وطن کا سپاہی

User avatar
sexi munda
Gold Member
Posts: 807
Joined: 12 Jun 2016 12:43

Re: وطن کا سپاہی

Post by sexi munda » 29 Oct 2017 13:37


میجر علینہ کو جب سے دانش کی آواز سنائی دی تھی وہ بہت خوش تھی۔ وہ میجر دانش سے بے پناہ محبت کرتی تھی ، میجر دانش بھی اسے پسند کرتا تھا مگر کچھ وجوہات کی وجہ سے رشتہ ازدواج میں منسلک نہیں ہوسکے تھے۔ علینہ کو اس بات کا دکھ تھا مگر وہ ایک میچور لڑکی تھی، روایتی لڑکیوں کی طرح اس نے عفت سے کوئی لڑائی مول نہیں لی بلکہ اسنے خوشدلی کے ساتھ عفت کو میجر دانش کی بیوی تسلیم کر لیا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ دانش سے بات ہوتے ہی ہیڈ کوارٹر اطلاع دینے کے بعد اسے فورا عفت کا ہی خیال آیا، مگر عفت کا نمبر پاس نہ ہونے کی وجہ سے اس نے عمیر کو کال کی کیونکہ وہ جانتی تھی کہ جب سے میجر دانش لا پتہ ہوا ہے عفت کی اداسی کسی لمحے بھی ختم نہیں ہوسکی اسلیے اسے یہ اطلاع فوری دینا بہت ضروری تھا۔


عمیر سے فون پر بات کرنے کے بعد اب وہ دوبارہ سے میجر دانش کے خیالوں میں گم تھی ۔ جب سے میجر کی شادی طے ہوئی تھی دانش اور علینہ کی ملاقات نہیں ہوسکی تھی نہ ہی علینہ میجر کی شادی پر جا سکی تھی کیونکہ شادی والے روز میجر علینہ اپنی ڈیوٹی میں مصروف تھی اور اسے چھٹی نہ مل سکی تھی۔ علینہ کو اب میجر دانش کی شرارتیں یاد آرہی تھیں جو وہ علینہ کے ساتھ کرتا تھا۔ یوں تو دونوں کالج کے زمانے سے اچھے دوست تھے مگر دونوں میں پہلی بار جسمانی تعلق تب قائم ہوا جب میجر دانش اور علینہ دونوں کیپٹن کے عہدے پر تھے۔ گوکہ دونوں کی پوسٹنگ الگ الگ شہروں میں تھی مگر ایک مشن کے دوران دانش اور علینہ میجر افتخار کے ساتھ ٹرین پر بہاولپور سے لاہور جا رہے تھے۔ گرمیوں کے دن تھے اور ریلوے کی حالت انتہا درجے کی خراب ہونے کے باعث ریلوے میں مسافروں کی تعداد بہت ہی کم تھی۔ میجر افتخار بہت سخت طبیعت کے افسر تھے اور وہ ہمیشہ علینہ اور دانش کو ایکدوسرے سے دور رکھنے کی کوشش کرتے تھے مگر انکی اپنی نظریں علینہ کے جسم کو 24 گھنٹے گھورتی رہتی تھیں۔

علینہ اس بات سے اچھی طرح آگاہ تھی کہ میجر افتخار اسکے جسم کا دیوانہ ہے مگر اس نے کبھی اس بات کا برا نہیں منایا تھا کیونکہ وہ جانتی تھی کہ اسکے جسم کی بناوٹ ہے ہی اتنی سیکسی کے کوئی بھی مرد اسکو پانے کی خواہش کر سکتا ہے ، اس لیے اس نے کبھی کسی کو نہیں روکا کہ وہ اسے گھور گھور کے کیوں دیکھتا ہے۔ اس سفر کے دوران بھی میجر افتخار ہر وقت کیپٹن علینہ کو اپنے دائیں جانب اور کیپٹن دانش کو اپنے بائیں جانب رکھتے اور خود دونوں کے بی میں ہی رہتے، جہاں کہیں انہیں موقع ملتا وہ بہانے بہانے سے کبھی کیپٹن علینہ کے کندھے پر ہاتھ رکھ دیتے تو کبھی اسکی کمر پر تھپکی دے کر اپنی ٹھرک پوری کرتے۔

آج رات کے 2 بجے بہاولپور سے قراقرام ایکسپریس لاہور کے لیے چلی تو میجر افتخار نے ٹرین کے فرسٹ کلاس پارلر حصے میں اپنی سیٹ بک کروائی۔ میجر نے پہلے علیینہ کو ٹرین پر چڑھنے کی دعوت دی، علینہ نے جیسے ہی سیڑھی پر پاوں رکھا تو دانش نے بھی کوشش کی کہ وہ علینہ کے پیچھے ہی چڑھ جائے مگر درمیان میں میجر افتخار آگئے اور انہوں نے ہاتھ سے کیپٹن دانش کا راستہ روک لیا تھا۔ دانش بھی جانتا تھا کہ میجر کی نیت خراب ہے علینہ پر مگر وہ بھی اسے کچھ نہیں کہ سکتا تھا۔ ایک تو وہ سینئیر تھا اور دوسرے جب علینہ نے کبھی اس بات کا برا نہیں منایا تو دانش کیونکر برا مناتا۔ علینہ ابھی ٹرین کی دوسری سیڑھی پر ہی تھی کہ افتخار نے بھی دوسری سیڑھی پر اپنا پیر رکھ دیا۔ میجر افتخار کا جسم علینہ کے جسم سے ٹکرایا تو علینہ نے پیچھے مڑ کر دیکھا اور میجر افتخار کو قہر انگیز نظروں سے گھورا، میجر کا خیال تھا کہ شاید علینہ مائنڈ نہیں کرے گی مگر اسکی نظروں میں موجود غصہ دیکھ کر میجر بلا اختیار سوری بول پڑا۔

اسکے بعد تینوں ٹرین میں موجود اپنی اپنی جگہ پر بیٹھ گئے۔ چونکہ یہ اے سی بزنس کمپارٹمنٹ تھا اس میں مختلف کیبن بنے ہوئے تھے ، ہر کیبن میں 6 برتھ تھے اور کیبن کو دروازہ بند کر کے لاک کیا جا سکتا تھا۔ علینہ سب سے پہلے اندر داخل ہوئی اور اس نے اوپر والی برتھ پر قبضہ کر لیا جبکہ میجر افتخار اور کیپٹن کاشف نیچے والی برتھ پر بیٹھ گئے۔ ٹرین بہاولپور سٹیشن سے چلی تو میجر افتخار نے علینہ کو برتھ سے نیچے آنے کا کہا، علینہ نیچے آئی اور کیپٹن دانش کی برتھ پر اسکے ساتھ بیٹھ گئی۔ اب میجر افتخار نے دونوں کو آپریشن کے بارے میں بتانا شروع کیا۔ اور دونوں کو سمجھانے لگا کہ کیسے دشمن پر قابو پانا ہے اور کسطرح سے دشمن کی نظروں میں آئے بغیر تینوں نے رابطے میں رہنا ہے۔ شجاع آباد تک میجر کا لیکچر جاری رہا جسکو سن کر اب علینہ کو نیند آنے لگی تھی۔ مگر خوش قسمتی سے میجر کا لیکچر یہیں ختم ہوگیا تھا تو اس نے علینہ کو بیگ سے چپس نکالنے کے لیے کہا جو اس نے بہاولپور ائیر پورٹ سے خریدے تھے۔

علینہ نے ایک پیکٹ افتخار کو نکال کر دیا اور دوسرا پیکٹ دانش کے ساتھ شئیر کر لیا۔ میجر افتخار کا تو جیسے دل ہی ٹوٹ گیا مگر وہ کچھ نہیں کہ سکتا تھا۔ پھر علینہ نے جوس کے پیکٹ نکالے تو تینوں نے جوس پیے اسکے بعد علینہ نے دانش کو بیت بازی کا مقابلہ کرنے کو کہا اور دونوں نے ایک سے بڑھ کر ایک شعر سنانا شروع کر دیا۔ میجر افتخار جو عمر میں دونوں سے کافی بڑے تھے اور شعرو و شاعری کا شوق بھی نہیں تھا انہیں نیند آنے لگی تو انہوں نے اوپر والی برتھ پر قبضہ کیا اور چادر لیکر سوگئے۔ کچھ ہی دیر میں میجر کے خراٹے شروع تھے ۔


ٹرین خانیوال پہنچی تو بیت بازی کے بعد یسو پنجو کھیل کھیل کر بھی اب دونوں تھک چکے تھے۔ 25 سالہ علینہ کالج کے زمانے سے ہی دانش کو پسند کرتی تھی جسکی عمر اب 26 سال تھی۔ جب مزیر کرنے کو کچھ نہیں رہا تو دونوں ایک ہی برتھ پر ایکدوسرے کے قریب ہوکر بیٹھ گئے اور اپنے مستقبل کے بارے میں باتیں کرنا شروع کر دی۔ جو کچھ دیر کے بعد عشق و عاشقی کی باتوں میں تبدیل ہوگئیں۔ علینہ اب اپنا سر دانش کے کندھے پر رکھ کی بیٹھی تھی اور اسے اپنے گھر والوں کے بارے میں بتانے لگی۔ جبکہ دانش نے بھی کہا کہ وہ اپنے گھر والوں کو تمہارے گھر بھیجے گا تاکہ وہ میرے لیے تمہارا ہاتھ مانگ سکیں۔

علینہ نے دانش کے کندھوں سے اپنا سر اٹھایا اور خوشی سے بولی سچ؟؟؟ کیپٹن دانش نے اسکے ماتھے پر ایک بوسہ دیا اور کہا ہاں میری جان واقعی سچ۔ میں تم سے بہت پیار کرتا ہوں۔ یہ کہ کر دانش نے علینہ کے خوبصورت ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھ دیے اور ایک لمبا بوسہ دیا، اس دوران علینہ کی آنکھیں بند تھیں جیسے اگر اس نے آنکھیں کھولیں تو یہ سپنا ٹوٹ جائے گا۔ دانش بھی دنیا سے بے خبر اپنے ہونٹ علینہ کے ہونٹوں پر رکھ کر سب کچھ بھول گیا تھا کہ اچانک انہیں میجر افتخار کی آواز سنائی دی۔ دونوں ہڑبڑا کر پیچھے ہٹے اور میجر کی طرف دیکھنے لگے جو بے ہوشوں کی طرح سو رہا تھا، اصل میں یہ آواز میجر افتخار کے خراٹوں کی تھی، علینہ اور دانش نے ایکدوسرے کی طرف دیکھا اور بے اختیار ہنسنے لگے، پھر دانش آگے بڑھا اور اس نے ایک بار پھر اپنے ہونٹ علینہ کے ہونٹوں پر رکھد یے اور انہیں چوسنے لگا۔

علینہ بھی کیپٹن دانش کا ساتھ دینے لگی اور اپنے ہونٹوں کو گول گھما کر کیپٹن دانش کے ہونٹوں کو چوسنے لگی۔ علینہ کے ہاتھ کیپٹن دانش کی گردن پر تھے جبکہ دانش نے اپنے ہاتھ علینہ کی کمر پر رکھے اور آہستہ آہستہ علینہ کو اپنے قریب کھینچتے ہوئے اپنے سینے سے لگا لیا تھا۔

یوں تو دونوں میں یہ چوما چاٹی کالج کے زمانے سے ہی چل رہی تھی مگر آج اسکی شدت میں کافی بہت زیادہ تھی۔ علینہ مکمل جوان اور جذبات سے بھرپور ایک کنواری لڑکی تھی اور آج کافی دنوں کے بعد وہ اپنے محبوب ے ہونٹوں کا رس چوس رہی تھی۔ علینہ نے اپنا منہ کھول کر دانش کو زبان اندر کرنے کی اجازت دی اور پھر دانش کی زبان سے اپنی زبان کو ٹکرانے لگی۔ دانش اور علینہ دونوں کی کوشش تھی کہ وہ اپنی زبان کو دوسرے کے منہ میں داخل کریں اور اندر تک مزہ اٹھائیں۔ دانش کا ایک ہاتھ سرکتا ہوا علینہ کی کمرے سے اسکے کولہوں تک آ چکا تھا اور وہاں سے پھرے گوشت کے بھرے ہوئے چوتڑ دانش کے ہاتھ میں تھے۔ ایسا پہلی بار ہوا تھا کہ دانش نے اپنا ہاتھ علینہ کے چوتڑوں پر رکھا تھا اس سے پہلے انکے درمیان بوس و کنار ضرور ہوا تھا مگر کبھی علینہ کے ممے یا اسکے چوتڑوں پر دانش نے ہاتھ نہیں لگایا تھا۔ اور آج اگر علینہ کے چوتڑ پکڑے بھی تو اپنے سئینیر کے سامنے جو اوپر والی برتھ پر زور دار خراٹے مار رہاتھا۔

اپنے چوتڑوں پر مردانہ ہاتھ کی گرفت کو محسوس کر کے علینہ کے جذبات اور بھی مچلنے لگے اور اب اس نے اپنی ایک ٹانگ اٹھا کر دانش کی کمر کے گرد کری تو دانش نے اسکے چوتڑ سے پکڑ کر اسے گود میں اٹھا لیا اور علینہ نے اپنی دونوں ٹانگیں دانش کی کمر کے گرد لپیٹ دیں۔ علیینہ کے 36 سائز کے چوتڑ دانش کے ہاتھ میں تھا اور وہ انہیں دبانے کے ساتھ ساتھ علینہ کے ہونٹوں کو بھی بھرپور مزے سے چوس رہا تھا۔ ہونٹوں سے ہوتے ہوئے دانش کے ہونٹ اب علینہ کی گردن کو چوسنے میں مصروف تھے اور علینہ اپنا سر پیچھے کی طرح گرائے دانش کو پورا موقع دے رہی تھی کہ وہ اسکی گردن کے زیادہ تر حصے کو اپنے ہونٹوں سے چوم سکے۔ دانش کبھی علینہ کی صراحی دار گردن پر اپنی زبان پھیرتا تو کبھی اسکو دانتوں سے کاٹنے لگا اور علینہ کی اف اف ، آہ آہ کی سسکیاں دانش کے کانوں میں رس گھول رہی تھیں۔

دانش اب چلتا ہوا ٹرین کی کھڑکی کے ساتھ ہوا اور علینہ کی کمر ٹرین کے ساتھ لگا کر سہار دیا علینہ نے ابھی بھی اپنی ٹانگیں دانش کی کمر کے گرد لپیٹ رکھی تھیں۔ اب ایک بار پھر دونوں نے ایکدوسرے کے ہونٹ چوسنا شروع کر دیے تھے جبکہ دانش کا ہاتھ اب علینہ کے چوتڑوں کو چھوڑ کر اسکی گردن کا مساج کر رہا تھا۔ یہ ہاتھ گردن کا مساج کرتے ہوئے علینہ کے سینے تک آیا اور پھر علینہ کے دائیں ممے کو اپنے ہاتھ میں پکڑ لیا۔ 36 سائز کے ممے دانش کے ہاتھ میں آئے تو اسے لگا جیسے کوئی خزانہ مل گیا ہو، اس نے علینہ کے مموں کو ذور سے دبایا تو علینہ کے منہ سے ایک لمبی سسی نکلی آوچ چ چ چ چ چ چ چ چ ۔۔۔۔۔۔۔ دونوں کے درمیان یہ سب کچھ پہلی بار ہورہا تھا مگر حیرت کی بات تھی کہ علینہ نے نا تو دانش کو چوتڑ پکڑنے سے روکا تھا اور نہ ہی ممے دبانے پر کچھ کہا۔ شاید وہ آج اپنی جوانی دانش پر نچھاور کرنے کے لیے تیار تھی اور اپنی پیاس بجھانے کے لیے بھی بے تاب تھی۔

تبھی دانش کے ہاتھ علینہ کی شرٹ کے بٹن کھولنے لگے۔ 3 بٹن کھولنے کے بعد دانش نے علینہ کی شرٹ کو سائیڈ پر ہٹایا تو سرخ رنگ کے برا میں چھپے مموں کا اوپر والا حصہ دانش کو نظر آنے لگا۔ دانش نے اپنا ہاتھ ایک بار پھر علینہ کے دائیں ممے پر رکھا اب کی بار اسکے ہاتھ نے علینہ کے برا کو چھوا تھا۔ جیسے ہی دانش نے علینہ کے ممے کو ہاتھ سے دبایا تو ایک دم سے ٹھک ٹھک کی زوردار آواز آئی۔ کمپارٹنمنٹ میں باہر ٹی ٹی آیا تھا ۔۔۔۔۔ دروازے پر ناک سنتے ہی علینہ نے دانش کی کمر کے گرد لپٹی ٹانگوں کو سائیڈ پر پھیلایا اور اسکی گود سے نیچے اتر کر اپنی شرٹ کے بٹن بند کرنے لگی جبکہ دانش نے کچھ دیر گہرے گہرے سانس لیے اور پھر دروازہ کھول دیا۔

علینہ کو ابھی تک سانس کنٹرول کرنا مشکل ہورہا تھا اسکا سانس تیز تیز چل رہا تھا۔ ٹی ٹی نے دونوں کو بغور دیکھا اور بولا ٹکٹ چیک کراو، تو دانش نے اپنی جیب سے اور علینہ نے اپنی جیب سے ٹکٹ نکال کر چیک کروا دیا۔ ٹی ٹی بغور علینہ کے کھلے ہوئے بالوں کا جائزہ لے رہاتھا جو اس عمل کے دوران بکھر گئے تھے اور اسکی آنکھوں میں سیکس کا نشہ ابھی تک موجود تھا، پھر ٹی ٹی نے کہا یہ تیسرے صاحب جو ہیں انکا ٹکٹ؟ تو دانش نے انکے بیگ سے ٹکٹ نکال کر چیک کروا دیا، ٹی ٹی اب وہاں سے چلا گیا مگر جاتے جاتے اسکے چہرے پر ذو معنی ہنسی تھی ، وہ سمجھ گیا تھا کہ دونوں گرم جوانیاں ایک دوسرے سے لڑنے میں مصروف تھیں اور اسنے آکر ڈسٹرب کر دیا۔ ٹی ٹی کے جاتے ہی دانش نے دروازہ بند کیا تو علینہ ایک بار پھر چھلانگ مار کر دانش کی گود میں چڑھ گئی اور جنگلی بلی کی طرح اسکی شرٹ کے بٹن کھول کر اسکے سینے پر پیار کرنے لگی۔

تھوڑی دیر کے بعد علینہ پہلی برتھ پر لیٹی ہوئی تھی اور دانش نے اسکی شرٹ اتار دی تھی۔ علینہ کی لو ویسٹ جینز ( Low Waist Jeans) اور اسکے بدن پر سرخ رنگ کا برا دانش کے لن کو کھڑا کرنے کے لیے کافی تھا۔ دانش علینہ کے اوپر جھکا اور اسکے فوم والے انڈر وائرڈ برا سے بننے والی علینہ کی کلیوج کے درمیان اپنی زبان پھیرنے لگا۔ علینہ کے برا نے علینہ کے مموں کو آپس میں ملا کر رکھا ہوا تھا اور انہیں اوپر بھی اٹھایا ہوا تھا جسکی وجہ سے اسکی کلیویج بہت سیکسی بن رہی تھی اور ایسے لگ رہا تھا جیسے علینہ کے ممے 36 کی بجائے 38 کے ہونگے۔ کچھ دیر کے بعد جب دانش نے خوب جی بھر کر علینہ کی کلیویج یں زبان پھیر لی تو اسنے علینہ کا برا بھی اتار دیا۔ برا کی قید سے آزاد ہوتے ہی علینہ کے ممے ایسے تھرکنے لگے جیسے جیلی اپنے برتن سے نکل کر ہلتی ہے۔

گورے ملائی جیسے مموں پر ہلکے براون رنگ کا چھوٹا سا دائرہ اور اس پر براون نپل جیسے فریش کریم کیک کے اوپر چیری کا دانہ پڑا ہو۔ دانش نے اپنی زبان منہ سے باہر نکالی اور زبان کی نوک سے اس چیری کو یعنی کہ علینہ کے نپل کو چھیڑنے لگا۔ جیسے ہی دانش کی زبان کی نوک نے علینہ کے نپل کو چھوا اسکے جسم میں کرنٹ دوڑ گیا، اسکا جسم درمیان سے دہرا ہوا کمر ہوا میں اوپر اٹھ گئی اور ممے بھی اسی حساب سے اوپر آگئے اور سر پیچھے کی طرف جھک گیا۔ علینہ کی اوپر اٹھی کمر کے نیچے دانش نے ہاتھ دیا اور اسکے اوپر لیٹ کر علینہ کے نپل کو زبان سے چھیڑنے لگا۔ جیسے ہی نپل سے زبان لگتی علینہ کی ایک سسکی نکلتی اور وہ اپنی ہر سسکی پر میجر افتخار کی طرف دیکھتی مبادا وہ اٹھ جائے۔ مگر ہر بار اسکو میجر افتخار زور دار خراٹے مارتا ہوا نظر آتا۔

میجر افتخار کی نیند پوری رجمنٹ میں مشہور تھی سب جانتے تھے کہ میجر افتخار ایک بار سوجائے تو اپنی نیند پوری کیے بنا اسکی آنکھ نہیں کھلتی اور یہ بات کیپٹن دانش اور علینہ اچھی طرح سے جانتے تھے اسی لیے وہ بے خوف ہو کر ایکدوسرے کے جسم سے اپنی گرمی مٹانے میں مصروف تھے۔ 5 منٹ تک علینہ کے مموں کو چسنے کے بعد کیپٹن دانش علینہ کے بل کھاتے پیٹ پر اپنی زبان پھیرتا ہوا اسکی ناف تک لے آیا اور پھر اپنی زبان کی نوک علینہ کی ناف میں گھمانے لگا جس سے علینہ کو عجیب سا سرور ملنے لگا۔ علینہ اس سرور سے بالکل ناواقف تھی۔ اسکی سسکیوں میں مزید اضافہ ہوگیا تھا مگر اسکی آہ آہ آہ، آوچ آوچ چ چ ، اف ، اف ام ام کی آوازیں ٹرین خی چھک چھک میں کہیں گم ہورہی تھیں۔ ناف سے ہوتا ہوا اب دانش زیرِ ناف علینہ کے جسم کو چوس رہا تھا جس سے علینہ کی بےتابی اور بڑھنے لگی تھی

پھر دانش نے علینہ کی جینز کا بٹن کھول کر اسکی زپ کھولی تو علینہ نے فورا ہی اپنے چوتڑ ہوا میں اٹھا کر دانش کو جینز اتارنے کی دعوت دے ڈالی۔ دانش نے بھی بغیر ٹائم ضائع کیے علینہ کی جینز مکمل اتار دی۔ علینہ کی سرخ رنگ کی پینٹی چوت کے اوپر سے گہرے سرخ رنگ کی ہورہی تھی جسکا مطلب تھا کہ علینہ کی چوت سے نکلنے والا ابتدائی پانی علینہ کی پینٹی کو کافی دیر سے گیلا کر رہا تھا۔ دانش نے علینہ کی گیلی پینٹ دیکھتے ہی اپنی زبان اسکی پینٹی پر رکھ دی اور اس جگہ پر اپنی زبان پھیرنا شروع کی، سرخ رنگ کی پینٹی اسکے گورے جسم پر قیامت ڈھا رہی تھی اسکی پتلی پتلی ٹانگیں بالوں سے پاک تھائیز تھائیز پر نرم مگر گرم گرم گوشت دانش کی پیاس کو مزید بڑھا رہے تھے۔ دانش نے جیسے ہی اپنی زبان علینہ کی پینٹی پر رکھی اس نے ایک بار اپنی ٹانگوں کو کھولا اور پھر دانش کے سر کو بیچ میں لیکر دبا لیں۔ کچھ دیر دانش علینہ کی چوت کو پینٹی کو اوپر سے ہی چوستا رہا اور پھر اس نے پیچھے ہٹ کر علینہ کی پینٹی بھی اتار دی۔

