Hot urdu font story

Post Reply
User avatar
rangila
Super member
Posts: 5586
Joined: 17 Aug 2015 16:50

Hot urdu font story

Post by rangila »

Hot urdu font story

قراقرم ایک پر لیں ہائے دوست با مال ہے۔ آپ سب کا۔ آپ کا اساسی نباید فرام فیصل آباد اس دفعہ ایک نئی کہانی کے ساتھی آپ کی خدمت میں لے کے آیا ہے۔ امید ہے کہ آپ اس کہانی کی پہلی
کہانیوں کی طرح پسند کریں گے۔ کی کہانی میرے دوست کی بھابھی اور ہمیں کے با م
سب سے پہلے میں ان سب کا تعارف کراتا ہوں اور پھر کہانی بیان کرتا ہوں ۔ میرے دوست کا نام نامر ہے۔ وہ میرا این اے کا کلاس فیلو ہے۔ اور بہت پا دوست ہے میر اوم دم با مشہور ہے۔ یہی وجہ ہے کہ میں اس کے گھر میں بغیر سی روک ٹوک سے پایا جاتا ہوں ۔ عامر کی بھابھی کا نام از یہ ہے وہ میرے خیال میں میں نے پینتیس سال کی تو ن ا م 38-28-38 و گا۔ اور ساتھ اس نے اپنے بالوں کی بہت شاندار نے بھی کروائی ہوتی ہے۔ اور ساتھ ساتھ وہ اپنے لباس کا بھی بہت خیال رکھتی ہے اور یہی وہ ہے ا ن سے ایک دفعہ دیتا ہے وہ دوبارہ پر دیتا ہے۔ اور نماز ی کا خا هند وین میں باب کرتا ہے ۔ اور مال میں وہ ایک دفعہ آتا ہے۔ ون ہے ۔ اور اب میں آپ کو نام کیا کہیں کا تعاری ای نامر کی ہیں کا نام نا یہ ہے ۔ وہ بی اے کی سنوژن ہے۔ عمر کوئی 18 - سال کی ہونی - فکر بہت قیامت والا ہے۔ 36-28-36اور بہت معتموم ہے۔ ان دونوں کو میں ا ید یہ میں اب آپ اوگوں کے۔ بات شیر نے ایکا ہوں ۔ اگر آپ کو میری کہانی پند آئے تو آپ مجھے مجھے میل کر سکتے ہیں ۔ میرا میل ایڈریس ہے
ali _ fahad42 @ yahoo . com مہینے پہلے کی بات ہے ناصر نے مجھے کہا کہ بات بہت پرانے دوست ہو ۔ سو میں تم نے ایک بات کرنا چاہتا ہوں میں نے کہا یار بھی کوئی پوچھنے کی بات ہے ایک سیا سو باتیں ساس کر سکتے ہو کہنے ایک بار میرے لیے ایک رش: آیا ہے اور کی کراچی کی رہنے والی ہے۔ اور تم جانتے ہو کہ میری والی ہ یا ر ہتی ہیں اور ودر این را تا لباس نہیں کر سکتیں ۔ اور مر کی بھابھی نا زیبا و رسنٹ عالیہ کراچی بار بھی ہیں ان کی دیکھنے اور تم جانتے ہو کہ میں تو ساتھ جا نہیں سکتا کہ پتا نہیں وہ لوگ میرا آنا پسند بھی کر تے ہیں یا نہیں اس لیے میں نے سوچا ہے کہ تم ان کے ساتھ پلےباہ کیوں ج ا
ری ہو جس پر میں ٹرسٹ کر سکتا ہوں ۔ میں نے کبانو په بمبار بھی کوئی پرابلم ہے۔ بیان کر نام خوش ہو یا پھر ہم دونوں کمیشن چلے گئے اور قراقرم ، یاد نہیں کی سلیر کی نہیں ب ا
