میرے لئے پیزا، بالف، یستی بہت زیاتھی پر میں نے کسی نہ ی طرح فارغ ہونے کی خواہش پر قابو پا به این حسین کی طرتے پسی ہوئی سانس کو درست کرنے کی کوشش ترین نے ایک لمبا سانس لیا
، پی پردوں کو دنی ا
بھر میں نے آہستہ آہستان کا اقرار کر لیا۔ پھر اپنے چوتڑوں کے ایک تیز بارے میں دو بارہ سارا اندر چلا گیا۔ اس کے دانت جیسے ایک دھماکہ ہوا اور وہ اپنا سامان کی بیٹی اور چھائی مجھے مجھے جو بھی الفاظ سن لئے گرفور کوئی اثرنہیں لیا۔ میں اس میں کیا کہ
میں بھی بھی میری ساده چ ناخنوں سے گھر جا رہی ہے۔ اس کے سر کی جلد میں بہت بیچ ایک گہرے گڑ کے بارے ہیں۔ اس نے مجھے ا پھینچنا شروع کیا تھی کہ میں اس کے بالکل اوپر تھا میرا اس کی چوت کے سوراخ کے نچلے حصے سے ٹکرا رہا تھا۔ تب اس نے اپنی ٹانگیں اوپراٹھائیں اور میری کمر کے گرد لپیٹ لیں ۔ میں نے ایک بڑا سانس لیا اور آہستہ آہستان کی پنا شروع کیا۔ جب ٹوپی سوراخ پر آ گئی، میں ایک لمحے کے لئے رکاء میر اوزان میرے ہاتھوں پر تھا۔ میں نے اپنی خوبصورت بھابھی کے جسم کے نشیب و فراز دیکھے، میں نے اس میں اسے کافی دور دیکھا۔ کچھ دیر بعد وہی بات مجھے چودو مجھے چودو | را ئ
ے اور جانوروں کی طرح دھاڑتے ہو تم نے ان پیچھے کیا ، ایک آگے کا شدید جھرمی اسرین اس کی چوت میں گھس گیا
میرے لئے اس کی گانڈ سے کرائے بنی ہوئی شی شی شی تو باس نے سسکیاں لیہ کا ایک لے کے۔ لئے رکا اپنی ساس کرتے ہوئے بتب میں نے ان کے کیا بیان بھابھی کا چہرہ دیکھا۔ وہ چھے گھوری کی مالی اینجوری آن میں جوس کے گہرے گڑھے لگ رہے تھے اور مجھے یوں محسوس ہوا جیسے میں ان گڑھوں میں جا کروں گا۔ میں نے اپنی تمہیں اس کی آنکھوں پر جما دیں اور تھکے مارنے لگا میرے آگے پیچھے ہو ئے چوڑ اور میرا اندر باہر آتاجاتا ہو اس میں پانا تاپیک کیا تاکہ میں اس کی چوت میں سے اپنا ساران تق دیکھنے کا اور چھ دو بار جھکے سے اندر گھسا دیتا۔ میں نے ایک تسلسل کے ساتھ اپنی رفتار بنائی اور اس پر قائم رہا کرنے میں جلد ہی ہمارے ہتھیاروں اور سو ن کیا کہ ان کی آواز میں گوری رہی
و یا تین بھابھی نے مجھے میچ کی تھی کہ میرا پانی اس کے موں سے کرا رہی تھی، اس کا بیان میں میرے چوتڑوں کے گرد چادر پورٹ کی تھیں اور اب اس نے اپن باز مین کے گرد لپیٹ لئے۔ ایک سیکنڈ بعد وہ دو بار منہ پانی پھکی تھی اور فارغ ہورترا کی ہر جس کا اسے ایک اور بار فارغ کر اور جب تک وہ اپنی اس کی مستی سے باہر ندا جانا اشتري لمحوں بعد بھی محسوس ہونے لگا کہ میرے لیے سخت ہورہے ہیں ۔ یاسمین بھابھی کے سوراخ کی رگڑ مجھے سلاسل فارغ ہونے کی جانب لے جارہی تھی۔ میں جس قدر گہرائی میں ان لے جاسکتا تھا لے گیا اور وہاں چل کے ساکت ہو گیا اپنا سانس درست کرتے ہوئے ، پھر ایک ہی دھار پورے ماہ سے نکلی جیسے ہی میرے ان سے میری منی بہنے گی میری منی میر کی گئی بھابھی میری بہن کی بیوی میری سالی کی چوت میں اترتی تھی۔ میرا جی ایس ٹائم خالی ہو چکا تھا میری کہانی صرف سیکس کا مزہ باقی تھا۔ اوروکی سوچ میرے ذہن میں باقی نہیں ریتی راه میری اس کی چوت کی دیواروں کے ساتھ جا کے کھانے یا پھر میرے ان کے نیچے سے ایک لکیر کرنے میں تھوڑی تھوڑی بنے کی کمی دور کر دیا میری گاڑھی منی سے بھر چکا تھا۔ پین کی آنکھوں کے بعد میں دوبارہ ملے گا، اس کی مانیکا کے گرم سوراخ کی گرپ میرے لن کو چھوڑ رہی تھی۔ آخر کار جب میرے لئے خالی ہو گئے۔ میں نے ان بہت اندر ڈالا اور اس کے بل لیٹ کے آرام کرنے لگا، اس کا بھاری سینہ میری تیزی سانسوں کے ساتھ ساتھ اوپر نیچ ہور ہا تھا۔ میں نے اب اسے دور سے بازو ں میں لے رکھا تھا میری چھاتی اس کے موں میں سختی سے لگی ہوئی تھی اور اس کے موں کی نپلیں میری نپلوں سے نکھارتی تھیں ۔ اس کی ان میں میرے چوتڑوں کلر آگیا اور میران اس کی چوت میں آرام کر رہا اس میں نے آہستہ سے اس کے ترکی کو چوما عمران اس کی چوت میں آرام را گرفته، بھابھی نے اپنا ن کھولا اور میری زبان پر را شروع کر دی۔ ہم نے بہت جوش که با شروع کر دیا اور بھابھی بہت دیر تک میرے یا اپنے منہ میں لے کے چوتی رہی ۔ میٹر اور کبھی بھی کی تر بان چوسنا شرون اور بھابھی نے اپنی زبان سے میرے منہ کی پیر را شروع کر دی اس کا مطلب تھا کہ بھابھی کو دوستی به مدائی
کی ضرورت ہے۔ ابھی وہ مطمئن نہیں ہوئی تھی۔ ایک یا دو منٹ بعد میں دوبارہ اپنے بازوں کے بل پر بلند ہوا، بھابھی امین
نے ایک گولی ۔ ایک مسکراہٹ کے ساتھ میں نے اپنی ہتھیلیاں اس کے موں پر رکھ دیں، انہیں د بایا مسلا اور اپنا جواب تک نخست تماس اندر باہر کرنے لگا۔ بھابھی کی ہے میں حیرانی اورمزے کے ملے جلے جذبات سے کھل گئیں گر میں اب اپنی پیاری
کی کی مزید خدمت کرنے والا تھا۔ او ه ونمود وہ ہو وہ بھابھی نے بولی ۔ میں حرج نہیں دیا۔ کہ تم نے ایک تسلسل سے لن اندر باہر کرتے ہوے مارتے ہوئے چودنا شروع کردیا۔ مجھ سماج کے کیا؟ میری جان او گے کیا؟ جب مل کر بھی اس کے بازو اور ٹانگوں نے مجھے زور سے سختی سے اپنے اندر پھنس لیا اور اب را ، بارہ اپنی گرمجوشی دکھانے لے لی تھی اس سے پہلے چندتی سکینڈ بعد کر کے زاری کارت بھری آہوں سسکیوں اور ہمارے اور چوت کے ملنے اور کرانے کی آوازوں سے گونج رہا تھا۔ اس بیت، بہت زیادہ، بہت کمی دیر تک چلتی رہی، ایک بارفورا فارغ ہونے کی میری خواہش پہلے پوری ہو چکی تھی ۔ یاسمین بھابھی یقین بھول چکی تھی کہ وہ آج کتنی مرتب فارغ ہوئی ہے، اس وقت مونا بھابھی کا جسم کا وچ پر چھڑکتا رہا۔ اس کے بال اب پسینے کی وجہ سے اس کے جسم سے چپکے ہوئے تھے اور اس کے جسم سے پسینے