پینٹی اترتے ہی علینہ نے اپنی چوت کو دونوں ہاتھوں سے چھپا لیا، اسکی آنکھوں میں شرارت تھی، دانش نے اسکی طرف دیکھا اور بولا اپنی اس پیاری سی چوت چومنے نہیں دو گی؟؟؟ تو علینہ نے کہا یہ چوت اتنی عام نہیں کہ ہر کسی کو دکھائی جائے۔۔۔۔ اس پر دانش بولا میں ہر کسی نہیں میں تو تمہارا سب سے اچھا دوست ہوں اور اچھے دوست کو چوت دکھانے میں کوئی ہرج نہیں۔ یہ سن کر علینہ نے ایک ادا سے اپنے ہاتھ چوت سے ہٹائے اور چوت دانش کے سامنے کر دی جیسے اس پر کوئی احسان کر رہی ہو۔ دانش نے علینہ کی چوت کے لب دیکھے جو آپس میں ملے ہوئے تھے اور بالوں سے پاک تھے، اسکی چوت کا دانہ بھی نظر نہیں آرہا تھا ، دانش نیچے جھکا اور اپنی زبان علینہ کی ان چھوئی چوت کی لبوں کے درمیان رکھ دی جس سے علینہ کے جسم میں ایک کرنٹ دوڑ گیا اور اس نے اپنی دونوں ٹانگیں دانش کی گردن کے گرد لپیٹ دیں ۔ دانش نے بھی جی بھر کر علینہ کی کنواری چوت کو کھایا اور خوب چوسا، کچھ ہی دیر کے بعد انعام کے طور پر علینہ کی چوت نے دانش کی خدمت سے خوش ہوکر گرما گرم شربت نکال دیا جسکو دانش بغیر رکے پیتا چلا گیا۔

اب دانش پیچھے ہٹا اور دوسری سائیڈ والی برتھ پر لیٹ کر علینہ کو اپنے پاس آنے کو کہا، علینہ برتھ سے اٹھی اور دانش کی طرف آنے لگی دانش نے اسکے گول گول سڈول ممے دیکھے جو چلنے سے ہل رہے تھے مگر بغیر برا کے بھی اسکے ممے نیچے نہیں ڈھلکے تھے بلکہ اوپر کو اٹھے ہوئے آپس میں جڑے ہوئے اب بھی کافی خوبصورت کلیویج بنا رہے تھے۔ علینہ دانش کے اوپر جھکی اور اسکے نپل پر اپنی زبان پھیرنے لگی جب کہ دانش اپنا ہاتھ علینہ کے پیچھے لے گیا اور اسکےنرم نرم گوشت سے بھرے ہوئے چوتڑوں کو دبانے لگا۔ دانش نے علینہ کا ایک ہاتھ پکڑا اور اپنے لن کے اوپر رکھ دیا۔ علینہ کو جب اپنا ہاتھ لوہے کے سخت راڈ پر پڑتا محسوس ہوا تو اس نے پھٹی پھٹی آنکھوں سےدانش کی پیںٹ کی طرف دیکھا جہاں سے دانش کے لن کی بناوٹ کافی واضح نظر آرہی تھی۔ اتنا بڑا لن دیکھ کر علینہ کی آنکھوں میں خوف کے آثار نظر آنے لگے وہ سمجھ گئی تھی کہ آج اسکی کنواری چوت کی خیر نہیں۔

دانش نے علینہ کو کہا ایسے کیا دیکھ رہی ہو چلو پینٹ اتارو اور قلفی چوسو۔ علینہ دانش کی بات سن کر مسکرائی اور پینٹ اتارتے ہوئے بولی ٹھنڈی ٹھنڈی قلفی تو بہت بار چوسی ہے آج دیکھتے ہیں یہ آگے سے بھری ہوئی قلفی کیسی ہوتی ہے جیسے ہی علینہ نے دانش کی پینٹ اتاری دانش کا 8 فٹ کا لن کسی سپرنگ کی طرح کھڑا ہوکر باہر نکل آیا۔ دانش نے نیچے سے انڈر وئیر نہیں پہنا تھا۔ ابھی دانش کی پینٹ گھٹنوں تک ہی اتری تھی کہ علینہ دانش کے لن کا سائز دیکھ کر اسی کو دیکھتی رہ گئی۔ دانش نے پوچھا ایسے کیا دیکھ رہی ہو؟؟ تو علینہ نے کہا یہ تو بہت بڑا ہے۔ مجھے بہت تکلیف ہوگی۔ دانش نے علینہ کو تسلی دیتے ہوئے کہا فکر نہیں کرو سب کے لن اتنے ہی ہوتے ہیں اور ہر لڑکی کی چوت میں جاتا ہے لن صرف پہلی بار تکلیف ہوتی ہے پھر بہت مزہ ملتا ہے۔ مگر علینہ نے کہا نہیں میری آپا نے بتایا ہے کہ انکے شوہر کا لن بس 5 انچ ہی لمبا ہے اور موٹائی میں ایک انچ ہے جبہکہ تمہارا لن 7 سے 8 انچ لمبا ہے اور 2 انچ موٹا ہے ۔۔۔

دانش نے کہا میری جان تم فکر نہیں کرو کچھ نہیں ہوگا بہت مزہ آئے گا تمہیں۔ یہ کہ کر دانش نے علینہ کو کہا چلو اب اپنی قلفی کو چوسو، علینہ دانش کے لن پر جھکی اور اسکی ٹوپی پر اپنی زبان کی نوک پھیرنے لگی۔ علینہ کی زبان کو دانش کے لن کی ٹوپی سے نمکین پانی نکلتا محسوس ہوا ، علینہ زبان منہ میں واپس ڈال کر اسکے ذائقے کو محسوس کرنے لگی تو دانش نے پوچھا کیسی ہے میری مزی؟؟؟ علینہ بولی کافی عجیب ذائقہ ہے مگر اچھا ہے ۔ یہ کہ کر وہ ایک بار پھر دانش کے اوپر جھکی اور اسکی ٹوپی پر اپنی زبان پھیرنے لگی ۔ پھر وہ اپنی زبان دانش کے لن پر پھیرتی ہوئی اسکی جڑ تک لے گئی اور وہاں سے پھر زبان اوپر کی طرف پھیرنی شروع کی۔ کچھ دیر ایسے کرنے کے بعد اب علینہ نے اپنے نرم اور گرم ہونٹ دانش کے لن پر رکھے اور اسکو چومنے لگی ، پہلے لن کی ٹوپی چوما پھرپورے لن پر اپنے ہونٹ پھیرنے لگی۔ دانش کو یہ سب بہت اچھا لگ رہا تھا۔ اب علینہ نے اپنا منہ کھولا اور دانش کی ٹاپی منہ میں لیکر اس پر اپنی زبان پھیرنے لگی پھر علینہ نے دانش کا لن مزید اندر کیا اور دانش کے لن کے چوپے لگانے لگی۔ علینہ کا چوپے لگانے کا یہ پہلا تجربہ تھا مگر وہ پورن فلموں میں کافی مرتبہ چوپے لگانا دیکھ چکی تھی اس لیے وہ اسی طرح چوپے لگا رہی تھی جیسے اس نے فلموں میں دیکھا تھا۔ کچھ دیر جب وہ دانش کے چوپے لگا چکی تو دانش اپنی جگہ سے اٹھ کر بیٹھ گیا اور علینہ کو برتھ پر لیٹنے کو کہا۔ علینہ برتھ پر لیٹی اور اپنی ٹانگیں کھول دیں۔

وہ چدائی کے لیے تیار تھی مگر دانش نے علینہ کی ٹانگیں واپس ملا دیں اور اسکے پیٹ کے اوپر اپنی ٹانگیں پھیلا کر بیٹھ گیا۔ علینہ نے پوچھا یہ کیا؟ تو دانش بولا تمہاری چوت سے پہلے تمہارے ان نرم نرم مموں کی چدائی کرنا چاہتا ہوں۔ علینہ نے مموں کی چدائی بھی فلموں میں دیکھ رکھی تھی اور اسکے ممے تھے بھی چودنے لائق۔ علینہ نے دانش کا لن پکڑا اور اسکو اپنے دونوں مموں کے درمیان پھنسا کر اپنے مموں کو دونوں ہاتھ سے پکڑ کر اور قریب کر لیا جس سے دانش کا لن علینہ کے نرم نرم مموں کے اندر پھنس گیا۔ اب دانش نے گھسے لگانے شروع کی تو اسکا لن علینہ کے مموں میں پھنسنے لگا۔ علینہ نے مموں سے لن نکالا اور ایک منہ میں لیکر اس پر اچھی طرح تھوک مل دیا پھر دوبارہ سے اس نے اپنے مموں کے بیچ دانش کا لن رکھا اور مموں کو آپس میں جکڑ کر پکڑ لیا۔ اب کی بار دانش نے گھصے لگائے تو لن گیلا ہونے کی وجہ سے بڑی روانی سے علینہ کے مموں میں گھسے لگانے لگا۔

دانش کو علینہ کے نرم نرم مموں کا احساس بہت اچھا لگ رہا تھا اور اسکا دل کر رہا تھا کہ انہی مموں کو چودتا چودتا وہ اپنی منی خارج کر دے۔ علینہ بھی بہت مزے کے ساتھ اپنے ممے چدوا رہی تھی وہ بڑے اشتیاق سے لن کو اپنے مموں سے نکلتا ہوا دیکھتی اور پھر فورا ہی لن واپس علینہ کے مموں کی کلیویج سے نیچے جاتا ہوا اسکے مموں میں گم ہوجاتا۔ کچھ دیر ایسے ہی علینہ کے مموں کو چودنے کے بعد دانش نے علینہ کو برتھ پر بٹھایا اور خود کھڑا ہوگیا اور ایک بار پھر علینہ کے مموں کی چدائی شروع کر دی۔ علینہ بھی نظریں جھکائے مموں سے لن کا نکلنا اور پھر سے واپس غائب ہوجانا بہت شوق سے دیکھ رہی تھی۔ سب سے پہلے مموں سے ٹوپی نکلتی ہوئی نظر آتی اور پھر آدھا لن باہر نکل آتا جو علینہ کی گردن کے قریب آکر واپس چلا جاتا۔

دانش 3 منٹ تک ایسے ہی علینہ کے مموں کو چودتا رہا اب اسکے مموں کے درمیان والی جگہ سرخ ہوچکی تھی۔ اب دانش نے علینہ کے مموں کو چھوڑا اور اسکو دوبارہ لیٹنے کو کہا۔ علینہ دوبارہ لیٹ گئی تو دانش نے اپنی لن کی ٹوپی علینہ کی چوت پر رکھ اور اسکو زور زور سے چوت پر مارنے لگا۔ جس سے علینہ کی بے تابی اور لن کی طلب اور بڑھنے لگی۔ اسکے ساتھ ساتھ علینہ کی چوت نے تھوڑا تھوڑا پانی بھی چھوڑنا شروع کر دیا جو اب کیپٹن دانش کی ٹوپی سے لگ چکا تھا۔

جب دانش نے دیکھا کہ اب علینہ چدائی کے لیے بالکل تیار ہے تو اس نے علینہ کو اشارہ کیا کہ اپنے دونوں ہاتھ اپنے منہ پر رکھ لے ۔ علینہ سمجھ گئی کہ اسکی کنواری چوت کے پھٹنے کا ٹائم آگیا ہے۔ اسنے اپنے دونوں ہاتھوں کو اپنے منہ پر رکھ کر زور سے دبا دیا اور انتظار کرنے لگی کہ کب اسکی چوت سے خون کی دھار نکلتی ہے اور اسکی کنواری چوت کلی سے پھول بنتی ہے۔ دانش نے اپنا ایک گھٹنا برتھ پر رکھا اور علینہ کی ایک ٹانگ اٹھا کر اپنے کندھے پر رکھی اور لن کو چوت کے اوپر رکھ کر اپنے ہاتھ سے علینہ کی چوت کے لب کھول کر انکے درمیان لن کی ٹوپی پھنسائی۔ پھر ایک دھکا جو مارا دانش نے علینہ کا پورا جسم ہل کر رہ گیا اور اسکے منہ سے ایک زور دار چیخ نکلی، اگر اس نے اپنے منہ کو ہاتھوں سے دبا کر نہ رکھا ہوتا تو اسکی یہ چیخ یقینا اوپر سوئے ہوئے میجر افتخار کو نیند سے اٹھا دیتی۔ مگر ایسا نہیں ہوا ۔ البتہ علینہ کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ اور وہ درد بھری نظروں سے دانش کو دیکھ رہی تھی۔

Re: وطن کا سپاہی

Sponsor

Sponsor
 

User avatar
sexi munda
Gold Member
Posts: 807
Joined: 12 Jun 2016 12:43

Re: وطن کا سپاہی

Post by sexi munda » 29 Oct 2017 13:38


دانش جانتا تھا کہ اگر اس موقع پر علینہ پر رحم کیا تو اسکو آگے آنے والا مزہ نہیں دے سکے گا اس لیے اس نے علینہ کے آنسوں کی پرواہ کیے بغیر ایک اور دھکا مارا تو علینہ کو لگا جسیے لوہے کا گرم راڈ اسکے جسم میں داخل ہوکر اسکو چیرتا ہوا آگے نکل گیا ہو۔ کیپٹن دانش کے لن کا قریب 6 انچ حصہ علینہ کی چوت میں غائب ہوچکا تھا۔ اور علینہ کی ایک دلخراش چیخ نے پورے کمپارٹمنٹ کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ یہ تو شکر کے پورا کمپارٹنمنٹ خالی تھا وگرنہ دوسرے لوگوں تک علینہ کی یہ دلخراش چیخ ضرور جاتی ۔ البتہ اس چیخ سے اوپر لیٹے میجر افتخار کی نیند میں اتنا خلل ضرور پڑا کہ انہوں نے ایک بار اپنے کان میں انگلی پھیری اور کروٹ لیکر دوسری طرف منہ کر کے پھر سے خراٹے لینے لگے۔

نیچے دانش علینہ کے اوپر جھک کر اسکے ہونٹوں کو چوس رہا تھا تاکہ اسکا درد کچھ کم کیا جا سکے۔ مگر وہ اپنے لن کو بالکل بھی حرکت نہیں دے رہا تھا۔ علینہ کی آنکھوں سے نکلنے والے آنسو دانش نے اپنے ہونٹوں سے پی لیے تھے ۔ کافی دیر دانش علینہ کے ہونٹ چوستا رہااور جب علینہ کے چہرے پر تکلیف کے آثار کچھ کم ہوئے تو نیچے سے کیپٹن دانش نے اپنے لن کو آہستہ آہستہ حرکت دینا شروع کی وہ کوئی ایک انچ کے قریب لن باہر نکالتا اور پھر آہستا سے اتنا ہی لن واپس اندر ڈال دیتا۔ 5 منٹ تک اسی طرح چدائی کرنے کے بعد اب علینہ کی تھوڑی تھوڑی سسکیاں شروع ہوگئیں تھیں جسکا مطلب تھا کہ اب اسکو لن کی حرکت سے مزہ آنے لگا ہے۔ اب دانش نے اپنے کولہوں کو تھوڑا تیز تیز ہلانا شروع کیا تو علینہ کی سسکیوں میں بھی اضافہ ہونے لگا، گو کہ اسکو ابھی تک تکلیف ہو رہی تھی مگر اس تکلیف کے ساتھ ساتھ ملنے والا مزہ بھی کچھ کم نہ تھا۔

اب کیپٹن دانش سیدھا بیٹھ کے علینہ کی دونوں ٹانگوں کو پھیلا کر اسکی ٹائٹ پھدی میں سپیڈ کے ساتھ دھکے لگا رہا تھا جس سے کبھی علینہ کے منہ سے چیخ نکلتی تو کبھی وہ آہ آہ، آوچ، ام ام ام ام کی آوازیں نکلانے لگتی۔ دانش کا 8 انچ کا لن اپنی جڑ تک علینہ کی چوت میں جا رہا تھا ۔ تھوڑی دیر اسی طرح دھکے لگانے کے بعد اب دانش نے علینہ کو کھڑا ہونے کو کہا، علینہ کھڑی ہوگئی تو دانش نے اسے بولا کہ اوپر والی برتھ کر پکڑ کر کھڑی ہوجائے اور گانڈ میری طرف کر لے، علینہ نے ایسے ہی کیا، جس برتھ پر میجر افتخار سو رہا تھا علینہ نے اس برتھ پر اپنے ہاتھ جما لیے اور اپنی پیٹھ دانش کی طرف کر کے گانڈ باہر نکال کر کھڑی ہوگئی دانش نے علینہ کو ٹانگیں کھولنے کو کہا تو علینہ نے اپنی ٹانگیں مزید کھولیں، دانش نے اپنا ایک بازو علینہ کے پیٹ کے گرد حائل کیا اور دوسرے ہاتھ سے لن کو پکڑ کر علینہ کی چوت پر رکھ دیا اور آہستہ آہستہ دباو بڑھانے لگا۔

چوت گیلی ہونے کی وجہ سے لن آہستہ آہستہ چوت کے اندر پھسلتا ہوا اتر گیا۔ جب مکمل لن علینہ کی چوت میں چلا گیا تو دانش نے ایک بار پھر پیچھے سے دھکے لگانے شروع کیے جس سے علینہ کے ممے ہوا میں رقص کرنے لگے۔ دانش نے جیلی کی طرح ہلتے ہئے مموں کو اپنے ہاتھوں سے پکڑ لیا اور انہیں دبانے لگا اور اس دوران اس نے اپنے دھکوں کی رفتار میں مزید اضافہ کر دیا۔ علینہ کی چوت ایک بار پہلے پانی چھوڑ چکی تھی اور ایک بار پھر اسکو اپنی چوت میں پانی جمع ہوتا محسوس ہورہا تھا، جب دانش نے اپنے دھکوں کو پانچواں گئیر لگایا تو چند منٹ میں ہی علینہ کی چوت نے دانش کے لن پر اپنی گرفت مظبوط کر لی اور اسکے لن کو زور سے دبایا اور ساتھ ہی چوت کی دیواروں سے پانی بہنے لگا۔ ٹائٹ چوت میں پھنسے ہوئے لن پر جب گرما گرم پانی گرا تو اس نے بھی جواب دینا مناسب سمجھا اور اپنی ٹوپی سے گرما گرم دھاریں مارنا شروع کر دیں۔

اچانک دروازے پر دستک ہوئی تو علینہ کو ہو آیا، دانش کے ساتھ ہونے والی یہ پہلی چودائی یاد کر کے علینہ کا ہاتھ اسکو شلوار میں جا چکا تھا اور وہ اپنی چوت سہلا رہی تھی، مگر دروازے پر دستک نے اسکو خیالوں کی دنیا سے باہر نکالا تو اسے ہوش آیا کہ وہ اس وقت دانش کے ساتھ نہیں بلکہ اپنے کمرے میں اکیلی دانش کے لن کو یاد کر کر کے اپنی چوت کو تنگ کر رہی تھی۔


امجد کے پرانے ٹھکانے پر جیسے ہی کرنل وشال کی ٹیم پہنچی انہوں نے سب سے پہلے اس گھر کو گھیرے میں لے لیا اور کمانڈو ایکشن کرتے ہوئے پہلے اندر بے ہوش کرنے والی گیس کے راونڈ فائر کیے اور پھر دیواریں پھلانگتے ہوئے اندر چلے گئے، باری باری دونوں کمروں کی اور پھر کچن کی تلاشی لینے پر بھی جب انہیں کوئی شخص نہ ملا تو انہوں نے کرنل وشال کو اطلاع دی کہ وہ یہاں سے نکل چکے ہیں ۔ کرنل وشال جو باہر موجود گاڑیوں میں ہی ایک گاڑی میں بذاتِ خود موجود تھا وہ اب خود گھر کے اندر داخل ہوا اور خود اپنی تسلی کے لیے ایک مرتبہ دوبارہ سے گھر کی تلاشی لی مگر وہاں کوئی ہوتا تو ملتا۔ پھر کرنل وشال نے وہاں موجود چند رائفلز کو اپنے قبضے میں لیا اور اپنے جوانوں کو کہا ان رائفلز کے ساتھ جدید اسلحہ بھی شامل کر دو اور میڈیا کو بلوا کر ویڈیو بنواو کے یہ جدید اسلحہ دہشت گردوں کے ٹھکانے سے ملا ہے۔

اسکے بعد کرنل وشال باہر آگیا اور سیٹلائیٹ فون کے ذریعے فوری رابطے کے لیے اپنی آئی ٹی ٹیم کو فون کیا جو پہلی ہی بیل پر ریسیو ہوگیا، کرنل وشال نے اپنی آئی ٹی ٹیم کو وہی موبائل نمبر ٹریس آّوٹ کرنے کو کہا جو کچھ دیر پہلے تانیہ کے پاس تھا، کرنل کی ٹیم نے محض چند منٹوں میں نمبر ٹریس کر لیا اور کرنل کو بتایا کہ آپکی لوکیشن سے محض 5 کلومیٹر آگے وہ فون ایک کچے گھر کے قریب موجود ہے۔ اور نمبر بھی آن ہے۔ کرنل نے اپنے سپیشل ٹیبلیٹ پر جی پی ایس کے ذریعے اس موبائل نمبر کی ایگزیکٹ لوکیشن منگوائی اور اپنی ٹیم کو لیکر آگے چل پڑا۔ کچھ ہی دور جا کر کرنل نے جب اپنے ٹیبلیٹ کی سکرین پر دیکھا تو اب اس میں ایک سرخ رنگ کی لائٹ بلنک کر رہی تھی جسکا مطلب تھا کہ کرنل اب میجر دانش سے 2 کلومیٹر ہی دور ہے۔ اور ٹیبلیٹ پر یہ فاصلہ مسلسل کم ہورہا تھا۔ بالاآخر سبز رنگ کی لائٹ جو کرنل کی اپنی لوکیشن بتا رہی تھی اور سرخ رنگ کی لائٹ جو میجر دانش کی لوکیشن ہونی چاہیے تھی اب ایک دوسرے کے اوپر آگئی تھیں۔ یہاں ایک چھوٹا سا گھر تھا جو مٹی کی دیواروں سے بنا تھا اور شاید اس میں ایک ہی کمرہ تھا،