ر بار مجھے عامر نے کہا یار اب کی شام کویر این بار بھی ہے۔ تم انبیا کہا کہ کلی سید ایشن آ جا میں بھی اپنے کمر والوں کو لے کر آ جاوں گا میں نے کہا او کے با رم فار کرو میں ا م ) اگلے دن میں نائم پیش کیا ۔ ناصر اورا س کی بھابھی اور ہمیں بھی و ہاں مزہ بھابھی نے نیلے رنگ کی شلو وردی پہنی ہوئی تھی او را این میک اپ کیا ہوا تھا۔ اور بہت پیاری لگ رہی تھی اور نا ئیہ نے لائی اگر این کار کی شام میں بیان ہوئی تھی اور اس کی جوتی پہنی ہوئی تھی اور گلے میں ایک پیارا سا کٹ پہنا ہوا تھا اور بہت
کشش دکھائی تھی میں تھی دونوں کو وہاں موجود سب لوگ انہیں نکال نکال کر ان کو دیکھ رہا تھا نا م پر لگ گئی اور ہم نے اپنا سامان اے نی سایہ میں رکھ دیا اور یہ دونوں کا ری کے اندر بیٹی اور تم دونوں بار باتیں کرنے لگ گئے ۔ جب باری نے دل دی تو عامر مجھ سے گلے مالی اور میں بھی گاڑی کے اند را یا۔ وہاں میں نے دیکھا کہ تین سائیں نائیتھی اور اس کی جن میں سرف ہم تین او کی ہی تھے منہ پڑی تو پیل پر کی تھی ۔ سو میں نے کیون کا دروازہ بند کر دیا۔ اور سینے پر بند کیا اور وہ دونوں دوسری سی پیسی ہونی تھیں ۔ پھر گاڑی نے نے اپنی ال سینا پیار کی اور اپنی منزل کی طرف جانے لگ گیا۔ کاری کا اس کی بھی بہت اچھی طرح کام کر رہا تھا۔ ہم لوگ آپس میں باتیں کرنے لگ گئے مرے ساتھ نازیہ بھابھی ہی زیاد با تیں کر رہی تھی ۔ عالیہ کے ساتھ میر کی بہت زیا دہ پہلواۓ اس تھی ۔ رات بھی کھائی گزر رہی تھی اور مجھے بھی نیند آ رہی تھی ۔ سوکھانا کھانے
کے بعد میں اور متحدہ میں چار کیا ۔ اور ساتھ ہی میں سویا میر کی آنکہ کوئی آدمی را نے کی تھی جب درواز گ
و ہوئی میں نے دیکھا کہ وہ دونوں بہت گہری نیند سوئی تو میں تھیں ۔ چونچ میں نیچے اتر اور دروزا تالا تو وہاں کنٹ پیار تھا۔ میں نے کٹ چیک کروائے۔ اور پھر اوپر تی م ن
یر کی سیٹوں پر وہ دونوں سوئی ہو میں تھیں میں پھر سونے کی کوشش کرنے کا پر مجھے اب میں نہیں آ رہی تھی ۔ ا پا نی میر کی نظر نیز برای تو میری ان میں کھڑی کی کھٹڑ ی رہ گی ا
تھا۔ نازیہ بھابھی بہت گہری نیند سو رہی تھی اور اس نے چو اور اپنے جسم پکی ہوئی تھی وہ اس کے جسم سے ہٹ چکی تھی اور اس کے کہ ایسٹ کے ابھار بہت ہی زیادہ خوبصورت ہ ے اور ہر سانس کے ساتھ زیرہ کم کی طرح اوپر نیچے ہو رہے تھے۔ یہ دینا ہی تھا کہ میر امین ایک دم کھڑا ہو گیا۔ یہ بہت ہی مشہور کر دینے والا منظر تھا۔ میرا دل تیز تیز دھر نے کا ا ت
نا کہا جی کا راز یہ بھابھی کو پکاراوں پر بھی بہت لگ رہا تھا۔ میر کی حالت بہت شراب ہورہی تھی ۔ اور شیطان غالب آ گیا مجھ پر اور میں ہاتھ سے نیچے اتر آیا ۔ اور از بی بی سیٹ کے پاس جا کر میل کے فرش پر بند کیا ۔ اور پھر میں نے اپنایا تھا یہ بہت بڑا راز یہ بھابھی کیا کہ بیٹے پر رکھ دیا ۔ ان باتھر کا رکھنا ہی تھا کہ میر امین ایک دم تن کر کھڑا ہو گیا ۔ اب مجھے ہیں آ رہی تھی کہ آگے کیا
.

