی تھی۔ عفت سمجھ گئی کہ اب نادیہ سیکس کو انجوائے کر رہی ہے جس طرح کچھ دیر پہلے عفت کر رہی تھی۔ پھر اچانک ہی آوازیں آنا بند ہوگئیں۔ عفت نے کچھ دیر مزید انتظار کیا مگر اب دوسری طرف سے کوئی آواز نہیں آرہی تھی۔

پھر عفت واپس اپنے بستر پر جا کر لیٹنے لگی تو اسکی نظر اس سفید چادر پر پڑی جو اس نے چودائی سے پہلے اپنے نیچے بچھائی تھی۔ اس پر سرخ رنگ کے نشان تھے۔ عفت ان سرخ نشانوں کو دیکھتے ہی اپنی شلوار اتار کر اپنی چوت کو دیکھنے لگی۔ وہاں اب خون کا کوئی نشان نہیں تھا۔ پھر عفت نے وہ چادر اٹھائی اور اٹیچ باتھ روم میں لیجا کر ایک خانے میں رکھ دی اور خود بستر پر آکر لیٹ گئی اور دانش کی سلامتی کی دعائیں مانگنے لگی۔ دعا مانگتے مانگتے نجانے اسکی کب آنکھ لگ گئی۔

صبح 12 بجے کے قریب اسکی آنکھ کھلی تو اسکو گھر میں تھوڑی چہل پہل محسوس ہوئی۔ ابھی وہ بستر سے اٹھ کر بیٹھی ہی تھی کہ اسکے کمرے کا دروازہ ناک ہوا۔ عفت نے فورا اٹھ کر اپنا دوپٹہ لیا اور کمرے کا دروازہ کھولا تو سامنے اسکی ساس کھڑی تھیں۔ انہوں نے عفت کو پیار کیا اور بولیں بیٹا گھر میں مہمان آئے ہوئے ہیں تم تیار ہوکر تھوڑی دیر تک باہر آجاو۔ یہ کہ کر وہ باہر چلی گئیں اور عفت تیار ہونے لگی۔ ایک گھنٹے کے بعد عفت جب اپنے کمرے سے نکلی تو اس نے بلیک کلر کی ساڑھی زیب تن کر رکھی تھی۔ بلاوز کی لمبائی کچھ زیادہ نہ تھی، عفت کی ساڑھی کا بلیک بلاوز ناف یعنی بیلی بٹن سے کچھ اوپر ختم ہو رہا تھا۔ نیچے اسکا پیٹ اور کمر کا کچھ حصہ نظر آرہا تھا اور اسکے نیچے ساڑھی کا نیچے والا حصہ تھا۔ باریک پلو اسکے پیٹ سے ہوتا ہوا سینے کے ابھاروں کو چھوتا ہوا بائیں کندھے کے اوپر سے گھوم کر دائیں بازو پر آرہا تھا۔ اسکے ساتھ ہلکے رنگ کا میک اپ عفت کی خوبصورتی کو چار چاند لگا رہا تھا۔

عفت باہر آئی تو باری باری تمام مہمانوں سے ملی۔ عمیر کی دلہن نادیہ بھی وہیں موجود تھی وہ بھی خاصی تیار ہو کر نکلی تھی۔ عفت نادیہ سے گلے ملنے کے بعد عمیر سے ہاتھ ملا کر ایک صوفے پر بیٹھ گئی جہاں باقی مہمان بھی بیٹھے تھے۔ کچھ نے دانش کے بارے میں معلوم کرنا چاہا تو عفت نے انہیں بتایا کہ وہ کچھ نہیں جانتی انسے کوئی رابطہ نہیں ہوسکا۔ وہ اپنا موبائل بھی گھر چھوڑ گئے ہیں۔ جبکہ کچھ مہمانوں نے عفت کو تسلی دی کہ بیٹا فکر نہیں کرو وہ جلد ہی آجائے گا۔ سب مہمان باتوں میں مشغول ہوگئے تو عفت وہاں سے اٹھی اور عمیر کو اپنے پیچھے آنے کا اشارہ کیا۔

بڑی بھابھی کا اشارہ پا کر عمیر عفت کے پیچھے چل پڑا۔ عفت اپنے کمرے میں جا کر بیڈ پر بیٹھ چکی تھی۔ عمیر بھی کمرے میں آیا اور بولا جی بھابھی بتائیں کیا بات ہے؟ عفت روہانسی سی شکل بنا کر بولی عمیر بھائی پلیز کسی طرح دانش کا پتا لگاو وہ کہاں ہیں مجھے بہت فکر ہو رہی ہے انکی۔ عمیر نے بھابھی کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر ہلکا سا دبایا اور تسلی دیتے ہوئے بولا عفت بھابھی آپ فکر نہ کریں دانش بھائی بالکل خیریت سے ہونگے۔ میں نے صبح ہی انکے آفس سے پتا کیا ہے تو وہاں سے مجھے بتایا گیا کہ انکو ایک سپیشل مشن پر بھیجا گیا ہے جو بہت ضروری تھا۔ انہیں بس ایک شخص کی مخبری کرنی ہے اسکے بعد وہ واپس آجائیں گے۔ یہ سن کر عفت بولی کہ آج آجائیں گے نا وہ واپس؟ رات کو ولیمے کی دعوت بھی ہے۔ ؟؟؟ عمیر بولا کہ بھابھی آج کا تو میں کچھ نہیں کہ سکتا بس انکے آفس سے اتنا ہی پتا لگا ہے کہ وہ جلد آجائیں گے۔ آپ فکر نہ کریں باہر باقی مہمانوں کے ساتھ آکر بیٹھ جائیں آپکا دل لگا رہے گا۔

یہ کہ کر عمیر کمرے سے نکل گیا۔ کچھ ہی دیر بعد عفت نے بھی اپنی بھیگی آنکھوں کو صاف کیا میک اپ کا ایک ٹچ دیکر باہر مہمانوں کے پاس جا کر بیٹھ گئی۔ دانش کی بہنیں فوزیہ اور پنکی بھی وہیں موجود تھیں جبکہ شام تک عفت کی کچھ کالج کی فرینڈز بھی آچکی تھیں۔ کالج کی فرینڈز کو لیکر عفت اپنے کمرے میں آگئی۔ کمرے میں آتے ہی عفت کی دوستوں نے عفت کو گھیر لیا اور اس سے پوچھنے لگی کہ دانش بھائی کے ساتھ رات کیسی گزری؟ جس پر عفت نے تھوڑا شرماتے ہوئے اور تھوڑا اٹھلاتے ہوئے انہیں اپنا منہ دکھائی کا تحفہ بھی دکھایا اور دبے الفاظ میں اپنا کنوارہ پن ختم ہونے کا بھی بتایا۔ عفت کی ایک دوست جو زیادہ ہی منہ پھٹ تھی وہ بولی تجھے بھی فارغ کروایا دانش بھائی نے یا خود ہی 2 منٹ میں فارغ ہوکر سائیڈ پر ہوگئے؟؟ اس پر عفت نے بڑے غرور سے کہا انہیں واپس تو آنے دے تجھے بھی وہ ۵ بار فارغ کروا دیں گے۔ اس پر تمام دوستیں کھلکھلا کر ہنس پڑیں۔

یونہی وقت گزرتا گیا، دعوتِ ولیمہ کا فنکشن بھی ہوگیا، عفت نے دلہن کی بجائے گھر کی بہو کی حیثیت سے دعوت میں شرکت کی کیونکہ شوہر کے بنا دلہن بن کر ولیمہ کی دعوت میں بیٹھنا کسی طور بھی مناسب نہیں تھا جبکہ عمیر اور اسکی دلہن نادیہ نے دلہا دلن کی حیثیت سے ولیمہ اٹینڈ کیا۔

3 دن گزر چکے تھے مگر دانش کا ابھی تک کچھ پتہ نہیں چلا تھا۔ فوزیہ اپنے شوہر کے ساتھ واپس اپنے گھر جا چکی تھی جبکہ دانش کی چھوٹی بہن پنکی دانش کی غیر موجودگی میں عفت کے ساتھ ہی اسکے کمرے میں سوتی تھی۔ عفت اور پنکی دونوں رات کو نماز پڑھ کر دانش کی سلامتی کی خصوصی دعائیں مانگتی اور اسکے بعد بستر پر لیٹ کر لمبی لمبی باتیں کرتیں۔ پنکی اپنی عفت بھابھی کو حوصلہ دیتی اور اسے اپنے بھائی کی بہادری کے قصے بھی سناتی۔