کرنل وشل کے حکم پر تمام گاڑیوں نے اس گھر کے اطراف میں گھیرا ڈال لیا اور ایک بار پھر بے ہوشی والی گیس کے راونڈ فائر کیے اور کمانڈو ایکشن کے ماہر جوانوں نے ماسک چڑھا کر اس کچے مکان پر دھاوا بول دیا۔ محض 2 منٹ کے بعد کمانڈوز باہر نکلے تو انکے ہاتھ میں وہی موبائل فون تھا۔ کرنل کو جب کمانڈوز نے موبائل لا کر دیا تو اس نے غصے سے موبائل زمین پر دے مارا۔ اسکا خیال تھا کہ اب میجر دانش مل جائے گا مگر وہ یہاں بھی کرنل کو چکما دے گیا تھا۔ اب کرنل وشال نے اپنے قافلے کو تیزی کے ساتھ آگے بڑھنے کو کہا۔ ابھی کرنل کا قافلہ کچھ ہی آگے بڑھا تھا کہ اسے ایک فون کال ریسیو ہوئی۔ یہ کال سی آئی ڈی کے اے سی پی کی تھی۔ اس نے کرنل وشال کو بتایا کہ کچھ ہی دیر پہلے ہائی وے نمبر 6 پر ایک نیلے رنگ کی ماروتی سے 2 لوگ ریلائنس گیس سٹیشن کی ٹک شاپ پر شاپنگ کرنے آئے تھے جن میں ایک سکھ تھا جبکہ دوسرا شخص بڑی مونچھوں والا سفید شلوار قمیص میں تھا۔

سکھ دوکاندار سے باتیں کرتا رہا جبکہ دوسرے شخص نے وہاں سے جوس کے 8 ڈبے اور چپس کے کچھ پیکٹس خریدے اور جاتے ہوئے دکاندار کا موبائل چوری کر لیا۔ دکاندار نے اس شخص کے جانے کے بعد جب اپنا موبائل اٹھانا چاہا تو وہ وہاں موجود نہیں تھا ۔ ٹک شاپ میں لگے سی سی ٹی وی کیمرے کی مدد سے دکاندار نے دیکھ لیا کہ اسکا موبائل اسی شخص نے اٹھایا جو کچھ ہی دیر پہلے اسکی دکان میں موجود تھا اور پھر پٹرول ڈلوا کر وہاں سے نیلے رنگ کی ماروتی میں نکل گئے۔ لیکن اندھیرا ہونے کی وجہ سے گاڑی کا نمبر وہ نوٹ نہیں کر سکا اور نہ ہی کوئی کیمرہ اس جگہ موجود تھا جو گاڑی کا نمبر نوٹ کرتا۔

یہ اطلاع ملتے ہی کرنل وشال نے سی آئی ڈی کو حکم دیا کہ وہ جامنگر سے جونا گڑھ اور راجکوٹ جانے والے تمام راستوں پر اپنے لوگوں کو ہائی الرٹ کر دے اور جہاں بھی یہ سکھ اور بڑی مونچھوں والا شخص نظر آئے اسکو فوری گرفتار کر لیا جائے۔ اسکے ساتھ ساتھ ٹک شاپ والے کے سی سی ٹی وی کیمرے کی فوٹیج بھی کرنل وشال نے منگوالی اور اسکا موبائل نمبر بھی منگوایا۔ کرنل کو کچھ ہی دیر میں فوٹیج اور نمبر موصول ہوگئے۔ نمبر کرنل وشال نے آئی ٹی ٹیم کو دیا جو کہ اب بند تھا اور ٹریس نہیں ہو پا رہا تھا، البتہ اسکی آخری لوکیشن اب سے کوئی 20 منٹ قبل جامنگر بائی پاس روڈ پر تھی جہاں سے ایک سڑک راجکوٹ کی طرف جبکہ ایک سڑک جونا گڑھ کی طرف جاتی تھی۔ تیسری سڑک انڈیا کے بڑے شہر احمد آباد کی طرف جاتی تھی مگر وہ یہاں سے بہت دور تھا اسلیے اس بات کا احتمال کم تھا کہ میجر دانش اور اسکے ساتھی احمد آباد جائیں گے۔

یہ ہدایات دے کر کرنل وشال نے اپنے سمارٹ فون میں موصول ہوئی ویڈیو دیکھی جس میں میجر دانش بڑی بڑی مونچھوں کے ساتھ میک میں تھا اور خریداری کر رہا تھا۔ جب میجر دانش بل کی ادائیگی کے لیے امجد کے پاس آیا تو یہاں پر وہ کیمرے کے بالکل سامنے اور بہت قریب تھا، کرنل وشال نے فورا ہی پہچان لیا کہ یہ میجر دانش ہی ہے جس نے حلیہ چینج کر رکھا ہے البتہ امجد کی شکل سے وہ واقف نہیں تھا کہ یہ شخص کون ہے۔ اب کرنل نے اپنی ٹیم کو فورا واپسی کا حکم دیا اور جامنگر بائی پاس روڈ کی طرف جانے لگا۔ کرنل نے اپنی ایک ٹیم کو بائی پاس روڈ سے راجکوٹ جانے والے راستے کی طرف بھیج دیا اور خود جونا گڑھ جانے والے رستے پر چل دیا جہاں سے کچھ دیر قبل ہی میجر دانش اور امجد کے ساتھی مختلف بسوں میں بیٹھ کر جونا گڑھ کی طرف روانہ ہوئے تھے۔ کرنل وشال کو پورا یقین تھا کہ اب کی بار وہ میجر دانش کو پکڑ لے گا اور وہ کرنل کے ہاتھوں سے بچ نہیں پائے گا۔

=================================================

تانیہ اپنی سیٹ پر بالکل خاموشی کے ساتھ بیٹھی تھی جبکہ دانش کرنل وشال کے بارے میں سوچ رہا تھا کہ اب اس گھر میں میجر دانش کو نہ پاکر اور اس موبائل تک پہنچ کر جو میجر نے گاڑی سے باہر پھینکا تھا کرنل وشال کا اگلا لائحہ عمل کیا ہوسکتا ہے؟؟ بس بھی دھیمی رفتار سے اپنی منزل کی طرف رواں دواں تھی۔ میجر دانش مطمئن تھا کہ اسکے پاس ابھی کچھ ٹائم ہے جونا گڑھ جا کر ہی اب وہ کرنل وشال کے بارے میں سوچے گا۔

اب میجر نے اپنی توجہ خاموش بیٹھی تانیہ کی طرف کی اور اس سے پوچھا کہ وہ کب سے امجد اور اسکی ٹیم کے ساتھ کام کر رہی ہے؟؟؟ تو تانیہ نے بتایا کہ وہ امجد کی منہ بھولی بہن ہے اور بچپن سے ہی اس نے دیکھا ہے کہ انڈین آرمی نے کس طرح مسلمانوں پر ظلم کیے ۔ تانیہ نے بتایا کہ اسکا تعلق کشمیر سے ہے اور وہاں انکا پورا خاندان انڈین آرمی کے مظالم کی بھینٹ چڑھ گیا۔ تب سے امجد نے کشمیری مجاہدین کے ساتھ مل کر انڈین آرمی کے خلاف جہاد شروع کیا اور اب پچھلے 3 سال سے وہ انڈیا کے مختلف علاقوں میں انڈین آرمی کو نشانہ بناتے ہیں اور کشمیری مظلوم لوگوں کے ظلم کا بدلہ لیتے ہیں۔

میجر دانش نے پوچھا کہ تمہاری عمر کیا ہے تو تانیہ نے بتایا کہ وہ 20 سال کی ہے اور پچھلے 10 سال سے امجد کے ساتھ ہے۔ پہلے وہ بچی تھی تو امجد کے لیے جاسوسی کا کام کرتی تھی انڈین فوجی بچی سمجھ کر تھانے میں بھی آنے دیتے تھے اور اپنی چوکیوں تک بھی رسائی دیتے تھے تانیہ کو، تانیہ انکے لیے چائے بنا کر لیکر جاتی اور ایک چائے کا کپ 5 روبے میں بیچتی۔ لیکن اسکا اصل مقصد امجد کے لیے جاسوسی کرنا ہوتا تھا۔

دانش نے تانیہ کے سینے پر نظر ڈال کر دل ہی دل میں سوچا کہ 20 سال کی عمر میں ہی تانیہ کے ممے کافی زبردست ہیں، لگتا ہے جیسے کسی 28 سال کی پکی عمر والی عورت کے ممے ہوں۔ پھر میجر دانش نے تانیہ سے پوچھا کہ وہ پڑھی لکھی ہے تو تانیہ نے بتایا کہ کشمیر میں وہ پانچویں کلاس تک پڑھ سکی تھی اسکے بعد سکول چھوڑ دیا مگر امجد کے ساتھیوں میں کچھ پاکستان سے آئے ہوئے پڑھے لکھے لوگ تھے جو امجد اور اسکے ساتھیوں کو پڑھاتے تھے۔ انکی پڑھائی کا مقصد سکول کالج کی ڈگری نہیں بلکہ امجد کے ساتھیوں کو اس قابل بنانا تھا کہ وہ کسی بھی ہائی لیول پروفائل سے ملیں تو اسے یہ محسوس نہ ہو کہ وہ کسی اجنبی سے بات کر رہا ہے۔ اور پھر تانیہ نے 3 سال پہلے انڈیا کے ایک کالج میں ایڈمیشن لے لیا تھا جہاں وہ اپنی تعلیم مکمل کر رہی تھی۔ یہاں بھی تانیہ کا اصل مقصد ڈگری کی بجائے اپنے آپ کو سوسائٹی کے ساتھ اپ ٹو ڈیٹ رکھنا تھا، کمپیوٹر کی تعلیم اور اس میں مہارت کے ساتھ ساتھ تانیہ کو موبائل ٹیکنالوجی کا بھی شوق تھا۔ یہ بات سن کر دانش نے کہا ویسے تمہیں موبائل ٹیکنالوجی کا شوق ہے اور اتنا نہیں پتا کے دشمن کے علاقے میں پاکستانی قیدی کو چھڑوانے آئی ہو اور ساتھ اپنا موبائل بھی لائی ہو۔۔۔۔ یہ کہتے ہوئے میجر دانش کے چہرے پر مسکراہٹ تھی، تانیہ اسکی بات سنکر شرمندہ ہوئی اور بولی مجھے معلوم نہیں تھا کہ کرنل وشال اتنا تیز ہوگا۔ میجر دانش نے تانیہ کو کہا وہ کرنل ہے کوئی عام فوجی نہیں، میں میجر ہوکر اس چیز کو سمجھ گیا تو وہ تو مجھ سے بہت زیادہ ذہین اور شاطر انسان ہے اسکے ساتھ ساتھ راء کا سرگرم رکن بھی ہے وہ۔ اگر وہ چاہے تو اس ٹک شاپ والے کے موبائل سے بھی ہمیں ٹریس کر سکتا ہے۔ ۔۔


یہ بات کر کے دانش کچھ لمحوں کو خاموش ہوا اور پھر فورا ہی اسکے زہن میں خطرے کی گھنٹی بجی۔ جو بات ابھی اس نے تانیہ کو کہی تھی وہ پہلے اس نے خود کیوں نہیں سوچی؟؟؟ پھر میجر دانش نے اپنے زہن پر زور دیا تو اسے یاد آیا کہ ٹک شاپ پر سیکیورٹی کیمرے بھی موجود تھے جس میں یقینا میجر دانش کا چہرہ نظر آیا ہوگا۔ یہ سوچتے ہی میجر دانش نے تانیہ سے پوچھا کہ بس کا سٹاپ کہاں ہوگا تو تانیہ نے بتایا کہ بس کچھ ہی دور جا کر ایک چھوٹا سا قصبہ آئے گا وہاں بس کچھ منٹس کے لیے رکے گی۔ میجر نے تانیہ کہ کہا بس پھر اس سٹاپ پر اترنے کے لیے تیار ہوجاو۔ اور جوس کے ڈبے اور دوسرے کھانے کی اشیا تانیہ کو پکڑا دیں اسکے بعد میجر نے تانیہ کو کہا کہ وہ کنڈیکٹر سے ٹکٹ کے پیسے واپس لینے کی کوشش کرتا ہے تاکہ اگر آگے جا کر اس بس کی تلاشی لی جائے اور بس والے سے انویسٹیگیشن ہو تو اسکو کسی قسم کا شک نہیں ہوگا دانش اور تانیہ پر۔ کیونکہ عام لوگ ہی کرائے کے لیے لڑائی کرتے ہیں اسطرح کے خفیہ ایجینسی کے لوگ تو پیسہ پانی کی طرح بہاتے ہیں ۔ میجر دانش اپنی سیٹ سے اٹھنے ہی لگا تھا کہ تانیہ نے اسکو بازو سے پکڑ کر واپس کھینچ لیا ۔

میجر دانش جھٹکے سے واپس بیٹھا تو تانیہ اسکا دایاں بازو تانیہ کے سینے پر لگا اور اسے تانیہ کے نرم نرم مموں کا لمس محسوس ہوا۔ تانیہ نے بھی شاید اس بات کو محسوس کر لیا تھا مگر اس نے فورا ہی اس چیز کو اگنور کرتے ہوئے دانش کو کہا تم بیٹھو میں بات کرتی ہوں۔ میجر نے پوچھا کیوں مجھے کیا ہے؟؟ تو تانیہ نے اس سے پوچھا کیا تمہیں گجراتی بولی آتی ہے؟؟؟ میجر دانش نے نفی میں سر ہلایا تو تانیہ نے کہا اسی لیے کہ رہی ہوں مجھے بات کرنے دو تاکہ اسے لگے ہم گجرات کے ہی رہنے والے ہیں۔ اس طرح بالکل بھی شک نہیں ہوگا۔ اب پہلی بار میجر دانش نے تانیہ کو تعریفی نظروں سے دیکھا اور تانیہ آگے جا کر بس والے سے کہنے لگی کہ ہمیں اگلے ہی سٹاپ پر اتار دو میری طبیعت خراب ہے میں یہاں خالہ کے گھر رکوں گی، مگر ہمارا ٹکٹ جونا گڑھ تک کا ہے تو ہمیں باقی کا کرایہ واپس کر دو۔

تانیہ یہ سب باتیں گجراتی میں کر رہی تھی، دانش دور بیٹھا اسکی بولی کو سمجھنے کی کوشش کر رہا تھا، کچھ باتوں کا مطلب دانش کو سمجھ میں آیا مگر کچھ باتیں اسکے سر کے اوپر سے گزر گئیں۔ تھوڑی سی تکرار کے بعد تانیہ آدھا کرایا واپس لینے میں کامیاب ہوگئی اور اتنے میں بس سٹاپ بھی آگیا۔ میجر دانش اور تانیہ بس سٹاپ پر اتر گئے۔ میجر نے سب سے پہلے بس سٹاپ پر موجود واش روم کا استعمال کیا اور اپنی مونچھیں اتار نے کے ساتھ ساتھ اپنا منہ بھی پانی سے اچھی طرح دھویا تاکہ میک اپ اتر سکے جو سرمد نے کیا تھا۔ اب دانش اپنے اصل حلیے میں تھا اور کافی وجیہ لگ رہا تھا۔ منہ دھونے کے بعد دانش واپس نکلا تو دوسری جانب جامنگر جانے والی بس کھڑی تھی۔ میجر دانش تانیہ کا ہاتھ پکڑ کر اس باس کی طرف گیا اور 2 ٹکٹ جامنگر کے لیکر بس میں سوار ہوگیا۔


تانیہ نے پریشان نظروں سے پوچھا کہ ہم نے تو جونا گڑھ جانا ہے، میں سمجھی تم بس تبدیل کرنا چاہتے ہو مگر یہ واپسی کیوں؟؟؟ دانش نے تانیہ کہ کہا کیونہ اگر ہم نے واپسی کا سفر نا کیا تو جونا گڑھ جانے والی ہر بس کی تلاشی ہوگی اور کرنل وشال کے آدمی مجھے با آسانی پکڑ لیں گے جبکہ جامنگر جانے والی بسوں کی تلاشی نہیں ہوگی کیونکہ کرنل وشال کے مطابق ہم لوگ جامنگر چھوڑ کر باہر کسی شہر کی طرف جائیں گے اسلیے صرف جامنگر سے باہر جانے والی بسوں کی تلاشی ہوگی۔ اس پر تانیہ نے کہا مگر کرنل وشال کو ہمارے بارے میں کیسے پتہ ہوگا کہ ہم جونا گڑھ جا رہے ہیں اور کار کی بجائے بس میں ہیں؟؟ میجر دانش نے تانیہ کو گھورتے ہوئے دیکھا اور بولا کیونکہ وہ کرنل وشال ہے، تانیہ نہیں۔ یہ کہ کر میجر دانش ایک سیٹ پر بیٹھ گیا، اور تانیہ بھی اسکے آگے سے ہوتی ہوئی اسکے ساتھ والی شیسے والی سیٹ پر بیٹھ گئی۔ جب تانیہ میجر دانش کے آگے سے گزری تو اسکی ٹائٹ پینٹ میں سے تانیہ کے چوتڑ واضح نظر آرہے تھے ، پینٹ ٹائٹ اور چوتڑ بڑے ہوں تو وہ کسی بھی مرد کو دیوانہ بنا دیتے ہیں۔ میجر دانش کے لیے بھی یہ ایک لمحے کا نظارہ دیوانہ کرنے کے لیے کافی تھا۔ اس سے پہلے کہ میجر دانش تانیہ کے چوتڑوں کو بغور دیکھتا تانیہ اپنی سیٹ پر بیٹھ چکی تھی اور دانش دل ہی دل میں تانیہ کی خوبصورتی کا قائل ہوگیا تھا۔

جامنگر واپس جاتے ہوئے تانیہ اور امجد نے دیکھا کہ انکی بس کے پاس سے گاڑیوں کا ایک قافلہ تیزی سے گزرا ہے جو جونا گڑھ کی طرف جا رہا تھا۔ یہ وہی قافلہ تھا جس نے امجد کے پرانے ٹھکانے پر حملہ کیا تھا۔ قافلہ گزر گیا تو دانش نے تانیہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا دیکھ لو، میں نے کہا تھا نہ کہ کرنل وشال کوئی معمولی شخص نہیں اسکی کھوپڑی میں شیطان کا دماغ ہے۔ اسے پتہ لگ گیا کہ ہم جونا گڑھ جا رہے ہیں۔ اب دعا کرو امجد انکے ہاتھ نہ لگے کیونکہ وہ اسی گاڑی میں جا رہا جس گاڑی کو کرنل وشال نے ٹریک کیا ہے۔ یہ سن کر تانیہ پریشان ہوگئی اور امجد اور باقی دونوں کی سلامتی کی دعائیں مانگنے لگی۔

کوئی 30 منٹ کے بعد تانیہ اور دانش جامنگر کے بس سٹیند پر اتر گئے اور پیدل ہی چلتے ہوئے بس سٹینڈ سے دور ایک سائیڈ پر جانے لگے جہاں کچھ چہل پہل تھی۔ رات کے 1 بجنے والے تھے مگر جامنگر میں ابھی بھی چہل پہل تھی اور کاروبارِ زندگی کسی نہ کسی حد تک چل رہا تھا۔ چلتے چلتے اچانک میجر دانش نے تانیہ سے پوچھا کہ اب ہم کہاں جائیں گے؟؟؟ تو تانیہ بھی سوچ میں پڑ گئی کہ جامنگر میں اس ٹھکانے کے علاوہ ہمارے پاس اور کوئی ٹھکانہ نہیں تھا اور ہو سکتا ہے وہاں ابھی بھی جاسوس موجود ہوں۔ دانش نے بھی کہا کہ ہاں وہاں تو ہم نہیں جا سکتے کوئی اور جگہ ڈھونڈنی ہوگی۔ اب تانیہ اور دانش دونوں ہی سوچ میں گم تھے۔ میجر دانش نے پہلے کسی ہوٹل میں قیام کا سوچا مگر پھر یہ سوچ کر اپنا ارادہ ترک کر دیا کہ مبادہ کرنل وشال نے تمام ہوٹلز میں دانش کی تصویر دے رکھی ہو اور وہ جیسے ہی ہوٹل میں جائے ہوٹل انتظامیہ کرنل وشال کو اسکی اطلاع دے دیں۔

ابھی دانش یہی سوچ رہا تھا کہ تانیہ بولی یہاں سے تھوڑی ہی دور ایک ڈانس کلب ہے جو ساری رات کھلا رہتا ہے۔ وہاں چلتے ہیں۔ میجر دانش نے تانیہ کی طرف غور سے دیکھا اور بولا تمہیں معلوم بھی ہے کہ ڈانس کلب کا ماحول کیسا ہوتا ہے؟؟؟ اس پر تانیہ نے کہا کہ میں جاسوسی کا کام بھی کرتی ہوں، اور ایسے ڈانس کلب میں اکثر اوقات انڈین آرمی کے کتے بھی آتے ہیں عورتوں کے جسم کا مزہ اٹھانے تو میں مختف ڈانس کلب میں نہ صرف جاسوسی کر چکی ہوں بلکہ یہاں کے ایک ڈانس کلب میں بطور ڈانسر بھی پرفارم کر چکی ہوں۔۔۔۔ میجر دانش نے پھٹی پھٹی آنکھوں سے تانیہ کی طرف دیکھا اور بولا تم اور ڈانسر؟؟؟؟ تو تانیہ نے کہاں ہاں اس میں ایسی کونسی بات ہے؟ جاسوسی کرنے کے لیے یہ سب کچھ کرنا ہی پڑتا ہے۔ پھر تانیہ بولی بلکہ ایسا کرتے ہیں اسی ڈانس کلب میں چلتے ہیں جہاں میں ڈانسر ہوں، وہاں کا مینیجر مجھے جانتا بھی ہے، وہ ہمیں بغیر شک کیے رات گزارنے کے لیے کمرہ بھی دے دیگا اور ہماری رات بھی سکون سے گزر جائے گی۔۔۔۔

میجر دانش نے تانیہ کی طرف شرارتی نظروں سے دیکھا اور بولا تو تمہارا کہنے کا مطلب ہے کہ تم اور میں ایک ہی کمرے میں سوئیں گے؟؟؟ تانیہ نے میجر کی بات سمجھتے ہوئے کہا ہاں جی۔۔۔ اور صرف سوئیں گے اور کسی چیز کی امید نہ رکھنا۔ البتہ مینیجر کے سامنے تم نے یہی شو کرنا ہے کہ تم میرے بوائے فرینڈ ہو اور ہم "اسی" مقصد کے لیے یہاں آئے ہیں۔ میجر دانش نے انجان بنتے ہوئے کہا کونسے مقصد کے لیے؟؟ تانیہ نے غصے سے میجر کی طرف دیکھا اور بولی ویسے تو تمہیں ہر بات سمجھ آجاتی ہے کرنل وشال کیا کرے گا کدھر جائے گا یہ بھی سمجھ آجاتی ہے، میری بات کی سمجھ کیوں نہیں آئی تمہیں؟؟؟ تانیہ کی یہ بات سن کر میجر کھلکھلا کر ہنس پڑا اور بولا اچھا بابا ٹھیک ہے غصہ کیوں کرتی ہو۔ چلو چلیں۔ مگر میری شرط ہے کہ آج رات میں تمہارا ڈانس دیکھوں گا۔ تانیہ بولی ہاں ٹھیک ہے ویسے بھی ہمارے پاس پیسے کم ہیں تو مینیجر سے کچھ پیسے آیڈوانس مانگوں گی تو وہ دے دیگا مگر اسی شرط پر دے گا کہ میں آج رات وہاں ڈانس کروں۔ ۔۔۔