User avatar
rangila
Super member
Posts: 5586
Joined: 17 Aug 2015 16:50

Re: Hot urdu font story

Post by rangila »

کروں ۔ پھر میں نازیہ بھابھی کے بیٹے کو دبانا شروع کرو یا از یہ بھابھی تھوڑا سا کمائی پر بانی اس اواتر ما یہ بھی گہری نیند سو رہی تھی ۔ اور میری ہمت اور پڑھی اور میں
نے اپنا باتا از یہ بھابھی کی بیوی کی طرف کر لیا اور ہ م نے اپنا ماتھا اس کی پھدی پر رکھ دیا مجھے اب بہت مزا آ رہا تھا۔ پھر میں نماز ی کی شلوار ما آتاه از اول دیا۔ پھر میں نے اپنا باتو از بی کی شلوار کے اندر لے گیا اوراس کی پھدی پر رکھا اور اپنی نئی اس کی پھودی یو پی وی آئی کا پرا تھا راز یہ بھابھی نے سو تے ہو ئے ہی ایک زور دار - کاری یا ۔ مجھے اور پیش آیا ۔ میں نے ہمیں اس کی شلوار ان کی پھودی نے کیسے کر دی او را پنا منہ ان کی پھودی کے پاس لے جا کر ان کی پھودی ربانی کی اپنی زبان پہ یہ وی بھابھی نے پھر ایک زور دار اداکاری کی ۔ اور میر ابو ترا مال ہو رہا تھا۔ میں نے پر اپنی زبان سے بھابھی کی چوری چو نی شروع کر دیا۔ بھابھی بھی اب - کاریاں بھر رہی تھی۔ پھر اچانک بھابھی کے جسم ایک مرزا اور ساتھ ہی ان ک ے دونوں ہاتھوں سے میرا سرا پنی پھودی کے اوپر زور سے دبانے لگ گئی۔ میں ایک دم ڈر گیا اور ایک دم سر اٹھا کر بھا بھی کی طرف دیکھا۔ وہ باگ چکی تھی اور میری طرف بی ر ق ية شرمند اٹھ کھڑا ہوا۔ پیاز یہ بھی بھی ٹرپ کر بو ب کی بار میری چوستے رمو پای کی میں تمھار
سے ہاتھ جوڑتی ہوئی اس سے چودو مجھے بہت مزا آ رہاتھا۔ میرا خاوند مجھے بھول ہی وہ چوسو پائیں ورنہ میں مر جاوں گئیا۔ بننا تھا کہ میر امن پر کھڑا ہو گیا۔ میں نے بلی کی تیزی کے ساتھی از یہ بھابھی کی انگوں کو کیا اور زور سے ان کو ایک دم کھول دیا راز یہ بھی ا ن کے ماتھے پر اپنا منہ بول دیا ۔ اوراز یہ بھابھی کی پھدی کو زور زور سے چوسنے لگا۔ یا از یہ بھابھی بھی بہت گرم ہو چکی تھی اوراس کی پوری سے اب انا لما بانی کل باالحسین زرا نہ تھا۔ از یہ بھابھی شرت بو سے بار بار اپنا پورا جسم اور کی طرف چل رہی تھی ۔ اور اپنے ہاتھوں سے میرے سر کے بال پکار کر زور زور سے سننے لگ جاتی اور اپنے سر کے بال پکڑ کر ان کو سن رہی تھی ۔ اورہا تھا تو نی نی نی 6
کی آوازیں نکال رہی تھی ۔ پھر ایک دم بھابھی کا جسم سخت ہو نے لگ گیا اور ساتھ ہی اس کی ان میں کرنے لگا۔ کہیں پر میں نے چونانہ کپور اور پھر ایک دم بھابھی کا جسم اور کی طرف اٹھا اور کہیں بھی ایک دم چھوٹ گئی اور پھر بھابھی کا م و حیا پانے لگا۔ کیا۔ اب از یہ بھابھی زور زور سے سانس لے رہی تھی ۔ پر میں بہت گرم ہو چکا تھا۔ میں نے بھابھی کو کہا کہ اب میری باری ہے اب آپ کو میراچو سنا ہو گا تو اس نے کہا وہ تو ٹھیک ہے پر مایہ نہ جاگ جائے۔ میں نے کہا کچھ نہیں ہوتا۔ یہ کہتے ہوئے میں نے بھابھی کے سامنے کھڑا ہو گیا اور بھابھی سیٹ سے نیچے اتر کر میرے ان کے سامنے بیٹھ گئی اور اپنے ایک ہاتھ سے میرالہ پڑھ کر سنائی نظروں سے دیکھ کر مسکرانے لگ گئی۔ اور پھر تھوڑا ابا نے گی جس سے این او رتن کیا پھر بھابھی نے اپنا منہ کے کیا اور میرے دین کو تھوڑا سے چوم لیا اور پیار نہ اتنی بات اس کو اپنے منہ میں ڈال دیا۔ اور بنا نا آگے پیچھے کرنے لگ گیا نے مزہ آ گیا ۔ میرے سارے جسم میں اگر باتنا اسے آگ لگ گیا ہے ۔ میرے سارے میں کرنٹ دوڑ رہا تھا۔ بھابھی پہلے تو سنتهای این پول رہی تھی اور ساتھ ساتھ اپنے دانتوں سے میرین کو با ا ا اٹھی رہی تھی جس سے مجھے مزے کے ساتھ ساتھ کی