عفت کی شادی کو اب پورے 7 دن ہوچکے تھے۔ مگر ابھی تک دانش کا کچھ پتا نہیں چلا تھا۔ عفت کے گھر والے ، عفت خود اور دانش کے گھر والے اب دانش کو لیکر کافی پریشان تھے۔ کیونکہ دانش کے آفس سے بھی کوئی تسلی بخش جواب نہیں مل رہا تھا۔ نہ ہی ابھی تک دانش نے گھر رابطہ کیا تحا۔ کرتا بھی کیسے وہ تو کرنل وشال کی قید میں تھا جہاں سے کبھی کوئی قیدی بچ کر نہیں نکل سکا تھا۔

عمیر کو بھی اپنے بھائی کی فکر تھی یہی وجہ تھی کہ اس نے اپنا ہنی مون کا پلان بھی کینسل کر دیا تھا جو شادی کے 3 دن بعد کا تھا۔ اس پلان کے مطابق شادی کے 3دن بعد عمیر اور اسکی بیوی نادیہ اور دانش اور عفت نے ملکر مری جانے کا پوگرام بنایا تھا۔ مگر دانش کے نہ ہونے کی وجہ سے یہ پوگرام کینسل ہوگیا تھا۔

اس دوران عفت 3 دن کے لیے اپنے میکے سے بھی ہوآئی تھی۔ دوسری طرف عمیر کی بیوی نادیہ سے اب صبر نہیں ہورہا تھا۔ اس نے عمیر پر زور ڈالنا شروع کیا کہ اب انہیں ہنی مون کے لیے جانا ہی چاہیے۔ پہلے پہل تو عمیر نے اسے ڈانٹ دیا مگر پھر آخر کار اسے ماننا ہی پڑا۔ طے یہ پایا کہ عمیر، اسکی بیوی نادیہ، عفت اور عمیر کی بہن پنکی یہ چاروں لوگ مری جائیں گے۔ جب عفت کو اس پروگرام کا پتہ چلا تو اسنے فورا ہی منع کر دیا کہ اول تو وہ دانش کے بغیر نہیں جائے گی، دوسری بات یہ عمیر کا ہنی مون ٹرپ ہے لہذا اس میں وہ اپنی بیوی کے ساتھ ہی جائے۔ اگر دانش ہوتے تو بات اور تھی مگر یوں اس طرح دانش کے بغیر ہنی مون ٹرپ پر عفت کا اکیلے جانا ٹھیک نہیں۔ مگر دانش کی عدم موجودگی سے پنکی کو جو موقع ملا تھا مری کی سیر کرنے کا وہ اسکو ضائع نہیں کرنا لہذا وہ عفت کی منتیں کرنے لگ گئی کہ بھابھی اگر آپ نہیں جائیں گی تو عمیر بھائی مجھے بھی نہیں لیکر جائیں گے۔ اور اگر آپ جائیں گی تو ساتھ میں بھی جا سکتی ہوں۔

عفت نے پنکی کو سمجھانا چاہا کہ دانش کی غیر موجودگی میں اسکا بالکل دل نہیں کر رہا وہ ایسے نہیں جا سکتی۔ اگر دانش کی کوئی خیر خبر ہی مل جاتی تو شاید وہ چلی بھی جاتی۔ مگر اب نہیں جا سکتی۔ لیکن پنکی کہاں ٹلنے والی تھی۔ حالانکہ پنکی عمر میں عفت سے ایک سال بڑی تھی مگر رشتے میں عفت نہ صرف پنکی سے بڑی تھی بلکہ عمیر سے بھی بڑی تھی۔ لہذا پنکی عفت کے سامنے ایسے ہی ضد کر نے لگی جیسے وہ اپنے بڑے بھائی دانش کے سامنے بچی بن کر ضد کرتی تھی۔ گھر میں سب سے چھوٹی ہونے کی وجہ سے پنکی میں بچپنہ بھی کافی تھا۔ عفت نے پنکی کو یہ بھی سمجھانا چاہا کہ عمیر اپنی بیوی کے ساتھ ہنی مون پر جانا چاہتا ہے ہم وہاں کباب میں ہڈی ہونگے تو پنکی فورا بولی کہ ہم علیحدہ روم میں رہیں گے وہ دونوں علیحدہ میں اب اور کوئی بہانہ نہیں بس آپ چلنے کی تیاری کریں۔ آخر کار عفت کو پنکی کی ضد کے آگے ہار ماننی پڑی۔ شادی کے 10 دن بعد عمیر، نادیہ ، عفت اور پنکی ہنی مون ٹرپ پر مری جا رہے تھے ۔ نادیہ اور پنکی تو بہت خوش تھے ، جبکہ عفت کا بالکل بھی دل نہیں لگ رہا تھا دانش کے بغیر دوسری طرف عمیر بھی قدرے شرمندہ تھا اپنی بھابھی کے سامنے ، اسکو احساس تھا کہ دانش کی غیر موجودگی میں اسے اپنا ہنی مون ٹرپ
پلان نہیں کرنا چاہیے تھا مگر کیا کرتا بیوی کی ضد کے سامنے اسکی ایک نہیں چلی تھی۔

================================================== ===========================================

دانش کی آنکھ کھلی تو اب کی بار وہ پہلے سے نسبتا چھوٹے کمرے میں قید تھا۔ اور اس بار نائلون کی رسی کی بجائے اسکے ہاتھ لوہے کے راڈز کے ساتھ جکڑے ہوئے تھے۔ دانش کو ایک دیوار کے ساتھ سیدھا کھڑا کیا گیا تھا اسکے ہاتھ سر سے اوپر دیوار کے ساتھ لگے ہوئے لوہے کے راڈز کے ساتھ جکڑے ہوئے تھے جبکہ پاوں بھی اسی طرح کے لوہے کے گول راڈز کے ساتھ جکڑے گئے تھے۔ اب کی بار دانش اپنی جگہ سے ہل بھی نہیں سکتا تھا۔ اند راڈز کو دیکھ کر دانش نے پریشان ہونے کی بجائے کچھ سکھ کا سانس لیا۔ کیونکہ نائیلون کی رسی سے اپنے ہاتھ چھڑوانا اسکے لیے ممکن نہیں تھا کیونکہ اس کمرے میں ایسی کوئی چیز نہیں تھی کہ جس سے وہ اپنی رسی کاٹ سکتا ۔ جبکہ لوہے کے ان راڈز کو وہ کسی بھی لوہے کی پتلی پن سے با آسانی کھول سکتا تھا۔ اب مسئلہ صرف ایسی پن کا حصول تھا۔

دانش ابھی کمرے کا جائزہ ہی لے رہا تھا کہ کمرے کی لائٹس آن ہوگئیں۔ یہ ایک مکمل ٹارچر سیل تھا جس میں مختلف قسم کے آلات موجود تھے۔ ان آلات کو دانش نے پہلے بھی دیکھ رکھا تھا کیونکہ وہ بھی آخر پاکستان کی خفیہ تنظیم کا ایجینٹ تھا۔ کمرے کی لائٹس آن ہونے کے بعد کمرے کا دروازہ کھلا جو لوہے کی بھاری چادر سے بنا ہوا تھا اور بِنا کوڈ کے اسکو کھولنا ممکن نہ تھا۔ دروازے سے اس بار 2 مرد اور ایک لڑکی اندر آئے۔ دونوں مردوں کو چھوڑ کر میجر دانش نے لڑکی کا سرتا پا جائزہ لینا شروع کردیا۔ یہ لڑکی تھی ہی ایسی کہ جو بھی ایک بار دیکھ لے وہ اپنی نظریں ہٹانا بھول جائے۔ 22 سالہ سونیہا کو راء نے خاص طور پر ہائیر کیا تھا۔ سونیہا کی خاص بات اسکا جسم اور اسکے اتار چڑھاو تھے جو کسی بھی مرد کو دیوانہ بنا سکتے تھے۔ سونیہا کا استعمال اکثر دشمن سے مختلف راز اگلوانے کے لیے کیا جاتا تھا۔ سونیہا کسی بھی دشمن کو اپنے بستر پر لیجا کر اسے خوب مزہ دیتی تھی ، لیکن اس مزے کے ساتھ ساتھ اسکو خوب تڑپاتی بھی تھی اور باتوں ہی باتوں میں اس سے مختلف قسم کے راز اگلوا کر اپنے اعلی حکام تک پہنچاتی تھی۔