کچھ ہی دیر میں تانیہ اور میجر دانش ایک لوکل ٹھابے کے سامنے موجود تھے جہاں پان سگریٹ اور بوتلیں وغیرہ دستیاب تھیں۔ تانیہ ٹھابے والے کے پاس گئی اور اس سے پوچھا کہ سکسینا آیا ہے آج؟ ٹھابے والے نے تانیہ کے بڑے بڑے مموں کا جائزہ لیتے ہوئے کہا ہاں آیا ہوا ہے۔ اور آج بڑے بڑے لوگ آئے ہیں اگر پیسے چاہیے تو آج ایک گرما گرم ڈانس کر دے۔ یہ سن کر تانیہ دانش کا ہاتھ پکڑے ٹھابے کی بیک سائیڈ پر گئی جہاں بہت سی گاڑیاں کھڑی تھیں اور سامنے ہی ایک گیٹ موجود تھا۔ ہر طرف اندھیرا تھا۔ تانیہ نے گیٹ کھولا اور سیدھی اندر چلی گئی، میجر دانش بھی اسکے پیچھے پیچھے چلا گیا۔ اب انہیں ہلکے ہلکے میوزک کی آواز سنائی دے رہی تھی۔ جیسے جیسے میجر تانیہ کے پیچھے پیچھے اندر جا رہا تھا میوزک کی آواز تیز ہوتی جا رہی تھی۔ پھر تانیہ نے ایک کمرہ کھولا اور میجر کو اندر لے گئی۔ اندر مختلف ٹیبلز لگے ہوئے تھے جہاں مرد و خواتین کرسیوں پر بیٹھے تھے۔ مردوں کی تعداد زیادہ تھی خواتین 5 سے 6 ہی تھیں۔ مگر وہ شکل سے ہی آوارہ قسم کی خواتین لگ رہی تھیں جو اپنے کسی عاشق کے پاس رات بتانے آئی ہو۔


تانیہ نے میجر دانش کو ایک کرسی پر بیٹھنے کو کہا اور بولی میں مینیجر سے ملنے جا رہی ہوں تم یہیں رہنا اور کسی سے زیادہ بات چیت کرنے کی ضرورت نہیں بس چپ کر کے سامنے موجود لڑکیوں کا ڈانس دیکھتے رہو۔ میجر نے اوکے کہا اور تانیہ اسی دروازے سے واپس چلی گئی جس دروازے سے آئی تھی۔ اب میجر سامنے موجود سٹیج کی طرف دیکھنے لگا جہاں دو ڈانسرشیلا کی جوانی پر بہت ہی سیکسی ڈانس کر رہی تھیں۔ ہاف ڈیپ نیک بلاوز پہنے یہ ڈانسرز کبھی اپنا لک ہلاتیں تو کبھی اپنے ممے ہلا ہلا کر سامنے بیٹھے لوگوں کو دعوتِ نظارہ دے رہی تھیں۔ دانش اپنی جگہ سے اٹھا اور تھوڑا آگے جا کر بیٹھ گیا جہاں سے وہ ان ڈانسرز کے جسم کا صحیح طرح معائنہ کر سکے۔ دونوں ڈانسر کی رنگت گوری تھی اور ممے کم سے کم بھی 38 کے تھے۔ جب وہ آگے جھک کر اپنے ممے ہلاتی تو ہال میں موجود تمام مرد سیٹیاں بجاتے۔

User avatar
sexi munda
Gold Member
Posts: 807
Joined: 12 Jun 2016 12:43

Re: وطن کا سپاہی

Post by sexi munda » 29 Oct 2017 13:38


دانش جانتا تھا کہ اگر اس موقع پر علینہ پر رحم کیا تو اسکو آگے آنے والا مزہ نہیں دے سکے گا اس لیے اس نے علینہ کے آنسوں کی پرواہ کیے بغیر ایک اور دھکا مارا تو علینہ کو لگا جسیے لوہے کا گرم راڈ اسکے جسم میں داخل ہوکر اسکو چیرتا ہوا آگے نکل گیا ہو۔ کیپٹن دانش کے لن کا قریب 6 انچ حصہ علینہ کی چوت میں غائب ہوچکا تھا۔ اور علینہ کی ایک دلخراش چیخ نے پورے کمپارٹمنٹ کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ یہ تو شکر کے پورا کمپارٹنمنٹ خالی تھا وگرنہ دوسرے لوگوں تک علینہ کی یہ دلخراش چیخ ضرور جاتی ۔ البتہ اس چیخ سے اوپر لیٹے میجر افتخار کی نیند میں اتنا خلل ضرور پڑا کہ انہوں نے ایک بار اپنے کان میں انگلی پھیری اور کروٹ لیکر دوسری طرف منہ کر کے پھر سے خراٹے لینے لگے۔

نیچے دانش علینہ کے اوپر جھک کر اسکے ہونٹوں کو چوس رہا تھا تاکہ اسکا درد کچھ کم کیا جا سکے۔ مگر وہ اپنے لن کو بالکل بھی حرکت نہیں دے رہا تھا۔ علینہ کی آنکھوں سے نکلنے والے آنسو دانش نے اپنے ہونٹوں سے پی لیے تھے ۔ کافی دیر دانش علینہ کے ہونٹ چوستا رہااور جب علینہ کے چہرے پر تکلیف کے آثار کچھ کم ہوئے تو نیچے سے کیپٹن دانش نے اپنے لن کو آہستہ آہستہ حرکت دینا شروع کی وہ کوئی ایک انچ کے قریب لن باہر نکالتا اور پھر آہستا سے اتنا ہی لن واپس اندر ڈال دیتا۔ 5 منٹ تک اسی طرح چدائی کرنے کے بعد اب علینہ کی تھوڑی تھوڑی سسکیاں شروع ہوگئیں تھیں جسکا مطلب تھا کہ اب اسکو لن کی حرکت سے مزہ آنے لگا ہے۔ اب دانش نے اپنے کولہوں کو تھوڑا تیز تیز ہلانا شروع کیا تو علینہ کی سسکیوں میں بھی اضافہ ہونے لگا، گو کہ اسکو ابھی تک تکلیف ہو رہی تھی مگر اس تکلیف کے ساتھ ساتھ ملنے والا مزہ بھی کچھ کم نہ تھا۔

اب کیپٹن دانش سیدھا بیٹھ کے علینہ کی دونوں ٹانگوں کو پھیلا کر اسکی ٹائٹ پھدی میں سپیڈ کے ساتھ دھکے لگا رہا تھا جس سے کبھی علینہ کے منہ سے چیخ نکلتی تو کبھی وہ آہ آہ، آوچ، ام ام ام ام کی آوازیں نکلانے لگتی۔ دانش کا 8 انچ کا لن اپنی جڑ تک علینہ کی چوت میں جا رہا تھا ۔ تھوڑی دیر اسی طرح دھکے لگانے کے بعد اب دانش نے علینہ کو کھڑا ہونے کو کہا، علینہ کھڑی ہوگئی تو دانش نے اسے بولا کہ اوپر والی برتھ کر پکڑ کر کھڑی ہوجائے اور گانڈ میری طرف کر لے، علینہ نے ایسے ہی کیا، جس برتھ پر میجر افتخار سو رہا تھا علینہ نے اس برتھ پر اپنے ہاتھ جما لیے اور اپنی پیٹھ دانش کی طرف کر کے گانڈ باہر نکال کر کھڑی ہوگئی دانش نے علینہ کو ٹانگیں کھولنے کو کہا تو علینہ نے اپنی ٹانگیں مزید کھولیں، دانش نے اپنا ایک بازو علینہ کے پیٹ کے گرد حائل کیا اور دوسرے ہاتھ سے لن کو پکڑ کر علینہ کی چوت پر رکھ دیا اور آہستہ آہستہ دباو بڑھانے لگا۔

چوت گیلی ہونے کی وجہ سے لن آہستہ آہستہ چوت کے اندر پھسلتا ہوا اتر گیا۔ جب مکمل لن علینہ کی چوت میں چلا گیا تو دانش نے ایک بار پھر پیچھے سے دھکے لگانے شروع کیے جس سے علینہ کے ممے ہوا میں رقص کرنے لگے۔ دانش نے جیلی کی طرح ہلتے ہئے مموں کو اپنے ہاتھوں سے پکڑ لیا اور انہیں دبانے لگا اور اس دوران اس نے اپنے دھکوں کی رفتار میں مزید اضافہ کر دیا۔ علینہ کی چوت ایک بار پہلے پانی چھوڑ چکی تھی اور ایک بار پھر اسکو اپنی چوت میں پانی جمع ہوتا محسوس ہورہا تھا، جب دانش نے اپنے دھکوں کو پانچواں گئیر لگایا تو چند منٹ میں ہی علینہ کی چوت نے دانش کے لن پر اپنی گرفت مظبوط کر لی اور اسکے لن کو زور سے دبایا اور ساتھ ہی چوت کی دیواروں سے پانی بہنے لگا۔ ٹائٹ چوت میں پھنسے ہوئے لن پر جب گرما گرم پانی گرا تو اس نے بھی جواب دینا مناسب سمجھا اور اپنی ٹوپی سے گرما گرم دھاریں مارنا شروع کر دیں۔

اچانک دروازے پر دستک ہوئی تو علینہ کو ہو آیا، دانش کے ساتھ ہونے والی یہ پہلی چودائی یاد کر کے علینہ کا ہاتھ اسکو شلوار میں جا چکا تھا اور وہ اپنی چوت سہلا رہی تھی، مگر دروازے پر دستک نے اسکو خیالوں کی دنیا سے باہر نکالا تو اسے ہوش آیا کہ وہ اس وقت دانش کے ساتھ نہیں بلکہ اپنے کمرے میں اکیلی دانش کے لن کو یاد کر کر کے اپنی چوت کو تنگ کر رہی تھی۔


امجد کے پرانے ٹھکانے پر جیسے ہی کرنل وشال کی ٹیم پہنچی انہوں نے سب سے پہلے اس گھر کو گھیرے میں لے لیا اور کمانڈو ایکشن کرتے ہوئے پہلے اندر بے ہوش کرنے والی گیس کے راونڈ فائر کیے اور پھر دیواریں پھلانگتے ہوئے اندر چلے گئے، باری باری دونوں کمروں کی اور پھر کچن کی تلاشی لینے پر بھی جب انہیں کوئی شخص نہ ملا تو انہوں نے کرنل وشال کو اطلاع دی کہ وہ یہاں سے نکل چکے ہیں ۔ کرنل وشال جو باہر موجود گاڑیوں میں ہی ایک گاڑی میں بذاتِ خود موجود تھا وہ اب خود گھر کے اندر داخل ہوا اور خود اپنی تسلی کے لیے ایک مرتبہ دوبارہ سے گھر کی تلاشی لی مگر وہاں کوئی ہوتا تو ملتا۔ پھر کرنل وشال نے وہاں موجود چند رائفلز کو اپنے قبضے میں لیا اور اپنے جوانوں کو کہا ان رائفلز کے ساتھ جدید اسلحہ بھی شامل کر دو اور میڈیا کو بلوا کر ویڈیو بنواو کے یہ جدید اسلحہ دہشت گردوں کے ٹھکانے سے ملا ہے۔

اسکے بعد کرنل وشال باہر آگیا اور سیٹلائیٹ فون کے ذریعے فوری رابطے کے لیے اپنی آئی ٹی ٹیم کو فون کیا جو پہلی ہی بیل پر ریسیو ہوگیا، کرنل وشال نے اپنی آئی ٹی ٹیم کو وہی موبائل نمبر ٹریس آّوٹ کرنے کو کہا جو کچھ دیر پہلے تانیہ کے پاس تھا، کرنل کی ٹیم نے محض چند منٹوں میں نمبر ٹریس کر لیا اور کرنل کو بتایا کہ آپکی لوکیشن سے محض 5 کلومیٹر آگے وہ فون ایک کچے گھر کے قریب موجود ہے۔ اور نمبر بھی آن ہے۔ کرنل نے اپنے سپیشل ٹیبلیٹ پر جی پی ایس کے ذریعے اس موبائل نمبر کی ایگزیکٹ لوکیشن منگوائی اور اپنی ٹیم کو لیکر آگے چل پڑا۔ کچھ ہی دور جا کر کرنل نے جب اپنے ٹیبلیٹ کی سکرین پر دیکھا تو اب اس میں ایک سرخ رنگ کی لائٹ بلنک کر رہی تھی جسکا مطلب تھا کہ کرنل اب میجر دانش سے 2 کلومیٹر ہی دور ہے۔ اور ٹیبلیٹ پر یہ فاصلہ مسلسل کم ہورہا تھا۔ بالاآخر سبز رنگ کی لائٹ جو کرنل کی اپنی لوکیشن بتا رہی تھی اور سرخ رنگ کی لائٹ جو میجر دانش کی لوکیشن ہونی چاہیے تھی اب ایک دوسرے کے اوپر آگئی تھیں۔ یہاں ایک چھوٹا سا گھر تھا جو مٹی کی دیواروں سے بنا تھا اور شاید اس میں ایک ہی کمرہ تھا،

کرنل وشل کے حکم پر تمام گاڑیوں نے اس گھر کے اطراف میں گھیرا ڈال لیا اور ایک بار پھر بے ہوشی والی گیس کے راونڈ فائر کیے اور کمانڈو ایکشن کے ماہر جوانوں نے ماسک چڑھا کر اس کچے مکان پر دھاوا بول دیا۔ محض 2 منٹ کے بعد کمانڈوز باہر نکلے تو انکے ہاتھ میں وہی موبائل فون تھا۔ کرنل کو جب کمانڈوز نے موبائل لا کر دیا تو اس نے غصے سے موبائل زمین پر دے مارا۔ اسکا خیال تھا کہ اب میجر دانش مل جائے گا مگر وہ یہاں بھی کرنل کو چکما دے گیا تھا۔ اب کرنل وشال نے اپنے قافلے کو تیزی کے ساتھ آگے بڑھنے کو کہا۔ ابھی کرنل کا قافلہ کچھ ہی آگے بڑھا تھا کہ اسے ایک فون کال ریسیو ہوئی۔ یہ کال سی آئی ڈی کے اے سی پی کی تھی۔ اس نے کرنل وشال کو بتایا کہ کچھ ہی دیر پہلے ہائی وے نمبر 6 پر ایک نیلے رنگ کی ماروتی سے 2 لوگ ریلائنس گیس سٹیشن کی ٹک شاپ پر شاپنگ کرنے آئے تھے جن میں ایک سکھ تھا جبکہ دوسرا شخص بڑی مونچھوں والا سفید شلوار قمیص میں تھا۔

سکھ دوکاندار سے باتیں کرتا رہا جبکہ دوسرے شخص نے وہاں سے جوس کے 8 ڈبے اور چپس کے کچھ پیکٹس خریدے اور جاتے ہوئے دکاندار کا موبائل چوری کر لیا۔ دکاندار نے اس شخص کے جانے کے بعد جب اپنا موبائل اٹھانا چاہا تو وہ وہاں موجود نہیں تھا ۔ ٹک شاپ میں لگے سی سی ٹی وی کیمرے کی مدد سے دکاندار نے دیکھ لیا کہ اسکا موبائل اسی شخص نے اٹھایا جو کچھ ہی دیر پہلے اسکی دکان میں موجود تھا اور پھر پٹرول ڈلوا کر وہاں سے نیلے رنگ کی ماروتی میں نکل گئے۔ لیکن اندھیرا ہونے کی وجہ سے گاڑی کا نمبر وہ نوٹ نہیں کر سکا اور نہ ہی کوئی کیمرہ اس جگہ موجود تھا جو گاڑی کا نمبر نوٹ کرتا۔

یہ اطلاع ملتے ہی کرنل وشال نے سی آئی ڈی کو حکم دیا کہ وہ جامنگر سے جونا گڑھ اور راجکوٹ جانے والے تمام راستوں پر اپنے لوگوں کو ہائی الرٹ کر دے اور جہاں بھی یہ سکھ اور بڑی مونچھوں والا شخص نظر آئے اسکو فوری گرفتار کر لیا جائے۔ اسکے ساتھ ساتھ ٹک شاپ والے کے سی سی ٹی وی کیمرے کی فوٹیج بھی کرنل وشال نے منگوالی اور اسکا موبائل نمبر بھی منگوایا۔ کرنل کو کچھ ہی دیر میں فوٹیج اور نمبر موصول ہوگئے۔ نمبر کرنل وشال نے آئی ٹی ٹیم کو دیا جو کہ اب بند تھا اور ٹریس نہیں ہو پا رہا تھا، البتہ اسکی آخری لوکیشن اب سے کوئی 20 منٹ قبل جامنگر بائی پاس روڈ پر تھی جہاں سے ایک سڑک راجکوٹ کی طرف جبکہ ایک سڑک جونا گڑھ کی طرف جاتی تھی۔ تیسری سڑک انڈیا کے بڑے شہر احمد آباد کی طرف جاتی تھی مگر وہ یہاں سے بہت دور تھا اسلیے اس بات کا احتمال کم تھا کہ میجر دانش اور اسکے ساتھی احمد آباد جائیں گے۔

یہ ہدایات دے کر کرنل وشال نے اپنے سمارٹ فون میں موصول ہوئی ویڈیو دیکھی جس میں میجر دانش بڑی بڑی مونچھوں کے ساتھ میک میں تھا اور خریداری کر رہا تھا۔ جب میجر دانش بل کی ادائیگی کے لیے امجد کے پاس آیا تو یہاں پر وہ کیمرے کے بالکل سامنے اور بہت قریب تھا، کرنل وشال نے فورا ہی پہچان لیا کہ یہ میجر دانش ہی ہے جس نے حلیہ چینج کر رکھا ہے البتہ امجد کی شکل سے وہ واقف نہیں تھا کہ یہ شخص کون ہے۔ اب کرنل نے اپنی ٹیم کو فورا واپسی کا حکم دیا اور جامنگر بائی پاس روڈ کی طرف جانے لگا۔ کرنل نے اپنی ایک ٹیم کو بائی پاس روڈ سے راجکوٹ جانے والے راستے کی طرف بھیج دیا اور خود جونا گڑھ جانے والے رستے پر چل دیا جہاں سے کچھ دیر قبل ہی میجر دانش اور امجد کے ساتھی مختلف بسوں میں بیٹھ کر جونا گڑھ کی طرف روانہ ہوئے تھے۔ کرنل وشال کو پورا یقین تھا کہ اب کی بار وہ میجر دانش کو پکڑ لے گا اور وہ کرنل کے ہاتھوں سے بچ نہیں پائے گا۔

=================================================

تانیہ اپنی سیٹ پر بالکل خاموشی کے ساتھ بیٹھی تھی جبکہ دانش کرنل وشال کے بارے میں سوچ رہا تھا کہ اب اس گھر میں میجر دانش کو نہ پاکر اور اس موبائل تک پہنچ کر جو میجر نے گاڑی سے باہر پھینکا تھا کرنل وشال کا اگلا لائحہ عمل کیا ہوسکتا ہے؟؟ بس بھی دھیمی رفتار سے اپنی منزل کی طرف رواں دواں تھی۔ میجر دانش مطمئن تھا کہ اسکے پاس ابھی کچھ ٹائم ہے جونا گڑھ جا کر ہی اب وہ کرنل وشال کے بارے میں سوچے گا۔

اب میجر نے اپنی توجہ خاموش بیٹھی تانیہ کی طرف کی اور اس سے پوچھا کہ وہ کب سے امجد اور اسکی ٹیم کے ساتھ کام کر رہی ہے؟؟؟ تو تانیہ نے بتایا کہ وہ امجد کی منہ بھولی بہن ہے اور بچپن سے ہی اس نے دیکھا ہے کہ انڈین آرمی نے کس طرح مسلمانوں پر ظلم کیے ۔ تانیہ نے بتایا کہ اسکا تعلق کشمیر سے ہے اور وہاں انکا پورا خاندان انڈین آرمی کے مظالم کی بھینٹ چڑھ گیا۔ تب سے امجد نے کشمیری مجاہدین کے ساتھ مل کر انڈین آرمی کے خلاف جہاد شروع کیا اور اب پچھلے 3 سال سے وہ انڈیا کے مختلف علاقوں میں انڈین آرمی کو نشانہ بناتے ہیں اور کشمیری مظلوم لوگوں کے ظلم کا بدلہ لیتے ہیں۔

میجر دانش نے پوچھا کہ تمہاری عمر کیا ہے تو تانیہ نے بتایا کہ وہ 20 سال کی ہے اور پچھلے 10 سال سے امجد کے ساتھ ہے۔ پہلے وہ بچی تھی تو امجد کے لیے جاسوسی کا کام کرتی تھی انڈین فوجی بچی سمجھ کر تھانے میں بھی آنے دیتے تھے اور اپنی چوکیوں تک بھی رسائی دیتے تھے تانیہ کو، تانیہ انکے لیے چائے بنا کر لیکر جاتی اور ایک چائے کا کپ 5 روبے میں بیچتی۔ لیکن اسکا اصل مقصد امجد کے لیے جاسوسی کرنا ہوتا تھا۔

دانش نے تانیہ کے سینے پر نظر ڈال کر دل ہی دل میں سوچا کہ 20 سال کی عمر میں ہی تانیہ کے ممے کافی زبردست ہیں، لگتا ہے جیسے کسی 28 سال کی پکی عمر والی عورت کے ممے ہوں۔ پھر میجر دانش نے تانیہ سے پوچھا کہ وہ پڑھی لکھی ہے تو تانیہ نے بتایا کہ کشمیر میں وہ پانچویں کلاس تک پڑھ سکی تھی اسکے بعد سکول چھوڑ دیا مگر امجد کے ساتھیوں میں کچھ پاکستان سے آئے ہوئے پڑھے لکھے لوگ تھے جو امجد اور اسکے ساتھیوں کو پڑھاتے تھے۔ انکی پڑھائی کا مقصد سکول کالج کی ڈگری نہیں بلکہ امجد کے ساتھیوں کو اس قابل بنانا تھا کہ وہ کسی بھی ہائی لیول پروفائل سے ملیں تو اسے یہ محسوس نہ ہو کہ وہ کسی اجنبی سے بات کر رہا ہے۔ اور پھر تانیہ نے 3 سال پہلے انڈیا کے ایک کالج میں ایڈمیشن لے لیا تھا جہاں وہ اپنی تعلیم مکمل کر رہی تھی۔ یہاں بھی تانیہ کا اصل مقصد ڈگری کی بجائے اپنے آپ کو سوسائٹی کے ساتھ اپ ٹو ڈیٹ رکھنا تھا، کمپیوٹر کی تعلیم اور اس میں مہارت کے ساتھ ساتھ تانیہ کو موبائل ٹیکنالوجی کا بھی شوق تھا۔ یہ بات سن کر دانش نے کہا ویسے تمہیں موبائل ٹیکنالوجی کا شوق ہے اور اتنا نہیں پتا کے دشمن کے علاقے میں پاکستانی قیدی کو چھڑوانے آئی ہو اور ساتھ اپنا موبائل بھی لائی ہو۔۔۔۔ یہ کہتے ہوئے میجر دانش کے چہرے پر مسکراہٹ تھی، تانیہ اسکی بات سنکر شرمندہ ہوئی اور بولی مجھے معلوم نہیں تھا کہ کرنل وشال اتنا تیز ہوگا۔ میجر دانش نے تانیہ کو کہا وہ کرنل ہے کوئی عام فوجی نہیں، میں میجر ہوکر اس چیز کو سمجھ گیا تو وہ تو مجھ سے بہت زیادہ ذہین اور شاطر انسان ہے اسکے ساتھ ساتھ راء کا سرگرم رکن بھی ہے وہ۔ اگر وہ چاہے تو اس ٹک شاپ والے کے موبائل سے بھی ہمیں ٹریس کر سکتا ہے۔ ۔۔