کالی بھی ہو رہی کا راز یہ ہینا جھی کو پتا نہیں کیا ہوا و ہ تیزی کے ماتم میران چوسنے لگ گئی ان سینا بھی بیان کرو مجھے بہت مزا آ رہا ہے۔ پر میں جلد کی نا ر ہو جاوں کا بجھا بھی بیان کر مسکرانے لگے گی، ور پیار میر ان چھوڑ کر دونوں ہاتھوں سے اپنے سر کے بال و لینے لگا۔ کئی بار میں نے بھی جھی کو سی پر بٹھا دیا اور پیار میں نے بھابھی کے لپ
نے اپنے لپ بور و یاور ہم دونوں جانوروں کی طرح ایک دوسرے کے من سلوی کو چوس رہے تھے اور میں ساتھ ساتھی بھابھی کے لیے کوئی زور زور سے دبا رہا تھا۔ پیار میں نے بھابھی کو پکڑ کر اس کی میں اتارنے کی ک و بنا بھی شرما گئی اور میں پیش نہ اتارنے دے ۔ پر میں نے بھابھی کو کہا۔ بھابھی اب کیا رہ گیا ہے جو آپ مجھ سے چھپا رہی ہیں تو انسانی باسی نے کی اور میں نے آرام سے بی ا
ن بھابھی کے لیے اتنے خو بنشور سنتے ہوں گے میں نے دونوں پہ لیٹے دونوں ہاتھوں سے پکڑ لیا اور ان کو بالا نے دبا نے او را چنا لئے گئے کیا ۔ پھر میں نے ایک یہ ہی م یں ڈال کر چوسنے لگ گیا۔ بھابھی - کاری لینے لگ گئی ۔ اور میرے سر کے بال کار کو ان کو سوچنے لگا
گئی اور میں بھی زور زور سے اس کے دونوں بیٹے چوس رہا تھا ۔ اور بھابھی کے کا ریاں لے رہی تھی۔ پھر میں نے بھابھی کو کہا کہ وہ سی شے پر ایک نیا نہیں اور میں نے بھی اپنے سارے کپڑے اتا رد نے میرا لن فل تنا ہوا تھا۔ میں نے بھابھی کی ا الا منے بیٹھ کر ان کی ان میں اپنے کندھے پر رکھ دیں اور پر ان پر اپنا تھوڑا سا تھوک کا کرٹین کو کیا کیا اور پھر ان کو آن تنها امتیاز یہ بھی بھی کی پھدی کے پاس لے گیا اور پیار کر لے او ر ان پر زور کا اولین اندر جانا شروع ہو گیا۔ اور جب این مل اند ر چا یا تو میں نے اپنی شرکت روک دی اور زور سے ایک لمبا سانس لیا اور تھوڑاا جھک کر بھابھی کے لپس کی بہن امر کا اور پھر اندر لے گیا۔ بھابھی نے ایک زور دار - کاری کی اور انہیں بند کر میں اور میں پر ان کو اندر باہر کرنے لگا۔ یا ۔۔ بھابھی اب مست ہو گئی اور 2016کی کی کیا ا و و وه دی کی سی کی ای ای ای کی آوازیں نکال رہی تھی اور بھابھی کی آن میں بند تھیں اور پینا کسی کو بہت مزا آ رہا تھا۔ جو میرا یہ نال تھا کہ مجھے خود پر قابو نہیں رہا تھا۔ میں عامر کی بھابھی کو چو در انتها خوب مزے سے ہو اور ہاتھا ۔ پھر چور تے ہوئے بھابھی کا جسم پر اکڑ نے لگ گیا۔ مجھے پتا پول کیا کہ بھابھی اب پھوٹنے والی ہے میں نے بھی اپنی سپیڈ تیز کر دی ۔ اور پھر اگلے ہی سے بھابھی نے اپنی دونوں باتوں سے مجھے جھڑ لیا اور پھر ایک دم بھابھی کا جسم و حیا کیا ۔ بھابھی اب بیلی ہو چکی تھی اور اب انہیں کھول کر مجھے دیکھتے ہو گرا رہی تھی میں ابھی تک اسے چور باتھا۔ پھر مجھے بھی محسوس ہوا کہ میں بھی تجارت ہو نے والا ہوں ۔ میں نے بھابھی نے پو نا امنی کا کیا کروں تو اس نے کہا کہ اندر ہی چھوڑ دو کیوں کہ اس کا خاوندھی آنے والا تھا اور اگر

