Main haseen hun خوبصورت ہیرتی ہوں۔

Post Reply
User avatar
rangila
Super member
Posts: 5586
Joined: 17 Aug 2015 16:50

Main haseen hun خوبصورت ہیرتی ہوں۔

Post by rangila »

Main haseen hun خوبصورت ہیرتی ہوں۔


ہوس کے رشتے ) نوٹ: ان کہانیوں کو آپ کے سامنے لانے کا مقصد صرف آپ کو فرع فراہم کرنا ہے تاکہ آپ کو غلط راستے پر
چلنے کے لیے اکسانا ان کہانیوں سے مزہ اورتیر بضرور حاصل کر یں گر سیکس کے لیے ناجائز طریقہ کار اپنانا شرعا اور قانونا جرم ہے اپنے آپ کو جائز تعلقات تک محدود رکھیں۔ شکریہ دوستو لائٹ (Electrictly پرابلم کی وجہ سے اپ ڈیٹ نہیں کر سکے اس کے لیے معذرت خواہ ہیں۔
دوستو! میں خاموشی سے آپکی آپ بیتیاں پڑھ رہی تھی اور اب میں نے بہت مشکلوں سے اپنی کہانی لکھی ہے اگر کہیں کوئی غلطی ہو جائے تو معاف کرتے ہوئے ٹھیک کر لیجئے گا۔
) میرا نام ریحانہ ہے ۔ میں شہر لاہور کے ایک علاقے میں رہتی ہوں، میں کوئی خوبصورت لڑکی نہیں ہوں البتہ میری۔ دوست کہتی ہیں که میرا جسم بڑا سیکسی ہے، میری چھاتیاں میری عمر اور جسم کے حساب سے بہت ہی بیٹی ہیں، سائیز 42 ہے اور میر اگر 36-28-02 ہے، بس رنگ سانولا سا ہے جکی وج ه سے میں
اب میں اپنی کہانی اس وقت سے شروع کرتی ہوں جب میں پہلی باریس سے متعارف ہوئی ۔ سب سے پہلا سیکس مجھ سے میرے بہنوئی نے کیا تھا۔ انہیں کب مجھے اپنے بہنوئی سے پیار ہو گیا، ان کا نام زیب ہے، میرے بہنوئی بہت خوبصورت ہیں ، گورے چنے، لباقر نور زبردست نین نقش رکھتے ہیں ۔ کے دو ماہ بعد میری شادی ہونے والی تھی اور میری بین زرینہ ہمارے گھر میں رہنے آئی ہوئی تھی، اور بھی زیب بھی آجاتے تھے، اور جب وہ دونوں اکیلے کمرے میں ہوتے تھے تو میں اور ان کو چپ چپ کر دیکھتی تھی کہ وہ کیا کرتے ہیں کبھی وہ ایک دوسرے کو چومتے اور بھی زیب ان کی چھاتیوں کو پکڑ کر زور زور سے دباتے تو زر بیند کی چیخ نکل جاتی تھی تب میں بھی تھی که زرین کو بہت درد ہوتا ہے، اوربھی بھی زیب ا ئے گے مگر ان کی گانڈ بھی زور زور
سے ملے تو زربیہ کی سسکاریاں کی تھیں، میں اک شرارت سے اچانک اس وقت اندر داخل حوتی جب وہ گلے گئے ہوتے اور پھر شرمند شرمندہ سے ہوکر الگ ہو جاتے اور میں بہت زیادہ ہستی تھی اور ذاق اڑاتی تھی۔
کچھ دنوں کے بعد زیب نے مجھے فوکس کرنا شروع کیا میں نے نوٹ کیا که زیب اکثر مجھے بڑے غور سے دیکھتے ہیں خاص طور پر جب میں فرش صاف کر رہی ہوتی تو وہ مجھے دیکھتے ہی رہتے تھے مجھے بھی نہ آئی تھی ک ه وہ مجھ میں کیا دیکھتے ہیں ۔ ایک دن میں کان میں برتن دھورہی تھی که زیباچس ڈھونڈتے ہوے بیان میں ہی آگئے اور وہیں کھڑے ہوکر مجھ
سے ادھر ادھر کی باتیں کرنے لگے میں ان کی طرف دیکھا تو ان کو حسب معمول پر طرف غور سے دیکھتے ابا، اب میں نے بھی ان کی نگاہوں کو کسی پر غور کیا تو پت چرا که و چیر مین کی طرف دیکھ رہے تھے میں نے بھی نام اوهر دوڑائی تو میری تو جان ہی نکل گئی کیونکہ زمین پر بیٹھے کی وجہ سے میرے گھٹنے میرے چھاتیوں کو پر میں کر رہے تھے جسکی وجه سے میری چھاتیاں آدھی سے زیادہ بار کھا رہی تھیں