یہ بات کر کے دانش کچھ لمحوں کو خاموش ہوا اور پھر فورا ہی اسکے زہن میں خطرے کی گھنٹی بجی۔ جو بات ابھی اس نے تانیہ کو کہی تھی وہ پہلے اس نے خود کیوں نہیں سوچی؟؟؟ پھر میجر دانش نے اپنے زہن پر زور دیا تو اسے یاد آیا کہ ٹک شاپ پر سیکیورٹی کیمرے بھی موجود تھے جس میں یقینا میجر دانش کا چہرہ نظر آیا ہوگا۔ یہ سوچتے ہی میجر دانش نے تانیہ سے پوچھا کہ بس کا سٹاپ کہاں ہوگا تو تانیہ نے بتایا کہ بس کچھ ہی دور جا کر ایک چھوٹا سا قصبہ آئے گا وہاں بس کچھ منٹس کے لیے رکے گی۔ میجر نے تانیہ کہ کہا بس پھر اس سٹاپ پر اترنے کے لیے تیار ہوجاو۔ اور جوس کے ڈبے اور دوسرے کھانے کی اشیا تانیہ کو پکڑا دیں اسکے بعد میجر نے تانیہ کو کہا کہ وہ کنڈیکٹر سے ٹکٹ کے پیسے واپس لینے کی کوشش کرتا ہے تاکہ اگر آگے جا کر اس بس کی تلاشی لی جائے اور بس والے سے انویسٹیگیشن ہو تو اسکو کسی قسم کا شک نہیں ہوگا دانش اور تانیہ پر۔ کیونکہ عام لوگ ہی کرائے کے لیے لڑائی کرتے ہیں اسطرح کے خفیہ ایجینسی کے لوگ تو پیسہ پانی کی طرح بہاتے ہیں ۔ میجر دانش اپنی سیٹ سے اٹھنے ہی لگا تھا کہ تانیہ نے اسکو بازو سے پکڑ کر واپس کھینچ لیا ۔

میجر دانش جھٹکے سے واپس بیٹھا تو تانیہ اسکا دایاں بازو تانیہ کے سینے پر لگا اور اسے تانیہ کے نرم نرم مموں کا لمس محسوس ہوا۔ تانیہ نے بھی شاید اس بات کو محسوس کر لیا تھا مگر اس نے فورا ہی اس چیز کو اگنور کرتے ہوئے دانش کو کہا تم بیٹھو میں بات کرتی ہوں۔ میجر نے پوچھا کیوں مجھے کیا ہے؟؟ تو تانیہ نے اس سے پوچھا کیا تمہیں گجراتی بولی آتی ہے؟؟؟ میجر دانش نے نفی میں سر ہلایا تو تانیہ نے کہا اسی لیے کہ رہی ہوں مجھے بات کرنے دو تاکہ اسے لگے ہم گجرات کے ہی رہنے والے ہیں۔ اس طرح بالکل بھی شک نہیں ہوگا۔ اب پہلی بار میجر دانش نے تانیہ کو تعریفی نظروں سے دیکھا اور تانیہ آگے جا کر بس والے سے کہنے لگی کہ ہمیں اگلے ہی سٹاپ پر اتار دو میری طبیعت خراب ہے میں یہاں خالہ کے گھر رکوں گی، مگر ہمارا ٹکٹ جونا گڑھ تک کا ہے تو ہمیں باقی کا کرایہ واپس کر دو۔

تانیہ یہ سب باتیں گجراتی میں کر رہی تھی، دانش دور بیٹھا اسکی بولی کو سمجھنے کی کوشش کر رہا تھا، کچھ باتوں کا مطلب دانش کو سمجھ میں آیا مگر کچھ باتیں اسکے سر کے اوپر سے گزر گئیں۔ تھوڑی سی تکرار کے بعد تانیہ آدھا کرایا واپس لینے میں کامیاب ہوگئی اور اتنے میں بس سٹاپ بھی آگیا۔ میجر دانش اور تانیہ بس سٹاپ پر اتر گئے۔ میجر نے سب سے پہلے بس سٹاپ پر موجود واش روم کا استعمال کیا اور اپنی مونچھیں اتار نے کے ساتھ ساتھ اپنا منہ بھی پانی سے اچھی طرح دھویا تاکہ میک اپ اتر سکے جو سرمد نے کیا تھا۔ اب دانش اپنے اصل حلیے میں تھا اور کافی وجیہ لگ رہا تھا۔ منہ دھونے کے بعد دانش واپس نکلا تو دوسری جانب جامنگر جانے والی بس کھڑی تھی۔ میجر دانش تانیہ کا ہاتھ پکڑ کر اس باس کی طرف گیا اور 2 ٹکٹ جامنگر کے لیکر بس میں سوار ہوگیا۔


تانیہ نے پریشان نظروں سے پوچھا کہ ہم نے تو جونا گڑھ جانا ہے، میں سمجھی تم بس تبدیل کرنا چاہتے ہو مگر یہ واپسی کیوں؟؟؟ دانش نے تانیہ کہ کہا کیونہ اگر ہم نے واپسی کا سفر نا کیا تو جونا گڑھ جانے والی ہر بس کی تلاشی ہوگی اور کرنل وشال کے آدمی مجھے با آسانی پکڑ لیں گے جبکہ جامنگر جانے والی بسوں کی تلاشی نہیں ہوگی کیونکہ کرنل وشال کے مطابق ہم لوگ جامنگر چھوڑ کر باہر کسی شہر کی طرف جائیں گے اسلیے صرف جامنگر سے باہر جانے والی بسوں کی تلاشی ہوگی۔ اس پر تانیہ نے کہا مگر کرنل وشال کو ہمارے بارے میں کیسے پتہ ہوگا کہ ہم جونا گڑھ جا رہے ہیں اور کار کی بجائے بس میں ہیں؟؟ میجر دانش نے تانیہ کو گھورتے ہوئے دیکھا اور بولا کیونکہ وہ کرنل وشال ہے، تانیہ نہیں۔ یہ کہ کر میجر دانش ایک سیٹ پر بیٹھ گیا، اور تانیہ بھی اسکے آگے سے ہوتی ہوئی اسکے ساتھ والی شیسے والی سیٹ پر بیٹھ گئی۔ جب تانیہ میجر دانش کے آگے سے گزری تو اسکی ٹائٹ پینٹ میں سے تانیہ کے چوتڑ واضح نظر آرہے تھے ، پینٹ ٹائٹ اور چوتڑ بڑے ہوں تو وہ کسی بھی مرد کو دیوانہ بنا دیتے ہیں۔ میجر دانش کے لیے بھی یہ ایک لمحے کا نظارہ دیوانہ کرنے کے لیے کافی تھا۔ اس سے پہلے کہ میجر دانش تانیہ کے چوتڑوں کو بغور دیکھتا تانیہ اپنی سیٹ پر بیٹھ چکی تھی اور دانش دل ہی دل میں تانیہ کی خوبصورتی کا قائل ہوگیا تھا۔

جامنگر واپس جاتے ہوئے تانیہ اور امجد نے دیکھا کہ انکی بس کے پاس سے گاڑیوں کا ایک قافلہ تیزی سے گزرا ہے جو جونا گڑھ کی طرف جا رہا تھا۔ یہ وہی قافلہ تھا جس نے امجد کے پرانے ٹھکانے پر حملہ کیا تھا۔ قافلہ گزر گیا تو دانش نے تانیہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا دیکھ لو، میں نے کہا تھا نہ کہ کرنل وشال کوئی معمولی شخص نہیں اسکی کھوپڑی میں شیطان کا دماغ ہے۔ اسے پتہ لگ گیا کہ ہم جونا گڑھ جا رہے ہیں۔ اب دعا کرو امجد انکے ہاتھ نہ لگے کیونکہ وہ اسی گاڑی میں جا رہا جس گاڑی کو کرنل وشال نے ٹریک کیا ہے۔ یہ سن کر تانیہ پریشان ہوگئی اور امجد اور باقی دونوں کی سلامتی کی دعائیں مانگنے لگی۔

کوئی 30 منٹ کے بعد تانیہ اور دانش جامنگر کے بس سٹیند پر اتر گئے اور پیدل ہی چلتے ہوئے بس سٹینڈ سے دور ایک سائیڈ پر جانے لگے جہاں کچھ چہل پہل تھی۔ رات کے 1 بجنے والے تھے مگر جامنگر میں ابھی بھی چہل پہل تھی اور کاروبارِ زندگی کسی نہ کسی حد تک چل رہا تھا۔ چلتے چلتے اچانک میجر دانش نے تانیہ سے پوچھا کہ اب ہم کہاں جائیں گے؟؟؟ تو تانیہ بھی سوچ میں پڑ گئی کہ جامنگر میں اس ٹھکانے کے علاوہ ہمارے پاس اور کوئی ٹھکانہ نہیں تھا اور ہو سکتا ہے وہاں ابھی بھی جاسوس موجود ہوں۔ دانش نے بھی کہا کہ ہاں وہاں تو ہم نہیں جا سکتے کوئی اور جگہ ڈھونڈنی ہوگی۔ اب تانیہ اور دانش دونوں ہی سوچ میں گم تھے۔ میجر دانش نے پہلے کسی ہوٹل میں قیام کا سوچا مگر پھر یہ سوچ کر اپنا ارادہ ترک کر دیا کہ مبادہ کرنل وشال نے تمام ہوٹلز میں دانش کی تصویر دے رکھی ہو اور وہ جیسے ہی ہوٹل میں جائے ہوٹل انتظامیہ کرنل وشال کو اسکی اطلاع دے دیں۔

ابھی دانش یہی سوچ رہا تھا کہ تانیہ بولی یہاں سے تھوڑی ہی دور ایک ڈانس کلب ہے جو ساری رات کھلا رہتا ہے۔ وہاں چلتے ہیں۔ میجر دانش نے تانیہ کی طرف غور سے دیکھا اور بولا تمہیں معلوم بھی ہے کہ ڈانس کلب کا ماحول کیسا ہوتا ہے؟؟؟ اس پر تانیہ نے کہا کہ میں جاسوسی کا کام بھی کرتی ہوں، اور ایسے ڈانس کلب میں اکثر اوقات انڈین آرمی کے کتے بھی آتے ہیں عورتوں کے جسم کا مزہ اٹھانے تو میں مختف ڈانس کلب میں نہ صرف جاسوسی کر چکی ہوں بلکہ یہاں کے ایک ڈانس کلب میں بطور ڈانسر بھی پرفارم کر چکی ہوں۔۔۔۔ میجر دانش نے پھٹی پھٹی آنکھوں سے تانیہ کی طرف دیکھا اور بولا تم اور ڈانسر؟؟؟؟ تو تانیہ نے کہاں ہاں اس میں ایسی کونسی بات ہے؟ جاسوسی کرنے کے لیے یہ سب کچھ کرنا ہی پڑتا ہے۔ پھر تانیہ بولی بلکہ ایسا کرتے ہیں اسی ڈانس کلب میں چلتے ہیں جہاں میں ڈانسر ہوں، وہاں کا مینیجر مجھے جانتا بھی ہے، وہ ہمیں بغیر شک کیے رات گزارنے کے لیے کمرہ بھی دے دیگا اور ہماری رات بھی سکون سے گزر جائے گی۔۔۔۔

میجر دانش نے تانیہ کی طرف شرارتی نظروں سے دیکھا اور بولا تو تمہارا کہنے کا مطلب ہے کہ تم اور میں ایک ہی کمرے میں سوئیں گے؟؟؟ تانیہ نے میجر کی بات سمجھتے ہوئے کہا ہاں جی۔۔۔ اور صرف سوئیں گے اور کسی چیز کی امید نہ رکھنا۔ البتہ مینیجر کے سامنے تم نے یہی شو کرنا ہے کہ تم میرے بوائے فرینڈ ہو اور ہم "اسی" مقصد کے لیے یہاں آئے ہیں۔ میجر دانش نے انجان بنتے ہوئے کہا کونسے مقصد کے لیے؟؟ تانیہ نے غصے سے میجر کی طرف دیکھا اور بولی ویسے تو تمہیں ہر بات سمجھ آجاتی ہے کرنل وشال کیا کرے گا کدھر جائے گا یہ بھی سمجھ آجاتی ہے، میری بات کی سمجھ کیوں نہیں آئی تمہیں؟؟؟ تانیہ کی یہ بات سن کر میجر کھلکھلا کر ہنس پڑا اور بولا اچھا بابا ٹھیک ہے غصہ کیوں کرتی ہو۔ چلو چلیں۔ مگر میری شرط ہے کہ آج رات میں تمہارا ڈانس دیکھوں گا۔ تانیہ بولی ہاں ٹھیک ہے ویسے بھی ہمارے پاس پیسے کم ہیں تو مینیجر سے کچھ پیسے آیڈوانس مانگوں گی تو وہ دے دیگا مگر اسی شرط پر دے گا کہ میں آج رات وہاں ڈانس کروں۔ ۔۔۔

کچھ ہی دیر میں تانیہ اور میجر دانش ایک لوکل ٹھابے کے سامنے موجود تھے جہاں پان سگریٹ اور بوتلیں وغیرہ دستیاب تھیں۔ تانیہ ٹھابے والے کے پاس گئی اور اس سے پوچھا کہ سکسینا آیا ہے آج؟ ٹھابے والے نے تانیہ کے بڑے بڑے مموں کا جائزہ لیتے ہوئے کہا ہاں آیا ہوا ہے۔ اور آج بڑے بڑے لوگ آئے ہیں اگر پیسے چاہیے تو آج ایک گرما گرم ڈانس کر دے۔ یہ سن کر تانیہ دانش کا ہاتھ پکڑے ٹھابے کی بیک سائیڈ پر گئی جہاں بہت سی گاڑیاں کھڑی تھیں اور سامنے ہی ایک گیٹ موجود تھا۔ ہر طرف اندھیرا تھا۔ تانیہ نے گیٹ کھولا اور سیدھی اندر چلی گئی، میجر دانش بھی اسکے پیچھے پیچھے چلا گیا۔ اب انہیں ہلکے ہلکے میوزک کی آواز سنائی دے رہی تھی۔ جیسے جیسے میجر تانیہ کے پیچھے پیچھے اندر جا رہا تھا میوزک کی آواز تیز ہوتی جا رہی تھی۔ پھر تانیہ نے ایک کمرہ کھولا اور میجر کو اندر لے گئی۔ اندر مختلف ٹیبلز لگے ہوئے تھے جہاں مرد و خواتین کرسیوں پر بیٹھے تھے۔ مردوں کی تعداد زیادہ تھی خواتین 5 سے 6 ہی تھیں۔ مگر وہ شکل سے ہی آوارہ قسم کی خواتین لگ رہی تھیں جو اپنے کسی عاشق کے پاس رات بتانے آئی ہو۔


تانیہ نے میجر دانش کو ایک کرسی پر بیٹھنے کو کہا اور بولی میں مینیجر سے ملنے جا رہی ہوں تم یہیں رہنا اور کسی سے زیادہ بات چیت کرنے کی ضرورت نہیں بس چپ کر کے سامنے موجود لڑکیوں کا ڈانس دیکھتے رہو۔ میجر نے اوکے کہا اور تانیہ اسی دروازے سے واپس چلی گئی جس دروازے سے آئی تھی۔ اب میجر سامنے موجود سٹیج کی طرف دیکھنے لگا جہاں دو ڈانسرشیلا کی جوانی پر بہت ہی سیکسی ڈانس کر رہی تھیں۔ ہاف ڈیپ نیک بلاوز پہنے یہ ڈانسرز کبھی اپنا لک ہلاتیں تو کبھی اپنے ممے ہلا ہلا کر سامنے بیٹھے لوگوں کو دعوتِ نظارہ دے رہی تھیں۔ دانش اپنی جگہ سے اٹھا اور تھوڑا آگے جا کر بیٹھ گیا جہاں سے وہ ان ڈانسرز کے جسم کا صحیح طرح معائنہ کر سکے۔ دونوں ڈانسر کی رنگت گوری تھی اور ممے کم سے کم بھی 38 کے تھے۔ جب وہ آگے جھک کر اپنے ممے ہلاتی تو ہال میں موجود تمام مرد سیٹیاں بجاتے۔

User avatar
sexi munda
Gold Member
Posts: 807
Joined: 12 Jun 2016 12:43

Re: وطن کا سپاہی

Post by sexi munda » 29 Oct 2017 13:39


میجر کے ساتھ اسی ٹیبل پر ایک اور مرد بھی بیٹھا تھا جس نے کافی پی رکھی تھی اور وہ بار بار ایک ڈانسر کی طرف فلائینگ کس اچھال رہا تھا۔ اب گانا چینج ہوگیا تھا اور سلمان خان کی فلم کا مشہور گانا منی بدنام ہوئی چل رہا تھا۔ اس پر بھی دونوں ڈانسرز کا جسم تھرکنے لگا تھا۔ کچھ دیر بعد ایک ڈانسر جس نے سرخ رنگ کا بلاوز پہن رکھا تھا، بلکہ یہ بلاوز کم اور برا زیادہ تھا جس میں اسکے 38 سائز کے مموں کا زیادہ تر حصہ نظر آرہا تھا اپنا لک ہلاتی ہوئی سٹیج سے نیچے اتر آئی اورمیجر دانش کے ٹیبل پر بیٹھے دوسرے شخص کے سامنے آکر ڈانس کرنے لگی، اس نے اپنی پیٹھ اس شخص کی طرف کی اور چوتڑ باہر نکال کر انہیں ہلانے لگی، اس شخص نے ڈانسر کے چوتڑوں پر ایک چماٹ ماری اور اپنی جیب سے اپنا بٹوہ نکال کر اسمیں سے کچھ پیسے نکالے اور ڈانسر کا لہنگا اپنی طرف کھینچ کر اس میں پیسے پھنسا دیے۔

اب یہی ڈانسر میجر دانش کی طرف آئی اور اپنی ایک ٹانگ اٹھا کر میجر دانش کے گھٹنے پر رکھ دی، ڈانسر کا گھاگھرا سائڈ کٹ والا تھا لہذا ٹانگ اٹھاتے ہی گھاگھرا سائیڈ پر سرک گیا اور اسکی سفید بالوں سے پاک ٹانگ تھائیز تک ننگی ہوگئی، میجر دانش نے اپنا ہاتھ اٹھایا اور اسکی نرم نرم تھائیز پر پھیرنے لگا۔ اب ڈانسر نے اپنی ٹانگ واپس نیچے رکھی اور میجر دانش کی گود میں بیٹھ گئی، اس نے اپنے دونوں گھٹنے میجر دانش کی گودمیں رکھے اور گھٹنوں کے بل بیٹھ گئی۔ اب وہ اپنے جسم کو گول دائرے میں گھمانے لگی، اسکے بڑے بڑے ممے دانش کی آنکھوں کے سامنے تھے جنکو دیکھ کر دانش کی شلوار میں اسکے لن نے سر اٹھانا شروع کر دیا تھا۔ میجر دانش نے اپنی جیب میں ہاتھ ڈال کر ایک نوٹ نکالا اور اس ڈانسر کا برا پکڑ کر تھوڑا سا کھینچا اور وہ نوٹ اسکے برا میں پھنسا دیا، اس دوران میجر دانش نے ڈانس کے نرم نرم مموں کا لمس اپنے ہاتھوں پر محسوس کیا اور نوٹ اسکے برا میں رکھتے ہوئے اپنی ایک انگلی سے اسکے نپل کو بھی چھو لیا تھا جس پر ڈانسر نے ڈانس کرتے کرتے ایک سسکی بھری اور میجر دانش کو مسکرا کر دیکھا اور پھر اسکی گود سے اتر کو دوسرے ٹیبل کی طرف چلی گئی۔ اب میجر دانش کے ساتھ والا شخص دوسری ڈانسر کو بھی اپنی طرف بلانے لگا اور شراب کے نشے میں دھت ہو کر بولا آجا بے بی تجھے بتاوں ایک آرمی آفیسر کے ساتھ رات گزارنے کا کتنا مزہ آتا ہے۔۔۔۔ میجر کے کانوں میں یہ آواز پڑی تو وہ چوکنا ہوگیا اسکے ساتھ بیٹھا شخص انڈین آرمی کا جوان تھا مگر اس وقت اسنے خو پی رکھی تھی۔ میجر دانش نے دیکھا کہ اسکی جیب سے اسکا بٹوہ باہر نکلا رہا ہے ، میجر نے ہاتھ آگے بڑھایا اور چپکے سے اسکا بٹوہ نکال کر اپنی جیب میں ڈال لیا۔

میجر جیب کاٹنے میں ماہر تھا کیونکہ آئی ایس آئی میں ٹرینگ کے دوران اسے ان چیزوں کی بھی تربیت دی گئی تھی، تاکہ وقت پڑنے پر وہ کسی بھی جاسوس یا دہشت گرد کی جیب پر ہاتھ ڈال سکیں، مبادہ کوئی کام کی چیز ہی مل جائے۔ اسکے علاوہ بھکاری بن کر کسی جگہ پر بھیک مانگنا تاکہ جاسوسی کی جا سکے ، سبزی کی ریڑھی لگا کر محلوں میں جا کر سبزی بیچنا، پٹھان کے روپ میں چھوٹی چھوٹی چیزیں گلی محلوں میں بیچنا ان سب چیزوں کی باقاعدہ ٹریننگ دی جاتی ہے آئی آیس آئی میں۔ اور میجر دانش بھی یہ ٹریننگ حاصل کر چکا تھا لہذا اس نے بغیر اس شخص کےعلم میں لائے اسکا بٹوہ چپکے سے نکال لیا اور اپنی جیب میں رکھ لیا۔

اب اچانک ہی ہال میں بجنے والا گانا بند ہوگیا اور مائیک پر ایک شخص نے اناونس کیا : تمام لوگ اپنے اپنے دل دھام لیں، کیونکہ اب آپکے سامنے آرہی ہے اس ڈانس کلب کی رونق، جوان قاتل حسینہ، آپکے دلوں پر راج کرنے والی ڈانسر، مِس تانیہ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تانیہ کا نام سنتے ہی ہال تالیوں سے گونجنے لگا۔ میجر کو اندازہ ہوگیا تھا کہ تانیہ واقعی اس ڈانس کلب کی مشہور ڈانسر ہوگی اور یہاں سب لوگ ہی اسکے ڈانس کے دلدادہ تھے۔