22 سال کی گرم جوانی میں اسکے سینے پر 36 سائز کے پہاڑ جیسے ممے سر اٹھائے کھڑے تھے اور 34 سائز کے باہر کو نکلے ہوئے اسکے چوتڑ کسی بھی بے جان لن میں جان ڈالنے کے لیے کافی تھے۔ 30 کی کمر کے ساتھ سونیہا ایک پٹاخہ لڑکی تھی ۔ سونیہا اب تک 3 سری لنکن، 2 بنگالی اور 5 پاکستانی فوجیوں کو اپنے بستر پر لیجا کر ان سے مختلف راز اگلوا چکی تھی۔ اور کرنل وشال اور راء کے دوسرے اعلی حکام سونیہا کی پرفارمنس سے بہت خوش تھے۔ سونیہا نے اس وقت ایک ٹائٹ پینٹ پہن رکھی تھی جس میں اسکے گوشت سے بھرے ہوئے پٹ اور 34 کے چوتڑ بہت سیکسی لگ رہے تھے۔ اوپر اس نے ایک چھوٹی سی شرٹ پہن رکھی تھی جو محض اسکے 36 سائز کے مموں کو چھپانے کا کام کر رہی تھی۔ پیٹ کا زیادہ تر حصہ ننگا تھا اسی طرح کمر کا پچھلا حصہ بھی زیادہ تر ننگا ہی تھا۔ کندھوں تک چھوٹے اور ہلکے بالوں کو اس نے پونی کی شکل دے کر سر کے پیچھے باندھ رکھا تھا۔

سونیہا نے جب میجر دانش کو یوں اپنا جائزہ لیتے ہوئے دیکھا تو اس نے ایک سیکسی سمائل پاس کی اور دل ہی دل میں بولی کہ یہ بھی گیا کام سے۔ سونیہا کے ساتھ آئے 2 مردوں نے میجر دانش کو مخاطت کیا اور کرخت لہجے میں بولے کہ تم کون ہو اور کرنل وشال تک کیسے پہنچے؟؟ میجر دانش نے سونیہا کے مموں سے نظریں ہٹائے بغیر جواب دیا میں ٹریفک کانسٹیبل افتخار ہوں تمہارا کرنل وشال شاہراہِ فیصل پر 130 کلومیٹر فی گھنٹا کی رفتار سے ہنڈا اکارڈ چلا رہا تھا اسی لیے میں اسکا پیچھا کرنے لگا اور جب مجھے پتا چلا کہ یہ دشمن ملک کا کرنل ہے تو میں نے اسکو پکڑنے کے لیے اسکی بوٹ تک اسکا پیچھا کیا۔ میجر دانش نے ایک ہی سانس میں جواب دیا۔ یہ جواب وہ تب سے سوچ بیٹھا تھا جب پہلے والے کمرے میں اس سے پوچھ گچھ شروع ہوئی تھی۔ میجر دانش نے جیسے ہی جواب ختم کیا ایک شخص نے دیوار کے ساتھ لگا ہوا لیور اوپر اٹھا دیا۔ لیور اوپر اٹھاتے ہی میجر دانش کو اپنا جسم کٹتا ہوا محسوس ہونے لگا۔ اسکے ہاتھوں اور پاوں میں سویاں چبھنے لگیں۔ یہ تکلیف نا قابلِ برداشت تھی۔ میجر کی آنکھیں سرخ ہوگئیں اور رنگ پھیکا پڑنے لگا۔


کچھ دیر کے بعد اس شخص نے لیور واپس نیچے کیا تو میجر دانش کو ایک جھٹکا لگا اور پھر آہستہ آہستہ اسکے جسم کو سکون ملنے لگا۔ اب کی بار سونیہا میجر دانش کے قریب آئی اور اسکے چہرے پر اپنے ہاتھ پھیرنے لگی، میجر دانش اپنی ساری تکلیف بھول کر سونیہا کو ایسے دیکھنے لگا جیسے ابھی آنکھوں ہی آنکھوں میں اسکی چدائی کر ڈالے گا۔ سونیہا بڑے ہی پیار سے بولی دیکھ میری جان یہ دونوں کمینے بہت ظالم ہیں۔ اگر تم انکو سچ نہیں بتاو گے تو یہ تمہاری بوٹی بوٹی کر دیں گے۔ لہذا بہتری اسی میں ہے کہ ان لوگوں کو سچ بتا دو۔ یہ کہ کر سونیہا پیچھے ہوگئی مگر میجر دانش کی نظریں اسکے مموں سے ہٹنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھیں۔ شارٹ بلاوز میں اسکے مموں کا ابھار بہت ہی سیکسی لگ رہا تھا۔

اب کی بار پھر سے ایک کرخت آواز آئی سچ سچ بتاو تم کون ہو اور کرنل وشال کا پیچھا کیوں کر رہے ہو؟ میجر دانش کی زبان ایک بار پھر چل پڑی: میں ٹریفک کانسٹیبل افتخار ہوں تمہارا کرنل وشال شاہراۃی فیصل پر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ایک بار پھر میجر دانش کے جسم میں کرنٹ دوڑ گیا اور اسکو اپنے ہاتھ اور پاوں میں وہی سوئیاں چبھتی محسوس ہوئیں اور اسکا رنگ زرد ہوگیا۔ کچھ دیر بعد لیور کو نیچے کیا گیا تو میجر کی حالت کچھ سنبھلی۔ اب کی بار پھر سے سونیہا میجر کے قریب آئی اور اسکے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھتی ہوئی بولی بتادے میر ی جان، ان لوگوں کو سب کچھ سچ سچ بتا دے۔ ورنہ یہ تجھے نہیں چھوڑیں گے۔ سونیہا کے خاموش ہوتے ہی میجر دانش نے اپنے ہونٹوں سے سونیہا کے رسیلے ہونٹ چوس ڈالے۔ میجر نے ایسی کمال کی پپی لی تھی سونیہا کی کہ ایک لمحے کے لیے تو وہ بھول ہی گئی کہ وہ دشمن ملک کے خفیہ ایجینٹ کے سامنے کھڑی ہے۔ میجر دانش نے سونیہا کے ہونٹوں کو چھوڑا اور بولا جانِ من تمہاری اس گرم جوانی کی قسم جو کہ رہا ہوں سچ کہ رہا ہوں۔ اگر انکو میری بات پر یقین نہیں آتا تو یہ بتا دیں انکو کیا جواب چاہیے۔ جو یہ کہیں گے میں وہی لفظ بہ لفظ دہرا دوں گا۔

اس پر دوسرا شخص بولا مان جا کہ تو آئی ایس آئی کا ایجینٹ ہے۔ میجر دانش نے کہا ہاں میں آئی ایس آئی کا ایجینٹ ہوں۔ اس پر دوسرا شخص بولا اور تجھے میجر جنرل اشفاق نے کرنل وشال کا پیچھا کرنے کے لیے بھیجا تھا۔ دانش بولا ہاں مجھے میجر جنرل اشفاق نے کرنل وشال کا پیچھا کرنے بھیجا تھا۔ پہلا شخص غریا اور بولا اب بتا کہ کیوں کر رہا تھا تو کرنل وشال کا پیچھا؟؟؟ اس پر میجر دانش بولا تم ہی بتاو نہ کہ میں نے کیا کہنا ہے۔ جیسا تم کہو گے ویسے ہی میں دہراوں گا۔ ایک زناٹے دار تھپڑ سے میجر دانش کا گال لال ہوگیا اور وہ شخص پھر سے غرایا حرامزادے۔۔۔۔ سچ سچ بول تو کون ہے اور کرنل وشال کا پیچھا کیوں کر رہا تھا۔

میں ٹریفک کانسٹیبل افتخار ہوں تمہارا کرنل وشال ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ایک بار پھر میجر دانش کا رنگ زرد ہوگیا۔ وہی کرنٹ اسکے جسم میں دوبارہ سے چھوڑا گیا تھا۔ اب کی بار میجر کو اپنی جان نکلتی ہوئی محسوس ہوئی اور اسکی آنکھیں بند ہونے لگیں۔ بے ہوش ہونے سے پہلے جو آخری چیز میجر دانش کی آنکھوں کے سامنے تھی وہ سونیہا کے ممے تھے ۔

================================================== ==============================================