میں گھبرا کر اٹھ گئی اپنے دونوں ہاتھوں کو کراس کی شکل میں اپنے سینے پر رکھ لیا اور زیب کی طرف دیکھا تو وہ مسکرا رہے تھے ۔ میں نے وہاں سے نکلنے کی کوشش کی تو دروازے میں کھڑے زیب کی وجه
سے ملنا مشکل تھا میں نے ان سے راستہ مانو تو وہ ایک سائیڈ پر ہو گئے اور میں نکلے گی تو ان کے ہاتھ سے ماچس چھوٹ گئی اوروہ باچس کو اٹھانے کے لئے مجھے تو ان کا منم میر کے سینے سے نکھر کیا اور انہوں نے سنجلتے ہوئے ایک ہاتھ میری کمر پر رکھا اور دوسرا ہاتھ میرے سینے سے آنکریا، مجھے سمجھ نہیں آرہی تھی ک و یہ سب کیا ہورہا ہے کیونکہ اب انکا کرولا ہاتھ بھی میرے سینے پر گیا تھا اور اب کے دونوں ہاتھوں میں میری دونوں چھاتیاں تھیں اور وہ ان پر سے ہاتھ نہیں بنارہے تھے اور میں باہر نکلنے کے لیے زورگا رہی تھی اور آخرکار میں اپنی کوششوں میں کامیاب ہوئی اور باہر نکل کر باتھ روم
کموڈ پر بیٹھ کر لمبے لمبے سانس لینے گی کیونکہ زندگی میں پل یا کسی مرد کا ہاتھ میری چھاتیوں سے لگا تھا اورمیر - انگ انگ میں جیسے کرنٹ دوڑ رہا تھا، میرا جسم ہولے ہولے کانپ رہا تھا، اور آہستہ آہستہ میرا ڈر کچھ کم ہو تو مجھے کچھ سرور سا آنے لگا، میں آنکھیں بند کر کے گزرے جو لمحات یاد کرنے گی، مجھے یہ باور کے بہت مزا آنے لگا تھا، میں نے اپنے ہاتھ اپنے موں پر اس جگہ پر رکھے جہاں زیب نے ہاتھ رکھے ہوئے تھے اور میں اب اپنے موں کو زور زور سے دبا رہی تھی۔
دو تین دن کے بعد ساہیوال میں ہمارے ایک رشتہ داروں میں پتھر ہوئی اور سب گھر والوں کو وہاں جانا پڑا، مجھے گھر پر چھوڑ دیا گیا که زیب کے آنے پر ان کو کھانا وغیرہ دے سکوں۔ زیب صاحب رات کو گھر تو ان کوگھر میں میں اکیلی ہی میں انہوں نے سب کے بارے میں پوچھاتو میں نے بتایا کے وہ گوجرانوالہ گئے ہوئے ہیں یہ سن کر وہ ہلکے سے مسکرائے، مجھے ان کی مسکراہٹ بہت ہی پیاری گھی میرا دل چاہے گا که وہ ایک بار پھر میرے مموں کو ہاتھ میں پکڑ لیں
تھوڑی دیر بعد میں نے کھانا لگا دیا، اتنی دیر میں وہ بھی نہا دھو کر فریش ہو چکے تھے میں نے ان کو آواز دی که کھانا ک یا ہے۔ کہ وہ آئے اورٹیبل پر بیٹھنے سے پہلے پوچھا که آپ نے کھانا کھالیا، میں نے کہا، میں نے بھی نہانا ہے آپ کھائیں میں کچھ کھالوں گی تو وہ بولے کہ کوئی بات نہیں میں انتظار کروں گا، آپ نہائیں پھر اکٹھا کھانا کھائیں گے، میں نے ایک بار پھر انکار کیا مگر وہ نہ مانے لہذا میں نہانے کے لئے اپنے کمرے میں چلی گئی ۔ میں سیدھا واش روم میں چلی گئی، پٹر - مارتے ہوئے بھی میں زیب کی کہ امت کے بارے میں سوچ رہی تھی کے کتنے پیارے لگ رہے تھے مسکراتے ہوئے۔