کے قطرے گر رہے تھے۔ اس نے میرے پین میں آمدید کہا ایک طرح سے اور اسے اپنے په کور کرنے اور اپنے پینے سے ملنے دیا اور گھر میں دوسری باری کی اپنی انا پہنچ گیا اور ا
ن بہت زور سے بھابھی کی چوت میں ایسا ہی ایک زور دار جھانکا اور اپنے لئے اپنی اور بھابھی کی چوت میں خالی کریئے ، اس کی یاد میں اتنی منی ڈالی کہ وہ جب بھرگئی تو منی بلک رہے گی ۔ میں اب تک کانپتی ہوئی بنا کر کے ان پر گر گیا اور میر استان دوبارہ سے کرے گا۔ پہلو کے بل لیٹتے ہوئے ، میر ان کاکایی پھدی میں انتہائی گہرائی میں فون تھا اور ہم ایک دوسرے کو چوم رہے تھے۔ ہم نے ایک دوسرے کو دور سے گلے لگائی رکھا۔ آہستہ آہستہ میں مدہوشی میں اتر گیا اور بھی میٹھی نیند لینے لگا۔ یہ وہ وقت تھا جب ہم دونوں میں سے کسی نے حرکت کی ۔ جب میں جاگا تو میں نے دیکھا کہ باکین نے مجھے اب بھی بہت شدت سے گلے لگا رکھا ہے اور میران اب بھی بھابھی کی چوت میں ہے۔ شوہر نے اپنے چوڑ پیچھے کئے، میران چو نئے انداز کے ساتھ اس کی چوت سے باہر پھٹنے یا ان کے بعد چوت سے میری
لیاری میں بنے گی۔ میں پیچھے ہٹا اور اور میں نے ابو ایک کرسی پر بیٹھ گیا، اس سے بھابھی کا کمال کی عالم میں میرے جسم سے پسل نے مری میں اور اس کی رانیں اب میری بدن پر ک ام کر رہی تھیں ۔ میں تھکن سے چور بھی بھی کرتی تھی۔ اس کی آنکھیں اب بھی دنیا میں اس کے گالوں اور گردن پسر تھری کی کتا تھاجہاں میری برای شیر اس کے جسم کی کشتی رہی تھی ۔ جب میری آنکھیں اس کی چوت پہنچیں تو میری ہی نکل گئی، اس کے گیلے ہونٹ اب بھی کھلے ہوئے تھے اور میری شی اس کی تاریکی چوت میں سے اب بھی بہہ رہی تھی اور اس کی رانوں پر چپک رہی تھی۔ اس کی تازی تازی چوری ہوئی چوت کو دیکھے کے میران دوبارہ سے کھڑا ہونے لگا۔ اس کے جسم کو یوں کا وچ میں مدہوش پڑے ہوئے دیکھنا، اس کی چوت سے بہتی ہوئی معی، کھلی ہوئی ان میں ، میران دوبارہ سے ہوشی را به دیا۔ آخرکار بھابھی نے اپنی آنکھیں کھولیں و ریت بھری نظروں سے میرا پوری طرح سخت لن دیکھ رہی تھی ۔ اس نے اوپر کیا اور میری جانب شرارتی انداز میں دیکھ لے گی۔ چودائی !اسے مزید پانی نکلتی تھی ۔ میں نے اسے کھایا اور سنا دیا کہ ان سے بھی کی ایک انگلی اس کا جسمینشن کی میرے کانپ رہاتھا۔ میں اوپر ج کا میری در کار اس کی گرم جلد سے کرائے ۔ اسے پھینکا تھا اور بال گردن پر چپکے ہوئے تھے۔ میرا ان الناس
کے چوروں سے ٹکرایا ۔ میں نے اپنے ہاتھ اس کے بدن کے نیچے کئے اوئے پڑ لئے ، انہیں زور سے دبانے لگا ۔ اس کی لیں ۔ اس کا چہرہ ایک جانب مڑا ہوا تھا۔ میں نے اس کے کانوں کو چوسنا شروع کیا، اس بہت زور سے چوما۔