اب سٹیج پر ایک دم اندھیرا ہوگیا اور پھر اچانک ایک سپاٹ لائٹ آن ہوئی جس میں ایک لڑکی کھڑی تھی، لڑکی نے اپنے جسم کے آگے دونوں ہاتھوں سے اپنے لہنگے کے کپڑے کا کچھ حصہ کیا ہوا تھا اور اسکا سر نیچے جھکا ہوا تھا۔ یہ کپڑا لڑکی کے چہرے، سینے اور پیٹ تک کو چھپا رہا تھا جبکہ اسکے نیچے لڑکی کی ٹانگیں تقریبا ننگی ہی تھیں۔ اس لڑکی نے بھی سائیڈ کٹ لہنگا پہن رکھا تھا، مگر یہ لہنگا سائیڈ کٹ کے ساتھ ساتھ فرنٹ اور بیک کٹ بھی تھا۔ یعنی باریک کپڑے کی محض 4 پٹیاں تھیں جو اسکے کولہوں سے ہوتی ہوئیں پاوں تک آرہی تھیں مگر اسکی ٹانگوں کا زیادہ تر حصہ نظر آرہا تھا۔

میجر دانش سمیت پورے ہال میں موجود مردوں کا دھیان اب تانیہ کی طرف تھا جبکہ باقی دونوں ڈانسر اب یہاں سے جا چکی تھیں۔ اب ایک عربی میوزک سٹار ہوا تو تانیہ نے اپنا لک ہلانا شروع کیا، حیرت انگیز طور پر تانیہ کا پورا جسم ساکت تھا محض اسکا لک دائیں بائیں ہل رہا تھا۔ جیسے جیسے میوزک چینج ہوتا تانیہ کے لک کی حرکت بھی اسی کے حساب سے چینج ہوتی۔ اب تانیہ نے منہ دوسری طرف کر لیا اور اپنی پیٹھ ہال کی طرف کی تو میجر دانش تو یہ نظارہ دیکھ کر بے ہوش ہی ہوگیا، تانیہ کی کمر مکمل ننگی تھی محض اسکے برا کی ڈوریاں موجود تھیں کمر پر اور نیچے اسکے لہنگے کا کمر بند تھا جو محض اسکے چوتڑوں کو چھپا رہا تھا اور نیچے وہی 4 پٹیاں جو تانیہ کی ٹانگوں کو چھپانے کے لیے ناکافی تھیں۔ میجر دانش کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ تانیہ اس درجے کی سیکسی ڈانسر ہوگی۔


تانیہ ابھی بھِی اپنی پتلی کمریا ہال کی جانب کیے اپنے کولہوں کو ہلا رہی تھی پھر اچانک میوزک رکا تو تانیہ کے لک کی حرکت بھی رک گئی، پھر اچانک سے ہی میوزک دوبارہ سٹارٹ ہوا تو تانیہ نے دوبارہ اپنا چہرہ ہال کی طرف کیا اور اس بار وہ کپڑا جو اس نے اپنے ہاتھوں سے جسم کے آگے کر رکھا تھا وہ نیچے گرا دیا، تانیہ نے چہرے پر عربی لڑکیوں کی طرح باریک سےکپڑے کا نقاب کر رکھا تھا جس پر سنہرے رنگ کے موتی لگے ہوئے تھے اور تانیہ کا برا اسکے مموں کے اوپر والے حصوں کو چھپانے کے لیے ناکافی تھا۔ ٹائٹ برا نے تانیہ کے مموں کو آپس میں ملا کر بہت ہی خوبصورت کلیویج لائن بنا رکھی تھی اور نیچے اسکا دودھیا بدن قیامت ڈھا رہا تھا۔ اب تانیہ نے عربی میوزک پر بیلی ڈانس شروع کر دیا تھا۔

میوزک کی تھاپ کے ساتھ ساتھ تانیہ کبھی اپنے کولہوں کو ہلاتی تو کبھی اپنے پیٹ کے مسلز کو حرکت دیتی اور کبھی اپنے مموں کو ہلاتی۔ تانیہ بیلی ڈانس میں ماہر تھی، کسی پروفیشنل کی طرح جب وہ اپنے ممے ہلاتی تو اسکا پورا جسم ساکت ہوتا محض اسکے ممے اوپر نیچے یا دائیں بائیں ہلتے تھے۔ میجر دانش کو بیلی ڈانس بہت پسند تھا اور وہ اکثر یو ٹیوب پر عربی یا کویتی لڑکیوں کا بیلی ڈانس دیکھتا تھا، مگر آج وہ لائیو تانیہ جیسی جوان اور گرم حسینہ کا بیلی ڈانس دیکھ رہا تھا۔ 5 منٹ تک یہ عربی میوزک چلتا رہا اور تانیہ اپنے جسم کے مختلف حصوں کو حرکت دے کر ہال میں موجود مردوں کے لوڑوں کو بغیر چھوئے کھڑا کرتی رہی۔

اب میوزک رکا اور انڈین ریمکس سانگ پردیسیا یہ سچ ہے پیا لگ گیا۔ اب اس گانے پر تانیہ نے دیسی انڈین ڈانس شروع کیا اور اسکے جسم کے ہر ٹھمکے پر ہال مِں موجود لوگوں سیٹیاں بجاتے اور اسکو داد دیتے۔ تانیہ نے اب اپنے چہرے پر موجود برائے نام نقاب اتار دیا تھا اور اب وہ بھی سٹیج سے اتر کر نیچے آگئی جہاں وہ سب سے پہلے ایک ٹیبل پر بیٹھے مرد اور عورت کے درمیان میں جا کر بیٹھ گئی، تانیہ صوفے پر گھٹنے رکھ کر بیٹھ گئی اور اپنا چہرہ عورت کی طرف اور اپنی پیٹھ مرد کی طرف کر دی، مرد تانیہ کی پتلی کمر اور موٹی گانڈ دیکھ کر پاگل ہوگیا اور اسنے جیب سے پیسے نکال کر تانیہ کے لہنگے کے کمر بند میں پھنسا دیےجبکہ تانیہ نے عورت کے ہونٹوں پر ہونٹ رکھ کر ایک کس کی جس سے پورا ہال تالیوں سے گونج اٹھا اور اس عورت نے بھی اپنے برا میں ہاتھ ڈال کر کچھ پیسے نکالے اور تانیہ کی کمر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے اپنا ہاتھ اسکے لہنگے میں ڈال کر پیسے اسکی پینٹی میں پھنسا دیے اور تانیہ کے لبوں پر ایک کس کر دی۔ اب تانیہ اس ٹیبل سے اٹھی اور دوسرے ٹیبل پر گئی وہاں بھی بیٹھے مرد وں نے تانیہ کے کپڑوں میں پیسے ٹھونس دیے پھر تانیہ میجر دانش کے ٹیبل کی طرف آئی اور اسکی گود میں بیٹھ گئی۔

میجر دانش کا لن تانیہ کا جسم دیکھ کر پہلے ہی کھڑا ہو چکا تھا، جیسے ہی تانیہ اپنی گانڈ میجر کی گود میں رکھ کر بیٹھی نیچے سے لن نے مزید سر اٹھا لیا، تانیہ کو اپنی گانڈ پر میجر کا لن محسوس ہوا تو اس نے حیرانگی سے میجر کی طرف دیکھا مگر میجر نے ایسے ظاہر کیا جیسے اسے علم ہی نہ ہو کہ اسکا لوڑا کھڑا ہے۔ تانیہ میجر کی گود میں بیٹھ کر آدھی لیٹ گئی اور میجر کی گردن میں بانہیں ڈال دیں اور اپنی ٹانگیں ساتھ بیٹھے دوسرے شخص کی گود میں رکھ دیں، اس نے اپنے دونوں ہاتھ تانیہ کی گرم ٹانگوں پر پھیرنا شروع کیے جبکہ میجر نے اپنا ہاتھ تانیہ کی گردن سے لیکر اسکی ناف تک پھیرا۔ درمیان میں تانیہ کے پہاڑ جیسے ممے بھی آئے جن پر میجر دانش نے بلا جھجک اپنا ہاتھ پھیرا اور آہستہ سے انکو دبا بھی دیا، تانیہ نے بھی ایک ہلکی سی سسکی لی۔ اب میجر دانش نے اپنی جیب سے ایک اور نوٹ نکالا اور تانیہ کے برا میں پھنسا دیا، اس دوران میجر دانش نے پہلے کی ہی طرح تانیہ کے مموں کو پکڑ کر دبا دیا جس سے تانیہ نے شکایتی نظروں سے میجر کی طرف دیکھا۔

اب تانیہ میجر کی گود سے اٹھنے لگی تو میجر نے اپنا منہ تانیہ کے کانوں کے قریب کر لیا اور اسے سرگوشی میں کہا کہ ساتھ والا شخص انڈین آرمی کا جوان ہے، اس پر کچھ خاص توجہ دو، شاید کوئی کام کی بات نکل سکے۔ یہ کہ کر میجر نے تانیہ کو اپنی گود سے اتارا اور ہال سے باہر نکل گیا، جبکہ تانیہ اب میجر کی بات کے مطابق دوسرے شخص کی گود میں بیٹھی اسے اپنے جسم کا نظارہ کروانے لگی۔

میجر دانش کمرے سے باہر نکلا تو وہ اب واش روم کی تلاش میں تھا، کیونکہ پہلے والی ڈانسر کے نپل کو چھو کر اور اب تانیہ کے مموں کا لمس پا کر اسکی گانڈ کو اپنے لن پر محسوس کر کے میجر کا لن بری طرح سخت ہورہا تھا اور میجر کو اب مٹھ مارنی تھی۔ میجر ابھی ادھر ادھر ہی گھوم رہا تھا کہ ایک کمرے سے وہی ڈانسر نکلی جو تانیہ سے پہلے منی بدنام ہوئی گانے پر ڈانس کر رہی تھی۔ اس نے میجر کو دیکھا تو آنکھ ماری اور بولی، صاحب حکم کرو اگر میں آپکے کسی کام آسکتی ہوں تو بتاو۔ میجر اسکا اشارہ سمجھ گیا تھا، میجر نے اسکو کمر سے پکڑ کر اپنے نزدیک کیا اور بولا ایک تم ہی ہو جو اس وقت میرے کام آسکتی ہو۔ میجر کی یہ بات سن کر اس ڈانسر نے میجر کو بازو سے پکڑا اور کھینچتی ہوئی اپنے کمرے میں لے گئی۔

================================================== ==================

کرنل وشال اب جونا گڑھ جانے والی روڈ پر اپنے قافلے کے ساتھ بہت تیزی سے بڑھ رہا تھا۔ کرنل کی گاڑی سب سے آگے تھی، کچھ ہی دیر بعد کرنل کو دور ایک گاڑی نظر آئی۔ قریب جانے پر معلوم ہوا کہ یہ سوزوکی ماروتی ہے جو نیلے رنگ کی ہے۔ مگر اسکا نمبر وہ نہیں جو میجر دانش کی گاڑی کا تھا۔ کرنل وشال سمجھ گیا تھا کہ انہوں نے نمبر تبدیل کر لیا ہے۔ اس نے ڈرائیور کو کہا کہ اس گاڑی کو روکے۔ ڈرائیور نے کراسنگ کرتے ہوئے اپنی گاڑی سوزوکی ماروتی کے ساتھ لگائی اور کراس کرنے کے بعد اسکے سامنے جا کر ایک زور دار بریک ماری جس کی وجہ سے پچھلی گاڑی میں جوجود امجد کو بھی بریک مارنی پڑی۔ وہ سمجھ گیا تھا کہ یہ کرنل وشال کی ہی گاڑی ہوگی جو معلوم نہیں کیسے بیدی روڈ کو چھوڑ کر انکے پیچھے جونا گڑھ جانے والے راستے تک پہنچ گئے ہیں۔

گاڑی رکی تو امجد نے فورا ہی اپنے چہرے کے تاثرات ایسے بنا لیے جیسے وہ اس اچانک حملے سے بہت زیادہ ڈر گیا ہو۔ کرنل وشال نے اپنی گاڑی کا دروازہ کھولا اور نیچے اتر آیا ، اس سے پہلے کہ کرنل وشال امجد کی گاڑی تک پہنچتا کرنل وشال کے کمانڈوز نے امجد کی گاڑی کا دروازہ کھول کر اسکو باہر نکال لیا تھا اور پچھلے دروازے سے بھی چیک کر چکے تھے کہ گاڑی کے اندر کوئی اور موجود نہیں ہے۔ جب کرنل وشال امجد کے قریب آیا تو امجد کے ہاتھ اسکی کمر پر باندھے ہوئے تھے اور اسکو گاڑی کے بونٹ کے اوپر اندھا کیا ہوا تھا کمانڈوز نے۔

کرنل وشال نے امجد کے قریب آکر پہلے گاڑی میں جھانکا جہاں کوئی نہیں تھا اور پھر امجد کو سیدھا کھڑا کیا۔ جونہی امجد نے کرنل وشال کی طرف منہ کیا ایک زور دار طمانچہ امجد کے گال پر پڑا اور اسکو تارے نظر آنے لگے۔ ساتھ ہی کرنل وشال کی کرخت آواز آئی اور وہ بولا کہاں بھیجا ہے باقی لوگوں کو؟؟؟ امجد نے رونی شکل بنا کر کہا بھا جی میں کدرے نئی بھیجیا اونہا نو، او تے آپئی میری گڈی تو تھلے لے گئے سی ۔ کرنل وشال نے ایک اور تھپڑ مارا اور بولا سیدھی طرح بتا کہاں ہیں تیرے ساتھی؟؟؟ اب کی بار امجد نے واقعی میں روتے ہوئے کہا کہ صاحب جی میری گل دا یقین کرو، او ایک کڑی سی تے 2 منڈے۔ اونہاں نے میری گڈی کھو لئی سی تے مینو ایک پرانی جئی جگہ وچ قید کر دِتا سی۔ آج شامی او منڈا گڈی لے کے آیا تے اودے نال ایک کڑی تے ایک منڈا ہور وی سی ۔۔۔ کڑی دی عمر 20 سال تو لے کے 23 سال تک ہوئے گی تے دونوں منڈیاں دی عمراں 30 سال تو 35 سال تک ہونگیاں۔ اونہاں نے میرے تے بڑا ای ظلم کیتا جے۔ پہلے میں اونہاں کولوں کُٹ کھائی اے تو ہن توسی مینو مار ریے ہو میں پوچھداں آخر میرا قصور کی اے۔

یہ کہتے ہوئے امجد زمین پر بیٹھ گیا اور رونے لگا۔ کرنل وشال اب اپنے ساتھیوں کی طرف دیکھنے لگا کہ یہ کیا نیا ڈرامہ ہے؟؟؟ مگر پھر اس نے امجد کو اسکے سر کے بالوں سے پکڑا اور بال کھینچتے ہوئے دوبارہ کھڑا کر دیا۔ اور بولا سچ سچ بتا اس گیس پمپ پر تم دونوں اکٹھے تھے سی سی ٹی فوٹیج میں دیکھ لیا میں نے دوسرے شخص نے کچھ چیزیں خریدیں اور تم نے اسکے پیسے دیے۔ تم ملے ہوئے ہو انکے ساتھ اور گاڑی کا نمبر بھی جعلی لگا کر گاڑی چلا رہے ہو۔۔۔ سچ سچ بتاو کہاں دہشت گردی کا پروگرام ہے تمہارا۔۔۔

یہ سن کر امجد بولا نہ صاحب نہ، میں دہشت گرد نئی۔ بابا گرو نانک دی سو، میں دہشت گرد نئی جے۔ گیس پمپ تے پیسے میں ہی دتے سی، پر میں ہور کر وی کی سکداں ساں؟ اس منڈے کولوں پستول سی، تے میری گڈی چے دوسری کڑی تے ایک منڈاں ہور وی سی۔ مینو دسوں میں اونہا دے کہے پیسے نا دندا تے او مینو چھڈدے بھلا؟؟؟ تے رہی گل میری گڈی دے نمبر دی، تسی چیک کر لو بالکل اصلی نمبر ہیگا میری گڈی دا، میری اپنی گڈی اے۔ کرنل وشال نے اپنے ٹیبلیٹ پر امجد کی گاڑی کا نمبر اینٹر کیا تو وہ واقعی رجسٹرد نمبر تھا اور اسی گاڑی کا تھا۔ اب میجر تھوڑا ٹھنڈا ہوا اور اور امجد سے اس کا نام پوچھا تو امجد نے اپنا نام سردار سنجیت سنگھ بتایا ۔ کرنل نے امجد کی جیب میں ہاتھ ڈالا اور اسکی جیب سے اسکا ڈرائیونگ لائسنس اور راشن کارڈ برآمد ہوا ۔ اس پر بھی اسکا نام سردار سنجیت سنگھ درج تھا۔ اب کرنل وشال اور ڈھیلا پڑ گیا۔ مگر اسے ابھی بھی کہیں نہ کہیں شک تھا کہ یہ میجر دانش کے ساتھ ملا ہوا ہے۔ اس نے امجد سے پوچھا کہ تم اب کہاں جارہے ہو؟؟؟ تو امجد نے بتایا کہ وہ جونا گڑھ جا رہا ہے۔ کرنل نے پوچھا جونا گڑھ کس کے پاس جا رہے ہو تم تو امجد نے بتایا کہ مجھے نہیں پتا، بس ان لوگوں نے ایک بس سٹاپ پر اتر کر مجھے کہا کہ تم یہاں سے سیدھے جونا گڑھ جاو گے اور وہیں ہم تمہیں ملیں گے۔

کرنل نے پوچھا کہ وہ تم سے جونا گڑھ میں کب اور کہاں ملیں گے؟؟؟ تو امجد نے بتایا یہ میں نہیں جانتا صاحب، بس انہوں نے مجھے اتنا ہی کہا تھا کہ جونا گڑھ شہر میں داخل ہوتے ہی دائیں ہاتھ پر پٹرول پمپ آئے گا تم اپنی گاڑی وہاں لگا دینا۔ اور خبردار جو پولیس کو کال کرنے کی کوشش کی نہیں تو تمہاری لاش کے پرخچے اڑا دیے جائیں گے۔ پھر امجد مزید مسکین شکل بناتا ہوا بولا، صاحب مجھے تو وہ بہت خطرناک لوگ لگتے ہیں، خاص طور پر ان دونوں کے ساتھ جو لڑکی تھی وہ بہت تیز تھی اور اسی نے گن پوائنٹ پر میرے سے دوپہر میں گاڑی چھینی تھی۔ اور گن کا پچھلا حصہ میری گردن میں مار کر مجھے بے ہوش کیا تھا۔

اب کرنل وشال نے امجد کو کہا تم ہمارے ساتھ جونا گڑھ چلو گے اور اس پٹرول پمپ پر کھڑے ہوجاو گے ہم دور سے تمہاری نگرانی کریں گے۔ یہ سن کر امجد نے کرنل وشال کو کہا سر مجھے نہیں لگتا کہ وہ جونا گڑھ جائیں گے۔ بھلا کوئی دہشت گرد ایسے بھی کرتا ہے کہ اپنے ملنے کا ٹھکانہ اتنی آسانی سے بتا دے۔ یہ ضرور انکی چال ہے تاکہ اگر میں پولیس کو اطلاع دوں بھی صحیح تو پولیس انکی تلاش میں جونا گڑھ کے پٹرول پمپ کی نگرانی کرتے رہے اور وہ تسلی سے اپنی کاروائی کر سکیں۔ امجد کی یہ بات سن کر کرنل وشال سوچ میں پڑگیا تھا۔ اب اس نے امجد سے پوچھا کہ وہ لوگ کہاں اترے تھے تمہاری گاڑی سے تو امجد نے ٹھیک وہی جگہ بتا دی جہاں وہ اترے تھے۔ کرنل وشال نے کہا اسکا مطلب ہے کو وہ بس میں جائیں گے جونا گڑھ ۔ یہ کہ کر کرنل وشال نے سی آئی ڈی کو کال کر کے تمام بسوں کی چیکنگ کا کہا اور ایک لڑکی جسکی عمر 20 سے 25 سال ہوگی اور 2 آدمی جو 30 سے 35 سال کی عمر کے ہونگے انکو ہر بس اور ہر پبلک ٹرانسپورٹ میں اچھی طرح تلاش کیا جائے اسکے علاوہ کوئی بھی پرائیویٹ گاڑی بغیر چیکنگ کے چیک پوسٹ سے نہ گزر سکے۔

کرنل کی بات ختم ہوئی تو امجد بولا صاحب وہ بس پر تو بیٹھے ہی نہیں تھے، وہ تو سڑک سے اتر کر ایک کچے راستے کی طرف پیدل ہی چل نکلے تھے۔ شاید انکا ٹھکانہ کسی گاوں میں ہو۔ اور انہوں نے پولیس کو چکمہ دینے کے لیے مجھے جونا گڑھ پہنچنے کا کہا ہو۔۔۔ امجد کی بات سن کر کرنل نے امجد کو کہا اگر تمہیں ایسا ہی لگتا ہے تو پھر تم جونا گڑھ کیوں جا رہے ہو؟؟ اس پر امجد نے کہا کہ وہ غریب آدمی ہے، اسکے پاس یہی ایک گاڑی ہے جو وہ ٹیکسی کے طور پر چلاتا ہے ، یہ تو صرف میرا خیال ہی ہے، لیکن اگر میرا خیال غلط ہوا اور وہ لوگ واقعی جونا گڑھ چلے گئے اور وہاں مجھے نہ پایا تو وہ تو مجھے جان سے ہی ماردیں گے۔ پھر میرے بیوی بچوں کا کیا بنے گا۔

کرنل نے ایک لمبی ہونہ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کی اور پھر بولا ٹھیک ہے تم ہمیں اسی جگہ لے چلو جہاں تم نے ان لوگوں کو اتارا تھا، وہ ہم سے بچ کر کہیں نہیں جا سکتے۔ اتنے میں ایک اہلکار کرنل وشال کے پاس آیا اور کرنل کو ایک شاپر دیتے ہوئے بولا سر گاڑی میں سے یہ چیزیں برآمد ہوئی ہیں۔ کرنل نے شاپر میں دیکھا تو 2 جوس کے ڈبے، ایک چپس کا پیکٹ اورکچھ بسکٹ تھے۔ کرنل نے امجد کی طرف دیکھا اور بولا یہ کیا ہے؟؟؟ امجد نے کہا یہ تو وہی سامان ہے جی جو گیس پمپ سے خریدا تھا انہوں نے۔ جاتے ہوئے وہ یہ مجھے دے گئے کہ راستے میں بھوک لگے تو استعمال کر لینا مگر میری جیب سے سارے پیسے لے کے نکل گئے وہ۔ اب کرنل وشال کو یقین ہوگیا تھا کہ سردار سنجیت سنگھ دہشت گردوں کے ساتھ نہیں کیونکہ اسکی گاڑی کا نمبر بھی اصلی تھا اور گاڑی سردار سنجیت سنگھ کے نام پر ہی رجسٹر تھی اور ساتھ ہی امجد نے صحیح صحیح بتا دیا تھا کہ وہ 2 مرد اور ایک لڑکی تھی۔ کرنل اس بات کو بھی سمجھتا تھا کہ دہشت گرد عموما اپنی گاڑی کا استعمال نہیں کرتے بلکہ وہ کسی بھی شہری کی گاڑی چھین کر اس پر واردات کرتے ہیں۔ یہی کام اس لڑکی نے کیا سردار کی گاڑی چھین کر اسکی نمبر پلیٹ چینگ کر کے وہ بھاٹیا سوسائٹی میں آئی اور وہاں سے دانش کو چھڑوا کر واپس سردار کے ٹھکانے پر پہنچی جہاں اسکے ساتھیوں نے سردار پر تشدد بھی کیا اور اسکو ڈرا دھمکا کر جونا گڑھ جانے کو کہا تاکہ کرنل وشال کو دھوکے میں رکھا جائے۔