User avatar
rangila
Super member
Posts: 5586
Joined: 17 Aug 2015 16:50

Re: Hot urdu font story

Post by rangila »


وہ کیا سوجھی گئی نوا منو خاوند کا بھی لے گا تو مجھے کیا عاش تھا۔ میں ایک دم پھوٹ گیا ۔ اور میر کی ساری منی ای وجا کے سکے۔ اتنی بھابھی کی چوت میں پھیل گیا۔ اور اس طرح ہم دونوں ریلکس ہو گئے ۔ اور ہم نے جلدی جلدی کپڑے پہنے اور ساتھی کر دیا کہ اس سارے
غور سے میں عالیہ عامر کی ہی نہیں بانی اور ہم نے بھی اپنی خواہش پوری کر کیا ۔ اور پھر ہم سیٹ پر بیٹھ کر باتیں کرنے لگ گئے ۔ کوئی ایک تھے ہم باتیں کر تے رہے پھر میرے نظر عالی کی طرف پڑی تو وہ گہری نیند سوئی ہوئی تھی۔ میر امن تھوڑا سا کھڑا ہو گیا اب میرے دل میں تعالی کو بھی چودنے کے گندے خيااا ستانے لگا۔ ایسے میں نے بہت کوشش کی ۔ خیالات سے جان پیشرانوں سرطان پر میرے اور آ چکا تھا اور مجھے براہ ور نا رہا تھا۔ آخر کار مجھے بے خبر نہ ہوا اور میں نے اور دوسری سے ان پر سوئی ہوئی نالی کی سی ج ا
ری بھابھی بھی یہ دیکھ کر پریشان ہو گئی اور وہ مجھے کہنے کی عملی مجھے پتا ہے ما رنبیت کا یہ بھی شراب ہوئی ہے یو پی اس سے کچھ بکرا یا بھی چھوٹی ہے میں نے کہا بھا جی بی، کیا و ہ نہیں ہوئی ۔ اور میرا دل کر ر ہا ہا نے بھی چودنے کو ۔ بھابھی بو اعلی کی اوا گر بیمار کے ساتھ آئی تو عامر کو بتا دے گی اور لگے ہوسکتا ہے تمھارے لیے را ست مان نہ ہو ن ا
بھی آپ کو بھی چودا ہے نہ کیا کر دیا آپ نے میر ے خلاف پاب میں کنورای پوش کو بھی مزا لینا چاہتا ہوں ۔ از یہ بھی بھی ہوئی ہیں تو میں کہا رہی ہوں ۔ کے عورت اپ ن ے خاوند کے لیے سنبال کر رکھتی ہے۔ سود کی وہ ایک مرتا پھر میں نے کہا | بھابھی کچھ نہیں ہو گا ۔ یہ کہ کر میں عالیہ کی سی ان کے منہ بند کیا اور پھر میں نے نائیہ کے سر کے بالون ا م ید عطا کیا نائی ہے اور گہری نیند سو رہی تھی۔ پھر میں نے اپنے ہاتھ سے تالیہ کے کنارے بیٹے ہوئے ان بیو نازیہ بھابھی کی نسبت بہت زم تھے۔ شاید ان کو ابھی تک مرد ن ہیں گئے تھے۔ میں اب اپنے دونوں ہاتھوں سے تالیہ کے