کی مسکر اہمیت کے بارے میں سوچتی ہوئی جلدی جلدی نہا کر میں نے اول لیا اور روٹین میں سر کے بالوں کو سلتی ہوئی واش روم سے باہر گئی اور چونکہ منہ پر اول ہونے کی وج ه سے میں کمرے میں دکھ سکتی تھی اور انداز سے ہی اپنی الماری کی طرف مڑ گئی تاکہ جلدی سے کپڑے پہن کر زیب کے ساتھ کھانا کھا سکوں۔ اچانک مجھے احساس ہوا کہ مجھے کوئی دیکھ رہا ہے، میں نے پٹ کر دیکھاتو زمین میں گڑ ھ کر رہ گئی، کیونکہ کمرے میں زیب میرے بیڈ کے پاس کھڑے تھے اور منہ کولے ہوئے میری ہی طرف دیکھ رہے تھے۔
میرے منہ سے ایک چیخ نکل گئی کیونکہ میں بالکل ننگی ان کے سامنے کھڑی تھی میں چینی ہوئی زمین پر بیٹھ گئی اور زیب بھی بدحواسی میں بھاگتے ہوئے نئے پاوں باہر نکل گئے۔ کتنی ہی دیر تک گم سم میں ایسے ہی بیٹھی رہی پھر حواس قائم ہوئے تو اپنا سکرٹ اور ٹی شرٹ پہن کر میں باہر آگئی ڈائننگ ٹیبل پر زیب اپنا سر پکڑ کر بیٹھے ہوئے تھے۔ میں ان کے پاس گئی اور سواری کیا تو انہوں نے سر اٹھا کر میری طرف دیکھا، في، زیب بھائی رو رہے تھے میرے دل پر جیسے گھونسہ لگا، میں ان کے قریب ہوئی مورتر ک کر بولی کے اچھا بھی غلطی بھی آپ کی اور رو بھی خود ہی رہے ہیں، پھر قریب ہو کر میں نے ان کے بالوں میں ہاتھ پھیرا اور پھر سوری کیا، اب جا کر ان کی آواز آئی وہ بھی ہچکیاں لیتے ہوئے مجھے سوری کہہ رہے تھے، مجھے انکو روتا ہوا دیکھ کر ان پر اور زیادہ پیار آ رہا تھا میں ان کے اور قریب ہوئی اور ان کا سر اپنے کندھے سے لگا کر ان کے بالوں میں انگلیاں پھیر نے کئی کی چکیاں بھی اب رکنے گئی تھیں اور پھر وہ آہستہ آہستہ ریلیکس ہونے لگے۔
اور پھر تھوڑی دیر بعد میں نے ان کو کھانا کھلانا شروع کیا، پہلا لقمہ میں نے اپنے ہاتھ سے بنا کر ان کے منہ میں ڈالا اور اس کے بعد میں نہوں نے بھی لقمہ بنا کر میری طرف بڑھایا اور پھر ہم دونوں نے شرمنده شرمنده انداز میں کھانا ختم کیا اور اسکے بعد صفائی وغیرہ کرنے کے بعد میں دو کپ پانے لیکر ٹی وی لاونج میں آگئی اور پھر ہم چائے پیتے ہوئے ٹی وی دیکھنے لگے اور باتیں کرنے لگے۔
کچھ دیر بعد میں نے اچانک ان سے پوچھا ک ه وہ میرے کمرے میں لینے کیا گئے تھے تو وہ ایکدم چپ ہو گئے میرے دوبارہ پوچھنے پر بتایا۔
(0) میں سیب کاٹ رہا تھا که نٹی پر کٹ لگ گیا اور خون نکل آیا تھا میں آپ کے کمرے میں دو، ڈھونڈنے کے لئے گیا تھا مجھے کیا پیتھا کے آپ باتھ روم سے بغیر کپڑوں کے ہی باہر آ جاؤ گی، بہرحال ایک بار پھر سوری۔
اور میں ایک دم سے پریشان ہوکر پانی اور بے چینی سے تھے ہاتھوں کو دیکھنے کی تم کو دیکھ کر بھی اور ان سے تبا لانے میں دو رگا دوں اور پھر ان کے انکار کر نے کے باوجود انو کھینچتے ہوئے اپنے کمرے میں لائی اور اپنے بیٹڈ پر بٹھا کر الماری سے دوا نکال کر ان کے ہاتھ پر لگائی اور اسکے بعد میں نے اپنے کمرے کائی وی آن کیا اورفلم دیکھنے لگے۔