جبکہ امجد نے بھی یہاں چالاکی کا مظاہرہ کیا تھا جسکی وجہ سے وہ بچ گیا۔ وہ جانتا تھا کہ آگے جگہ جگہ پر ناکے لگے ہونگے، اگر وہ پکڑا گیا اور گاڑی کی نمبر پلیٹ جعلی ہوئی تو پولیس اسکو نہیں چھوڑے گی۔ اس لیے اس نے اصلی نمبر پلیٹ گاڑی پر لگا لی تھی جسکے کاغذات بھی اسکے پاس موجود تھے۔ یہ کسی سردار سنجیت سنگھ کی ہی گاڑی تھی جسکو مرے ہوئے 2 سال ہوگئے تھے۔ اسکا آگے پیچھے کوئی نہیں تھا اور وہ امجد کا دوست بھی تھا۔ مرنے سے پہلے اس نے امجد کو کہا تھا کہ میرے بعد میری گاڑی تم رکھ لینا اور اسکے پاس کوئی جائداد تھی نہیں۔ وہ ٹیکسی ڈرائیور تھا۔ امجد اسکے مرنے کے بعد ہر جگہ اسی کی شناخت کو اپنا لیتا تھا تاکہ وہ ایک عام شہری ہی معلوم ہو۔ پاکستان کی طرح انڈیا میں بھی کسی کے مرنے پر اسکا اندراج کرنے کی روایت نہیں، ڈیتھ سرٹیفیکیٹ صرف وہ لوگ بنواتے ہیں جنکو مرنے والے کی جائداد میں سے حصہ ملنا ہو۔ ورنہ کون مر گیا کون زندہ ہے اس چیز کا کوئی ریکارڈ نہیں ہوتا۔

اسکے ساتھ ساتھ تانیہ اور دانش کو بس پر چڑھانے کے بعد امجد نے اپنی جیب سے سی آئی ڈی انسپیکٹر کا کارڈ نکال کر پھینک دیا تھا اور پیسے سرمد اور رانا کاشف کو دے دیے تھے۔ جبکہ گاڑی کی ڈگی میں موجود کپڑے اور جعلی نمبر پلیٹ اس نے راستے میں ایک گندے نالے میں پھینک دیے تھے۔ تاکہ جہاں بھی وہ پکڑا جائے جعلی نمبر پلیٹ یا زنانہ کپڑوں کی وجہ سے اس پر شک نہ کیا جا سکے۔ امجد کی اسی عقلمندی نے اسے بچا لیا تھا ورنہ وہ اب تک کرنل وشال کے قہر کا نشانہ بن چکا ہوتا۔

کرنل وشال کو امجد نے اس بس سٹاپ تک واپس پہنچا دیا جہاں اس نے دانش اور تانیہ کو اتارا تھا۔ اور وہاں موجود ایک کچے راستے کی طرف امجد نے اشارہ کیا جو ایک گاوں کی طرف جاتا تھا اور کرنل وشال کو بتایا کہ وہ لوگ اسی راستے پر پیدل نکل گئے تھے۔ کرنل وشال نے وہاں موجود ایک اہلکار سے پوچھا کہ یہ راستہ کدھر جاتا ہے؟؟؟ وہ اہلکار جامنگر کا ہی تھا اسلیے وہ ان علاقوں کے بارے میں جانتا تھا، اس نے بتایا کہ سر یہ راستہ ایک گاوں کی طرف جاتا ہے جہاں چھوٹے چھوٹَ 3 قصبے ہیں۔ ان قصبوں میں زیادہ تر آوارہ اور اوباش قسم کے اور جرائم پیشہ لوگ رہتے ہیں۔ اور چوری کی گاڑیاں بھی زیادہ تر انہی لوگوں کے قبصے سے برآمد ہوتی ہیں۔ کرنل دانش نے اندازہ لگا یا کہ دانش اس لڑکی اور دوسرے ساتھی کے ساتھ اسی گاوں میں گیا ہوگا جہاں سے کسی بھی مجرم کو پیسے کی لالچ دے کر اسکی گاڑی میں وہ جونا گڑھ تک جا سکتے ہیں۔

کرنل نے امجد کو کہا تم واپس جونا گڑھ ہی جاو اور اسی پٹرول پمپ پر جا کر کھڑے ہوجانا، جبکہ ہم اس گاوں پر ریڈ کریں گے اور یہاں کے لوگوں سے پوچھیں گے کہ انہوں نے ایک لڑکی اور 2 آدمیوں کو آتے دیکھا ہو۔ یا کسی نے انکی مدد کی ہو اور انہیں جونا گڑھ کی طرف لے جا رہا ہو تو اسکی بھی معلومات لیں گے۔ یہ کہ کر کرنل وشال اپنی ٹیم کے ساتھ اس کچے راستے پر نکل گیا جبکہ امجد اپنی گاڑی میں بیٹھا اور جونا گڑھ کی طرف سفر شروع کر دیا۔ کرنل وشال کے سامنے تو اس نے اپنے دماغ کا خوب استعمال کیا تھا مگر اب اسکے پسینے نکل رہے تھے اور وہ سوچ رہا تھا کہ بال بال بچ گئے اگر جعلی نمبر پلیٹ وہ گاڑی سے باہر نہ پھینکتا اور پیچھے پڑے کپڑے گاڑی سے نہ نکالتا تو آج امجد برا پھنسا تھا۔

================================================== =================

سرمد اور رانا کاشف بس میں بیٹھے سو رہے تھے، کہ اچانک شور کی وجہ سے انکی آنکھ کھلی۔ سرمد نے تھوڑا سا اوپر اٹھ کر دیکھا تو ایک انڈین آرمی کا جوان تمام سواریوں کو گاڑی سے اترنے کا کہ رہا تھا۔ سرمد نے رانا کاشف کو کہنی ماری اور کہا چل چپ چاپ اتر جا۔ یہ نہ ہو کہ انہیں ہم پر شک ہوجائے۔ نیچے اترکر رانا کاشف اور سرمد لائن میں کھڑے ہوگئے باقی تمام سواریاں بھی لائن بنائے کھڑی تھیں جبکہ انکے ساتھ 3 پولیس کے جوان اور 2 آرمی کے جوان تھے۔ بس میں 3 لڑکیاں بھی موجود تھیں جن میں 2 کی عمر لگ بھگ 15 سے 18 سال ہوگی جبکہ ایک کی عمر 23 سے 25 سال کے قریب ہوگی۔ سب سے پہلے فوجی جوان نے اس لڑکی کو اپنے پاس بلایا اور اس سے نام پتا پوچھنے لگا۔ اور یہ بھی پوچھا کہ وہ کس کے ساتھ ہے۔ تو پیچھے کھڑی لائن میں سے ایک شخص بولا کہ سر یہ میرے ساتھ ہے۔ اس انڈین آرمی کے جوان نے اس شخص کو بھی اپنے پاس بلا لیا اور اسکی تلاشی لینے لگا۔ پھر اس نے اسکے چہرے پر پانی ڈلوایا اور اسکی مونچھیں بھی چیک کیں مبادا نقلی لگائی ہوں۔

مگر ایسا کچھ نہیں تھا، انڈین آرمی کے جوان نے کافی دیر اس لڑکی اور مرد سے پوچھ گچھ کی مگر وہ انکے مطلوبہ لوگ نہیں تھے پھر انہیں بس میں بیٹھنے کو کہا گیا۔ پھر باری باری سب کی اسی طرح تلاشی لی گئی اور ان سے پوچھ گچھ ہوئی۔ سرمد نے کاشف کو کہا کہ انہیں اپنے بارے میں سٹوری نمبر 3 سنانی ہے۔ امجد نے ایسے حالات کے لیے کچھ کہانیاں گھڑ رکھی تھیں جو موقع کی مناسبت سے سنائی جا سکتی تھیں۔ تاکہ اگر ان لوگوں سے علیحدہ علیحدہ پوچھ گچھ ہو تو انکے بیانات میں تضاد نہ ہو ۔ تضاد ہونے کی صورت میں سیکورٹی ایجینسیز ان پر شک کریں گی۔ لہذا مختلف مواقع کے لیے امجد نے مختلف کہانیاں بنا رکھی تھیں ۔ اور ابھی اس میں سے کہانی نمبر 3 کا سرمد نے انتخاب کیا تھا۔ جب سرمد کی باری آئی تو اس نے بتایا کہ وہ اور اسکا دوست کاشف جونا گڑھ اپنی انٹرنیٹ فرینڈ سے ملنے جا رہے ہیں۔

انڈین آرمی کے جوان نے گرل فرینڈ کا فون نمبر پوچھا تو سرمد نے بتایا کہ ہماری بات سکائیپ یا ای میل سے ہی ہوتی ہے اس لڑکی نے کبھی اپنا فون نمبر نہیں دیا۔ فوجی جوان نے کہا اور تم اتنے پاگل ہو کہ منہ اٹھا کر اس سے ملنے جا رہے ہو؟؟؟ اس پر کاشف بولا سر 150 روپے کرایہ لگتا ہے جامنگر سے جونا گڑھ تک کا، اگر 150 روپے میں لڑکی مل جائے تو مزے اور نہ ملے تو چلو جونا گڑھ کی سیر کر کے واپس آجائیں گے۔ ویسے بھی ہم کونسا نوکری کرتے ہیں، اپنا کاروبار ہے اس لیے کبھی کبھی اس طرح کی عیاشی بھی کر لیتے ہیں۔ فوجی جوان نے غصے سے دونوں کی طرف دیکھا اور انہیں اپنے اپنے آئی ڈی کارڈ چیک کروانے کو کہا۔ دونوں نے بلا جھجک اپنے کارڈ نکال کر چیک کروا دیے جن میں دونوں کے اصلی نام ہی درج تھے۔ سرمد اور کاشف کا نام کسی بھی واردات میں کبھی نہیں آیا تھا اس لیے انکے ناموں سے فوجی کو کسی قسم کا کوئی شک نہیں ہوا۔

کارڈ چیک کرنے کے بعد فوجی نے دونوں کو کارڈ واپس کیے اور غصے سے انکی طرف دیکھتے ہوئے بولا تھوڑی شرم کرو لڑکیوں کے پیچھے ٹائم برباد کرنے سے بہتر ہے بھارت ماتا کی خدمت کرو۔ چلو دفع ہوجاو اور بس میں بیٹھو۔ کاشف اور سرمد سر جھکائے بس میں بیٹھ گئے۔ بس میں بیٹھنے سے پہلے انہوں نے دیکھا کہ پیچھے ایک اور بس کو روکا ہے پولیس افسر نے۔ بس میں بیٹھنے کے بعد سرمد نے کاشف کو کہا ہو نہ ہو پچھلی بس میں تانیہ اور میجر دانش موجود ہونگے۔ اور مجھے نہیں لگتا کہ اب یہ دونوں یہاں سے بچ سکتے ہیں۔ یہ پکڑے جائیں گے۔ کاشف نے کہا فکر نہیں کرو، میجر دانش اتنی آسانی سے انکے ہاتھ آنے والا نہیں وہ ضرور کوئی نا کوئی انتظام کر لے گا۔ سرمد نے کہا دیکھتے ہیں۔ اور پھر خاموشی سے گاڑی میں بیٹھ گیا۔ کچھ ہی دیر میں اس بس کی تمام سواریاں واپس سوار ہوگئیں اور بس نے دوبارہ سے جونا گڑھ کی طرف کا سفر شروع کر دیا تھا۔


User avatar
sexi munda
Gold Member
Posts: 807
Joined: 12 Jun 2016 12:43

Re: وطن کا سپاہی

Post by sexi munda » 29 Oct 2017 13:39


================================================== ====

میجر دانش کمرے میں داخل ہوا تو سامنے ہی ایک بیڈ لگا ہوا تھا جس پر دوسری ڈانسر بھی موجود تھی۔ دونوں ڈانسر ابھی تک اسی ڈریس میں تھیں جو انہوں نے ڈانس کرتے ہوئے پہن رکھا تھا۔ میجر دانش نے دل ہی دل میں سوچا کہاں میں مٹھ مارنے کا سوچ رہا تھا اور کہاں اب 2 ۔ 2 چوتیں مل گئی ہیں ایک ساتھ ہی۔ پہلی ڈانسر جسکا نام جولی تھا اس نے پیچھے مڑ کر دروازہ بند کیا اور کنڈی لگا دی۔ جبکہ دوسری ڈانسر جسکا نام سوزینا تھا وہ بیڈ سے اٹھی اور اپنا لک گھماتی ہوئی میجر دانش کے پاس آئی اور بولی ہم دونوں کو سنبھال لوگے صاحب؟؟ دانش بولا تمہارے ساتھ کوئی تیسری بھی آجائے تو میں تو اسے بھی سنبھال لوں گا۔ یہ سن کر جولی بولی صاحب کہتے سب ایسے ہی ہیں مگر 2 منٹ میں ہی اپنا مال نکال دیتے ہیں سب۔

میجر دانش نے اسکی بات کا جواب دینے کی بجائے اسے بازو سے پکڑا اور کھینچ کر اپنے سینے سے لگا لیا اور اسکے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھ دیے۔ جولی کے 38 سائز کے ممے دانش کے سینے میں دھنس گئے تھے ، جولی نے بھی جواب میں اپنے ہونٹوں سے دانش کے ہونٹوں کو چوسنا شروع کر دیا جب کہ سوزینا میجر دانش کےپیچھے آکر اسکی کمر سے لگ گئی۔ میجر کو اپنے سینے پر جولی کے ممے فیل ہو رہےتھے اور کمر پر سوزینا کے 36 سائز کے مموں کا احساس ہو رہا تھا۔ سوزینا نے میجر دانش کی کمرے سے لپٹے ہوئے اپنے ہاتھ آگے بڑھائے اور میجر دانش کی قمیص کے بٹن کھول دیے اور پھر میجر دانش کی قمیص اٹھا ئی اور اتار دی۔ نیچے سے میجر کی بنیان بھی سوزینا نے اتار دی، اور میجر کی کمر پر اپنے ہونٹوں سے پیار کرنے لگی۔ جبکہ جولی اپنی زبان میجر کے منہ میں ڈالے اسکی زبان کے ساتھ کھیلنے میں مصروف تھی۔ کچھ دیر کی چوما چاٹی کے بعد میجر دانش نے جولی کو اپنی گود میں اٹھا لیا اور اسکے مموں کے ابھاروں پر اپنے ہونٹ رکھ دیے، جولی نے اپنی ٹانگیں میجر کی کمر کے گرد لپیٹ لیں اور اپنا سینہ آگے نکال دیا تاکہ مموں کا ابھار اور بھی واضح ہوسکے، جولی کے ہاتھ میجر کی گردن کے گرد لپٹے ہوئے تھے اور میجر نے اپنی زبان جولی کے مموں کے درمیان میں بننے والی لائین میں گھسا دی تھی۔

کچھ دیر جولی کی کلیویچ چاٹنے کے بعد میجر دانش نے جولی کو اپنی گود سے اتارا اور سوزینا کو اپنے پیچھے سے آگے کھینچ لیا اور اسکو جپھی ڈال کر اسکے ہونٹوں کو چوسنا شروع کر دیا۔ سوزینا کا جسم تھوڑا کھردرا تھا جبکہ جولی کا جسم نرم و ملائم اور بالوں سے پاک تھا۔ میجر دانش نے اپنا ایک ہاتھ سوزینا کے چوتڑوں پر رکھا اور انہیں دبانا شروع کر دیا اور دوسرا ہاتھ سوزینا کے مموں پر رکھ دیا اور اسکے ہونٹ چوستا رہا۔ اب جولی نیچے بیٹھی اور اس نے میجر دانش کی ٹانگوں پر ہاتھ پھیرنا شروع کر دیے۔ میجر دانش جو سوزینا کے ہونٹ چوسنے میں مصروف تھا اپنی ٹانگوں پر جولی کے ہاتھ کا لمس پا کر سرشار ہوگیا اور اسکا لن پہلے سے زیادہ سخت ہوگیا۔ جولی نے اپنا ہاتھ میجر کی تھائیز پر پھیرا اور وہاں سے اوپر لا کر اپنا ہاتھ میجر کے لن پر رکھ دیا۔

اب جولی اپنے ہاتھ سے میجر کے لن کی لمبائی کا اندازہ کرنے لگی اور پھر خوشی سے بولی اری سوزینا صاحب کا لن تو ایک دم مست ہے۔ آج خوب مزہ آنے والا ہے۔ سوزینا کے جسم اور لبوں میں وہ مزہ نہیں تھا جو جولی کے نرم و ملائم جسم میں تھا۔ میجر نے سوزینا کو چھوڑا اور دوبارہ سے جولی کو اپنی گود میں اٹھا لیا، مگر اس بار گود میں اٹھانے سے پہلے میجر نے جولی کے جسم پر موجود ہاف بلاوز نما برا اتار دیا تھا۔ جولی نے نیچے سے اور کوئی چیز نہیں پہنی تھی۔ اسکے 38 سائز کے ممے دیکھ کر میجر کے منہ میں پانی آنے لگا۔ بڑے بڑے مموں پر نپل بھی بڑے بڑے تھے جن سے اندازہ ہوتا تھا کہ جولی کے مموں کا دودھ بہت سے لوگوں نے پیا ہوا ہے اور جی بھر کر پیا ہے۔ جولی کو گود میں اٹھانے کے بعد میجر نے اپنے ہونٹ جولی کے مموں پر رکھ دیے اور اور انکو چوسنے لگا۔ میجر کبھی جولی کے ممے چوستا اور کبھی اسکے نپل منہ میں لیکر جولی کا دودھ پینے لگتا۔ جولی میجر کی گردن میں ہاتھ ڈالے زور زور سے سسکیاں لے رہی تھی اور میجر کو کہ رہی تھی اور زور سے کاٹو صاحب، کھا جاو میرے مموں کو، پی لو میرا سارا دودھ۔۔۔۔

سوزینا اب میجر کے سامنے آکر نیچے بیٹھ گئی تھی اور شلوار کے اوپر سے ہی میجر کے لن سے کھیل رہی تھی۔ میجر کے لن نے مذی چھوڑنا شروع کر دی تھی جسکی وجہ سے میجر کی شلوار گیلی تھی۔ شلوار کا گیلا پن دیکھ کر سوزینا کے منہ میں پانی آگیا اور اس نے میجر کی شلوار کا ناڑا کھول دیا اور میجر کی شلوار میجر کے پاوں میں گرتی چلی گئی۔ شلوار گرتے ہی میجر کا 8 انچ کا لن سوزینا کے منہ کے بالکل سامنے تھے۔ اتنا بڑا لن دیکھ کر اس نے جولی کے چوتڑوں پر ایک چماٹ ماری اور بولی آج میری گاںڈ کی خیر نہیں جولی۔ صاحب کا لن بہت تگڑا ہے۔

گانڈ کا سن کر میجر دانش خوش ہوگیا کہ آج وہ کافی دنوں کے بعد گانڈ بھی مارے گا۔ آخری بار اس نے کوئی 3 ماہ قبل میجر علینہ کی گانڈ ماری تھی۔ 3 ماہ کے بعد آج پہلی بار اسکو گانڈ مارنے کا موقع ملے گا۔ یہ سنتے ہی میجر دانش نے اور بھی زیادہ شدت کے ساتھ جولی کے مموں کو چوسنا شروع کر دیا اور اسکی سسکیوں میں بھی اضافہ ہوگیا۔ جبکہ نیچے بیٹھی سوزینا اب میجر دانش کے لن سے کھیل رہی تھی۔ کبھی وہ اس پر ہلکے ہکے تھپڑ مارتی تو کبھی میجر کے لن پر اپنی زبان پھیرنے لگی۔ سوزینا نے منہ میں تھوک جمع کیا اور گولا بنا کر میجر کے لن کی ٹوپی پر پھینک دیا اور پھر اپنے ہاتھوں سے اس تھوک کو پورے لن پر مسلنے کے بعد میجر کے لن کی ٹوپی منہ میں ڈال لی اور اسکے چوپے لگانے لگی۔ میجر کو اب مزہ آنے لگا تھا وہ جولی کے مموں سے لطف اندوز ہورہا تھا اور نیچے سوزینا کے منہ کی گرمی اسکے لوڑے کو سکون پہنچا رہی تھی۔

کچھ دیر بعد میجر چلتا ہوا جولی کو گود میں اٹھائے بیڈ کے قریب لے گیا اور اسے بیڈ پر لڈا دیا۔ بیڈ پر لٹانے کے بعد جولی نے نظریں اٹھا کر میجر کے لن کی طرف دیکھا تو اسکی آنکھوں میں بھی ایک چمک آگئی اور اسے امید پیدا ہوئی کہ آج یہ لوڑا اسکی چوت کا پانی نکال کر ہی چھوڑے گا۔ میجر دانش نیچے جھکا اور اسنے جولی کا گھاگھرا بھی اتار دیا۔ جولی کی چوت گیلی ہورہی تھی اور اسکی چوت کے لب پھولے ہوئے تھے اور لبوں کے درمیاں کافی فاصلہ تھا۔ اسکا مطلب تھا کہ جولی کافی مردوں سے چدائی کروا چکی ہے۔ میجر دانش جولی کے اوپر لیٹ گیا اور اسکے مموں کو پھر سے چوسنے لگا جبکہ سوزینا میجر کے اوپر آئی اور اسکے چوتڑ کھول کر میجر کی گانڈ پر زبان پھیرنے لگی۔

میجر کا یہ پہلا تجربہ تھا کہ اسکی گانڈ پر کوئی زبان پھیرے، اسے ایک جھرجھری سی آئی مگر پھر وہ جولی کے مموں کو چوسنے میں مصروف ہوگیا اور سوزینا میجر کی گانڈ پر زبان پھیرتی رہی، کچھ دیر کے بعد سوزینا نے میجر کی گانڈ کو چھوڑا اور اسکی ٹٹوں کو منہ مین لیکر چوسنے لگی۔ اب کی بار میجر کو مزہ آنے لگا تھا، پھر کچھ دیر کے بعد میجر بیڈ پر سیدھا لیٹ گیا اور جولی کو کہا کہ وہ اسکے اوپر آجائے، جولی کھڑی ہوئی اور میجر کے اوپر آئی تو میجر نے اسکو کولہوں سے پکڑ کر اپنے نزدیک کر لیا اور اسکی چوت کو اپنے منہ کے اوپر کر لیا اور اپنی زبان جولی کی چوت کے لبوں کے بیچ ڈال دی۔ جولی نے ایک سسکی لی اور میجر نے اپنی زبان جولی کی چوت میں چلانا شروع کردی۔ میجر کا لن اب پھر سے سوزینا کے منہ میں تھا جسے وہ بہت ہی شوق کے ساتھ چوس رہی تھی۔ کچھ دیر تک جولی کی چوت چاٹںے کے بعد میجر نے سوزینا کو نیچے اتارا اور سوزینا کو اپنے پاس بلا کر اسکا بھی بلاوز اتار دیا