User avatar
sexi munda
Gold Member
Posts: 807
Joined: 12 Jun 2016 12:43

Re: وطن کا سپاہی

Post by sexi munda » 29 Oct 2017 13:33


رات کے 12 بجے عمیر باقی لوگوں کے ہمراہ مری پہنچ چکا تھا۔ وہاں پہنچتے ہی آرمی ہٹ میں عمیر اور نادیہ اپنے کمرے میں چلے گئے جبکہ عفت اور پنکی دوسرے روم میں چلے گئے۔ میجر دانش کی وجہ سے عمیر کی پہلے سے ہی ایک خوبصورت آرمی ہٹ میں بکنگ تھی۔ کراچی سے فلائٹ کے ذریعے اسلام آباد اور پھر آگے سے ٹیکسی میں مری تک کے سفر نے سب کو تھکا دیا تھا۔ بٹ مین نے سارا سامان عمیر کے کہنے کے مطابق مناسب کمروں میں رکھ دیا تھا۔ تھوڑی دیر بعد بٹ میں نے پہلے عمیر اور پھر عفت کا کمرہ کھٹکھٹایا اور اور انہیں کھانے کے لیے ڈائنگ ٹیبل پر آنے کا کہا۔ کچھ ہی دیر میں سب لوگ کھانے سے فارغ ہو چکے تو تھکاوٹ کی وجہ سے اپنے اپنے کمروں میں چلے گئے۔ عفت اور پنکی اپنے کمرے میں گئے جبکہ نادیہ اور عمیر اپنے روم میں چلے گئے۔ عمیر کے روم میں ایک کھڑکی تھی جسکے پیچھے مری کے پہاڑ اور درخت ہی درخت ہی درخت تھے۔ رات کے اس پہر میں یہ منظر خاصہ خوفناک لگ رہا تھا مگر عمیر جانتا تھا کہ آرمی کے انڈر ہونے کی وجہ سے یہ محفوظ علاقہ ہے۔ نادیہ نے کمرے میں جاتے ہی اس کھڑکی کے پردے گرا دیے اور واش روم چلی گئی۔

عمیر نے کمرے کی لائٹس آف کیں اور ایک زیرو کا بلب جلتا رہنے دیا۔ وہ بہت تھک چکا تھا اور اب کچھ سونا چاہتا تھا۔ اپنے بوٹ اور کوٹ اتار کر ابھی وہ کمبل میں گھسنے ہی لگا تھا کہ واش روم کا دروازہ کھلا اور نادیہ باہر آئی۔ نادیہ پر نظر پڑتے ہی عمیر اپنی نظریں ہٹانا بھول گیا تھا۔ پِنک کلر کی شارٹ نائٹی میں نادیہ اس وقت کوئی سیکس کوئین لگ رہی تھی۔ گہرے گلے والی نائٹی میں نادیہ کے 38 سائز کے مموں کا ابھار بہت واضح نظر آرہا تھا۔ کسے ہوئے سخت ممے آپس میں جڑے ہوئے تھے اور انکے درمیان بننے والی کلیویج لائن کسی بھی مرد کو پاگل کر دینے کے لیے کافی تھی۔ نائٹی بمشکل نادیہ کے 34 سائز کے چوتڑوں ڈھانپ رہی تھی۔ نیچے نادیہ نے ایک جی سٹرنگ پینٹی پہن رکھی تھی جس نے سامنے سے نادیہ کی چوت کو ڈھانپ رکھا تھا جبکہ پیچھے سے نادیہ کے چوتڑوں کو ڈھانپنے کے لیے پینٹی موجود ہی نہیں تھی۔ پیچھے کی سائیڈ پر محض پینٹی کی ایک سٹرنگ تھی جو نادیہ کے 34 سائز کے گوشت سے بھرے ہوئے چوتڑوں کی لائن میں گم ہوگئی تھی۔

نادیہ نے مدہوش نظروں سے عمیر کو دیکھا اور ایک قاتل انگڑائی لی جس سے نادیہ کی شارٹ نائٹی اور اوپر اٹھ گئی اور اسکی جی سٹرنگ پینٹی واضح نظر آنے لگی۔ اسی طرح نادیہ نے منہ دوسری طرف کر لیا تو نائٹی اوپر اٹھی ہونے کی وجہ سے اسکے بھرے ہوئے چوتڑ بھی اپنا جلوہ دکھانے لگے۔ نادیہ کو اس حالت میں دیکھتے ہی عمیر کی پینٹ میں لن سر اٹھانے لگا اور مری میں نومبر کی سردی میں عمیر کے جسم میں آگ لگا دی۔

عمیر بیڈ سے اٹھا اور فورا نادیہ کے پاس پہنچ کر اسکو اپنی گود میں اٹھا لیا۔ گود میں اٹھایا تو نادیہ کے 38 سائز کے گول ممے عمیر کے چہرے کے سامنے آگئے جبکہ عمیر کے ہاتھ نادیہ کی ٹانگوں کے گرد تھے۔ نادیہ نے اپنی ٹانگیں پیچھے کی جانب فولڈ کر کے اوپر اٹھا لیں اور عمیر کو سر سے پکڑ کر اپنے سینے کے ساتھ لگا دیا۔ نادیہ کے سینے پر سر رکھتے ہی عمیر کو محسوس ہوا جیسے اسنے اپنا سر کسی نرم و گداز تکیے پر رکھ دیا ہو۔ عمیر نے اپنا سر اٹھایا اور نادیہ کی کلیویج لائن کو دیکھنے لگا پھر اس نے اپنے گرم گرم ہونٹ نادیہ کے مموں کے ابھاروں پر رکھد یے جو نائٹی سے باہر نظر آرہے تھے۔ عمیر دیوانہ وار نادیہ کے مموں کو پیار کرنے لگا۔ تھوڑی دیر بعد عمیر نے نادیہ کو بیڈ پر دھکا دیا اور خود اسکے اوپر گر کر اسکو دیوانہ وار چومنے لگا۔ عمیر کبھی نادیہ کے نرم ہونٹوں کا رس چوستا تو کبھی اسکی گردن کو دانتوں سے کھانے لگتا۔ کبھی اسکے ممے ہاتھ میں پکڑ کر زور سے دباتا تو کبھی نادیہ کے چوتڑوں کا گوشت ہاتھ میں لیکر انکو زور سے دباتا۔

نادیہ کی موٹی تھائیز پر پیار کرتے ہوئے عمیر انکی نرمی کا دیوانہ ہوا جا رہا تھا۔ وہ بڑے جوش کے ساتھ نادیہ کی تھائیز کو چوم رہا تھا اور پھر عمیر کے ہونٹ تھائیز سے ہوتے ہوئے نادیہ کی پینٹی تک پہنچ گئے جو اب تک کی کاروائی کے نتیجے میں خاصی گیلی ہو چکی تھی۔ نادیہ کی پینٹی سے آنے والی خوشبو نے عمیر کو مدہوش کر دیا تھا۔ عمیر نے اپنی زبان نکالی اور پینٹی کے گیلے حصے پر رکھ کر اسکو چاٹنے لگا۔ نادیہ نے اپنی دونوں ٹانگیں اٹھا کر عمیر کی گردن کے گرد لییٹ دیں اور اسکے سر کے بالوں میں اپنی انگلیاں پھیرنے لگی۔ جیسے جیسے عمیر نادیہ کی پینٹی پر اپنی زبان پھیر رہا تھا ویسے ویسے نادیہ کی آوچ، اف ، اف، آہ آہ آہ۔ آہ آہ ۔ ۔ اف۔ ۔ ۔ ام امم۔۔۔۔ مزہ آگیا جان، ، آہ ، کھاجاو اسکو تمہاری ہے یہ، ، آوچ جیسی آوازیں بلند ہو رہی تھیں۔ تھوڑی دیر کے بعد عمیر نے نادیہ کی پینٹی اتار دی۔ پینٹی اتارتے ہی وہ نادیہ کی ہلکے گلابی رنگ کی چوت پر ٹوٹ پڑا۔ نادیہ کی چوت محض 10 دن پہلے ہی پہلی بار پھٹی تھی اسی لیے ابھی تک اسکی چوت کے لب آپس میں ملے ہوئے تھے۔ جب پر عمیر کی زبان بڑی تیزی کے ساتھ چل رہی تھی۔ نادیہ نے مری آنے سے پہلے خاص طور پر اپنی چوت کی صفائی کی تھی۔ اسکا پہلے سے پروگرام تھا کہ مری جاتے ہی وہاں کی سخت سردی میں عمیر کے گرما گرم لن سے اپنی چوت کی پیاس بجھانی ہے۔ کچھ ہی دیر کے بعد عمیرا کی زبان کی رگڑائی کی وجہ سے نادیہ کی چوت نے پانی چھوڑ دیا۔