فلم بہت بوتھی اور ابھی رات کے صرف نوکہے تھے اس لئے نیند کا بھی کوئی پتا تھا چنانچہ ہم نے ٹیم کیلئے کافیصلہ کیا، ہم اکثر گیم کھیلتے رہتے تھے جس میں ہارنے والے کو گد گدی کی جاتی ہے زیب کو گدگدی بہت ہوئی تھی اسلئے مجھے اس نیم میں بہت مزا آتا تھا چنانچہ گیم شروع ہوئی تو پہلی بار میں ہائی اور زیب نے میرے پاؤں میں گدگدی کرنا شروع کی لیکن میں
نے فور طے شدہ الفاظ ادا کر دیئے اور میری جان چھوٹ گئی گیم پھر شروع ہوئی اور اب زیب ہار گئے اور میں نے گدگدی کرنا شروع کی ہی تھی کے انہوں نے بھی فورا ہی طے شدہ الفاظ ادا کر دینے اور ان کی بھی جان چھوٹ گئی پھر دوبارہ کام شروع ہوئی تو وہ پھر ہار گئے میں نے فورا ان پر عمل کر دیا، اور ان کے پیٹ پر اور ان کی بغلوں میں انگلیوں سے گدگدی کرنا شروع کر دی۔ اس اچانک حملے سے وہ طے شدہ الفاظ بھول گئے، اور ہنستے ہوئے پیچھے لے گئے، اور وہ مجھ سے بچنے کے لئے بھی میرے بازو پکڑتے اور بھی مجھے دھکا دیتے لیکن میں ان کو معاف کرنے کے موڈ میں نہیں تھی، میں ا کے اوپر چڑھ گئی اور گدگدی کرنا جاری رکھا، ہنستے ہنستے برا حال ہورہا تھا پھر اچانک انہوں نے میری دونوں چھاتیوں کو پکڑ لیا اور زور زور سے دبانے لگے یہ صورت حال دیکھ کر میں نے ان کو معاف کر دیا۔ نور ہنستے ہوئے ان سے الگ ہوئی۔ 0ے
) چریم دوبارہ شروع ہوئی اب میں پارٹی اور انہوں نے بھی انہوں نے بھی پاک حملہ کر دیا اور خلاف معمول وو میرے پیٹ پر گدگدی کرنے لگے، میں نے بچنے کی کوشش کی تو انہوں نے مجھے گر اگر میری بغلوں میں بھی انگلیاں ڈال دیں میں
چنے کی کوشش کرتی رہی لیکن وہ معاف کرنے کے موڈ میں نہیں تھے اور اب انہوں نے میری شرٹ کے اندر ہاتھ ڈال دیئے اور میرے نے پکڑ لئے میں ان سے معافی مانگ رہی تھی لیکن اب وہاں محال تھی۔ اب انہوں نے میری ٹانگوں پر بیٹھ کر میری۔ شرٹ اوپر اٹھانوی اور میری دونوں چھاتیوں کو نگا کر کے ان کے اوپر منہ رکھ دیا ورنپلوں پر باری باری زبان پھیرنے لگے میں ان کی نہیں کررہی تھی لیکن وہ مجھے چھوڑی نہ رہے تھے۔ اب وہ باقاعدہ میرے نپلوں کو چوس رہے تھے۔ مجھے بہت شرم آرہی تھی۔
میرے منہ سے سسکاریاں نکل رہی تھیں، اور اب مجھے بھی اس صورت حال میں مزا اور سرور آرہاتھا، پت نہیں مجھے کیا ہورہا تھامیں اب اس کوشش میں تھی کہ میرے دونوں نے پورے کے پورے نیب کے منہ میں گھس جائیں۔
(0) اب انہوں نے میرے ہاتھ اوپر کر کے میری شرٹ پوری طرح اتار دی تھی، اور میرے کندھوں پر، منہ پر ، گالوں پر ، ہونٹوں پر مموں پر، پیٹ پر، ہر جگہ چوم رہے تھے، پاٹ رہے تھے، کاٹ رہے تھے، میں بھی پوری طرح پاگل ہوچکی تھی اور ان کو چوم ہی رہی تھی، اب وہ میرے نپلوں کو چوستے ہوئے انگوں پر بھی ہاتھ پھیر رہے تھے اور پھر انہوں نے میری جنگوں کے درمیان میں پھنسی ہوئی چوت پربھی باتھ پھیرا، میں پوری طرح سے پاگل ہوچکی تھی اور ان کے چومنے چاٹنے کا ج واب دے رہی تھی۔ سانس تیز تیز چل رہی تھی، اب وہ پلوں کو چوستے چوستے نیچے آنے لگے اور میرے

Post Reply