لپیٹ دبا نے شروع کردی جس سے تالیہ مرا نے گی پر مجھے پتا نہیں کیا اور باتھا میں عالیہ کے بیٹے کو اور تیزی کے ساتھ دبانے لگ گیا۔ جس نے اس کے بچے پر سوتے ہوئے بھی کلین کے تاژ را تا بر کئے۔ پھر ایک دم اس کی آ نکل گیا۔ میں اس وقت بھی سایہ کے لیے دبا رہا تھا۔ عالیہ یہ دیکھتے ہی فورا اویسی اور ساتھ ہی ایک زور دار تم پر میرے
منہ پر مار دیا اور ساتھ ہی پار لے کر اپنا کالا چھپایا اور مجھے کہنے کی عملی تم میرے بھائی کے دوست ہوا اور میرے ساتھ یہ کرو گے ۔ مجھے ایسی کوئی امید نہیں تھی ۔ پر تم نے یہ کیا ۔ اوراب میں اب بھائی کو فون کر کے بتانے کی ہوں اور مر گیا تھا سا نا ہو گیا تھا۔ عالیہ نے اپنے بیک فون کال لیا اوراپنے بھائی عامر کو فون کر نے کی ۔ بیت
ے بھی بھای از بی نے پیتے ہوئے مجھے کہا کی اس کوفون نہ کرنے دو ورنہ سب بھی ختم ہو جا ئے گا ۔ یہ سنتے ہی میں نے نا اہ کے ہاتھ سے وال چھین لیا اور ساتھ ہی ایک زور دار پر اس کے منہ پر مار دیا اور کہنے کا کیا یا کر نے کی تھی میر کی اپنے بھائی کے مات دینی شروع کر دینے کی تھی ۔ اور ساتھی میں نے زور سے سالی کو پکڑ کر اپنی طرف لیا اور اپنے سینے کے ساتھ دیا - تعالی میرے بازوں میں تڑپ رہی تھی پال رہی میں مزاحمت کر رہی تھی ۔ بہر طرح کی کوشش کر رہی تھی ۔ اور ساتھ ساتھ کر رہی تھی لی مجھے چھوڑ دو ورنہ میں عامر بھائی کو بتا دوں کیا ۔ یہ کن کر نازیہ بھابھی بولی علی اس کتیا کو بھی ان چورو او پہ کچھ زیادہ ہی اپنے آپ کو مغرور بستی ہے۔ یہ سن کر میں نے تائیہ کے سر کے بال زور سے
کے لیے اور پھر اس کے منہ کو اپنے منہ کے آگے کر دیا اورا تو بنتا ہی رہ کیا ۔ اسلام نے پری لا۔ ریگی ۔ اور پھر میں نے زور سے اس کے اپنے اپنے آپ نور و یاور ان کو زور زور سے چوسنے گا۔ کیا ۔ اور عالیہ بہت مزاحمت کر رہی تھی ۔ پھر میں نے اپ کیا کر تے ہو ئے تالیہ کے ممے بھی پکڑ لیے اور ان کو بھی پیار کے ساتھ دبانے گا کیا ۔ اور
پھر میں نے مالیہ کے بالوں کانوں کی اووں اور اس کی گردن پر سنا کرنے شروع کر دی ۔ تعالی کی مزاحمت اب ختم ہو رہی تھی اوراس کی سانس اب تیز تیز چل رہی تھی ۔ اور امین بند ہو گئی میں از یہ بجھا بھی مسکراتے ہوئے کیا منہ دیکھ رہی تھی ۔ اور پھر میں نے مالک کو سیل پاتا اور وہ چیپ پاپ لیٹ گئی اور اب اپنے آپ کو میرے حوا لے کر چکی