اس سخت سردی میں بھی نادیہ کی چوت نے بہت گرم پانی چھوڑا تھا جس سے عمیر کا چہرہ بھر گیا تھا۔ اسکے بعد نادیہ نے پاس پڑے ٹشو باکس میں سے ٹشو نکال کر دانش کا چہر صاف کیا اور اسکو چومنے لگی۔ پھر نادیہ نے عمیر کی شرٹ کو گلے سے پکڑا اور ایک ہی جھٹکا مار، عمیر کی شرٹ کھلتی چلی گئی اسکی شرٹ کے بٹن ٹوٹ چکے تھے اور نادیہ نے بغیر انتظار کیے اسکی شرٹ اتارنے کے بعد اسکی بنیان بھی ایک ہی جھٹکے میں اتار دی اور اسکے سینے پر دیوانہ وار پیار کرنے لگی۔ وہ کسی جنگلی بلی کی طرح عمیر پر ٹوٹ پڑی تھی۔ گوکہ شادی کے بعد عمیر اسکو 5، 6 بار چود چکا تھا مگر ایسی دیوانگی عمیر نے ابھی تک نہیں دیکھی تھی۔ عمیر کو نادیہ کی یہ دیوانگی اور جنگلی پن بہت اچھا لگ رہا تھا۔ نادیہ اپنے ہاتھ اور انگلیاں عمیر کی کمر پر پھیر رہی تھی اسکے ناخن عمیر کی کمر پر اپنے نشان چھوڑ رہے تھے جس سے عمیر کی دیوانگی بھی بڑھتی جا رہی تھی۔ پھر نادیہ نے عمیر کو بیڈ پر دھکا دیا اور اسکی پینٹ کی بیلٹ کھولنے کے بعد زِپ کھولی اور اسکی پینٹ کو گھٹنوں تک نیچے اتار دیا۔

مذی کے نکلنے والے قطروں کی وجہ سے عمیر کا انڈر وئیر گیلا ہوچکا تھا عمیر کی طرح نادیہ نے بھی اپنی زبان عمیر کے گیلے انڈر وئیر پر رکھ دی اور اسکی منی کی مہک سے اپنے آپ کو لطف اندوز کرنے لگی۔ کچھ دیر تک اسکا انڈر وئیر چاٹنے کے بعد اب نادیہ نے عمیر کا انڈروئیر بھی اتار دیا اور پینٹ بھی اتار دی تھی۔ عمیر اب مکمل ننگا تھا اور اسکا 7 انچ کا لن نادیہ کے ہاتھ میں تھا جسکو وہ کسی لالی پاپ کی طرح چوسنے میں مصروف تھی۔ عمیر کی ٹوپی سے نکلنے والا پانی نادیہ اپنی زبان سے چاٹتی اور پھر اس پر تھوک کا گولا بنا کر گراتی اور اپنے ہاتھوں سے اسکو پورے لن پر مسل دیتی۔ اسکے بعد دوبارہ سے عمیرکے لن کی ٹوپی کو اپنے منہ میں ڈالتی اور عمیر کا لن پھسلتا ہوا اپنی جڑ تک نادیہ کےمنہ میں چلا جاتا۔ نادیہ کے منہ کی گرمی عمیر کے لن کو بہت مزہ دے رہی تھی۔ نادیہ بہت ہی مزے کے ساتھ عمیر کے لن کے چوپے لگا رہی تھی۔

کچھ دیر کے چوپوں کے بعد عمیر کے لن کی موٹائی تھوڑی بڑھی اور اسکی نسیں واضح ہونے لگیں۔ نادیہ سمجھ گئی کہ اسکا لن منی اگلنے والا ہے مگر آج تو نادیہ اپنے آپ میں نہیں تھی اس نے بغیر اس کی پرواہ کیے عمیر کے لن کے چوپے لگانا جاری رکھے اور آخر کار عمیر نے اپنی ساری منی نادیہ کے منہ میں ہی نکال دی جسکا آخری قطرہ تک نادیہ نے اپنے حلق سے نیچے اتار لیا۔ جب عمیر اپنی ساری منی نکال چکا تو نادیہ نے اپنی زبان سے اسکے لن پر لگی ہوئی منی بھی چاٹ لی اور پھر اپنے ہونٹوں پر زبان پھیر کر اسکے مزے لینے لگی۔

اب عمیر کا لن تھوڑا مرجھا گیا تھا۔ اب عمیر اٹھا اور نادیہ کی نائٹی اتار دی۔ نادیہ نے نیچے برا پہننے کی زحمت نہیں کی تھی۔ اسکے 38 سائز کے ہیوی ممے عمیر کے ہاتھوں میں تھے جن پر وہ اپنی زبان پھیر رہا تھا۔ نادیہ نے عمیر کا ایک ہاتھ پکڑ کر اپنی چوت پر رکھا اور دوسرا ہاتھ مموں پر ہی رہنے دیا، عمیر اب ایک ہاتھ سے اسکا دایاں مما دبا رہا تھا جبکہ دوسرے ہاتھ سے اسکی چوت میں انگلی پھیر رہا تھا اور نادیہ کا بایاں مما عمیر کے منہ میں تھا جسکا نپل عمیر مسلسل چوس رہا تھا اور نادیہ اف۔ آہ آوچ کی آوازیں نکال رہی تھی۔ نادیہ آج بلا خوف و خطر اپنی سسکیاں لے رہی تھی اور اج کی رات کا سیکس انجوائے کر رہی تھی۔

گو کہ نادیہ کی سسکیاں گھر میں بھی عفت کو سنائی دیتی تھیں مگر وہاں نادیہ کافی حد تک کنٹرول کرتی تھی مگر کمرہ ساتھ ساتھ ہونے کی وجہ سے کچھ نہ کچھ سسکیاں ساتھ والے کمرے میں بھی سنائی دے رہی تھیں۔ مگر آج تو نادیہ کو کسی چیز کا ہوش نہیں تھا۔ وہ بغیر کسی ڈر کے زور زور سے سسک رہی تھی۔ وہ جانتی تھی کہ عورت کی سسکیاں مرد کو جوش دلاتی ہیں اور وہ پھر جم کر چودائی کرتا ہے۔ اور ہو بھی ایسا ہی رہا تھا نادیہ کی سسکیوں کی ہی وجہ سے عمیر کا لن ایک بار پھر تن چکا تھا اور چوت میں جانے کے لیے تیار تھا۔ ایک کمرہ چھوڑ کر دوسرے کمرے میں لیٹی عفت بھی نادیہ کی سسکیاں سن رہی تھی جبکہ پنکی کمرے میں پہنچتے ہی سو گئی تھی۔ نادیہ کی سنائی دینے والی سسکیاں عفت کو شدت سے دانش کی یاد دلا رہی تھیں۔ دانش نے پہلی رات میں عفت کو اپنے 8 انچ کے لن سے جو مزہ دیا تھا عفت وہ مزہ ابھی تک نہیں بھولی تھی۔ اور نادیہ کی سسکیاں عفت کی چوت کو بھی گرم کر رہی تھیں۔

یہی وجہ تھی کہ ادھر نادیہ کی سسکیاں عمیر کے لن کو کھڑا کر چکی تھیں تو ادھر اسکی سسکیوں سے عفت اپنی چوت میں انگلی پھیر رہی تھی۔ عفت کی چوت آج بھی ایسی ہی تھی جیسے بالکل کنواری چوت ہوتی ہے۔ کیونکہ اس میں محض ایک بار ہی سہاگ رات والے دن لن گیا تھا۔

جب عمیر کا لن دوبارہ سے چودائی کے لیے تیار ہوا تو عمیر نے نادیہ کی ٹانگیں کھولنا چاہیں تاکہ وہ اسکی چوت میں اپنا لن اتار سکے۔ مگر نادیہ نے اسکو منع کر دیا اور عمیر کو لیٹنے کو کہا۔ عمیر لیٹ گیا تو نادیہ عمیر کے اوپر آئی اور اسکے لن کا ٹوپا اپنی چوت کے سوراخ پر فٹ کر کے ایک ہی جھٹکے میں اسکے لن پر بیٹھ گئی۔ عمیر کا لن نادیہ کی چوت کی دیواروں کے ساتھ رگڑ کھاتا ہوا اسکی چوت کی گہرائیوں تک اتر گیا اور بچہ دانی سے جا ٹکرایا جس پر نادیہ نے ایک زور دار سسکی بھری جس نے عفت کے کانوں میں گھس کر اسکی چوت میں مزید آگ لگا دی۔ ادھر نادیہ عمیر کے لن پر وحشیوں کی طرح سواری کر رہی تھی اور آوازیں نکال رہی تھی تو دوسرے کمرے میں عفت کی انگلی اب چوت میں پہلے سے زیادہ تیزی کے ساتھ اپنا کام کر رہی تھی۔