سوزینا کے 36 سائز کے گول ممے میجر کو بہت پسند آئے ۔ جولی کی نسبت سوزینا کے ممے تھوڑے سخت تھے مگر میجر نے انکو بھی شوق سے چوسنا شروع کر دیا جبکہ جولی نے میجر کا لن اپنے منہ میں لیا اور لن چوسنے لگی۔ کچھ دیر تک سوزینا کے ممے چوسنے اور نپل کاٹنے کے بعد اب میجر نے سوزینا کا گھاگھرا بھی اتارا تو نیچے اس نے پینٹی پہن رکھی تھی۔ میجر نے سوزینا کی پینٹی کو غور سے دیکھا تو وہاں اسے ہلکا سا ابھار نظر آیا، میجر نے سوزینا کی پینٹی اتاری تو میجر کو ایک جھٹکا لگا۔ پینٹی اتارتے ہی سوزینا کا 4 انچ کا لن میجر کے سامنے تھا۔ یعنی سوزینا لڑکی نہیں بلکہ اسکا تعلق تیسری جنس سے تھا۔ یہ دیکھ کر میجر ایکدم کھڑا ہوگیا اور بولا یہ کیا بدتمیزی ہے؟؟؟ اس سمجھ نہیں آرہی تھی کہ وہ کیا کرے، میجر کا یہ ری ایکشن دیکھ کر جولی فورا میجر کے پاس آئی اور بولی فکر نہیں کرو صاحب، آپ تسلی سے میری چوت مارو اور سوزینہ کی گانڈ مارو۔ سوزینہ بھی کھڑی ہوئی/ہوا اور بولی صاحب آج بہت دنوں کے بعد اتنا تگڑا لن دیکھا ہے، پلیز میری گانڈ مارے بغیر نہیں جانا، اور فکر نہیں کرو میں صرف جولی کی چوت میں اپنی یہ چھوٹی سی للی ڈالوں گی پلیز آج میری گانڈ کو سکون پہنچا دو اپنے اس 8 انچ کے لوڑے سے، یہ کہ کو سوزینا نیچے بیٹھ گئی اور دوبارہ سے میجر کا لن اپنے منہ میں لے لیا جو اب بیٹھ چکا تھا۔ مگر سوزینا کے منہ میں لیتے ہی لن نے پھر سے سر اٹھانا شروع کیا اور تھوڑی ہی دیر میں دوبارہ سے لوہے کے راڈ کی طرح سخت ہوگیا۔

میجر نے دل میں سوچا کہ آخر ایک ہیجڑے کی گانڈ مارنے میں حرج ہی کیا ہے۔ یہ سوچ کر اس نے دوبارہ سے اپنی توجہ جولی کی طرف کی اور اسے بیڈ پر لیٹنے کو کہا، جولی فورا بیڈ پر لیٹ گئی تو میجر نے اسکی ٹانگیں اٹھا کر اپنے کندھوں پر رکھ دیں اور اپنا لن سوزینا کے منہ سے نکال کر جولی کی چوت پر رکھا۔ ایک ہی دھکے میں میجر کا 8 انچ کا لن جولی کی چوت کی گہرائیوں میں اتر چکا تھا۔ جولی کی چوت کھلی ہونے کی وجہ سے لن بغیر کسی رکاوٹ کے اسکی چوت میں اتر چکا تھا، جیسے ہی 8 انچ کے لن نے جولی کی چوت کی گہرائیوں میں جا کر ٹکر ماری اسکی چوت نے میجر کے لن کو جکڑ لیا۔ جولی نے اتنا لمبا لن ملتے ہی اپنی چوت کو ٹائٹ کر لیا تھا اور میجر نے بھی بغیر رکے دھکے مارنے شروع کر دیے تھے۔ میجر کے ہر دھکے کے ساتھ جولی کے 38 کے ممے اوپر نیچے ہلتے اور اسکے منہ سے آوازیں نکلتی آوچ، اف، مزہ آگیا صاحب، آج بہت دنوں بعد کسی مرد کا لن ملا ہے ورنہ یہاں تو سارے چھوٹی چھوٹی للیاں لے کر ہی آتے ہیں اور 2 منٹ میں ہی اپنا مال نکال دیتے ہیں۔ آہ آہ، صاحب اور زور سے چودو آج جولی کو۔۔۔ ایسے ہی دھکے لگاو صاحب، میری چوت کی پیاس بجھادو آج۔

جولی کی ہر آواز کے ساتھ میجر کے دھکوں میں تیزی آرہی تھی۔ گوکہ جولی کی چوت کافی کھلی تھی مگر جولی نے اپنی چوت کی دیواریں ٹائٹ کی تو میجر کو بھی چودائی کا مزہ آنے لگا۔ کچھ دیر ایسے ہی چودائی کرنے کے بعد میجر نے جولی کی چوت سے لن نکالا اور اسکو گھوڑی بننے کو کہا، جولی فورا اٹھی اور بیڈ پر گھوڑی بن گئی، میجر دانش اب بیڈ پر گھٹنوں کے بل کھڑا ہوا اور جولی کی چوت پر لن کی ٹوپی رکھ کر ایک دھکا مارا اور میجر کا لن جولی کی چوت میں غائب ہوگیا۔ اب میجر نے پھر سے زور دار پمپ ایکشن شروع کر دیا، اب کی بار میجر کے ہر دھکے پر میجر کا جسم جولی کے چوتڑوں سے ٹکراتا تو کمرے میں دھپ دھپ کی آوازیں آتیں اور میجر ان آوازوں سے لطف اندوز ہوتا اگلا دھکا اور بھی جاندار مارتا۔

میجر کے ان دھکوں سے اب جولی کی سسکیاں نکل گئی تھیں اور اب وہ محض آوچ آوچ کی آوازیں نکالنے کے علاوہ اور کچھ نہی کرہی رہی تھی۔ اب اسکی چوت میں اسکی طلب سے زیادہ زور دار گھسے لگ رہے تھے جنکو وہ بمشکل برداشت کر رہی تھی۔ جبکہ سوزینا اب جولی کے سامنے آگئی اور اپنی چھوٹی سی للی جولی کے منہ میں دے دی۔ جولی نے سوزینا کی للی کو منہ میں لیکر چوسنا شروع کیا اور تھوڑی ہی دیر میں اسکی للی میں تھوڑی سی سختی پیدا ہوگئی، سوزینا کی للی کا سائز ابھی بھی 4 انچ ہی تھا مگر اب اس میں تھوڑی سختی تھی۔ میجر کی نظریں کچھ دیر کے لیے سوزینا کی للی پر گئیں مگر پھر اس نے اپنی توجہ جولی کی چوت پر کی اور دھکوں کا سلسلہ جاری رکھا۔ جب یہ دھکے جولی کی برداشت سے باہر ہونے لگے تو جولی کو لگا جیسے اسکے بدن میں سوئیاں چبھ رہی ہوں، وہ سمجھ گئی تھی کہ آج عرصے بعد اسکی چوت کسی لن کی چودائی سے پانی چھوڑنے لگی ہے ورنہ اس سے پہلے یا تو وہ فنگرنگ کر کے اپنی چوت کا پانی نکالتی تھی یا پھر سوزینا اپنی زبان سے جولی کی چوت کا چاٹ کر اسکا پانی نکالتی تھی۔

میجر کے چند مزید دھکے لگے اور جولی کی چوت میں سیلاب آگیا۔ جولی کے جسم کو کچھ جھٹکے لگے اور اسکی چوت نے ڈھیر سارا پانی نکال دیا۔ جب سارا پانی نکل گیا تو میجر نے دھکے لگانا بند کر دیے ۔ جولی نے اپنی چوت سے میجر کا لن باہر نکالا اور ایک بار میجر کا لن منہ میں لیکر اس پر موجود اپنا پانی چوسنے لگی۔ جب سارا پانی چوس لیا تو جولی دیوانہ وار میجر کے سینے کو چومنے لگی اور اسکے ہونٹوں کو بھی چومنے لگی۔ وہ میجر کے جسم کو دبا رہی تھی اور بار بار کہ رہی تھی تم اصل مرد ہو صاحب، آج تمہارے لن نے میری چوت کی پیاس بجھادی ہے اور ابھی بھی سسرا کھڑا ہے تھکا نہیں۔ یہ سن کر سوزینا نے جولی کو پیچھے کیا اور بولی چل پیچھے ہو اب صاحب کے لوڑے کی سواری کرنے کی باری میری ہے۔ سوزینا نے بھی میجر کے سینے پر ایک بار کس کی اور بولی صاحب کونسی پوزیشن میں میری گانڈ مارنا پسند کروگے۔؟؟ میجر نے کہا پہلے اپنی گانڈ کا نظارہ تو کرواو کیسی ہے۔۔۔

یہ سنتے ہی سوزینا گھوڑی بن گئی اور میجر نے اسکے چوتڑوں کو کھول کر اسکی گانڈ پر نظر ماری تو اسکا سوراخ بھی قدرے کھلا تھا۔ یعنی وہ بھی اپنی گانڈ باقاعدگی سے مرواتی تھی۔ میجر نے اسی پوزیشن میں سوزینا کی گانڈ پر اپنے لن کی ٹوپی رکھی اور دھکا مارنے کی کوشش کی مگر لن اندر نہیں گیا۔ تب جولی آگے آئی اور بولی صاحب پہلے تھوڑا چکنا کر لو، یہ کہ کر وہ سوزینا کی گانڈ پر جھکی اور اسکو چوسنے لگی، اس نے اپنی انگلی بھی سوزینا کی گانڈ میں ڈال دی تھی اور اسکی انگلی سے چودائی کرنے لگی پھر اس نے سوزینا کی گانڈ پر اپنا تھوک پھینکا اور انگلی سے تھوک سوزینا کی گانڈ کے اندر تک مسل دیا، جبکہ دوسرے ہاتھ سے وہ میجر کا لن ہاتھ میں پکڑے اسکی مٹھ مارنے میں مصروف تھی۔

پھر جولی نے میجر کے لن پر بھی تھوک پھینکا اور اسکو بھی چکناکر دیا۔ اب کی بار میجر نے سوزینا کی گانڈ پر لن رکھ کر ایک جھٹکا مارا تو آدھا لن سوزینا کی گانڈ میں اتر گیا تھا اور سوزینا کی چیخ نکلی اوئی ماں ۔ ۔ ۔ ۔ میں مرگئی۔ صاحب کیا تگڑا لن ہے تمہارا کیا کھاتے ہو؟؟؟ میجر دانش ہنستا ہوا بولا ابھی تو آدھا لن اندر گیا ہے باقی آدھا ابھی جانا ہے، اس پر سوزینا بولی اوئی ماں۔۔۔۔۔۔ اور زیادہ نہ ڈالنا صاحب میری تو گانڈ ہی پھٹ جائے گی۔ میجر دانش بولا تمہیں بھی تو شوق ہے گانڈ مروانے کا آج دل بھر کر اپنی گانڈ مروا، یہ کہ کر میجر نے ایک دھکا اور لگایا اور میجر کا سارا لن سوزینا کی گانڈ میں چلاگیا۔ اور سوزینا کی ایک اور چیخ نکلی۔ اب وہ اس طرح سسکیاں لے رہی تھی جیسے کسی بچے کو مرچیں لگ جائیں تو وہ بار بار سی سی کرتا ہے۔ میجر کے لن نے سوزینا کی گانڈ کے اندر واقعی مرچیں لگا دی تھیں۔

اب میجر نے سوزینا کی گانڈ مارنا شروع کی اور جولی سوزینا کے سامنے جا کر کھڑی ہوگئی اور اپنی گانڈ سوزینا کے آگے کر دی۔ سوزینا نے جولی کی گانڈ چوسنا شروع کی اور اس میں تھوک بھرنے لگی۔ سوزینا نے کہا لگتا ہے آج تیرا بھی صاحب سے گانڈ مروانے کا ارادہ ہے۔ اس پر جولی بولی ہیرے جیسا لوڑا آج ہاتھ لگا ہی ہے تو اسکا پورا استعمال تو ہونا ہی چاہیے نا۔ میجر نے کچھ دیر سوزینا کی گانڈ میں دھکے مارے اسکے بعد اپنا لن اسکی گانڈ سے نکالا جو اب تک سوج چکی تھی۔ اب میجر بیڈ کے ساتھ پڑے صوفے پر جا کر بیٹھ گیا اور سوزینا کو اپنی گود میں آنے کو کہا، سوزینا نے اپنی گانڈ میجر کے لن کے اوپر کی اور ٹوپا گانڈ کے سوراخ پر فٹ کر کے ایک ہی جھٹکے میں لن پر بیٹھ گئی، سوزینا نے اپنی ٹانگیں میجر کی کمر کے گرد لپیٹ لی تھیں اورمیجر اب خوب زور زور کے دھکے مار کر سوزینا کی گانڈ مار رہا تھا۔

سوزینا کے 36 سائز کے ممے میجر کی آنکھوں کے سامنے لہرا رہے تھے جبکہ اسکا 4 انچ کا لن بلکہ للی میجر کی ناف سے ٹچ ہورہا تھا۔ میجر کو سوزینا کی گانڈ مارنے کا بہت مزہ آرہا تھا۔ ٹائٹ گانڈ نے میجر کے لن کو جکڑ رکھا تھا۔ اب میجر سوزینا کی گانڈ میں دھکے مارنے کے ساتھ ساتھ اسکے 36 کے اچھلتے مموں کو اپنے منہ میں لیکر چوس رہا تھا جبکہ سوزینا میجر کے لن کی تعریفیں کرتی نہیں تھک رہی تھی، مزہ آگیا صاحب، آپکے لوڑے نے تو میری گانڈ کا ستیاناس کر دیا ہے، ایسے ہی گانڈ مارتے رہو صاحب۔۔۔۔ 5 منٹ تک سوزینا کی گانڈ مارنے کے بعد میجر کے لن نے تھوڑا پھولنا شروع کیا اور اسکے بعد سوزینا کی گانڈ کے اندر ہی منی چھوڑ دی۔ جب میجر کا لن منی چھوڑ کر فارغ ہوچکا تو سوزینا گانڈ سے اتری اور میجر کا لن چوسنے لگی۔ میجر کے لن کی گاڑھی منی کا ہر قطرہ سوزینا نے اپنی زبان سے چاٹ لیا۔ جب میجر کا لن منی سے پاک ہوگیا تو سوزینا نے جولی کی طرف دیکھا اور بولی چل اب صاحب کو اپنا شو دکھاتے ہیں۔

یہ کہ کر سوزینا نے میجر دانش کو چھوڑا اور جولی کو لیکر بیڈ پر چلی گئی، جولی اور سوزینا اب 69 پوزیشن میں ایکدوسرے کے اوپر تھیں۔ سوزین نیچے لیٹی تھی اور جولی اسکے اوپر تھی، سوزینا کی زبان جولی کی چوت کے سوراخ پر تیز تیز چل رہی تھی جبکہ جولی سوزینا کی للی منہ میں ڈالے اسکے چوپے لگا رہی تھی۔ کچھ دیر کے بعد دونوں گھٹنوں کے بل بیٹھ گئیں اور ایکدوسرے کے مموں کو باری باری چوسنے لگیں، کبھی سوزینا جولی کے ممے منہ میں لیکر چوستی تو کبھی جولی سوزینہ کے مموں کو منہ مین لیتی اور انکو چوسنے لگتی۔ پھر سوزینا نے جولی سے کہا چل اب مجھے بھی اپنی چوت کا مزہ دے۔ یہ سن کر جولی بیڈ پر لیٹ گئی اور اپنی ٹانگیں کھول دیں جبکہ سوزینا اسکی ٹانگوں کے درمیان بیٹھی اور اپنی للی کی ٹوپی سوزینا کی چوت پر رکھ دی۔ سوزینا کی للی ابھی تک 4 انچ کی ہی تھی مگر اس میں پہلے کی نسبت سختی زیادہ تھی، سوزینا نے ایک دھکا لگایا تو اسکی 4 انچ کی چھوٹی سی للی جولی کی چوت میں گم ہوگئی۔

اب سوزینا نے دھکے لگانے شروع کیے اور ساتھ ساتھ سوزینا کی چوت کے دانے پر انگلی پھیرنی شروع کی۔ سوزینا کے چہرے کے تاثرات سے لگ رہا تھا کہ اپنی للی جولی کی چوت میں ڈال کر اسے سکون ملا تھا مگر جولی کے چہرے پر مزے کے آثار نہیں تھے وہ بس سوزینا کی خواہش پوری کر رہی تھی۔ میجر دانش سوزینا اور جولی کا یہ شو دیکھ کر محضوض ہو رہا تھا اور آہستہ آہستہ اب اسکے لن نے سر اٹھانا شروع کر دیا تھا۔ سوزینا اب جولی کے اوپر لیٹ گئی تھی اور اسکے ممے چاٹنے کے ساتھ ساتھ اپنی گانڈ ہلا ہلا کر اپنی للی سے جولی کی چوت کی چودائی کر رہی تھی۔ یہ سین دیکھ کر میجرا کا لن مکمل کھڑا ہوگیا تھا، اب وہ بھی بیڈ پرآگیا اور اپنا لوڑا جولی کے منہ میں ڈال دیا ۔ جولی میجر کے لوڑَ میں دوبارہ جان دیکھ کر خوش ہوگئی۔

اس نے فورا ہی میجر کے لن کو چوسنا شروع کردیا۔ کچھ دیر بعد سوزینا نے کہا صاحب لن میرے منہ میں دو جولی آپکے ٹٹے چوسے گی۔ یہ سن کر میجر نے اپنی جولی کا چہرہ اپنی ٹانگوں کے درمیان کر لیا جولی نے فورا ہی میجر کے ٹٹوں پر اپنی زبان چلانا شروع کر دی اور پھر اسکے ٹٹوں کو منہ میں لیکر چوسنا شروع کر دیا جبکہ سوزینا جو جولی کے اوپر لیٹی اسکی چودائِ کر رہی تھی اس نے میجر کا لن منہ مین لیکر چوسنا شروع کر دیا تھا۔

جب میجر کا لن پہلے کی طرح سخت ہوگیا تو وہ کھڑا ہوا اور سوزینا کے پیچھے چلا گیا۔ پیچھے جا کر میجر نے سوزینا کی گانڈ پر تھوک پھینکا اور انگلی سے تھوک اسکی گانڈ کے اندر مسلنے لگا۔ سوزینا کی للی ابھی تک جولی کی چوت میں ہی تھی۔ اور سوزینا دھکے پر دھکے مار رہی تھی۔ میجر نے سوزینا کو دھکے روکنے کو کہا تو سوزینا نے دھکے روک دیے، اب میجر نے اپنے لن کی ٹوپی سوزینا کی گانڈ پر رکھی اور آہستہ آہستہ سارا لن سوزینا کی چوت میں اتار دیا جس سے اسکی سسکیاں نکلنے لگیں۔ اب میجر نے دھکے مارنے شروع کیے تو سوزینا نے میجر کے دھکوں کے ساتھ ساتھ جولی کی چوت میں دھکے مارنے کا سلسلہ جاری رکھا۔ سوزینا کو اب ڈبل مزہ آرہا تھا۔ ایک تو اسکی للی سوزینہ کی چوت میں تھی اور پیچھے سے میجر کا تگڑا لن سوزینا کی گانڈ مارنے میں مصروف تھا۔

5 منٹ تک اسی پوزیشن میں گانڈ مارنے کے بعد میجر نے سوزینا کی گانڈ سے لن نکالا اور سوزینا کو اپنی للی جولی کی چوت سے نکالنے کو کہا۔ سوزینا نے ایسے ہی کیا تو میجر نے اب جولی کو اپنی گود میں بٹھایا اور اپنا لن سوزینا کی چوت پر فٹ کر کے ایک ہی دھکے میں پورا لن اندر داخل کر دیا۔ سوزینا کی للی کے بعد جب میجر کا لن جولی کی چوت میں گیا تو جولی کی زور دار سسکی نکلی اور میجر نے بغیر رکے دھکے لگانے شروع کردیے۔ اب کی بار میجر کے دھکے پہلے کی نسبت بہت تیز تھے۔ میجر ایک بار پھر جولی کی چوت کا پانی نکالنا چاہتا تھا۔

محض 5 منٹ کے جاندار دھکوں نے اپنا کام دکھا دیا اور جولی نے میجر کی گود میں بیٹھے بیٹھے اپنی چوت کا پانی نکال دیا۔ چوت سے پانی پریشر کے ساتھ نکلا تو میجر کا پیٹ اور ٹانگیں جولی کے پانی سے بھر گئیں جنکو سوزینا نے اپنی زبان سے چاٹ لیا۔ جبکہ جولی میجر پر واری جا رہی تھی۔ اسے یقین نہیں آرہا تھا کہ ایک ہی رات میں ایک لن نے 2 بار اسکی چوت کا پانی نکالا۔ وہ اپنے جذبات پر قابو نہیں رکھ پا رہی تھی اور بےتحاشا میجر کے جسم پر پیار کر رہی تھی۔

اب میجر نے سوزینا کو کہا کہ وہ اب دوبارہ سے جولی کی چوت میں اپنا لن ڈالے۔ سوزینا جو پہلے ہی تیار تھی فوران جولی کے اوپر چڑھ گئی۔ مگر میجر نے کہا ایسے نہیں، تم نیچے لیٹو اور جولی کو اپنے اوپر لٹاو پھر اسکی چوت میں اپنا لن ڈال کر اسکی چودائی کرو۔ جولی سمجھ گئی کہ اب اسکی چوت اور گانڈ کے سوراخ میں لن جانے والا ہے، وہ فورا ہی سوزینا کے اوپر آئی اور اسکی للی اپنی چوت کے سوراخ میں ڈال کر لیٹ گئی تاکہ پیچھے سے میجر اسکی گانڈ میں اپنا 8 انچ کا لوڑا ڈال سکے۔ میجر نے پیچھے سے آکر جولی کی گانڈ دیکھاور اس میں پہلے اپنی انگلی داخل کی تو جولی کی ہلکی سی سسکی نکلی، نیچے سے سوزینا کی للی جولی کی چوت میں مسلسل گھسے لگا رہی تھی۔

کچھ دیر جولی کی گانڈ میں انگلی کرنے کے بعد میجر نے اپنے لن کی ٹوپی سوزینا کے منہ میں دیر کر اسکو چکنا کروایا اور پھر دوبارہ سے پیچھے آکر لن کی ٹوپی جولی کی ٹائٹ گانڈ کے سوراخ پر رکھ اور ایک زور دار دھکا لگایا۔ میجر کی ٹوپی جولی کی گانڈ میں داخل ہوچکی تھی۔ اب کی بار جولی نے زور سے چیخ ماری ہائے میں مر گئی۔ صاحب یہ آپکا اپنا لن ہے یا کسی گدھے کا لگوا لیا ہے ؟؟ ہائے بھگوان اتنا موٹا لن میری گانڈ کیسے برداش کرے گی ۔۔۔ میجر نے تھوڑا سا انتظار کرنے کے بعد ایک اور دھکا لگایا تو میجر کا آدھے سے زیادہ لن جولی کی گانڈ میں تھا۔ اور اب کمرہ جولی کی چیخوں اور سسکیوں کی ملی جلی آوازوں سے گونج رہا تھا۔

Post Reply