تھی ۔ اور میں اس کے کنوارے پن کو تم کر نے کو ا و ر۔۔۔۔۔۔۔۔ میں نے ناتھانہ نظروں سے ازیہ بھابھی کو دیکھا وہ مسکرا دیں اور پھر میں نے نا ایہ کے مارے جسم پر ہاتھ پھیرنا شروع کر دیا ۔ نانی کی آنکھیں بند ہو و ہ ان کو کھلا رکھنے کی زمہ وتی کوششیں کر رہی تھی۔ پھر میں نے عالیہ کی شلورا اتارے بغیر ہی اس کی پھودی
کے اوپر ہاتھ پھیرا تو وہ شد ستے بنوں سے وہ پانی او را بر شیشی میں بل ا یا اور ساتھ میں نے ا ز یہ بھی جس کو کہا کہ نالہ کے پاس جدید کر اس کو پکڑ کر تھیں ۔ از یہ بھابھی عالیہ کے پاس بیٹھ گیا اور پھر میں نے نا یه کی او را تا ر ی شروع کی۔ عالیہ نے پر شور س ن ت کی پر یه ها ی مزاحمت بہت کم تھی پہلے سے۔ سو میں نے شلورا تا ردی ۔ ان عامر کی ہیں کی تو را کی پھودی میر امین بن کر کھڑا ہو گیا۔ پھر میں نے عالیہ کی پھدی کو چو سنے ان تین
سالہ کی چودی کتنی ہی تھی کہ خانہ کی مستی کے ساتھ نہیں لگانے لگا۔ گئیں اور اس نے پھر اٹھ کر جانے کی کوشش کی پر از یہ بھابھی نے اس کو پکڑ رکھا تھان میں اب تانیہ کی پھودی تیر چل رہا تھا۔ تانیہ کا م با ربا جنکے کھارہا تھا۔ وو او چیا و چین آواز سے اس کا ریاں لے رہی تھی ۔ وہ تو از یہ بھابھی نے اسے پکڑ رکھا تھا۔ جس سے بات ہوئی ۔ عالیہ کے چودگی سے لیس دار پانی نکل رہا تھا اور میرے منہ کے اندر با رہا تھا۔ پھر عالیہ کے جسم ایک دم ک یا اور ساتھ ہی وہ ایک زور دار بیمار تے ہو ئے وہ پارٹی ہو گئی ، ورما تجد میں اس کا جسم و حیا نا شروع ہو گیا ۔ اب مایه خوشی ۔ پھر میں نے
کہا یا ایهاب ما را ٹرن سے میں میر امین پور سنا ہو گیا ۔ یہ کہنے کے با ت میں میں نے اپنی پینٹ اتاردی میہر الن فل تنا ہوا تھا۔ میں نے تاکی کو کہا اس کو چوسو اس نے انکار کر دیا اس کو چو ئے تھے ۔ یہ بہت گندا ہوتا ہے ۔ میں نہیں چوسوں کی ۔ میں نے تائیہ کے سر کے بال زور سے پکڑ لیا اور زبردستی اپنائی اس کے منہ میں د ینے آیا تو از یہ بھابھی نے مجھے