جب نادیہ عمیر کے لن پر اچھل اچھل کر تھک گئی تو عمیر نے اسے اپنے اوپر لٹا لیا اور نیچے سے اپنا لن پوری سپیڈ کے ساتھ نادیہ کی چوت میں چلانا شروع کیا۔ 5 منٹ کی چودائی کے بعد نادیہ کی پھدی میں سیلاب آگیا اور اسکی چوت کا سارا پانی عمیر کے ٹٹوں اور تھائز تک آگیا تھا۔ نادیہ نے بغیر انتظار کیے عمیر کی گود سے اتر کر ڈوگی سٹائل کی پوزیشن اختیار کر لی اور عمیر کو دعوت دی کہ وہ اب پیچھے سے آکر نادیہ کی چودائی کرے۔ عمیر نے بھی بغیر وقت ضائع کیے پیچھے سے آکر نادیہ کی چوت پر اپنا لن رکھا اور ایک ہی دھکے میں پورا لن جڑ تک نادیہ کی چوت میں اتار دیا۔ ایک بار پھر نادیہ کی ٹائٹ پھدی میں عمیر کا 7 انچ کا لن پکڑن پکڑائی کھیلنے لگا۔ جیسے ہی لن اندر کی طرف دھکا لگاتا چوت پوری طاقت کے ساتھ اسکو پکڑ لیتی جسکی وجہ سے پورا لن ایک لمحے کے لیے دب سا جاتا پھر لن اپنی طاقت سے چوت کی گرفت سے نکلتا اور چوت سے باہر نکل آتا صرف ٹوپہ ہی چوت کے اندر رہ جاتا، جہاں سے ایک بار پھر دھکا لگتا اور دوبارہ سے لن چوت کے اندر جاتا اور چوت دوبارہ سے اسکو پوری طاقت کے ساتھ پکڑ لیتی۔

نادیہ کا یہ روپ عمیر کے لیے بالکل نیا تھا۔ اسنے پہلے بھی بہت شدت سے نادیہ کو چودا تھا مگر نادیہ نے ایسا دیوانہ پن پہلے کبھی نہیں دکھایا تھا۔ پہلے نادیہ ڈوگی سٹائل میں چودائی کرواتے ہوئے تھوڑی تکلیف محسوس کرتی تھی مگر آج تو وہ خود اپنی گانڈ آگے پیچھے کر کے چودائی کا مزہ اٹھا رہی تھی۔ عمیر جیسے جیسے نادیہ کی چوت میں گھسے مار رہا تھا ویسے ہی ساتھ ساتھ اسکے چوتڑوں پر تھپڑ مار مار کر نادیہ کو اور زیادہ خوار کر رہا تھا سات میں چوتڑوں سے ٹکرانے پر دھپ دھپ کی آوازیں کمرے کے ماحول کو بہت سیکسی بنا رہی تھیں۔ نادیہ کے 38 سائز کے ممے ہوا میں لٹکے ہوئے تھے جو ہر دھکے کے ساتھ آگے کو ہلتے اور جب لن باہر نکلتا تو ممے بھی واپس پیچھے کی طرف جھولتے۔ جب چوتڑوں پر ہاتھ مار مار کر نادیہ کے چوتڑ لال ہوگئے تو عمیر نے آگے جھک کر نادیہ کے ممے پکڑ لیے، اب عمیر کے پاس زیادہ گیپ نہیں تھا وہ لن کو زیادہ باہر نہیں نکال پا رہا تھا۔ مگر اب اسکے دھکے پہلے کی نسبت زیادہ رفتار سے لگ رہیے تھے، عمیر کا آدھا لن پھدی سے باہر نکلتا اور ایک زور دار دھکے کے ساتھ واپس پھدی کی گہرائیوں سے جا کر ٹکراتا۔

اب نادیہ نے اپنا اگلا حصہ اوپر اٹھا لیا تھا۔ گو کہ وہ اب بھی ایک طرح سے ڈوگی سٹائل میں ہی چدائی کروا رہی تھی کیونکہ عمیر پیچھے سے ہی اسکی چوت میں لن ڈالے اسکو چود رہا تھا مگر اسنے اپنا اگلا دھڑ اٹھا لیا تھا اور گھٹنوں کے بل کھڑی ہوگئی تھی جبکہ اسکی گانڈ باہر نکلی ہوئی تھی کیونکہ لن کو چوت تک کا راستہ چاہیے تھا۔ نادیہ کی کمر عمیر کے سینے سے جڑی ہوئی تھی اور گانڈ باہر نکل کر عمیر کے زیرِ ناف حصے سے ٹکراتی تھی جبکہ لن مسلسل نادیہ کی چوت کی کھدائی کر رہا تھا۔ اس پوزیشن میں نادیہ کی سسکیاں چیخوں میں تبدیل ہو چکی تھیں عمیر نے اسے آواز ہلکی رکھنے کو کہا مگر نادیہ اس وقت اپنے آپ میں نہیں تھی اس پر چودائی کا بھوت سوار تھا اور وہ اپنی ہنی مون کی پہلی رات کو یادگار بنانا چاہتی تھی۔ وہ عمیر کے طوفانی دھکوں کو کافی دیر سے برداشت کر رہی تھی ساتھ ساتھ اپنی چوت کو اپنی انگلی سے بھی سہلا رہی تھی۔ تھوڑی دیر کے بعد ایک بار پھر نادیہ کی چوت نے پانی چھوڑی دیا جو فوارے کی شکل میں بیڈ شیٹ پر گرتا چلا گیا۔ مگر نادیہ کی خواری اور پانی کے پریشر کی وجہ سے نادیہ کی چوت کا پانی نا صرف بیڈ شیت پر بالکہ کچھ قطرے بیڈ کی دوسری طرف فرش پر بھی جا گرے۔

دوسرے کمرے میں عفت کا چہرہ سرخ ہورہا تھا اسکو اس وقت دانش کے لن کی طلب محسوس ہورہی تھی مگر وہ صرف اپنی انگلی ہی اپنی چوت میں چلا رہی تھی۔ اسکی چوت اس وقت نادیہ کی سسکیاں سن سن کر کافی گیلی ہو چکی تھی جبکہ عفت کا دوسرا ہاتھ اسکے مموں پر تھا اور وہ اپنا مما زور زور سے دبا رہی تھی۔

نادیہ اب تیسرے راونڈ کے لیے تیار تھی جبکہ عمیر کے لن نے ابھی تک پانی نہیں چھوڑا تھا۔ نادیہ اب بست پر لیٹ گئی اور خود ہی اپنی ٹانگیں کھول کر عمیر کو درمیان میں بیٹھنے کی دعوت دی، عمیر نے نادیہ کی ٹانگیں پکڑ کر مزید کھولیں اور اسکے درمیان بیٹھ کر اپنے لن کی ٹوپی نادیہ کی چوت کے سر پر رکھ کر ایک ہی جھٹکے میں لن اسکی چوت کے اندر داخل کر دیا۔ اب عمیر کا لن بڑے سکون سے نادیہ کی چوت کو چود رہا تھا اور نادیہ اپنے مموں کو اپنے ہاتھوں میں پکڑ کر انکو دبا دبا کر مزید خواری کا اظہار کر رہی تھی۔ اسکی آنکھوں میں لال ڈورے تھے اور وہ عمیر کو تعریفی نظروں سے دیکھ رہی تھی اور اسکو مزید اکسا رہی تھی کہ وہ مزید طاقت کے ساتھ اسکی چوت کی چودائی کرے۔

5 منٹ کی مزید چودائی نے نادیہ کی چوت کو لال کر دیا تھا اب عمیر کے طاقتور لن کے سامنے اسکو اپنی چوت ہار مانتی نظر آرہی تھی اور اسکی ہمت جواب دے رہی تھی، عمیر کے دھکے بھی پہلے کی نسبت طوفانی ہوتے جا رہے تھے اور کچھ ہی دیر بعد وہ تینوں اکٹھے ہی اپنا اپنا پانی نکالنے لگے۔ نادیہ اور عمیر کا پانی نادیہ کی چوت میں ہی مل گیا جبکہ عفت کی چوت کا پانی اسکی شلوار کے اندر ہی بہتا رہا۔ نادیہ اور عفت دونوں نے چوت کا پانی نکلتے ہوئے سسکیاں لیں اور عمیر بھی اپنا پانی نکالنے کے بعد نادیہ کے اوپر گر گیا۔

نادیہ اب پیار سے عمیر کو چوم رہی تھی اور اسکی تعریف کر رہی تھی کہ اسنے آج بہت مزہ دیا۔ جب کہ عمیر بھی نادیہ کے وحشی پن سے بہت خوش تھا۔ اسے نہیں معلوم تھا کہ اسکی بیوی میں اتنی آگ بھری ہوئی ہے ورنہ وہ شادی کے تیسرے دن ہی اسکو ہنی مون پر لا کر خوب چودتا۔ کچھ دیر بعد عمیر اور نادیہ ایک دوسرے کے سینے سے لگے سو چکے تھے۔ وہ ننگے ہی بغیر کپڑے پہنے سوگئے تھے۔ پہلے سفر کی تھکاوٹ اور پھر نادیہ کے وحشی پن کی وجہ سے زبردست چودائی نے دونوں کو خوب تھکا دیا تھا۔ دوسری طرف عفت بھی چوت کا پانی نکلنے کے بعد کچھ پرسکون ہوئی تھی اور دانش کا لن یاد کرتے کرتے سو گئی۔

==================================================


اب کی بار میجر دانش کی آنکھ کھلی تو حسن کی دیوی سونیہا اپنے تمام تر حسن کے ساتھ اسکے سامنے کھڑی تھی۔ اب بھی وہ ٹائٹ پینٹ میں شارٹ بلاوز کے ساتھ اپنے مموں کا جلوہ میجر دانش کو دکھا رہی تھی۔ دانش کے ہوش میں آتے ہی اسکا لن بھی ہوش میں آنے لگا تھا کیونکہ سونیہا کے ممے اور اسکی موٹی گانڈ کے سامنے کوئی بھی لن سوجائے ایسا ممکن نہیں تھا۔ سونیہا کے ہاتھ میں کھانے کی پلیٹ تھی ۔ اس نے اپنے ہاتھ سے نوالہ توڑا اور میجر دانش کو کھلانے لگا جو اس نے بڑے ہی پیار سے کھا لیا۔ اسی طرح سنیہا نے سارا کھانا میجر دانش کو کھلا دیا۔ بھوک کی وجہ سے اسکا برا حال تھا۔ اوپر سے بجلی کے جھٹکوں نے بھی اسے نڈھال کر دیا تھا اسے طاقت کی ضروت تھی جو اس کھانے سے پوری ہوگئی تھی۔ میجر دانش کو کھانا کھلانے کے بعد سونیہا نے بالکل سیریس ہوتے ہوئے میجر دانش کو کہا دیکھو تم جو بھی ہو جہاں سے بھی آئے ہو ان لوگوں کو سب سچ سچ بتا دو، ورنہ یہ تمہارے ساتھ برا سلوک کریں گے۔ تم پہلے قیدی ہو جو مجھے پسند آئے ہو۔ تمہاری بہادری اور بے باکی نے میرا دل جیت لیا ہے۔ میں نے ہر قیدی کو ان لوگوں کے سامنے بلکتے اور سسکتے دیکھا ہے مگر تم پہلے قیدی ہو جو ان لوگوں کو خاطر میں لائے بغیر میرے سینے پر نظریں جمائے مزے لیتا رہا اور بجلی کے جھٹکی لگنے کے بعد بھی میں نے تمہاری آنکھوں میں خوف کا شائبہ تک نہیں دیکھا۔ لہذا ان لوگوں کو سب کچھ سچ سچ بتادو اسی میں تمہاری بہتری ہے۔

سونیہا کی یہ باتیں سن کر میجر دانش بولا تمہارا نام کیا ہے؟؟ سونیہا نے اپنا نام بتایا تو میجر دانش بولا میں نے بہت سی حسین لڑکیاں دیکھی ہیں مگر تم جیسی حسین و جمیل لڑکی میں نے آج تک نہیں دیکھی۔ تمہارے جسم کے ابھار مجھے پاگل کیے دے رہے ہیں۔ میجر دانش ابھی اور بھی بہت کچھ کہتا مگر سونیہا نے اسکی بات کاٹی اور بولی میں تمہیں کیا کہ رہی ہوں اور تمہیں عاشقی سوجھ رہی ہے۔ سونیہا نے ادھر ادھر دیکھا جیسے دیکھنا چاہ رہی ہو کہ کوئی آس پاس ہے یا نہیں۔۔۔ پھر میجر دانش کے کان کے قریب ہوکر بولی تم جانتے ہی ہوگے کہ جب تم نے ان لوگوں کو سب کچھ بتا دیا جو یہ جاننا چاہتے ہیں تو یہ تمہیں زندہ نہیں چھوڑیں گے، اور اگر مزید کچھ دن تم انہیں سچ نہیں بتاو گے تب بھی یہ تمہیں زندہ نہیں چھوڑیں گے۔ یہ ہر صورت میں تمہیں مار دیں گے۔ اور میرا استعمال بھی کریں گے تم سے سچ اگلوانے کے لیے۔

میں اپنے حسن سے مردوں کو پاگل کرتی ہوں اور جب انکو میری طلب حد سے زیادہ ہوتی ہے تو انہیں تڑپا تڑپا کر میں سب اگلوا لیتی ہوں۔ اور اسکے بعد یہ لوگ اسے مار دیتے ہیں۔ مگر تم مجھے پسند آئے ہو، تم انہیں سچ سچ بتاو جو یہ پوچھتے ہیں اسکے بعد میں تم سے وعدہ کرتی ہوں کہ میں تمہاری یہاں سے نکلنے میں مدد کروں گی۔ دانش نے اسکی یہ بات سنی تو حیران ہو کر بولا بھلا تم میری مدد کیوں کرو گی؟؟؟ سونیہا نے کہا کیونکہ تمہاری مردانگی مجھے پسند آگئی ہے۔ میں نے بہت سے کڑیل جوانوں کو اس قید خانے میں سسکتے اور بلکتے دیکھا ہے۔ مگر تم ان سب سے الگ ہو نڈر اور بے باک۔ اس لیے میں نہیں چاہتی کہ یہ تمہیں کوئی نقصان پہنچائیں۔

سونیہا کی بات سن کر میجر دانش اسکی آنکھوں میں دیکھتا ہوا بولا اگر تمہیں لگتا ہے کہ میں پہلے والے تمام قیدیوں سے الگ ہوں اور بہادر اور نڈر ہوں تو تمہیں یہ بھی پتا ہونا چاہیے کہ یہاں سے رہائی پانے کے لیے میں کسی عورت کی اور وہ بھی دشمن ملک کی عورت کی مدد نہیں مانگوں گا۔ میں مر تو جاوں گا مگر تمہارے سامنے مدد کے لیے ہاتھ نہیں پھیلاوں گا۔ یہ کہ کر میجر دانش نے ایک بار پھر اپنا چہرہ آگے کر کے سونیہا کے ہونٹوں کو چوس لیا۔ سونیہا نے ناگواری سے پیچھے ہٹتے ہوئے میجر دانش کو ایک گالی دی اور باہر چلی گئی جبکہ پیچھے میجر دانش قہقہے لگانے لگا۔

سونیہا کے جانے کے بعد دوبارہ سے وہی 2 بدمعاش اندر آئے اور میجر دانش سے سوالات کرنے لگے اور میجر دانش بنا سوچے سمجھے وہ سٹوری سنانے لگا میں ٹریفک کانسٹیبل افتخار ہوں تمہارا کرنل وشال شاہراۃ فیصل۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ او رپھر سے میجر دانش کے جسم میں کرنٹ دوڑنے لگتا۔ آج پھر یہ سوال جواب 3 دفعہ ہوئے مگر میجر دانش کا جواب تبدیل نہ ہوا۔ آخر کار ان میں سے ایک بدمعاش نے غصے میں آکر پاس پرا لوہے کا راڈ اٹھا لیا اور میجر دانش کی ٹانگوں پر برسانا شروع کر دیا۔ لوہے کا راڈ میجر کی ٹانگوں پر پڑتا تو میجر کی جان ہی نکلنے لگتی اسکو اپنی ماں یاد آنے لگتی اور وہ چیخیں مارنے لگتا۔ مگر اس نے اپنا بیان نہیں بدلا۔ 10 منٹ تک مار کھانے کے بعد بھی جب میجر دانش سے سوال پوچھا گیا تو اسنے کانپتی ہوئی آواز اور ڈھلکے ہوئے چہرے کے ساتھ وہی کہانی سنائی میں ٹریفک کانسٹیبل افتخار ہوں تمہارا کرنل وشال۔۔ ۔۔ ۔۔ ایک مرتبہ پھر بجلی کے جھٹکے لگے میجر دانش کو اور وہ دوبارہ سے بے ہوش ہوگیا۔