User avatar
rangila
Super member
Posts: 5586
Joined: 17 Aug 2015 16:50

Re: Hot urdu font story

Post by rangila »

بالی پلی اتنی تی نہ کرواسی پر اور اس نے سالی کو ہا ۔ عالیہ چوسونیل کا انتم و مینا بہت مزا آئے گا ۔ سو عالیہ نے شرماتے ہوئے میر کی طرف دیکھا اوران کو پکڑ کو اپنے منہ میں ڈال لیا اور بات کا اچو سنے گی ۔ ان ایک کنواری کی میرا لن چوس رہی تھی ۔ میر امز ے سے برا حال اور بات میں نے پیر سالی کے سر کے بال کے لیے تھے۔ اور عالیہ کو پتا ہمیں کیا ہوا وہ زور زور سے میرا لن چوسنے لگ گیا۔ میں نے ا پنالت عالیہ کے منہ سے نکال لیا۔ کیوں کہ میں عالیہ کی پھودی مارنا چاہتا تھا ۔ سو میں نے سالی کو پھر سی ٹی بنا دیا ۔ اور اپنا لن اس کی پھدی کے اوپر کار را از یہ بھابھی نے مجھے کہا ۔ کلی آرام آرام سے کرا - مای نو را بیان کیا ہے۔ سو ایک دم ان کے مارنے لگا۔ جاا - میں نے کہا ٹھیک ہے بھابھی اور میں نے پھر اپنے لن کے ٹوپکو تم سے شا د
ی کے اندر لے جا پایا۔ پان اند رہیں گیا ۔ چووی بہت ل ی تو بھابھی نے نے میر ان اپنے منہ میں ڈال کر کیا کر دیا اور پھر میں نے وہ کیا ان نالیہ کے پھودی کے اندر ج ا نا ہی اندر جا رہا تھا۔ عالیہ ڈری ہوئی تھی۔ اس سے درد ہو رہا تھے - ازیہ بھابھی نے اسے پکڑا ہوا تھا۔ اور عالیہ نے اپنے دونوں ہاتھوں سے میرے بازوں کے لئے ہوئے تھے منع کیا گیا تو میں رک گیا ۔ اور پھر میں نے اس کو آہستہ سے باہر کھانا شروع کیا۔ نالی کی سرکاری
نکل گئی۔ اور پھر میں نے ایک زور دار تنکے سے ہی اندر لے گیا ۔ تالیہ کی ز در د استے سے پہلے ہی ا ز یہ بھابھی نے اس کے منہ پر ہاتھ رکھ دیا تھا ۔ اور ساتھ ہی نالی کی پودی سے خون نکلنے لگ گی ۔ تا نیانا کنوارہ پن کھو چکی تھی کلی پول بان کی مین و کی سے عورت بنا دیا تھا۔ مایہ خون دیکھ کر خوفزدہ ہو گئی۔ پراز یہ بھابھی نے اسے مکی دی کہ یہ ہوتا ہے۔ پر از یہ بھابھی نے کپڑ ے کے ماتم از یکی پھودی اور میر این پایا به نام دیا۔ اور میں نے پر ان ما یا کہ مودی پر ڈال دیا۔ اس دفعہ مایہ
سکون تھی ۔ اور اب اسے بھی مزا آنے لگ گیا تھا۔ اور وہ میرے پہلے سے ان لے رہی تھی اوراس کے میں بند تھیں اور منہ سے نیب نے اس کا ریاں نکل رری تھیں ۔ ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا اور اور اس کی کیا کیا کیا کیا کی کیا ۱۲ ۱۳ پ انی کی کسی کی اور اس کا جسم کی مزے سے لرز رہا تھا۔ پھر اس کا جسم اکڑ نے لگ گیا اور ساتھ ہی سالیہ ایک زور دار - کاری کے ساتھ چھوٹ گیا۔ اور میں بھی اب ہونے والا تھا۔ ایا ن ازیہ بھابھی بولی کی پلی اپنایانی سالیہ کی پھودی پر نہ چھوڑا۔ یہ کنواری ہے ۔ پلے میں نے کہا ٹھیک ہے اور ساتھ ہی میں نے اپنالت عالیہ کی پھودی سے باہر نکال لیا اور ہاتھ سے ان کی مٹھ مارنے لگ گیا ۔ اور ساتھ بیان نے پانی چھوڑ دیا تو میں نے تالیہ کے پیٹ پر کھانا۔ دیا ۔ نالیہ باد کے سرشرم سے گرا دی ۔ میں بھی مسکرانے لگ گیا از یہ بھابھی بھی مسکرا رہی تھی ۔ اور عالیہ نے اٹھ کر پھر سے میر ان کا پانی صاف کیا۔ اور پھر ہم دونوں نے
پیر کے پہن لیے اور اپنی اپنی سیٹوں پر پیر کیے ۔ اور این ابھی پوری رفتار کے ساتھ اپنی منزل کی طرف رواں دواں یا --------- وہ دن و رات کا دن میرا جب جھی دل کرتا ہے۔ میں بھی تالیہ اوربی از یہ بھابھی کو پا لیتا ہوں یا کبھی ان کے گھر چلا جاتا ہوں اور ان کی اور اپنی آگے نہیں کرتا ہوں ۔ دوستو بھی میری کہانی ۔ اب یہ آپ لوگوں کو سی ملتی ہے ۔ اس کے لیے مجھے آپ کی بیل کا انتظار دیا۔ میر انیلا ید رئیس ہے۔

Post Reply