میجر دانش کو دوبارہ ہوش آیا تو ایک بار پھر سونیہا اپنی تمام تر حشر سامانیوں کے ساتھ اسکے سامنے موجود تھی۔ جبکہ میجر کا مار کھا کھا کر برا حال ہوچکا تھا۔ اب کی بار پھر سونیہا نے اس پر ترس کھاتے ہوئے کہا دیکھو جان انکو سب کچھ سچ سچ بتا دو اور مجھے یہاں سے لیکر بھاگ جاو میں اپنی باقی زندگی تمہارے ساتھ گزارنا چاہتی ہوں۔ میں یہاں کے ہر سیکیورٹی سسٹم سے واقف ہوں میں تمہاری مدد کروں گی یہاں سے بھاگنے میں اور پھر اپنی ساری زندگی تمہاری بانہوں میں بیتا دوں گی۔ سونیہا کی آواز میں سچائی بھی تھی اور درد بھی۔ وہ شاید واقعی میجر دانش سے پیار کرنے لگی تھی۔ اسکی آنکھوں میں نمی بھی تھی۔ میجر دانش نے اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھا اور بولا اگر تم سچ کہ رہی ہو تو مجھے بتاو کہ سامنے جو دروازہ ہے اسکو کھولنے کا کوڈ کیا ہے؟؟؟ سونیہا نے بلا تردد وہ کوڈ بتا دیا۔ میجر دانش جانتا تھا کہ کوڈ صحیح بتایا گیا ہے کیونکہ اس نے نیم بےہوشی کی حالت میں سونیہا کے ساتھ آنے والے بدمعاشوں کو باہر جاتے دیکھا تھا تب انہوں نے دروازہ کھولنے کے لیے جو کوڈ لگایا تھا میجر دانش نے اسکو ذہن نشین کر لیا تھا۔ اور سونیہا نے بالکل وہی کوڈ میجر دانش کو بتا دیا تھا۔

اب کی بار میجر دانش کی آواز دھیمی تھی۔ وہ سونیہا کو کہ رہا تھا کہ مجھے بھی تم اچھی لگی ہو مگر یہ تمہاری بھول ہے کہ ہم دونوں یہاں سے بچ کر نکل سکتے ہیں۔ میں نے ایسے قید خانے دیکھ رکھے ہیں۔ میں اس دروازے سے نکل بھی جاوں تو بھی یہاں سے بچ نکلنا ممکن نہیں ہوگا باہر بے شمار سیکورٹی اہلکار ہونگے اسکے علاوہ آٹو سسٹم بھی ہوگا جو مجھے مونیٹر کر رہا ہوگا اور اسکے ساتھ ساتھ یہ جو سامنے دروازے پر کوڈ لگا ہوا ہے یہ فنگر پرنٹس بھی ریڈ کرتا ہوگا۔ ہمیں صحیح کوڈ معلوم بھی ہو تب بھی ہم یہاں سے نکل نہیں سکیں گے۔ اس پر سونیہا نے اسے بتایا کہ تمہاری یہ بات تو صحیح ہے کہ یہاں سسٹم آٹومیٹک ہے۔ مگر یہاں سیکورٹی کے لیے کوئی نہیں ہوتا۔ صرف میں ہوں اور باہر وہ 2 لوگ ہیں جو تمہارے سے انویسٹیگیٹ کرتے ہیں۔ اسکے علاوہ ایک لمبی راہداری ہے جس میں کیمرے لگے ہوئے ہیں اور آخر میں داخلی گیٹ ہے جس پر 3 گن میں موجود ہوتے ہیں۔ اسکے علاوہ پوری بلڈنگ میں کوئی نہیں۔ البتہ راہداری کے کیمرے میں جیسے ہی کوئی انجان شخص آئے گا تو آٹومیٹک راہداری میں لیزر شعائیں گزرنے لگ جائیں گی جو انسانی جسم کو دو حصوں میں تقسیم کر سکتی ہیں۔ اس سے تم بچا کر نکل جاو تو ہم با آسانی گیٹ پر موجود گن مین کو قابو کر سکتے ہیں کیونکہ وہ بہت ریلیکس بیٹھے ہوتے ہیں آج تک اس کمرے سے کوئی بچ کر بھاگ نہیں سکا اس لیے انہیں فکر نہیں ہوتی۔ ایسے میں انکو قابو کرنا آسان ہے۔ اور رہ گئی بات فنگر پرنٹس کی تو تمہاری بات ٹھیک ہے۔ مگر جب میں تمہارے ساتھ موجود ہوں تو میرے فنگر پرنٹس پر یہ لاک کھل جائے گا جسکا ثبوت تمہیں ابھی مل جائے گا جب میں باہر جاوں گی۔

میجر دانش اب سوچ میں پڑگیا تھا اور باہر نکلنے کی تدبیر کرنے لگا۔ وہ سوچ رہا تھا کہ سونیہا پر اعتبار کرنا چاہیے یا نہیں؟؟؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ یہ دشمن کی کوئی چال ہو؟؟؟ مگر پھر اچانک میجر دانش نے سونیہا کو بتایا کہ میرا نام دانش ہے اور میں پاک آرمی میں میجر ہوں۔ اور مجھے کرنل وشال کو پکڑنے کا ٹاسک دیا گیا تھا جس میں میں ناکام رہا ۔ اس سے زیادہ ابھی میں تمہیں کچھ نہیں بتا سکتا۔ میجر دانش کی یہ بات سن کر سونیہا نے آگے بڑھ کر میجر دانش کو گلے لگایا اور اسکو کسنگ کرنے لگی۔ وہ ٹوٹ کر میجر دانش کے ہونٹ چوس رہی تھی اور اپنے پیار کا اظہار کر رہی تھی۔ میجر دانش بھی اسی بے تابی کے ساتھ سونیہا کے رس بھرے ہونٹوں سے اسکا رس چوس رہا تھا۔ سونیہا کے ممے میجر دانش کے سینے میں کھب گئے تھے جنکو میجر دانش اپنے سینے پر محسوس کر رہا تھا، اسکا بس نہیں چل رہا تھا کہ ابھی اسکے ہاتھ کھولیں اور وہ سونیہا کے ممے پکڑ کر انکو چوسنے لگ جائے۔

کچھ دیر ایکدوسرے کے ہونٹوں کا رس چوسنے کے بعد سونیہا پیچھے ہٹی۔ اسکی آنکھوں میں نشہ تھا اور ہونٹوں پر مسکراہٹ تھی۔ اسنے میجر دانش کو کہا کہ بس تم باقی سب چیزیں بھی ان لوگوں کو سچ سچ بتا دینا۔ جب تم سب کچھ بتا چکو تو یہ لوگ خود تمہیں یہاں سے نکالیں گے اور جیسے ہی ہم اس بلڈنگ سے نکلیں گے تب ہم بھاگنے کا پلان بنائیں گے۔ میجر دانش نے پوچھا مگر یہ مجھے یہاں سے باہر نکالیں گے کیوں؟؟ تو سونیہا نے کہا کہ یہ کسی جعلی مقابلے میں تمہیں ماریں گے اور میڈیا میں دکھائیں گے کہ پاکستان سے بھیجا ہوا ایک کشمیری آتنگوادی کو بھارتی پولیس نے ہلاک کر دیا۔ اس طرح یہ تم سے جان بھی چھڑوالیں گے اور پولیس کی بھی میڈیا میں تعریفیں ہونگی اور عالمی سطح پر یہ لوگ پاکستان پر پریشر بڑھا سکیں گے۔

میجر دانش کو سونیہا کی ایک ایک بات میں سچائی نظر آرہی تھی۔ اب سونیہا نے میجر دانش کو آگے کا پلان بتایا اور یہ بھی بتایا کہ وہ اپنے کچھ ساتھیوں کو کہے گی کہ جب ہم لوگ تمہیں یہاں سے نکالنے لگیں گے تو وہ ہم پر حملہ کر دیں اس موقع سے فائدہ اٹھا کر ہم بھاگ نکلیں گے۔ ساتھ ہی سونیہا نے سوالیہ نظروں سے میجر دانش کو دیکھا اور بولی اگر تمہارے بھی کوئی ساتھی ہیں تو میں ان سے کونٹیکٹ کر لوں گی وہ ہماری یہاں سے نکلنے میں مدد کریں گے۔ اس طرح ہمیں رہنے کا ٹھکانہ بھی مل جائے گا اور ان لوگوں سے بھی جان چھڑوا لیں گے۔ میجر دانش نے سونیہا کو کہا کہ وہ کسی طرح ایک فون کا بندوبست کر دے تو وہ خود اپنے لوگوں سے رابطہ کر کے اپنی لوکیشن بتا سکتا ہے اور باہر نکلنے پر وہ لوگ ہماری مدد کو آجائیں گے۔

Post Reply